Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الكفر

Kufr

  • Kufr
  • کفر

3011 hadiths

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11858

11834 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عبيد الله بن عمر القواريري ثنا عبد الأعلى ثنا سعيد عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس Y أن جميلة بنت سلول أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إني لا أعيب على ثابت بن قيس في خلق ولا دين ولكني لا أطيقه وأكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تردين عليه حديقته ؟ قالت : نعم فأمره النبي صلى الله عليه و سلم أن ياخذ منها ما ساق إليها ولا يزداد

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ‘عرض کی: یا رسول اللہ ! میرا باپ بہت بزرگ اور بیمار ہے ‘رات کو قیام کرنا مشکل ہے ‘مجھے ایسی رات کے متعلق بتائیں ‘ہو سکتا ہے اللہ مجھے لیلۃ القدر کی توفیق دے! آپ نے فرمایا: تئیس رمضان کو۔

عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11858

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11994

11969 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا أزهر بن جميل ثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد الحذاء عن عكرمة عن ابن عباس قال Y جاءت امرأة ثابت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : والله ما أعيب عليه من خلق ولا دين ولكن أكره الكفر بعد الأسلام قال : فتردين عليه حديقته ؟ قالت : نعم قال : يا ثابت اقبل الحديقة وطلقها تطليقة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالتِ احرام میں شادی کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11994

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ من يكنى أبا كليب ( أبو كليب ) · حديث 18831

982 - حدثنا محمد بن محمد الجذوعي القاضي ثنا الحسين بن مهدي ثنا عبد الرزاق أنا ابن جريح قال أخبرت عن عثيم بن كليب عن أبيه عن جده Y أنه جاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ألق عنك شعر الكفر واختتن

حضرت ابوکلیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اپنے کندھوں والے بال کٹوا اور ختنہ کر۔

جده أنه جاء النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُذُوعِيُّ الْقَاضِي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18831

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ هند بنت الحارث الخثعمية عن ابن عباس ] · حديث 13049

13019 - حدثنا محمد بن نصر الصائغ ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري ثنا عبد العزيز ثنا بن أبي حازم عن يزيد بن عبد الله بن الهاد حدثتني هند بنت الحارث الخثعمية امرأة عبد الله بن شداد عن أم الفضل و عبد الله بن عباس Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قام ليلة مكة من الليل فقال : ( اللهم هل بلغت ؟ ) ثلاث مرار فقام عمر بن الخطاب وكان أواها فقال : اللهم نعم فحرصت وجهدت ونصحت اللهم نعم فحرصت وجهدت ونصحت فأصبح فقال : ( ليظهرن الأيمان حتى يرد الكفر إلى مواطنه وليخاض البحار بالاسلام وليأتين على الناس زمان يتعلمون فيه القرآن فيعلمونه ويقرؤونه ثم يقولون قد قرأنا وعلمنا فمن ذا الذي هوخير منا ؟ فهل في أولئك من خير ؟ ) قالوا : لا يا رسول الله ومن أولئك ؟ قال : ( أولئك منكم وأولئك هم وقود النار )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے : ” اور جب آپ ان میں موجود ہوں تو اُن کو نماز آپ ہی پڑھا ئیں ‘تو چاہیے کہ ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہو‘‘۔ پس یہ خوف کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے ‘امام کھڑا ہوتا ہے ‘لوگوں میں سے ایک گروہ امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جبکہ دوسرا گروہ اسلحہ لے کر دشمن کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ‘پس ان کو امام ایک رکعت پڑھاتا ہے پھر اپنی حالت پر بیٹھ جاتا ہے۔ پس وہ لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی دوسری رکعت خود پڑھتے ہیں جبکہ امام بیٹھا ہوتا ہے ‘پھر وہ لوٹ جاتے ہیں اور اپنے ساتھیوں کے پاس آکر ان کی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں پھر دوسرے آتے ہیں تو امام ان کو دوسری رکعت پڑھاتا ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اسی طرح وادیٔ نخلہ کے دن نماز پڑھائی تھی۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13049

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ [ سعيد بن المسيب عن ابن عمر ] · حديث 13119

13089 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا عثمان بن عبد الله بن عثمان الشامي ثنا الضحاك بن حمرة عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب عن ابن عمر Y قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كفوا عن أهل لا إله إلا الله لا تكفروهم بذنب فمن أكفر أهل لا إله إلا الله فهو إلى الكفر أقرب )

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کو مثلہ کیا ‘اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو! الاصم راوی سے مراد یزید بن ہرمز ہے ‘اللہ زیادہ جانتا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ، ← عثمان بن عبد الله بن عثمان الشامي ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 13119

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب خطبة عائشة رضي الله عنها · حديث 19251

300 - حدثنا عبد الله بن محمد بن عمران الأصبهاني ثنا موسى بن عبد الرحمن بن مهدي ثنا علي بن أحمد السدوسي عن أبيه قال Y بلغ عائشة أن ناسا ينالون من أبي بكر فأرسلت إلى أزفلة منهم وسدلت أستارها وعذلت وقرعت وقالت : أبي وما أبيه أبي لا تعطوه الأيدي هيهات والله ذلك طود منيف وظل مديد أنجح والله إذا كذبتم وسبق إذ ونيتم سبق الجواد إذ استولى على الأمد فتى قريش ناشئا وكهفا كهلا يفك عانيها ويريش مملقها وتراب صدعها ويلم شعثها حتى حليته قلوبها ثم استشرى في دينه فما برحت شكيمته في ذات الله حتى اتخذ بفنائه مسجدا يحيي فيه ما أمات المبطلون وكان رحمة الله عليه غزير الدمعة وقيد الجوانح شجي النشيج فاصطففت إليه نسوان مكة وولدانها يسخرون منه ويستهزئون به { الله يستهزئ بهم ويمدهم في طغيانهم يعمهون } فأكثرت ذلك رجالات قريش فحنت قسيها وفوقت سهامها واقثلوه عرضا فما فلوا له صفاة ولا قصفوا له قناة ومر على سيسائه حتى إذ ضرب الدين بحرابه وألقى بركه ورست أوتاده ودخل الناس فيه أفواجا ومن كل فرقة أرسالا وأشتاتا اختار الله لنبيه ما عنده فلما قبضه الله عز و جل ضرب الشيطان رواقه ونصب حبائله ومد طنبه وأجلب بخيله ورجله فاضطرب حبل الإسلام ومرج عهده وماج أهله وعاد مبرمه أنكاثا وبغى الغوائل وظنت الرجال أن قد أكثبت أطماعهم ولات حين التي يرجعون والصديق بين أظهرهم فقام حاسرا مشمرا فرفع حاشيته وجمع قطرته فرد نشر الإسلام على عزة ولم شعثه بطيه وأقام أوده بنفاثه فانذعر النفاق بوطأته وانتاش الدين بنعشه فلما أراح الحق على أهله وأقر الرؤوس على كواهلها وحقن الدماء في أهبها حضرت منيته فسد ثلمته بشقيقه في المرحمة ونظيره في السيرة والمعدلة ذاك ابن الخطاب لله أم حملت به ودرت عليه لقد أوحدت به قبيح الكفرة وذيخها وشرد الشرك شذر مذر ونعج الأرض ونخها فقاءت أكلها ولفظت خبيثها برأسه وتصدق عنها وتصدى له وتأباها ثم ورع فيها ثم تركها كما صحبها فأروني ما تقولون ؟ وأي يومي أبي تنقمون أيوم إقامته إذ عدل فيكم أو يوم ظعنه إذ نظر لكم أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم

حضرت احمد سدوی فرماتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا کہ کچھ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا باتیں کرتے ہیں ، پس ان کی ایک جماعت کی طرف سے پیغام بھیجا ، پردہ لٹکا دیا، ملامت کی، مکان کو خالی چھوڑ دیا ، اور کہا : میرے والد گرامی ۔ میرے والد گرامی کی کیا بات ہے ؟ تم ان پر احسانات کرنے والے نہیں ہو ، بخدا ! وہ ایک بلند پہاڑ " یعنی صاحب عزم و ہمت اور پھیلنے والے سایہ تھے ، بخدا ! وہ کامیاب ہوئے جب تم نے جھٹلایا اور وہ سبقت لے گئے جب تم نے سستی کی : جواد ( سخی آدمی ) سبقت لے گیا ، جب وہ آخر تک والی بنے وہ قریش کے جوان مرد ہیں ، ترقی کرنے والے ، لوگوں کیلئے پناہ گاہ اور پختہ عمر والے ہیں ، وہ قیدیوں کو آزاد کرتے ہیں ، غریب کے احوال درست کرتے ہیں، دراڑ یا شگاف کو بھرے والے ہیں ، یعنی امت میں باہم صلح کرواتے ہیں ، بگڑی بنانے والے ہیں حتیٰ کہ ان کا زیور ( زیب و زینت اور سجاوٹ ) امت کے دل ہیں ، انہوں نے دین میں کوشش شروع کی ، پس وہ اللہ کی ذات کے حوالے سے غیرت مند بن کر رہے ، کبھی نہیں جھکے یہاں تک کہ انہوں نے اپنے صحن میں ایک مسجد بنائی ، اسی میں راتوں کو زندہ کرتے ( جاگتے ) جب تک باطل کی پوجا کرنے والے مر نہیں گئے ، اور وہ ( اللہ ان پر رحم فرمائے ) مسلسل آنسو بہانے والے تھے ، روشن دل والے، جو کوئی ان کا قرآن پڑھتا سنتا تو رنجیدہ ہو جاتا ، مکہ کی عورتیں اور بچے ان کے پاس اکٹھے ہو کر مسخرہ پن اور استہزاء کرتے " ( اللہ فرماتا ہے : ) اللہ انہیں ان کے استہزاء کی سزا دیتا ہے ان اور ان کی سر کشی میں ان کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ ٹامک ٹوئیاں کھاتے ہیں "۔ پس قریشی لوگوں نے یہ کام کثرت سے کیا ، انہوں نے اپنی کمانوں کو موڑا، ان کے تیروں کو سیدھا کر کے ان کو نشانہ بنایا ، پس وہ ان کو کمزور نہ کر سکے یعنی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے ،، ان کے خیمے کی لکڑی نہیں توڑ سکے ، وہ حق پر چلتے رہے ( ان کی کمر ٹیڑھی نہیں ہوئی ) حتیٰ کہ جب دین ثابت اور مضبوط ہو گیا، اس نے اپنی کوڑی رکھ دی اپنے کیل گاڑ دیے ۔ لوگ گروہ در گروہ اس میں داخل ہونے لگے ، ہر گروہ سے قاصد وقتا فوقتاً آنے لگے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کیلئے وہ پسند کیا جو اس کے پاس تھا ، پس جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا، جب شیطان نے ڈیرے ڈال دیئے ( خیمے لگا لیے ) اور پھندے نصب کر لیے ، طنابوں کو کھینچ دیا ( لمبا کیا ) اپنے گھوڑوں اور مردوں کو کام پر لگا دیا، اسلام کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا ، عہد اسلام بگاڑ کا شکار ہو گیا ، اہل اسلام اس میں پڑنے لگے ، اس کا اتحاد پارہ پارہ ہونے لگا، سر کشی کرنے والوں نے بغاوت کر دی ۔ لوگ گمان کرنے لگے کہ ان کی خواہشیں سامنے آ گئی ہیں اور وہ گھڑی قریب ہے جب لوگ واپس لوٹیں گے ( اسلام چھوڑ دیں گے ) جبکہ حضرت صدیق ان کے درمیان تھے ، پس وہ اٹھ کھڑے ہوئے اس حال میں کہ ( لوگوں پر ) افسوس کرنے والے اور ( حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل ) تیار تھے ۔ آپ نے اسلام کا حاشیہ ( کنارا ) بلند کیا ( یا جمع کیا ) یعنی مسلمانوں کا شیرزاہ بکھرنے نہیں دیا اور اس کے دونوں کناروں کو ملا دیا، اسلام کے بکھرنے کو ایک روشنی پر لوٹا دیا ، آپ کے صدقے اللہ نے مسلمانوں کی بگڑی بنا دی ، اس ( اسلام ) میں آ جانے والی کجی کو سیدھا کر کے رفع کیا، ان کے حملہ سے عالم نفاق مرعوب ہو گیا ( بلکہ مایوس ہوا ) ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دین کو گڑھوں میں سے نکالا ، اس کو چھڑایا ) اور اس کو کھڑا کیا) جب حق والوں کو حق مل گیا ، سر اپنے کندھوں پر قائم و دائم ہو گئے ، خون اپنی جگہ محفوظ ہو گئے ، آپ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آ گیا، اس کے شگاف بند ہو گئے ، زخموں پر مرہم لگ ادی ، ان کی سیرت اور عدل میں ان کی مثال حضرت ابن خطاب رضی اللہ عنہ تھے ، ان کی ماں کو اللہ برکت دے جو ان کے ساتھ حاملہ ہوئیں ، ( جن کے پیٹ میں وہ آئے ) ان کو دودھ پلا کر پروان چڑھایا۔ حقیقت میں اس نے ایک ایسا بچہ جنا جو زمانے میں یکہ و تنہا ہے ، اس کی مثال نہیں ملتی ، جس سے بڑے بڑے کافروں کی قباحت اور تکبر ، خاک میں مل گیا ، شرک تتر بتر ہو گیا ، زمین کو ( شرک کی پلیدیوں سے ) پاک اور صاف کر دیا ، زمین نے کھائی ہوئی چیزیں اگل دیں اور ہر خبیث چیز ساری کی ساری باہر پھینک دی، اس پر صدقات و خیرات کا نظام جاری کیا۔ پیش آمدہ مشکلات کا سامنا کیا، زمین کو نافرمانیوں سے پاک کیا، پھر اس پرہیز گاری کی مثالیں قائم کیں، پھر جس طرح اس کو پکڑا تھا ، ایسے ہی چھوڑا پس تم مجھے بتاؤ کہ تم کیا کہتے ہیں ؟ تم میرے والد گرامی سے کس دن کا انتقام لیتے ہو ؟ کیا اس دن کا جس دن اس نے دین کو دوبارہ قائم کیا ، جب تم میں عدل کی فضا قائم کی ، یا جس دن وہ رخصت ہونے لگے تو غور و فکر کر کے تمہارے لیے انتخاب کیا۔ پس بس یہی بات کہوں گی ، اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے استغفار کرتی ہوں ۔

بلغ عائشة ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19251

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الصاد ‹ فضالة بن جبير عن أبي أمامة وقال محمد بن عرعرة فضال بن الزبير الغداني والصحيح فضال بن جبير · حديث 8035

8019 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا محمد بن عرعرة ثنا فضال بن الزبير عن أبي أمامة قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن في قلبه وجد حلاوة الإيمان أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما وأن يحب المرء لا يحبه إلا الله وأن لا يرجع في الكفر بعد أن أنقذه الله منه كما يكره أن يلقى في النار

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اپنے رب کی طرف آؤ اور بے شک جو تھوڑا اور کافی ہے وہ بہتر ہے‘ سستی سے زیادہ کام کرنے سے‘ اے لوگو! یہ دونوں بھلائی اور برائی کے ٹیلے ہیں‘ اس نے برائی کے ٹیلے کو بھلائی کے ٹیلے سے تمہیں زیادہ پسندیدہ نہیں بنایا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← فضال بن الزبير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8035

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ نسبته · حديث 14873

165 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن يحيى الأزدي ثنا داود بن المحبر بن فخذم بن سليمان مولى أبي بكرة قال ثنا أبي المحبر بن فخذم عن المسور بن عبد الله الباهلي عن بعض ولد الجارود عن الجارود Y أنه أخذ هذه النسخة من نسخة عهد العلاء الذي كتب له النبي صلى الله عليه و سلم وحين بعثه إلى البحرين : ( بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من محمد رسول الله النبي الأمي القرشي الهاشمي رسول الله ونبيه إلى خلقه كافة للعلاء بن الحضرمي ومن معه من المسلمين عهدا أعهده إليهم اتقوا الله أيها المسلمون ما استطعتم فإني قد بعثت عليكم العلاء بن الحضرمي وأمرته أن يتقي الله وحده لا شريك له وأن يلين فيكم الجناح ويحيسن فيكم السيرة ويحكم بينكم وبين من لقيه من الناس بنما أمر الله في كتابه من العدل وأمرتكم بطاعته إذا فعل ذلك فإن حكم فعدل وقسم فأقسط واسترحم فرحم فاسمعوا له وأطيعوا وأحسنوا مؤازرته ومعاونته فإن له عليكم من الحق طاعته وحقا عظيما لا تقدرون كل قدره ولا يبلغ القول كنه عظمة حق الله وحق رسوله وكما أن لله ولرسوله على الناس عامة وعليكم خاصة حقا واجبا في طاعته والوفاء بعهده ورضي الله عمن اعتصم بالطاعة حق كذلك للمسلمين على ولاتهم حق واجب وطاعة فإن في الطاعة دركا لكل حين ونجاة من كل شر يتقى وأنا أشهد على من وليته شيئا من أمر المسلمين قليلا أو كثيرا فليستخيروا الله عند ذلك ثم ليستعملوا عليهم أفضلهم في أنفسهم إلا وأصابت العلاء بن الحضرمي مصيبة الموت فخالد بن الوليد سيف الله يخلف فيكم العلاء بن الحضرمي فاستمعوا له وأطيعوا أحسنوا مؤازرته وطاعته فسيروا على بركة الله وعونه ونصره وعاقبة رشده وتوفيقه من لقيتم من الناس فادعوهم إلى كتاب الله المنزل وسنة رسوله واحلال ما أحل الله لهم في كتابه وتحريم ما حرم الله عليهم في كتابه وأن يخلعوا الأنداد ويبرأوا من الشرك والكفر والنفاق وأن يكفروا بعبادة الطواغيت واللاتي والعزى وأن يتركوا عبادة عيسى بن مريم وعزيز بن مروة والملائكة والشمس والقمر والنيران وكل شيء متخذ نصبا من دون الله وأن يتبرأوا مما بريء الله ورسوله فإذا فعلوا ذلك فأقروا به فقد دخلوا في الولاية سموهم عند ذلك بما في كتاب الله الذي تدعونهم إليه كتاب الله المنزل مع الروح الأمين على صفيه من العالمين محمد بن عبد الله رسول الله ونبيه أرسله رحمه للعالمين عامة الأبيض منهم والأسود والأنس والجن كتاب فيه بيان لكل شيء كان قبلكم وما هو كائن بعدكم ليكون حاجزا بين الناس حجز الله به بعضهم عن بعض وهو كتاب الله مهيمنا على الكتب مصدقا لما فيها من التوراة والانجيل والزبور يخبركم الله فيه بما قد كان قبلكم مما قد فاتكم دركه في آبائكم الأولين الذين اقتصر رسل الله وأنساؤه كيف كان حوانهم لرسله وكيف كان تصديقهم بآيات الله وكيف كان تكذيبهم بآيات الله فأخبركم الله في كتابه شأنهم وأعمالهم وأعمال من هلك منهم بذنبه ليجتنبوا مثل ذفلك أن يعملوا مثله كي لا تحل عليهم من سخطه ونقمته مثل الذي حل عليهم من سوء أعمالهم وتهاونهم بأمر الله واخبركم الله عز و جل في كتابه هذا بانجاء من نجا ممن كان قبلكم لكي تعملوا مثل أعمالهم فكتب لكم في كتابه هذا تبيان لكل شيء ذلك كله برحمة منه لكم وشفقا من ربكم عليكم وهو هدى من الله من الله من الضلالة تبيان من العمي وإقالة من العثرة ونجاة من الفتنة ونور من الظلمة وشفاء من الأحداث وعصمة من الهلكة ورشد من الغواية وتبيان ما بين الدنيا والآخرة وفيه كمال دينكم فإذا عرضتم عليهم هذا فأقروا كلكم فقد استكملوا الولاية فاعرضوا عليهم عند ذلك الاسلام والاسلا م الصلوات الخمس وإيتاء الزكاة وحج البيت وصيام شهر رمضان والغسل من الجنابة والطهور قبل الصلاة وبر الوالدين وصلة الرحم المسلمة وحسن صحبة الوالدين المشركين فإذا فعلوا ذلك فقد أسلموا فادعوهم عند ذلك إلى الإيمان وابعثوا لهم شرائعكم ومعالم الإيمان شهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وإن ما جاء به محمد الحق وأن ما سواه الباطل والإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله وأنبيائه واليوم الآخر والإيمان بهذا الكتاب ما بين يديه وما خلفه بالتوراة والانجيل والزبور والإيمان بالبينات والموت والحياة والبعث بعد الموت والحساب والجنة والنار والإيمان بالله ولرسوله وللمؤمنين كافة فإذا فعلوا ذلك واقروا به فهم مسلمون مؤمنون ثم تدعوهم بعد ذلك إلى الإحسان أن يحسنوا فيما بينهم وبين الله في أداء الأمانة وعهده الذي عهده إلى رسوله وعهد رسوله إلى خلقه وائمة المؤمنين والتسليم لأئمة المسمين من كل غائلة لسان ويد وأن يبتغوا لبقية المسلمين خيرا كما يبتغي أحدهم لنفسه والتصديق بمواعيد الرب عز و جل ولقائه ومعاتبته والوداع من الدنيا في كل ساعة والمحاسبة للنفس عن استئناف كل يوم وليلة والتعاهد لما فرض الله يؤديه إليه في السر والعلانية فإذا فعلوا ذلك فهم مسملون محسنون مؤمنون ثم انعتوا لهم الكبائر ودلوهم عليها وخوفوهم من الهلكة في الكبائر إن الكبائر من الموبقات أولهن الشرك بالله لا يغفر أن يشرك به والسحر وما للساحر من خلاق وقطيعة الرحم يلعنهم الله والفرار من الزحف يبوؤوا بغضب من الله والغلول فيأتوا بما غلوا يوم القيامة لا يقبل الله منهم وقتل النفس المؤمنة جزاؤه جهنهم وقذف المحصنة لعنوا في الدنيا والآخرة وأكل مال اليتيم يأكلومن في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا وأكل الربا فائذنوا بحرب من الله ورسوله فإذا انتهوا من الكبائر فهم مسلمون مؤمنون محسنون متقون فقد استكملوا التقوى فادعوهم بعد ذلك إلى العبادة والعبادة الصيام والقيام والخشوع والركوع والسجود والإنابة والإحسان والتحميد والتهليل والتسبيح ولاتكبير والصدقة بعد الزكاة والتواضع والسكينة والسكون والمواساة والدعاء والتضرع والإقرار بالملكة والعبودية واستقلاله لما كثر من العمل الصالح فإذا فعلوا ذلك فهم مسلمون مؤمنون محسنون متقون عابدون وقد استكملوا العبادة فادعوهم عند ذلك إلى الجهاد وبينوا لهم ورغبوهم فيما رغبهم الله فيه من فضل الجهاد وفضل ثوابه عند الله فإن انتدجبوا لهم فبايعوهم وادعوهم حتى تبايعوهم إلى سنة الله وسنة رسوله عليكم عهد الله وذمته وسبع كفالات منه لا تنكثوا أيديكم من بيعته ولاتنقضون أمر ولاتي من ولاة المسلمين فإذا أقروا بذلك فبايعوهم وأتسغفروا الله لهم فإذا خرجتم تقاتلون في سبيل الله غضبا لله ونصرا لدينه فمن لقوا من الناس فليدعوهم إلى مثل الذي دعو إليه من كتاب الله وإسلامه وإيمانه وإحسانه وتقواه وعباداته وهجرته فمن تبعهم فهو المستجيب المؤمن المحسن التقي العابد المهاجر له ما لكم وعليه ما عليكم ومن أبى هذا عليكم فقاتلوه حتى يفي إلى أمر الله ويفيء إلى فتنته ومن عاهدتم وأعطيتم ذمة الله كفوا له بها ومن أسلم وأعطاكم الرضا فهو منكم وأنتم منه ومن قاتلكم على هذا من بعد ما بينتموه له فقاتلوه ومن حاربكم فحاربوه أو كايدكم فكيدوا له أو جمع لكم فاجمعوا له أو غالكم فغولوه أو خادعكم فاخدعوه من غير أن تعتدوا أو ماكركم فامكروا به من غير أن تعتدوا سرا وعلانية فإنه من ينتصر من بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل واعملوا أن الله معكم يراكم ويرى أعمالكم ويعلم ما تصنعون كله فاتقوا الله وكونوا على حذر في إنما هذه أمانة ائتمنني عليها ربي أبلغها عباده عذرا منه إليهم وحجة منه احتج بها على من بلغه من الخلق جميعا فمن عمل بما فيه نجا ومن اتبع ما فيه اهتدى ومن خاصم به فلح ومن قاتل به نصر ومن تركه ضل حتى يراجعه تعلموا ما فيه واسمعوه آذانكم وعوه أجوافكم واستحفظووه قلوبكم فإنه نور الأنصار وربيع القلوب وشفاء لما في الصدور وكفى به أمرا ومعتبرا وزاجرا وعظة وداعيا إلى الله ورسوله هذا هو الخير الذي لا شر فيه كتاب محمد بن عبد الله رسول الله صلى الله عليه و سلم للعلاء بن الحضرمي حين بعثه إلى البحرين يدعو إلى الله عز و جل ورسوله أمره أن يدعو إلى ما فيه من حلال وينهاه عما فيه من حرام ويدل على ما فيه من رشد وينهى عما فيه من غي

حضرت جارود سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ نسخہ حضرت علاءکے زمانے کے نسخہ سے لیا جو ان کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا جب ان کو بحرین کی طرف بھیجا: اللہ کے نام سے شروع جو انتہائی مہربان ‘ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے! یہ خط اللہ کے نبی ورسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جواُمی نبی ہیں، قریشی ہاشمی ہیں ‘کی طرف سے اللہ کی تمام مخلوق کی طرف حضرت علاء حضرمی کے واسطہ سے اور جو ان کے ساتھ دیگر مسلمان موجود ہیں‘ یہ ایک وعدہ ہے جو میں ان سے کر رہا ہوں ‘اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو جہاں تک تمہاری طاقت ہے ‘بے شک میں نے تمہاری طرف حضرت علاء بن حضرمی اور ان کی بیوی کو بھیجا ہے کہ وہ اللہ وحدہ ‘لاشریک سے ڈر یں اور تمہارے ساتھ نرمی کا سلوک کر یں اور تمہارے ساتھ اچھے چال چلن کا مظاہرہ کریں‘ تمہارے درمیان اور مسلمانوں میں سے جو ان سے ملے ‘اُن کے درمیان فیصلہ کر یں اس چیز کے ساتھ جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دیا یعنی عدل کا اور میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ ان کی اطاعت کرو جب وہ عدل کر یں ‘اگر وہ فیصلہ کر یں اور عدل کر یں تقسیم کر یں‘ اور انصاف کریں ‘ان سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کر یں ‘ان کی بات سنو اور اطاعت کرو اور اچھی طرح ان کی معاونت کرو ‘بے شک تمہارے اوپر حق ہے کہ ان کی اطاعت کر واور بہت بڑاحق ہے جس پر کماحقہ‘ تم قادر نہ ہوسکو اور ساری بات اللہ اور اس کے رسول کے حق تک نہیں پہنچ سکتی ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول کا عام لوگوں پر حق ہے تمہارے اوپر خاص حق ہے‘ جو ان کی اطاعت اور ان کے وعدہ کو پورا کرنے میں واجب ہے۔ اللہ راضی ہوا‘ اس سے جس نے اطاعت کو لازم پکڑا ‘یہ اسی طرح تمام مسلمانوں کا ان کے والیوں پر حق ہے۔ بے شک اطاعت میں ہر خیر کو پانا ہے اور ہر اس شر سے نجات ہے جس سے بچنا ضروری ہے اور میں گواہ ہوں ‘ہر اُس آدمی پر جو مسلمانوں کے امر میں سے کسی شی کا والی بنا خواہ وہ تھوڑی ہے یا زیادہ۔ ایسے موقعہ پر اللہ سے خیر مانگو پھر لوگوں پر عامل بنے وہ آدمی جو ان میں سے زیادہ فضیلت والا ہے ‘ورنہ حضرت علاء بن حضرمی کوموت کی مصیبت پہنچے کی تو حضرت خالد بن ولید اللہ کی تلوار تمہارے اند ر حضرت علاء بن حضرمی کے نائب ہوں گے۔ ان کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ‘اچھی طرح ان کی اطاعت کرنا ‘اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ کی برکت اور مدد ونصرت کی راہ چلنے والے ہو گے ‘انجام کار اللہ کی طرف سے رہنمائی اور اس کی توفیق ہو گی‘ لوگوں میں سے جس سے تم ملو‘ اسے اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دو جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس کے رسول کی سنت کی طرف بلاؤ اور انہیں بتاؤ جو اللہ نے اپنی کتاب میں ان کے لیے حلال کیا اور اپنی کتاب میں جوان پر حرام کیا ‘اور یہ کہ اس کا مدمقابل نہ بنائیں ‘شرک سے برأت کا اظہار کر یں‘کفر اور نفاق سے دور ہوں ‘طاغوت اور لات وعزیٰ کی عبادت کا انکار کر یں ۔حضرت عیسیٰ بن مریم ‘حضرت عزیر بن مروہ ‘فرشتوں ‘سورج‘ چاند‘ آگ اور ہر وہ چیز جس کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر بت بنایا ہے ‘اس کی عبادت کو ترک کر دیں۔ ہر اس چیز سے برأت کا اظہار کر یں جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برأت کی ہے۔ پس جب وہ یہ کام کر یں اور اقراری ہوں تو وہ تمہاری ولایت میں داخل ہو گئے ۔اس وقت ان کے سامنے نام لو ان چیزوں کا جواللہ کی کتاب میں ہیں‘ جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو ‘وہ اللہ کی کتاب ہے جو حضرت روح الامین کی معیت میں تمام عالموں میں سے چنے ہوئے بندے پر نازل ہوئی ہے‘ جن کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہ ہے ‘وہ اللہ کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ اللہ نے آپ کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ‘عام کر کے خواہ وہ سفید ہیں یا سیاہ ‘انسان ہیں یا جن ۔ یہ ایسی کتاب ہے جس میں ہرشی کا بیان ہے جو تم سے پہلے تھی ‘جو تمہارے بعد ہو گی تا کہ لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہو ‘جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض سے روکا ہے‘ یہ کتاب پہلی کتابوں کی محافظ اور تورات‘ انجیل اور زبور میں جو ہے اس کی تصدیق کرنے والی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں بتا تا ہے جو تم سے پہلے تھا ‘اس میں سے تم نے فوت کیا جس کا پانا تمہارے پہلے آباء میں ‘جن کے پاس اللہ کے رسول و انبیاء تشریف لائے‘ ان کا اللہ کے رسولوں کو کیسا جواب تھا۔ اللہ کی آیتوں کی تصدیق تھی تو کس انداز میں اور تکذیب کس انداز میں تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تمہیں ان کے کام اور اعمال سے آ گاہ فرمایا ‘نیز ان لوگوں کے اعمال سے جو اپنے گناہ کے سبب ان سے پہلے ہلاک ہوئےتاکہ تم ان جیسے اعمال سے اجتناب کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں پر بھی ایسی ہی مصیبت آئے جیسی ان پر ان کے اعمال کے سبب آئی‘ اللہ کی ناراضگی اور انتقام کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم کو بجالانے میں سستی کا مظاہرہ کیا ‘اللہ نے تمہیں خبر دار کیا ہے اپنی اس کتاب میں پہلوں میں سے جس کو اس نے نجات دی‘ کیسے اس کو نجات دی تا کہ تم اس جیسے اعمال کرو۔ پس اس نے تمہارے لیے اس کو ہرشی کا بیان بنایا۔ یہ سب کچھ اس کی رحمت ہے تمہارے لیے اور تم پر تمہارے رب کی طرف سے شفقت ہے‘ یہ اللہ کی طرف سے ہدایت ہے گمراہی سے اور اندھے پن سے بیان ‘پھسلاہٹ سے بچنا‘ فتنہ سے نجات ‘تاریکی سے نور‘ حادثات سے شفاء ‘ہلاکت سے بچاؤ کا سبب گمراہی سے رُشد و ہدایت ‘نیز دنیا و آخرت کے درمیان پھیلی ہوئی ہر چیز کا بیان ہے۔ اس میں تمہارا مکمل دین ہے ‘پس جب اسے پیش کرو تو وہ تمہارے سامنے اقرار کریں تو وہ ولایت کو مکمل کرنے والے ہوں گے۔ اس وقت ان پر اسلام پیش کرو اور اسلام‘ پانچ نماز یں زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج ‘ماہِ رمضان کے روزے رکھنا‘جنابت سے غسل‘ نماز سے پہلے وضو کرنا‘ والدین سے نیکی کرنا ‘صلہ رحمی کرنا اور مشرک والدین سے اچھی صحبت رکھنا۔ پس جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مسلمان بن گئے ‘اس وقت ان کو ایمان کی طرف بلاؤ ‘ان کیلئے اپنی شریعتوں کو واضح کرو اور ایمان کی علامات بتاؤ۔ اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ‘وہ لاشریک ہے ‘حضرت محمد اس کے بندے اور سچے رسول ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کرآئے وہ حق ہے اور اس کے علاوہ باطل ہے۔ اللہ پر ایمان ‘اس کے فرشتوں ‘اس کی کتابوں ‘اس کے رسولوں ‘نبیوں اور یومِ آخرت پر ایمان اور اس کتاب پر ایمان جو سامنے ہے اور جو پیچھے تھا ‘مثلا ً تو رات انجیل اور زبور ‘واضح دلیلوں پر ایمان ‘موت ‘حیات‘ موت کے بعد اٹھنا‘ حساب ‘جنت ‘دوزخ پر ایمان ۔ خیر خواہی اللہ ‘اس کے رسول اور تمام مسلمانوں کیلئے ‘پس جب انہوں نے ایسا کر لیا اور اقرار کیا تو وہ مسلمان بھی ہیں اور مؤمن بھی ہیں پھر ان کو احسان کی طرف دعوت دو کہ وہ احسان کریں اپنے اور اللہ کے درمیان جو کچھ معاملہ ہے‘ امانت کو ادا کرنے میں اس کے وعدہ کو پورا کرنے میں جو اس نے اپنے رسول سے لیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مخلوق اور مؤمنوں کے اماموں سے لیا۔ محفوظ رکھنا‘ مسلمانوں کے اماموں کو ہر تکلیف دِہ زبان اور ہاتھ سے۔ بقیہ مسلمانوں کیلئے خیر طلب کرنا جیسے ان میں سے کوئی اپنے لیے خیر طلب کرتا ہے ‘اللہ کے وعدوں ‘ملاقات‘ اس کی سزا ‘ہر گھڑی اس دنیا سے الوداع ہونے کی ‘ہر دن اور رات شروع ہونے پر اپنے نفس کے محاسبہ کی تصدیق کرنا۔ معاہدہ کرنا کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی چیز فرض فرمائے گا تو اسے پوشیدہ و اعلانیہ ادا کروں گا۔ پس جب لوگوں نے یہ کر لیا تو وہ مسلمان بھی ہیں‘محسن بھی اور مؤمن بھی ہیں ۔ پھر ان لوگوں کے سامنے وضاحت کر یں کہ کبیرہ گناہ کیا ہیں اور ان پر ان کی راہنمائی کریں۔ کبیرہ گنا ہوں کے ارتکاب کی صورت میں ہلاکت سے ان کو خوف دلائیں‘ بے شک کبیرہ گناہ ہلاک کرنے والے ہیں‘ ان میں سے پہلا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ہے۔ جادو ‘جادوگر کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ قطع تعلقی‘ قطع تعلقی کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ لشکر سے بھاگنا‘اللہ کے غضب کا حق دار بنا تا ہے۔خیانت کرنا ‘پس جن لوگوں نے خیانت کی ہوگی وہ قیامت کے دن ان چیزوں کو اُٹھا کر لائیں گے ‘اللہ قبول نہ فرمائے گا مؤمن کو قتل کرنا تو اس کی سزا جہنم ہے ‘پاکدامن پر تہمت لگانا تو ایسے لوگوں پر دنیا و آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔ یتیم کا مال کھانا ‘جو کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم رسید ہوں گے۔سود کھانا‘ جو سود کھاتے ہیں وہ اللہ و رسول کو جنگ کا چیلنج دیتے ہیں۔ پس جب وہ کبیرہ گناہوں سے رُک جائیں تو وہ مؤمن مسلمان ‘محسن اور متقی ہیں ۔ انہوں نے تقوی ٰکی ایک منزل حاصل کر لی ہے۔ اس کے بعد ان کو عبادت کی طرف بلائیں۔ عبادت یہ ہے: روزے رکھنا‘ رات کو قیام کرنا ‘خشوع کرنا ‘رکوع کرنا‘ سجود کرنا‘ اللہ کی طرف رجوع کرنا ‘اچھائی کرنا ‘حمد بیان کرنا ‘لا الہ الا اللہ پڑھنا ‘سبحان اللہ کہنا ‘اللہ اکبر کہنا ‘زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد صدقہ کرنا‘ عاجزی کرنا ‘سکینت ‘سکون ‘با ہم غمگساری ‘دعا‘ آہ وزاری (اللہ کی بارگاہ میں )اللہ کی ملکیت ‘عبودیت اور اس کے اپنی ہر صفت میں مستقل ہونے کا اقرار کر نا‘ عمل صالح کی فہرست لمبی ہے‘ پس جب وہ یہ کر لیں تو وہ مسلمان‘مؤمن‘محسن‘ متقی اور عابد ہیں ‘پس انہوں نے عبادت کا راستہ طے کر لیا ہے۔ اس وقت ان کو جہاد کی دعوت دیں‘ ان کیلئے پوری وضاحت کر یں ‘انہیں اس چیز میں رغبت دلائیں جس میں اللہ نے رغبت دلائی ہے ‘جہاد کی فضیلت سے (جنت) انہیں بتائیں کہ اللہ کے ہاں اس کا کتنا ثواب ہے‘ پس اگر وہ اس کے قابل ہو جائیں تو ان سے با قاعدہ بیعت لیں اور ان کو دعوت دیں حتیٰ کہ ان سے اللہ و رسول کی سنت کی بیعت لیں‘ تم پر اللہ کا وعدہ اور اس کا ذمہ ہے ‘اس کی طرف سے سات کفالتیں ہیں: تمہارے ساتھ اس کی بیعت نہ توڑیں ‘مسلمانوں کے والیوں میں سے میرے والیوں کے عہد کو نہ توڑیں‘ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو ان کو بیعت کر یں‘ ان کیلئے اللہ سے بخشش مانگیں‘ پس جب تم نکلوتو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلو ‘اگر کسی پر غصہ کروتو اللہ کی رضا کیلئے اور اس کے دین کی مدد کیلئے ‘لوگوں میں سے جوملیں تو ان کو دعوت دینی چاہیے اسی کی مثل کی طرف جس کی طرف دوسروں کو بلایا گیا۔ مثلاً اللہ کی کتاب ‘اس کے اسلام ‘ایمان ‘احسان ‘تقوی ٰ‘عبادت اور ہجرت کی طرف ۔ پس ان میں سے جو پیروی کرے تو وہ قبول کرنے والا مؤمن‘محسن‘ متقی‘ عابد اور مہاجر ہے ۔ اس کے وہی حقوق ہیں جو تمہارے ہیں ‘ان پر وہی فرائض ہیں جو تمہارے اوپر ہیں اور جس نے انکار کیا تمہارے اوپر لازم ہے کہ اس سے جنگ کر وحتیٰ کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے اور فتنہ سے بچ جائے ۔ جوتم نے وعدہ کیا اور اللہ کا ذمہ دیا تو اسے پورا کرو‘ جو مسلمان ہوا اور اس نے تمہیں رضا عطا کی تو وہ تم سے اور تم اس سے ہو اور جس نے اس پرتم سے قتال کیا‘ اس کے بعد کہ تم نے اس کیلئے سب کچھ بیان کر دیا تو اس سے قتال کرو۔ جو تم سے جنگ کرے تم بھی اس سے جنت کر سکتے ہو جوتم سے مکر کرے اُسے اس کے مکر کی سزا دو‘ یا وہ تمہارے لیے لشکر جمع کرے تو تم اس کیلئے جمع کر و‘یا تمہیں دھوکہ دے تو تم اسے دھوکہ کی سزا دو‘ یا جوتم سے خیانت کرے تو اسے خیانت کی سزا دولیکن حد سے تجاوز نہ کرنا ‘یا جوتمہیں فریب دے اسے فریب کی سزا دو بغیر زیادتی کیے ‘پوشیدگی میں اور علانیہ طور پر کیونکہ جو ظلم کے بعد غالب آئیں تو ان پر کوئی راستہ نہیں ہے۔ جان لو! اللہ تمہارے ساتھ ہے ‘وہ تمہیں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے ‘جو تم کرتے ہو ‘وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ پس اللہ سے ڈرو اور محتاط ہو جاؤ اس بات میں کہ یہ امانت ہے جس پر مجھے میرے رب نے امین بنایا ہے کہ میں اس کے بندوں کو پہنچاؤں اس کی طرف سے ان کی طرف عذر‘ اس کی طرف سے حجت‘ جس کے ساتھ اس نے دلیل قائم کی ہے ‘اس کے خلاف جس کو اس کی تمام مخلوق میں سے یہ پیغام پہنچا ہے‘ اس میں جو ہے جس نے اس پر عمل کیا اُس نے نجات پائی ‘جو اس میں ہے جس نے اس کی پیروی کی اُس نے ہدایت پائی‘ جس نے اس کے ذریعے دشمن پر دلیل قائم کی اُس نے فلاح پائی ‘جس نے اس کو سامنے رکھ کر جہاد کیا اُس کی مدد کی گئی ‘جس نے اس کو چھوڑا وہ گمراہ ہوا یہاں تک کہ وہ رجوع کرلے‘ جو اس میں ہے اسے اچھی طرح سیکھ لو اور اسے اپنے کانوں کو سنوا لو ‘اپنے پیٹوں میں یاد رکھ لو اور اپنے دلوں کو یاد کر وا لو کیونکہ یہ آنکھوں کا نور‘ دلوں کو موسمِ بہار اور سینوں کی بیماری کیلئے شفاء ہے۔ حکم دینے‘ اعتبار کرنے ‘جھڑ کنے‘ نصیحت کرنے اور اللہ و رسول کی طرف بلانے کو کافی ہے‘ یہی وہ خبر ہے جس میں کوئی بُرائی نہیں ۔ حضرت محمد بن عبداللہ جو اللہ کے رسول ہیں‘ کا خط حضرت علاء بن حضرمی کیلئے جس وقت ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کی طرف بھیجا ‘وہ اللہ کے رسول کی طرف بلانے والے تھے‘ انہیں حکم صادر فرمایا کہ اس میں جو حلال ہے ‘اس کی طرف بلاؤ اور منع کرو اس سے جو حرام ہے اور راہنمائی کرواس پر جو اس میں ہدایت ہے اور جو گمراہی ہے ‘ اس سے روکو۔

الْجَارُودِ، ← بعض ولد الجارود ← المسور بن عبد الله الباهلي ← أَبِي الْمُحَبَّرُ بْنُ فَخْذَمٍ ← دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ بْنِ فَخْذَمِ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى أَبِي بَكْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14873

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْخَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ خَيْرٌ · حديث 3570

3570 - حَدَّثَنَا خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ قَالَ: نا عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ الْعِرْقِيُّ قَالَ: نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَحْمَدُ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ، [ص:45] فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ فَإِنَّ لِوَاءَ الْحَمْدِ مَعِي وَكُنْتُ إِمَامَ الْمُرْسَلِينَ، وَصَاحِبَ شَفَاعَتِهِمْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ، وَلَا عَنِ ابْنِ عُقَيْلٍ، إِلَّا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، وَالْقَاسِمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ "

یہ حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے صرف عبد اللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ عنہ اورعقیل سے صرف عبید اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور قاسم اور وہ عبداللہ بن محمد بن عقیل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ الْعِرْقِيُّ ← خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · The door of the sister › One whose name is better · Hadith 3570

المعجم الاوسط للطبرانی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 1514

1514 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ الْمُقْرِئُ قَالَ: نا الْحَسَنُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَرَأَى رَجُلًا أَسْوَدَ مَيِّتًا قَدْ رَمَوْا بِهِ فِي الطَّرِيقِ، فَسَأَلَ بَعْضَ مَنْ ثَمَّ عَنْهُ، فَقَالَ: «مَمْلُوكُ مَنْ هَذَا؟» فَقَالَ: مَمْلُوكٌ لِآلِ فُلَانٍ، فَقَالَ: «أَكُنْتُمْ تَرَوْنَهُ يُصَلِّي؟» فَقَالُوا: كُنَّا نَرَاهُ أَحْيَانًا يُصَلِّي، وَأَحْيَانًا لَا يُصَلِّي، فَقَالَ: «قُومُوا فَاغْسِلُوهُ، وَكَفِّنُوهُ» ، فَقَامُوا، فَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَبَّرَ قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ؟» ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْنَاكَ كُلَّمَا كَبَّرْتَ تَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ، فَلِمَ قُلْتَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ» ؟ فَقَالَ: «كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ أَنْ تُحُولَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مِنْ كَثْرَةِ مَا صَلَّوْا عَلَيْهِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ بْنِ فَائِدٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُهُ. «. قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ:» وَتَفْسِيرُ هَذَا الْحَدِيثِ: أَنَّ مَوَالِيَهُ كَانُوا رُبَّمَا شَهِدُوهُ يُصَلِّي، وَرُبَّمَا صَلَّى حَيْثُ لَا يَرَوْنَهُ، فَاسْتَخَفُّوا بِهِ لِذَلِكَ، وَلَوْ كَانَ يَتْرَكُ مِنَ الصَّلَاةِ شَيْئًا لَا يُصَلِّيهِ كَانَ كَافِرًا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ»

یہ حدیث ثابت سے صرف کثیر بن مرہ بن فائد ہی روایت کرتے ہیں ‘اسے روایت کر نے میں ان کے بیٹے اکیلے ہیں۔ ابوالقاسم (امام طبرانی) فرماتے ہیں: اس حدیث کی تفسیر یہ ہے کہ ان کے آقا اس کو بس اوقات نماز میں شریک دیکھتے تھے بسا اوقات اس کو نہیں دیکھتے تھے اس لحاظ سے انہوں نے اس کو حقیر خیال کیا اور اگر کوئی نماز چھوڑتا ہے جس کونہیں پڑھتا تو وہ کافر ہو گیا کیونکہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان اور کافر کے درمیان فرق نماز چھوڑنے کا ہے ۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ،عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← الْحَسَنُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ فَائِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ الْمُقْرِئُ ← أَحْمَدُ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Chapter of the thousand › From his name, Ahmad · Hadith 1514

المعجم الاوسط للطبرانی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 1738

1738 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَعْصَعَةَ قَالَ: نا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ، وَالْوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ إِلَّا الزُّبَيْدِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ: دِمَشْقِيٌّ "

یہ حدیث از زہری از اعرج صرف زبیدی ہی روایت کرتے ہیں اور یزید بن يوسف الصنعانی‘ دمشقی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيِّ، ← يزيد بن يوسف ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَعْصَعَةَ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Chapter of the thousand › From his name, Ahmad · Hadith 1738

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8732

8732 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِنْ قَالَ رَجُلٌ لَآخَرَ يَا كَافِرُ وَجَبَ الْكُفْرُ لِأَحَدِهِمَا» لَمْ يَرْوِ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ إِلَّا اللَّيْثُ "

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےروایت کرتے ہیں کہ اگر کوئی دوسرے آدمی کو کہے: اے کافر ! تو کفر ان میں سے کسی ایک کی طرف لوٹ کر آئے گا۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ إِلَّا اللَّيْثُ ← رَجُلٌ لَآخَرَ يَا كَافِرُ وَجَبَ الْكُفْرُ لِأَحَدِهِمَا» لَمْ يَرْوِ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ ← إِنْ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8732

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8763

8763 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا قُرْبُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ يَا عَائِشَةُ أَمَرْتُ بِالْكَعْبَةِ فَهُدِّمَتْ، فَأَلْصَقْتُ بَابَهَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ فِيهَا بَابَيْنِ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ إِلَّا أَبَانُ، وَلَا عَنْ أَبَانَ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدٍ "

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تیری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کی دیوار کو گراتا، اس کے دروازے کو زمین سے ملا دیتا اور اس کے دو دروازے بناتا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← أَبِي النَّضْرِ ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدٌ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8763

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيٌّ · حديث 4126

4126 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ: نا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: نا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ الرَّجُلِ وَالشِّرْكِ وَالْكُفْرِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ»

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَلِيٍّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · The door of the eye › From whose name is Ali · Hadith 4126

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 4318

4318 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بِأَبِي مَا لَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّاسِيَاتِ لَهَاضَهَا، ظَهَرَ الْكُفْرُ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ، فَمَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِخَصْلِهَا وَغَنَائِهَا قَالَ: وَكَانَتْ تَذْكُرُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَتَقُولُ: كَانَ وَاللَّهِ أَحْوَذِيًّا، نسيجٌ وَحْدَهُ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، تَفَرَّدَ بِهِ: أَبُو مَعْمَرٍ "

یہ حدیث عبید اللہ بن عمر سے عبداللہ بن جعفر روایت کرتے ہیں ‘اس کو روایت کرنےمیں ابو معمر اکیلے ہیں ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · The door of the eye › His name is Abd Allah · Hadith 4318

المعجم الاوسط للطبرانی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 1889

1889 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرٍ قَالَ: نا جَدِّي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: نا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، وَفِي يَمَنِنَا» . فَقَالَ رَجُلٌ: وَفِي مَشْرِقِنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا، وَفِي يَمَنِنَا» . فَقَالَ الرَّجُلُ: وَفِي مَشْرِقِنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا ويَمَنِنَا، إِنَّ مِنْ هُنَالِكَ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ، وَبِهِ تِسْعَةُ أَعْشَارِ الْكُفْرِ، وَبِهِ الدَّاءُ الْعُضَالُ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ إِلَّا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، تَفَرَّدَ بِهِ: ابْنُ وَهْبٍ "

یہ حدیث عبدالرحمٰن بن عطاء سے صرف سعید بن ابی الوب ہی روایت کرتے ہیں اس کو روایت کرنے میں ابن وہب اکیلے ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← جَدِّي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرٍ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Chapter of the thousand › From his name, Ahmad · Hadith 1889

المعجم الاوسط للطبرانی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُرِّيُّ · حديث 2251

2251 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: نا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ قَالَ: نا هَاشِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَكْفَرَ رَجُلًا، فَإِنْ كَانَ كَافِرًا، وَإِلَّا فَقَدْ بَاءَ بِالْكُفْرِ» لَمْ يَرْوِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ، عَنْ نَافِعٍ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَّا ابْنُهُ، وَلَا عَنِ ابْنِهِ إِلَّا هَاشِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ "

عبدالعزیز بن سیاه از نافعرضی اللہ عنہ ، یہ حدیث اس طریقے کے علاوہ روایت نہیں کرتے ہیں اور عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے صرف ان کے بیٹے اور ان کے بیٹے سے صرف ہاشم بن عبدالواحد رضی اللہ عنہ ہی روایت کرتے ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِيهِ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ، ← هَاشِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْجَوَارِبِيُّ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Chapter of the thousand › Ahmad ibn Muhammad al-Murri · Hadith 2251

المعجم الاوسط للطبرانی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 2324

2324 - وَبِهِ عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ، فُزِدْتُ فِيهِ مَا نَقَصَ مِنْهُ، ولَوَضَعْتُهُ بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ: بَابٌ يُدْخَلُ مِنْهُ، وَبَابٌ يُخْرَجُ مِنْهُ حَتَّى لَا يَكُونَ زِحَامٌ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خُصَيْفٍ إِلَّا عَتَّابٌ

یہ حدیث خصیف سے صرف عتاب ہی روایت کرتے ہیں۔

لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← مُجَاهِدٍ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Chapter of the thousand › A door of his name is Abraham · Hadith 2324

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 8978

8978 - وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ نَفْسٍ تُحْشَرُ عَلَى هَوَاهَا، مَنْ هَوِيَ الْكُفْرَ فَهُوَ مَعَ الْكُفْرِ، وَلَا يَنْفَعُهُ عَمَلُهُ شَيْئًا»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر جان کو اس کی خواہش پر اکٹھا کیا جائے گا ، کفر کی خواہش والے کو کفر کی خواہش پر، اس کا عمل کسی شی کے برابر نفع نہیں دے گا۔

جَابِرٍ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 8978

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مِقْدَامٌ · حديث 9077

9077 - حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ، ظَاهِرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَبَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ»

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: میری امت کا ایک گروہ حق پرلڑے گا ، وہ قیامت کے دن تک غالب رہیں گے ، آدمی اور کفر کے درمیان فرق نماز کا انکار کرنا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ أَنَّهُ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْمِقْدَامِ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: in front of · Hadith 9077

chevron_left Previous
1…151617…151
Next chevron_right