شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5377
5378 - و بإسناده قال : أخبرنا معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال : سئل ابن العباس : عن الذي يأتي امرأته من دبرها فقال : هذا يسألني عن الكفر
و بإسناده عن معمر عمن سمع عكرمة يحدث أن عمر بن الخطاب ضرب رجلا في مثل ذلك
اور اپنی اسناد کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے معمر نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا تھا اس شخص کے بارے میں جو اپنی عورت کے پاس آتا ہے پیچھے کے راستے سے۔انہوں نے فرمایا یہ شخص مجھے سے کفر کے بارے میں پوچھتا ہے۔ اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے معمر سے اس نے روایت کیا اس سے جس نے سنا تھا عکرمہ سے وہ حدیث بیان کرتا ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس جیسے کام کرنے پر پٹائی کی تھی۔
أن عمر بن الخطاب ضرب رجلا في مثل ذلك ← عِكْرِمَةَ، ← معمر عمن ← الكفر و بإسناده ← الذي يأتي امرأته من دبرها فقال هذا يسألني ← سئل ابن العباس ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← و بإسناده
Shuab ul Iman · Thirty-seventh of the people of faith › And it is a chapter in the prohibition of broiler chickens and what must be abstained from them · Hadith 5377
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل قيام شهر رمضان · حديث 3271
3271 - و بهذا الإسناد عن مالك عن داود بن الحصين أنه سمع عبد الرحمن بن هرمز الأعرج يقول : ما أدركت الناس إلا و هم يلعنون الكفرة في رمضان قال : فكان القاريء يقوم بسورة البقرة في ثماني ركعات فإذا قام بها في اثنتي عشرة ركعة رأى الناس أنه خفف
اسی اسنا د کے ساتھ مروی ہے مالک سے اس نے داؤد بن حصین سے کہ انہوں نے سنا عبدالرحمٰن بن ہرمزالاعرج سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے جتنے لوگوں کو پایا وہ رمضان شریف میں کافروں پر لعنت کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ قاری ایسا ہوتا تھا کہ سورہ بقرہ آٹھ رکعات میں پوری کر لیتا اور جب وہ اس کو بارہ رکعت میں پوری کرتا تو لوگ یہ دیکھتے کہ اس نے تحفیف کر دی ہے۔
ما أدركت الناس إلا و هم يلعنون الكفرة في رمضان ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ھُرْمُزَ الْاَعْرَجِ ← داود بن الحصين أنه ← مَالِكٍ، ← و بهذا الإسناد
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preferred month of Ramadan · Hadith 3271
شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 17
17 - و حدثنا أبو محمد عبيد بن محمد بن مهدي القشيري أنبأ أبو محمد المسيب البيهقي ثنا أبو الصلت الهروي عبد السلام و محمد بن أسلم قالا : ثنا علي بن موسى الرضا عن أبيه : فذكره بإسناده غير أنه قال :
الإيمان إقرار باللسان و معرفة بالقلب و عمل بالجوارح
و شاهد هذا الحديث ما مضى في الحديث الثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم في عدد شعب الإيمان
و أما قول الله عز و جل :
{ إن الذين آمنوا و عملوا الصالحات }
فأفرد العمل الصالح بالذكر و قد قال أيضا :
{ إلا الذين آمنوا و عملوا الصالحات و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر }
فأفرد التواصي بالحق و التواصي بالصبر بالذكر و لم يدلك ذلك على أنهما ليسا من الأعمال الصالحة فكذلك قوله :
{ إن الذين آمنوا و عملوا الصالحات }
لا يدل على أن عمل الصالحات ليس بإيمان و إنما معناه أن الذين آمنوا قبل الإيمان ـ الناقل عن الكفر ـ ثم لم يقتصروا عليه و لكنهم ضموا إليه الصالحات فعملوها حتى ارتقى إيمانهم من درجة الأقل إلى الأكمل
أو نقول : إن المراد بالذين آمنوا الإيمان بالله و بعمل الصالحات الإيمان لله و الإيمانان متغايران على ما بينا فلذلك سميا باسمين و الله أعلم
اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد عبید بن محمد بن مہدی قثیری نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن محمد بن موسیٰ بن کعب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد فضل بن محمد بن مسیب بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو صلت ہروی عبدالسلام اور محمد بن اسلم نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن موسیٰ رضا نے اپنے والد سے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے مگر اس طرح کیا ہے ۔ ( الایمان اقرار باللسان و معرفۃ بالقلب و عمل بالجوارح ) کہ ایمان زبان سے اقرار دل کی معرفت اور اعضاء کے ساتھ عمل کا نام ہے ۔ اس حدیث کو مشاہدہ کیجیے شعب الایمان کی گنتی میں جو گزری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ثابت حدیث میں آئندہ سطور میں ممکنہ اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح کو حرف عطف کے فاصلہ کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ ( مترجم ) بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ( ان الذین امنوا و عملوا الصالحات ) یعنی جو لوگوں نے ایمان لائے اور عمل صالح کئے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عمل صالح کو علیحدہ ذکر کیا ہے ۔ نیز دوسری آیت ( الا الذین امنوا و عملوا الصالحات و توا صو با لحق و توا صوا بالصبر ) ( سورۃ العصر ۳) یعنی اس آیت میں ایمان ۔ عمل صالح ، تواصی بالحق ، تواصی بالصبر کو الگ الگ ذکر کیا ہے یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ یہ دونوں اعمال صالحہ میں سے نہیں ہیں یہی حال اس آیت کا ہے ۔ ( ان الذین امنوا و عملوا الصالحات ) یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ اعمال صالح ایمان نہیں ہیں بلکہ مطلب ہے کہ جو لوگ ایسے ایمان سے قبل ایمان لائے جو کفر سے اسلام کی طرف منتقل کرتا ہے پھر اسی پر اکتفا نہیں کیابلکہ ایمان کے ساتھ نیکیاں بھی شامل کیں اور ان پر عمل کیا یہاں تک کہ ان کا ایمان کہ درجہ سے اکمل درجے کی طرف بلند ہو گیا ۔ یا ہم کہیں گے کہ الذین امنوا سے مراد ہے ایمان با اللہ اور عمل با الصالحات ایمان اللہ ۔ دو مختلف ایمان ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ۔ اسی لئے دو الگ الگ نام رکھے گئے ہیں ۔ و اللہ اعلم ۔
Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 17
شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 23
23 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري ثنا ابن نمير عن الأعمش ـ
و أخبرنا أبو عبد الله أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا معاذ بن نجدة القرشي ثنا خلاد بن يحيى ثنا سفيان عن منصور و الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود قال : قال رجل : يا رسول الله ! أيؤاخذ الله الرجل بما عمل في الجاهلية ؟ قال : من أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية و من أساء في الإسلام أخذ بالأول و الآخر
لفظ حديث أبي النضر
رواه البخاري في الصحيح عن خلاد بن يحيى
رواه مسلم عن محمد بن عبد الله بن نمير عن أبيه
قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ و هذا على أن الطاعات في الإيمان إيمان و أن المعاصي في الكفر كفر فإذا أسلم الكافر أحبط إسلامه كفره فإن أحسن في الإسلام أحبطت طاعاته تلك المعاصي التي قدمها في حال كفره و إن لم يحسن في الإسلام بقيت تلك المعاصي بحالها لم يجد ما يحبطها فأخذ بإساءته في الإسلام و فيما قبله و بسط الكلام في شرح ذلك
و لا يلزم على هذا إلزامه قضاء ما ترك من صوم و صلاة لأنه إذا صام و صلى بعد ما أسلم سقط عنه ما ترك في الكفر بدلالة الحديث و إن لم يصل و لم يصم أمر بهما و حمله على ذلك حمل له على ما فعله سقط عنه ما مضى
ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالحافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب بن نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن عفان عامری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن نمیر نے اعمش سے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے ابو نصر محمد بن محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے معاذہ بن نجدہ قرشی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے خلاد بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے منصور سے اور اعمش ابو وائل سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا اللہ تعالیٰ انسان سے ان اعمال پر بھی گرفت کریں گے جو اس نے اسلام سے قبل دور جاہلیت میں کئے ہوں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا جس نے اسلام میں اچھائی کی اس سے ان اعمال کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا جو اس نے جاہلیت میں کئے تھے اور جس نے اسلام میں آ کر بھی برائی کی اس سے پہلے اور پچھلے تمام اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا۔ یہ الفاظ ابو نصر کی حدیث کے تھے ۔ اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح میں خلاد بن یحییٰ سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو محمد بن عبداللہ بن نمیر سے اس نے اپنے باپ سے اس کو روایت کیا ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ تقریر اس بنیاد پر ہے کہ ایمان کی حالت میں طاعات عین ایمان ہیں اور کفر کی حالت میں معاصی عین کفر میں ۔ جب کافر مسلمان ہو جاتا ہے اسلام اس کے کفر کو تباہ کر دیتا ہے پھر اگر اسلام میں اچھائی اور نیکی کرے تو اس کی طاعات اور نیکیاں اس کی ان معاصی اور گناہوں کو تباہ کر دیتی ہیں جو اس نے حالت کفر میں کئے اور اگر اسلام میں اچھائی اور نیکی نہیں کرتا تو اس کے وہ گناہ باقی و بدستور رہتے ہیں انہیں تباہ کرنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی لہذا اس کی ان تمام برائیوں پر گرفت کی جائے گی جو اسلام میں کی ہوں گی یا اسلام سے قبل کی ہوں گی اور اس کی تفصیل میں حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے بڑی تفصیل سے کام لیا ہے ۔ یہاں پر مصنف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر سابقہ گناہوں پر بھی گرفت ہوگی ۔ تو اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ اسلام سے قبل صوم و صلوٰۃ کی قضاء بھی اس پر لازم ہو گی اس اعتراض ک جواب دیتے ہوئے مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ( از مترجم ) سابقہ تقریر سے لازم نہیں آتا کہ اس شخص پر ان نمازوں اور روزوں کی قضاء لازم ہو جو اس نے ترک کئے تھے ۔ کیونکہ اسلام لانے کے بعد جب نماز پڑھے اور روزہ رکھے گا اس کے ذمہ سے وہ نمازیں اور روزے ساقط ہو جائی گے جو اس نے کفر کے دور میں ترک کئے تھے یہ حدیث کی دلالت سے ثابت ہے ۔ ( اسلام کے بعد ) اگر نماز نہ پڑھے اور روزے نہ رکھے تو ان کے کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ اور اس کو اس حال پر محمول کیا جائے گا جیسے ان کا عمل کرنا اور اس ے گزشتہ نماز روزہ کے معاف ہو جائے ۔
Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 23
شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 75
75 - و بإسناده حدثنا حميد بن زنجويه ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا عثمان بن الأسود قال : قلت لعطاء بن أبي رباح : الرجل يقول : لا أدري أمؤمن أنا أم لا ؟ قال : سبحان الله ! قال الله تعالى :
{ الذين يؤمنون بالغيب }
فهو الغيب فمن آمن بالغيب فهو مؤمن بالله
قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ فهذا الذي روينا من إطلاق معاذ و ما روي مرسلا من تصويب عمر و قول عطاء في تسمية من آمن بالله و برسوله بالمؤمن يرجع إلى الحال
قال الحليمي : رحمه الله تعالى ـ :
لا ينبغي للمؤمن أن يمتنع من تسمية نفسه مؤمنا في الحال لأجل ما يخشاه من سوء العاقبة ـ نعوذ بالله منه ـ لأن ذلك و إن وقع و حبط ما قدم من إيمانه فليس ينقلب الموجود منه معدوما من أصله و إنما يحبط أجره و يبطل ثوابه
و بسط الكلام في شرح ذلك
و أما من أنكر من السلف إطلاق اسم الإيمان فالموضع الذي يليق به ما قال : أن يقول الواحد : أنا مؤمن و أعيش مؤمنا و أموت مؤمنا و ألقى الله مؤمنا و لا يستثني كان و لذلك قال ابن مسعود : قل إني في الجنة لأن من مات مؤمنا كان في الجنة و ليس كل من كان مؤمنا ساعة من عمره أو يوما أو سنة كان في الجنة فعلمنا أن عبد الله إنما قال هذا لمن اتكل على إيمانه فقطع بأنه مؤمن مطلق في عامة أحواله و أوقاته فلا يعيش إلا مؤمنا و لا يموت إلا مؤمنا و لم يكل أمره إلى الله عز و جل
فأما قول المؤمن : أنا الآن مؤمن فليس مما ينكر و إنما يصح الاستثناء إذا كان الخبر عن المستقبل خاصة فيكون المعنى أرجو أن يمن علي بالتثبيت و لا يسلبني هدايته بعد أن آتانيها
قال : و للاستثناء موضع آخر يصح فيه و يحسن و هو أن يرد على كمال الإيمان لا على أصله و أسه كما روي أن رجلا سأل قتادة : أمؤمن أنت ؟ فقال : أما أنا فأؤمن بالله و ملائكته و بكتبه و برسله و بالبعث بعد الموت و بالقدر خيره و شره أما الصفة التي ذكرها الله عز و جل :
{ إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } قرأ الآيات إلى قوله { أولئك هم المؤمنون حقا لهم درجات عند ربهم و مغفرة و رزق كريم }
فلا أدري أنا منهم أو لا
فقد أبان قتادة أنه قد آمن الإيمان الذي يبعده عن الكفر و لكنه لا يدري استكمل الأوصاف التي حكى الله تعالى بها قوما من المؤمنين فأوجب لهم بها المغفرة و الدرجات و كان ذلك مشككا منه في الاستكمال الذي يوجب له الدرجات لا في مجانية الكفر الذي يقسط عنه العذاب فمن وضع الاستثناء في أحد هذين الموضعين فليس من الشكاك
قال الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله :
و قد روينا معنى هذا عن الحسن البصري
اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام بن عمار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے صدقہ بن خالد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے عثمان بن اسود نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عطا بن ابی رباح سے کہا ایک آدمی یہ کہتا ہے میں نہیں جانتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں ۔ الذین یومنون با لغیب ( بقرہ ۳) اللہ غیب ہے جو شخص غیب کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ اللہ کے ساتھ ایمان رکھنے والا ہے ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ ہے وہ جو ہم نے حضرت معآز رضی اللہ عنہ کے خطبہ سے روایت کیا ہے اور یہ ہے وہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تصویب اوردرست قرار دینے کے بارے میں مرسلا مروی ہے ۔ اور حضرت عطاء کا قول اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ مومن ہے یعنی اس بات کی طرف راجع ہے کہ فی الحال مومن ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خاتمہ اور انجام کے خرابی کے خوف فی الحال بھی اپنے آپ کو مومن کہنے سے رک جانا اور باز آ جانا کسی بھی مومن کے لئے مناسب نہیں ہے اس لئے کہ اگر خدانخواستہ یہ بات ہو جائے اور جو ایمان وہ مقدم کر چکا وہ ضائع ہو بھی جائے تو اب جو ایمان موجود ہے یہ بالکل معدوم تو نہیں ہو جائے گا ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس کا اجر ضائع ہو گا اور ثواب باطل ہو گا۔ مومن کے نام کے اطلاق کا انکار سلف میں سے جس نے بھی کیا ہے تو اس کا بھی ایک مقام ہے جو اس کے لائق ہے اور شایان شان ہے اور وہ وہی ہے جو شیخ حلیمی نے کہا کہ مثلا کوئی شخص کہتا ہے کہ میں مومن ہوں ۔ اور مومن رہوں گا ۔ اور مومن ہی مروں گا۔ اور اللہ کو مومن ہی ملوں گا۔ انشاء اللہ بالکل نہیں کہتا۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔ بلکہ کہہ دے کہ میں جنت میں جاؤں گا اس لئے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں مر گیا وہ جنت میں ہوگا۔ حالانکہ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کا ایک لخطہ یا ایک دن یا ایک سال مومن تھا وہ جنت میں نہیں ہوگا۔ تو اس سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے یہ بات اس شخص کے بارے میں کہی تھی جو اپنے ایمان پر تکیہ اور بھروسہ کر رہا تھا لہذا انہوں نے یقین کر لیا کہ وہ اپنے عام حالات اور عام اوقات میں مطلقا مومن ہے وہ مومن ہی جئے گا اور مومن ہی مرے گا ، اپنے معاملے کو اس نے اللہ کے حوالے نہیں کیا۔ بہر حال کسی مومن کا یہ قول کرنا کہ میں اس وقت مومن ہوں یہ وہ قول ہے جس کو غلط نہیں کہا جا سکتا استثناء کرنا یعنی انشاء اللہ کہنا اس وقت صحیح ہوتا ہے جب مستقبل کے بارے میں خصوصاً خبر ہو اس وقت مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اللہ کی بارگاہ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایمان پر مجھے پکا رکھنے کا احسان فرمائیں گے اور اپنی عطا کردہ ہدایت مجھ سے نہیں چھینیں گے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ استثناء کرنے اور انشاء اللہ کہنے کے لئے ایک مقام اور ہے جہاں وہ صحیح ہے اور بہت بہتر ہے وہ یہ ہے کہ اس کو نہ ایمان کے کمال کی طرف راجع کیا جائے نہ ہی اس کی اصلی اور بنیاد پر مثال کے طور پر جیسے ایک آدمی نے حضرت قتادہ سے سوال کیا امومن انت ؟ کیا آپ مومن ہیں حضرت قتادہ نے ( جواب میں یہ نہیں کہا کہ میں مومن ہوں بلکہ یہ ) کہا بہر حال میں اللہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہوں ، اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے ساتھ اور اچھی و بری تقدیر پر ۔ باقی رہی مومن کی وہ صفت اللہ تعالیٰ نے جس کا ذکر سورۃ انفال میں فرمایا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں ہوں یا نہیں ہوں ۔ پھر انہوں نے وہ آیات تلاوت کیں ( جن کا مفہوم یہ ہے ) مومن وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کا یمان زیادہ کر دیتی ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ مومن وہ لوگ ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں زکٰوۃ ادا کرتے ہیں ہم نے جو انہیں رزق دیا ہے خرچ کرتے وہی لوگ سچھے مومن ہیں ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجے اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ۔ حضرت قتادہ نے واضح فرمایا کہ وہ ایسا یمان لائے ہیں جو اسے کفر سے دور کرتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے وہ اوصاف و صفات مکمل کر لی ہیں ؟ جو اللہ تعالیٰ نے مومن قوم کے لئے بیان فرمائی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مغفرت اور درجات واجب فرمائے ہیں ۔ یہ بات غیر یقینی تھی ان کے لئے ایمان کی تکمیل کے وہ صفات جس کے لئے درجات واجب ہوتے ہیں وہ حاصل کر سکے ہیں یا نہیں ۔ اس بات میں شک انہیں نہیں تھا کہ ایمان پر ہوتے ہوئے کفر کی کیفیت سے بالکل دور ہیں ۔ جس سے عذاب ساقط ہو جاتا ہے ۔ جو شخص مذکورہ دونوں جگہوں میں سے کسی ایک موقع پر استثناء یعنی انشاء اللہ کہتا ہے وہ شک کرنے والا نہیں ہے ۔ غافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے یہی مفہوم حسن بصری سے بھی روایت کیا ہے ۔
Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 75
شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول فيمن يكون مؤمنا بإيمان غيره · حديث 86
86 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن شاذان ثنا قتيبة بن سعيد ثنا عبد العزيز بن محمد عن العلاء بن ح عن أبيه عن أبي هريرة ـ رضي الله عنه ـ : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
كل إنسان تلده أمه على الفطرة أبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه فإن كانا مسلمين فمسلم
كل إنسان تلده أمه يلكزه الشيطان في حضنيه إلا مريم و ابنها
رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة
و قد حكينا عن الشافعي ـ رحمه الله تعالى ـ أنه قال :
كل مولود يولد على الفطرة
هي الفطرة التي فطر الله تعالى عليها الخلق فجعلهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ ما لم يفصحوا بالقول فيختاروا أحد القولين : الإيمان أو الكفر ـ لا حكم لهم في أنفسهم ـ إنما الحكم لهم بآبائهم فما كان آباؤهم يوم يولدون فهم بحاله إما مؤمن فعلى إيمانه أو كافر فعلى كفره
فذهب الشافعي ـ رحمه الله ـ في هذا إلى أن الله تعالى خلق المولود لا حكم له في نفسه و إنما هو تبع لوالديه في الدين في حكم الدنيا حتى يعرف عن نفسه بعد البلوغ
و أما في الآخرة فمنهم من ألحقهم بآبائهم في حكم الآخرة أيضا
و منهم من ألحق ذراري المسلمين بهم و زعم أن أولاد المشركين خدم أهل الجنة
و منهم من توقف في الجميع و وكل أمرهم إلى الله عز و جل
و هذا أشبه الأقاويل بالسنن الصحيحة و الله تعالى أعلم
و قد ذكرنا أقاويل السلف في ذلك و ما احتج به كل فريق منهم في آخر كتاب القدر فمن أحب الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله تعالى
و متى ما أسلم الأبوان أو أحدهما صار الولد مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما
و قد ذكرنا في كتاب السنن إسلام من صار مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما من أولاد الصحابة
و إذا سبي الصغير من دار الحرب و معه أبواه أو أحدهما فدينه دين من معه من أبويه و إن سبي وحده فدينه دين السابي لأنه وليه الذي أولى به منه فقام في دينه مقام أبويه كما قام في الولاية و الكفالة مقامهما و الله تعالى أعلم
ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن شاذان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالعزیز بن محمد نے علاء بن عبدالرحمن سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( کل انسان تلدہ امہ علی الفطرۃ ابواہ یھود انہ اوینصر انہ اور یمجسانہ فان کانا مسلمین فمسلم ۔ و کل انسان تلدہ امہ یلکزہ الشیطان فی حضنی ہالا مریم و ابنھا) ہر انسان کی اس کی ماں جنم دیتی ہے ( اسلام کی ) فطرت پر ۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے یا مجوسی بناتے ہیں اگر وہ دونوں مسلمان ہوتے ہیں تو بچہ بھی مسلمان ہوتا ہے ۔ اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوں میں گھوسہ مارتا ہے مگر بی بی مریم اور اس کا بیٹا عیسیٰ علیہ السلام امام مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے ۔ اور ہم امام شافعی سے نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تھا : ( کل مولود یولد علی الفطرۃ ) ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ یہ وہی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے موقوف قرار دیا ہے جب تک وہ اپنے قول سے وضاحت نہ کریں اور دو میں سے ایک قول کو اختیار کریں ۔ ایمان یا کفر کو فی ذاتدان کے حکم میں ہے البتہ ان کا حکم ان کے والدین والا ہے ولادت کے دن ان کے والدین جو کچھ تھے تو بچہ بھی اسی حکم میں ہو گا۔ اگر مومن تھے تو وہ ایمان پر ہوگا یا کافر تھے تو وہ کفر پر ہوگا۔ امام شافعی کا مسلک اسی بارے میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مولود کو اس طرح بنایا ہے کہ فی نفسہ اس کے لئے اپنا کوئی حکم نہیں ہے بہر حال دنیا میں وہ اپنے والدین کے تابع ہے دین میں یہاں تک کہ وہ اپنے بارے میں بالغ ہونے کے بعد کچھ ظاہر کرے ۔ باقی رہا ان کا آخرت کا حکم تو کچھ لوگوں نے ان کو آخرت کے بارے میں بھی ان کے والدین کے ساتھ لاحق کیا ہے اور بعض نے مسلمانوں کی اولادوں کو ان کے ساتھ لاحق کیا ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ مشرکین کی اولاد اہل جنت کے خادم ہوں گے ۔ اور کچھ لوگوں نے تمام بچوں کے بارے میں توقف کیا ہے اور ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیا ہے یہ قول احادیث صحیحہ کے مطابق تمام اقوال میں سے زیادہ بہتر ہے ۔ اس بارے میں سلف کے تمام اقوال اور ان کے دلائل ہم کتاب القدر کے آخر میں ذکر کر رہے ہیں جو شخص ان پر اگاہی چاہے تو انشاء اللہ وہاں رجوع کرے گا۔ جب والدین دونوں یا کوئی ایک مسلمان ہو جائے گا بچہ اس کے اسلام کے ساتھ مسلمان قرار پائے گا۔ ہم نے کتاب السنن میں اولاد صحابہ میں سے جو بچے والدین یا کسی ایک اسلام کی وجہ سے مسلمان قرار پائے تھے ان کا ذکر کیا ہے ۔ جب کوئی بچہ دار الکفر سے قید ہو کر آئے اور اس کے والدین ساتھ ہوں یا دونوں میں سے کوئی ایک ساتھ ہو تو بچھے کا دین اس کے ماں باپ والا ہوگا اگر بچہ اکیلا قیدی ہو کر آئے تو اس کا دین قید کرنے والے کا دین ہے کیونکہ وہی اس کا ولی ہے جو اس کے لئے اولیٰ ہے لہذا بچہ اپنے دین کے معاملے میں اپنے والدین کی جگہ ہے جیسے دلایت اور کفالت میں ان کی جگہ ہے واللہ اعلم ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← العلاء بن ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب
Shuab ul Iman · Book › The door to say about whoever is a believer in the faith of others · Hadith 86
شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 89
89 - قال : أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو مسلم ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
الإيمان بضع و ستون أو بضع و سبعون أفضلها لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان
قال الحليمي رحمه الله تعالى :
و هذه الشهادة فرض تجمع الاعتقاد بالقلب و الاعتراف باللسان و الاعتقاد و الإقرار و إن كانا عملين يعملان بجارحتين مختلفتين فإن نوع العمل واحد و المنسوب منه إلى القلب هو المنسوب إلى اللسان و المنسوب إلى اللسان هو المنسوب إلى القلب كما أن المكتوب ـ مما جمع بين كتبه و قوله هو المقول و المقول هو المكتوب
قال : و العمل الصالح بالاعتقاد و الإقرار مجموع عدة أشياء :
1 - ـ أحدهما : إثبات البارئ جل جلاله ليقع به مفارقة التعطيل
2 - ـ و الثاني : إثبات وحدانيته لتقع به البراءة من الشرك
3 - ـ و الثالث : إثبات أنه ليس بجوهر و لا عرض ليقع به البراءة من التشبيه
4 - ـ و الرابع : إثبات أن وجود كل ما سواه كان معدوما من قبل إبداعه له و اختراعه إياه ليقع به البراءة من قول من يقول بالعلة و المعلول
5 - ـ و الخامس : إثبات أنه مدبر ما أبدع و مصرفه على ما يشاء ليقع به البراءة من قول القائلين بالطبائع أو تدبير الكواكب أو تدبير الملائكة
فأما البراءة بإثبات الباري جل ثناؤه و الاعتراف له بالوجود من معاني التعطيل فلأن قوما ضلوا عن معرفة الله جل ثناؤه فكفروا و ألحدوا و زعموا أنه لا فاعل لهذا العالم و أنه لم يزل على ما هو عليه و لا موجود إلا المحسوسات و ليس وراءها شيء و أن الكوائن و الحوادث إنما تكون و تحدث من قبل الطبائع التي في العناصر ـ و هي الماء و النار و الهواء و الأرض و لا مدبر للعالم يكون ما يكون باختياره و صنعه
فإذا أثبت المثبت للعالم إلها و نسب الفعل و الصنع إليه فقد فارق الإلحاد و التعطيل و هذا أحسن مذاهب الملحدين و القائلون به يسميهم غيرهم من أهل الإلحاد : الفرقة المتجاهلة و يدعونهم غير الفلاسفة
أما البراءة من الشرك بإثبات الوحدانية فلأن قوما ادعوا فاعلين فزعموا أن أحدهما يفعل الخير و الآخر يفعل الشر
و زعم قوم أن بدء الخلق كان من النفس إلا أنه كان يقع منها لا على سبيل السداد و الحكمة فأخذ الباري على يدها و عمد إلى مادة قديمة كانت موجودة معه لم تزل فركب منها هذا العالم على ما هو عليه من السداد و الحكمة
فإذا ثبت المثبت أن لا إله إلا الله واحد و لا خالق سواه و لا قديم غيره فقد انتفى عن قول الشريك الذي هو في البطلان و وجوب اسم الكفر لقائله كالإلحاد و التعطيل
و أما البراءة من التشبيه بإثبات أنه ليس بجوهر و لا عرض فلأن قوما زاغوا عن الحق فصفوا الباري ـ جل و عز ـ ببعض صفات المحدثين فمنهم من قال : إنه جوهر
و منهم من قال : إنه جسم
و منهم من أجاز أن يكون على العرش قاعدا كما يكون الملك على سريره
و كل ذلك في وجوب اسم الكفر لقائله كالتعطيل و التشريك
فإذا ثبت أنه ليس كمثله شيء و جماع ذلك أنه ليس بجوهر و لا عرض فقد انتفى التشبيه لأنه لو كان جوهرا أو عرضا لجاز عليه ما يجوز على سائر الجواهر و الأعراض و إذا لم يكن جوهرا و لا عرضا لم يجز عليه ما يجوز على الجواهر من حيث أنها جواهر كالتأليف و التجسيم شغل الأمكنة و الحركة و السكون و لا ما يجوز على الأعراض من حيث أنها أعراض كالحدوث و عدم البقاء
و أما البراءة من التعطيل بإثبات أنه مبدع كل شيء سواه فلأن قوما من الأوائل خالفوا المعطلة ثم خذلوا عن بلوغ الحق فقالوا : إن الباري موجود غير أنه علة لسائر الموجودات و سبب لها بمعنى أن وجوده اقتضى وجودها شيئا فشيئا على ترتيب لهم يذكرونه و أن المعمول إذا كان لا يفارق العلة فواجب إذا كان الباري لم يزل أن يكون مادة هذا العالم لم تزل معه
فمن أثبت أنه المبدع الموجد المحدث لكل ما سواه من جوهر و عرض باختياره و إرادته المخترع لها لا من أصل فقد انتفى عن قوله التعليل الذي هو في وجوب اسم الكفر لقائله كالتعطيل
و أما البراءة من الشريك في التدبير بإثبات أنه لا مدبر لشيء من الموجودات إلا الله فلأن قوما زعموا أن الملائكة تدبر العالم و سموها آلهة و قد قال الله تعالى للملائكة :
{ فالمدبرات أمرا }
و معنى المدبرات : المنفذات لما دبر الله على أيديها كما يقال لمن ينفذ حكم الله بين الخصوم : حاكم
و زعم قوم أن الكواكب تدر ما تحتها و أن كل كائنة و حادثة في الأرض فإنما هي من آثار حركات الكواكب و اقترافها و اقترانها و اتصالها و انفصالها و غير ذلك من أحوالها
فمن أثبت أن الله ـ عز و جل ـ هو المدبر لما أبدع و لا مدبر سواه فقد انتفى عن قوله التشريك في التدبير الذي هو في وجوب اسم الكفر لقائله كالتشريك في القدم أو في الخلق
ثم أن الله عز و جل ثناؤه ضمن هذه المعاني كلها كلمة واحدة و هي لا إله إلا الله و أمر المأمورين بالإيمان أن يعتقدوها و يقولوها فقال جل و عز :
{ فاعلم أنه لا إله إلا الله }
و قال فيما ذم مشركي العرب :
{ إنهم كانوا إذا قيل لهم لا إله إلا الله يستكبرون * ويقولون أإنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون }
و المعنى أنهم إذا قيل لهم لا إله إلا الله استكبروا و لم يقولوا بل قالوا مكانها : أئنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون
فرمایا ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو مسلم نے وہ کہتے ہیں بات بیان کی ہے محمد بن کثیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے سہیل بن ابی صالح سے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا : ( الا یمان بضع و ستون اوبضع و سبعون ، افضلھا لا الہ الا اللہ و ادنا ھا اماطۃ الا زی عن الطریق و الحیاء شعبۃ من اللایمان ) ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے و شاخین ہیں سب برتر شاخ لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے چھوٹی شاخ راستہ سے گندگی وغیرہ تکلیف دہ چیز ہٹا دینا ہے اور حیاء ایمان کا شعبہ ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ شہادت فرض ہے ۔ جو اعتقاد بالقلب اور اقرار باللسان کو شامل ہے ۔ دل کا اعتقاد اور زبان کا اقرار اگرچہ دو ایسے عمل ہیں جو دو مختلف اعضاء ( دل اور زبان ) سے صادر ہوتے ہیں ۔ مگر عمل کی نوعیت واحد ہے ۔ جو چیز اس میں قلب کی طرف منسوب ہے وہی زبان کی طرف منسوب ہے ۔ اور جو چیز زبان کی طرف منسوب ہے ہی دل کی طرف منسوب ہے ۔ جیسے لفظ مکتوب وہی لکھا ہوا مکتوب ہے وہی بولا ہوا مکتوب ہے ۔ بولا ہوا وہی لکھا ہوا اور لکھا ہوا وہی بولا ہوا مکتوب ہے حلیمی نے فرمایا ۔ کہ عمل صالح اعتقاد اور اقرار سمیت مجموعی طور پر متعدد اشیاء میں ۔ اول ۔ باری تعالیٰ کے وجود کا اثبات کرنا تانکہ اس کے ساتھ تعطیل کا عقیدہ سے انکار واقع ہو۔ دوم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اثبات تانکہ اس کے ساتھ شرک سے بیزاری واقع ہو۔ سوم اس بات کا اثبات کے اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے نہ عرض ہے تانکہ اس کے ساتھ عقید تشبیہ سے بیزاری واقع ہو۔ چہارم ، اس بات کا اثبات کہ اللہ کے سوا ہر شئی کا وجود اللہ تعالیٰ کے ایجاد و اختراع کرنے سے قبل معدوم تھا تانکہ اس کے ذریعہ خالق و مخلوق کے مابین علت و معلول کے تعلق و رشتہ کے عقیدہ سے بیزاری و براءۃ واقع ہو۔ پنجم ، اس بات کا اثبات کہ جو کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے اس کا مدبر اور متصرف جیسے چاہے وہ خود ہے تانکہ اس کے ذریعے ان لوگوں سے براۃ واقع ہو سکے جو اس بات کے قائل ہیں کہ کائنات طبعی طور پر چل رہی ہے یا وہ لوگ جو کہتے ہیں کواکب اور ستاروں کی گردش سے یا وہ لو گ جو کہتے ہیں کہ فرشتوں کی تدبیر سے چل رہی ہے بہر حال باری تعالیٰ کے اثبات کے ساتھ براۃ و بیزاری اور اللہ کے وجود کا اقرار یہ عقیدہ تعطیل کے رد میں سے ہے اس لئے کہ ایک قوم اللہ کی معرفت سے بھٹک گئی ہے اور کافر و ملحد ہو گئے ہیں اور انہوں نے یہ دعویٰ کر لیا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے ۔ یہ ہمیشہ اسی حالت پر ہے اور یہ کہ موجود وہی چیز ہو سکتی ہے جو محسوسات میں سے اور جو چیز محسوس نہیں ہوتی وہ موجود بھی نہیں ہے ۔ اور یہ کہ حوادث اور واقعات عناصر اربعہ آگ پانی ہوا مٹی کے طبائع کے تغیر و تبدیلی سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کہ عالم کا کوئی مدبر نہیں ہے جس کے اختیار اور عمل سے ہو جو کچھ ہوتا ہے ۔ جب کوئی ثابت کرنے والا عالم کے لئے ایک الہٰ ثابت کرتا ہے اور فعل اور صنعت کی نسبت اسی کی طرف کرتا ہے تو وہ الحاد اور تعطیل کو غلط کر دیتا ہے جب کہ وہ ملحدین کا خوبصورت مذہب ہے جس کے قائل اہل الحاد اپنے مخالفین کو فرقہ متجاہلہ کا نام دیتے ہیں اور انہیں غیر فلاسفہ و غیر معقول کہتے ہیں ۔ اسی طرح شرک سے براۃ و بیزاری وحدانیت کے اثبات سے ہوتی ہے کیونکہ ایک قوم کا دعویٰ ہے کہ کائنات کے دو فاعل ہیں یا دو خالق ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایک خیر کے امور اور دوسرا شر کے امور انجام دیتا ہے ۔ اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تخلیق کی ابتدا روح اور نفس سے تھی لیکن غیر درست طریقہ اور غیر معقول طریقے تھی اللہ تعالیٰ نے اس تخلیق کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مادہ قدیمہ کے طرف ارادہ کیا جو ازل سے اس کے ساتھ موجود تھا ۔ اور اس عالم کو اس مادہ سے بنایا اور ترتیب دیا اس موجود ہ درست اور معقول ترکیب کے ساتھ۔ جب کوئی ثابت کرنے والا یہ ثابت کرتا ہے کہ الٰہ کوئی نہیں ہے اللہ کے سوا وہ ایک ہے اس کے سوا کوئی خالق نہیں ہے اور اس کے سوا کوئی قدیم نہیں ہے ۔ تو وہ شریک ہونے کے قول کی نفی کرتا ہے اور یہ شریک ہونے کا کرنے والا قول باطل ہونے اور اپنے قائل کے لئے کافر کا لقب واجب کرنے میں الحاد اور تعطیل کے قول کی طرح ہے اسی طرح تشبیہ کے عقیدے سے براۃ و بیزاری یہ ثابت کرے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے اور نہ ہی عرض ہے اس لئے ہے کہ ایک قوم حق سے بھٹک گئے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کو بعض حادث صفات کے ساتھ متصف کیا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جوہر ہے بعض کہتے ہیں کہ وہ جسم ہے ۔ بعض نے یہ جائز رکھا ہے کہ وہ عرش پر بیٹھا ہے جیسے کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ جب کہ یہ ساری باتیں اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب لگانے کے لئے تعطیل اور تشریک کے عقیدے کی طرح ہیں ( کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لازم آتا ہے کہ وہ کائنات کی اشیاء سے ممثلت رکھتا ہے جب کہ وہ مثلیت سے پاک ہے ( مترجم ) جب کوئی ثابت کرتے والا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لیس کمثلہ شئی ہے اس کی مثل کوئی بھی شئی نہیں ہے خلاصہ اس کا یہ ہے کہ نہ وہ جوہر ہے اور نہ ہی عرض ہے تو وہ تشبیہ کی نفی کر دیتا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ جوہر یا عرض ہوتا تو اس پر وہ سب کچھ جائز اور ممکن ہوتا جو تمام جو اہر و اعراض پر ہوتا ہے ۔ جب وہ جوہر نہیں ہے عرض نہیں ہے تو اس پر وہ سب کچھ جائز نہیں ہے جو جواہر و اعراض پر ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ جواہر میں تالیف و ترکیب ہوتی ہے تحبیم ہوتی ہے اللہ اس سے پاک ہے اور مکان اور جگہ گھیرتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے حرکت و سکون میں آتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے ور وہ کیفیات بھی س پر جائز نہیں جو اعراض پر ہوتی ہے جیسے قائم بالغیر ہونا اپنے ہونے اور وجود کے لئے کسی اور شئی کا محتاج ہونا پھر حادث و فانی ہونا وغیرہ اللہ تعالیٰ تمام نقائص سے پاک ہے ۔ اسی طرح تعطیل سے براۃ و بیزاری ۔ یہ ثابت کرنے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی کو از سر نو بغیر مادہ کے بنانے والا ہے اپنی ذات کے سوا ( یہ اس لئے ضروری ہے کہ ) پہلے لوگوں میں سے ایک قوم نے فرقہ معطلہ کی مخلافت کی مگر حق تک رسائی پانے میں ناکام ہو گئے اور انہوں نے یہ قول اختیار کر لیا کہ اللہ تعالیٰ جود تو ہے لیکن اسی طرح کہ وہ تمام کائنات کی موجودات کے لئے علت اور سبب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے وجود نے موجودات میں سے ہر ہر شئی کے وجود کو ایک کے بعد ایک کو تقاضا کیا ہے ایک خاص ترتیب کے ساتھ جس کا وہ ذکر کرتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتے ۔ تو جو شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ از سر نوع بغیر مادے اور بغیر مثال کے کائنات بنانے اور ایجاد کرنے والا ہے اور اپنے سوا ہر چیز کو از سرے نو پیدا کرنے والا ہے اپنے اختیار کے ساتھ اور اپنے ارادے کے ساتھ خواہ وہ چیز جوہر ہو یا عرض ہو بغیر کسی اصل کے اختراع کرنے والا ہے تو وہ شخص تعطیل کے قول کی نفی کرتا ہے علت و معلول کے عقیدہ کی نفی کرتا ہے جو عقیدہ اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب دینے کے لئے عقیدہ تعطیل و تشریک کی طرح ہے اسی طرح شریک سے براۃ و بیزری یعنی تدبیر میں شریک ہونا اس کی نفی ہوتی ہے اس بات کے اثبات کے ساتھ کہ موجودات میں سے کسی بھی شئی کے لئے اللہ کے سوا کوئی مدبر نہیں ہے ۔ اس لئے کہ ایک قوم نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ فرشتے عالم کے مدبر ہیں لہذا ان کو اللہ کا نام دے رکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے بارے میں فرمایا ۔ فالمدبرات امرا ( ناز علت ) مدبرات کا معنی ہے منفذات لما دبر اللہ علی ایدیھا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے جس چیز کی تدبیر فرما دی ہے ان تدبیرات الہیہ کو نافذ کرنے والے مثال کے طور پر جیسے اللہ کے حکم کو نافذ کرنے والے کو حاکم کہتے ہیں جب وہ دو مخالفوں میں فیصلہ کرتا ے اور ایک قوم نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ کواکب اور ستارے اپنے نیچے مدبر ہیں اور ہر مصیبت اور ہر حادثہ جو دھرتی پر ہوتا ہے وہ کواکب کی گردش کے آثار سے ہوتا ہے اور ان کے ملنے اور جدا ہونے ان کے ملاپ اور جدائی وغیرہ کیفیات سے ہوتا ہے ۔ تو جو شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ ایجاد و اختراع کیا ہے اس کا مدبر وہ خود ہے اس کے سوا کوئی مدبر نہیں ہے تو وہ تدبیر میں شریک کرنے کی نفی کرتا ہے جب کہ یہ شرک اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب دینے میں قدیم ہونے کے شرک اور تخلیق میں شرک کی طرح ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ( مذکورہ تمام شرک کی نفی کرنے اور توحید کے تمام مذکورہ و غیر مذکورہ ( پہلو اجاگر کرنے اور ثابت کرنے کے لئے ) اور مذکورہ تمام معانی کو ایک ہی کلمہ میں جمع کرنے کے لئے یہی ایک کلمہ دیا ہے وہ ہے لا الہ الا اللہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے مامورین کو حکم دیا ہے کہ واسی کا عقیدہ رکھیں اور اسی کا قول و اقرار کریں اور اللہ تعالیٰ نے خود حکم دیا ہے : ( فاعلم انہ لا الہ الا اللہ ) ( سورۃ محمد ۱۹) یقین جاننے کہ وہ وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ ( یعنی لا موجود الا اللہ ، ولا واحد الا اللہ ، لا منزہ من الشرکاء الا اللہ لا منزہ من النشیبیہ الا اللہ ، لا مبدع ولا موجد بغیر اصلی و مادۃ الا اللہ ، لا مدب و الا متصرف فی الکو نالا اللہ ، و غیرہ ذلک من اللوازم و الصفات ) ( ازمترجم ) اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : ( انھم کانوا اذاقیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون و یقولون ائنا لتار کوا الھتنا لشاعر مجنون ) ( الصافات ۳۵-۳۶) بے شک ان مشرکوں سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نیں ہے تو وہ اکڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہم ایک شاعر اور دیوانے کے لئے اپنے بہت سارے معبودوں اور حاجت رواؤں کو چھوڑ دیں گے ؟ یعنی جب انہیں کہا جاتا کہ لا الہ الا اللہ تو وہ اخر جاتے اور اس کا اقرار نہ کرتے بلکہ اس کی جگہ یہ کہتے ہیں : ( ائنا لتار کوا التھنا لشاعر مجنون ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،
Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 89
شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيمان يرسل الله صلوات الله عليهم عامة ـ · حديث 133
133 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو زكريا العنبري ثنا محمد بن عبد السلام ثنا إسحاق بن إبراهيم أنبأ عمرو بن محمد ثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس : في قوله عز و جل :
{ و اذكر في الكتاب إبراهيم إنه كان صديقا نبيا }
قال : كان الأنبياء من بني إسرائيل إلا عشرة : نوح و صالح و هود و لوط و شعيب و إبراهيم و إسماعيل و إسحاق و يعقوب و محمد صلى الله عليه و سلم
و لم يكن من الأنبياء من له اسمان إلا إسرائيل و عيسى فإسرائيل يعقوب و عيسى : المسيح
قال البيهقي ـ رحمه الله ـ
و الإيمان برسول الله صلى الله عليه و سلم يتضمن الإيمان له و هو قبول ما جاء به من عند الله عنه و العزم على العمل به لأن تصديقه في أنه رسول الله إلزام لطاعته و هو راجع إلى الإيمان بالله و الإيمان له لأنه من تصديق الرسل و في طاعة الرسول طاعة المرسل لأنه بأمره أطاعه
قال الله تعالى :
{ من يطع الرسول فقد أطاع الله }
قال : و النبوة اسم مشتق من النبأ و هو الخبر إلا أن المراد
به في هذا الموضع خبر خاص و هو الذي يكرم الله عز و جل به أحدا من عباده فيميزه عن غيره بإلقائه إليه و يوقفه به على شريعته بما فيها من أمر و نهي و وعظ و إرشاد و وعد و وعيد فتكون النبوة على هذا الخبر و المعرفة بالمخبرات الموصوفة فالنبي صلى الله عليه و سلم هو المخبر بها فإن انضاف إلى هذا التوقيف أمر بتبليغه الناس و دعائهم إليه كان نبيا و رسولا
و إن ألقي إليه ليعمل به في خاصته و لم يؤمر بتبليغه و الدعاء إليه كان نبيا و لم يكن رسولا فكل رسول نبي و ليس كل نبي رسولا
قال : و قد أرشد الله تعالى إلى أعلام النبوة في القرآن كما أرشد إلى آيات الحدث الدالة على الخالق و الخلق فقال عز اسمه :
{ لقد أرسلنا رسلنا بالبينات وأنزلنا معهم الكتاب والميزان ليقوم الناس بالقسط }
و قال : { رسلا مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس على الله حجة بعد الرسل }
و قال : { ولو أنا أهلكناهم بعذاب من قبله لقالوا ربنا لولا أرسلت إلينا رسولا فنتبع آياتك من قبل أن نذل ونخزى }
فأخبر تعالى أنه بعث الرسل لقطع حجة العباد
و قيل في ذلك وجوه :
أحدها : أن الحجة التي قطعت على العباد هي أن يقولوا أن الله جل ثناؤه إن كان خلقنا لنعبده فقد كان ينبغي أن يبين لنا العبادة التي يريدها منا و يرضاها لنا ما هي ؟ و كيف هي
فإنه و إن كان في عقولنا الاستجداء له و الشكر على نعمه التي أنعمها علينا فلم يكن فيها أن التذلل و العبودية منا بماذا ينبغي أن تكون و على أي وجه ينبغي أن تظهر فقطعت حجتهم بأن أمروا و نهوا و شرعت لهم الشرائع و نهجت لهم المناهج فعرفوا ما يراد منهم و زالت الشبهة عنهم
و الآخر : أن الحجة التي قطعت هي ألا يقولوا إنا ركبنا تركيب شهوة و غفلة و سلط علينا الهوى و وضعت فينا الشهوات فلو أمددنا بمن إذا سهونا نبهنا و إذا مال بنا الهوى إلى وجه قومنا لما كان منا إلا الطاعة و لكن لما خلينا و نفوسنا و وكلنا إليها و كانت أحوالنا ما ذكرنا غلبت الأهواء علينا و لم نملك قهرها و كانت المعاصي منا لذلك
و الثالث : أن الحجة التي قطعت هي أن لا يقولوا قد كان في عقولنا حسن الإيمان و الصدق و العدل و شكر المنعم و قبح الكذب و الكفر و الظلم و لكن لم يكن فيها أن من ترك الحسن إلى القبيح عذب بالنار خالدا مخلدا فيها و أن من ترك القبيح إلى الحسن أثيب بالجنة خالدا مخلدا فيها لأنه إذا كان لا يدرك بالعقل أن لله جل جلاله خلقا هو الجنة أو خلقا هو النار الغائبة
فكيف يدرك أن أحدهما معد للعصاة و الآخر لأهل طاعته
و لو علمنا أنا نعذب على معاص و ذنوب متناهية عذابا متناهيا أو غير متناه أو نثاب بالطاعات المتناهية ثوابا غير متناه لما كان منا إلا الطاعة فقطع الله تبارك و تعالى هذه الحجج كلها ببعثة الرسل و بالله التوفيق
ثم إن الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ احتج في صحة بعث الرسل بما عرف من بروج الكواكب و عددها و سيرها ثم بما في الأرض مما يكون قوتا و ما يكون دواء لداء بعينه و ما يكون سما و ما يختص بدفع ضرر السم و ما يختص بجبر الكسر و غير ذلك من المنافع و المضار التي لا تدرك إلا بخير
ثم بوجود الكلام من الناس فإن من ولد أصم لم ينطق أبدا و من سمع لغة و نشأ عليها تكلم بها فبان بهذا أن أصل الكلام سمع و أن أول من تكلم من البشر تكلم عن تعليم و وحي كما قال الله عز و جل :
{ وعلم آدم الأسماء كلها }
و قال تعالى :
{ خلق الإنسان * علمه البيان }
ثم إن كل رسول أرسله الله تعالى إلى قوم فلم يخله من آية أيده بها و حجة آتاها إياه و جعل تلك الآية مخالفة للعادات إذ كان ما يريد الرسول إثباته بها من رسالة الله عز و جل أمرا خارجا عن العادات ليستدل باقتران تلك الآية بدعواه أنه رسول الله
و بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ الكلام في ذلك إلى أن قال : و الكذب على الله تعالى و الافتراء عليه بدعوى الرسالة من عنده من أعظم الجنايات فلا يليق بحكمة الله تعالى أن يظهر على من تعاطى ذلك آية ناقضة للعادات فيفتتن العباد به و قد تبرأ الله عز و جل من هذا الصنيع نصا في كتابه فقال يعني نبيه صلى الله عليه و سلم :
{ ولو تقول علينا بعض الأقاويل * لأخذنا منه باليمين * ثم لقطعنا منه الوتين }
قال : و كل آية آتاها الله رسولا فإنه يقرر بها عند الرسول أولا أنه رسوله حقا ثم عند غيره و قد يجوز أن يخصه بآية يعلم بها نبوة نفسه ثم يجعل له على قومه دلالة سواها
و معجزات الرسل كانت أصنافا كثيرة و قد أخبر الله عز و جل أنه أعطى موسى عليه أفضل الصلاة و السلام تسع آيات بينات : العصا و اليد و الدم و الطوفان و الجراد و القمل و الضفادع و الطمس و البحر
فأما العصا فكانت حجته على الملحدين و السحرة جميعا و كان السحر في ذلك الوقت فاشيا فلما انقلبت عصاه حية تسعى و تلقفت حبال السحرة و عصيهم علموا أن حركتها عن حياة حادثة فيها بالحقيقة و ليست من جنس ما يتخيل بالحيل فجمع ذلك الدلالة على الصانع و على نبوته جميعا
و أما سائر الآيات التي لم يحتج إليها مع السحرة فكانت دلالات على فرعون و قومه القائلين بالدهر فأظهر الله تعالى صحة ما أخبرهم به موسى عليه أفضل الصلاة و السلام من أن له و لهم ربا و خالقا
و ألان الله عز و جل الحديد لداود و سخر له الجبال و الطير و كانت تسبح معه بالعشي و الإشراق
و أقدر عيسى بن مريم عليه أفضل الصلاة و السلام على الكلام في المهد و كان يتكلم فيه كلام الحكماء و كان يحيي له الموتى و يبرئ ـ بدعائه أو بيده إذا مسح الأكمه و الأبرص و جعل له أن يخرج من الطين كهيئة الطير فينفخ فيه فيكون طيرا بإذن الله ثم أنه رفعه من بين اليهود لما أن أرادوا قتله و صلبه فعصمه الله تعالى بذلك من أن يخلص ألم القتل و الصلب إلى بدنه و كان الطب عاما غالبا في زمانه فأظهر الله تعالى بما أجراه على يديه و عجز الحذاق من الأطباء عما هو أقل من ذلك بدرجات كثيرة أن التعويل على الطبائع و إمكان ما خرج عنها باطل بأن للعالم خالقا و مدبرا و دل بإظهاره ذلك له و بدعائه على صدقه و بالله التوفيق
و أما المصطفى نبينا صلى الله عليه و سلم خاتم النبيين صلوات الله عليهم و عليه و على آله الطيبين و صحبه أجمعين فإنه أكثر الرسل آيات بينات و ذكر بعض أهل العلم أن أعلام نبوته تبلغ ألفا فأما العلم الذي اقترن بدعوته و لم يزل يتزايد أيام حياته و دام في أمته بعد وفاته فهو القرآن المعجز المبين و حبل الله المتين الذي كما وصفه به من أنزله فقال :
{ وإنه لكتاب عزيز * لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد }
و قال تعالى :
{ إنه لقرآن كريم * في كتاب مكنون * لا يمسه إلا المطهرون * تنزيل من رب العالمين }
و قال : { بل هو قرآن مجيد * في لوح محفوظ }
و قال : { إن هذا لهو القصص الحق }
و قال : { وهذا كتاب أنزلناه مبارك فاتبعوه واتقوا لعلكم ترحمون }
و قال : { كلا إنها تذكرة * فمن شاء ذكره * في صحف مكرمة * مرفوعة مطهرة * بأيدي سفرة * كرام بررة }
و قال : { قل لئن اجتمعت الإنس والجن على أن يأتوا بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا }
فأبان ـ جل ثناؤه ـ أنه أنزله على وصف مباين لأوصاف كلام البشر لأنه منظوم و ليس بمنثور و نظمه ليس نظم الرسائل و لا نظم الخطب و لا نظم الأشعار و لا هو كأسجاع الكهان و أعلمه أن أحدا لا يستطيع أن يأتي بمثله ثم أمره أن يتحداهم على الإتيان بمثله إن ادعوا أنهم يقدرون عليه أو ظنوه فقال تعالى :
{ قل فاتوا بعشر سور مثله مفتريات }
ثم نقصهم تسعا فقال :
{ فاتوا بسورة من مثله }
فكان من الأمر ما نصفه غير أن من قبل ذلك دلالة : و هي أن النبي صلى الله عليه و سلم كان غير مدفوع عند الموافق و المخالف عن الحصافة و المتانة و قوة العقل و الرأي
و من كان بهذه المنزلة و كان مع ذلك قد انتصب لدعوة الناس إلى دينه لم يجز بوجه من الوجوه أن يقول للناس : أن ائتوا بسورة من مثل ما جئتكم به من القرآن و لن تستطيعوه إن أتيتم به فأنا كاذب و هو يعلم من نفسه أن القرآن لم ينزل عليه و لا يأمن أن يكون في قومه من يعارضه و إن ذلك إن كان بطلت دعواه فهذا إلى أن يذكر ما بعده دليل قاطع على أنه لم يقل للعرب : أن ائتوا بمثله إن استطعتموه و لن تستطيعوه إلا و هو واثق متحقق أنهم لا يستطيعونه و لا يجوز أن يكون هذا اليقين وقع له إلا من قبل ربه الذي أوحى إليه به فوثق بخبره ـ و بالله التوفيق
و أما ما بعد هذا فهو أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لهم ائتوا بسورة من مثله إن كنتم صادقين فطالت المهلة و النظرة لهم في ذلك و تواترت الوقائع و الحروب بينه و بينهم فقتلت صناديدهم و سيبت ذراريهم و نساؤهم و انتهبت أموالهم و لم يتعرض أحد لمعارضته فلو قدروا عليها لافتدوا بها أنفسهم و أولادهم و أهاليهم و أموالهم و لكان الأمر في ذلك قريبا سهلا عليهم إذ كانوا أهل لسان و فصاحة و شعر و خطابة فلما لم يأتوا بذلك و لا ادعوا صح أنهم كانوا عاجزين عنه و في ظهور عجزهم بيان أنه في العجز مثلهم إذ كان بشرا مثلهم لسانه لسانهم و عادته عادتهم و طباعه طباعهم و زمانه زمانهم و إذا كان كذلك و قد جاء القرآن فوجب القطع بأنه من عند الله تعالى جده لا من عنده و بالله التوفيق
فإن ذكروا سجع مسيلمة فكل ما جاء به مسيلمة لا يعدو أن يكون بعضه محاكاة و سرقة و بعضه كأساجيع الكهان و أراجيز العرب و قد كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول ما هو أحسن لفظا و أقوم معنى و أبين فائدة ثم لم تقل له العرب ها أنت تتحدانا على الإتيان بمثل القرآن و تزعم أن الإنس و الجن لو اجتمعوا على أن يأتوا بمثله لم يقدروا عليه ثم قد جئت يمثله مفترى بأنه ليس من عند الله و ذلك قوله :
( أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب )
و قوله :
( تالله لولا الله ما اهتدينا و لا تصدقنا و لا صلينا )
( فأنزلن سكينة علينا و ثبت الأقدام إن لاقينا )
و قوله :
( إن العيش عيش الآخره فارحم الأنصار و المهاجره )
و قوله :
تعس عبد الدينار و الدرهم و عبد الخميصة إن أعطي منها رضي و إن لم يعط سخط تعس و انتكس و إن شيك فلا انتقش
فلم يدع أحد من العرب أن شيئا من هذا يشبه القرآن و أن فيه كثيرا كقوله
و حكى الأستاذ أبو منصور الأشعري ـ رحمه الله ـ فيما كتب إلي عن بعض أصحابنا أنه قال : يجوز أن يكون هذا النظم قد كان فيما بينهم فعجزوا عنه عند التحدي فصار معجزة لأن إخراج ما في العادة عن العادة نقض للعادة كما أن إدخال ما ليس في العادة في الفعل نقض للعادة
و بسط الكلام في شرحه
و أيهما كان فقد ظهرت بذلك معجزته و اعترفت العرب بقصورهم عنه و عجزهم عن الإتيان بمثله
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو زکریا عنبری نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالسلام سے انہوں نےکہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسحٰق بن ابراہیم نے انہوں نے کہا خبر دی ہے عمرو بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اسرائیل سے انہوں نے سماک بن حرب سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نےابن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں : ( و اذ کر فی الکتاب ابراہیم انہ کان صدیقا نبیا) ( مریم ۴۱) اے پیغمبر قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ پڑھئے بیشک وہ سچا نبی تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ سارے انبیاء اکرام بنی اسرائیل میں سے تھےمگر دس۔ 1۔ حضرت نوح علیہ السلام ، 2۔ حضرت صالح علیہ السلام ، 3۔ حضرت ہود علیہ السلام ، 4۔ حضرت لوط علیہ السلام ، 5۔ حضرت شعیب علیہ السلام ، 6۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام ، 7۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ، 8۔ حضرت اسحٰق علیہ السلام ، 9۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ، 10۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، انبیاء میں سے صرف دو ایسے تھے جن کے دو نام تھے : ( 1۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوسرا نامسیح ہے ۔ 2۔ حضرت یعقوب علیہ السلام ان کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ امام بیہقی کا فرمان : ( ایمان با لرسول ، ایمان با للہ ) کو بھی متضمن ہے ۔ ایمان بالرسول اور درحقیقت اس کتاب کو بھی قبول کرنا ہے جو وہ اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس پر عمل کرنے کا عزم ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اس بات کی تصدیق کرنا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں درحقیقت ان کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کرنا ہے ۔ اور یہی چیز ایمان با للہ اور ایمان بالرسول کے طرف راجع ہوتی ہے اس لئے کہ وہ رسل کی تصدیق اور اطاعت رسول میں درحقیقت اطاعت مرسل ( یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ) ہے ۔ اس لئے کہ اسی کے حکم سے ہی تو اس کی اطاعت اس نے کی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ( من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ) ( النساء ۸۰) جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی ۔ امام بیہقی نے فرمایا : نبوۃ اسم ہے نباء سے مشتق ہے اور نباء خبر کو کہتے ہیں ۔ مگر اس موقع پر خبر سے مراد خاص خبر ہے اور نبی وہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے میں سے کسی ایک بندے کو یہ عزت و اکرم عطا کرتے ہیں اور اس کو باقی لوگوں سے ممتاز بنا دیں گے اس کی طرف وحی بھیج کر ۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسے اپنی شریعت پر مطلع کرتے ہیں امر نہی و عظ ۔ ارشاد و عد ، وعید وغیرہ امور سے لہذا نبوت اس طرح کی خبر اور ایسی ہی اطلاعات جو ان مذکورہ صفات سے متصف ہو کانام ہے ۔ ۔ تو بنی وہ ذات مقدس ہوتی ہے جس کو ان امور کی خبر دی جاتی ہے ۔ ان اطلاعات کے ساتھ اگر ان امور کو لوگوں تک پہچانے اور تبلیغ کرنے اور لوگوں کو اس کی دعوت دینے کا حکم دینے کا حکم بھی ہوتا ہے تو وہی انسان نبی اور رسول ہوتا ہے ۔ اور اگر اس کی طرف وحی اس لئے القا کی جاتی ہے تانک وہ خود بذاتہ اس پر عمل کرے اور اس کو ا سکی تبلیغ اور اس کی دعوت کا حکم نہیں دیا جاتا تو تو وہ نبی ہوتا ہے رسول نہیں ہوتا لہذا ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جیسے تخلیق کائنات کے بارے میں واضح آیات کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے اور مخلوق کے مخلوق ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور کائنات کے حادث ہونے پر دلالت کرتے ہیں اطلاع اور رہنمائی فرمائی ہے بلکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نبوت کے اظہار و اعلان کے لئے بھی رہنمائی فرمائی ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ( لقد ارسلنا رسلنا بالبیت و انزلنا معھم الکتاب و المیزن لیقوم الناس بالقسط ) ( الحدید ۲۵) البتہ تحقیق بھیجا ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ اور نازل کی ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان عمل تانکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔ ( رسلا مبشرین و منذرین لئلایکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسول ) ( النساء ۱۶۵) بہت سے رسول بھیجے ہم نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے تانکہ نہ رہ جائے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت رسولوں کے بعد ۔ ( ولوانا اھلکنا ھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسولا ، فنتبع ایاتک من قبل ان نذل و نخری ) ( طہ ۱۳۴) اگر ہم ان لوگوں کو رسول کے آنے قبل عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیتے تو وہ قیامت میں یہ کہتے اے ہمارے رب ہماری طرف آپ نے کوئی رسول کیوں نہ بھیجا ( اگر آپ رسول بھیجتے ) تو ہم تیری آیات کی اتباع کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اس نے رسولوں کو اپنے بندوں پر تمام حجت کرنے کے لئے بھیجا اور اس کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر الزام ختم کرنے کے لئے کہا گیا کہ اس میں کئی وجوہات ہیں : پہلی وجہ : (بسلسلہ رسل جاری فرما کر ) اللہ تعالیٰ نے جس الزام اور جس حجت کو کاٹ دیا اور ختم کر دیا وہ یہ ہو سکتی تھی کہ لوگ قیامت میں یہ کہتے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس لئے پیدا کیا تھا تاکہ ہم اس کی عبادت کریں تو چاہیئے تھا کہ ہمارے لئے اس عبادت کو بھی بیان کر دیا جاتا جو ہم سے مطلوب تھی اور جس عبادت کو ہمارے لئے پسند کیا تھا ۔ یہ بیان کیا جاتا کہ وہ عبادت کیا ہے ؟ اور کیسی ہے ؟ اگرچہ ہماری عقلوں میں اس سے فائدے کا حاصل کرنا اور اس کا شکر کرنا ان نعمتتوں پر جن کا ہمارے اوپر اس نے انعام فرمایا ہے تو تھا لیکن یہ ہماری عقلوں میں نہیں آتا تھا کہ اطہار عجر و ذلت اس کے آگے کیسے کریں ؟ اور اظہار عبدیات ہماری طرف سے کس طرح ہونا چاہیے اور کس طور پر مناسب ہے کہ اس کا اظہار ہو لہذا یہ ان کی حجت اور ان کا یہ اعتراض اس طرح ختم کر دیا گیا کہ انہیں حکم دئیے گئے ۔ انہیں کہی گئی اور ان کے لئے احکامات جاری کئے گئے ۔ ان کے لئے راستے اور مناہج متعین کئے گئے لہذا وہ اچھی طرح جان گئے کہ ان سے کیا کچھ مطلوب ہے اور اور ان کے سارے شبہات دور ہو گئے ۔ دوسری وجہ : ( بے شک وہ حجت جو کاٹ دی گئی یہ تھی کہ لوگ یہ کہتے ہم لوگ شہوت و غفلت سے مرکب بنائے گئے تھے ہمارے اوپر حرص و ہوا مسلط کئی تئی تھی ۔ ہمارے اندر شہوات و لذات رکھی گئی تھیں ۔ اگر ہماری کسی ایسی انسان کو بھیج مدد کر دی جاتی کہ جب ہم بھول چوک اور سہو غلطی کا شکار ہوتے تو وہ ہمیں تنبیہ کر دیتا اور جب ہمیں ہو اوخواہش اس طرف مائل کرتی تو وہ ہمیں سیدھا چلاتا کیونکہ ہم سے مطلوب تو صرف اطاعت ہی تھی ۔ لیکن ہمارے ساتھ ایسا نہ کیا گیا بلکہ ہمارے درمیان اور ہمارے نفسوں کے درمیان تخلیہ چھوڑ دیا گیا ۔ اور ہمیں مکمل طورپر اپنے نفوس کے حوالے کر دیا گیا خصوصا اس وقت جب ہماری کیفیات وہ تھی جو ہم نے بتلائی ہیں تو بلا محالہ ہمارے اوپر ہماری خواہشات غالب آ گئیں ۔ ہم ان پر جبر کرنے پر قادر نہ رہ سکے تھے لہذا اسی واسطے ہم سے نافرمانیاں اور معاصی ہو گئے تھے ۔ تیسری وجہ : رسولوں کو بھیج کر جو الزم ختم کر دیا گیا اور جو حجت کاٹ دی گئی یہ تھی کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ہمارے عقلوں میں آتی تھی ۔ لیکن ہماری عقلوں میں از خود یہ بات آتی تھی کہ جو شخص اچھائی کو ترک کر کے برائی کی طرف چلا جائے حسن کو چھوڑ کر قبیح کا ارتکاب کرے وہ آگ کے عذاب میں ڈال دیا جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہے گا ۔ اور جو شخص قبیح کو چھوڑ کر حسن کا ارتکاب کرے گا برے کام چھوڑ کر اچھے کام کرے گا وہ جنت کا ثواب اور بدلہ دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہے گا یہ بات ہماری عقل میں نہیں آ سکتی تھی ۔ کیونکہ یہ بات عقل سے معلوم نہیں ہو سکتی تھی اور عقل کے ساتھ نہیں سمجھا سکتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مخلوق ایسی بنائی ہے جس کو جنت کہتے ہیں اور ایک مخلوق وہ بنائی ہے جس کو جہنم کہتے ہیں اور وہ آگ سے ہے اور وہ دونوں مخفی اور غائب تھیں لہذا اس بات کا ادراک کیسے ہو سکتا تھا کہ ایک گنہگاروں کے لئے بنائی گئی ہو اور دوسری اہل اطاعت کے لئے اگر ہم جان لیتے کہ ہم گناہ کرنے پر عذاب دیئے جائیں گے اور محدود گناہوں پر محدود عذاب اور غیر محدود گناہ کرنے پر عذاب بھی غیر محدود دیئے جائیں گے اور محدود اطاعات پر غیر محدود ثواب دیئے جائیں گے اس لئے کہ ہم سے مطلوب صرف اطاعت تھی ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیج کر یہ تمام حجتیں کاٹ دیں اور یہ سارے الزام ختم کر دیئے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے رسولوں کی بعث کی صحت و ضرورت پر حجت پکڑی ہے اور دلیل دی ہے ۔ ان امور کے ساتھ جو مشہور و معروف ہیں ستاروں کے برج ان کی تعداد۔ اور ان کی رفتار کے ساتھ پھر ان چیزوں کے ساتھ جو زمین میں غذا کی بابت نہیں ان کے ساتھ ۔ اور ان چیزوں کے ساتھ جو دور میں کسی خاص بیماری کے لئے اور ان چیزوں کے ساتھ جو زہر ہیں ۔ اور ان کے ساتھ جو زہر کے نقصان کو دور کرنے کے ساتھ مختص ہیں اور انکے ساتھ جو کسر اور ٹوٹنے کو درست کرنے کے لئے مخصوص ہیں ۔ اور علاوہ اس کے منافع اور نقصانات کے ساتھ جن کا ادراک بجز وحی کے نہیں ہو سکتا۔ پھر لوگوں کے کلام کے وجود سے بیشک وہ انسان جو بہرہ پیدا ہوتا ہے وہ کبھی بھی نہیں بول سکتا۔ اور جو بچہ کسی بھی لغت سنتا ہے اور اسی پر پرورش پاتا ہے اسی لغت کے ساتھ کلام بھی کرتا ہے ۔ اس سے یہ بات ظاہر ہو گئی کہ کلام کی اصل سننا ہے اور بے شک وہ پہلا انسان جس نے کلام کیا تھا اس نے تعلیم سے اور وحی سے تکلم کیا تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ۔ ( و علم ادم الا سماء کلھا ) ( البقرۃ ۳۱) اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تمام نام سکھلائے ۔ اور ارشاد فرمایا : ( خلق الانسان ۔ علمہ البیان ) ( الرحمن ۴۰۳) انسان کو پیدا کیا ۔ اس کوبیان کرنا سکھلایا۔ پر ہر رسول جسے اللہ تعالیٰ نے کسی بھی قوم کی طرف بھیجا اسی کوئی نہ کوئی معجزہ اور نشانی ضرور عطا کی جس کے ساتھ اس کو تائید دی۔ اور ضرور اے کوئی نہ کوئی حجت و دلیل بھی ساتھ دی اور رسول کو دی جانے والی آیت یا نشانی یا معجزہ کو عادات کے خلاف بنا دیا۔ اس لئے کہ رسول جس چیز کا اس معجزے یا نشانی کے ساتھ اثبات چاہتا تھا یعنی اللہ کی عطا کردہ رسالت وہ خود ایسا امر تھا جو خارج تھا عادات سے تاکہ اس معجزے یا نشانی کے ساتھ اثبات چاہتا تھا یعنی اللہ کی عطا کردہ رسالت وہ خود ایسا امر تھا جو خارج تھا عادات سے تاکہ اس معجزے یا نشانی کے اپنے دعوے کے ساتھ ملنے سے اس بات پر استدلال کر سکے کہ وہ رسول ہے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس بارے میں تفصیلی کلام کیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے کہا ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک رسالت کا چھوٹا دعویٰ کر کے اللہ پر افتراء اور جھوٹ بولنا سب سے بڑا جرم ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی حکمت و فراست کے لائق نہیں ہے کہ وہ ہر کسی و ناکس کے ہاتھ پر ایسی امور کو ظاہر کر دے جو عادات کے خلاف ہوں اور پھر وہ اس کے ذریعے بندوں کو فتنے میں واقع کرتا پھرے اور اللہ تعالیٰ نے اس فعل سے برأت و بیزاری کرتے ہوئے اپنی کتاب میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے اور اپنے نبی کا ارادہ فرماتے ہوئے فرمایا : ( ولو تقول علینا بعض الا قاویل ،لا خذنا منہ بالیمین، ثم لقطعنا منہ الوتین ) ( الحاقہ ۴۴-۴۶) اگر یہ پیغمبر ہماری نسبت کوئی بات جھوٹ بنا لاتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے ۔ ہر وہ نشانی جو اللہ تعالیٰ نے کسی رسول کو عطا فرمائی پہلے تو وہ اس سے یہ ثابت فرماتا ہے رسول کے متعلق کہ وہ اللہ کا سچا رسول ہے ۔ پھر دوسرے لوگوں کے سامنے یہی ثابت کرتا ہے کہ وہ سچا رسول ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی نشانی صرف اور صرف رسول کے لئے مخصوص کر کے اس کو اس کی اپنی نبوت کا علم دے پھر اس کی قوم کے لئے اس کے علاوہ کوئی ثبوت عطا کرے ۔ رسولوں کے معجزات کی اقسام بہت ساری تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اطلاع فرمائی ہے کہ اس ے موسیٰ رحمتہ اللہ علیہ کو نو آیت بینات عطا فرمائی تھیں ۔ 1۔ عصا کا معجزہ ، 2 ۔ یدبیضء کا معجزہ ، 3۔ خون ، 4،۔طوفان ، 5۔ ٹڈیوں کا ، 6۔ چچڑیاں ، 7۔ مینڈک ، 8۔ چہروں کا مٹانا، 9۔ دریا چیرنا ۔ عصاءکا معجزہ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی لاٹھی کا اژدھا بن جانا یہ تمام ملحدوں اور جادو گروں کے خلاف حجت تھی ۔ اس وقت جادو زوروں پر تھا ۔ جب موسیٰ علیہ السلام کا عصاء دوڑتا ہوا سابپ بن گیا اور جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا تو انہیں یقین آ گیا کہ اس کی حرکت نو پیدا حیات اور زندگی کی وجہ سے ہے جو کہ حقیقی زندگی ہے یہ اس طرح کی اور اس جنس کی نہیں ہے جو مختلف حیلوں اور تدبیروں سے جادوگروں نے وہم و خیال پیدا کر دیا ہے ۔ لہذا موسیٰ علیہ السلام کا یہ معجزہ ایک طرف تو حقیقی صانع کی صنعت پر یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کر رہا تھا اور دوسری طرف موسیٰ علیہ السلام کی نبوت و رسالت پر اکٹھے دو چیزوں کا ثبوت پیش کر رہا تھا۔ ہر حال باقی تمام نشانیاں جن کا تعلق ساحروں وغیرہ سے نہیں تھا وہ نشانیاں فرعون اور اس کی قوم کے خلاف تھیں جو اس بات کے قائل تھے کہ زمانہ ہی خالق ہے دھریت کا نظریہ رکھتے تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے وہ نشانیاں موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرما کر ان کے ذریعے یہ ظاہر فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں جو کچھ خبر دی ہے وہ صحیح ہے اور جو پیغام دیا ہے وہ سچا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا اور ان سب کا ایک رب ہے اور ان کا خالق ہے ۔ داؤد علیہ السلام کے معجزے : 1۔ اللہ عزوجل نے داؤد علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم فرما دیا تھا۔ 2۔ اسی طرح ان کے لئے پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا۔3۔ اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو کہ شام کو بھی اور صبح کو بھی ان کے ساتھ اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے تھے ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ، 1۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو جھولے میں کلام کرنے پر قادر بنا دیا تھا کہ وہ جھولے میں حکماء اور داناؤں کی طرح کلام کرتے تھے ۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ان کے لئے مردوں کو زندہ کرتا تھا۔ 3۔ اور ان کی دعا سے اور ان کے ہاتھ کے ساتھ جب وہ ہاتھ لگاتے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اللہ تعالیٰ ٹھیک کر دیتے تھے ۔ 4۔ اور انہیں یہ قدرت کہ وہ مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں پھونک مارتے اور وہ اللہ کے حکم کے ساتھ پرندہ بن جاتا۔ 5۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں یہودیوں کے بیچوں سے اس وقت اوپر اٹھا لیا جب وہ اسے قتل کرنا چاہتے تھے اور ضلیب پر لٹکا نا چاہتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوپر اٹھا کر ان کے جسم کو قتل اور پھانسی کی اذیت و تکلیف سے نجات دے دی۔ اس دور میں طب عام تھی اور عروج پر تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے جو معجزات ان کے ہاتھ پر جاری کئے ان کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ حاذق طیب اور حکما ان نشانیوں اور معجزات سے کئی گناہ کم درجات کے کارناموں سے بھی عاجزت تھے ۔ اور اسی زمانہ میں طبائع کی کیفیت ایسی تھی کہ ان کے آگے چیخ چیخ کر یہ بتانا بلکہ اس کا امکان ظاہر کرنا کہ عالم کا خالق ہے اور کوئی مدبر ہے سب کچھ بے کار تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مذکورہ معجزات اور نشانیوں کے اظہار سے اس پر دلیل قائم کر دی اور ان کی دعوت کے ساتھ ان کے صدق پر حجت قائم کر دی ۔ بہر حال ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاتم النبین اللہ کی رحمتیں ہوں ان سب پر اور حضور پر اور آپ کی آل پاک پر اور سب کے سب صحابہ پر۔ آپ کے معجزات تمام رسولوں سے زیادہ ہیں ۔ بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ آپ کی نبوت کے نشانات و معجزات ایک ہزار تک پہنچتے ہیں ۔ مگر ان تمام نشانیوں میں سے وہ نشانی معجزات میں سے وہ معجزہ جو آپ کی دعوت سے مقترن ہے اور ملا ہوا ہے ۔جو آپ کی زندگی کے ایام میں برابر بڑھتا گیا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی امت میں ہمیشہ سے ہے وہ قرآن مجید ہے جو واضح طور پر معجز ہے ۔ جو اللہ کی مضبوط رسی ہے ۔ وہ بالکل اسی کا مصداق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کی خود تعریف بیان فرمائی ہے ۔ ارشاد فرمایا : ( و انہ لکتاب عزیز لا یا تیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ تنزیل من حکیم حمید ) ( حم سجدہ ۴۱-۴۲) بے شک وہ قرآن مضبوط کتا ایسی ہے کہ باطل اس کے قریب بھی نہیں آ سکتا نہ اس کے آگے نہ اس کے پیچھے حکمت والی اور محمود ذات نے اسے نازل فرمایا ہے ۔ اور ارشاد فرمایا ہے : ( انہ لقران کریم فی کتاب مکنون لا یمسہ الا المطھرون ) (12) تنزیل من رب العالمین ) ( واقعہ ۷۷-۸۰) بے شک یہ قرآن ہے عزت والا ، جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہے پروردگار عالم کی طرف سے اتارا گیا ہے ۔ (۳) بل ھوقرآن مجید فی لوح محفوط ) ( بروخ ۲۱-۲۲) ( یہ کتاب ہزل و بطلان نہیں ) بلکہ یہ عظیم الشان قرآن ہے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ ( 4) ان ھذا لھوا لقصص الحق ) ( آل عمران ۶۲) بے شک یہ قرآن سچے واقعات ہیں ۔ ( ۵) و ھذا کتاب انزلناہ مبارک فاتبعوہ و اتقوا لعلکم ترحمون ) ( انعام ۱۵۵) یہ وہ کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے ۔ برکت والی ہے اسی کی اتباع کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے ۔ (۶) انھا تذکرہ فمن شا ذکرہ فی صحف مکرمہ ، مرفوعۃ مطھرۃ ، بایدی سفرۃ کرام بررۃ ) ( عبس ۱-۱۶) دیکھو یہ قرآن نصیحت ہے ۔ جو چاہے اسے یاد رکھے ۔ قابل ادب ورقوں میں لکھا ہوا ہے جو بلند مقام پر رکھے ہوئے اور پاک ہیں ۔ ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو سردار اور نیکوکار ہیں ۔ (۷ ) قل لئن اجتمعت الانس و الجن علی ان یاتو ابمثل ھذا القران لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا) ( اسراء ۸۸) کہہ دیجئے اگر تمام انسان اور جن اکٹھے ہو جائیں اس بات پر کہ اس قرآن کی مثل بنا کر لے آئیں تو اس کی مثل نہیں لا سکیں گے اگرچہ وہ ب ایک دوسرے کے معاون بن جائیں ۔ ان آیات میں اللہ جل شانہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس نے قرآن مجید کو ایک ایسی صفت پر اتارا ہے جو بشر کے کلام کے مبائن ہے یعنی اس سے جدا ہے اور مختلف ہے ۔ اس لئے کہ یہ نہ تو نظم ہے اور نہ ہی نثر ہے ۔ ( نظم ہے مگر ) اس کی نظم خطوط و رسائل والی نظم نہیں ہے و عظ و تقریر والی نظم نہیں ہے ۔ اشعاروں والی نظم نہیں ہے ۔ کاھنوں کے سجعوں جیسانہیں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ بتایا ہے کہ کوئی بھی اس کی مثل لانے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کو چیلنج کر دیں کہ وہ اس کی مثل بنا کر لائیں اگر انہیں اس بات کا ادعاء ہو یا وہم گمان ہو کہ وہ اس پر قادر ہیں ۔ چنانچہ ارشاد ہوا : ( قل فاتوا بعشر سور مفتریات ) ( ھود ۱۳) فرما دیجیے کہ لے آؤ تم دس سورتیں افترا کی ہوئی ۔ پھر انکے لئے نو سورتیں کم کرنے فرمایا : ( فاتوا بسورۃ من مثلہ) ( بقرہ ۲۳) لاؤ تم کوئی ایک سورۃ اس جیسی۔ قرآن مجید کی حقانیت کی ایک فطری اور عقلی دلیل یہ ہے کہ خود حاصل قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر مخالف و موافق کی نظر میں اور اپنے اوپرائے کی نظر میں ہر الزام اور ہر اعتراض سے پاک تھے سب کی نظروں میں مقبول تھے عمدہ دائرے اور پختہ سمجھ رکھنے والے تھے متناسب اور سنجیدگی کے مالک تھے قوت عقل اور اصابت رائے سے آراستہ تھے ۔ ظاہر ہے جو انسان شرافت ومتانت و سنجیدگی کے اس مرتبہ و مقام پر فائز ہو۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کو اپنے دین کی دعوت دینے کے لئے کھڑا ہو عقل نہیں مان سکتی اور کسی بھی اعتبار سے ممکن بھی نہیں کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ تم کوئی ایک سورۃ اس جیسی لے آؤ جو تمہارے پاس لے کر آیا ہوں یعنی قرآن اور تم ہر گز اس کو نہیں لا سکو گے ۔ اور اگر تم اس کو لے آؤ گے تو میں اپنے اس دعوے میں کاذب ہوں گا کہ میں اس کو اللہ کی طرف سے لے آیا ہوں ، یہ میرا اپنا کلام نہیں میری اختراع ایجاد نہیں ہے نہ ہی کسی اور بندے کی ہے ۔ خصوصاً اس صورت میں تو آپ کبھی یہ چیلنج نہیں کر سکتے تھے جب اپنے دل میں یہ جانتے ہوئے کہ یہ قرآن ان پر نہیں اترا ( اگر واقعتہ نہ اترا ہوتا تو وہ کبھی یہ چیلنج نہ کرتے ) جب کہ انہیں یہ بھی خطرہ تھا کہ ان کی قوم میں فصحیوں بلیغوں اور ادیبون کی کمی نہیں ہے کوئی ایک بھی میری قوم میں سے میرے مقابلے کے لئے کھڑا ہو جائے گا۔ اگر آپ کا دعویٰ باطل ہوتا تو آپ کبھی یہ چیلنج نہ کرتے ۔ جب آپ نے یہ چیلنج کیا تو یہ قطعی دلیل ہے اس بات کی کہ آپ نے پورے عرب کو ایسے نہیں کہہ دیا تھا کہ اس کی مثل پیش کرو اگر کر سکتے ہو تو لیکن میں کہتا ہوں تم ہر گز ایسا نہیں ک سکو گے ۔ آپ اسے نہیں کہہ سکتے تھے مگر اس وقت جب آپ کو یقین محکم ہو کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے اور بالکل نہیں کر سکتے ۔ اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ آپ نے محض اپنے اندازے سے یہ یقین بنا لیا ہو جب تک کہ یہ یقین ان کو انکے رب کی طرف سے نہ دلایا گیا ہو جن کی طرف سے اپ کے پاس وحی آ رہی تھی لہذا آپ نے اس رب کی خبر پر یقین کرتے ہوئے اتنا بڑا چیلنج انتہائی وثوق و اعتماد کے ساتھ کر دیا تو یہ فطری اور عقلی اور حسی دلیل ہے اس بات کی قرآن اللہ کا بے مثل کالم ہے کسی بندے کی اختراع و ایجاد نہیں ہے ۔ پس منظر سے پیش منظر کی طرف آئیے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ چیلنج دے دیا کہ اگر تم لوگ میری مخالفت اور قرآن کی مخالفت میں سچے ہو یہ کہنے میں اگر سچے ہو کہ یہ اللہ کا نازل کردہ کلام نہیں بلکہ کسی بندے کی اختراع ہے ایجاد ہے تو تم بھی بندے ہو صاحب زبان ہو ادیب ہو تمہارے اندر بھی فصحاء کی کمی نہیں ہے زبان کا ماہرین کا قحط الرجال نہیں ہے اس پورے قران کا مقابلہ نہ کرو صرف ایک سورت اس جیسی بنا کر لے آؤ اگر تم سچے ہو ۔ دنیا گواہ ہے آسمان شاہد ہے ۔ مہلت لمبی ہوتی چلی گئی اس بارے میں ان کو پوری پوری مدت مہلت اور ڈھیل دی گئی ، یہاں تک کہ اس چیلنج کے بعد مسلسل حوادث و مصائب پیش آتے رہے اسی چیلنج کرنے والے عظیم انسان کے چیلنج کے ہوتے ہوئے دونوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں ۔ اہل عرب کے سردار اور صنادیدمکہ قتل ہوتے رہے ۔ ان کی اولادیں قید ہوتی رہیں عورتیں لونڈیاں بنتی رہیں ۔ ان کے مالٹتے رہے لیکن چشم فلک نے پہلی بار یہ منظر دیکھا کہ ان مصائب سے دو چار ہونے والی قوم میں سے کوئی مائی کا لال یہ جرات نہ کر سکا کہ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قرآن کا مقابلہ کرتا ہوں اور پورے عرب کو اس مصیبت سے نجات دلاتا ہوں ۔ عقل پکار پکار کر کہتے ہے کہ اگر وہ لوگ اس پر قادر ہوتے تو وہ ضرور اس کے ساتھ اپنے نفسوں کا فدیہ دیتے اپنی اولادوں کو بچاتے اپنے مالوں کو بچاتے اپنی عورتوں کو بچاتے تو معاملہ اس طرح ان پر آسان ہو جاتا خصوصا جب کہ وہ اہل زبان تھے اہل فصاحت تھے شعرو خطابت کے ماہر تھے۔ جب وہ قرآن کی ایک بھی سورۃ کی مثال بنا کر نہ لا سکے نہ ہی وہ اس بات کا ادعا کر سکے تو یہ حقیقت مسلم ہو گئی کہ وہ اس بات سے عاجز تھے ۔ اور ان کے عجر کے ظاہر ہونے میں اس بات کا بیان بھی ہے کہ خود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس کام سے عاجز ہونے میں انہیں کی مثل تھے ۔ اس لئے کہ انہیں کی مثل بشر تھے ۔ ان کی زبان انہیں کی زبان تھی ، ان کی عادت انہیں عالی عادت تھی ۔ ان کی طبیعت انہیں والی طبیعت تھی ۔ ان کا زمانہ انہیں والا زمانہ تھا جب یہ سب باتیں ویدی ہی تھیں مگر اس کے باوجود قران مجید جیسی بے مثل و بے معارضہ کتاب آ گئی تو پھر واجب ہے کہ یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے نہیں ہے ۔ اگر مسیلمہ کے سجعوں کا ذکر کریں تو حقیقت یہ ہے کہ اس کا سارا کلام اس سے تجاوز نہیں کرتا اس کا کچھ حصہ ایک دوسرے کی حکایت گوئی سے ہے اور سرقہ یعنی چرایا ہوا کلام ہے ، کچھ حصہ کاہنوں کے سجع ہیں اور عرب کے رجز ہیں ۔ اس سے تو خود محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلام احسن ہوتا تھا اعتماد سے اور معنوی اعتبار سے زیادہ درست تھا۔ اور فائدہ کے اعتبار سے زیادہ واضح تھا ۔پھر اس کے باوجود اہل عرب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ الزام نہیں دیا اور ان پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ آپ ہمیں تو قرآن کی مثل لے آنے کا چیلنج کرتے ہیں اور دیہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تمام انسان اور تمام جن مل کر اگر قرآن کی مثل لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے نہیں ہے بلکہ آپ کا اپنا کلام ہے ۔ یہ آپ کا قول تھا۔ ( انا النبی لا کذب ۔ انا ابن عبدالمطلب ) میں نبی ہوں جھوٹ نہیں ۔ میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں ۔ ( تاللہ لو لا اللہ ما ھتدینا۔ ولا تصدقنا ولا صلینا) قسم بخدا اگر اللہ پاک نہ ہوتا ہمیں راستہ نہ ملتا ۔ نہ ہم صدقہ کرتے نہ ہم نماز پڑھتے ۔ ( ان العیش عیش الا خرۃ۔ فارحم الا نصار و المھاجرۃ ) بے شک اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ۔ اللہ تو مہاجرین و انصارپر رحم فرما۔ ( تعیس عبدالدینار و الدرھم ، و عبدالخمیصیۃ ان اعطی منھا رضی و ان لم یعط سخط، تعیس و انتکس ( ون شیک ) فلا انتفش ) دوہم و دینار کا بندہ ہلاک ہو جائے کپڑے لٹے کا بندہ تو اگر اس یں سے کچھ مل جائے خوش ہو جائے اگر نہ ملے تو ناراض ہو جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ کلام اور اس جیسا اور بہت سارا کلام جو الفاظ کی دنیا میں حسین ترین کلام ہے اور معنی اور مطلب کی دنیا میں سب سے زیادہ فٹ اور درست ہے ۔ تکلف و تضع سے پاک ہے ۔ عرب میں سے کسی اک نے بھی اس بات کا دعویٰ نہ کیا کہ اس کے کلام میں سے کوئی شے قرآن کے مشابہ ہے ۔ استاذ ابو منصور اشعری رحمتہ اللہ علیہ نے میری طرف ہمارے بعض اصحاب کی طرف سے لکھا کہ انہوں نے کہا عین ممکن ہے کہ یہ نظم بھی اہل عرب کے درمیان زیر بحث آئی ہو اور چیلنج کے وقت وہ اس سے بھی عاجز ہو گئے ہوں لہذا یہ بھی معجزہ بن گیا ہو اس لئے کہ جو چیز عادت میں شمار ہوتی ہو اس کو عادت سے نکال دینا عادت کو توڑ دینا ہوتا ہو بالکل اسی طرح جیے اس چیز کو عادت میں داخل کرنا جو عادت میں نہیں ہے عادت کو توڑ دیتا ہے ۔ شیخ نے اس کی شر ح میں تفصیلی کلام کیا ہے ۔ دونوں میں سے جو بھی بات ہو اس کے ساتھ آپ کا معجزہ ظاہر ہو گیا اور عرب نے اپنے عجز کا اعتراف کر لیا اور اس کی مثل لانے سے عاجز ہونے کا اقرار کر لیا۔
ابن عباس في قوله عز و جل ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ عمرو بن محمد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The second of the people of faith › And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general · Hadith 133
شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 190
190 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف أنا أبو سهل الاسفراييني أنا أبو جعفر الحذاء ثنا علي بن المديني ثنا مروان بن معاوية الفزاري ثنا أبو مالك عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إن الله خلق كل صانع و صنعته
و روينا عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال :
الخير و الشر خليقتان ينصبان للناس يوم القيامة
و روينا في هذا الباب بين أحاديث كثيرة و هي في كتاب القدر مذكورة من أراد الوقوف عليها رجع إليها إن شاء الله تعالى
قال أصحابنا و لأن الإنسان لو صح أن يحدث شيئا فيما يصح أن يحدث لم يكن بعض ما يصح أن يحدث بأن يكون محدثه بأولى من بعض كما أن الله سبحانه و تعالى لما صح أن يحدث لم يكن بعض ما يصح أن يحدث بأن يصح منه احداثه بأولى من بعض و لأن الإنسان محدث و المحدث لا يصح أن يحدث كما أن الحركة لا يصح أن تتحرك
و لأن هذه الحوادث التي هي تقع على وجوه لا يقصدها ككون الكفر قبيحا من الكافر غير واقع على قصده لأن الكافر يقصد أن يقع كفره حسنا غير قبيح و لا يقع إلا قبيحا فدل أن قاصدا قصد إيقاعه قبيحا لأن يستحيل أن يقع كذلك من غير فاعل فعله على ما هو به و كذلك الإيمان يقع متعبا مؤلما و لو قصد المؤمن أن يقع على خلاف هذا الوجه لم يتأت منه ذلك دل أنه وقع كذلك لقصد موقع أوقعه كذلك غير الذي لو جهد لخلافه أن يقع لم يقع
و لأنا نجد الإنسان غير عالم بحقائق أفعاله كلها و كمياتها و عدد أجزائها و لا يجوز أن يكون مخترعا لها و هو لا يحيط بها علما إذ لو ساغ ذلك لم ينكر أن يكون سائر المخترعين كذلك و أن يكون كذلك حكمة الباري في اختراعه و لا يدخل عليه الكسب لأن الكسب هو اختراع عالم بحقائقه من جميع وجوهه جعله كسبا لنا و نحن مكتسبون له غير مخترعين له و الذي يؤكد هذه الطريقة قوله عز و جل :
{ وأسروا قولكم أو اجهروا به إنه عليم بذات الصدور * ألا يعلم من خلق وهو اللطيف الخبير }
و ظاهر هذا إنه خلق الإسرار و الجهر اللذين يكتسبان بالقلب و أنه عليم بهما و كيف لا يعلم و هو خلقهما ؟ فدل أن الخلق يقتضي علم الخالق بالخلق من كل الوجوه
و لأن الدلالة قد قامت أن كل مقدور فالله قادر عليه لقيام الدلالة على أن القدرة من صفات ذاته كالعلم فوجب أن يقدر كل مقدور كما يعلم كل معلوم و إذا كان كذلك فوجب أن يكون إذا وجد و هو مقدور أن يكون مرادا له أن يكون فعله كما إذا وجد مقدور الإنسان مرادا له لم يكن فعله ؟
فإن قيل إذا كان الله خالقا لكسب العباد أفيقولون إن الفعل وقع من فاعلين ؟
قيل لا فاعل في الحقيقة إلا الله عز و جل كما أنه لا خالق إلا هو و الإنسان مكتسب على الحقيقة غير فاعل و لا محدث العين عن العدم
و كان الشيخ أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان يقول : فعل القادر القديم خلق و فعل القادر المحدث كسب فتعالى القديم عن الكسب و جل و صغر المحدث عن الخلق و ذل
و قال فإن قيل : أفتقولون هو مقدور لقادرين ؟
قيل : نعم أحدهما بخلقه و يخترعه و يخرجه عن العدم و هو الله سبحانه و تعالى
و الثاني يكتسبه و لا يخلقه و هو العبد و الخلق ما تعلقت به قدرة أزلية حادثة و الكسب ما تعلقت به قدرة حادثة فالقدر الأزلية تؤثر في الاختراع و القدرة الحادثة تؤثر في الاكتساب
فإن قالوا : فإذا كان الله تعالى خلق أعماله كلها أعمالا له فكيف يثيبه و يعاقبه
و قيل ليس الثواب من الله عز و جل إلا بتفضل عليه و أما العقاب فهو لو ابتلاه في العذاب كان له أن يفعله لأن ملكه و في قبضته و ليس الكفر علة العقاب و لا الإيمان علة الثواب إنما هما اماراتان جعلتا علمين لهما
فقيل : إن كنت كافرا عذبت في الآخرة و إن كنت مؤمنا عوفيت و أثبت و جميع ذلك من الثواب و العقاب و الكفر و الإيمان خلقه و اختراعه لا لعلة يفعل ما يشاء
فإن قيل فإذا عاقبه ما خلقه له كان ظالما له
قيل : لم قلت ذلك ؟ و ما ينكر أن حقيقة الظلم هو تعدي الحد و الرسم الذي يرسمه الآمر الذي لا آمر فوقه و إن يكون للظلم منه معنى إذ أفعاله كلها تقع على غير وجه التعدي و التحكم فيما لا يملك فلا يستحق اسم الظالم و لو ساغ ما قلته لم ينفصل ممن قال إذ أمكنه من الكفر و علمه أن لا يأتي إلا بالكفر لم يصح أن يعاقبه لأن يكون ظالما له حينئذ و ما الفصل ؟ و كذلك إذا خلق له الآلات و الحياة و القدرة و الشهوة للمعاصي و علم أنه لا يفعل بها إلا كفرا به عرضه للهلاك و العطب فيكون له ظالما و وجب أن يكون في إيلام الأطفال و المجانين و البهائم ظالما و لا معنى لتقدير العوض فيه فإن العوض لا يحسن به القبيح في الشاهد إلا بمرضاه فإذا كان جميع ذلك منه غير منسوب إلى الظلم لأنه المالك على الحقيقة و هو فيما يفعله في ملكه غير متعد ذلك ما قلنا لا فصل بينهما
فإن قيل : من خلق الكفر كان كافرا و من خلق الظلم كان ظالما
قيل له ما ينكر على من يقول من خلق النوم كان نائما و من خلق الخوف كان خائفا و من خلق المرض كان مريضا و من خلق الموت كان ميتا ؟ فإذا لم يلزم ذلك في هذه الأشياء لم يلزم في الكفر و الظلم
فإن قيل أفتقولون إن الله تعالى يشاء الكفر و الظلم ؟
قيل له إن أردت بقولك يشاء الكفر نفي الغلبة و العجز و الإكراه على ما يشاء فنعم يشاء أن يكون ما يريد
و جواب آخر و هو أن يشاء أن يكون موجودا لما لم يزل عالما بأن يكون موجودا فلا يكون خلاف ما علم و الكفر مما لم يزل كان عالما به أن يكون موجودا ألا تراه يقول :
{ يريد الله أن لا يجعل لهم حظا في الآخرة }
و فيه جواب آخر و هو أنه شاء أن يكون الكفر من الكافر خلاف الإيمان و من المؤمن ألا ترى أن موسى و هارون سألا إضلال فرعون و قومه و السد على قلوبهم فلا يؤمنوا فقال الله تعالى :
{ قد أجيبت دعوتكما فاستقيما }
فشاء إضلالهم و السد على قلوبهم فلا يؤمنوا لما أجاب دعوتهما
و فيه جواب آخر : يشاء أن يكون الكفر قبيحا ضلالا عمى خسارا لا نورا و هدى و حقا و بيانا و إن أردت تقول : يشاء الكفر أي يأمر به فلا تقول ذلك
فإن قيل : الحكيم من يريد أن يشتم و يذكر بسوء ؟
قيل الحكيم من يجري الشتم على لسان النائم و المبرسم و لا فعل لهما الحكيم من يخلق عبدا يعلم إنه لا يزال يشتمه و يجحده ثم يحدث له كل ساعة قوة جديدة
و قيل : من كان الشتم ينقصه فليس بحكيم و من لم ينقصه فحكيم لأنه يشاء ما لم يكن و لأن من يريد أن يكون شتم الشاتم له خلاف مدح المادح له فحكيم و من أراد أن يكون شتم الشاتم له معصية من الكافر لا طاعة فحكيم لأن من يريد الشيء على ما لا يكون خلافه فحكيم و من أراد أن يكون الشتم موجودا في الوقت الذي لم يزل به عالما أنه يكون فيه موجودا فحكيم لأنه أراد الشيء في الوقت الذي كان يكون فيه و من أراد أن لا يكون مغلوبا مقهورا مكروها على كون ما لا يريد فحكيم و الكلام في هذا يطول
فإن قيل ما تقولون في استطاعة العبد ؟
قيل : نقول هي قدرته و هي مع فعل العبد و هي توفيق من الله تعالى للطاعة و خذلان منه في المعصية قال الله عز و جل :
{ فضلوا فلا يستطيعون سبيلا }
و قد كانوا لسبيل الباطل مستطيعين فدل على أنه نفي عنهم استطاعة الحق لأنهم لم يكونوا فاعلين له و قال مخبرا عن صاحب موسى عليه السلام أنه قال :
{ إنك لن تستطيع معي صبرا }
فنفى عنه استطاعة الصبر حين أراد أن ينفي عنه الصبر و قال النبي صلى الله عليه و سلم :
كل ميسر لما خلق له
فدل أنه في حال كسبه ميسر و تيسيره قدرته و لأن المسلمين يقولون إنه لا يستطيع الخير إلا بالله و هو قبل كونه ليس بخير فدل على أنه استطاعتهم تكون معه و لأن الاستطاعة سبب للفعل يوجد بوجودها و يعدم بعدمها فجرت مع الكسب مجرى العلة مع المعلول ولا يصح تقدم العلة على المعلول فلا يصح تقدم الاستطاعة على الكسب
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن ابی المعروف نے کہ خبر دی ہے ابو سہل اسفرائنی نے کہ خبر دی ہے ابو جعفر حذاء نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن مدینی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مروان بن معاویہ فزاری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو مالک نے ربعی بن حراش سے انہوں نے حضرت حذیفہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت کا خالق ہے اور ہم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ؛ کہ خیر اور شر دونوں مخلوق ہیں یا دونوں صفتیں ہیں لوگوں کے لئے قائم کی جائیں گی قیامت کے دن ہم نے اس بات میں بہت سی احادیث روایت کی ہیں اور وہ کتاب القدر میں مذکور ہیں ۔ جو شخص ان پر مطلع ہونا چاہیے وہاں رجوع کرے ۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اگرچہ انسان کا کسی چیز کو از سرے نو بنانا اور وجود میں لانا درست ہے جس چیز کو وجود لانا اس کے اختیار میں ہوتا ہم بعض وہ چیز جن کو از سر نو بنا سکتا ہے ان میں سے بعض کو بنانا درست نہیں ہو گا وہ سی طرح کہ اس شئی کا از سر نو بنانے والا بعض سے زیادہ بہتر ہو جیسے اللہ تعالیٰ اس چیز کے لئے جس کا از سرے نو بنانا درست ہے جس چیز کا از سرے نو بنانا درست ہے اس کا بعض نہیں ہوگا بایں صورت کہ اس سے اس کا از سر نو بنانا بعض سے بہتر ہو ۔ اور ( اللہ بندے کے افعال کا مالک ہے صانع کا عقلا بھی خالق ہے اور اس کی صنعت کا بھی ) اس لئے کہ انسان خود از سر نو پیدا شدہ ہے اور نو پیدا کے لئے صحیح نہیں ہے کہ وہ کسی شئی کو از سرے نو پیدا کرے جیسے کہ حرکت صحیح نہیں ہے کہ وہ حرکت کرے ۔ اور اس لئے ( بھی اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت عقلا کا خالق ہے ) کہ یہ نو پیدا اشیاء اور امور یا حوادث جو ایسے وجوہ پر واقع ہوتے ہیں جن کا قصد اور ارادہ نہیں کیا جاتا ۔ یا جو مقصود نہیں ہوتے جیسے کفر کا قبیح ہونا کافر سے اس کے قصد کے بغیر ہے کیونکہ کافر چاہتا ہے کہ اس کا کفر حسن واقع ہو نہ کہ قبیح مکرواہ قبیح ہی واقع ہوتا ہے ۔ یہ امر دلالت کرتا ہے کہ کوئی ایسا قصد کرنے والا ہے جس نے اس کے قبیح واقع کرنے کا قصد کیا ہے اس لئے کہ یہ محال ہے کہ وہ ایسے ہی بغیر فاعل کے اور بغیر کسی کرنے والے کے ہو اس کیفیت پر جس پر وہ ہے ۔ اسی طرح ایمان واقع ہوتا ہے اتباع کیا ہو ا درد دینے والا اگر ایمان لانے والا قصد کرے یہ کہ واقع ہو ہر خلاف اس صور ت کے اس سے یہ نہیں آتا ۔ یہ امر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے واقع ہوا ہے کہ کسی واقع کرنے والے کے قصد و ارادے سے جس نے اس کو واقع کیا ہے اس طرح ۔ بخلاف اس کے کہ اگر کوشش کرتا اس کے خلاف کے لئے یہ کہ واقع ہو تو واقع نہ ہوتا ( اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ) کہ ہم انسان کو ایسا پاتے ہیں کہ وہ افعال کے حقائق اور ن کی کمیات ان کے اجزا کی تعداد کا علم نہیں رکھتا اور یہ بات درست اور جائز نہیں ہے کہ وہ افعال کا خالق و موجد ہو۔ جب کہ وہ ان کے بارے میں احاطہ کرنے والا پور اپورا علم بھی نہ رکھتا ہو۔ کیونکہ اگر یہ جائز ہو تو ا س بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سارے ایجاد کرنے والے ایسے ہی بے علم و بے خبر ہوں ( حقائق افعال سے ) اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ کی حکمت ہی اپنی ایجاد میں ایسی ہی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی ایجاد پر کسب داخل نہیں ہوتا اس لئے کہ کسب حقائق کے عالم کی اختراع ہے ۔ کہ اس کے جمیع وجوہ کے ساتھ اس کو ہمارے لئے کسب بنا دے اور ہم اس کے کسب کرنے والے ہوں گے ایجاد کرنے والے نہیں ہوں گے ۔ چنانچہ وہ دلیل جو اس طریقہ کو پکا کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ( و اسرو اوقولکم اوجھروا بہ انہ علیم بذات الصدور الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر ) ( الملک ۱۳) تم لوگ بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے ۔ بھلا جس نے پیدا کیا ے کیا وہ بے خبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے اگاہ ہے ۔ اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ اور ظاہر کو پیدا کیا ہے جو ( درحقیقت ) دل کا کسب اور فعل ہیں اور وہ دونوں کا علم رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو کیسے نہ جانے حالانکہ اس نے ہی دونوں کو پیدا کیا ہے تو آیت دلالت کرتی ہے کہ مخلوق ہونا اس بات کو مقتضی ہے کہ اس کا خالق اپنی تخلیق کے تمام پہلوؤں کا علم رکھتا ہو۔ ( اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت کا خالق اس لئے بھی ہے کہ ) اس امر پر دلیل قائم ہو چکی ہے کہ ہر شے مقدور ہے اور وہ اس پر قادر ہے اس لئے کہ اس بات پر دلیل قائم ہو چکی ہے کہ قدرت اللہ کی صفات ذاتیہ میں سے ہے جیسے علم تو واجب ہے کہ وہ ہر مقدور شئی پر قادر ہو جیسے وہ ہر معلوم کو جانتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے تو واجب ہے کہ جو بات اللہ کی قدرت میں ہے وہ اس کی مراد ہو اور جو چیز مراد ہو وہ اس کا فعل بھی ہو ۔ جیسے کہ جو چیز انسان کی قدرت میں ہے اس کی مراد بھی ہے لیکن وہ اس کا فعل نہیں ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے کسب کا بھی خالق ہے تو یہ بات تسلیم کریں گے کہ یہ فعل دو فاعلوں سے صادر ہوا ہے یا اس کے دو فاعل ہیں ۔ تو جواب یہ دیا جائے گا کہ فاعل حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہے جیسے خالق صرف وہی ہے ۔ اور انسان فی الحقیقت کسب کرنے والا ہے عین اور ذات فعل کو عدم سے پیدا کرنے والا نہیں ہے ۔ شیخ ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان فرماتے تھے کہ ایسے قادر کا فعل جو قدیم ہو خلق اور مخلوق ہوتا ہے ۔ اور ایسے قادر کا فعل جو قدیم نہ ہو بلکہ پیدا شدہ ہو محدث ہو ہ کسب ہوتا ہے لہذا قدیم ذات کسب سے وراء ہے ۔ پیدا شدہ یعنی مخلوق پیدا کرنے سے عاجز ہے اور ذلیل ہے اور بے بس ہے ۔ اعتراض دوئم اور شیخ نے فرمایا کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ بندے کا کسب دو قدرت رکھنے والے اور دو قادروں کی قدرت میں ہے اور وہ دو قادروں کا مقدر ہے ۔ تو جواب دیا جائے گا کہ جی ہاں ایسے ہی ہے مگر ایک قادر ہے اپنی تخلیق کے اعتبار سے جو اس کو اختراع کرتا ہے اور ایجاد کرتا ہے اور اس کو عدم سے وجود کی طرف نکالتا ہے وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہے ۔ اور دسرا اس کو کسب کرتا ہے اور پیدا نہیں کرتا وہ بندہ ہے اور پیدا کرنا وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ازلی والی قدرت پیدا کرنے والی قدرت تعلق قائم کرتی ہے اور کسب وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ قدرۃ حادثہ ازسر نو تعلق پکڑتی ہے تو قرت ازلیہ موثر ہوتی ہے ایجاد و اختراع میں اور قدرت حادثہ موثر ہوتی ہے اکتساب میں ۔ اعتراض سوم : اگر لوگ یہ اعتراض کریں کہ جب اللہ تعالیٰ نے بندے کے تمام افعال کو پیدا کیا ہے تو وہ اسی کے اعمال ہوئے لہذا اللہ تعالیٰ اس پر بندے کو کیونکر ثواب دے گا اور کیونکر عذاب دے گا۔ تو جواب یہ دیا جائے گا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے ثواب تو محض اس پر اللہ کی مہربانی اور عنایت سے ہے ۔ بہر حال رہا عذاب تو وہ اگر اس کو عذاب میں مبتلا کرے تو اس کا اس کو حق ہے اور اختیار بھی ہے کہ وہ ایسا کرے کیونکہ بندہ اس کی ملکیت ہے اور اس کے قبضہ میں ہے ۔ ورنہ نہ تو کفر عذاب کی علت اور سبب ہے اور نہ ہی ایمان ثواب کی علت ہے کفر و ایمان دو علامتیں ہیں ، جو عذاب و ثواب کے لئے بطور نام و پہچان مقرر ہیں ۔ کہا جائے گا کہ اگر آپ کافر ہیں تو آخرت میں آپ کو عذاب ہوگا اور اگر آپ مومن ہیں تو آپ کو عافیت اور ثواب دیا جائے گا ۔ جب کہ یہ سب کچھ ثواب ہو یا عذاب ۔ کفر ہو یا ایمان اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور اسی کی ایجاد ہے یہ کسی علت و سبب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ قادر مطلق خالق کل ہے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ اعتراض چہارم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ اس بندے کو عذاب دے گا جس کو اس نے خود پیدا کیا ہے ؟ تو وہ اس پر ظلم کرنے والا ہوگا۔ جواب دیا جائے گا کہ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا؟ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ظلم کی حقیقت حد سے تجاوز کرنا اور حد سے بڑھ جانا ہے ۔ اور اس نشان سے اگے بڑھ جانا ہے جو نشان ایسا حکم کرنے والی ذات لگا دے جس سے اوپر کوئی حکم کرنے والا نہیں ۔ لہذا ایسی ذات سے ظلم سرزد ہونے کا کوئی معنی و مطلب نہیں ہے اس لئے کہ اس کے تمام کام فائدہ ہیں فائدہ میں بغیر کسی تعدی اور تحکم کے ، ایسی چیز میں جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔ لہذا اس کی ذات عالی صفات کے لئے ظالم کا اطلاق کسی طرح بھی درست نہیں ہے اور وہ اعتراض جو آپ نے کیا ہے اگر درست ہو تو اس قول میں اور اس شخص کے قول میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ جو کہ کہتا ہے کہ جب اس نے بندے کو کفر کی قدرت دی ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کفر ہی کرے گا تو اللہ کا اس بندے کو سزا دینا اور عذاب دینا صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اس طرح تو اللہ تعالیٰ ( نعوذ باللہ ) ظالم ٹھہرے گا۔ اور اسی طرح ہے یہ صورت بھی کہ جب اللہ تعالیٰ بندے کے لئے گناہ کرنے کے حالات پیدا کرے اور زندگی دے قدرت دے اور گناہوں کی شہوت پیدا کرے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کے ہوتے ہوئے ان کے ساتھ کفر کرے گا ( اور گناہ کرے گا ) تو گویا کہ اس نے اس طرح کر کے اس انسان کو خود ہلاکت اور تباہی میں واقع کر دیا لہذا اس طرح تو وہ ظالم ٹھہرے گا۔ اسی طرح وہ معصوم بچوں کو اور دیوانوں کو اور چارپایوں کو تکلیف پہنچا کر بھی ظالم ٹھہرے گا اور اس تکلیف کے عوض اجر مقرر کرنے کا بھی کوئی مطلب نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ کسی غلط اور قبیح فعل پر اجر بھی درست نہیں مگر اسی کی رضا کے ساتھ ۔ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ایک مالک حقیقی ہے وہ اپنے ملک میں جو بھی تصرف کرے وہ حد سے تجاوز کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہ ہے ہمارا جواب مگر معترض کے اعتراض اور سابقہ مذکورہ قول کے قائل میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اعتراض پنجم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو کفر کو تخلیق کرے وہ کافر کافر تھا اور جس نے ظلم کو تخلیق کیا وہ ظالم ہوتا ہے تو اسے جواب دیا جائے گا کہ اگر یہ مفروضہ کو درست مان لیا جائے تو پھر اس شخص کے قول کا بھی انکار نہیں کیا جا سکے گا جو یہ کہے کہ جس نے نیند کو پیدا کیا وہ خود نیند کرنے والا تھا اور جس نے خوف کو پیدا کیا وہ خوف زدہ تھا اور جس نے بیماری کو پیدا کیا وہ خود بیمار تھا اور جس نے موت کو پیدا کیا خود بھی میت تھا ۔ جب کہ یہی بات ہے کہ یہ سب کچھ ان اشیاء میں لازم نہیں آتا تو جب ان امور میں مذکورہ بالا منطقی تسلسل لازم نہیں آتا تو کفر ۔ اور ظلم میں بھی لازم نہیں آتا ؟ اعتراض ششم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم لوگ کیا کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کفر کو اور ظلم کو بھی چاہتا ہے ؟ تو اسے یہ جواب دیا جائے گا کہ اگر چاہنے سے آپ کی مراد ہے غلبہ کی نفی ۔ اور عجز کی نفی اور جبرو اکراہ کی نفی اس پر جو کچھ وہ چاہے تو ہاں وہ چاہتا ہے کہ وہ جو کچھ ارادہ کرے وہ ہو جائے ۔ ہاں اعتراض کا ایک دوسرا جواب بھی ہے وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ چیز موجود ہو جائے جس کے موجود ہونے کو وہ ازل سے جانتا ہے تانکہ اس کے علم کے خلاف نہ ہونے پائے اور کفر بھی اس قبیل سے ہے جس کو وہ ازل سے جانتا تھا کہ وہ موجود ہو گا کیا آپ قرآن مجید میں دیکھتے نہیں ؟ ارشاد ہوتا ہے ۔ ( لا یرید اللہ الا یجعل لھم حظا فی الاخرۃ ) ( آل عمران ۱۷۶) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے ۔ اور اس اعتراض کا ایک اور جواب بھی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کفر کافر سے ہو برخلاف ایمان کے مومن سے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو گمراہ کرنے اور ان کے دلوں پر سدا اور روکاوٹ پیدا کرنے کی دعا کی تھی حتیٰ کہ وہ ایمان نہ لائیں اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ؒ ( قال قد اجیبت دعوتکما فاستقیما ) ( یونس ۸۹) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول ہو چکی سو تم دونوں پکے رہنا۔ ( تو یہ اجابت دعا دلالت کرتی ہے کہ ) اللہ تعالیٰ نے ان کے گمراہ کرنے کو چاہا تھا اور ان کے دلوں پر رکاوٹ کو چنانچہ وہ ایمان نہیں لائے تھے اس لئے کہ اللہ نے دونوں نبیوں کی دعا قبول کر لی تھی ۔ اس میں ایک اور جواب بھی ہے وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کفر قبیح ہو ۔ گمراہی ہو ۔ اندھا پن ہو ۔ خسارہ اور نقصان ہو ۔ نور نہ ہو ۔ ہدایت نہ ہو حق نہ ہو بیان فصاحت نہ ہو ۔ اگر ارادہ کریں کہ یہ کہیں کہ کفر کو چاہتا ہے یعنی اس کا حکم کرتا ہے تو یہ میت کہئے یعنی یہ کہنا درست نہیں ہے ۔ اعتراض ہفتم اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا حکیم وہی ہے جو یہ ارادہ کرے کہ اس کو گالی دی جائے اور برائی کے ساتھ اس کو یاد کیا جائے گا ؟ اسے جواب میں کہا جائے گا کہ حکیم وہ ہے جو گالی کو سونے والے اور سر سام یر سام ( دماغی مرض ) والے کی زبان پر جاری کر دے اور ان دونوں کا یہ فعل بھی نہ ہو ۔ حکیم وہ ہے جو بندے کو پیدا کرتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کو گالی دے گا اور اس کے وجود کا انکار کرے گا پھر بھی ہر لمحہ ا س کے لئے نئی سے نئی قدرت عطا کرتا ہے ۔ یا یہ جواب دیا جائے گا کہ گالی جس کی شان میں کمی کرے وہ حکیم نہیں ہے اور جس کی شان نہ گھٹے وہ حکیم ہے کیونکہ جو نہیں ہوتا اس کو وہ چاہتا ہے اور اس لئے کہ جو یہ ارادہ کرتا ہے کہ گالی دینے والے کی گالی اس کے لئے معصیت ہو کار سے نہ کہ اطاعت وہی حکیم ہے ۔ اس لئے کہ جو ارادہ کرتا ہے شئی کا جس کا خلاف نہ ہو سکے وہی حکیم ہے اور جو ارادہ کرتا کہ گالی اس وقت میں موجود ہو ۔ جس کو وازل میں جانتا تھا کہ وہ فلاں وقت میں موجود ہو گی بس وہی حکیم ہے اس لئے کہ اس نے ایک شئی کا ارادہ کیا اس وقت میں جس میں وہ ہوتا تھا اور وہ جس نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ وہ مغلوب نہ ہو مظلوم نہ ہو مجبور نہ ہو اس کام کے کرنے پر جس کا وہ ارادہ نہیں کرتا بس وہی حکیم ہے ۔ اس سلسلہ میں بہت لمبا کلام ہے ۔ اعتراض ہشتم : اگر یہ سوال کیا جائے کہ تم لوگ بندے کی استطاعت کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ جواباً کہا جائے گا کہ ہم کہیں گے یہ اس کی قدرت ہے اور یہ قدرت اور بندے کا فعل مل کر دونوں چیزیں یہ اللہ کی طرف سے توفیق ہیں اطاعت کے لئے اور رسوائی ہیں اس کی طرف سے گناہ میں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ے : ( فضلوا فلا یستطیعون سبیلا ) ( الفرقان ۹) بس وہ گمراہ ہو گئے ہیں پس ہو نہیں استطاعت رکھتے راستے کی ( حق کے راستے کی ) ۔ جب کہ وہ باطل کے راستے کی استطاعت رکھتے ہیں تو آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ نے ان سے حق کی استطاعت کی نفی کی ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس کے فاعل نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس نے کہا تھا : ( انک لن تستطیع معی صبرا ) ( کہف ۶۷) بے شک تو ہر گز نبیوں کی اطاعت رکھنے کا صبر کرنے کی میرے ساتھ ۔ تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر کی استطاعت کی نفی کی ہے جب اس سے صبر کی نفی کا ارادہ کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا فرمان ہے : کل (میسر لما خلق لہ ) ہر انسان کے لئے وہی عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں جن کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ ایک اور حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بندہ جب کسی فعل کا کسب کرتا ہے تو کسب کرنے کے وقت وہ کسب اس کے لئے آسان کر دیا گیا ہوتا ہے اور یہی اس کے لئے آسان ہونا یہی اس کی قدرت ہے اور اس لئے بھی کہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص خیر کی استطاعت نہیں رکھتا ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ اور وہ اپنے وجود سے پہلے خیر نہیں تھی ۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کی استطاعت اس کے ساتھ ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ استطاعت فعل کا سبب ہے اس کے وجود سے وجود میں آتا ہے اور اسی کے عدم سے عدم رہتا ہے ۔ لہذا استطاعت کسب کے ساتھ چلتی ہے جیسے علت معلول کے ساتھ چلتی ہے اور علت کا معلول پر مقدم ہونا صحیح نہیں ہوتا لہذا استطاعت کا کسب پر مقدم ہونا بھی صحیح نہیں ( بلکہ ساتھ ساتھ ہوتے ہیں ۔ )
Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 190
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 278
278 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الله المنادي ثنا يونس بن محمد ثنا المعتمر بن سليمان عن أبيه عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم سئل عن الإيمان قال :
الإيمان أن تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و تؤمن بالجنة و النار و الميزان وتؤمن بالبعث بعد الموت و تؤمن بالقدر خيره و شره قال : يعني السائل إذا فعلت هذا فأنا مؤمن ؟ قال نعم قال : صدقت
قال البيهقي رحمه الله في الآية التي كتبناها دلالة على أن أعمال الكفار توزن لأنه قال في آية أخرى :
{ بما كانوا بآياتنا يظلمون }
و الظلم بآيات الله الاستهزاء بها و ترك الإذعان لها و قال في آية : { في جهنم خالدون } إلى أن قال : { ألم تكن آياتي تتلى عليكم فكنتم بها تكذبون }
و قال في آية :
{ فأمه هاوية * وما أدراك ما هيه * نار حامية }
و هذا الوعيد بالإطلاق لا يكون إلا للكفار فإذا جمع بينه و بين قوله :
{ و إن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها }
ثبت أن الكفار يسألون عن كل ما خالفوا به الحق من أصل الدين و فروعه إذا لو لم يسألوا عما وافقوا فيه أصل تدينهم من ضروب تعاطيهم و لم يحاسبوا بها لم يعتد بها في الوزن أيضا و إذا كانت موزونة في وقت الوزن دل ذلك على أنهم يحاسبون بها في موقف الحساب و الله أعلم
و هذا على قول من قال في الكفار أنهم مخاطبون بالشرائع و هو الصحيح لأن الله عز و جل يقول :
{ وويل للمشركين * الذين لا يؤتون الزكاة }
فتوعدهم على منع الزكوة و أخبر عن المجرمين أنهم يقال لهم :
{ ما سلككم في سقر * قالوا لم نك من المصلين * ولم نك نطعم المسكين * وكنا نخوض مع الخائضين * وكنا نكذب بيوم الدين * حتى أتانا اليقين }
فبان بهذا أن المشركين مخاطبون بالإيمان بالبعث و بإقام الصلاة و إيتاء الزكاة و أنهم مسؤولون عنها مخاطبون بها مجزون على ما أخلوا به منها و الله أعلم
و اختلفوا في كيفية الوزن فذهب ذاهبون إلى أن الكافر قد يكون منه صلة الأرحام و مواساة الناس و رحمة الضعيف و إغاثة اللهفان و الدفع عن المظلوم و عتق المملوك ونحوها مما لو كانت من المسلم لكانت برا و طاعة فمن كان له أمثال هذه الخيرات من الكفار فإنها تجمع و توضع في ميزانه لأن الله تعالى قال :
{ فلا تظلم نفس شيئا }
فتأخذ من ميزانه شيئا غير أن الكفر إذا قابلها رجح بها و قد حرم الله الجنة على الكفار فجزاء خيراته أن يخفف عنه العذاب فيعذب عذابا دون كفار كأنه لم يصنع شيئا من هذه الخيرات و من قال بهذا احتج بما
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبداللہ منادی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن محمد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ سے، انہوں نے یحییٰ بن یعمر سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایمان کے بارے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لا اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں کے ساتھ اور تو ایمان لا جنت کے ساتھ اور جہنم کے ساتھ اور میزان کے ساتھ اور تو ایمان لا موت کے بعد اٹھنے پر اور تو ایمان لا تقدیر کے ساتھ اچھی ہو یا بری ہو۔ اس کے بعد اس نے کہا یعنی سائل نے کہ جب میں یہ کام کروں گا کیا میں مؤمن ہو ں گا۔ (آپ نے) فرمایا ، جی ہاں۔ (سائل نے) کہا کہ آپ نے سچ فرمایا۔ معلوم ہوا کہ ایمان بالمیزان دیگر تمام ان چیزوں کی طرح ہے جن کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ (مترجم) امام بیہقی کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : جو آیت ہم نے درج کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے اعمال بھی وزن کئے جائیں گے ، اس لئے کہ دوسری آیت میں یہ الفاظ ہیں: "بماکانو ا بایاتنا یظلمون " (اعراف 9)۔ وہ لوگ خسارے میں اس لئے ہون گے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظلم و نا انصافی کرتے تھے۔ اور اللہ کی آیات کے ساتھ ظلم ان کے ساتھ استہزاء کرنا ہے اور ان کا یقین نہ کرنا ہے۔ اور ایک آیت میں یہ بھی ہے کہ: فی جھنم خالدون" (مومنون 103) کہ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور اسی تسلسل میں یہ بھی ہے کہ: الم تکن ایاتی تتلی علیکم فکنتم بھا تکذبون (مومنون 105) کیا تم لوگوں پر میری آیات پڑھی نہیں جاتی تھیں مگر تم ان کی تکذیب کرتے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ کفار کے اعمال کا وزن ہو گا) اور ایک آیت میں یہ بھی ہے کہ: فامہ ھاویہ واما ادراک ماھیہ نار حامیہ (القارعہ 9-11) کس کے وزن اعمال ہلکے ہون گے ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ، تم کیسے جانوں کہ وہ کیا ہے دھکائی ہوئی۔ یہ وعید اور دھمکی مطلقاً کفار کے لئے ہی ہے۔ جب اس آیت اور آنے والی آیت کے مفہوم کو ملا کر غور کیا جائے۔ (یعنی: "وان کانا مثقال حبۃ من خر دل اتینا بھا " (الانبیاء 47) اگرچہ کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو تو ہم اس کو بھی لائیں گے۔ دونوں آیات کے مفہوم کو ملا کر غور کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ کفار سے ہر اس بات کا سوال ہو گا جس میں انہوں نے دین کے اصول یا فروع میں سے حق کی مخالفت کی تھی۔ کیونکہ اگر وہ نہ پوچھے جاتے ان باتوں کے بارے میں جن میں انہوں نے موافقت کی تھی اپنی اصل دین داری میں مثلاً مختلف قسم کا باہم دینا لینا ان کا اور اس کا حساب بھی نہ کئے جاتے تو وزن میں اس کا شمار بھی نہ ہو گا۔ جس وقت وہ اعمال وزن کے وقت تو لے گئے تو یہ بات دلالت کرتی ہے کہ وہ ان تمام باتوں اور تمام چیزوں کے بارے میں بھی پوچھے جائیں گے۔ حساب کے موقف میں یہ تحقیق اور یہ فیصلہ اس شخص کے قول پر ہے جو یہ کہتا ہے کہ کفار بھی شرائع کے مخاطب ہیں اور مکلف ہیں اور وہ صحیح ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "فویل للمشرکین الذین لا یؤتون الذکات (فصلت6) پس ہلاکت مشرکوں کے لئے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو زکوٰۃ نہ دینے پر دھمکی دی ہے (اس سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ احکام شریعت کے مکلف ہیں)۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجرموں کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت میں ان سے سوال ہو گا: " ماسلککم فی سقر ؟ قالو الم نک من المصلین ولم نک نطعم المسکین وکنا نحوض من الخائضین وکنا نکذب بیوم الذین حتیٰ اتا قاالیقین (المدثر 43-47) تمہیں جہنم میں کیا چیز لے گئی؟ وہ کہیں گے ہم لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور اہل باطل کے ساتھ مل کر حق کاانکار کرتے تھے اور روز جزا کو ہم جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آ گئی۔ ان آیات سے واضح ہو ا کہ مشرکین بھی ایمان بالبعث مر کر اٹھنے ، نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے کے مخاطب ہیں اور مکلف ہیں اور ان سے ان چیزوں کا سوال ہو گا واور ان چیزوں میں سے جس کے ساتھ وہ کوتاہی کریں گے اس کی ان کو سزا دی جائے گی۔ واللہ اعلم۔ احناف کا مسلک : احناف کا مسلک اس کے برعکس یہ ہے کہ کفار ومشرکین جب تک ایمان و اسلام قبول نہ کر لیں اس وقت تک وہ شرعی احکامات کے مکلف و مخاطب نہیں ہیں۔ ان سے ان اعمال وغیرہ کا سوال نہیں ہو گا بلکہ ان سے ایمان باللہ اور ایمان بالرسول ایمان بالقرآن کا سوال ہو گا اور ان کے اعمال کا وزن بھی نہیں کیا جائے گا اور اس پر ان کو اجر و ثواب بھی نہیں ملے گا بلکہ ان کے سارے اعمال دنیا میں ہی اکارت ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے اعمال کے بارے میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ (1)۔۔ الذین صل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحمنون صنعا (کہف 104) یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی ہے ، حالانکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں۔ (2)۔۔ اولئک الذین کفرو ا بایات ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم فلانقیم لھم یو م القیمۃ وزنا (کہف 105) یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کے ساتھ کفر کیا ہے اوراس کی ملاقات کے ساتھ بھی کفر کیا ہے۔ لہذا ان کے اعمال ضائع ہو گئے ہیں اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ قرآن مجید کی یہ آیات نص صریح ہیں اس بات پر کہ کفار و مشرکین کے اعمال دنیا کی زندگی میں ہی برباد ہو چکے ہیں اور قیامت میں ان کا وزن بھی نہیں کیا جائے گا۔ لہذا اس پر ان کو ثواب بھی نہیں ملے گا اور نہ ہی کوتاہی پر سزا ہو گی۔ یہ سب اعمال ایمان کے تابع رہیں گے۔ (ازمترجم)۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کہ وضاحت: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کام جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں: اہل علم نے اعمال کے وزن کرنے کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ کافر کبھی صلہ رحمی بھی کرتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ غمخواری بھی کرتے ہیں، کمزور پر شفقت بھی کرتے ہیں ، پریشان حال کی فریاد رسی بھی کرتے ہیں، مظلوم کا دفاع بھی کرتے ہیں، غلام آزاد بھی کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ایسے ایسے اعمال میں کہ اگر وہ ایک مسلم کی جانب سے ہوتے تو ضرور وہ نیکی اور طاعت شمار ہوتے تو جس کافر کے پاس اس قسم کی بھلائیاں ہوں گی وہ جمع کر کے اس کے میزان میں رکھی جائیں گی۔ اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں فلاتظلم نفس شیئا (انبیاء 47) کہ کسی نفس پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ایسا نہیں کہ اس کے ترازو اور وزن میں سے کچھ لے لیا جائے گا اور کم کر لیا جائے ۔ لیکن جب اس کے کفر کا اس کے اچھے اعمال سے مقابلہ ہو گا تو وہ اچھائیوں سے بھاری ہو جائے گا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے جنت کو کافروں کے لئے حرام کر رکھا ہے (جنت تو ان کو مل نہیں سکتی) لہذا اس کے خیراتی امور کی جزا اس کو اس طرح دی جائے گی، اس سے عذاب ہلکا کر دیا جائے گا، لہذا اس کو عذاب دیکر کفار کے مقابلے میں نسبتاً کم دیا جائے گا جنہوں نے ان خیرات میں سے کچھ بھی نہیں کیا تھا۔
الإيمان ← الإيمان ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← محمد بن عبد الله المنادي ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 278
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 279
279 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد أنا الحسن بن سفيان ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي
قال أبو الوليد : و أنا عبد الله بن محمد ثنا محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب قالا : ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن العباس بن عبد المطلب قال : قلت : يا رسول الله هل نفعت أبا طالب بشيء فإنه كان يحفظك و يغضب لك ؟ قال : نعم هو في ضحضاح من النار و لولا أنا لكان في الدرك الأسفل من النار
و رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل عن أبي عوانة و رواه مسلم عن محمد بن أبي بكر و ابن أبي الشوارب
قال البيهقي رحمه الله : و ذهب ذاهبون إلى أن خيرات الكافر لا توزن ليجزي بها بتخفيف العذاب عنه و إنما توزن قطعا لحجته حتى إذا قابلها الكفر رجح بها و أحبطها أو لا توزن أصلا و لكن يوضع كفره أوكفره و سائر سيئاته في إحدى كفتيه ثم يقال له : هل لك من طاعة نضعها في الكفة الأخرى ؟ فلا يجدها فيتثاقل الميزان فترتفع الكفة الفارغة و تبقى الكفة المشغولة فذلك خفة ميزانه فأما خيراته فإنها لا تحسب بشيء منها مع الكفر
قال الله عز و جل :
{ و قدمنا إلى ما عملوا من عمل فجعلناه هباء منثورا }
و روينا عن عائشة رضي الله عنه قالت :
يا رسول الله ! إن ابن جدعان كان في الجاهلية يصل الرحم و يطعم المسكين فهل ذاك نافعه ؟ قال : لا ينفعه لأنه لم يقل يوما : رب اغفر لي خطيئيتي يوم الدين
و روينا عن عدي بن حاتم أنه سأل النبي صلى الله عليه و سلم عن أبيه فقال : إن أباك طلب أمرا فأدركه يعني الذكر
وروينا عن أنس بن مالك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
إن الله لا يظلم المؤمن حسنة يثاب عليها في الدنيا و يجزي بها في الآخرة و أما الكافر فيعطى بحسناته في الدنيا حتى إذا افضى إلى الآخرة لم يكن له حسنة يعطى به خيرا
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ مجھے خبر دی ہے ابو الولید نے کہ خبر دی ہے حسن بن سفیان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابی بکر مقدمی نے ابوالولید نے کہا خبر دی ہے عبداللہ بن محمد نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالمالک بن ابی شوارب نے، وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے، انہوں نے عبداللہ بن حارث بن نوفل سے، انہوں نے عباس بن عبدالمطلب سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ کیا آپ نے ابو طالب (چچا) کو کچھ فائدہ دیا، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتا تھا اور آپ کے لئے لوگوں سے ناراضگی مول لیتا رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، جی ہاں، وہ جہنم میں ٹخنوں ٹخنوں تک ہو گا۔ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔ اس کو بخاری نے صحیح میں موسی بن اسماعیل سے ابو عوانہ سے روایت کیا ہے اور ا س کو مسلم نے محمد بن ابی بکر اور ابن شوارب سے روایت کیا ہے۔ امام بیہقی ؒ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: کچھ لوگ اس طرف گئے ہیں کہ کافر کی اچھائیاں اس لئے نہیں تولی جائیں گی تاکہ وہ ان کے ساتھ عذاب میں تخفیف کی صورت میں جزا اور اجردیا جائے بلکہ اس کی حجت ختم کرنے کےلئے تولی جائیں گی یہاں تک کہ تولنے کے بعد جب ان کے ساتھ اس کو تولا جائے گا تو وہ ان پر بھاری ہو کر ان کو تباہ کر دے گا۔ یا سرے سے بالکل تولی ہی نہیں جائیں گی۔ بلکہ اس کافر اور اس کی دیگر تمام سیئات ایک ہی پلڑے میں رکھ دی جائیں گی۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ کیا تیرے پاس کوئی طاعت یعنی اللہ کی فرمانبردرای بھی ہے جسے ہم دوسرے پلڑے میں رکھیں۔ چنانچہ وہ اس کے پاس نہیں ہو گی۔ لہذا ترازو کا پلڑا بھاری ہو جائے گا اور خالی پلڑا اٹھ جائے گااور بھرا ہوا پلڑا اپنی جگہ باقی رہے گا۔ یہی ہو گا اس کا ہلکا پلڑا ہو جانا۔ باقی اس کی اچھائیاں وہ کفر کے ہوتے ہوئے کچھ بھی شمار نہیں کی جائیں گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وما منا الیٰ ما عملو ا من عمل فجعلناہ ھباء منثورا " (الفرقان 23) ہم متوجہ ہوں گے کفار کے اعمال کی طرف پس کر دیں گے ہم ان کو اڑتا ہوا غبار۔ یعنی کفر کے ہوتے ہوئے کوئی اچھے عمل بھی مقبول نہیں ہوں گے۔ (مترجم)۔ ابن جدعان کو کچھ نہ ملا اور ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ہے، وہ فرماتی ہیں انہوں نےعرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک شخص ابن جدعان تھا، جاہلیت کے دور میں وہ صلہ رحمی کرتا تھا اور مسکین کو کھانا دیتا تھا، کیا یہ کام اس کو فائدہ دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ اس لئے کہ اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا تھا: "رب اغفرلی خطیئتی یوم الدین" اے میرے رب قیامت میں میری خطا معاف کر دینا۔ حاتم کو کچھ نہ ملنا: اور ہم نے عدی بن حاتم سے روایت کیا ہے کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے والد حاتم کے بارے میں پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا تھا کہ : "ان ایاک طلب امرا ً فادر کہ " بے شک تیرے والد نے جو کچھ طلب کیا تھا اس نے اس کو پا لیا تھا۔ اس سے آپ تذکرہ اور شہرت مراد لے رہے تھے۔ یعنی وہ چاہتا تھا کہ میرا نام ہو میرا چرچا ہو، شہرت ہو کہ بڑا سخی ہے۔ وہ اس نے پا لیا ہے۔ اب آخرت میں اس کو کیا ملتا ہے۔ (مترجم) مؤمن کو دنیا و آخرت میں جبکہ کافر کو صرف دنیا میں اجر ملتا ہے: ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کسی مؤمن پر ظلم نہیں کرتا بلکہ اس کی ایک نیکی پر اسے دنیا میں بھی ثواب دیتا ہے اور آخرت میں بھی اس پر جزا دے گا بہر حال۔ رہا کافر تو وہ اپنی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں دے دیا جاتا ہے۔ جب وہ آخرت کی طرف لوٹتا ہے تو اس کی کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی۔ جس پر اس کو کوئی خیر عطا کی جائے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 279
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 281
281 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ثنا زكريا بن يحيى البزاز ثنا زيد بن أخزم الطائي ثنا عامر بن مدرك ثنا عتبة بن يقظان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
ما أحسن من محسن كافر أو مسلم إلا أثابه الله عز و جل
قلنا يا رسول الله ! و ما إثابه الله الكافر ؟ قال : إن كان وصل رحما أو تصدق بصدقة أو عمل حسنة أثابه الله تعالى و إثابته إياه المال و الولد و الصحة وأشباه ذلك قال قلنا : و ما أثابته في الآخرة ؟ قال : عذاب دون العذاب و قرأ : { أدخلوا آل فرعون أشد العذاب }
قال البيهقي رحمه الله : و هذا أن ثبت ففيه الحجة و إن لم يثبت لأن في إسناده من لا يحتج به
و حديث أبي طالب صحيح و لا معنى لإنكار الحليمي رحمه الله الحديث و لا أدري كيف ذهب عنه صحة ذلك فقد روي من أوجه عن عبد الملك بن عمير و روي من وجه آخر صحيح عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم بمعناه
و قد أخرجه صاحب الصحيح و غيرهما من الأئمة في كتبهم الصحاح و إنما يصح لمن ذهب المذهب الثاني في خيرات الكافر أن يقول حديث أبي طالب خاص في التخفيف عن عذابه بما صنع إلى النبي صلى الله عليه و سلم خص به أبو طالب لأجل النبي صلى الله عليه و سلم تطيبا لقلبه و ثوابا له في نفسه لا لأبي طالب فإن حسنات أبي طالب صارت بموته على كفره هباء منثورا
و مثل هذا حديث عروة بن الزبير في اعتاق أبي لهب ثويبة و إرضاعها رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما مات أبو لهب أريه بعض أهله في النون بشر خيبة فقال له : ما لقيت ؟ فقال أبو لهب : لم نر بعدكم رجاء غير أني سقيت في هذه مني بعتاقتي ثويبة و أشار إلى النقيرة التي بين الإبهام و التي تليها
و هذا أيضا لأن الإحسان كان مرجعه إلى صاحب النبوة فلم يضيع و الله أعلم
و أما المؤمنون يحاسبون فإن أعمالهم توزن و هم فريقان : أحدهما المؤمنون المتقون لكبائر الذنوب فهؤلاء توضع حسناتهم في الكفة النيرة و و صغائرهم ـ إن كانت لهم ـ في الكفة الأخرى فلا يجعل الله لتلك الصغائر وزنا و تثقل الكفة النيرة و ترتفع الكفة الأخرى ارتفاع الفارع الخالي فيؤمر بهم إلى الجنة و يثاب كل واحد منهم على قدر حسناته و طاعاته كما تلونا في الآيات التي ذكرناها في الموازين
و الآخر : المؤمنون المخئطون : و هم الذين يوافون القيامة بالكبائر و الفواحش غير أنهم لم يشركوا بالله شيئا فحسناتهم توضع في الكفة النيرة و آثامهم و شيئاتهم في الكفة المظلمة فيكون يومئذ لكبائرهم التي جاؤوا بها ثقل و لحسناتهم ثقل إلا أن الحسنات تكون بكل حال أثقل لأن معها أصل الإيمان و ليس مع السيئات كفر و يستحيل وجود الإيمان و الكفر معا لشخص واحد و لأن الحسنات لم يرد بها إلا وجه الله تعالى و السيئات لم يقصد بها مخالفة الله و عناده بل كان تعاطيها لداعية الهوى و على خوف من الله عز و جل و إشفاق من غصبه فاستحال توازي السيئات ـ و إن كثرت ـ حسنات المؤمن و لكنها عند الوزن لا تخلوا من تثقيل و يقع بها الميزان حتى يكون ثقلها كبعض ثقل الحسنات فيجزي أمر هؤلاء على ما ورد به الكتابة جملة و دلت سنة المصطفي صلى الله عليه و سلم على تفصيلها و هو قوله عز و دل :
{ إن الله يغفر الذنوب جميعا }
و قوله : { و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء }
فيغفر لمن يشاء بفضله و يشفع فيمن شاء منهم بإذنه و يعذب من شاء منهم بمقدار ذنبه ثم يخرجه ثم يخرجه من النار إلى الجنة برحمته كما ورد به خبر الصادق
و قد دل الكتاب على وزن أعمال المخلطين من المؤمنين و هو قوله عز و جل :
{ ونضع الموازين القسط ليوم القيامة فلا تظلم نفس شيئا وإن كان مثقال حبة من خردل أتينا بها وكفى بنا حاسبين }
و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أنه لا يترك له حسنة إلا توزن و هذا بالمؤمن المخلط لأنه لو تركت له حسنة لم توزن لزاد ذلك في ثقل سيئاته فأوجب ذلك زيادة في عذابه
فأما أن الوزن كيف يكون ؟ ففيه وجهان :
أحدهما أن صحف الحسنات توضع في الكفة النبيرة و صحف السيئات في الكفة المظلمة لأن الأعمال لا تنسخ في صحيفة واحدة و لا كاتبها يكون واحدا لكن الملك الذي يكون عن اليمين يكتب الحسنات و الملك الذي يكون على الشمال يكتب السيئات فيتفرد كل واحد منهما بما ينسخ فإذا جاء وقت الوزن وضعت الصحف في الموازين فيثقل الله عز و جل ما يحق تثقيله و يخفف ما يحق تخفيفه
و الوجه الآخر أن يجوز أن يحدث الله تبارك و تعالى أجساما مقدرة بعدد الحسنات و السيئات و يميز إحداهما عن الأخرى بصفات تعرف بها فتوزن كما توزن الأجسام بعضهما ببعض في الدنيا و الله أعلم و يعتبر في وزن الأعمال مواقعها من رضي الله عز و جل و سخطه
و ذهب أهل التفسير إلى إثبات هذا الميزان بكفتيه و جاء في الأخبار ما دل عليه و قد روى الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس أنه قال :
الميزان له لسان و كفتان يوزن فيه الحسنات و السيئات فيؤتي بالحسنات في أحسن صورة فتوضع في كفة في كفة الميزان فيثقل على السيئات قال : فيؤخذ فيوضع في الجنة عند منازله ثم يقال للمؤمن : الحق بعملك قال فينطلق إلى الجنة فيعرف منازله بعمله قال : و يؤتى بالسيئات في أقبح صورة فتوضع في كفة الميزان فتخفف ـ و الباطل خفيف ـ فيطرح في جهنم إلى منازله منها و يقال له : الحق بعملك إلى النار قال : فيأتي النار فيعرف منازله بعمله و ما أعد الله فيها من ألوان العذاب قال ابن عباس : فلهم أعرف بمنازلهم في الجنة و النار بعملهم من القوم ينصرفون يوم الجمع راجعين إلى منازلهم
ہمیں حدیث بیان کی ہے امام ابو الطیب سھل بن محمد بن سلیمان نے خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یزید جوزی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زکریا بن یحییٰ بزاز نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زیدن بن احزم طائی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عامر بن مدوک نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عقبہ بن یقضان نے قیس بن مسلم سے، انہوں نے طارق بن شھاب سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: "مااحسن من محسن کافر اورمسلم الا اثابہ اللہ عزوجل " کوئی بھی نیکی کرنے والا جو نیکی کرتا ہے مسلم ہو یا کافر ہو اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کا کافر کو ثواب دینا کیسا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ صلہ رحمی کرتا تھا یا صدقہ کرتا تھا یا کوئی نیک عمل کرتا تھا اللہ تعالیٰ اس کو ثواب دیتا ہے اور اس کو مخصوص ثواب یہ ہے کہ اس کومال دیتا ہے، اولاد دیتا ہے، صحت دیتا ہے اور اس کی مثل کچھ اور بھی۔ ہم نے عرض کی کہ کافر کو آخرت میں ثواب کیسے دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، زیادہ عذاب کے مقابلے میں کم عذاب دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ''ادخلو ا اٰل فرعون اشد العذاب " (مومن 46) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ کفار کم عذاب اور کچھ کو کمترین عذاب بھی دیا جائے گا۔ (مترجم) اس روایت کو نقل کرتے کے بعد امام بیہقی تبصرہ کرتے ہیں کہ اگر یہ روایت ثابت ہو جائے تو اس میں حجت و دلیل ہے۔ اگر ثابت نہ وہ تو پھر دلیل بھی نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کی اسناد میں وہ راوی بھی ہے جس کے ساتھ حجت نہیں پکڑی جاتی۔ اور ابو طالب کے واقعہ والی حدیث صحیح ہے۔ باقی شیخ حلیمی کے اس حدیث کا انکار کرنے کا کچھ مطلب نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ اس حدیث کی صحت ان سے کیونکر اوجھل رہی ہے۔ وہ تو کئی وجوہ سے مروی ہے۔ عبدالملک بن عمیر سے اور ایک اور صحیح طریقہ سے حضرت ابو سعید خدری سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی حدیث کے مفہوم میں مروی ہے۔ اور اس روایت کو صاحب صحیح نے بھی نقل کیا ہے اوران دونوں کے علاوہ کئی ائمہ نے اپنی صحاح کتب میں نقل کی ہے۔ جو شخص کافر کی نیکیوں کی بابت مذہب ثانی کی طرف گیا ہے اس کےلئے صحیح ہے کہ وہ یہ کہے کہ حدیث ابو طالب خاص ہے صرف اسی کے عذاب کی تخفیف کے لئے۔ اس نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سلوک کیا تھا اسی کی وجہ سے اس تخفیف کے ساتھ ابو طالب مختص کیا گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تالیف قلف کےل ئے اور آپ کوفی نفسہ ثواب دینے کے لئے ابو طالب کے لئے نہیں اس لئے کہ ابو طالب کی نیکیاں اس کے کفر کی وجہ سے اس کی مغفرت پر اڑتا ہوا غبار ہو گئی تھیں۔ رحمۃ للعالمین کی وجہ سے ابو لہب کو پانی کا گھونٹ ملنا : اسی حدیث ابو طالب کی مثل ہے حدیث عروہ بن زبیر جس میں ابو لھب کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں اپنی لوندی ثوبیہ کو آزاد کرنا اور ثوبیہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلانا مذکور ہے۔ جب ابو لہب کا انتقال ہو گیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی ایک کو وہ خواب میں دکھایا گیا ۔ بڑی بری حالت میں اور ناکامی میں تھا۔ اس نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ ابو لہب نے کہا کہ میں نے تم لوگوں سے جدا ہونے کے بعدمکمل مایوسی دیکھی، امید کی کہیں کوئی صورت نہیں تھی۔ ہاں ثوبیہ کو آزاد کرنے کے بدلے میں مجھے اتنا سا گھونٹ پلایا گیا ہے (یعنی تھوڑا سا) اس نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان جو فاصلہ یا سوراخ بنتا ہے اسی کا اشارہ کر کے دکھا یا۔ یہ بات بھی ایسی ہی ہے س لئے کہ اس واقعہ میں بھی احسان کا مرجع وہی ذات رسالت ہے، لہذا وہ نیکی ضائع نہ کی گئی۔ بہر حال ایمان کا حساب لیا جائے گا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور وہ دو گروہ ہوں گے۔ پہلا گروہ: مومن متقی جو کبیرہ گناہوں سے بچتے رہتے تھے ۔ ان کی نیکیاں روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے صغیرہ گناہ اگر ہوئے تو وہ دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ اللہ پاک ان صغیرہ گناہوں کا کوئی وزن نہیں بنائیں گے۔ لہذا روشنی والاپلڑا بھاری ہو جائے گا اور دوسرا پلڑا اٹھ جائے گا۔ جیسے فارغ اور خالی اٹھ جاتا ہے۔ پھر ان کے لئے جنت کا حکم ہو جائے گا اور ان میں سے ہر ایک کو اس کی حسنات اور طاعت کے بقدر ثواب دیا جائے گا ۔ جیسے ہم ونضع الموازین والی آیت بیان کر چکے ہیں۔ دوسرا گروہ: مؤمن خطا کاروں کا ہو گا۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو قیامت میں کبیرہ گناہوں اور فواحش اور بے حیائیوں کی سزا دئیے جائیں گے۔مگر وہ شرک نہیں کرتے ہوں گے۔ ان کی نیکیاں بھی روشنی کے پلڑے میں رکھی جائیں گی اور ان کے گناہ اور سیئات تاریک پلڑے میں رکھے جائیں گے ۔ آج ان کے ان کبیرہ گناہوں کا جو وہ لائے ہوں گے بھی بوجھ ہو گا اور ان کی نیکیوں کا بھی بوجھ ہو گا۔ مگر نیکیاں ہر حال میں بھاری ہوں گی۔ اس لئے کہ ان کے ساتھ اصل ایمان بھی ہوگا۔ جبکہ سیئات اور گناہوں میں کفر نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ایک ہی شخص میں ایمان بھی ہو اور کفر بھی یہ محال ہے۔ اور دوسری یہ وجہ بھی ہے کہ حسنات اور نیکیوں کا مقصد اور منشاء صرف اللہ کی رضا تھا۔ جبکہ اس کے مقابلے میں گناہوں کا مقصد اللہ کی مخالفت کرنا یا اللہ سے بغض نہیں تھا بلکہ وہ محض نفسانی خواہشات کی بناء پر تھا۔ جس کے ساتھ ساتھ اللہ کا خوف ، اللہ کے غضب سے ڈرنا بھی ساتھ تھا۔ لہذا یہ تو محال ہو گا کہ سیئات بھی برابر ہوجائیں ، اگرچہ زیادہ بھی ہوں۔ تاہم نیکیوں کے برابر نہیں ہوں گے۔ لہزا لامحالہ گناہوں کا بوجھ تو ہو گا اور ان کے ساتھ ترازو بھی جھکے گا۔ یہاں تک کہ بعض سیئات کا بوجھ بعض حسنات کے بوجھ کی طرح ہو گا۔ سو اسوقت وہی معاملہ ہو گا جو قرآن میں مذکور ہو۔ آیت "ونضع الموازین القسط میں مذکور ہے کہ کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت بھی دلالت کرتی ہے اس کی تفصیلات کے بارے میں۔ اور اس کا خلاصہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا (الزمر 53) بے شک اللہ تعالیٰ سارے کے سارے گناہ بخش دے گا۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ویغفر مادون ذالک لمن یشاء " (الانبیاء 47) ہم انصاف کے ترازو قائم کریں گے قیامت کے روز لہذا کوئی نفس ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔اگرچہ کسی کی کوئی نیکی رائی کےدانے برابر ہو گی تو ہم اس کو بھی ضرور لے آئیں گے اور ہم حساب کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس آیت میں مراد یہ ہے کہ کسی انسان کی کوئی نیکی چھوڑی نہیں جائے گی۔ بلکہ وہ تولی جائے گی۔ یہ معاملہ ہو گا اس مؤمن کا جس کے ملے جلے اعمال ہوں گے، کیونکہ اگر اس کی کوئی نیکی چھوڑی جائے اوراس کا وزن رہ جائے تو اس کی جگہ اس کے گناہ کا وزن زیادہ ہو جائے گا اور یہ زیادتی اس کے لئے عذاب کو واجب کرسکتی ہے۔ وزن اعما ل کی کیفیت بہر حال وزن اعمال کیسے ہو گا؟ اس کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت: یہ ہے کہ نیکیوں کے صحیفے ایک روشن پلڑے میں رکھے جائیں گے اور گناہوں کے صحیفے تاریک پلڑے میں کیونکہ اعمال ایک ہی صحیفے میں نہیں لکھے جاتے اور ان کا لکھنے والا بھی ایک نہیں ہے۔ جو فرشتہ دائیں طرف ہوتا ہے وہ نیکیوں کو لکھتا ہے اور جو بائیں طرف ہوتا ہے وہ برائیوں اور گناہوں کو لکھتاہے۔ لہذا دونوں اپنے اپنے صحیفے لکھنے میں الگ الگ ہوتے ہیں۔ جب وزن کرنے کا وقت آئے گا تو وہی صحیفے میزان اور ترازو میں رکھے جائیں گے۔ سو جس کو بھاری کرنے کا حق ہو گا اللہ تعالیٰ اس کو بھاری کر دیں گے اور جس کو ہلکا کرنے کا حق ہو گا اس کو ہلکا کر دیں گے۔ دوسری صورت: یہ ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ مخصوص اجسام پیدا فرما دیں جو حسنات اور سیئات کی تعداد کے مطابق ہوں اور وہ سب ایک دوسرے سے ایسی صفات کے ساتھ ممتاز اور نمایاں ہوں جن کے ذریعے وہ پہچانے جا سکیں ۔ پھر وہی اجسام وزن کئے جائیں۔ جیسے دنیا میں بعض اجسام بعض کے ساتھ وزن کئے جاتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ اور وزن اعمال میں اعتبار اس بات کو ہو گا کہ اللہ کی رضا اور اللہ کی ناراضگی جس جگہ واقع ہو۔ اہل تفسیر اس میزان کو دو پلڑوں والا ثابت کرنے کی طرف گئے ہین اور احادیث میں بھی اس پر دلالت آئی ہے اور کلبی نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا میزان ایسی ہو گی کہ اس کی ایک زبان ہو گی اور اس کی دو ہتھیلیاں یا دو پلڑے ہوں گے۔ اس میں نیکیاں اور بدیاں تولی جائیں گی۔ نیکیاں خوبصورت شکل میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی۔ اوروہ گناہوں اور غلطیوں کا بھاری ہو جائیں گی۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ پھر وہ اٹھا کر جنت میں ان کے ٹھکانوں کے پاس رکھ جائیں گی۔ پھر مومن سے کہا جائے گا۔ آپ اپنے عمل کے ساتھ لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ جنت کی طرف چلے گا اور اپنے اپنے ٹھکانے کو اپنے اپنے عمل سے پہچان لے گا۔ اور انہوں نے فرمایا کہ برائیاں بد ترین صورت میں لائی جائیں گی اور میزان کے پلڑے میں رکھ دی جائیں گی اور وہ ہلکی پڑجائیں گی ۔ ا س لئے کہ باطل ہلکا اور بے وزن ہوتا ہے۔ پھر وہ اٹھا کر جہنم میں ان کے ٹھکانے پر رکھ دی جائیں ۔ پھر اس بندے سے کہا جائے گا کہ آپ اپنے عمل کے ساتھ جہنم میں لاحق ہو جائیے۔ فرمایا کہ پھر وہ انسان جہنم کی طرف آئے گا اور اپنے عمل کے ذریعے اپنا ٹھکانہ پہچان لے گا اور اس کو بھی جو اللہ نے اس کے لئے مختلف اور رنگ رنگ اور قسم قسم کے عذاب تیار کر رکھے ہوں گے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ وہ سب لوگ اپنے اپنے اعمال کی وجہ سے اپنے اپنے منازل کو اور مقامات کو سب سے زیادہ پہچاننے والے ہوں گے وہ جمع ہونے کے دن جائیں گے۔اپنے اپنے مقامات ی طرف رجوع کرنے والے ہوں گے۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ← عَامِرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ← زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← زكريا بن يحيى البزاز، ← أبو عبد الله محمد بن يزيد الجوزي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Separation · Hadith 281
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 295
295 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا يحيى بن الربيع المكي ثنا سفيان عن الزهري عن أبي إدريس عن عبادة بن الصامت : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لهم في بيعة النساء :
تبايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا و لا تسرقوا و لا تزنوا ـ يعين الآية كلها ـ فمن وفى منكم فأجره على الله و من أصاب من ذلك شيئا فعوقب فهو كفارته و من أصاب من ذلك شيئا فستره الله عليه فهو إلى الله عز و جل إن شاء غفر له و إن شاء عذبه
أخرجاه في الصحيح من حديث سفيان بن عيينة
قال البيهقي رحمه الله : قوله في بيعة النساء أراد كما في بيعة النساء و هو في قوله عز و جل :
{ يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن ولا يعصينك في معروف }
و قوله : من أصاب من ذلك شيئا فستره الله عليه أراد به ما خلا الشرك كما أراد بقوله : فعوقب به ما خلا الشرك فجعل الحد كفارة لما صاب من الذنب بعد الشرك و جعل ما لم يحد فيه موكولا إلى مشيئة الله عز و جل إن شاء غفر له و إن شاء عذبه ثم التعذيب لا يكون مؤبدا لدليل أخبار الشفاعة و ما ورد في معناها من كتاب الله عز و جل
فإن قيل : المعنى أنه يغفر الصغائر لمجتنب الكبائر و لا يغفرها لمن لا يجتنب الكبائر كما قال في آية أخرى :
{ إن تجتنبوا كبائر ما تنهون عنه نكفر عنكم سيئاتكم و ندخلكم مدخلا كريما }
قيل : المراد بالكبائر التي شرط في المغفرة اجتنابها هي الشرك فهي في هذه الآية مطلقة و تكفير السيئات بها مطلقة و هما في الآية التي احتججنا بها في الموضعين مقيدتان فوجب الجمع بينهما و حمل المطلق على المقيد
فإن قيل قد توعد أصحاب الكبائر بالنار و الخلود فيها و لم يستثن منهم إلا التائبين فقال :
{ ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق } إلى أن قال : { إلا من تاب }
قيل : هذا الوعيد ينصرف إلى جميع ما تقدم ذكره فإن الله جل ثناؤه افتتح هذه الآية بذكر الشرك فقال :
{ و الذين لا يدعون مع الله إلها آخر }
فانصرف قوله : { و من يفعل ذلك } إلى جميع ما تقدم ذكره و من جمع بين هذه الكبائر هذا الوعيد و الذين يدل على أنه قال : { يضاعف له العذاب } و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أن من جمع بين الشرك و غيره من الكبائر جمع عليه مع عذاب الشرك عذاب الكبائر فيصير العذاب مضاعفا عليه ثم قال : { إلا من تاب و آمن و عمل عملا صالحا } فذكر في التوبة الإيمان و العمل الصالح و ذلك ليحبط الإيمان كفره و يحبط إصلاحه في الإيمان ما تقدم من إفساده في الكفر كما روينا فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم
فإن قيل : و قد قيل :
{ ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها }
قيل : قد ذهل أهب التفسير إلى أن هذه الآية نزلت فيمن قتل و ارتد عن الإسلام و ذهب بعض أصحابنا إلى أن الآية مقصورة على سببها
ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو حامد بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن ربیع مکی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے زھری سے ، انہوں نے اب ادریس سے، انہوں نے عبادہ بن صامت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی بیعت کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا تھا: میرے ساتھ تم لوگ اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے، بدکاری نہیں کرو گے۔ یعنی پوری آیت بیعت والی کا ذکر فرمایا۔ (پھر فرمایا کہ ) جو شخص تم میں سے ساری باتیں پوری کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمے ہو گا اور جو شخص ان باتوں میں سے کسی چیز کا ارتکاب کر بیٹھا اور اس کو سزا دے دی گئی وہ سزا اس کے لئے کفارہ ہو گی اور جس نے کسی کام کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا (یعنی اس کا گناہ سامنے نہ آ سکا) وہ اللہ عزوجل کے حوالے ہو گا۔ اگر وہ چاہے گا معاف کر دے گا اور چاہے گا تو اس کو عذاب دے گا۔ بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اس حدیث کو سفیان بن عیینہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: عبادہ بن صامت کا قول فی بیعۃ النسآء سے انہوں نے یہ مراد لی ہے کہ جیسے عورتوں کی بیعت میں ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "یا ایھا النبی اذا جآء ک المومنات یبا یعنک علی ان لا یشرکن باللہ شیئاً ولا یسرقن ولا یزنین ولا یقتلن اولا دھن ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وار جلھن ولا یعصینک فی معروف الخ (12) اے نبی جب تیرے پاس ایمان والی عورتیں تیرے ساتھ بیعت ہونے کے لئے آئیں تو (ان شرائط پر ان کی بیعت قبول کر لیجئے) کہ : (1)۔۔اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہیں کریں گے۔ (2)۔۔چوری نہیں کریں گے۔ (3)۔۔زنا نہیں کریں گے۔ (4)۔۔اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے۔ (5)۔۔اور بہتان نہیں باندھیں گی، جیسے وہ اپنے ہاتھوں اور پیروں کے اگے اختراز کریں۔ (6)۔۔اور ہر اچھے کام میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی۔ (گزشتہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا) یہ قول کرنا: "ومن اصاب من ذالک شیئاً فسترہ اللہ علیہ" کہ جو شخص ان مذکورہ گناہوں میں سے کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ تعالیٰ اس کے اوپر پردہ ڈال دے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اس سے شریک کے ماسوا باقی گناہ ہے۔ جیسے آپ کا یہ قول کرنا (فعوقب بہ) یعنی جس نے مذکورہ گناہوں میں سے کسی کا ارتکاب کیا اور اس کی سزا دی گئی۔ اس سے مراد بھی ماسوائے شرک کے گناہ مراد ہے۔ جبھی تو سزا اور حد کو کفارہ قرار دے دیا۔ اس غلطی کا اور گناہ شرک کے بعد جس کاارتکاب کیا اور جس گناہ کے ارتکاب کے بعد اس میں حد جاری نہیں کی گئی اس کو اللہ کی مشیت کے سپرد کیا۔ اگر چاہے تو اس کے لئے معافی فرما دے اگر چاہے تو اس کو عذاب دے۔ پھر عذاب دائمی نہیں ہو گا۔ اس بات کی دلیل شفاعت قبول کر کے جنت میں بھیجنے والی احادیث میں اور وہ آیات ہیں جو کتا ب اللہ میں اس معنی میں آئی ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ آیت مغفرت میں یہ فقرہ کہ جس کو چاہے بخش دے گا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے صغیرہ گناہ معاف کر دے گا جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے والا ہو گا اور اس کے لئے بخشش نہیں کرے گا جو کبائر کا ارتکاب کرنے والا ہو گا جیسے کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے: " ان تجتنبو ا کبائر ماتنھون عنہ نکفر عنکم سیئاتکم وند خلکم مدخلا ً کریما (النسآء31) اگر تم کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو گے جس سے تم منع کئے گئے ہو تو مٹا دیں گے ہم تم سے تمہاری غلطیاں اور داخل کریں ہم تم کو با عزت مقام میں۔ تو جواب میں کہا جائے گا کہ وہ کبائر جن سے اجتناب کرنے کو مغفرت کے لئے شرط قرارد یا گیا ہے اس سے مراد شرک ہے اور یہ اس آیت میں مطلق ہے اور اس کے ساتھ سیئات کی تکفیر کرنا اور مٹنا بھی مطلق ہے اور وہ دونوں اس آیت میں جس کے ساتھ ہم نے حجت پکڑی ہے دونوں جگہ دونوں مفید ہیں۔ لہذا دونوں کے مابین جمع کرنا وجب ہے اور مطلق کو مقید پر محمول کرنا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں کے ارتکاب کرنے والوں کو آگ کی اور اس میں ہمیشہ رہنے کی وعید اور دھمکی دی ہے اور ان سے توبہ کرنے والوں کےسوا کسی کو علیحدہ نہیں کیا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ولا تقتلو النفس التی حرم اللہ الا بالحق (تا) الا من تاب (الفرقان 68 تا 70) یہ قتل کرو کسی نفس کو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کی تائید کے ساتھ۔ (یہاں تک کہ فرمایا) مگر وہ شخص جو توبہ کرے تو جواب میں کہا جائے گا کہ اس وعید اور دھمکی کا تعلق صرف اسی سے نہیں بلکہ تما م ان امور سے اور اشیاء سے ہے جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی ابتداء شرک کے ذکر کے ساتھ کی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا: "والذین لا ید عون مع اللہ الھا اخر (الفرقان 68) وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکڑتے۔ (یعنی شرک کی نفی کی ہے) لہذا آیت میں یہ فقرہ : "ومن یفعل ذالک یلق اثاماً" جو شخص یہ کام کرے گا وہ ملے گا کئی کئی گناہوں کو بھرے گا۔ اور رجوع کرے گا ان تمام سابقہ چیزوں کی طرف جو پہلے مذکور ہوئی ہیں۔ جس نے ان کبائر اور اس وعید کے اور اس پر جو دلیل دلالت کرتی ہے وہ یہ قول ہے: "یضاعف لہ العذاب" کہ اس کے لئے دہرا عذاب ہے۔ کے درمیان جمع کیا ہے اس نے یہ ارادہ کیا ہے وہ شخص جس نے شرک اور اس کے علاوہ کبائر کے مابین جمع کیا ہے۔ اس پر جمع کر دئیے ہیں شرک کے عذاب کے ساتھ کبائر کے عذب ، لہذا اس پر عذاب دہرا ہو گیا ہے ۔ پھر فرمایا: "الا من تاب وامن وعمل عملا ً صالحاً " مگر جو شخص ایمان لایا اور نیک عمل کئے۔ تو یہ ایمان اور عمل صالح کا ذکر کیا ہے اور یہ اس لئے تاکہ ا س کا ایمان اس کے کفر کو تباہ کر دے اور ختم کر دے اور ایمان میں اس کی اصلاح اس کو تباہ کر دے جو پہلے سے کفر میں اس سے خرابی ہوئی جیسے ہم نے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا (النسآء 3) جو شخص کسی مؤمن کو قتل کرے گا اس کی جزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ (جواب میں) کہا جائے گا کہ اہل تفسیر اس طرف گئے ہیں کہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے قتل کیا تھا اور مرتد ہو گیا تھا اسلام سے اور ہمارے بعض اصحاب اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت اپنے سبب یا شان نزول پر بند ہے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 295
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 298
298 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : سمعت عمر بن محمد الوكيل يقول : حدثني معاذ بن المثنى ثنا سوار بن عبد الله ثنا الأصمعي قال : جاء عمرو بن عبيد إلى أبي عمرو بن أبي العلاء فقال له :
يا أبا عمرو ! الله يخلف وعده ؟ قال : لن يخلف الله وعده قال عمرو : فقد قال : قال أين ؟ فذكر آية وعيد لم يحفظها عمرو فقال أبو عمرو : من العجمة أتيت و الوعد غير الإيعاد ثم أنشد أبو عمرو :
( و إني و إن أوعدته أو وعدته سأخلف إيعادي و أنجز موعدي )
قال البيهقي رحمه الله فإن قيل : فقد قال الله سبحانه :
{ و من يعص الله و رسوله و يتعد حدوده يدخله نارا خالدا فيها }
قيل هكذا نقول الحدود اسم جمع و إنما يصير متعديا لحدود الله تعالى اجمع بترك الإيمان و تارك الإيمان يخلد في النار
فإن قيل : قد قال :
{ وإن الفجار لفي جحيم * يصلونها يوم الدين * وما هم عنها بغائبين }
قيل : و قد قال :
{ إن الأبرار لفي نعيم }
و الفاسق المؤمن بر بإيمانه
فإن قيل ليس برا مطلقا
فإن قيل : فجوره أحبط إيمانه
قيل : لي الفصل بين هذا قول و بين من يقول من المرجئة أن إيمانه أحبط فجوره فدل أنه أراد بالفجار الذين قابل بنيهم وبين الأبرار الكفار لأن رأس البر الإيمان و كذلك رأس الفجور الكفر و الذي يدل على صحة ما ذهبنا إلى قوله الله عز و جل :
{ إنا لا نضيع أجر من أحسن عملا }
و قوله : { لا أضيع عمل عامل منكم }
و قوله : { إن الله لا يظلم مثقال ذرة و إن تك حسنة يضاعفها و يؤت من لدنه أجرا عظيما }
و قوله : { فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره }
و قوله : { يوم تجد كل نفس ما عملت من خير محضرا }
و قوله : { فالذين آمنوا منكم و أنفقوا لهم أجر كبير }
و قوله : { وعد الله المؤمنين والمؤمنات جنات }
و قوله : { هل جزاء الإحسان إلا الإحسان }
فهذه الآيات و ما ورد منها في معناها كلها تدل على أن الله تعالى لا يضيع أجر من أحسن عملا و أحسن إلأعمال الإيمان بالله و برسوله
و من قال : بتخليد المؤمن في النار كان قد أضاع أجر عمله و لم يجعل له عوضا و لأنا وجدنا الله عز و جل وعد على الطاعات ثوابا و على المعاصي عقابا فليس لأحد أن يقول يرى ما عمل من المعاصي دون ما عمل من الطاعات و قد عملها جميعا إلا و لآخر أن يعكس ذلك فلا يجد القائل بذلك فضلا و أنا قد جمعنا على حصول طاعاته و اختلفنا في زوال حكمها فلا يرفع حكم ما تيقناه من حصول الطاعات بمعصية لا تنفيها و لا تضادها
و احتجوا في إبطال الشفاعة بقوله عز و جل :
{ ما للظالمين من حميم و لا شفيع يطاع }
فالظالمون ها هنا هم الكافرون و يشهد لذلك مفتتح الآية إذا هي في ذكر الكافرين فإن احتجوا بقوله : { و لا يشفعون إلا لمن ارتضى }
قيل : هذا دليلنا لأن الفاسق مرتضى بإيمانه قال الله عز و جل :
{ ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا }
واصطفينا و ارتضينا واحد في اللسان ثم قال : { فمنهم ظالم لنفسه } أي من المصطفين ظالم لنفسه و الظلم هو الفسق فأخبر أن فيهم ظالما و قال في قصة يونس { إني كنت من الظالمين }
و قد روينا من أوجه عن النبي صلى الله عليه و سلم في قوله تعالى : { ثم أورثنا الكتاب الذين اصطفينا } قال : كلهم في الجنة و هو في الجزء السابع من كتاب البعث مذكور بشواهده
و قيل معناه :
{ إلا من ارتضى } أن يشفعوا له كما قال : { من ذا الذي يشفع عنده إلا بإذنه }
قال الحليمي رحمه الله : و لا تحتمل الآية غير لأن المرتضين عند الله لا يحتاجون إلى شفاعة ملك و لا نبي فصح أن المعنى ما قلناه و لا يجوز أن يقال إن عز و جل لا يرتضي أن يشفع لصاحب الكبيرة لأن المذنب الذين يحتاج إلى الشفاعة فكلما كان ذنبه أكبر كان إلى الشفاعة أحوج فكيف يجوز أن يكون اشتداد حاجته إلى الشفاعة حائلا بينه و بين الشفاعة ؟ و ليس امتناع الشفاعة للكافرين لأن ذنبه كبير و لكنه بجحده الباري المشفوع إليه أو الرسول الشافع له أو لأن الله تعالى أخبر أنه لا يشفع فيه أحدا و هذه المعاني كلها معدومة في صاحب الكبيرة من أهل القبلة
وقوله : { يوم لا تملك نفس لنفس شيئا } لا يدفع الشفاعة لأن المراد بالملك الدفع بالقوة و إنما الشفاعة تذلل من الشافع للمشفوع عنده و إقامة الشفيع بذلك من المشفوع له فلا يوم أليق به و أشبه بأحواله بيوم الدين
و قد ورد عن سيدنا المصطفي صلى الله عليه و سلم في إثبات الشفاعة و إخراج قوم من أهل التوحيد من النار و إدخالهم في الجنة أخبار صحيحة قد صارت من الاستفاضة و الشهرة بحيث قاربت الأخبار المتواترة و كذلك في مغفرة الله تبارك و تعالى جماعة من أهل الكبائر دون الشرك من غير تعذيب فضلا منه و رحمة و الله واسع كريم
قال البيهقي رحمه الله : و قد ذكرنا هذه الأخبار في كتاب البعث و النشور و نحن نشير ها هنا إلى طرف منها قال عز و جل لمحمد صلى الله عليه و سلم : { و من الليل فتهجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا }
و رويان في الحديث الثابت عن يزيد الفقير عن جابر بن عبد الله ما دل على أن ذلك في الشفاعة و كذلك عن حذيفة بن اليمان و ابن عمر و غيرهم
ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے کہ خبر دی ہے ابو احمد بن عدی حافظ نے، انہوں نے کہا میں نے سنا عمر بن محمد وکیل سے، وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے معاذ بن مثنیٰ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سوار بن عبداللہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اصمعی نے، انہوں نے کہا کہ عمرو بن عبید ابوعمرو بن ابی العلا کے پاس آئے اور ان سے کہا اے ابو عمرو ! کیا اللہ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف ہر گزنہیں کرتا۔ عمرو نے کہا اللہ نے خود فرمایا۔ انہوں نے پوچھا ، کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے وعید کی کوئی آیت ذکر کی جو عمرو کو یاد نہیں رہی تو ابو عمرو نے کہ کونسی عجمیت تو دیا گیا ہے۔ وعد، ایعاد سے مختلف ہوتا ہے۔ پھر ابو عمرو نے شعر کہا: " وانی وان اوعدتہ او وعدتہ ، ساخلف ایعادی وانجز موعدی " اور بے شک میں نے اگرچہ دھمکی دی ہے اس کو یا وعدہ دیا ہے ۔ بہت جلدی میں اپنی دھمکی کے خلاف کروں گا۔ اور پورا کروں گا میں اپنا وعدہ۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نےفرمایا ہے: "ومن یعص اللہ ورسولہ ویتعد حدودہ ،ید خلہ نارا خالد ا فیھا (النساء 14) جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرے اور اللہ کی حدود سے تجاوز کرے اس کو اللہ تعالیٰ آگ میں داخل کرے گا اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ (اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ مومن گناہگار ہمیشہ جہنم میں رہے گا؟) کہا گیا ہے کہ اسی طرح ہم کہیں گے۔ الحدود۔ اسم جمع ہے متعدی ہوتا اللہ کی حدود کے لئے ۔ جمع بنا یا گیا ہے بوجہ ترک ایمان کے اور تارک ایمان ہمیشہ آگ میں رکھا جائے گا۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے: "وان الفجار لفی جحیم یصلونھا یوم الدین وماھم عنھا بغائبین (القطار 14-16) بے شک گناہگار البتہ جہنم میں ہوں گے۔ قیامت کے دن اس میں داخل ہوں گے اور اس سے وہ غائب نہیں ہوں گے۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ان الابرار لفی نعیم (القطار 13) بے شک نیکو کار لوگ البتہ نعمتوں میں ہوں گے۔ (جواب ہے) کہ ایسا فاسق جو ایمان رکھتا ہو وہ اپنے ایمان کی بدولت بر یعنی نیک ہوتا ہے۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ وہ مطلق بر اور نیک نہیں ہے۔ جواب میں کہا جائے گا کہ اسی طرح وہ مطلق فاجر بھی نہیں ہے۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ اس کے فجور نے اس کے ایمان کو تباہ کر دیا ہے۔ جواب دیا جائے گا کہ اس قول میں اور مرجئہ کے قول میں پھر کوئی فرق نہیں رہے گا جو یہ کہتے ہیں کہ اس کے ایمان نے اس کے فجور اور گناہوں کو تبا ہ کر دیا ہے۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےفجار سے وہ لوگ مراد لئے ہیں جن کے درمیان اور ابرار کے درمیان تقابل ہے۔ اس لئے کہ تمام نیکیوں کی سردار نیکی ایمان ہے اور تمام فجور کاسردار فجور کفر ہے اور ہمارے موقف کی صحت پر جو چیز دلالت کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان ہیں: (1)۔۔ ان لانضیع اجر من احسن عملا ً (الکہف 30) بے شک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کریں گے جس نے اچھا عمل کیا۔ (2)۔۔ لا اضیع عمل عامل منکم (آل عمران 195) تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا۔ (3)۔۔ انا اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضاعفھا ویؤت من لدنہ اجر اً عظیما (النساء 40) بے شک اللہ تعالیٰ نہیں ظلم کریں گے۔ ایک ذرے کی مقدار اگر نیکی ہو گی تواس کو دگنا کر دیں گے۔ اور اپنی طرف سے بہت بڑااجر عطاکریں گے۔ (4)۔۔ فمن یعمل مثقال ذرۃ خیراً یرہ (الزلزلہ 7) جو شخص ایک ذرے کی مقدار خیر کا عمل کرے گا اس کو عمل وہ دیکھ لے گا۔ (5)۔۔ یوم تجد کل نفس ماعملت من خیر محضرا( آل عمران 30) جس دن پالے گا ہر نفس جو کچھ اس نے خیر کا عمل کیا تھا حاضر کیا ہوا(پالے گا)۔ (6)۔۔ فالذین امنو امنکم وانفقو ا لھم اجر کبیر (الحدید 7) پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائے ہیں اور خرچ کیا ہے ان کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔ (7)۔۔ وعداللہ المومنین والمومنات جنات (التوبہ 72) اللہ تعالیٰ نے ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کے لئے باغات (بہشتوں) کاوعدہ فرمایا ہے۔ (8)۔۔ ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان (الرحمٰن 60) نیکی کا بدلہ صرف نیکی ہی ہے۔ یہ مذکورہ آیات اور دیگر وہ سب آیات جو اس مفہوم میں وارد ہوئی ہیں، وہ سب کی سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کا عمل ضائع نہیں فرمائیں گے جو اچھا عمل کرے گا اور سب اعمال سے احسن عمل اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لانا ہے۔ جس شخص نے مؤمن کو دائمی طور پر آگ میں رکھنے کا قول کیا ہے۔ در حقیقت اس نےاس کے اعمال کے اجر کو ضائع کیا ہے اور اس کے لئے کوئی معاوضہ نہیں بنایا ہے۔ حالانکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے طاعات پر ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور گناہوں پر عذاب کا۔ لہذا کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے معاصی کے اعمال کو دیکھے گا اور طاعات کے عمل کو نہیں دیکھے گا۔ حالانکہ دوسرے کے اعمال طاعت ہوں یا معاصی اسی نے خود کئے ہیں۔ مگر پھر دوسرے کوبھی یہ حق ہو گا کہ وہ اس کے برعکس کہے یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ مومن کی طاعات کو دیکھے گا ۔ معاصی اور گناہوں کو نہیں دیکھے گا۔ مگر اس کا کہنا تو دور کی بات ہے کوئی بھی اس کا قائل موجود نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم سب مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے اور اجماع ہے کہ طاعات کا اجر حاصل ہوگا اور طاعات کے حکم کے زوال میں ہم نے اختلاف کیاہے۔ لہذا ہم نے جس چیز کا یقین کیا ہے بعض طاعات پر اجر کا حصول معصیت کے سبب ہے اس کا حکم نہیں اٹھ جائے گا۔ بعض لوگوں نے عقیدہ شفاعت کو اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے باطل قرار دیا ہے۔ "ما للظالمین من حمیم ولا شفیع یطاع (غافر 18) ظالموں کے لئے نہ کوئی ولی دوست ہو گا اور نہ ہی کوئی سفارشی جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (تو اس کا جواب یہ ہے کہ) یہاں پر ظالموں سے مراد کافر ہیں۔ اس آیت کا آغاز اس بات کی شہادت دیتا ہے کیونکہ یہ آیت کافروں کے ذکر میں واقع ہے۔ اگر ایسے لوگ اس آیت سے دلیل پکڑیں: " ولا یشفعون الا لمن ارتضیٰ (انبیاء 38) (سفارشی) سفارش نہیں کریں گے مگر اس شخص کےلئے جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا۔ کہا گیا ہے کہ یہ ہماری دلیل ہے۔ اس لئے کہ فاسق بھی اپنے ایمان کے سبب مرتضیٰ اور پسند میں ہوتا ہے۔ (اور یہ آیت بھی قرآن مجید کی آیات سے ثابت ہے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادہ" پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کو اپنے بندوں میں سے برگذیدہ کیا۔ سورۃ انبیاء کی مذکورہ آیت میں ارتضیٰ فرمایا اوراس آیت یعنی فاطر میں ہے اصطفینا فرمایا۔دونوں زبان کے لغت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا: "فمنھم ظالم لنفسہ " تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ یعنی مصطفین اور برگزیدہ لوگوں میں سے بعض اپنے آپ پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں اور ظلم سے مراد وہی فسق ہے۔ اسی طرح اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ ان میں ظالم بھی ہیں ، یعنی فاسق ہیں اور اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ میں فرمایا کہ یونس علیہ السلام نے اپنے بارے میں کہا تھا: انی کنت من الظالمین "الانبیاء 87) کہ بے شک میں ظالم ہوں (قصور وار ہوں)۔ اور ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئی طریقوں سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت کی ہے: "ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا" پھر ہم نے ان لوگوں کو کتاب کا وارث ٹھہرایا جن کواپنے بندوں سے برگزیدہ کیا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) فرمایا کہ وہ سب کے سب جنت میں ہوں گے۔ یہ کتا ب البعث والنشور کی ساتویں جز میں اپنے شواہد سمیت مذکور ہیں۔ اور آیت الامن ارتضیٰ کی ایک توجیہ یہ کی گئی ہے کہ الامن ارتضیٰ ان یشفعولہ ہے۔ یعنی مگر جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا کہ شفاعت کرنے والے اس کے لئے شفاعت کریں۔ اسی طرح کا قول یہ بھی ہے: "من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ (البقرہ 255) کوئی ہے جو اس کے آگے شفارش کر سکے مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔ یعنی جس کے لئے اللہ تعالیٰ پسند کرے گا کہ اس کے لئے سفارش کی جائے اللہ تعالیٰ خود اجازت دیں گے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آیت : "الا من ارتضیٰ" ( کی یہی مذکورہ توجیہ ہی ہے) اس کے علاوہ دوسری کسی توجیہ کااحتمال نہیں رکھنی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں برگزیدہ لوگ نہ تو کسی فرشتے کی شفاعت کریں کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی نبی کی شفاعت کے۔ (لہذا یہ بات ثابت ہوئی کہ) جو ہم نے کہا ہے وہی آیت کا معنی صحیح ہے۔ اور یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پسند نہیں کرتے کہ کسی کبیرہ گناہ کے مرتکب کےلئے سفارش کی جائے۔ اس لئے کہ گناہگار ہی شفاعت کا محتاج ہوتا ہے اور اس کا ضرورت مند ہوتا ہے۔ تو جس قدر گناہگار کا گناہ بڑا ہوگا اسی قدر وہ شفاعت کا بھی زیادہ محتاج ہو گا۔ پھر یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے اور یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ شفاعت کے لئے اس کی شدت احتیاج اس کے درمیان اور شفاعت کے درمیان حائل ہو جائے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ صاحب کبیرہ کے لئے شفاعت کو پسند نہ کریں اور شفاعت نہ ہو سکے) (پھر سوال ہو سکتا ہے کہ پھر تو کافر کے لئے بھی شفاعت ممکن ہونی چاہیئے کیونکہ اس کا گناہ بھی بڑا ہے) تو جواب یہ ہو گا کہ شفاعت کا امتناع تو کافروں کے لئے بھی نہیں ہے۔ اس اعتبار سے کہ ان کا گناہ بڑا ہے۔ لیکن (کافر کے لئے سفارش اس لئے ممنوع ہے کہ وہ ) اس ذات باری کا منکر ہے جس کی بارگاہ میں سفارش کی جائے گی یا اس لئے کہ وہ رسول کا منکر ہے جو اس کے حق میں سفارشی ہے یا اس لئے ممنوع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ کافر کے حق میں کسی کی سفارش قبول نہیں کرے گا جبکہ یہ سارے معانی اہل قبلہ مرتکب کبیرہ مومن کے حق میں معدوم و مفقود ہیں۔ پھر یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں تو یہ بھی آیا ہے: "یوم لا تملک نفس لنفس شیئاً (انفطار 19) کہ اس دن کوئی نفس کسی نفس کے لئے کسی چیز کا بھی مالک نہیں ہو گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی کے حق میں سفارش نہیں کر سکے گا۔ لہذا اس آیت سے شفاعت کا امتناع ثابت ہوا؟ توجواب یہ ہے کہ یہ آیت شفاعت کو منع نہیں کرتی۔ اس لئے کہ آیت میں تملک کا لفظ آیا ہے کہ کوئی مالک نہیں ہے۔ملک سے بنا ہے اور ملک سے مراد ہے قوت و طاقت کے ساتھ روک دینا تو واقعی اللہ تعالیٰ کو قوت و طاقت سے کسی معاملے میں کوئی نہیں روک سکے گا۔ اس آیت کا شفاعت کےمفہوم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ) اس لئے کہ شفاعت کرنے والے کی طرف سے بارگاہ الٰہی میں انتہائی تذلل اور عازجی پیش کرنے کا نام ہے اور اپنے آپ کو اس انتہائی اظہار عجز کے ذریعہ اس کے قائم مقام کرنا ہوتا ہے جس کے لئے سفارش کر رہا ہے۔ لہذا اس کام کے لئے سب سے زیادہ لائق اور اس کے احوال کے لحاظ سے زیادہ قیامت کے روز سے زیادہ کوئی موقع اور وقت نہیں ہو سکتا۔ تحقیق سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شفاعت کے اثبات میں اوراہل توحید کی ایک جماعت کو جہنم سے نکالنے اور ان کو جنت میں داخل کرنے کے بارے میں اخبار صحیحہ وارد ہو چکی ہیں جو اخبار متواتر ہ کے قریب قریب ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل کبائر کی ایک جماعت کے بارے میں اہل شرک نہ ہوں مغفرت کرنا بغیر عذاب کے بطور اس کے فضل اور رحمت کے بارے میں احادیث آ چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑا وسعت والا ہے ، کریم ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے یہ احادیث کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دی گئی ہیں اور ہم یہاں ان سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ارشاد فرمایا ہے: "ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک عسی ان یبعثک ربک مقاما محمود (الاسراء 79) اور رات تہجد کی نماز ادا کر تو یہ حکم زیادہ اس کے قریب ہے کہ تیرا رب تجھے پہنچا دے مقام محمود پر۔ اور ہم نے حدیث ثابت میں روایت کیا ہے یزید الفقیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ سے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت شفاعت کے بارے میں ہے۔ اور اسی طرح ہم نے حذیفہ بن یمان سے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر سے بھی روایات کی ہیں۔
أَيْنَ ← عَمْرٌو: فَقَدْ ← لَنْ يُخْلِفِ اللَّهُ وَعْدَهُ. ← لَهُ: يَا أَبَا عَمْرٍو اللَّهُ يُخْلِفُ وَعْدَهُ؟ ← جاء عمرو بن عبيد إلى أبي عمرو بن أبي العلاء ← الْأَصْمَعِيُّ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 298
شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في فداء المؤمن · حديث 381
380 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني عمر بن أحمد الزاهد قال : سمعت الثقة من أصحابنا يذكر : أنه لما رأى أبا بكر بن الحسين بن مهران رحمه الله في المنام في الليلة التي دفن فيها قال فقلت : أيها الأستاذ ما فعل الله بك ؟ فقال إن الله عز و جل أقام أبا الحسن العامري بحذائي و قال لي : هذا فداؤك من النار
قال و توفي في اليوم الذي توفي فيه أبو بكر أبو الحسن العامري و أشار إلى كونه معروفا بالإلحاد نعوذ بالله من الكفر و الفسوق و سوء العاقبة
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو عمر بن احمد زاہد نے، انہوں نے کہا ہم نے اپنے اصحاب میں سے ثقہ اور مضبوط شخص سے سنا وہ ذکر کر رہے تھے کہ انہوں نے ابو بکر بن حسین بن مہران رحمۃ اللہ علیہ کو نیند میں خواب میں دیکھا جس رات کو وہ دفن کئے گئے تھے۔ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا استاذ محترم اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا بے شک اللہ عزوجل نے میرے برابر میں ابو الحسن عامر کو کھڑا کیا اور مجھ سے فرمایا : یہ تیرا فدیہ ہے اور بدلہ ہے جہنم سے۔ کہتے ہیں کہ جس دن استاذ ابو بکر فوت ہوئے تھے اسی دن ابوالحسن عامری بھی فوت ہوئے تھے اور استاذ نے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو کہ وہ یعنی ابوالحسن عامری اپنے الحاد کی وجہ سے مشہور تھے۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کفر سے فسوق سے اور برے خاتمہ سے۔ فصل :۔۔۔۔۔۔ اصحاب الاعراف: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نےفرمایا کہ اعراف شرف و عظمت والی جگہ ہے۔ اور ہم نے حذیفہ بن یمان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا اصحاب اعراف وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں ان کو جہنم سے بچا گئی ہیں اوران کی غلطیاں ان کو جنت سے قاصر کر رہی ہیں۔ :" فادا ضرفت ابصارھم تلقاء اصحٰب النار قالوا ربنا لاتجعلنا مع القوم الظالمین (اعراف 47) جب ان کی نگاہیں جہنمیوں کی طرف پھیر جائیں گی (تو جہنمیوں کی بری حالت دیکھ کر) کہیں گے، اے ہمارے پروردگار ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ کرنا۔ بس وہ اسی جال میں ہو ں گے، اچانک تیرا رب ان پر جھانک کر فرمائے گا۔ کھڑے ہو جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ بے شک تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اور یہ روایت معناً مرفوع ہے۔ اور علی بن ابی طلحہ کی ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت میں ہے اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں: "وبینھما حجاب وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم (الاعراف 46) جہنم اور جنت کے درمیان آڑ اور پردہ ہو گا اور مقام اعراف پر ایسے مرد ہوں گے جو پہچانیں گے سب کو ان کی نشانیوں سے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اہل جہنم منہ کی سیاہی سے اور اہل جنت چہروں کی روشنی سے پہچانیں جائیں گے اور اعراف و جنت و جہنم کے درمیان دیوار ہو گی اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول کہ : "لم یدخلوھا وھم یطمعون" وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکیں گے مگر طمع کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کے گناہ بہت بڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا معاملہ بھی اہم ہو گا۔ مقام اعراف پر کھڑے ہوں گے۔ جب جنت کی طرف دیکھیں گے تو جنت کی تمنا کریں گے کہ اس میں داخل ہو جائیں اور جس وقت جہنم کی طرف دیکھیں گے تو اس سے اللہ کی پناہ مانگیں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں داخل کر دے گا۔ یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کا۔ " اھؤ لاء الذین اقسمتم لا ینالھم اللہ برحمۃ " کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ : پہنچے گی ان کو رحمت اللہ کی یعنی اصحاب اعراف کو ۔ "ادخلو ا الجنۃ لا خوف علیکم ولا انتم تحزنون " (اعراف 49) اے اعراف والو داخل ہو جاؤ تم جنت میں (اے اعراف والے) نہ ڈر ہے تمہارے اوپر نہ تم غمگین ہو گے۔
الثقة من أصحابنا يذكر ← عمر بن أحمد الزاهد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › A chapter on the redemption of the believer · Hadith 381
شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 406
405 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أخبرنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم و محمد بن بشار العبدي عن عبد الوهاب ثنا أيوب عن أبي قلابة عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان : أن يكون الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و أن يحب المرء لا يحبه إلا لله و أن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يوقد له نار فيقذف فيها
لفظ حديث محمد بن بشار رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن المثنى عن عبد الوهاب الثقفي
ورواه مسلم عن محمد بن بشار و غيره
قال البيهقي رحمه الله : فأبان المصطفى صلى الله عليه و سلم بهذا أن حب الله و حب رسوله من الإيمان و أبان قبله أن ترك متابعته تدل على خلاف المحبة و في ذلك دلالة على وجوب المحبة و وجوب ما تقتضيه المحبة من المتابعة و الموافقة
ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو خبر دی ہے ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو احمد بن سلمی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو محمد بن بشار عیدی نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ہیں جس میں وہ آ جائیں وہ ان کے ذریعے ایمان کی حلاوت اور مٹھاس پا لیتا ہے۔ (1)۔۔۔ یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اللہ کا رسول اپنے تمام ماسوا سے زیادہ محبوب اور پیارے ہوں۔ (2)۔۔۔ یہ کہ کسی انسان سے محبت کرے تو وہ صرف اور صرف اللہ کےواسطے کرے۔ (3)۔۔۔ یہ کہ (مسلمان ہونے کے بعد) وہ کفر کی طرف واپس لوٹ جانے کو اس طرح نا پسند کرے جیسے وہ اس با ت کو نا پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے آگ جلائی جائے اور پھر اسے اس میں جھونک دیا جائے۔ حدیث کے الفاظ محمد بن بشار کی روایت کے ہیں بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن مثنیٰ سے اس نے عبدالوہاب ثقفی سے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے محمد بن بشار وغیرہ سے۔ گذشتہ دو حدیثوں پر امام بیہقی ؒ کا تبصرہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں یہ واضح فرمایا ہے ، کہ جب الٰہی اور حب رسول ایمان میں سے ہے ، اور اس سے قبل والی حدیث میں واضح فرمایا کہ آپ کی اتباع کو ترک کرنا عدم محبت آپ کی اتباع اور آپ کی موافقت پر بھی واجب ہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← إسحاق بن إبراهيم و محمد بن بشار العبدي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 406
شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6663
6663 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أحمد بن محمد بن عيسى البرتي نا أبو معمر نا عبد الوارث عن حسين عن ابن بريدة قال حدثني يحيى بن يعمر أن أبا الأسود الدئلي حدثه عن أبي ذر : أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول :
لا يرمي رجل رجلا بالفسق ولا يرمه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه
كذلك رواه البخاري في الصحيح عن أبي معمر وأخرجه مسلم من وجه آخر عن عبد الوارث
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ برقی نے ان کو ابو معمر نے ان کو عبدالوارث نے ان کو حسین نے ان کو بن بریدہ نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن یعمر نے یہ کہ ابو الاسود دئلی نے اس کو حدیث بیان کی ہے ابو ذر سے اس نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں۔ جون کسی شخص کو کسی گناہ کی تہمت لگاتا ہے یا کافر ہو جانے کی تہمت لگاتا ہے وہ عیب و گناہ یا کفر اس شخص کوطرف لوٹتا ہے اگر اس میں وہ عیب و گناہ وکفر نہ ہوا جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ بخاری نے اس کو صحیح میں اسی طرح روایت کیا ہے ابو معمر سے اور مسلم نے دوسری طریق سے عبدالوارث سے۔
Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6663
شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6664
6664 - وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا إسماعيل بن قتيبة نا يحيى بن يحيى نا إسماعيل بن جعفر عن عبد الله بن دينار أنه سمع ابن عمر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
أيما امرئ قال لأخيه كافر فقد باء بها أحدهما إن كان كما قال وإلا رجعت عليه
رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى وغيره
قال الحليمي رحمه الله :
يحتمل أن يكون معنى ذلك أنه إن وصف ما عليه أخوه المسلم بأنه كفر فقد كفر بنفسه ولم يكن على أخيه منه شيء فإن كان المقول له ذلك يبطن الكفر ويظهر الإسلام فقد صدق الله وليس على القاتل شيء فإن قال يا كافر أي من يبطن الكفر ولا يظهره ولا يكون كذلك فهذا غير مراد بالحديث ولا ينوء أحد منهما بالكفر ويعذر الرامي
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو اسماعیل بن قتیبہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو عبداللہ بن دینار نے کہ انہوں نے سنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوآ دمی اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو وہ قول کفر دونوں میں سے کسی ایک سے متعلق ہو جاتا ہے اگر وہ شخص ویسا ہے جیسی اس کے بارے میں کہا گیا ہے تو ٹھیک ورنہ وکفر واپس کہنے والے کی طرف لوٹتا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے یحییٰ بن یحییٰ وغیرہ سے۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: احتمال ہے کہ اس حدیث کا معنی اور مطلب یہ ہو کہ اگر کہنے والا اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جس پر وہ ہے بایں طور کہ وہ کیفیت کفر کی ہے تو اس صورت میں یہ بذاتہ خود کافر ہو جائے گا اور اس کے بھائی پر اس سے کوئی شئی نہیں ہو گی۔ اور اگر وہ شخص جس کے بارے میں یہ بات کہی گی ہے اندر کفر چھپاتا ہے اور اوپر سے اسلام کو ظاہر کرتا ہےتو اس صورت میں کہنے والا سچا بناتا ہے لہٰذا اس صورت میں کہنے والے پر کوئی شئی نہیں ہے۔ (یہی دونوں باتیں مراد ہو سکتی ہیں۔) (ایک تیسری صورت بھی ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ) اگر ایک شخص دوسرے مسلمان سے کہتا ہے اے کافر۔ اور اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ اے وہ شخص جو کفر کو چھپائے پھرتا ہے اور اس کو ظاہر نہیں کرتا حالانکہ وہ ایسا نہ ہو۔ یہ صورت حدیث میں مراد نہیں ہے، اس صورت میں کفر دونوں میں سے کسی کی طرف رجوع نہیں کرے گا بلکہ ایسی تہمت لگانے والے کاغذر قبول کیا جائے گا۔
Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6664
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المماراة في القرآن · حديث 2257
2257 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا فليح بن سليمان عن سليمان عن سالم أبي النضر عن سليمان بن يسار عن عبد الله بن عمرو : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
لا تجادلوا في القرآن فإن جدالا فيه كفر
قال الحليمي رحمه الله :
و هذا ـ و الله أعلم ـ أن يسمع الرجل من الآخر قراءة أو آية أو كلمة لم تكن عنده فيعجل عليه و يخطئه فينسب ما يقرأ إلى أنه ليس يقرأ إلى أنه ليس بقرآن و يجادله في ذلك أو يجادله في تأويل ما يذهب إليه و لم يكن عنده و يخطئه و يضلله لا ينبغي له إن فعل ذلك فإن اللجاج ربما أزاغه عن الحق و لا يقبله و إن ظهر له وجه فيكفر فلهذا حرم المراء في القرآن و سمي كفرا لأنه يشرف بصاحبه على الكفر و إن ذلك لو كان في نفي حرف أو إثباته أو نفي كلمة أو إثباتها لكان الزائغ من الممارين عن الحق بعد ما تبين له كافر لأنه أما إن كان منكر شيء من القرآن أو يكون مدعي زيادة فيه و الله أعلم
قال المراء الاصرار على التغليط و التضليل و ترك الإذعان لما يقول من الحجة فأما المباحثة التي لا يكاد المشكك ينصح إلا بها فليست بحرام و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو قلیح بن سلیمان نے ان کو سالم ابو النصر نے ان کو سلیمان بن یسار نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ۔ " لا تجادلو فی القرآن فان جدا الا فیہ کفر" ۔ قرآن میں جھگڑا نہ کر اس لئے کہ اس میں جدال کرنا کفر ہے ۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving the practice in the Qur’an · Hadith 2257
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4063
4063 - و روينا عن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب أنه قال : مم الرملان الآن و الكشف عن المناكب و قد أظهر الله الإسلام و نفى الكفر و أهله و مع ذلك لا نترك شيئا كنا نصنعه مع رسول الله صلى الله عليه و سلم
ہم نے روایت کی ہے امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب سے کہ انہوں نے پوچھا کہ اب مونڈھے ہلانا اور کندھے کھولنا کیوں ہے ؟ حالانکہ ان تو اللہ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کو ختم کر دیا ہے مگر اس کے باوجود ہم کسی بھی ایسی شئی کو نہیں چھوڑیں گے جسے ہم رسول اللہ کے ساتھ کیا کرتے تھے ۔
مم الرملان الآن و الكشف ← أمير المؤمنين عمر بن الخطاب أنه ← و روينا
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4063