Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الشرك

Shirk

  • Shirk
  • شرک

3229 hadiths

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ بَابٌ: نَفَقَةُ الْمُضَارِبِ وَوَضِيعَتِهِ · حديث 15087

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: قَالَ الْقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي الْحُصَيْنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمُضَارَبَةِ: «الْوَضِيعَةُ عَلَى الْمَالِ، وَالرِّبْحُ عَلَى مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ» وَأَمَّا الثَّوْرِيُّ فَذَكَرَهُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَلِيٍّ فِي الْمُضَارَبَةِ، أَوِ الشِّرْكَيْنِ

15087 - ابو حصین نے امام شعبی کے حوالےسے حضرت علی سے مضاربت کے بارے مین یہ بات نقل کی ہے : قیمت میں کمی اصل مال کے حساب سے ہو گی اور منافع ان کی آپس کی طے شدہ شرائط کے مطابق ہو گا ۔ ثوری نے یہ روایت ابو حصین کے حوالےسے حضرت علی سے مضاربت کے بارے میں میں یا شراکت داری کے بارے میں نقل کی ہے ۔

عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Sales › Chapter: The expense and position of the speculator · Hadith 15087

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ بَابٌ: الْمُفَاوِضَيْنِ 000 أَحَدُهُمَا، أَوْ يَرِثُ مَالًا هَلْ يَكُونُ بَيْنَهُمَا؟ · حديث 15140

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ قَالَ: " لَا تَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ حَتَّى تَكُونَ سَوَاءً فِي الْمَالِ، وَحَتَّى يُخْلِطَا أَمْوَالَهُمَا، وَلَا تَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ وَالشَّرِكَةُ بِالْعُرُوضِ، أَنْ يَجِيءَ هَذَا بِعَرْضٍ وَهَذَا بِعَرْضٍ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا عَبْدٌ أَوْ دَارٌ أَوْ ذَهَبٌ أَوْ فِضَّةٌ، فَيُخْلِطَانِ، فَيَتَفَاوَضَانِ فِيهِ وَفِي كُلِّ شَيْءٍ، فَهَذِهِ الْمُفَاوَضَةُ، وَلَوْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا دَنَانِيرُ أَوْ دَرَاهِمُ، فَلَا تَكُونُ مُفَاوَضَةً حَتَّى يَخْلِطَاهَا، وَمَا ادَّانَ وَاحِدٌ مِنَ الْمُتَفَاوِضَيْنِ فَقَالَ: قَدِ ادَّنْتُ كَذَا وَكَذَا، فَهُوَ مُصَدِّقٌ عَلَى صَاحِبِهِ، وَإِنْ مَاتَ أَحَدُهُمَا أَخَذَ الْآخَرُ، وَإِنْ شَاءَ الْغَرِيمُ يَأْخُذُ أَيُّهُمَا بَاعَ سِلْعَتَهُ، أَخَذَ الْمُبْتَاعُ أَيُّهُمَا شَاءَ، وَلَا تَكُونُ الْمُفَاوَضَةُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ: مَا ابْتَعْتُ أَنَا وَأَنْتَ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُخْلِطَا شَيْئًا، فَهَذَا مَا [ص:260] ادَّعَى وَاحِدٌ مِنْهُمَا أَنَّهُ اشْتَرَى، سُئِلَ الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ ابْتَاعَ عَلَى صَاحِبِهِ إِذَا 000 عَلَى صَاحِبِهِ، وَإِنْ شَاءَ تَارَكَهُ "

15140 - سفیان بیان کرتے ہیں: مفاوضہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک مال میں برابر کی حیثیت نہ ہو اور جب تک دونوں فریق اپنے مال ایک دوسرے کے ساتھ ملا نہیں دیتے اور مفاوضہ اور شراکت سامان میں نہیں ہوتی کہ یہ شخص ایک سامان لے آئے اور دوسرا شخص دوسرا سامان لے آئے البتہ اگر کوئی غلام یا گھر یا سونا یا چاندی اُن دونوں کے درمیان مشترکہ ملکیت ہو اور وہ دونوں اُسے ملا دیں اور اس میں مفاوضہ کر لیں اور ہر چیز میں مفاوضہ کر لیں تو یہ مفاوضہ ہو گا اور اگ ریہ دونوں کے درمیان دینار یا درہم ہوں تو پھر مفاوضہ اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک وہ دونوں اسے ملا نہیں دیتے مفاوضہ کرنے والوں میں سے ایک کوئی ایک چیز قرض کے طور پر لے گا تو وہ یہ کہے گا : میں ہ چیز قرض کے طور پر لی ہے اور وہ اس بارے میں اپنے ساتھی کی تصدیق کرنے والا ہو گا۔

سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Sales › Chapter: The two negotiators, one of them, or inherits money, can it be between them? · Hadith 15140

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ بَابُ الشَّرِيكَيْنِ يَتَحَوَّلُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا رَجُلًا، فَيَخْرُجُ مِنْ أَحَدِ الرَّجُلَيْنِ وَيَتْوَى الْآخَرُ · حديث 15251

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «يَتَخَارَجُ الشَّرِيكَانِ»، وَأَمَّا ابْنُ جُرَيْجٍ فَذَكَرَ عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَا بَأْسَ بِأَنْ يَتَخَارَجَ الْقَوْمُ فِي الشَّرِكَةِ تَكُونُ بَيْنَهُمْ، فَيَأْخُذُ بَعْضُهُمْ مِنَ الذَّهَبِ الَّذِي بَيْنَهُمْ، يَأْخُذُ هَذَا عَشَرَةً نَقْدًا، وَيَأْخُذُ هَذَا عِشْرِينَ دِينَارًا»، قَالَ عَطَاءٌ: «وَلَا يَتَخَارَجُونَ فِي عَرْضِ مَا كَانَ، إِلَّا الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ»

15251 - عطا ء نے حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے : دونوں شراکت دار اپنا حصہ وصول کریں گے۔ ابن جریح نے عطا ء کے حوالےسے حضرت ابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے : اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ کچھ لوگھ شراکت میں آپس میں تقسیمکر لیں جو ان کے درمیان ہو اور ان میں سے کوئی ایک وہ سونا وصول کر ے جو ان کے درمیان ہے ، ایک کو دس نقد مل جاتے ہیں اور دوسرے کو بیس دینار مل جاتے ہیں۔

عَطَاءٌ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← «يَتَخَارَجُ الشَّرِيكَانِ»، وَأَمَّا ابْنُ جُرَيْجٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Sales › The door of the two partners is each one transformed into a man, so he leaves one of the two men and the other folds · Hadith 15251

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ بَابٌ: مَا جَاءَ فِي الرِّبَا · حديث 15347

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «الرِّبَا بِضْعَةٌ وَسَبْعُونَ بَابًا، وَالشِّرْكُ نَحْوَ ذَلِكَ»

15347 - ابراہیم نخعی نے مسروق کے حوالےسے حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہ قول نقل کیا ہے : سود کے ستر دروازے ہیں اور شرک بھی اس کی مانند ہے ۔

«الرِّبَا بِضْعَةٌ وَسَبْعُونَ بَابًا، وَالشِّرْكُ نَحْوَ ذَلِكَ» ← عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← زُبَيْدٍ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Sales › Chapter: What came in usury · Hadith 15347

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الشَّهَادَاتِ ‹ بَابٌ: عُقُوبَةُ شَاهِدِ الزُّورِ · حديث 15395

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ رَجُلٍ سَمَّاهُ أَحْسَبُهُ قَالَ: وَائِلَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: «عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالشِّرْكِ بِاللَّهِ» ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ} [الحج: 30]

15395 - وائل بن ربیعہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعو کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جھوٹی گواہی کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی : بتوں میں سے ناپاک چیزوں سے بچ کے رہو اور جھوٹی گواہی سے بچ کے رہو۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← وَائِلِ بْنِ رَبِيعَةَ ← رَجُلٍ سَمَّاهُ أَحْسَبُهُ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · Book of testimonies › Chapter: the punishment for a false witness · Hadith 15395

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْفَرَائِضِ ‹ بَابُ الْحَمِيلِ · حديث 19181

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ «أَنَّ عُثْمَانَ كَانَ لَا يُوَرِّثُ بِوِلَادَةِ أَهْلِ الشِّرْكِ»

19181 - محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان غنی زمانہ شرک میں پیدا ہونے والی اولاد کو وارث قرار نہیں دیتے تھے ۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Surplus › The section of the pregnancy · Hadith 19181

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ ‹ بَابُ مِيرَاثِ الْمُرْتَدِّ · حديث 19294

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قال: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ , عَنْ حَمَّادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ: «أَهْلُ الشِّرْكِ نَرِثُهُمْ وَلَا يَرِثُونَا»

19294 - حماد نے ابراہیم نخعی کے حوالےسے یہ بات نقل کی ہے اہل شرک کے ہم وارث بن جائیں گے لیکن وہ ہمارے وارث نہیں بنیں گے ۔

«أَهْلُ الشِّرْكِ نَرِثُهُمْ وَلَا يَرِثُونَا» ← إبْرَاهِيمَ أَنَّ عُمَرَ ← حَمَّادٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Two Books › Chapter of the Inheritance of the Apostate · Hadith 19294

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ ‹ بَابُ الْمِيرَاثِ لَا يُقْسَمُ حَتَّى يُسْلِمَ · حديث 19321

أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ لِي عَطَاءٌ وَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: «إِنْ [ص:347] كَانَ نَصْرَانِيَّانِ فَأَسْلَمَ أَحَدُهُمَا وَلَهُمَا أَوْلَادٌ صِغَارٌ , فَمَاتَ أَوْلَادُهُمْ وَلَهُمْ مَالٌ , فَلَا يَرِثُهُمْ أَبُوهُمُ الْمُسْلِمُ وَلَكِنْ تَرِثُهُمْ أُمُّهُمْ , وَمَا بَقِيَ فَلِأَهْلِ دِينِهِمْ» قُلْتُ: إِنَّهُمْ صِغَارٌ لَا دِينَ لَهُمْ؟ قَالَ: " وَلَكِنْ وُلِدُوا فِي النَّصْرَانِيَّةِ عَلَى النَّصْرَانِيَّةِ وَلَقَدْ كَانَ , قَالَ لِي مَرَّةً: يَرِثُهُمُ الْمُسْلِمُ مِيرَاثَهُ مِنْ أَبَوَيْهِ , وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ , قَالَ: يَرِثُهُمَا وَلَدُهُمَا الصَّغِيرُ , وَيَرِثَانِهِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا دِينٌ , أَوْ يُفَرِّقَ " وَقَدْ ذَكَرْتُهُمَا لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قُلْتُ: أَبَوَاهُ نَصْرَانِيَّانِ , قَالَ: «كُنْتُ مُعْطِيًا مَالَهُمَا وَلَدَهُمَا» قُلْتُ لِعَمْرٍو: فَكَيْفَ وَالْوَلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ؟ قَالَ: «فَلِمَ تُسْبَى إِذًا , أَوْلَادُ أَهْلِ الشِّرْكِ وَهُمْ عَلَى الْفِطْرَةُ , وَهُمْ مُسْلِمُونَ؟» فَسَكَتُّ

19321 - ابن جریح بیان کرتے ہیں عطا ء نے مجھ سے کہا میں نے ان سے سوال کیا تھا تو انہوں نے بتایا: اگر دو عیسائی ہوں او ر ان دونوں میں سے ایک مسلمان ہو جائے اور ان دونوں کی اولاد کمسن ہو اور پھر ان کی اولاد فوت ہو جائے جن کا مال موجود ہو تو ان کا مسلمان باپ ان کا وارث نہیں بنے گا البتہ ان کی ماں ان کی وارث بن جائے گی اور جو باقی بچے گا وہ ان کے دین کے افراد کو مل جائے گا میں نے کہا: وہ تو کمسن بچے ہیں۔

لِي عَطَاءٌ: وَسَأَلْتُهُ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ،

Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Two Books › The section of the inheritance is not divided until submission · Hadith 19321

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ ‹ بَابُ مِيرَاثِ الْمَجُوسِ يُسْلِمُونَ · حديث 19335

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قال: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ قَتَادَةَ , وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَا: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ أَنْ سَلِ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَنِ الْمَجُوسِ وَنِكَاحِ الْأَخَوَاتِ وَالْأُمَّهَاتِ , فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ: «الشِّرْكُ الَّذِي هُمْ عَلَيْهِ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ , وَإِنَّمَا خُلِّيَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ مِنْ أَجْلِ الْجِزْيَةِ»

19335 – قتادہ اور عمرو بن عبیدہ فرماتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو خط لکھا کہ حضرت حسن بن علی سے مجوسیوں کے بارے میں اور ان کے بہنوں اور ماں کے ساتھ نکاح کرنے کے بارے میں دریافت کر دو کہتے ہیں میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نےفرمایا : وہلوگ جس شرک میں مبتلا ہیں وہ اس سے زیادہ بڑا ہے جزیہ کی وجہ سے تم انہیں ان کا حال پر چھوڑ دو ۔

قَتَادَةَ وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The People of the Two Books › The door of the inheritance of the wise men will betray · Hadith 19335

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمُدَبَّرِ ‹ بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ · حديث 16728

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: فَكَانَ الَّذِي أَعْتَقَ مُفْلِسًا، وَكَانَ الْعَبْدُ ذَا مَالٍ فَقَالَ الَّذِي أَعْتَقَ عَلَيْهِ: «أَنَا آخُذُ الْعَبْدَ بِذَلِكَ فَأَبَى الْعَبْدُ» قَالَ: «فَلَا يُكْرَهُ الْعَبْدُ حِينَئِذٍ عَلَى شَيْءٍ لَهُ مِنْ نَفْسِهِ يَوْمٌ وَلِسَيِّدِهِ يَوْمٌ» قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ وَإِنْ كَاتَبَهُ أَحَدُ الشُّرَكَاءِ أَوْ قَاطَعَهُ بِأَمْرِ شُرَكَائِهِ، فَبِمَنْزِلَةِ الْعِتْقِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

16728 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: اگر آزاد کر نے والا شخص مفلس ہو اور وہ غلام مال دار ہو اور جس کے خلاف اس نے آزاد کیا تھا وہ یہ کہے: میں اس بنیاد پر غلام کو حاصل کر لیتا ہوں اور غلام اس بات کو قبول نہ کرے تو ایسی صورت میں غلام کو اس بات کا پابند نہیں کیا جائے گا کہ ایک دن اس کی اپنی ذات کے لئے ہو گا ایک دن اس کے آقا کے لئے ہو گا ۔

نَعَمْ ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ وَإِنْ كَاتَبَهُ أَحَدُ الشُّرَكَاءِ أَوْ قَاطَعَهُ بِأَمْرِ شُرَكَائِهِ، فَبِمَنْزِلَةِ الْعِتْقِ؟ ← «فَلَا يُكْرَهُ الْعَبْدُ حِينَئِذٍ عَلَى شَيْءٍ لَهُ مِنْ نَفْسِهِ يَوْمٌ وَلِسَيِّدِهِ يَوْمٌ» ← آخُذُ الْعَبْدَ بِذَلِكَ فَأَبَى الْعَبْدُ» ← الَّذِي أَعْتَقَ عَلَيْهِ: ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ: فَكَانَ الَّذِي أَعْتَقَ مُفْلِسًا، وَكَانَ الْعَبْدُ ذَا مَالٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · Handbook › Chapter of the one who will free him to associate with him in a servant · Hadith 16728

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ طَلَاقِ الْكُرْهِ · حديث 11418

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَلَغَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَنَّ الْحَسَنَ، كَانَ يَقُولُ: لَيْسَ طَلَاقُ الْكُرْهِ بِشَيْءٍ، فَقَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ: «إِنَّمَا كَانَ أَهْلُ الشِّرْكِ كَانُوا يُكْرِهُونَ الرَّجُلَ عَلَى الْكُفْرِ وَالطَّلَاقِ، فَذَلِكَ لَيْسَ بِشَيْءٍ، فَأَمَّا مَا صَنَعَ أَهْلُ الْإِسْلَامِ بَيْنَهُمْ فَهُوَ جَائِزٌ»

11418- تیمی کے صاحبزادے اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سعید بن جبیر کو اس بات کی اطلاع ملی کہ حسن بصری یہ کہتےہیں: زبر دستی کی دلوائی ہوئی طلاق درست نہیں ہوتی ۔ تو سعید بن جبیر نے کہا: اللہ تعالیٰ اُن پر رحم کرے ! مشرکین آدمی کو کفر یا طلاق پر مجبور کرتے تھے ت وہ کچھ بھی شمار نہیں ہوتا تھا لیکن جب مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا کریں تو طلاق شمار ہو گی ۔

لَيْسَ طَلَاقُ الْكُرْهِ بِشَيْءٍ، ← بَلَغَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَنَّ الْحَسَنَ، كَانَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ التَّيْمِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter divorce of hate · Hadith 11418

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الْحِجْرِ وَبَعْضُهُ مِنَ الْكَعْبَةِ · حديث 9150

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ [ص:128] أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا قَالَ: وَكَانَ الْحَارِثُ مُصَدَّقًا لَا يَكْذِبُ قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَإِنِّي لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ فِيهِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ أَنْ يَبْنُوهُ مِنْ بَعْدِي فَهَلُمَّ لِأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ» هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ، شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا» وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا؟ " قَالتْ: لَا قَالَ: «تَعَزُّزًا لِأَنْ لَا يُدْخِلُوهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا، فَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَرِهُوا أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ حَتَّى يَرْتَقِيَ، حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ» قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَنَكَتَ بِعَصَاهُ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ

9151 – زہری بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سیدہ عائشہ سے فرمایا: کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہاری قوم نے حضرت ابراہیم کی بنیادوں میں کمی کر دی تھی ؟ سیدہ عائشہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! آپ اسے دوبارہ حضرت ابراہیم کی بنیادوں پر کیوں نہیں تعمیر کروا دیتے ؟ نبی اکر مﷺ نے فرمایا: تمہاری قوم کے لوگ زمانہ کفر کے قریب ہیں۔

سَمِعْتُهَا تَقُولُ ← سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ ← وَكَانَ الْحَارِثُ مُصَدَّقًا لَا يَكْذِبُ ← مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ [ص:128] أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ← عَبْدُ الْمَلِكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ ← وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ فِي خِلَافَتِهِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Door of the stone and part of the stone · Hadith 9150

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْمَنَاسِكِ ‹ بَابُ الْحِجْرِ وَبَعْضُهُ مِنَ الْكَعْبَةِ · حديث 9157

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مَرْثَدَ بْنَ شُرَحْبِيلَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ: أَدْخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى عَائِشَةَ سَبْعِينَ رَجُلًا مِنْ خِيَارِ قُرَيْشٍ وَمُكَبَّرَتِهِمْ فَأَخْبَرَتْهُمْ [ص:131]، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالشِّرْكِ لَبَنَيْتُ الْبَيْتَ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَا قَصَّرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟» قَالَتْ: لَا قَالَ: «قَصُرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ» قَالَ: فَكَانَتِ الْكَعْبَةُ قَدْ وَهَتْ مِنْ حَرِيقِ أَهْلِ الشَّامِ قَالَ: فَهَدَمَهَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، فَكَشَفَ عَنْ رَبَضٍ فِي الْحِجْرِ، آخِذٌ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ فَتَرَكَهُ مَكْشُوفًا ثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ لِيُشْهِدَ عَلَيْهِ قَالَ: فَرَأَيْتُ رَبَضَهُ ذَلِكَ كَخَلِفِ الْإِبِلِ، خَمْسُ حِجَارَاتٍ وَجْهٌ حَجَرٌ وَوَجْهٌ حَجَرَانِ قَالَ: وَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَأْخُذُ الْعَتَلَةَ فَيَهُزُهَا مِنْ نَاحِيَةِ الرُّكْنِ فَيَهَتَزُّ الرُّكْنُ الْآخَرُ قَالَ: ثُمَّ بَنَى عَلَى ذَلِكَ الرَّبَضِ، وَصَنَعَ بِهِ بَابَيْنِ لَاصِقَيْنِ بِالْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهُ الْحَجَّاجُ مِنْ نَحْوِ الْحِجْرِ، ثُمَّ أَعَادَهُ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ وَدِدْتُ أَنَّكَ تَرَكْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَمَا تَحَمَّلَ " قَالَ: قَالَ مَرْثَدٌ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «لَوْ وَلِيتُ مِنْهُ مَا وَلِيَ الْحِجْرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ [ص:132] أَدْخَلْتُ الْحِجْرَ كُلَّهُ فِي الْبَيْتِ فَلِمَ يُطَفْ بِهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْبَيْتِ»

مرثد بن شرجیل بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر قریش کے ستر معززین اور اکابرین کوسیدہ عائشہ کے پاس لے کر گئے تو سیدہ عائشہ نے لوگوں کو بتایا کہ نبی اکرمﷺ نے اُن سے یہ فرمایا تھا : اگر تمہاری قوم زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتی تو میں بیت اللہ کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی بنیادوں پر تعمیر کرواتا کیا تم یہ بات جانتی ہو کہ اُن لوگوں نے حضرت ابراہیم کی بنیادوں میں کمی کیوں کی تھی ؟ سیدہ عائشہ نے عرض کی : جی نہیں! تو نبی اکرمﷺ نے بتایا کہ اُن لوگوں کے پاس خرچ کم ہو گیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب اہل شام کے آگ لگانے کی وجہ سے خانہ کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے اُس کی عمارت کو منہد کروایا اُس وقت مکہ میں موجود تھا اُنہوں نے اُس کی بنیادوں کے پتھر سے وہ پتھر ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔ حضر ت عبداللہ بن زبیر نے آٹھ دن تک اُسے کھلا رہنے دیا تاکہ لوگ اس بات پر گواہ ہو جائیں ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اُس کی بنیاد کے پتھروں کو دیکھا کہ وہ اونٹ کی طرف بڑے تھے پانچ پتھر تھے ایک ایک پتھر کی طرح تھا ایک دو پتھروں جتنا تھا ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اُس نے پھاؤڑے کو پکڑا اور اُسے ایک رکن کی طرف سے حرکت دی تو دوسرے رکن میں بھی حرکت پیدا ہو گئی ۔ر اوی بیان کرتے ہیں:پھر حضرت عبداللہ بن زبیر نے اُن بنیادوں پر اس کی تعمیر کی اور اس کے دو دروزے بنائے جو زمین کے ساتھ ملے ہوئے تھے ۔ ایک مشرقی تھا اور ایک مغربی تھا جب حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کر دیا گیا تو حجاج نے حطیم والے حصہ کو منہدم کروا دیا اور اُسے اُسی طرح بنوایا جس طرح وہ پہلے تھا ۔

أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ، ← مَرْثَدَ بْنَ شُرَحْبِيلَ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Rituals › Door of the stone and part of the stone · Hadith 9157

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ الْمَتَاعِ يُصِيبُهُ الْعَدُوُّ، ثُمَّ يَجِدُهُ صَاحِبُهُ · حديث 9366

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ قَالَ فِي الْمُشْرِكِ: «إِذَا أَخَذَ شَيْئًا مِنْ مَتَاعِ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ بَاعَهُ قَبْلَ أَنْ يُحْرِزَهُ إِلَى أَرْضِ الشِّرْكِ فَبَيْعُهُ بَاطِلٌ، يَأْخُذُهُ صَاحِبُهُ حَيْثُ وَجَدَهُ»

9366 - سفیان ثوری ایسے مشرک شخص کے بارے میں فرماتے ہیں: جو مسلمانوں کے سامان میں سے کوئی چیز حاصل کر لیتا ہے اور پھر اُسے مشرکوں کی سر زمین تک لے جانےسے پہلے فروخت کر دیتا ہے تو اُس کا سودا باطل شمار ہو گا اور اُس چیز کا مالک جہاں اُسے پائے گا اُسے حاصل کر لے گا۔

الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › The door of the goods that the enemy hits, then the one who finds it · Hadith 9366

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ قَتْلِ أَهْلِ الشِّرْكِ صَبْرًا وَفِدَاءَ الْأَسْرَى · حديث 9389

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: كَانَ يَكْرَهُ قَتْلَ أَهْلِ الشِّرْكِ صَبْرًا وَيَتْلُو: {فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً} [محمد: 4] قَالَ: " وَأَقُولُ: ثُمَّ نَسَخَتْهَا: {فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ} [النساء: 89] وَنَزَلَتْ - زَعَمُوا - فِي الْعَرَبِ خَاصَّةً، «وَقَتَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ يَوْمَ بَدْرٍ صَبْرًا»

عطا ء فرماتے ہیں: یہ بات مکروہ ہے کہ مشرکین کو باندھ کر قتل کیا جائے وہ یہ آیت تلاوت کرتے تھے : تو تم اُن کی رسیاں باندھ دو پھر بعد میں یا تو احسان ہو گا یافدیہلیا جائے گا ۔ ابن جریح کہتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں کہ پھر اس آیت نے اُسے منسوخ کر دیا ہے : تم اُنہیں پکڑو اور جہاں تم اُنہیں پاؤ اُنہیں قتل کر دو ۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت بطو خاص عربوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور نبی اکر مﷺ نے عقبہ بن ابو معیط کو غزوہ بدر کے موقع پر باندھ کر قتل کروا دیا تھا ۔

كَانَ يَكْرَهُ قَتْلَ أَهْلِ الشِّرْكِ صَبْرًا وَيَتْلُو: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › Chapter of the killing of the people of polytheism with patience and the redemption of prisoners · Hadith 9389

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ الْمُشْرِكِ يَأْتِي الْمُسْلِمَ بِغَيْرِ عَهْدٍ · حديث 9652

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يَأْتِي الْمُسْلِمَ بِغَيْرِ عَهْدٍ قَالَ: «خَيِّرْهُ إِمَّا أَنْ تُقِرَّهُ، وَإِمَّا أَنْ تُبْلِغَهُ مَأْمَنَهُ» قَالَ: وَزَعَمَ بَعْضُ أَهْلِ الشَّامِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فِي مَجْلِسِ عَطَاءٍ قَالَ: يَأْتِي الرُّومِيُّ فَإِذَا جَاءَ الْمُسْلِمِينَ بِغَيْرِ سِلَاحٍ وَلَا عَهْدٍ لَمْ يُرَبْ

ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو مشرک ہوتا ہے اور کسی عہد کے بغیر مسلما ن کے پاس آجاتا ہے تو اُنہوں نے جواب دیا: تم اُسے اختیار دو گے یا تو تم اُسے برقرار رکھو گے یا پھر اُسے اُس کی جائے پناہ تک پہنچنے دو گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: بعض اہل شام نے یہ بات بیان کی ہے کہ عبداللہ بن قیس عطا ء کی محفل میں موجود تھے اُنہوں نے یہ بات بیان کی کہ رومی آتا ہے جب وہ مسلمان کے پاس کسی ہتھیار اور کسی عہد کے بغیر آتا ہے تو اُسے پریشان نہیں کیا جائے گا ۔

يَأْتِي الرُّومِيُّ فَإِذَا جَاءَ الْمُسْلِمِينَ بِغَيْرِ سِلَاحٍ وَلَا عَهْدٍ لَمْ يُرَبْ ← وَزَعَمَ بَعْضُ أَهْلِ الشَّامِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فِي مَجْلِسِ عَطَاءٍ ← «خَيِّرْهُ إِمَّا أَنْ تُقِرَّهُ، وَإِمَّا أَنْ تُبْلِغَهُ مَأْمَنَهُ» ← الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يَأْتِي الْمُسْلِمَ بِغَيْرِ عَهْدٍ ← سُئِلَ عَطَاءٌ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › Chapter of the Joint The Muslim Comes Without a Covenant · Hadith 9652

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ بَابُ الْمُشْرِكِ يَأْتِي الْمُسْلِمَ بِغَيْرِ عَهْدٍ · حديث 9654

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ عَنِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ يُؤْخَذُ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ، وَقَدِ اشْتَرَطَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَأْتِيهِمْ، فَيَقُولُ: لَمْ أُرِدْ عَوْنَهُمْ، فَكَرِهَ قَتْلَهُ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: «إِذَا نَقَضَ شَيْئًا وَاحِدًا مِمَّا عَلَيْهِ فَقَدْ نَقَضَ الصُّلْحَ»

9654 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء سے ایسے ذمی شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جسے اہل شرک کے درمیان میں سے پکڑا جاتا ہے اور اُس نے اُن پر یہ شرط عائد کی ہوتی ہے کہ وہ اُن کے پاس نہیں آئے گا تو وہ یہ کہتا ہے : میں اُن کی مدد کرنے کا ا رادہ نہیں کر رہا تھا تو اُنہوں نے اُس کے قتل کو مکروہ قرار دیا ہے البتہ اگر ثبوت کے ساتھ اُس کا مؤقف غلط ثابت ہو جائے تو حکم مختلف ہے ۔ اس پر بعض اہل علم نے اُن سے کہا کہ اُس کے ذمہ جو چیز لازم تھی جب اُس نے اُن میں سے ایک چیز کو توڑ دیا تو پھر صلح بھی ٹوٹ گئی۔

سُئِلَ عَطَاءٌ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Book of Jihad › Chapter of the Joint The Muslim Comes Without a Covenant · Hadith 9654

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ · حديث 5007

عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ عُمَرَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ إِلَّا أَنْ يَتْرُكَ الصَّلَاةَ»

5007 - حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : بندہ اور شرک کے درمیان صرف یہ ہے کہ وہ نماز کو ترک کر دے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَنَّهُ ← أَبَا الزُّبَيْرِ ← عُمَرَ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the one who neglects prayer · Hadith 5007

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ تَزْيِينِ الْمَسَاجِدِ وَالْمَمَرِّ فِي الْمَسْجِدِ · حديث 5141

عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: أُرْسِلَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، فَأُمِرَ أَنْ يُحَدِّثَ قَوْمَهُ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ، وَأَنْ يَضْرِبَ لَهُنَّ أَمْثَالًا، فَأَعْجَبْنَهُ فَأَمْسَكَهُنَّ لِنَفْسِهِ، فَقِيلَ لِعِيسَى: ائْتِ يَحْيَى فَأْمُرْهُ فَلْيُبَلِّغِ الْكَلِمَاتِ الَّتِي أُمِرَ بِهِنَّ، وَإِلَّا فَتُبَلِّغْهُنَّ أَنْتَ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ: أَنَا أُبَلِّغُهُنَّ، فَقَالَ لِقَوْمِهِ: إِنَّ مَثَلَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ مَالِهِ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِ وَأَعْتَقَهُ، وَقَالَ: اذْهَبْ فَانْطَلِقْ، فَأَصَابَ مَعْرُوفًا فَجَعَلَ مَعْرُوفَهُ، وَنَيْلَهُ لِرَجُلٍ غَيْرَ الَّذِي أَعْتَقَهُ، فَذَلِكَ مَثَلُ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، وَالصَّلَاةُ مَثَلُهَا كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى سُلْطَانًا مَهِيبًا لَا يَرْجُو أَنْ يُمَكِّنَهُ مِنَ الْكَلَامِ فَأَتَاهُ فَأَمْكَنَهُ يَقُولُ: مَا شَاءَ فَذَلِكَ مَثَلُ الْمُصلِّي إِذَا كَانَ فِي صَلَاةٍ يُعْطِيهِ اللَّهُ مِنْ دُعَائِهِ مَا أَحَبَّ، وَالزَّكَاةُ مَثَلُهَا كَمَثَلِ رَجُلٍ أَخَذَهُ الْعَدُوُّ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ مَا تَنْتَظِرُونَ بِهِ، فَقَالَ: مَا تَصْنَعُونَ بِقَتْلِي؟ قَالَ بَلْ تُنَجِّمُونَ عَلَيَّ نُجُومًا فَأُؤَدِّي إِلَيْكُمْ ثَمَنَ رَقَبَتِي فَنَجَّمُوا عَلَيْهِ نُجُومًا كُلَّمَا [ص:157] أَدَّى نَجْمًا فَكَّ مِنْ رِقِّهِ حَتَّى عَتَقَ، فَكَذَلِكَ الصَّدَقَةُ تُكَفِّرُ الْخَطَايَا، وَمَثَلُ الصَّوْمِ كَمَثَلِ رَجُلٍ شَهِدَ الْبَأْسَ فَأَخَذَ السِّلَاحَ حَتَّى رَأَى أَنَّهُ لَنْ يَخْلُصَ إِلَيْهِ شَيْءٌ، فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّوْمِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ، وَالْقُرْآنُ مَثَلُهُ كَمَثَلِ قَوْمٍ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ، لَا يَأْتِيهِمُ الْعَدُوُّ إِلَّا وَجَدَهُمْ حَذِرِينَ كَذَلِكَ، مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ مِنَ الشَّيْطَانِ " قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي يَحْيَى ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ نَحْوًا مِنْ هَذَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ: بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَالْهِجْرَةِ وَالْجَمَاعَةِ وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الْجَمَاعَةِ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ الْإِسْلَامَ مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى يُرَاجَعَ، وَمَنْ دَعَا دَعْوَةً جَاهِلِيَّةً فَإِنَّهُ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ " فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ صَلَّى وَصَامَ قَالَ: «نَعَمْ، وَلَكِنْ تَسَمَّوْا بِاسْمِ اللَّهِ الَّذِي سَمَّاكُمْ مُسْلِمِينَ مُؤْمِنِينَ»

5141- عمار بن عبد بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت علی کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ایک مرتبہ حضرت یحییٰ بن زکریا کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی قوم کو پانچ کلمات کے بارے میں بتائیں اور آُن کے سامنے مثال کے ذریعہ اسے واضح کریں ۔ حضرت یحییٰ کو یہ کلمات اچھے لگے اُنہوں نے یہ اپنے لیے رکھے تو حضرت عیسیٰ سے کہا گیا: آپ حضرت یحییٰ کے پاس جائیں اور اُنہیں کہیں کہ وہ ان کلمات کی تبلیغ کر دیں ۔ جب حضرت عیسیٰ حضرت یحییٰ کے پاس آئے تو حضرت یحییٰ نے کہا: میں ان کی تبلیغ کر دیتا ہوں۔ پھر اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینے کی مثال اس طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنے مال میں سے کسی غلام کو خریدے اُس کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اُسے آزاد کرے اور پھر بولے : تم جاؤ! تو غلام چلا جائے پھر اسے کچھ بھلائی حاصل ہو تو وہ اُس بھلائی اور آمدن کو کسی دوسرے شخص کے لیے مقرر کر دے جو اُسے آزاد کرنے والے کے علاوہ ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینے کی مثال ہے۔ جہاں تک نماز کا تعلق ہے تو اس کی مثال یوں ہے جیسے کوئی شخص کسی ہیبت والے سلطان کے پاس آئے اور وہ یہ اُمید نہ رکھتا ہو کہ سلطان اُسے اپنے ساتھ باتچیت کرنے کا موقع دے گا لیکن جب وہ سلطان کے پاس آئے تو وہ اُسے موقع دیدے اور یہ کہے کہ وہ جو چاہے تو یہ نماز کی مثال ہو گی کہ جب وہ نماز ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے یہ حق دیتا ہے کہ جو چاہے دعا کرے۔ زکوۃ کی مثال یوں ہے کہ جس طرح کسی شخص کو کوئی دشمن پکڑ لیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تم اسے قتل کر دو ! تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو وہ شخص کہتا ہے مجھے مار کر تمہیں کیا مل جائے گا بلکہ تم مجھ پر کوئی ادائیگی اختیار کر دو جو میں اپنی جان کے بدلے میں قسطوں میں تمہیں ادا کرتا رہوں گا تو وہ لوگ اُس کے لیے قسطوں میں ادائیگی مقرر کر دیتے ہیں وہ شخص جب بھی کوئی قسط ادا کرتا ہے تو اُس کو کچھ آزادی نصیب ہو جاتی ہے یہاں تک کہ وہ مکمل آزاد ہو جاتا ہے ۔ تو صدقہ کی مثال بھی اسی طرح ہے وہ گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔

أُرْسِلَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، فَأُمِرَ ← عَلِيًّا ← عُمَارَةَ بْنِ عَبْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door to decorating mosques and the corridor in the mosque · Hadith 5141

مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابٌ قَذَفَ الرَّجُلُ النَّصْرَانِيَّةَ · حديث 12517

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: «افْتَرَى عَلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ الْأَبُ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ فَعُقُوبَةٌ وَلَا خِلَافَ»

12517 - ابن جریح بیان کرتے ہیں: عطا ء فرماتے ہیں: اگر کسی مسلمان شخص پر اُس کا مشرک باپ الزام لگا دیتا ہے اُس کو سزا دی جائے گی اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

عَطَاءٌ: «افْتَرَى عَلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ الْأَبُ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ فَعُقُوبَةٌ وَلَا خِلَافَ» ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › The door to throw the Christian man · Hadith 12517

chevron_left Previous
1…8910…162
Next chevron_right