Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الشرك

Shirk

  • Shirk
  • شرک

2863 hadiths

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ} [النحل: 90] · حديث 1583

1583 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ} [النحل: 90] قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، {وَالْإِحْسَانِ} [النحل: 90] : أَدَاءُ الْفَرَائِضِ، {وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى} [النحل: 90] : صِلَةُ الْأَرْحَامِ، {وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ} [النحل: 90] : عَنِ الزِّنَا، {وَالْمُنْكَرِ} [النحل: 90] : الشِّرْكِ، {وَالْبَغْيِ} [الأعراف: 33] : الْكِبْرِ وَالظُّلْمِ، {يَعِظُكُمْ} [البقرة: 231] : يُوصِيكُمْ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں :{إِنَّ اللَّہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ}بے شک اللہ تعالیٰ عدل کا حکم دیتا ہے ۔(النحل:90) یعنی کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنااور اس کی گواہی دینا ۔{والاحسان}تمہیں احسان کا حکم دیتا ہے ۔(النحل:90)فرائض کو ادا کرنے کا حکم دیتا ہے ۔{وَإِیتَاء ِ ذِی الْقُرْبَی}قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے ۔(النحل :90)یعنی اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیتا ہے ۔{وَیَنْہَی عَنِ الْفَحْشَائِ}اور وہ منع کرتا ہے بے حیائی سے ۔(النحل :90)یعنی اللہ تعالیٰ زناکاری سے روکتا ہے ۔{وَالْمُنْکَرِ}اور وہ منع کرتا ہے برائی سے ۔(النحل:90)یعنی اللہ تعالیٰ شر ک سے روکتا ہے ۔{وَالْبَغْیِ}وہ منع کرتا ہے بغاوت سے ۔(الاعراف:30)یعنی اللہ تعالیٰ تکبر اور ظلم سے منع کرتا ہے ۔{یَعِظُکُمْ}تمہیں نصیحت کرتا ہے ۔(البقرۃ:231)یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1583

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ} [الشعراء: 89] · حديث 1589

1589 - حَدَّثَنَا وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْعِرْقِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ جِسْرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، {إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ} [الشعراء: 89] قَالَ: «سَلِيمٍ مِنَ الشِّرْكِ»

حضرت حسن رحمہ اللہ ، اللہ عزوجل کے اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں :{إِلَّا مَنْ اَتَی اللَّہَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ}مگر وہ شخص جو اللہ کے پاس قلب سلیم (اطاعت شعار دل )لے کر آیا۔(الشعراء :89) کہ جو شخص شرک سے پاک دل کو لے کر آیا۔

«سَلِيمٍ مِنَ الشِّرْكِ» ← الْحَسَنِ، {إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ} [الشعراء: ← جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، ← وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَرْقِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1589

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيْبَةٍ} [إبراهيم: 24] · حديث 1599

1599 - حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ثنا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ} [إبراهيم: 24] قَالَ: " هِيَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، لَا يَزَالُ صَاحِبُهَا يَجْتَنِي مِنْهَا خَيْرًا صَلَاةً صِيَامًا صَدَقَةً حَجًّا عَمْرَةً، وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا {كَلِمَةً خَبِيثَةً} [إبراهيم: 26] : الشِّرْكُ بِاللَّهِ لَا يَقْبَلُهَا السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ، لَيْسَ فِيهَا قَرَارٌ فِي السَّمَاءِ وَلَا فِي الْأَرْضِ "

محمد بن کعب قرظی اللہ تعالیٰ کی اس فرمان کی تفسیر میں فرماتے ہیں :{ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ}اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ کی مثال بیان کی ہے پاکیزہ درخت کی طرح ۔(ابراہیم:24)کہتے ہیں کہ یہ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ ، ہے ، اس کا اقرار کرنے والا اس کی وجہ سے بھلائی نماز، روزہ ، صدقہ ، حج اور عمرہ وغیر ہ کی سعادت حاصل کرتا رہتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے {برے کلمے }(ابراہیم:24)کی مثال بیان کی ہے اس سے مراداللہ کی ذات کے ساتھ شرک کرنا ہے ، جس کو آسمان قبول نہیں کرتا اور نہ اس کو زمین قبول کرتی ہے ۔ اس کو اپنے قرار کے لیے آسمان و زمین میں کوئی جگہ نہیں ملتی ۔

مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← موسى بن عبيدة الربذي ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← خَلَفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ،

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1599

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ} [الزمر: 33] · حديث 1600

1600 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ} [الزمر: 33] قَالَ: " بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، {وَصَدَّقَ بِهِ} [الزمر: 33] يَعْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، {أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ} [الزمر: 33] قَالَ: اتَّقُوا الشِّرْكَ "

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ عزوجل کے اس فرمان:{وَالَّذِی جَاء َ بِالصِّدْقِ}اور وہ جو حق کو لے کر آیا۔(الزمر:33)کی تفسیر میںفرماتے ہیں کہ اس سے مراد کلمہ توحید لا الہ الا اللہ ہے ۔{ وَصَدَّقَ بِہِ} اور جس نے اس کی تصدیق کی۔(الزمر:33)اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔{اُولَئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُونَ}یہی لوز متقی ہیں ۔}(الزمر:33)اس میں سے شرک سے دور رہنے کی تلقین ہے ۔

اتَّقُوا الشِّرْكَ ← بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَعْنِي بِرَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1600

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ} [الحج: 41] · حديث 1625

1625 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ثنا جَدِّي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يَقُولُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ} [الحج: 41] قَالَ: " الْمَكْتُوبَةَ، {وَآتَوُا الزَّكَاةَ} [الحج: 41] قَالَ: الْمَفْرُوضَةَ، {وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ} [الحج: 41] قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، {وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ} [الحج: 41] قَالَ: الشِّرْكِ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ "

زید بن اسلم رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:{الَّذِینَ إِنْ مَکَّنَّاہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلَاۃ}یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیںتو یہ پوری پابندی سے نماز قائم کریں ۔(الحج:41) کی تفسیر میں فرمایا:وہ فرضی نماز قائم کریں ، {وَآتَوُا الزَّکَاۃَ}زکوۃ ادا کریں ۔(الحج:41)فرضی زکوۃ ادا کریں ۔{وَاَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ}اچھائی کا حکم دیں ۔(الحج:41)کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کا اقرار کریں ۔{وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ}برائی سے منع کریں ۔(الحج :41)یعنی اللہ کی ذات کے ساتھ شرک کرنے سے روکیں ۔

الشِّرْكِ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← الْمُنْكَرِ} [الحج: ← لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، {وَنَهَوْا ← الْمَفْرُوضَةَ، {وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ} [الحج: ← الْمَكْتُوبَةَ، {وَآتَوُا الزَّكَاةَ} [الحج: ← فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ} [الحج: ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أَبِيهِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← جَدِّي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1625

كتاب الدعاء · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ فَضْلِ التَّسْبِيحِ وَالتَّحْمِيدِ · حديث 1714

1714 - حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ إِنِّي مُوصِيكَ وَمُقْصِرٌ عَلَيْكَ الْوَصِيَّةَ كَيْ لَا تَنْسَى، أُوصِيكَ بِاثْنَتَيْنِ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ، فَأَمَّا اللَّتَيْنِ أُوصِيكَ بِهِمَا فَإِنِّي رَأَيْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَصَالِحَ خَلْقِهِ يَسْتَبْشِرُونَ بِهِمَا وَرَأَيْتُهُمَا يُكْثِرَانِ الْوُلُوجَ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فَإِنَّهُ لَوْ عَدَلْتَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي كِفَّةٍ لَوَزَنَتْهُنَّ، وَلَوْ كُنَّ فِي حَلْقَةٍ لَفَصَمَتْهَا حَتَّى يَلِجْنَ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَأُوصِيكَ بِقَوْلِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاةُ الْخَلْقِ وَبِهَا يُرْزَقُونَ، إِنِ اسْتَطَعْتَ يَا بُنَيَّ أَنْ لَا يَزَالَ لِسَانُكَ رَطْبًا بِهِمَا فَافْعَلْ، فَأَمَّا اللَّتَيْنِ أَنْهَاكَ عَنْهُمَا فَأَنْهَاكَ عَنِ الشِّرْكِ وَالْكِبْرِ "

حضرت عبداللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نبی جناب نوح علیہ السلام کی وصیت جو انہوں نے اپنے بیٹے کے لئے کی تھی اس میں یہ بات موجود تھی :اے میرے پیارے بیٹے !میں تمہیں وصیت کر رہا ہوں ہو اور یہ وصیت بالخصوص تمہارے لئے کر رہا ہوں تاکہ تم بھول نہ جائو،میں تمہیں دو چیزوںکی وصیت کرتا ہوںیعنی دو کام کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور دو کاموں سے رکنے کی وصیت کرتا ہوں۔ رہے وہ دو کام جن کے کرنے کی میں تمہیں وصیت کرنا چاہتا ہوں ۔میں نے اللہ عزوجل کو کو اور اللہ کے نیک مخلوق کو دیکھا ہے کہ وہ ان کلمات کے ذریعہ سے خوشخبری دیتے ہیں ، اللہ کی مخلوقات ان کلمات کے ذریعے سے اللہ کا تقرب حاصل کرتی ہے :’’لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیرٌ،اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ،اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، ہر قسم کی بادشاہت اسی کے لیے ہے ، تمام تعریفات اسی کے لیے ہیں ، وہی زندگی دینے والا اورموت دینے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘یہ ایسے وزنی کلمات ہے کہ اگر ترازو کے ایک پلڑے میں آسمان و زمین کو رکھ دیا جائے اور اسی پلڑے میں اللہ کی مخلوقات کو رکھ دیا جائے اوردوسرے پلڑے میں ان کا کلمات کو رکھ دیا جائے تو یہ کلمات بھاری ہو جائیں گے اور دوسرا پلڑا ہلکا پڑ جائے گا۔ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں: تم’’ سبحان اللہ وبحمدہ ‘‘یہ کلمات کہا کرو یہ اللہ کی مخلوقات کی نماز ہے ، ان کو انہی کلمات کے ذریعے سے رزق دیا جاتا ہے ۔اے میرے بیٹے !اگر تم استطاعت رکھتے ہو تو اپنی زبان کو انہی کلمات کے ساتھ تر رکھو ۔رہی وہ دو باتیں جن سے میں تمہیں منع کرنا چاہتا ہوں :میں تمہیں سے منع کرتا ہوں شکر سے اور تکبر سے روکتا ہوں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Kitab Al Dua · Book › Chapter · Hadith 1714

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ خَالفه حَمْزَة الزيات فِي إِسْنَاده وَمَتنه · حديث 39

39 - أخبرنَا عَمْرو بن مَنْصُور قَالَ حَدثنَا أصبغ بن فرج قَالَ أَخْبرنِي ابْن وهب عَن عَمْرو عَن سعيد بن أبي هِلَال أَن يحيى بن عبد الرَّحْمَن حَدثهُ عَن عون بن عبد الله عَن يُوسُف بن عبد الله بن سَلام عَن أَبِيه قَالَ بَيْنَمَا نَحن نسير مَعَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم سمع رجلا فِي الْوَادي يَقُول أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله وَأَن مُحَمَّدًا رَسُول الله فَقَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَأَنا أشهد لَا يشْهد بهَا أحد إِلَّا برِئ من الشّرك مَاذَا يَقُول إِذا قَالَ الْمُؤَذّن حَيّ على الصَّلَاة حَيّ على الْفَلاح

الْمُؤَذِّنُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ ← «إِذَا ← أشهد لَا يشْهد بهَا أحد إِلَّا برِئ من الشّرك مَاذَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ← رجلا فِي الْوَادي ← بَيْنَمَا نَحن نسير مَعَ رَسُول الله ← أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أصبغ بن فرج ← عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ،

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › Hamzat al-Zayyat disagreed with it in its chain of transmission and its body · Hadith 39

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ ذكر حَدِيث الْبَراء بن عَازِب فِيهِ · حديث 126

126 - أخبرنَا جَعْفَر بن عمرَان قَالَ حَدثنَا الْمحَاربي عَن حُصَيْن بن عَاصِم بن مَنْصُور الْأَسدي عَن ابْن أبي حُسَيْن الْمَكِّيّ عَن شهر بن حَوْشَب عَن عبد الرَّحْمَن بن غنم عَن معَاذ قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم من قَالَ حِين ينْصَرف من صَلَاة الْغَدَاة لَا إِلَه إِلَّا الله وَحده لَا شريك لَهُ لَهُ الْملك وَله الْحَمد وَهُوَ على كل شَيْء قدير عشر مَرَّات من قبل أَن يتَكَلَّم كتب لَهُ بِهن عشر حَسَنَات ومحي عَنهُ بِهن عشر سيئات وَرفع بِهن عشر دَرَجَات وَكن لَهُ عدل عشر نسمات وَكن لَهُ حرسا من الشَّيْطَان وحرزا من الْمَكْرُوه وَلم يلْحقهُ فِي يَوْمه ذَلِك ذَنْب إِلَّا الشّرك بِاللَّه وَمن قالهن حِين ينْصَرف من صَلَاة الْعَصْر أعطي مثل ذَلِك فِي ليلته قَالَ أَبُو عبد الرَّحْمَن حُصَيْن بن عَاصِم مَجْهُول وَشهر بن حَوْشَب ضَعِيف سُئِلَ ابْن عون عَن حَدِيث شهر فَقَالَ إِن شهرا (نزكوه) وَكَانَ شُعْبَة سيء الرَّأْي فِيهِ وَتَركه يحيى الْقطَّان

مُعَاذٌ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيِّ، ← حُصَيْن بن عَاصِم بن مَنْصُور الْأَسدي ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← (جَعْفَر بن عمرَان

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › He mentioned the hadeeth of Al-Bara 'ibn Azib in it · Hadith 126

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ ذكر حَدِيث الْبَراء بن عَازِب فِيهِ · حديث 127

127 - أخبرنَا زَكَرِيَّا بن يحيى قَالَ حَدثنَا حَكِيم بن سيف قَالَ حَدثنَا عبيد الله بن عمر وَعَن زيد عَن عبد الله بن عبد الرَّحْمَن عَن شهر بن حَوْشَب عَن عبد الرَّحْمَن بن غنم عَن أبي ذَر قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم من قَالَ دبر صَلَاة الْفجْر وَهُوَ ثَانِي رجله قبل أَن يتَكَلَّم لَا إِلَه إِلَّا الله وَحده لَا شريك لَهُ لَهُ الْملك وَله الْحَمد يحي وَيُمِيت بِيَدِهِ الْخَيْر وَهُوَ على كل شَيْء قدير عشر مَرَّات كتب الله لَهُ بِكُل وَاحِدَة قَالَهَا (مِنْهُنَّ) آح حَسَنَة ومحي عَنهُ سَيِّئَة وَرفع بهَا دَرَجَة وَكَانَ لَهُ بِكُل وَاحِدَة قَالَهَا عتق رَقَبَة وَكَانَ يَوْمه ذَلِك فِي حرز من كل مَكْرُوه وحرس من الشَّيْطَان وَلم يَنْبغ لذنب أَن يُدْرِكهُ فِي ذَلِك الْيَوْم إِلَّا الشّرك بِاللَّه

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عبيد الله بن عمر وَعَن زيد ← حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › He mentioned the hadeeth of Al-Bara 'ibn Azib in it · Hadith 127

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْفضل فِي قِرَاءَة قل هُوَ الله أحد · حديث 704

704 - أخبرنَا قُتَيْبَة بن سعيد قَالَ حَدثنَا أَبُو عوَانَة عَن مهَاجر أبي الْحسن عَن رجل من أَصْحَاب النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ كنت أَسِير مَعَ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَسمع رجلا يقْرَأ {قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ} حَتَّى خَتمهَا فَقَالَ قد برىء هَذَا من الشّرك ثمَّ سرنا فَسمع آخر يقْرَأ {قل هُوَ الله أحد} فَقَالَ أما هَذَا فقد غفر لَهُ

أما هَذَا فقد غفر لَهُ ← آخر يقْرَأ {قل هُوَ الله أحد} ← قد برىء هَذَا من الشّرك ثمَّ سرنا ← رجلا يقْرَأ {قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ} حَتَّى خَتمهَا ← كنت أَسِير مَعَ النَّبِي ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › Credit for reciting Say, He is God · Hadith 704

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ الْفضل فِي قِرَاءَة قل هُوَ الله أحد · حديث 705

705 - أخبرنَا سلمَان بن دَاوُد عَن ابْن وهب قَالَ حَدثنَا عَمْرو عَن سعيد أَن أَبَا الْمُصَفّى أخبرهُ أَن ابْن أبي ليلى الْأنْصَارِيّ أخبرهُ عَن ابْن مَسْعُود قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فِي سفر وَنحن نسير فَقَرَأَ رجل من الْقَوْم {قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ} قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم اما صَاحبكُم فقد برىء من الشّرك فَذَهَبت أنظر من هُوَ فأبشره فَقَرَأَ رجل آخر {قل هُوَ الله أحد} قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم أما صَاحبكُم فقد غفر لَهُ (377 آ)

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَن ابْن أبي ليلى الْأنْصَارِيّ ← سعيد أَن أَبَا الْمُصَفّى ← عَمْرٍو، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← سلمَان بن دَاوُد

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › Credit for reciting Say, He is God · Hadith 705

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ قِرَاءَة قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ عِنْد النّوم · حديث 800

800 - أَخْبرنِي إِبْرَاهِيم بن يَعْقُوب قَالَ حَدثنَا سعيد بن سُلَيْمَان قَالَ حَدثنَا شريك عَن أبي اسحق عَن فَرْوَة عَن جبلة قَالَ سَأَلت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قلت عَلمنِي شَيْئا يَنْفَعنِي قَالَ إِذا أخذت مضجعك فَقل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ حَتَّى تختمها فَإِنَّهَا بَرَاءَة من الشّرك

سَأَلت رَسُول الله قلت عَلمنِي شَيْئا يَنْفَعنِي ← جَبَلَةَ ← فَرْوَۃُ ← أَبِي إِسْحَقَ ← شَرِيکٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ،

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › Recitation, say, O disbelievers, when you sleep · Hadith 800

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ قِرَاءَة قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ عِنْد النّوم · حديث 801

801 - أخبرنَا مُحَمَّد بن عبد الله بن الْمُبَارك قَالَ حَدثنَا يحيى قَالَ حَدثنَا زُهَيْر عَن ابي اسحق عَن فَرْوَة بن نَوْفَل عَن أَبِيه أَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ فمجيء مَا جَاءَ بك قَالَ قلت جِئْت يَا رَسُول الله لتعلمني شَيْئا أقوله عِنْد مَنَامِي قَالَ إِذا أخذت مضجعك فاقرأ {قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ} ثمَّ نم على خاتمتها فَإِنَّهَا بَرَاءَة من الشّرك

أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ← أَبِي إِسْحَقَ ← زُهَيْرٍ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › Recitation, say, O disbelievers, when you sleep · Hadith 801

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ قِرَاءَة قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ عِنْد النّوم · حديث 802

802 - أخبرنَا يَعْقُوب بن إِبْرَاهِيم عَن شُعَيْب قَالَ حَدثنَا إِسْرَائِيل قَالَ حَدثنَا أَبُو اسحق عَن فَرْوَة بن نَوْفَل عَن أَبِيه قَالَ أَتَى ظئر زيد بن ثَابت الى النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَسَأَلَهُ أَن يُعلمهُ شَيْئا يَقُوله حِين يَأْخُذ مضجعه قَالَ اقْرَأ {قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ} ثمَّ نم على خاتمتها فَإِنَّهَا بَرَاءَة من الشّرك (655 ح)

أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ← أَبُو إِسْحَقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← شُعَيْبٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › Recitation, say, O disbelievers, when you sleep · Hadith 802

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ قِرَاءَة قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ عِنْد النّوم · حديث 803

803 - أخبرنَا عبد الحميد بن مُحَمَّد قَالَ حَدثنَا مخلد قَالَ حَدثنَا سُفْيَان عَن أبي اسحق عَن أبي فَرْوَة الْأَشْجَعِيّ عَن ظئر لرَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ من قَرَأَ {قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ} عِنْد مَنَامه فقد بَرِيء من الشّرك

من قَرَأَ {قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ} عِنْد مَنَامه فقد بَرِيء من الشّرك ← النَّبِيِّ ← ظئر لرَسُول الله ← أبي فَرْوَة الْأَشْجَعِيّ ← أَبِي إِسْحَقَ ← سُفْيَانَ، ← مَخْلَدٌ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدٍ

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › Recitation, say, O disbelievers, when you sleep · Hadith 803

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ قِرَاءَة قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ عِنْد النّوم · حديث 804

804 - أخبرنَا مُحَمَّد بن حَاتِم قَالَ اُخْبُرْنَا سُوَيْد قَالَ أخبرنَا عبد الله عَن سُفْيَان عَن أبي اسحق عَن فَرْوَة الْأَشْجَعِيّ قَالَ قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لرجل اقْرَأ {قل يَا أَيهَا الْكَافِرُونَ} عِنْد مَنَامك فإِنها بَرَاءَة من الشّرك

فَرْوَة الْأَشْجَعِيّ ← أَبِي إِسْحَقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← سُوَيْد ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › Recitation, say, O disbelievers, when you sleep · Hadith 804

عمل اليوم والليلة للنسائي · 1-1- كتاب الطهارة ‹ أفضل الذّكر وَأفضل الدُّعَاء · حديث 832

832 - أخبرنَا عبد الرَّحْمَن بن مُحَمَّد قَالَ حَدثنَا حجاج قَالَ أخبرنَا بن جريج قَالَ أَخْبرنِي صَالح بن سعيد حَدِيثا رَفعه الى سُلَيْمَان بن يسَار الى رجل من الْأَنْصَار أَن رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ قَالَ نوح لِابْنِهِ إِنِّي مُوصِيك بِوَصِيَّة وقاصرها كَيْلا تنساها أوصيك بِاثْنَتَيْنِ وأنهاك عَن اثْنَتَيْنِ أما اللَّتَان أوصيك بهما فيستبشر الله بهما وَصَالح خلقه وهما يكثران الولوج على الله تَعَالَى أوصيك بِلَا إِلَه إِلَّا الله فَإِن السَّمَوَات وَالْأَرْض لَو كَانَتَا حَلقَة قصمتهما وَلَو كَانَت فِي كفة وزنتهما وأوصيك بسبحان الله وَبِحَمْدِهِ فَإِنَّهَا صَلَاة الْخلق وَبهَا يرْزق الْخلق وَإِن من شَيْء الا يسبح بِحَمْدِهِ وَلَكِن لَا تفقهون تسبيحهم أَنه كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا وَأما اللَّتَان أَنهَاك عَنْهُمَا فيحتجب الله مِنْهُمَا وَصَالح خلقه أَنهَاك عَن الشّرك وَالْكبر

بن جُرَيْجٍ ← حجاج، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ

Amal Al Yoom w Al Lail Al Nasai · Book › The best dhikr and the best supplication · Hadith 832

اعتلال القلوب · 1-1- كتاب الطهارة ‹ ذكر من فتنة النساء عن طاعة الله تعالى وعظيم غلبة الشهوة · حديث 223

218 - وروي عن جويبر ، عن الضحاك ، عن ابن عباس رضي الله عنه قال : « إن الله عز وجل لما رفع إدريس مكانا عليا قال بعضهم : مات في السماء الرابعة ، وقبر في السماء الرابعة ، وقال بعضهم : لما رفع فأدخل الجنة قالت الملائكة : ما بال هذا الخاطئ بين الملائكة الذين لم يخالطوا الأدناس والذنوب ؟ فأوحى الله عز وجل إلى الملائكة أنكم عيرتم بني آدم بالذنوب وزعمتم : ما بال هذا بين أظهركم ؟ فانتخبوا عشرة من أفاضلكم ، ففعلوا ، ثم قال : انتخبوا ثلاثة من أفاضلكم ، ففعلوا ، فانتخبوا عزا وعزيا وعزرائيل ، فقال الله عز وجل : إني أهبطكم إلى الأرض فتكونون حكاما ، فتقضون بينهم بالحق ، وتخالطونهم في المأكل والمشرب والملبس ، وأجعل فيكم اللذات والشهوات وأوصيكم بوصايا ، قالوا : نفعل قال : أوصيكم أن تعبدوني ، وتقيموا الحق ، وتعدلوا بين الناس ، وأنهاكم أن تشركوا بي شيئا ، وإياكم وقتل النفس الحرام والزنا وشرب الخمر ، ثم أهبطوا إلى الأرض فخالطوا الناس في المطعم والمشرب واللباس ، وجعل الله عز وجل لهم مذاكير ، وجعل فيهم شهوة كشهوة بني آدم ، فكانوا يقضون بالنهار ويرتفعون بالليل إلى السماء ، فإذا رفعوا إلى السماء كانوا في حد الملائكة وما جبلوا عليه ، وإذا هبطوا إلى الأرض كانوا في حد بني آدم وطبائعهم ، فلما رأى عزا ذلك وعرف أنها الفتنة ، وعلم أنه لا طاقة له بذلك استغفر ربه ، واستقاله فأقاله ، وبقي عزيا وعزرائيل ، وكان أحدهما صاحب الأمر والآخر صاحب القضاء ، يقضيان في الأرض بالنهار ، ويرتفعان بالليل ، حتى جاءت إليهما امرأة من أجمل أهل زمانها ، وكانت تسمى بالعربية الزهرة ، وبالفارسية بهذاخت ، فجاءت وعليها قباء حرير ، وقد شدت وسطها بمنطق من قزو ، لها ذوائب تبلغ عجيزتها ، قد جاءت تشكو زوجها ، فلما دخلت عليهما ورأياها وسمعا نغمتها فتنتهما لساعتها ، فوقع في نفس كل واحد منهما شأنها ، وكتم كل واحد منهما صاحبه ما يجد في نفسه منها ، ثم قالا لها : أين منزلك ؟ قالت : في موضع كذا وكذا قالا لها : ارجعي يومك حتى ننظر في أمرك ، فلما قاما من مجلسهما من يومهما ذهب كل واحد منهما من دون صاحبه إلى منزلها ، فاتفقا جميعا على الباب ، فأخبر كل واحد منهما صاحبه بالذي وقع في نفسه منها ، فاستأذنا عليها فأذنت لهما ، ثم أراداها ، فقالت : لا يستقيم في ديننا هذا ، وأنتما على غير ديني وملتي ، فإن أردتما ذلك فادخلا في ديني ، واسجدا لصنمي ، فقال أحدهما لصاحبه هذا الشرك ، وإن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء قالت : فإن أبيتما ذلك فعندي جاريتي أزينها بزينتي ، وأطيبها بطيبي ، وأحليها بحليتي ، وألبسها ثيابي ، فشأنكما بها قالا : إياك أردنا قالت : أما إذا أبيتما ذلك فاشربا لي خمرا قالا : هذا أهون ، فقالت لجاريتها : ائتيني بخمرة حمراء وخمرة بيضاء ، فإذا أطعما فأمرتك أن تسقيهما فأخرجي الخمرة الحمراء فامزجيها بالخمرة البيضاء فاسقيهما ، ففعلت ، فلما شربا طابت لهما قالا لها : زيدينا ، فزادتهما ، ثم استزادا ، فزادتهما ، ثم استزادا ، فزادتهما فسكرا ، فلما سكرا راوداها عن نفسها ، فقالت : لا ، دون أن تسجدا لصنمي ، فسجدا لصنمها ، وقالا لها : أمكنينا الآن من نفسك ، ودخل عليها سائل ، فقالت : إن هذا السائل سيذيع علينا ، قوما فاقتلاه فقاما فقتلاه ، وقالا : أمكنينا من نفسك قالت : نعم ، ولكن علماني الاسم الذي تصعدان به إلى السماء ، فعلماها ، فتكلمت فارتفعت في الهواء ، فلم تبلغ حتى مسخها الله كوكبا » وقع الفراغ منہ، سابع المرحم سنۃ خمس وستین وستمائۃ بصخرۃ بیت المقدس۔ کتبہ أحمد بن عمیر خادم الصخرۃ المعظمۃ

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← جُوَيْبِرٍ ← وَرُوِيَ

Etal Al Qaloob · Book › Chapter · Hadith 223

اعتلال القلوب · 1-1- كتاب الطهارة ‹ ذكر من فتنة النساء عن طاعة الله تعالى وعظيم غلبة الشهوة · حديث 224

219 - أخبرنا الشيخ الإمام العالم شهاب الدين أبو الفضل محمد بن يوسف بن علي الغزنوي بقراءتي عليه يوم الجمعة مستهل ربيع الأول سنة تسعين وخمسمائة ، قال : حدثنا الشيخ أبو الكرم المبارك بن الحسن بن أحمد بن علي الشهرزوري بقراءتي عليه في شهور سنة ست وأربعين وخمسمائة ببغداد والشيخ الحافظ أبو الفضل محمد بن ناصر بن محمد بن علي السلامي ، والشيخ الحسين بن نصر بن محمد بن خميس الموصلي إجازة قالوا جميعا : حدثنا الشيخ الغزنوي وفقه الله ، وأخبرني أيضا الشيخ أبو الفرج عبد الخالق بن أحمد بن عبد القادر بن محمد بن يوسف إجازة أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي بن محمد العلاف سماعا وبعضهم بقراءته عليه ، قال : حدثنا أبو القاسم عبد الملك بن محمد بن عبد الله بن بشران قراءة عليه قال : حدثنا أبو العباس أحمد بن إبراهيم بن علي الكندي قراءة عليه بمكة في المسجد الحرام سنة ثلاث وخمسين وثلاثمائة قال : حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن سهل الخرائطي قال : حدثنا إبراهيم بن الجنيد قال : حدثنا عبد المنعم بن إدريس ، عن أبيه ، عن وهب بن منبه قال : « كان في جزيرة من جزائر البحر ملك عظيم السلطان ، فبعث إليه سليمان يدعوه إلى ما قبله ، فأبى (1) عليه لعظيم سلطانه ، فبعث إليه بالريح فنسفته الريح وملكه وجميع ما قبله حتى وضعته بين يديه ، وكان لذلك الملك ابنة تدعى أبرهة ، فأعجب سليمان بها ، فعرض عليها الإسلام فكرهته ، فخوفها بالقتل فأصرت ، فخوفها بقتل أبيها ، فقالت : إن قتلته قتلت نفسي ، فخاف سليمان إن أكرهها فتقتل نفسها ، وأحبها حبا شديدا ، وهي يومئذ على دينها ، وتركها ، فلما غلبته فتزوجها ، وكانت تعتكف على صنم من ياقوت ، وكان الصنم من الفيء الذي نسفته الريح ، فسألته سليمان فوهبه لها ، وكان لا يصبر عنها ، وكان يرفق بها ويتوددها رجاء أن تسلم ، فظل معها ذات يوم ، فلما أراد الانصراف وثبت عليه فاعتنقته وقالت له : أسألك بحياتي وبحبي وبحقي إلا ما جزرت لإلهي قال سليمان : إن ذلك لا يحل لي ، وما زيارتي إياك وأنت معتكفة على الشرك إلا رجاء أن تسلمي ، ثم قالت : لئن لم تجزر لأقتلن نفسي ، وكان ذلك من تعليم أبيها ، فلما سمع سليمان قولها خافها على نفسها وخدعها ، وقال : إني إن أجزرت لصنمك على رءوس الناس خلعت ملكي ، وانخلعت من ديني قالت : فإني قد حلفت بإلهي : لئن لم تفعل لأقتلن نفسي ، وأبرز يميني ، فدعى سليمان بجرادة وسكين ، فذبحها ، فساعة قطع رأسها أنكر نفسه وأنكرته هي ، وانقشعت عنه هيبة الملك والسلطان ، ثم خرج من عندها ، فوجد خدما له من الشياطين قعودا على منبره ، وكان قبل ذلك لا يرام ، ووجد على كرسيه أشبه الناس صورة به . فيقال أن معنى ذلك قول الله : ( ولقد فتنا سليمان وألقينا على كرسيه جسدا ثم أناب (2) ) قال : ثم قام إليه خادم من الجن فاستل خاتمه من أصبعه وأبق به ، وكانت الجن قبل ذلك لا يرمونه ، فلما أخذ الجني الخاتم وكان عفريتا ماردا (3) رأى في نفسه ، فقال : ما أخذت خاتم سليمان ولا وصلت إليه إلا بذنب بينه وبين الله عز وجل ، وما آمن أن يرد الله عليه ملكه ، فلأطرحن هذا الخاتم طرحا لا يقدر عليه أبدا ، ثم انطلق سريعا بالخاتم فألقاه في اللجة الخضراء ، وأوحى الله إلى سليمان بن داود عليه السلام : لم ذبحت الجرادة التي قربتها ؟ إلي أم لامرأتك ؟ فلئن كنت ذبحتها لي فقد صغرت ، وأمري ما سبقك إلى ذلك أحد ، وقد علمت أنه لا يذبح إلا ذات رغاء (4) أو خوار أو ثغاء (5) ، فإن كنت ذبحتها لصنم امرأتك فلا قليل من العزة بي ، أما كفاك أنك تزوجتها وهي مشركة فلم أعاتبك فيها ، فلما فرغ إليه من القول شذ من أهله مرعوبا أربعين ليلة ، يغير كما تغير الدابة ، يبكي على نفسه ، ويعدد على خطيئته ، ويستغفر ربه ، فلما أخبرت امرأته بالذي أصابه في سببها أحزنها ذلك وأبكاها ، فأسلمت رجاء أن يرد الله إليه ملكه ، فلما مضت لسليمان أربعون ليلة تاب الله عليه ، وغفر له وانصرف وقد أجهده الجوع ، فمر بساحل من سواحل البحر ، وإذا بحوت يضطرب ، فضرب بيده إلى الحوت فأخذه ليأكله ، فلما فرى بطنه وجد فيه خاتمه فازداد بذلك خوفا وعجبا ووجلا (6) ، فلبس خاتمه فأعاد الله ملكه » __________ (1) أبى : رفض وامتنع (2) سورة : ص آية رقم : 34 (3) المارد : العاتي الشديد (4) الرغاء : صوت الإبل (5) الثغاء : صوتُ الشاء والمَعَز وما شاكلها (6) الوجل : الخوف والخشية والفزع

الشيخ الحسين بن نصر بن محمد بن خميس الموصلي

Etal Al Qaloob · Book › Chapter · Hadith 224

شرح مشكل الآثار الطحاوي · کتاب ‹ باب بيان مشكل ما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم من قوله ما بعث الله تعالى من نبي ولغا استخلف من خليفة إلا وله بطانتان بطانة تأمره بالخير وتحضه عليه وبطانة لا تألوه خبالا · حديث 2117

حدثنا سليمان بن شعيب الكيساني قال ثنا بشر بن بكر قال حدثني الأوزاعي قال حدثني الزهري قال حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن قال حدثني أبو هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما من وال إلا له بطانتان بطانة تأمره بالمعروف وتنهاه عن المنكر وبطانة لا تألوه خبالا فمن وقي شرها فقد وقي وهو من التي تغلب عليه منهما @ 359 @ قال أبو جعفر رحمه الله فتأملنا هذه الآثار لنقف على ما أريد بها إن شاء الله فكان قوله صلى الله عليه وسلم ما بعث الله من نبي ولا استخلف من خليفة إلا له بطانتان على ما ذكرت كل واحدة من تينك البطانتين بما ذكرهما به فيهما من حمد وغيره فوجدنا الأنبياء صلوات الله عليهم يدعون الناس إلى ما أرسلوا به إليهم فيكون ذلك سببا لإتيانهم إياهم وخلطتهم بهم حتى يكونوا بذلك بطائن لهم وتستعمل الأنبياء في ذلك في أمورهم ما يقفون عليه منها فيحمدون في ذلك من يقفون على من يجب حمده بظاهره فيقربونه منهم ويعدونه من أوليائهم ويباعدون منهم من يقفون منه على ما لا يحمدونه منهم ويعدونه من أعدائهم والله أعلم بما يبطن ممن يعرفونه من حمد ومن ذم ثم يوقف الله عز وجل أنبياءه على ما يوقفهم عليه من باطنهم كما قال عز وجل لنبينا صلى الله عليه وسلم وممن حولكم من الأعراب منافقون ومن أهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم الآية فهذه البطانة المذمومة التي لا تألو من هي معه خبالا والبطانة الأخرى هي التي يوقفهم الله تعالى على ضدها وعلى ما هي عليه لنبيها كما أوقف الله عز وجل نبينا عليه الصلاة والسلام على ما أوقفه عليه من أحوال المؤمنين به من تعزيرهم إياه ونصرتهم له واتباعهم لما يجب أن يتبع به كما قال تعالى فالذين آمنوا به وعزروه ونصروه واتبعوا النور الذي أنزل معه أولئك هم المفلحون وكما قال عز وجل في صفاتهم محمد رسول الله والذين معه أشداء على الكفار رحماء بينهم ثم وصفهم رضوان الله عليهم بما وصفهم حتى ختم السورة التي أنزل ذلك فيها فهاتان البطانتان هما البطانتان اللتان كانتا مع نبينا محمد عليه الصلاة والسلام وكذلك @ 361 @ البطائن اللاتي كن مع الأنبياء صلوات الله عليهم قبله ثم تأملنا قوله صلى الله عليه وسلم وهو من الغالبة عليه منهما فكان ذلك عندنا والله أعلم مما يرجع إلى غير الأنبياء ممن ذكر في هذه الآثار لا إلى الأنبياء لأن الأنبياء صلوات الله عليهم معصومون لا يكونون مع من لا تحمد خلائقه ولا مذاهبه فقال قائل وكيف يجوز أن يكون ذلك كما ذكرت وإنما في هذه الآثار رجوع الكلام على من ذكر فيها من الأنبياء عليهم السلام وممن سواهم فكان جوابنا له في ذلك بتوفيق الله عز وجل وعونه أن هذا الكلام كلام عربي خوطب به قوم عرب يعقلون ما أراد به مخاطبهم والعرب قد تخاطب بمثل هذا على جماعة ثم ترده إلى بعضهم دون بقيتهم فمن ذلك قوله عز وجل يا معشر الجن والإنس ألم يأتكم رسل منكم فكان الخطاب في ذلك بذكر الجن والإنس ومعقول أن الرسل من الإنس لا من الجن ومثل ذلك قول رسول الله صلى الله عليه وسلم في حديث عبادة بن الصامت بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا وقرأ آية الممتحنة وفيها الشرك والسرقة والزنا وهي قوله قوله تعالى يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين وسنذكر ذلك الحديث فيما بعد من كتابنا هذا إن شاء الله تعالى وفيه فمن أصاب من ذلك شيئا فعوقب به فهو كفارة له ونحن نعلم أن من عوقب بالشرك فليس @ 362 @ ذلك له كفارة وعقلنا بذلك أن قوله صلى الله عليه وسلم فمن أصاب من ذلك شيئا إنما هو على شيء من بعض تلك الأشياء التي في الآية لا على كل شيء من تلك الأشياء التي فيها فمثل ذلك قوله صلى الله عليه وسلم في الآثار التي رويناها وهو من التي تغلب عليه منهما يرجع ذلك على من قد يجوز أن يكون منه مثل ذلك لا على الأنبياء صلوات الله عليهم الذين لا يكون منهم مثل ذلك فبان بما ذكرناه جميع ما في هذه الآثار من المعاني المشكلات فيها بحمد الله ونعمته وإياه نسأله التوفيق

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ الْكَيْسَانِيُّ

Sharah Mushkil Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2117

chevron_left Previous
1…353637…144
Next chevron_right