ایک بزرگ، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا ہے وہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر پر نکلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گزرا یک شخص کے پاس سے ہوا جو سورت کافرون کی تلاوت کر رہا تھا آپ نے ارشاد فرمایا جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے تو یہ شرک سے لاتعلق ہو گیا ہے ایک اور شخص سورت اخلاص کی تلاوت کر رہا تھ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کی وجہ سے اس شخص کے لئے جنت واجب ہو گئی ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › [Surat say: He is God One, and the virtue contained in it and the merit that is attached to it.] · Hadith 11533
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:’’ میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے تین چیزیں مانگیں تو اس نے مجھے دو چیزیں عطا کر دیں اور ایک کے حوالے سے مجھے منع کر دیا، میں نے عرض کی :اے میرے پروردگار! تو میری امت کو بھوک کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرنا تو اس نے فرمایا:یہ چیز تمہیں ملی‘ میں نے عرض کی :اے میرے پروردگار! تو ان پر ان کے دشمن کو مسلط نہ کرنا جو ان کے علاوہ ہو (یعنی اس کا تعلق مشرکین سے ہو) کہ وہ انہیں جڑ سے ختم کر دے تو پروردگار نے فرمایا :یہ چیز تمہیں مل گئی، میں نے عرض کی :اے میرے پروردگار! تو ان کے درمیان قتل و غارت گری پیدا نہ کرنا تو اس نے مجھے اس حوالے سے منع کر دیا‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابو حذیفہ ثعلبی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
عَلِيٍّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [A chapter in his saying: Come or dress you commonly and treat each other with the sorrow of one another] · Hadith 11969
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبَعْثِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِسَابِ] · حديث 18379
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی :یا رسول اللہ! مہدی ہم میں سے ہو گا یا ہمارے علاوہ کسی اور خاندان سے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جی نہیں بلکہ وہ ہم میں سے ہو گا‘ ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کو ختم کرے گا‘ جس طرح ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس کو شروع کیا تھا اور ہمارے ذریعے لوگوں کو شرک سے بچایا گیا اور ہمارے ذریعے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے درمیان واضح دشمنی کے بعد الفت پیدا کر دی‘ جس طرح اس نے لوگوں کے دلوں میں شرک کی عداوت کے بعد باہمی الفت پیدا کر دی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا:کیا وہ مومن ہوں گے یا کافر ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:وہ فتنے کا شکار ہوں گے‘ اور کافر ہوں گے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جابر حضرمی ہے‘ اور وہ کذاب ہے ۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح کے چار معاہدے ہوں گے اور چوتھی مرتبہ آل ہرقل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ یہ معاہدہ ہو گا جوسات سال تک رہے گا۔ اس وقت عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کامستورد بن خیلان ہے ۔ انہوں نے عرض کی :یا رسول اللہ! اس وقت لوگوں کا حکمران کون ہو گا۔ آپ نے ارشاد فرمایا:میری اولاد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو چالیس سال کا ہو گا‘ اس کا چہرہ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گا‘ اس کے رخسار پر سیاہ رنگ کا تل ہو گا‘ اس نے دوسفید عبائیں پہنی ہوئی ہوں گی‘ یوں جیسے اس کا تعلق بنو اسرائیل سے ہو‘ وہ بیس سال تک حکمران رہے گا‘ وہ خزانے نکالے گا اور مشرکین کے علاقے فتح کرے گا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن ابو صغیرہ ہے‘ اور وہ ضعیف ہے ۔
اَبِیْ اُمَامَۃَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter of what came in the sagas] · Hadith 12419
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّجَّالِ] · حديث 12505
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:’’ہر ایک نبی نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایا ہے اور میں تمہیں اس سے ڈرار ہاہوں وہ کانا ہو گا‘ جس کی ایک آنکھ واضح طور پر ابھری ہوئی ہو گی‘ اور وہ دیوار پر موجود بلغم کی طرح ہو گی‘ اس کی بائیں آنکھ چمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہو گی‘ اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک جہنم ہو گی‘ اس کی جنت دھوئیں والا ایک چشمہ ہو گی اور اس کی جہنم ایک سرسبز باغ ہو گی اس سے پہلے دو افراد ہر بستی والوں کو ڈراتے رہیں گے جب بھی وہ دونوں افراد کسی بستی سے نکلیں گے تو دجال کے ماننے والوں میں سے ابتدائی لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے، اور وہ ایک شخص پر مسلط ہو گا وہ اس کے علاوہ کسی اور پر مسلط نہیں ہو گا وہ اسے ذبح کرے گا پھر اسے عصا کے ذریعے مارے گا اور کہے گا تم اٹھ جاؤ پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا :تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے تو جس شخص کو ذبح کیا گیا ہو گا وہ یہ کہے گا:اے لوگو یہ دجال ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا پھر وہ دوبارہ اسے ذبح کرے گا پھر اسے عصا مارے گا اور اس سے کہے تم اٹھ جاؤ پھر وہ اپنے ساتھیوں سے کہے گا تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے، اور ذبح ہونے والا شخص کہے گا:اے لوگو یہ دجال ہے جس سے اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا اور پھر وہ دجال کو مخاطب کر کے کہے گا تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے پھر دجال تیسری مرتبہ اس کو ذبح کرے گا پھروہ اسے عصا مارے گا اور کہے گا اٹھ جاؤ پھر وہ اپنے ساتھیوں سے دریافت کرے گا تمہارا کیا خیال ہے میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، تو اس کے ساتھی اس کے حق میں شرک کی گواہی دیں گے تو وہ شخص کہے گا:اے لوگو یہ دجال ہے جس سے اللہ کے رسول نے ہمیں ڈرایا تھا اور تمہارے بارے میں میری بصیرت میں اضافہ ہی ہوا ہے پھر وہ چوتھی مرتبہ اسے ذبح کرنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ اس دوسرے شخص کی گردن پر پیتل کا نکڑ ارکھ دے گا‘ تو دجال اسے ذبح نہیں کر سکے گا‘ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں:اللہ کی قسم! میں نے لفظ ’’نحاس‘‘ (یعنی تانبا) صرف اسی دن سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس کے بعد لوگ کھیتی باڑی کریں گے ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں :ہم یہ سمجھتے تھے کہ وہ شخص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں گے کیونکہ ہمیں ان کی قوت اور مضبوطی کا پتہ تھا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت ’’صحیح‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔یہ روایت امام ابو یعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے‘ اور وہ مدلس ہے‘ اور ایک راوی عطیہ ہے‘ اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [Chapter of what came in the antichrist] · Hadith 12505
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْقَدَرِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَسْخِ وَالْقَذْفِ وَإِرْسَالِ الشَّيَاطِينِ وَالصَّوَاعِقِ] · حديث 12588
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’اس ذات کی قسم! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک ان لوگوں کو زمین میں دھنسائے جانے‘ پتھر مارے جانے اور مسخ کیے جانے کا عذاب نہیں ہو گا‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! یہ کب ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم عورتوں کو دیکھو کہ وہ زمینوں پر سواری کر رہی ہیں اور گانے والی عورتیں زیادہ ہو گئی ہیں اور جھوٹی گواہی پھیل چکی ہے‘ مرد مردوں پر اور عورتیں عورتوں پر اکتفاء کر رہی ہیں‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں ”مصلوب شخص سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیئے گا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد مردوں کے حوالے سے اور خواتین خواتین کے حوالے سے بے نیاز ہو جائیں گے وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہی جنسی عمل کر یں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا اور پھر آپ نے اسے چہرے پر رکھ کر اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے‘ اور وہ متروک ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Destiny] › [The door of what has come in muttering, slandering, and sending out demons and thunderbolts] · Hadith 12588
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ بَابُ السَّلَامِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ] · حديث 12790
تمیم بن سلمہ بیان کرتے ہیں: اہل شرک سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے جب وہ باب قصر تک پہنچے تو انہوں نے ان لوگوں کو سلام کیا۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں‘ البتہ تمیم بن سلمہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعودی کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › Gate of Peace be upon the people of Dhimmah] · Hadith 12790
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ وَجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالطَّائِفِ] · حديث 16615
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter of what came in the people of Hejaz, the island of Arabia, and Al-Taif] · Hadith 16615
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الشَّامِ] · حديث 16658
Musnad Abd Bin Hameed · Book › From the chain of narration of the friend, Aisha, the mother of the believers, may God be pleased with her, and on the authority of her father · Hadith 1512
Sunan Dar Al Qutni · The Book of the Two Feasts › The door to stressing leaving prayers and disbelieving those who left it and forbidding the killing of those who committed it · Hadith 1754