حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے دیہاتی علاقے کا رہنے والا ایک شخص آیا ،اس نے سیجان کا جبہ پہنا ہوا تھا، جس پر دیباج کے بٹن لگے ہوئے تھے ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار تمہارے اس ساتھی نے ہر شہسوار ابن شہسوار کورکھ دیا ہے ، راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اس نے شہسوار ابن شہسوار کو پست کردیا ہے ، اور چرواہا ابن چرواہا کو بلند کر دیا ہے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جبہ کے کنارے پکڑے اور فرمایا : کیا میں تم پر ایسالباس نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ جو اس شخص کا ہوتا ہے ،جسے عقل نہ ہو، پھر نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: الله کے نبی حضرت نوح رضی اللہ عنہ کاجب وفات کا وقت قریب آیا، توانہوں نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا: میں تمہیں وصیت کرنے لگا ہوں میں تمہیں دو باتوں کا حکم دوں گا اور تمہیں دو چیزوں سے منع کروں گا میں تمہیں لا اله الا الله پڑھنے کا حکم دیتا ہوں ،کیونکہ اگر سات آسمان اور سات زمینیں ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور لا اله الا الله کوایک پلڑے میں رکھا جائے تو لا اله الا الله والا پلڑا بھاری ہو جائے گا، اور اگر سات آسمان اورسات زمینیں ایک بند حلقہ بن جائیں تولا اله الا الله اور سبحان الله و بحمده ان میں سے گزر جائے گا، یہ ہر چیز کی نماز ہے ،اسی کے ذر یعےمخلوق کورزق دیا جاتا ہے، اور میں تمہیں شرک کرنے ،اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! شرک کا تو ہمیں پتہ چل گیا ہے، تکبر سے کیا مراد ہے؟ کیا تکبر سے یہ مراد ہے ،کہ ہم میں سے کسی شخص کے اچھے جوتے ہوتے ہیں، جس کے اچھے تسمے ہوتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! انہوں نے عرض کی : کیا اس سے یہ مراد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کا عمدہ حلہ ہوتا ہے ،جسے وہ پہنتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! انہوں نے عرض کی : کیا اس سے یہ مراد ہے کہ کسی شخص کا جانور جس پر وہ سوار ہوتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! انہوں نے عرض کی : تو کیا اس سے مراد یہ ہے ،کہ ہم میں سے کسی ایک شخص کے ساتھ لوگ ہوں، جن کے ساتھ وہ بیٹھتا ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ! عرض کی گئی : یارسول الله ! پھر تکبر کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:’’حق کو کمتر سمجھنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا‘‘۔
عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of wills] › Chapter of Noah's commandment, peace be upon him] · Hadith 7123
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْوَصَايَا] ‹ بَابٌ وَصِيَّةُ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ] · حديث 7124
ایک روایت، جواُن سے منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ،جس کے جسم پر طیالسی جبہ تھا،جس پر دیباج لگا ہوا تھا......اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ،تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اورتشریف فرما ہوئے آپ نے فرمایا:حضرت نوح رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے اپنے دو بیٹوں کو بلایا اور فرمایا: میں تمہیں ایک مختصر وصیت کرنے لگا ہوں میں تمہیں دو باتوں کا حکم دوں گا، اور میں تمہیں دو چیزوں سے منع کروں گا ،میں تم دونوں کو شرک کرنے ،اور تکبر کرنے سے منع کرتا ہوں ،اور تم دونوں کو لا الہ الا اللہ پڑھنے کا حکم دیتا ہوں ،کیونکہ تمام آسمان اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزیں، اگر میزان کے ایک پلڑے میں رکھی جائیں، اور لا الہ الا الله کو ایک پلڑے میں رکھا جائے ،تو وہ والا پلڑا بھاری ہوجائے گا، اور اگر تمام آسمان اور زمین حلقہ بن جائیں اور لا الہ الا اللہ کوان پر رکھا جائے تو وہ اس میں سے نکل جائے گا۔ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں، امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے، انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ زائدنقل کیے ہیں: ’’میں تمہیں سبحان اللہ پڑھنے کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ یہ مخلوق کی عبادت ہے ،اور تکبیر پڑھنے کی وصیت کرتا ہوں‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے طور پر ذکر کی ہے ،میں نے اس کا ذکر ’’از کار‘‘ والے باب میں، لا اله الا الله کی فضیلت سے متعلق باب میں کیا ہے، امام احمد کے رجال ثقہ ہیں۔
حسن بصری فرماتے ہیں : (ارشاد باری تعالیٰ ہے :) ” جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے زیادہ بہتر طریقے سے سلام کا جواب دو‘‘۔ (حسن بصری فرماتے ہیں:)اس سے مراد یہ ہے : اہل اسلام کے ساتھ ایسا کرو۔(ارشاد باری تعالیٰ ہے :) ’’یا تم اس کو لوٹا دو‘‘۔ حسن بصری کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : اہل شرک کو ویسا ہی جواب دو۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › Allah, the Most High, said: {And when you live with greeting} [An-Nisa: 86] · Hadith 10938
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ جَامِعٌ فِي فَضْلِهِ] · حديث 14336
علی بن احمد سدوسی‘ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ اطلاع ملی کہ کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر تنقید کرتے ہیں‘ سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان میں سے کچھ لوگوں کو پیغام بھیج کر بلوایا‘ انہوں نے درمیان میں پردہ کروایا اور پھر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اور ملامت کرتے ہوئے‘ یہ ارشاد فرمایا: میرے والد‘ میرے والد کے کیا کہنے ؟ تم لوگ میرے والد پر تنقید نہیں کر سکتے‘ اللہ کی قسم ! وہ بلند پہاڑ تھے اور پھیلا ہوا سایہ تھے‘ جب تم لوگوں نے جھٹلایا‘ تو اللہ کی قسم! اس وقت انہوں نے کامیابی حاصل کی‘ جب تم لوگوں نے کمزوری دکھائی‘ تو انہوں نے سبقت حاصل کی‘ ایک ایسی سبقت‘ جو کی شہسوار کی ہوتی ہے‘ جب اس نے دور تک جاتا ہو‘ وہ اپنی جوانی میں قریش کے نمایاں فرد تھے‘ اور بڑھاپے میں ان کے لئے غار کی حیثیت رکھتے تھے‘ انہوں نے (لوگوں) کے قیدیوں کو آزاد کروایا اور ان (لوگوں) کے غریبوں کو مال دیا‘ وہ ان کے بکھرے ہوئے معاملات کو اکٹھا کرتے تھے‘ اور پریشانیوں کو ختم کرتے تھے‘ یہاں تک کہ ان لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہو گئے‘ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے دین کے بارے میں مضبوطی کا اظہار کیا‘ اور الله کی ذات کے بارے میں‘ ان کی یہ مضبوطی ہمیشہ برقرار رہی‘ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے صحن میں مسجد بنا لی‘ جس میں وہ‘ اس چیز (یعنی عبادت) کو زندہ کرتے تھے‘ جسے باطل لوگ نہیں کرتے تھے‘ وہ ایسے (فرد) تھے کہ ان کے آنسو بہتے رہتے تھے‘ اور ان کا دل نرم تھا‘ غم کی وجہ سے ان کی گھٹی ہوئی سی آواز نکلتی تھی‘ مکہ کی خواتین اور ان خواتین کے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اکٹھے ہو جاتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ اُن (کفار) کے ساتھ استہزاء کرے گا اور انہیں ان کی سرکشی میں رہنے دے گا کہ وہ بھٹکتے ہیں‘ یہ بات قریش سے تعلق رکھنے والے افراد پر بہت گراں گزری‘ انہوں نے اپنی کمانیں سیدھی کر لیں اور تیروں پر پھل لگا لیا‘ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نشانہ بنا لیا‘ تو قریش کے لوگوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے نہ تو کوئی پتھر توڑا‘ اور نہ ہی ان کے لئے کوئی نیزہ توڑا‘ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے طریقے پر گامزن رہے‘ یہاں تک کہ دین نے غلبہ حاصل کر لیا‘ دین اپنی جگہ پر جم گیا‘ اور اس نے اپنے کیل ٹھوک دیئے اور لوگ گروپوں کی شکل میں دین میں داخل ہونے لگے‘ ہر گروه‘ کچھ افراد کو بھیج دیتا تھا‘ لوگ متفرق شکلوں میں آتے تھے‘ پھر یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لئے اس چیز کو منتخب کیا‘ جو اس کے پاس ہے‘ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی‘ تو شیطان نے اپنا خیمہ لگا لیا‘ اس نے اپنا جال بچھا لیا‘ اس نے اپنی طنابیں کھینچ لیں‘ اور اپنے گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو لے آیا‘ وہ اسلام کی رسّی میں اضطراب آ گیا‘ اور اس کے عہد میں تنازع آ گیا‘ اور اہل اسلام اختلاف کا شکار ہو گئے‘ اور ان کا اجتماع‘ انتشار میں بدل گیا‘ تو کچھ لوگوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ اپنے لالچ‘ یا مقاصد کو حاصل کرلیں گے اور اس صورتحال میں مسلمان کا میابی حاصل نہیں کر سکیں گے‘ لیکن یہ بھلا کیسے ہو سکتا تھا‘ جبکہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے درمیان موجود تھے‘ وہ آستینیں چڑھا کر‘ اور تہبند سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے‘ انہوں نے اپنے لباس کے کنارے کوسی لیا‘ اور دونوں طرف سے اسے اکٹھا کر لیا (یعنی وہ مقابلہ کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہو گئے) تو انہوں نے اسلام کے غلبے کو لوٹا دیا‘ اور اس کے بکھرے ہوئے امور کو سمیٹ دیا‘ اور اس میں رونما ہونے والے ٹیڑھے پن کو سیدھا کر دیا‘ تو ان کے دبانے کی وجہ سے منافقت پیچھے ہٹ گئی‘ اور ان کے بلند کرنے کی وجہ سے‘ دین اس چیز سے محفوظ ہو گیا‘ جس کے حوالے سے اندیشہ تھا‘ جب انہوں نے حق کو اس کے متعلقہ افراد تک پہنچا دیا‘ اور سروں کو کندھوں پر جما دیا‘ اور پھولوں کو جوڑوں میں محفوظ کر دیا‘ تو ان کا آخری وقت آ گیا‘ تو انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے پیدا ہونے والے خلاء کو اس شخصیت کے ذریعے پر کیا‘ جو رحمت ہونے میں ان کی طرح کے تھے‘ اور طریقہ کار اور عدل کرنے میں ان کی نظیر تھے‘ اور وہ خطاب کے صاحبزادے (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں)۔اس ماں کے کیا کہنے؟ جو اُن کے حوالے سے حاملہ ہوئیں‘ جس نے انہیں دودھ پلایا‘ اور ان جیسے بے مثل شخص کو جنم دیا‘ انہوں نے کافروں کو فتح کیا‘ اور انہیں ذلت کا شکار کیا‘ اور شرک کو یوں پرے کر دیا کہ اس کا ٹھکانہ نہ رہا‘ اور انہوں نے زمین کو چیر ويا (یعنی اسے فتح کر لیا) تو اس (زمین) نے اپنی کھائی ہوئی چیز کوقے کر دیا اور چھپا کر رکھی گئی چیز کو اس نے پھینک دیا (یعنی) حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وجہ سے زمین میں سے‘ نعمتیں اور دولتیں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں)اس (یعنی دنیا) نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے محبت کا اظہار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس (دنیا) سے اعتراض کیا‘ وہ (دنیا) ان کے سامنے آئی‘ تو انہوں نے اس کوانکار کیا‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا کے بارے میں پرہیز گاری کو اختیار کیا‘ اور پھر اسے اسی حالت میں چھوڑا‘ جس حالت میں وہ اس (دنيا) کے ساتھ رہے تھے۔تو اب تم لوگ مجھے بتاؤ! کہ تم کیا کہتے ہو؟ تمہیں میرے والد کے‘ دو دنوں میں سے کون سے دن پر اعتراض ہے؟ ان کی مقیم رہنے والے دن پر اعتراض ہے؟ کہ جب انہوں نے تمہارے درمیان عدل سے کام لیا‘ یا ان کی روانگی کے دن پر اعتراض ہے کہ جب انہوں نے تمہارے لئے سوچ بچار کی؟(پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:) میں نے اپنی بات کہہ دی ہے‘ اور میں‘ اپنے لیے اور تمہارے لئے‘ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں۔یہ روایت امام طبرانی نقل کی ہے‘ احمد سدوسی نامی راوی نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا زمانہ نہیں پایا ہے‘ میں اس کے اور اس کے بیٹے سے واقف نہیں ہوں۔
بلغ عائشة ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [A door that brings together its virtue] · Hadith 14336
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ} [الكهف: 110]. · حديث 11154
ابو صالح بیان کرتے ہیں: حضرت عبدالرحمٰن بن غم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد دمشق میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام کے درمیان موجود تھے ان میں ایک حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے حضرت عبدالرحمٰن بن غنم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے لوگو! مجھے تم لوگوں کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ پوشیدہ شرک کا ہے تو حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اے اللہ تجھ سے مغفرت کا سوال ہے تو حضرت عبدالرحمٰن بن غنم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے: ’’جو شخص ریاکاری کے طور پر روزہ رکھتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے جو شخص ریاکاری کے طور پر صدقہ کرتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے جو شخص ریاکاری کے طور پر نماز ادا کرتا ہے وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے ‘‘۔ تو حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت بھی تلاوت کی ہے: ’’جو شخص اپنے پرودگار کی بارگاہ میں حاضری کی امید رکھتا ہو‘‘۔ یہ آیت لوگوں پر گراں گزری اور وہ پریشان ہو گئے تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کی پریشانی ختم کرنے کی کوشش نہ کروں؟ لوگوں نے عرض کی: ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ آپ سے بھی پریشانی اور تکلیف دہ چیز کو دور کرے تو آپ نے فرمایا: یہ اس آیت کی مانند ہے جو سورت روم میں ہے ’’اور تم جو مال سود کے طور پر دیتے ہوتاکہ لوگوں کے اموال کے ساتھ مل کر وہ بڑھ جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہیں بڑھے گا‘‘۔ تو جو شخص ریاکاری کے طور پر کوئی عمل کرے گا اسے نوٹ نہیں کیا جائے گا نہ اس کے حق میں نہ اس کے خلاف ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ، اور وہ کذاب ہے۔
اَبِیْ صَالِحٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › God Almighty said: {Who would have hoped to meet his Lord} [Al-Kahf: 110]. · Hadith 11154
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ اللِّبَاسِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الشَّارِبِ وَاللِّحْيَةِ وَغَيْرُ ذَلِكَ] · حديث 8845
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " مشرکین مونچھیں بڑی رکھتے ہیں اور داڑھی چھوٹی رکھتے ہیں' تو تم ان کے خلاف کرو تم داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں چھوٹی کرواؤ" ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ جن میں سے ایک روای عمرو بن ابو سلمہ ہے' جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Dressing Book] › Chapter What came in the mustache, the beard and the like] · Hadith 8845
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْخِلَافَةِ] ‹ [بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْخُرُوجِ عَنِ الْأُمَّةِ وَقِتَالِهِمْ] · حديث 9132
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :ایک نماز اپنے سے پہلے کی نماز کے درمیان کی چیزوں کا کفارہ بن جاتی ہے البتہ تین امور کا معاملہ مختلف ہے راوی کہتے ہیں ہمیں اندازہ ہو گیا کہ کوئی نیا حکم سامنے آیا ہے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا )اس چیز کا معاملہ مختلف ہے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرا یا جائے یا سودے کو ختم کر دیا جائے یا سنت کو ترک کر دیا جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (یا راوی نے کہا )جہاں تک سودے کو ختم کرنے کا تعلق ہے ،تو وہ یہ ہے کہ تم کسی شخص کی بیعت کرو پھر تلوار لے کر اس سے جنگ کرنے چل پڑو اور سنت کوترک کرنے سے مراد یہ ہے کہ جماعت سے نکل جانا‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں): میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Succession] › [Chapter on the necessity of congregation and forbidding leaving the nation and fighting them] · Hadith 9132
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْخِلَافَةِ] ‹ [بَابُ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ] · حديث 9159
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ تین چیزوں کے حوالے سے ہے ،وہ شخص جو اللہ کی کتاب پڑھے گا یہاں تک کہ اس کا نور اس شخص پر نظر آنے لگے گا ،اور اس شخص پر اسلام کی چادر موجود ہوگی ،جو اللہ تعالی نے اسے عطا کی ہوگی ،تو وہ شخص اپنی تلوار سونت لے گا اور اس کے ذریعے اپنے پڑوسی پر حملہ کر دے گا اور اس پر شرک کا الزام لگائے گا ،عرض کی گئی : یا رسول اللہ !مارنے والا ( یا الزام لگانے والا ) اس (یعنی شرک) کا زیادہ حقدار ہو گا؟ یا وہ زیادہ حقدار ہوگا جس کو مارا گیا ہو( )یعنی جس پر الزام لگایا گیا ہو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فر مایا: مارنے والا (یا الزام لگانے والا اس شرک کا ) زیادہ حقدار ہوگا ، اور ایک وہ شخص ، جسے اللہ تعالی کی حکومت عطا کرے اور پھر وہ یہ کہے : جو شخص میری اطاعت کرے گا اس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ،حالانکہ اس کی یہ بات جھوٹ ہوگی، کسی خلیفہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خالق کے سامنے ڈھال بنے اور ایک وہ شخص جو حدیث بیان کرتے ہوئے اسے ہلکا سمجھے گا ، جب اس کی ایک بات ختم ہو گی، تو وہ اس سے زیادہ طویل روایت بیان کرنا شروع کردے گا وہ دجال تک پہنچ جائے گا اور اس کی پیروی کرے گا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ،اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اور وہ ضعیف ہے ،جس کی حدیث کونوٹ کیا جائے گا۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Succession] › [Chapter There is no obedience in disobedience] · Hadith 9159
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزُّهْدِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ] · حديث 17651
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو سنا ، جو یہ کہتے رہے تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اعمال میں کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نشیبی حصے میں ایک آواز سنی وہ شخص یہ کہہ رہا تھا میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد اللہ کے رسول ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس ( بات ) کی گواہی دے گا وہ شرک سے لا تعلق ہوگا"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں۔
جارود بیان کرتے ہیں: انہوں نے یہ نسخہ حضرت علاء رضی اللہ عنہ کے نسخے سے نقل کیا تھا جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تحریر کروایا تھا۔ جب آپ نے حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا تھا (اس میں تحریر تھا:) " الله تعالی کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے بھیجا گیا مکتوب ہے جو امی نبی ہیں قر یشی ہیں ہاشمی ہیں اور اس کی ساری مخلوق کی طرف اللہ کے رسول اور نبی ہیں یہ علاء بن حضرمی اور اس کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کے لئے ایک عہد ہے جوان کے ساتھ کیا جارہا ہے اے مسلمانو! جہاں تک تم سے ہو سکےتم اللہ تعالی سے ڈرو کیونکہ میں تم پر علاء بن حضرمی کو امیر بنا کر بھیج رہا ہوں میں نے اسے یہ حکم دیا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے وہ (اللہ) ایک ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ تمہارے ساتھ نرمی کا سلوک کرے تمہارے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تمہارے درمیان فیصلہ دے اور جو بھی شخص اس سے ملے اس کے بارے میں اس کے مطابق فیصلہ دے جو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حکم دیا ہے اور عدل کے ساتھ فیصلہ دے میں تم لوگوں کو اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیتا ہوں جب وہ ایسا کرلے گا اگر وہ فیصلہ کرتے ہوئے عدل سے کام لے تقسیم کرتے ہوۓ انصاف سے کام لے جب اس سے رحم مانگا جائے تو رحم کرے تو تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو اور اس کی اچھے طریقے سے مدد کرو اور اس کا ساتھ دو کیونکہ میرا تم پر حق ہے جو اطاعت کے حوالے سے ہے حق کے حوالے سے ہے عظمت کے حوالے سے ہے تم اسے مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی قول اللہ اوراس کے رسول کے حق کی عظمت کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے جس طرح اللہ اور اس کے رسول کا تمام لوگوں پرعمومی طور پر اور تم لوگوں پر خاص طور پر حق ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور ان کے عہد کو پورا کیا جائے تو جو شخص اطاعت کو مضبوطی سے تھام لے گا اللہ تعالی اس سے راضی ہوجائے گا اور یہ حق اسی طرح تمام مسلمانوں کے لئے ہے جو ان کے حکمرانوں پر ہوگا یہ واجب حق ہے اور فرمانبرداری ہے کیونکہ فرمانبرداری بھلائی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اور ہر قسم کی برائی سے نجات کا ذریعہ ہے میں ہر اس شخص کے حوالے سے اللہ تعالی کو گواہ بناتا ہوں جسے میں مسلمانوں کے کسی بھی معاملے کا نگران بناؤں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو تو ایسی صورت میں انہیں اللہ تعالی سے بھلائی طلب کرنی چاہیے اور اپنی ذات کے بارے میں اپنے اوپر اپنے میں سے سب سے زیادہ فضیلت والے شخص کو عامل مقرر کرنا چاہیے خبردار! اگر علاء بن حضرمی کو موت کی مصیبت لاحق ہو جاتی ہے تو اللہ کی تلوار خالد بن ولید ان لوگوں میں علاء بن حضرمی کا قائم مقام ہوگا تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا اس کی بھر پور طریقے سے فرمانبرداری کرنا اور ساتھ دینا الله تعالی کی برکت اس کی مدد اس کی نصرت اس کی ہدایت اس کی عاقبت اور اس کی تو فیق کی بنیاد پر چلتے ر ہنا لوگوں میں سے جس سے تمہاری ملاقات ہو انہیں اللہ کی کتاب اس کی سنت اس کے رسول کی سنت کی طرف دعوت دینا اور اس چیز کو حلال قرار دینے کی طرف دعوت دینا ہے الله تعالی نے ان لوگوں کے لئے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے اور اس چیز کو حرام قرار دینے کی دعوت دینا جس چیز کو اس نے اپنی کتاب میں حرام قراردیا ہے اور کسی کو اللہ کا شر یک ٹھہرانے سے الگ ہوجانا شرک سے کفر سے نفاق سے لاتعلق ہوجانا طواغيب لات اور عزیٰ کی عبادت کا انکار کرنا اور حضرت عیسی بن مریم یا حضرت عزیر بن حروہ یا فرشتوں یا سورج یا چاند یا آگ یا ان کو چھوڑ کر جس کسی کو بھی معبود بنایا گیا ہو ان سب کی عبادت ترک کر دینا اور اس چیز سے لاتعلق ہوجانا جس چیز سے اللہ اور اس کے رسول نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہو جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے اور اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ ولایت میں داخل ہوجائیں گے اور ان لوگوں کو اس وقت وہ نام دیا جائے گا جو اللہ کی کتاب میں ہے جس کے ساتھ تم انہیں بلاتے ہو وہ اللہ کی کتاب جسے روح الامین لے کر نازل ہوئے تھے جو تمام جہانوں میں سے اللہ تعالی کے برگزیدہ بندے حضرت محمد بن عبد الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر نازل ہوئے تھے جو اللہ کے رسول اور اس کے نبی ہیں اللہ تعالی نے انہیں تمام جہانوں کے لئے عمومی طور پر رحمت بنا کر بھیجا ہے جن میں سفیدفام سیاه فام اور جنات (سب شامل ہیں ) یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تم سے پہلے کی ہر چیز کا واضح بیان ہے اور تمہارے بعد جو کچھ ہوگا اس کا بھی واضح بیان ہے تا کہ یہ لوگوں کے درمیان رکاوٹ بن جائے اس کے ذریعے اللہ تعالی لوگوں کو ایک دوسرے سے روک لے گا اور یہ اللہ تعالی کی ایسی کتاب ہے جو دیگر کتابوں کی نگران ہے اور اس سے پہلے تورات انجیل اور زبور میں جو کچھ گزر چکا ہے اس کی تصدیق کرنے والی ہے اس میں الله تعالی نے تمہیں ان چیزوں کے بارے میں خبر دی ہے جوتم سے پہلے تھیں جن کا تعلق تمہارے آباؤ اجداد سے تھا تم وہاں تک نہیں پہنچے تھے ان لوگوں کے پاس اللہ کے رسول اور انبیاء آئے تھے تو ان لوگوں نے اپنے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا اور ان لوگوں نے اللہ تعالی کی آیات کی کیسے تصدیق کی تھی اور کیسے انہوں نے اللہ تعالی کی آیات کی تکذیب کی تھی تو الله تعالی نے اپنی کتاب میں ان لوگوں کے معاملے ان لوگوں کے اعمال اور ان میں سے جو لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے ان کے اعمال کے بارے میں بتایا ہے تو تم ایسا کرنے سے اجتناب کرنا کہ تم ان کی طرح مل کر ایسا نہ ہو کہ تم پربھی الله تعالی کی ناراضگی اور انتقام حلال ہوجائے جس طرح ان کے برے اعمال کی وجہ سے اور اللہ تعالی کے حکم کو کمتر سمجھنے کی وجہ سے ان پر حلال ہوا تھا الله تعالی نے تمہیں اپنی کتاب میں یہ بتایا ہے کہ تم سے پہلے کے لوگوں میں سے جنہوں نے نجات پائی تھی انہوں نے کیسے نجات پائی تھی تاکہ تم ان لوگوں کے اعمال کے مطابق عمل کرواس نے تمہارے لئے اپنی کتاب میں یہ تمام چیزیں واضح بیان کے طور پر بیان فرمائی ہیں۔ جواس کی طرف سے تمہارے لئے رحمت ہیں اور تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر مہربانی ہیں اور یہ اللہ تعالی کی طرف گمراہی کے مقابلے میں ہدایت ہے اور نابینا پن کے مقابلے میں واضح بیان ہے اور لغزش کے مقابلے میں بچت ہے اور فتنے سے نجات ہے اورظلمت سے نور ہے اور حدث سے شفاء ہے ہلاکت سے بچاؤ ہے گمراہی سے ہدایت ہے اس میں دنیا اور آخرت کے در میان چیزوں کا بیان ہے اور تمہارے دین کی تکمیل ہے جب تم ان لوگوں کے سامنے یہ پیشکش کرو گے وہ تمہارے سامنے اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ ولایت کو مکمل کر لیں گے اس وقت تم ان کے سامنے اسلام کی پیشکش کرنا اسلام سے مراد پانچ نمازیں ادا کر ناز کوة دینا بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا نماز سے پہلے وضو کرناوالدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا مسلمانوں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا والدین کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنا خواہ وہ مشرک ہوں (وہ شامل ہیں) جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ لوگ مسلمان ہوں گے ایسی صورت میں تم انہیں ایمان کی طرف دعوت دینا اور ان کے سامنے اپنے شرعی احکام اور ایمان کے بنیادی اصولوں کو بیان کرنا ( اور وہ یہ ہیں) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے ان کا کوئی شریک نہیں ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو کچھ لے کے آئے ہیں وہ حق ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ باطل ہے اللہ تعالی پر ایمان رکھنا اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں اس کے انبیاء اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنا اس کتاب پر ایمان رکھنا جو اس کے آگے ہے اور جو اس نے پہلے تورات انجیل اورز بورگزرچکی ہیں واضح نشانیوں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے جنت جہنم ( پرایمان رکھنا ) اللہ اور اس کے رسول اور تمام اہل ایمان کے لئے خیر خواہی رکھنا جب وہ ایسا کر لیں گے اور اس بات کا اقرار کر لیں گے تو وہ مسلمان اور مومن ہوں گے۔ پھر اس کے بعد تم انہیں احسان کی طرف دعوت دینا کہ وہ اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان معاملے اور عہد کی ادائیگی جو عہد اس نے اپنے رسول سے لیا اور جوعہد اس کے رسول نے اس کی مخلوق اور مسلمانوں کے حکمرانوں سے لیا اس کی ادائیگی کے بارے میں اچھائی سے کام لے مسلمان حکمرانوں کی زبانی اور عملی طور پر ہر اعتبار سے مدد کریں اور باقی مسلمانوں کے لئے بھلائی چاہیں، جس طرح کوئی شخص اپنی ذات کے لئے بھلائی چاہتا ہے اور وہ اپنے پروردگار کے بیان کردہ مواعید کی تصدیق کریں اس کی بارگاہ میں حاضری اس کی ناراضگی دنیا سے رخصت ہونے اپنی ذات کا محاسبہ کرنے روزانہ نئے سرے سے ایسا کرنے اور جو اللہ تعالی نے چیزیں فرض قرار دی ہیں ان کی ادائیگی کا اہتمام کرنے جو خفیہ اور اعلانیہ طور پر ہوان سب چیزوں کا دھیان رکھیں جب وہ ایسا کر لیں گے تو وہ مسلمان بھی ہوں گے مومن بھی ہوں گے اور احسان کرنے والے بھی ہوں گے پھر تم ان کے سامنے کبیرہ گناہوں کو بیان کرنا اور اس حوالے سے ان کی رہنمائی کرنا اور کبیرہ گناہوں سے ہونے والی ہلاکت کے حوالے سے انہیں ڈرانا کیونکہ کبیرہ گناہ ہلاکت کا شکار کرنے والے ہیں ان میں سب سے پہلا الله تعالی کے ساتھ شرک کرنا ہے بے شک الله تعالی اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور ( دوسری چیز ) جادو ہے جادوگر کا کوئی حصہ نہیں ہوگا اور ایک چیز قطع رحمی ہے اور اللہ تعالی ان لوگوں پرلعنت کرے گا اور ایک چیز میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ہے ایسے لوگ اللہ تعالی کی ناراضگی کے ہمراہ واپس آتے ہیں اور ایک چیز خیانت ہے ان لوگوں نے جو خیانت کی ہوئی ہوگی وہ قیامت کے دن اسے ساتھ لے کے آ ئیں گے ان لوگوں کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا اور ایک چیز مومن جان کو قتل کرنا ہے جس کا بدل جہنم ہے اور ایک چیز پاکدامن عورت پر زنا کا الزام لگانا ہے اور ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے اور ایک چیز یتیم کا مال کھانا ہے۔ ایسے لوگ اپنے پیٹ میں آگ ڈالتے ہیں اور عنقریب وہ جہنم تک پہنچ جائیں گے اور ایک چیز سود کھانا ہے ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہیں جب وہ لوگ کبیرہ گناہوں سے بچ جائیں گے تو وہ مسلمان بھی ہوں گے مومن بھی ہوں گے احسان کرنے والے بھی ہوں گے اور بچنے والے بھی ہوں گے اور یہ لوگ تقوی کو مکمل کر لیں گے اس کے بعد تم انہیں عبادت کی دعوت دینا اور عبادت روزہ رکھنا نوافل پڑھنا خشوع کرنا رکوع کرناسجود کرنا اور رجوع کرنا احسان کرنا الحمد للہ پڑھنا تمجید تہلیل تکبیر پڑھنا زکوة کے بعد ( نفلی) صدقہ دینا تواضع کرنا سکنیت اختیار کرنا پرسکون رہنا اچھا سلوک کرنا دعا کرناگریہ وزاری کرنا اور اللہ تعالی کی بادشاہی اور اپنی بندگی کا اقرار کرنا اور نیک عمل کی کثرت پرمستقل رہنا (شامل ہیں ) جب وہ لوگ ایسا کر لیں گے تو وہ لوگ مومن بھی ہوں کے احسان کرنے والے بھی ہوں گے پرہیز گار بھی ہوں گے اور عبادت گزار بھی ہوں گے جب وہ لوگ عبادت کو مکمل کر لیں گے تو ایسی صورت نہیں تم انہیں جہاد کی دعوت دینا اور ان کے سامنے اس کو بیان کرنا اور انہیں اس چیز کی رغبت دینا جس کے بارے میں الله تعالی نے رغبت دی ہے جس کا تعلق جہاد کی فضیلت اس کے ثواب کی فضیلت سے ہے جو الله تعالی کی بارگاہ میں حاصل ہوگا اگر وہ اس بات کو مان لیتے ہیں تو تم ان سے بیعت لینا اور انہیں اس چیز کی طرف دعوت دینا کہ تم ان سے اللہ کی سنت اور اس کے رسول کی سنت کی طرف بیعت لے رہے ہو تم پر الله تعالی کے عہد اور اس کے ذمہ کو پورا کرنا لازم ہے اور اس میں سات كفالات ہیں یہ کہ بیعت کے حوالے سے تم اپنے ہاتھوں کو نہ توڑو اور میرے مقرر کردہ مسلمانوں کے نگرانوں کے معاملے کو ختم نہ کرو جب وہ لوگ ایسا کرلیں گے تم ان سے بیعت لے لینا اور اللہ تعالی سے ان کے لئے مغفرت طلب کرنا جب تم لوگ نکلو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جواللہ تعالی کی خاطر غضب کا اظہار کرنے اس کے دین کی مددکرنے کے لئے ہو تو جن بھی لوگوں سے تم ملوان لوگوں کو بھی اس چیز کی دعوت دینا جس چیز کی طرف تم نے ان لوگوں کو دعوت دی تھی جس کا تعلق اللہ تعالی کی کتاب سے ہے اسلام سے ہے ایمان سے ہے احسان سے ہے تقوی سے ہے عبادت گزاری سے ہے ہجرت سے ہے تو جو شخص بھی ان میں سے پیروی کرے گا وہ جواب دینے والا مون اچھائی کرنے والا پرہیز گار عبادت گزار اور مہا جر ہوگا اسے وہ چیز ملے گی جو تمہیں ملتی ہے اور اس پر وہ چیز لازم ہو گی جوتم پر لازم ہوتی ہے اور جو شخص اس بات کا انکار کرے تو تم پر لازم ہے کہ تم اس کے ساتھ جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے معاملے کی طرف لوٹ آئے یا پھر مال فئے کی ادائیگی کی طرف لوٹ جائے اور جس شخص کے ساتھ تم معاہد ہ کرو اورتم اسے اللہ کا ذمہ دے دوتو تم اس کو پورا کرو جوش اسلام لے آئے اور تمہیں رضامندی دیدے وہ تم میں سے ہو گا اور تم اس میں سے ہو گے اور جو شخص اس بنیاد پرتمہارے ساتھ اس کے بعد بھی جنگ کرے جو تم نے اس کے سامنے بیان کیا تھا توتم اس کے ساتھ جنگ کرو جو تمہارے ساتھ لڑائی کرے تم اس کے ساتھ لڑائی کرو جو شخص تمہارے ساتھ فریب کرے تم اسے فریب کا جواب دو جو تمہارے لئے (دشمن یا طاقت ) کو جمع کرے توتم اس کے لئے جمع کرو جو شخص تمہیں دھوکہ دے تم اسے دھوکہ کا جواب دو جوشخص تمہیں فریب دے تم اس کے فریب کا جواب دو البتہ تم زیادتی نہ کرنا جو شخص تمہارے خلاف تدبیریں کرے تم اسے جواب دولیکن تم پوشیدہ یا اعلانیہ طور پر زیادتی نہ کرنا کیونکہ جو ظلم کے بعد مدد کا طلبگار ہو گا تو ان لوگوں کے خلاف کوئی راستہ نہیں ہو گا تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی تمہارے ساتھ ہے وہ ہیں اور تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو جانتا ہے تم اللہ تعالی سے ڈرواور احتیاط کے ساتھ رہنا یہ امانت ہے جس کے بارے میں میرے پروردگار نے مجھے امین بنایا ہے کہ میں اس کی تبلیغ اس کے بندوں تک کردوں یہ اس کی طرف سے ان لوگوں کے لئے عذر ہے اور حجت ہے جس کے ذریعے وہ ان لوگوں کے خلاف حجت فرمائے گا اس کی مخلوق میں سے جو بھی اس سے واقف ہوگا اور اس کا تعلق ساری مخلوق سے ہے جو شخص اس بارے میں عمل کرے گا وہ نجات پا جائے گا جو شخص اس بارے میں پیروی کرے گا وہ ہدایت حاصل کر لے گا جوشخص اس (حکم) کی بنیاد پر جھگڑا کرے گاوہ فلاح پائے گا جو شخص اس کی بنیاد پرلڑائی کرے گا اس کی مدد ہوگی جو شخص اسے چھوڑ دے گا وہ گمراہ ہو گا یہاں تک کہ اس کی طرف واپس آجائے اس میں جو کچھ موجود ہے تم اس کا علم حاصل کر لو اپنے کانوں کو یہ بات سنوا دو اور اپنے ذہنوں میں اسے محفوظ کرلو اپنے دلوں میں اسے یاد کر لو کیونکہ یہ بینائی کا نور ہے دلوں کی بہار ہے سینوں میں موجود چیز کے لئے شفاء ہے معاملے اعتبار زجر نصیحت اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت کے حوالے سے یہ کافی ہے یہی وہ بھلائی ہے کہ جس میں کوئی شر نہیں ہے۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو اللہ کے رسول ہیں ان کی طرف سے یہ مکتوب ہے جوعلاء بن حضرمی کے لئے ہے جو اس وقت تحریر کروایا کہ جب انہوں نے اس کو بحرین کی طرف بھیجا تھا تا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دعوت دے انہوں ن لوگوں کو یہ حکم دیا کہ اس میں جو حلال ہے اس کی طرف وہ دعوت دیں اور اس میں جن حرام چیزوں کا ذکر ہے اس سے منع کرے اور اس میں جس ہدایت کا ذکر ہے اس کی طرف رہنمائی کریں اور جن گمراہیوں کا ذکر ہے اس سے لوگوں کوروکے۔ یہ روایت امام طبرانی نے داؤد بن محبرکی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ( علامہ ہیثمی فر ماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسلام کی طرف دعوت دینا اور اذیتوں پر صبر کرنا اس بارے میں دیگر احادیث مغازی سے متعلق باب میں آئیں گی اگر اللہ نے چاہا۔
الْجَارُودِ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Chapter of it in supplication to Islam, its statutes, and its Sunnahs] · Hadith 9596
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيْهِ أَحَدٌ] · حديث 9714
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے معاذ ! اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے کسی ایک شخص کو ہدایت نصیب کر دے جس کا تعلق مشرکین سے ہو یہ تمہارے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تمہیں سرخ اونٹ ملیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہ اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ دوید بن نافع نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الایمان میں پہلے گزر چکی ہیں ۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › Chapter of the one who greets someone on whose hands someone greets) · Hadith 9714
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْجِهَادِ] ‹ [بَابُ الْقِتَالِ عَنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ] · حديث 9802
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرکین میں سے کسی کی طرف سے جنگ نہیں کرتے تھے البتہ ذمیوں کی طرف سے جنگ کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
عَائِشَةَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Jihad] › [Chapter of fighting on behalf of the people of dhimmah] · Hadith 9802