Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الشرك

Shirk

  • Shirk
  • شرک

2863 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ] · حديث 395

395 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: " «مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْإِيمَانِ وَالنُّذُورِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

۳۹۵-حضرت عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " بڑے کبیرہ گناہوں میں ، اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا شامل ہیں " یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ مکمل روایت ، قسموں اور نذروں سے متعلق باب میں آئے گی ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the majorities] · Hadith 395

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ لَا يُكَفَّرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ] · حديث 407

407 - وَعَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ نَاسًا يَشْهَدُونَ عَلَيْنَا بِالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ، قَالَ أَنَسٌ: أُولَئِكَ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ، وَوَثَّقَهُ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، وَقَالَ: عِنْدَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ عَنْ أَنَسٍ، وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

یزید قاشی ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے کہا: اے ابو حمزہ ! کچھ لوگ ہمارے خلف کفر اور شرک کی گواہی دیتے ہیں ، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ خلق اور خلیفہ کے بدترین لوگ ہیں ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جسے اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابو احمد بن عدی نے اسے ثقہ کہا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، صالح روایات نقل کی ہیں اور مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

أَنَسٍ، وَأَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ. ← عِنْدَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ ← وَثَّقَهُ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ← فِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ، ← أَنَسٌ: أُولَئِكَ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، ← قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، إِنَّ نَاسًا يَشْهَدُونَ عَلَيْنَا بِالْكُفْرِ وَالشِّرْكِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter No one of the people of the Qiblah shall make an atonement of a sin.] · Hadith 407

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِرِّ وَحَقِّ الْوَالِدَيْنِ] · حديث 13398

13398 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هَجَرْتَ الشِّرْكَ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " أَذِنَا لَكَ؟ ". قَالَ: لَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ [فَاسْتَأْذِنْهُمَا]، فَإِنْ فَعَلَا، وَإِلَّا فَبِرَّهُمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: یمن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص‘ ہجرت کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا :تم نے شرک سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے؟ لیکن جہاد باقی ہے‘ کیا یمن میں تمہارے ماں باپ موجود ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں !نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: اُن دونوں نے تمہیں اجازت دی تھی ؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ماں باپ کی طرف واپس چلے جاؤ اور ان دونوں سے اجازت مانگو اگر وہ اجازت دیدیتے ہیں تو ٹھیک ہے‘ ورنہ اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہنا۔یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ اور اس کی سند حسن ہے۔

لَا۔ ← أَذِنَا لَكَ؟ ← نَعَمْ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ ← «هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › [Chapter on what came in righteousness and the right of parents] · Hadith 13398

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ أَخْبَرَ بِنُبُوَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 13908

13908 - وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: «كُنَّا حَوْلَ صَنَمٍ لَنَا قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَهْرٍ وَقَدْ نَحَرْنَا جَزُورًا، إِذْ صَاحَ صَائِحٌ مِنْ جَوْفِهِ: اسْمَعُوا الْعَجَبَ، ذَهَبَ الشِّرْكُ وَالرِّجْزُ، وَرُمِيَ بِالشُّهُبِ، لِنَبِيٍّ بِمَكَّةَ اسْمُهُ أَحْمَدُ، وَمُهَاجَرُهُ إِلَى يَثْرِبَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے ایک ماہ پہلے ہم اپنے بت کے اردگرد موجود تھے ہم نے ایک اونٹ قربان کیا تھا‘ اسی دوران بت کے پیٹ میں سے کسی پکارنے والے نے یہ کہا: حیران کن بات سن لو‘ شرک اور بت ختم ہو گئے‘ انہیں شہاب مارے جا رہے ہیں‘ مکہ میں آنے والے ایک نبی کی وجہ سے‘ جن کا نام احمد ہے‘ اور ان کی ہجرت کی جگہ یثرب ہو گی۔یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبد الله بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter about who told of his prophethood, may God bless him and grant him peace] · Hadith 13908

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ أَخْبَرَ بِنُبُوَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 13912

13912 - وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: «بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ فِي مُؤَخِّرِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَتَعْرِفُ هَذَا الْجَائِي؟ قَالَ: لَا، فَمَنْ هُوَ؟ قَالَ: هَذَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ وَهُوَ [رَجُلٌ] مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، لَهُ فِيهِمْ شَرَفٌ وَمَوْضِعٌ، قَدْ أَتَاهُ رَئِيُّهُ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: عَلَيَّ بِهِ، فَدَعَا بِهِ فَقَالَ: أَنْتَ سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ الَّذِي أَتَاكَ رَئِيُّكَ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ عَلَى مَا كُنْتَ عَلَيْهِ مِنْ كَهَانَتِكَ؟ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا اسْتَقْبَلَنِي بِهَذَا أَحَدٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا كُنَّا عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ أَعْظَمُ مِمَّا كُنْتَ عَلَيْهِ مِنْ كَهَانَتِكَ، أَخْبِرْنِي بِإِتْيَانِكَ رَئِيُّكَ بِظُهُورِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، بَيْنَا أَنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ أَتَانِي رَئِيِّي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: قُمْ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ فَافْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ، إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ، ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُولُ: عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتَجْسَاسِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَحْلَاسِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا خَيْرُ الْجِنِّ كَأَنْجَاسِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... وَاسْمُ بِعَيْنَيْكَ إِلَى رَاسِهَا قَالَ: فَلَمْ أَرْفَعْ بِقَوْلِهِ رَأْسًا وَقُلْتُ: دَعْنِي أَنَمْ فَإِنِّي أَمْسَيْتُ نَاعِسًا، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ التَّالِيَةُ، أَتَانِي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ: قُمْ وَافْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ؟ إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ ثُمَّ أَنْشَأَ الْجِنِّيُّ يَقُولُ: عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَتَطْلَابِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بِأَقْتَابِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا صَادِقُ الْجِنِّ كَكَذَّابِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... لَيْسَ قُدَّامُهَا كَأَذْنَابِهَا قَالَ: فَلَمْ أَرْفَعْ لِقَوْلِهِ رَأْسًا، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ أَتَانِي فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ يَا سَوَادُ بْنُ قَارِبٍ افْهَمْ وَاعْقِلْ إِنْ كُنْتَ تَعْقِلُ؟ إِنَّهُ قَدْ بُعِثَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ يَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى عِبَادَتِهِ، ثُمَّ أَنْشَأَ الْجِنِّيُّ يَقُولُ: عَجِبْتُ لِلْجِنِّ وَأَخْبَارِهَا ... وَشَدِّهَا الْعِيسَ بَأَكْوَارِهَا تَهْوِي إِلَى مَكَّةَ تَبْغِي الْهُدَى ... مَا مُؤْمِنُو الْجِنِّ كَكُفَّارِهَا فَارْحَلْ إِلَى الصَّفْوَةِ مِنْ هَاشِمٍ ... بَيْنَ رَوَابِيهَا وَأَحْجَارِهَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حُبُّ الْإِسْلَامِ وَرَغِبْتُ فِيهِ، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحْتُ شَدَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَانْطَلَقْتُ مُتَوَجِّهًا إِلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا كُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ لِي: فِي الْمَسْجِدِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَعَقَلْتُ رَاحِلَتِي، وَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ حَوْلَهُ قُلْتُ: اسْمَعْ مَقَالَتِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: ادْنُهْ، ادْنُهْ، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى صِرْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: هَاتِ فَأَخْبِرْنِي بِإِتْيَانِكَ رَئِيُّكَ، فَقُلْتُ: أَتَانِي نَجِيِّي بَيْنَ هَدْءٍ وَرَقْدَةٍ ... وَلَمْ يَكُ فِيمَا قَدْ بَلَوْتُ بِكَاذِبٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ كُلُّهُنَّ يَقُولُ لِي ... أَتَاكَ رَسُولٌ مِنْ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ فَشَمَّرْتُ عَنْ ذَيْلِ الْإِزَارِ وَوَسَّطَتْ ... بِيَ الذِّعْلِبُ الْوَجْنَاءُ بَيْنَ السَّبَاسِبِ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ لَا رَبَّ غَيْرُهُ ... وَأَنَّكَ مَأْمُونٌ عَلَى كُلِّ غَائِبٍ وَأَنَّكَ أَوْلَى الْمُرْسَلِينَ وَسِيلَةً ... إِلَى اللَّهِ يَا ابْنَ الْأَكْرَمِينَ الْأَطَايِبِ فَمُرْنَا بِمَا يَأْتِيكَ يَا خَيْرَ مُرْسَلٍ ... وَإِنْ كَانَ فِيمَا جَاءَ شَيْبُ الذَّوَائِبِ وَكُنْ لِي شَفِيعًا يَوْمَ لَا ذُو شَفَاعَةٍ ... سِوَاكَ بِمُغْنٍ عَنْ سَوَادِ بْنِ قَارِبِ قَالَ: فَفَرِحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ بِإِسْلَامِي فَرَحًا شَدِيدًا حَتَّى رُؤِيَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ، قَالَ: فَوَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِلَيْهِ وَالْتَزَمَهُ وَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ هَذَا مِنْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے‘ اسی دوران مسجد کے پچھلے حصے میں سے ایک شخص ان کے پاس سے گزرا‘ اس شخص نے کہا: اے امیر المومنین ! کیا آپ اس آنے والے شخص کو پہچانتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی نہیں! یہ کون ہے؟ تو اس نے بتایا: یہ سواد بن قارب ہیں‘ یہ اہل یمن سے تعلق رکھنے والے ایک فرد ہیں‘ جنہیں یمن میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے‘ اور ان کے مؤکل نے انہیں:نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے بارے میں بتایا تھا‘ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : انے میرے پاس لے کر آؤ‘ وہ انہیں بلا کے لائے‘ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا: تم سواد بن قارب ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا : تم وہ شخص ہو‘ جس کے مؤکل نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے بارے میں بتایا تھا؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں !حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: تم پہلے جو کہانت کیا کرتے تھے‘ کیا وہ اب بھی کر رہے ہو؟ وہ شدید غصے میں آ گیا‘ اس شخص نے کہا: اے امیر المومنین! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے‘ میں نے کبھی اس طرح کا کوئی کام نہیں کیا‘ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: سبحان الله ! ہم جو شرک پر لوگ گامزن رہے ہیں‘ یہ اس سے زیادہ بڑی چیز تھی‘ جس پر تم اپنی کہانت کے حوالے سے گامزن رہے ہو‘ پھر تم مجھے بتاؤ کہ تمہیں اس بارے میں پتہ چلا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور ہونے والا ہے ؟ اس نے کہا: جی ہاں! اے امیر المومنین ! ایک رات میں سونے اور جاگنے کے درمیان کی کیفیت میں تھا‘ اسی دوران میرا مؤکل میرے پاس آیا‘ اس نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور بولا : اے سواد بن قارب ! تم اٹھ جاؤ‘ بات سمجھ لو اور یاد رکھو‘ اگر تم سمجھ سکتے ہو‘ لوٗی بن غالب میں سے‘ ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں‘ جو الله تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیں گے‘ پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:’’مجھے جن اور اس کے جاسوسی کرنے پر حیرانگی ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر کپڑے ڈال لیے ہیں‘ اور وہ مکہ کی طرف جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے‘ اور جنوں میں سے بہتر‘ اُن (جنات) کے نجس کی مانند نہیں ہیں‘ تو تم بھی ہاشم سے تعلق رکھنے والے منتخب فرد کی طرف سفر کرو‘ اور اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے‘ ان کے سر پر نشان لگاؤ (یعنی ان کی زیارت کرو)‘‘۔سواد بن قارب کہتے ہیں : میں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہیں کی‘ میں نے کہا: چھوڑو بھی‘ ابھی شام کے وقت میں اونگھ رہا تھا‘ جب اگلی رات آئی‘ تو پھر وہ میرے پاس آیا‘ اس نے پھر مجھے پاؤں مارا اور کہا: اے سواد بن قارب ! کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ تم اٹھو اور سمجھ لو اور یا در کهو‘ اگر تم یاد رکھ سکتے ہو کہ لؤی بن غالب میں سے ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں‘ جو اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں‘ پھر اس جن نے یہ اشعار پڑھے:’’مجھے جن اور اس کے تلاش کرنے پر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر پالان باندھ دیا ہے وہ مکہ کی طرف جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے‘ اور سچا جھوٹے کی مانند نہیں ہوتا ہے‘ تو تم ہاشم (کے خاندان) سے تعلق رکھنے والے برگزیدہ فرد کی طرف جاؤ اس کا آگے والا حصہ‘ اس کی دُم (یعنی پچھلے حصے) کی مانندنہیں ہوتا ہے‘‘۔راوی کہتے ہیں : میں نے اس کی بات کی طرف توجہ نہیں دی‘ جب تیسری رات آئی تو پھر وہ میرے پاس آیا اور اس نے اپنا پاؤں مجھے مارا اور اس نے کہا: اے سواد بن قارب ! کیا میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ تم سمجھ لو اور یاد رکھو‘ اگر تم یاد رکھ سکتے ہو کہ لؤی بن غالب میں سے ایک رسول مبعوث ہو گئے ہیں‘ جو اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دیتے ہیں‘ پھر اس جن نے یہ اشعار پڑھے:’’مجھے جن اور اس کے خبر دینے پر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے اونٹ پر متعلقہ چیزیں لاددی ہیں‘ اور وہ مکہ جا کر ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہے‘ مومن جن‘ کافر جن کی مانند نہیں ہوتا ہے‘ تو تم ہاشم (کے خاندان) سے تعلق رکھنے والے برگزیدہ فرد کی طرف جاؤ‘ جو وہاں کے زمین کے بلند حصوں اور پتھروں کے درمیان ہیں‘‘۔راوی بیان کرتے ہیں تو میرے دل میں اسلام کی محبت اور اس میں رغبت پیدا ہو گئی‘ جب صبح ہوئی‘ تو میں نے اپنی سواری پر پالان باندھا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا‘ راستے میں مجھے کسی جگہ پر یہ بات پتہ چلی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے گئے ہیں‘ تو میں مدینہ منورہ آ گیا‘ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا‘ تو بتایا گیا کہ وہ مسجد میں ہوں گے‘ میں مسجد میں آیا‘ میں نے اپنی سواری کو باندھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے‘ آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے‘ میں نے کہا: یا رسول اللہ آپ میری بات سن لیجئے ! حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اسے قریب آنے دو! میں قریب ہو گیا‘ میں قریب ہوتا رہا‘ یہاں تک کہ بالکل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ گیا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بتاؤ تمہارے مؤکل نے آ کر کیا کہا تھا؟ تو میں نے یہ کہا: میرا مؤکل میرے پاس آیا‘ جبکہ میں نیند اور بیداری کے درمیان کی حالت میں تھا‘ اس سے پہلے میں نے اسے جب بھی آزمایا تو وہ جھوٹا ثابت نہیں ہوا‘ وہ تین راتوں تک میرے پاس آتا رہا‘ اور ہر مرتبہ وہ مجھ سے یہیں کہتا رہا‘ لؤی بن غالب سے تعلق رکھنے والے رسول تمہارے پاس آ گئے ہیں‘ تو میں نے سفر کی تیاری شروع کی اور ایک موٹی تازی اونٹنی جس کا منہ بڑا تھا‘ وہ مجھے لے کر صحراؤں میں سے گزری اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور آپ ہر غیر موجود کے حوالے سے محفوظ ہیں‘ رسولوں میں الله تعالیٰ کی بارگاہ میں وسیلے کے طور پر ہونے کے اعتبار سے آپ سب سے زیادہ قریبی (یا موزوں) ہیں‘ اے سب سے زیادہ معزز اور پاکیزہ لوگوں کے صاحبزادے! جو (دین) آپ کے پاس آیا ہے‘ آپ اس کے حوالے سے ہمیں حکم دیں‘ اے سب رسولوں سے بہتر ! اگرچہ جو دین یا حکم آیا ہے‘ اس میں بال سفید ہونے کا امکان کیوں نہ ہو‘ اور آپ اس دن میری شفاعت کرنے والے بن جائیں‘ جس دن اپ کع علاوہ اور کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہو گا‘ جو سواد بن قارب کے کام آ سکے‘ راوی کہتے ہیں: تو میرے اسلام قبول کرنے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب بہت خوش ہوئے‘ یہاں تک کہ ان کے چہروں سے یہ بات محسوس ہو رہی تھی۔ (جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کر دیا‘ تو) راوی کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُٹھ کر ان کی طرف بڑھے‘ انہوں نے ان کو اپنے ساتھ لپٹا لیا اور بولے: میں یہ چاہتا تھا کہ میں تمہاری زبانی یہ بات سنوں۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔

بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter about who told of his prophethood, may God bless him and grant him peace] · Hadith 13912

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [38 - 12 - بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ] · حديث 16816

16816 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوَصِيَّةِ نُوحٍ ابْنَهُ؟ ". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: " أَوْصَى نُوحٌ ابْنَهُ فَقَالَ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ، إِنِّي أُوصِيكَ بِاثْنَتَيْنِ، وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ. أُوصِيكَ بِقَوْلِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ; فَإِنَّهَا لَوْ وُضِعَتْ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ فِي كِفَّةٍ لَرَجَحَتْ بِهِنَّ، وَلَوْ كَانَتْ حَلْقَةً لَقَصَمَتْهُنَّ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَى اللَّهِ. وَبُقُولِ: سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ ; فَإِنَّهَا عِبَادَةُ الْخَلْقِ، وَبِهَا تُقْطَعُ أَرْزَاقُهُمْ. وَأَنْهَاكَ عَنِ اثْنَتَيْنِ: الشِّرْكُ وَالْكِبْرُ ; فَإِنَّهُمَا يَحْجُبَانِ عَنِ اللَّهِ ". قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنَ الْكِبْرِ أَنْ يَتَّخِذَ الرَّجُلُ الطَّعَامَ فَيَكُونُ عَلَيْهِ الْجَمَاعَةُ؟ أَوْ يَلْبَسُ النَّظِيفَ؟ قَالَ: " لَيْسَ [ذَاكَ]- يَعْنِي بِالْكِبْرِ - إِنَّمَا الْكِبْرُ أَنْ تُسَفِّهَ الْحَقَّ وَتَغْمِصَ النَّاسَ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي الْوَصَايَا فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ - عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ السَّلَامُ -.

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [38 - 12 - Chapter of what has come in the virtue of no god but God] · Hadith 16816

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [38 - 19 - بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ وَنَحْوِهَا] · حديث 16866

16866 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «سَأَلَتْ أُمُّ هَانِئٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ فَعَلِّمْنِي دَعَوَاتٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِنَّ، قَالَ: " قُولِي: سُبْحَانَ اللَّهِ مِائَةَ مَرَّةٍ تَعْدِلُ مِائَةَ رَقَبَةٍ تُعْتَقُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَاحْمَدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ تَعْدِلُ مِائَةَ فَرَسٍ مُلْجَمٍ يُحْمَلُ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكَبِّرِي اللَّهَ مِائَةً [مَرَّةٍ] تَعْدِلُ مِائَةَ بَدَنَةٍ مُقَلَّدَةٍ تُهْدَى إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، وَوَحِّدِي اللَّهَ مِائَةَ مَرَّةٍ لَا يُدْرِكُكِ ذَنْبٌ بَعْدَ الشِّرْكِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

«سَأَلَتْ أُمُّ هَانِئٍ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← وعن أبي أمامة

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [19 - 38 - Chapter What came in the remaining good ones and the like) · Hadith 16866

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ] · حديث 16956

16956 - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: " «مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَهُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، [بِيَدِهِ الْخَيْرُ] يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ; كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَتْ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ، وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَلَمْ يَحِلَّ لِذَنْبٍ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا الشِّرْكَ، وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا، إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ بِقَوْلٍ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

قَبْلَ ← مَنْ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [Chapter on what is said after the morning and sunset prayers] · Hadith 16956

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ] · حديث 16957

16957 - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: «أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ مَجَلَتْ يَدَايَ مِنَ الرَّحَا، أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا يَأْتِكِ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَةٌ [فَهُوَ] خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ. وَإِذَا صَلَّيْتِ الصُّبْحَ فَقُولِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَعَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ; فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تَكْتُبُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَتَحُطُّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَلَا يَحِلُّ لِذَنْبٍ كُتِبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الشِّرْكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَهُوَ حَرَسُكِ مَا بَيْنَ أَنْ تَقُولِيهِ غُدْوَةً إِلَى أَنْ تَقُولِيهِ عَشِيَّةً مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ، وَمِنْ كُلِّ سُوءٍ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ أَخْصَرَ مِنْهُ وَقَالَ: " هِيَ تَحْرُسُكِ ". مَكَانَ " وَهُوَ ". وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

أُمِّ سَلَمَةَ: «أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [Chapter on what is said after the morning and sunset prayers] · Hadith 16957

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ] · حديث 16958

16958 - وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ «رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " مَنْ قَالَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَهُوَ ثَانٍ رِجْلَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ مَرَّةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ فِي يَوْمِهِ ذَلِكَ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ، وَحَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَكَانَ لَهُ بِكُلِّ مَرَّةٍ عِتْقُ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ كُلِّ رَقَبَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا، وَلَمْ يَلْحَقْهُ يَوْمَئِذٍ ذَنْبٌ إِلَّا الشِّرْكُ بِاللَّهِ. وَمَنْ قَالَ ذَلِكَ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ الْبَلْقَاوِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

أَبِي الدَّرْدَاءِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [Chapter on what is said after the morning and sunset prayers] · Hadith 16958

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ] · حديث 16960

16960 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَنْ قَالَ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ ; أُعْطِيَ بِهِنَّ سَبْعًا، كُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ نَسَمَاتٍ، وَكُنَّ لَهُ حَافِظًا مِنَ الشَّيْطَانِ، وَحِرْزًا مِنَ الْمَكْرُوهِ، وَلَمْ يَلْحَقْهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ذَنْبٌ إِلَّا الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَمَنْ قَالَهُنَّ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ أُعْطِيَ مِثْلَ ذَلِكَ لَيْلَتَهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَاصِمِ بْنِ مَنْصُورٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا ضَعَّفَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [Chapter on what is said after the morning and sunset prayers] · Hadith 16960

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا آوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَإِذَا انْتَبَهَ] · حديث 17033

17033 - وَعَنْ جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون: 1] حَتَّى تَمُرَّ بِآخِرِهَا ; فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

جَبَلَةَ بْنِ حَارِثَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [Chapter of what he says when he is on his bed, and when he is attentive] · Hadith 17033

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا آوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَإِذَا انْتَبَهَ] · حديث 17035

17035 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى كَلِمَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ؟ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون: 1] عِنْدَ مَنَامِكُمْ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [Chapter of what he says when he is on his bed, and when he is attentive] · Hadith 17035

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّبَا] · حديث 6572

6572 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الرِّبَا سَبْعُونَ بَابًا، وَالشِّرْكُ مِثْلُ ذَلِكَ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ: وَالشِّرْكُ مِثْلُ ذَلِكَ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’سود کے ستر دروازے ہیں اور شرک بھی اس کی مانند ہے (یعنی اُس کے بھی ستر دروازے ہیں)‘‘۔ یہ روایت امام بزارنے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے، کہ ’’شرک بھی اس کی مانند ہے‘‘۔

عبد الله -يعني ابن مسعود-

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter on what came in usury] · Hadith 6572

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ] · حديث 3840

3840 - وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، وَلَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْ ذَهَابِ بَصَرِهِ، وَلَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِذَهَابِ بَصَرِهِ فَيَصْبِرُ إِلَّا غُفِرَ لَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’ بندے کوکسی بھی ایسی آزمائش کا شکارنہیں کیا جا تا جواس کے لئے کسی کو اللہ کا شر یک قرار دینے سے زیادہ سخت ہو‘ اور بندے کوکسی بھی ایسی چیز کے ہمراہ آزمائش کا شکارنہیں کیا جا تا جو بینائی کے رخصت ہونے سے زیادہ سخت ہو‘ اور جب بھی کسی بندے کو بینائی کی رخصتی کی آزمائش کا شکار کیا جائے اور وہ شخص صبر سے کام لے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی تو ثیق بھی کی گئی ہے۔

بُرَيْدَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › A door by whom is his sight gone] · Hadith 3840

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ] ‹ بَابُ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ] · حديث 8079

8079 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ مَشَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ وَقَالُوا: حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَجُعِلَتْ عِدْلًا لِلشِّرْكِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب شراب کو حرام قرار دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب ایک دوسرے کی طرف گئے اور بولے: شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے، اور اسے شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔

لما حُرِّمتِ الخمرُ مشى أصحابُ رسولِ الله بعضُهم إلى بعضٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of syrups] › Chapter against alcohol] · Hadith 8079

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطِّبِّ] ‹ [بَابُ فِيمَنْ يَتَطَيَّرُ] · حديث 8415

8415 - عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ عَنْ شَيْءٍ فَقَدْ قَارَفَ الشِّرْكِ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى رَوَى عَنْهُ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِّيُّ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ، وَشَيْخُ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمُ غَيْرُ مَنْسُوبٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : 'نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ارشاد فرمایا :" شگون ( یا بد شگونی ) جسے کسی کام سے روک دے تو ایسا شرک کا مرتکب ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن اسد بن موسیٰ ہے ابو زرعہ رازی نے اس سے روایت نقل کی ہے کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے امام بزار کے استاد اکا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

رُوَيْفِعَ بْنَ ثَابِتٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Medical book] › [Door in whom will fly] · Hadith 8415

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطِّبِّ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي النُّجُومِ وَالْحُرُوفِ] · حديث 8475

8475 - وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ» ".

حضرت عباس بن عبدالمطلب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے مڑ کر مدینہ منورہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : " بے شک اللہ تعالی نے اس شہر کو شرک سے لا تعلق کر دیا ہے ۔

إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ». ← خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Medical book] › [Chapter of what comes in the stars and letters] · Hadith 8475

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الطِّبِّ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي النُّجُومِ وَالْحُرُوفِ] · حديث 8476

8476 - وَفِي رِوَايَةٍ: " «إِنَّ اللَّهَ قَدْ طَهَّرَ هَذِهِ الْقَرْيَةَ مِنَ الشِّرْكِ إِنْ لَمْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :" بے شک اللہ تعالی نے اس بستی کو شرک سے پاک کر دیا ہے اگر ستارے ( یا علم نجوم ) ان لوگوں کو گمراہ نہ کرے "۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ کہا ہے اور ( دوسرے ) لوگوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Medical book] › [Chapter of what comes in the stars and letters] · Hadith 8476

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّوْبَةِ] ‹ [بَابُ مِمَّا يُخَافُ مِنَ الذُّنُوبِ] · حديث 17455

17455 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ، طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ، مَحْتَسِبًا وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَلَهُ الْجَنَّةُ - أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ - وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَبَهْتُ الْمُؤْمِنِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ أَوْ يَمِينٌ صَابِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [penitential] › [Chapter of what is feared of sins] · Hadith 17455

chevron_left Previous
1…252627…144
Next chevron_right