Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الشرك

Shirk

  • Shirk
  • شرک

2863 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ] · حديث 890

890 - عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّمَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رَجُلًا قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى إِذَا رُئِيَ عَلَيْهِ بَهْجَتُهُ وَكَانَ رَدِيءَ الْإِسْلَامِ - اعْتَزَلَ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ، وَخَرَجَ عَلَى جَارِهِ بِسَيْفِهِ، وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : : مجھے تم لوگوں کے بارے میں ایسے شخص کے حوالے سے اندیشہ ہے جو قرآن پڑھے گا ، یہاں تک کہ اس کی چمک اس شخص پر دکھائی دے گی ، اس شخص کا اسلام بیکار ہو گا ، اور وہ الگ ہو کر اس طرف چلا جائے گا ، جو اللہ کو منظور ہو گا وہ تلوار لے کر اپنے پڑوسی کے خلاف نکلے گا اور اس پر مشرک ہونے کا الزام عائد کرے گا "۔یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے ۔

حُذَيْفَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Door] · Hadith 890

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابٌ فِي النَّوْحِ] · حديث 4014

4014 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ رَنَّ إِبْلِيسُ رَنَّةً اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ جُنُودُهُ فَقَالُوا: ايْئَسُوا أَنْ تَرَدُّوا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلَى الشِّرْكِ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَا، وَلَكِنِ افْتِنُوهُمْ فِي دِينِهِمْ، وَأَفْشُوا فِيهِمُ النَّوْحَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو ابلیس رونے لگا اس کے لشکر کے افراد اس کے گرد اکھٹے ہو گئے انہوں نے کہا: تم لوگ اس بات سے مایوس ہوجاؤ کہ تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو آج کے دن کے بعد شرک کی طرف لوٹا دو گے ‘ لیکن تم انہیں ان کے دین کے حوالے سے آزمائش کا شکار کر دو گے اور ان کے درمیان نوحہ کو پھیلا دینا‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نےمعجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اوراس کے رجال کی تو ثیق کی گئی ہے ۔

لما افْتَتَحَ رسولُ اللهِ مكةَ، رنَّ إبليسُ رنَّةً اجتمعتْ إليه جنوده. ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter in the mourning] · Hadith 4014

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ] · حديث 1895

1895 - «وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: " خَرَجَ مِنَ الشِّرْكِ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ہم نے ایک شخص کو اللہ اکبر اللہ اکبر ، اشھد ان لا الہ الا اللہ ، اشھد ان محمد ارسول اللہ ،"کہتے ہوئے سنا ( یعنی اذان دیتے ہوئے سنا ) تو ارشاد فرمایا : یہ شرک سے نکل گیا۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال " ثقہ" ہیں ۔

رَجُلًا ← کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي سَفَرٍ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on the ears of travel] · Hadith 1895

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْفَرَائِضِ] ‹ [بَابٌ فِي أُمٍّ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ] · حديث 7167

7167 - عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أَتَى بِي الْحَجَّاجُ مُوثَقًا، فَلَمَّا أُتِيَ بِي إِلَى بَابِ الْقَصْرِ لَقِيَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ يَا شَعْبِيُّ لِمَا بَيْنَ دَفَّتَيْكَ مِنَ الْعِلْمِ وَلَيْسَ بِيَوْمِ شَفَاعَةٍ بُؤْ لِلْأَمِيرِ بِالشِّرْكِ وَالنِّفَاقِ عَلَى نَفْسِكَ فَبِالْحَرِيِّ أَنْ تَنْجُوَ. قَالَ: فَلَقَّنَنِي، ثُمَّ لَقَّنَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ لِي مِثْلَ مَقَالَةِ يَزِيدَ، فَلَمَّا أُدْخِلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ قَالَ لِي: يَا شَعْبِيُّ، وَأَنْتَ مِمَّنْ خَرَجَ عَلَيْنَا وَكَبَّرَ؟ قُلْتُ: أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ أَحْزَنَ بِنَا الْمَنْزِلُ وَأَجْدَبَ الْجَنَابُ وَضَاقَ الْمَسْلَكُ وَاكْتَحَلْنَا السَّهَرَ وَاسْتَحْلَسْنَا الْخَوْفَ وَوَقَعْنَا فِي خِزْيَةٍ لَمْ نَكُنْ فِيهَا بَرَرَةً أَتْقِيَاءَ، وَلَا فَجَرَةً أَقْوِيَاءَ. قَالَ: صَدَقَ وَاللَّهِ مَا بَرُّوا بِخُرُوجِهِمْ عَلَيْنَا، وَلَا قَوُوا عَلَيْنَا إِذْ فَجَرُوا أَطْلِقَا عَنْهُ. قَالَ: فَاحْتَاجَ إِلَيَّ فِي فَرِيضَةٍ فَبَعَثَ إِلَيَّ قَالَ: مَا تَقُولُ فِي أُمٍّ وَأُخْتٍ وَجَدٍّ؟ قُلْتُ: اخْتَلَفَ فِيهَا خَمْسَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَلِيٌّ وَعُثْمَانُ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ. قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ؟ إِنْ كَانَ لَمُتْقِنًا. قَالَ: جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا، وَلَمْ يُعْطِ الْأُخْتَ شَيْئًا وَأَعْطَى الْأُمَّ الثُّلُثَ. قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا ابْنُ مَسْعُودٍ؟ قُلْتُ: جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ أَعْطَى الْأُخْتَ ثَلَاثَةً وَأَعْطَى الْجَدَّ اثْنَيْنِ وَأَعْطَى الْأُمَّ سَهْمًا. قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: قُلْتُ: جَعَلَهَا أَثْلَاثًا. قَالَ: فَمَا قَالَ فِيهَا أَبُو تُرَابٍ؟ قُلْتُ: جَعَلَهَا مِنْ سِتَّةٍ أَعْطَى الْأُخْتَ ثَلَاثَةً وَأَعْطَى الْأُمَّ اثْنَيْنِ وَأَعْطَى الْجَدَّ سَهْمًا ". قَالَ: فَمَا قَالُ فِيهَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: جَعَلَهَا مِنْ سَبْعَةٍ أَعْطَى الْأُمَّ ثَلَاثَةً وَأَعْطَى الْجَدَّ اثْنَيْنِ وَأَعْطَى الْأُخْتَ اثْنَيْنِ. قَالَ: اؤمُرِ الْقَاضِيَ يُمْضِيهَا عَلَى مَا أَمْضَاهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَالرَّاوِي عَنِ الشَّعْبِيِّ عَبَّادُ بْنُ مُوسَى وَلَيْسَ هُوَ الْخُتَّلِيُّ الَّذِي احْتَجَّ بِهِ الشَّيْخَانِ، وَإِنَّمَا هُوَ الْعُكْلِيُّ، وَذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ: أَنَّهُ تَفَرَّدَ عَنْهُ ابْنُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ مُوسَى بْنِ رَاشِدٍ الْمُلَقَّبُ سَنْدُولَا. وَقَدْ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي سُنَنِهِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ عَنْهُ فَأَدْخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّعْبِيِّ أَبَا بَكْرٍ الْهُذَلِيَّ وَاسْمُهُ سُلْمَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُمْ، وَكَذَّبَهُ غُنْدَرٌ لَكِنَّهُ لَمْ يَتَفَرَّدْ عَنْ عَبَّادٍ ابْنُهُ مُحَمَّدٌ، فَإِنَّهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ وَالْبَيْهَقِيِّ مِنْ رِوَايَةِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبَيْهَقِيِّ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ. وَعَلَى هَذَا فَالْحَدِيثُ مُضْطَرِبُ الْإِسْنَادِ.

امام شبعی بیان کرتے ہیں: حجاج کے پاس مجھے باندھ کر لایا گیا، جب میں محل کے دروازے پر پہنچا، تو یزید بن ابو مسلم کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا: اے شبعی! بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اور تم بڑے عالم آدمی ہو، لیکن آج سفارش کا دن نہیں ہے، تم امیر کے سامنے اپنی ذات کے حوالے سے شرک اور نفاق سے برأت کا اظہار کر لینا، تو یہ اس لائق ہوگا کہ تم نجات پا جاؤ، امام شبعی کہتے ہیں: انہوں نے مجھے تلقین کی پھر محمد بن حجاج نے مجھے تلقین کی اور انہوں نے یزید کی بات کی مانند بات مجھ سے کہی، جب مجھے حجاج کے سامنے لے جایا گیا، تو اس نے مجھ سے کہا: اے شبعی! تم ان افراد میں سے ایک ہو، جنہوں نے ہمارے خلاف خروج کیا اور خود کو بڑا سمجھا؟ میں نے کہا: الله تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے! رہائش نے ہمیں تنگی کا شکار کیا، کنارہ خشک سالی کا شکار ہو گیا راستہ تنگ ہوگیا، ہم رات بھر جاگتے رہے خوف کا شکارر ہے رسوائی میں مبتلاء ہو گئے، ہمارے درمیان تو ایسے نیک لوگ ہیں، جو پرہیزگار ہوں، اور نہ ایسے گنہگار ہیں، جو طاقتور ہوں، تو حجاج نے کہا: اس نے ٹھیک کہا ہے، اللہ کی قسم! نہ تو وہ اتنے نیک ہیں کہ وہ ہمارے خلاف خروج کرسکیں، اور نہ ہی وہ ہمارے خلاف اتنے قوی ہیں، جب وہ گنہگار ہوں، تم اسے چھوڑ دو! امام شبعی کہتے ہیں: پھر ایک وراثت کے مسئلے کے بارے میں اُسے میری ضرورت پیش آئی، اس نے مجھے پیغام بھیجا اور کہا: تم ماں، بہن اور دادا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ میں نے جواب دیا: اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے، پانچ افراد کی آراء ایک دوسرے سے مختلف ہیں، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ۔ حجاج نے دریافت کیا: اس بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ہے؟ اگر وہ متقن تھے، امام شبعی نے جواب دیا: انہوں نے دادا کو باپ کی جگہ قرار دیا ہے، بہن کو کچھ نہیں دیا ہے اور ماں کو ایک تہائی دیا ہے۔ حجاج نے دریافت کیا: اس مسئلہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ہے؟ میں نے جواب دیا: انہوں نے اس کے چھ حصے کیے ہیں، بہن کو تین حصے دیے ہیں، دادا کو دو حصے دیے ہیں اور ماں کو ایک حصہ دیا ہے۔ اس نے دریافت کیا: اس مسئلہ کے بارے میں امیر المؤمنین (یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) نے کیا کہا ہے؟ میں نے کہا : انہوں نے اس کے تین حصے کیے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: اس مسئلہ کے بارے میں حضرت ابوتراب رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ہے؟ میں نے کہا : انہوں نے اس میں چھ حصے کیے ہیں، بہن کو تین حصے دیے ہیں، ماں کو دو حصے دیے ہیں اور دادا کو ایک حصہ دیا ہے۔ اس نے دریافت کیا: اس مسئلہ کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کیا کہا ہے؟ میں نے جواب دیا: انہوں نے اس کے سات حصے کیے ہیں، ماں کو تین حصے دیے ہیں، دادا کو دو حصے دیے ہیں اور بہن کو دو حصے دیے ہیں۔ اُس نے کہا: تم قاضی کو یہ ہدایت کرو کہ وہ اس بارے میں وہ فیصلہ دے، جو امیر المؤمنین (یعنی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ) نے دیا تھا۔ یہ روایت امام بزارنے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، امام شبعی سے روایت کرنے والا شخص عباد بن موسیٰ ہے ،ختلی نہیں ہے، جس سے شیخین نے استد لال کیا ہے، یہ عکلی ہے، امام ذہبی نے ’’میزان‘‘ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ اس کا بیٹا محمد بن بن عباد بن موسیٰ بن راشد، جس کا لقب ”سندولا‘‘ہے، وہ اس سے روایت نقل کرنے میں منفرد ہے۔ یہ روایت امام بیہقی نے اپنی ’’سنن‘‘میں اس کے بیٹے محمد بن عباد کے حوالے سے اس سے نقل کی ہے، اور انہوں نے اس کے اور امام شبعی کے درمیان ابوبکر ہذلی نامی راوی کو داخل کیا ہے، جس کا نام سلمیٰ بن عبداللہ ہے، امام احمد، یحییٰ بن معین، ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، غندر نے اسے جھوٹا کہا ہے، لیکن عبادنامی راوی سے اس کا بیٹا محمد نقل کرنے میں منفرد نہیں ہے، کیونکہ یہی روایت امام بزار اور امام بیہقی نے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے اس راوی سے نقل کی ہے، امام بیہقی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: موسیٰ بن عباد نے ہمیں حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: امام شبعی نے ہمیں یہ بات بیان کی، تو اس بنیاد پر اس روایت کی سند اضطراب والی ہے۔

الشَّعْبِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Surplus Faras] › [A door in a mother, sister, and grandfather] · Hadith 7167

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصِّيَامِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ يُصْبِحُ صَائِمًا ثُمَّ يُفْطِرُ] · حديث 5226

5226 - عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: «شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْكَانِي. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الشِّرْكُ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ؟ قَالَ: " نَعَمْ ; أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا، وَلَكِنْ يُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ، وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَةٌ مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ ; خَلَا ذِكْرِ الصَّوْمِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت شداد بن اوس ؓکے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ رو پڑے ان سے دریافت کیا گیا :آپ کیوں رور ہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ایک بات میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی اس کے رلاد یا ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشادفر ماتے ہوئے سنا ہے:”مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ شرک کا ہے اور پوشیدہ شہوت کا ہے میں عرض کی :یا رسول اللہ! کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک کرے گی؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: جی ہا ں وہ سورج یا چاند یا پتھر یابت کی عبادت نہیں کر یں گے بلکہ وہ اپنے اعمال کا دکھاوا کر یں گے اور خفیہ شہوت یہ ہے کہ کوئی شخص روزہ دار ہونے کے عالم میں صبح کرے گا پھر کوئی خواہش اس کے سامنے آئے گی تو وہ اپنے روزے کو ترک کر دےگا‘‘۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم ان کی روایت میں روزےکاذکرنہیں ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن زید ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔

أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الشِّرْكُ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ قُلْتُ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَأَبْكَانِي. ← شَيْءٍ ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ بَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The fasting book] › Chapter on those who fast and then break their fast. · Hadith 5226

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ الْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ] · حديث 5362

5362 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ بَعْدَ إِسْمَاعِيلَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَكَانَ الشَّيْطَانُ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِالشَّيْءِ يُرِيدُ أَنْ يَرُدَّهُمْ عَنِ الْإِسْلَامِ حَتَّى أَدْخَلَ عَلَيْهِمْ فِي التَّلْبِيَةِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ... لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ إِلَّا شَرِيكٌ هُوَ لَكَ ... تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ قَالَ: فَمَا زَالَ حَتَّى أَخْرَجَهُمْ عَنِ الْإِسْلَامِ إِلَى الشِّرْكِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت انسؓ بیان کر تے ہیں : حضرت اسماعیلؑ کے بعدلوگ اسلام پر گامزن رہے شیطان لوگوں کو مختلف باتیں سکھا تار ہتا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کو اسلام سے ہٹادے یہاں تک کہ شیطان نے ان لوگوں پر تلبیہ کےیہ کلمات داخل کیے:’’ میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے ‘البتہ اس شریک کا معاملہ مختلف ہے ‘جو تیری ملکیت ہوجس کا تو مالک ہو ‘اور جس چیز کاوہ ما لک ہے ( اس کا بھی تو مالک ہو )‘‘۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: تو شیطان مسلسل اس طرح کر تار ہا یہاں تک کہ اس نے لوگوں کو اسلام سے نکال کر شرک کی طرف کر دیا۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔

النَّاسَ بِالشَّيْءِ يُرِيدُ ← كَانَ النَّاسُ بَعْدَ إِسْمَاعِيلَ عَلَى الإِسْلامِ فَكَانَ الشَّيْطَانُ ← أَنَسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [Chapter of devotion and worship] · Hadith 5362

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ الْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ] · حديث 5363

5363 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ يُلَبِّي أَهْلُ الشِّرْكِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ... لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ ... تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {هَلْ لَكُمْ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِيمَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ} [الروم: 28]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: مشرکین کا تلبیہ یہ تھا:”اے اللہ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے البتہ اس شریک کا معاملہ مختلف ہے‘ جس کا تو مالک ہو‘ اور جس چیز کا وہ مالک ہے اس کا بھی تو مالک ہے‘‘۔تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی:’’کیا جو (غلام اور کنیز یں) تمہاری ملکیت ہیں ‘جورزق ہم نے تمہیں دیا ہے کیا وہ اس میں شراکت دار ہیں کہ تم ( اور تمہارے زیر ملکیت ) اس ( مال کی ملکیت) میں برابر ہوں‘ کیا تم ان کے بارے میں اسی طرح خوف رکھتے ہوجس طرح تم اپنے بارے میں خوف رکھتے ہو….‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں حماد بن شعیب ہے‘ اور وہ ضعیف ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [Chapter of devotion and worship] · Hadith 5363

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ بَابُ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ وَالْمُزْدَلِفَةِ] · حديث 5559

5559 - عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ أَهْلَ الشِّرْكِ وَالْأَوْثَانِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِ الْجِبَالِ، كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهَا، وَإِنَّا نَدْفَعُ بَعْدَ أَنْ تَغِيبَ». وَكَانُوا يَدْفَعُونَ مِنَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُنْبَسِطَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت مسور بن مخر مہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں ہمیں خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالٰی کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ امابعد ! مشرکین اور بت پرست اس جگہ سے واپس چلے جاتے تھے جب سورج پہاڑوں کے سروں پر ہوتا تھایوں جیسے آدمیوں کے عمامے ہوتے ہیں لیکن ہم اس کے غائب ہونے کے بعد روانہ ہوں گے وہ لوگ مشعر حرام سے جایا کرتے تھے جب سورج (کی روشنی ) پھیلی ہوئی ہوتی تھی‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › The payment section of Arafat and Muzdalfa] · Hadith 5559

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ [بَابُ النَّهْيِ أَنْ يَقُولَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا] · حديث 13271

13271 - عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ، وَلَكِنْ أَخَافُ أَنْ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ تُضِلَّهُمُ النُّجُومُ ". قَالَ: " يَنْزِلُ الْغَيْثُ فَيَقُولُونَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى حَسَنٌ.

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف رُخ کر کے ارشاد فرمایا: ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو شرک سے لاتعلق کر دیا ہے لیکن مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ستارے ان لوگوں کو گمراہی کا شکار کر دیں گے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ستارے کیسے انہیں گمراہی کا شکار کر دیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بارش نازل ہو گی تو لوگ یہ کہیں گے فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے‘‘۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے‘ اور امام ابو یعلیٰ کی سند حسن ہے۔

خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › [Chapter for the prohibition is that our Master says for such-and-such] · Hadith 13271

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الدِّينِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ] · حديث 200

200 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ "، ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " وَأَنَا أَشْهَدُ وَأَشْهَدُ أَلَّا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ مُوَثَّقُونَ.

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے، کہ اسی دوران آپ نے کچھ لوگوں کو سنا ، جو یہ کہہ رہے تھے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کو ن سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور مبرور حج ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وادی میں کسی شخص کو بلند آواز میں یہ کہتے ہوئے سنا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اس کلمے کے حوالے سے گواہی دے گا، وہ شرک سے لاتعلق ہو جائے گا"۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور امام احمد کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔

الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ ← وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter Which work is better and which religion is most beloved to God] · Hadith 200

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ باب · حديث 5732

5732 - وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ قَالَ: «أَدْخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى عَائِشَةَ نَاسًا مِنْ خِيَارِ قُرَيْشٍ، وَكُبَرَائِهِمْ فَأَخْبَرَتْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالشِّرْكِ لَبَنَيْتُ الْبَيْتَ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - هَلْ تَدْرُونَ لِمَ قَصَّرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ؟ "، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ "، قَالَ: " وَكَانَتِ الْكَعْبَةُ قَدْ وَهَتْ مِنْ حَرِيقِ أَهْلِ الشَّامِ فَهَدَمَهَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ فَكَشَفَ عَنْ رُبْضٍ فِي الْحِجْرِ أَخَذَ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ فَتَرَكَهُ مَكْشُوفًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ يَشْهَدُ عَلَيْهِ "، قَالَ: " فَرَأَيْتُ رُبْضَةَ ذَلِكَ كَحِلْفِ الْإِبِلِ خَمْسَ حِجَارَاتٍ: وَجْهٌ حَجَرٌ، وَوَجْهٌ حَجَرٌ، وَوَجْهٌ حَجَرٌ، وَوَجْهٌ حَجَرَانِ "، قَالَ: " فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يُدْخِلُ الْعَتَلَةَ فَيُهْرِقُهَا مِنْ نَاحِيَةِ الرُّكْنِ فَيَهْتَزُّ الرُّكْنُ الْآخَرُ "، قَالَ: " فَبَنَاهُ عَلَى ذَلِكَ الرُّبُضِ، وَوَضَعَ فِيهِ بَابَيْنِ لَاصِقَيْنِ بِالْأَرْضِ شَرْقِيًّا، وَغَرْبِيًّا ". فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ هَدَمَهُ الْحَجَّاجُ مِنْ نَحْوِ الْحِجْرِ ثُمَّ أَعَادَهُ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ: وَدِدْتُ أَنَّكَ تَرَكْتَ ابْنَ الزُّبَيْرِ، وَمَا عَمِلَ. قَالَ مَرْثَدٌ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَوْ وَلِيتُ مِنْهُ مَا وَلِيَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَدْخَلْتُ الْحِجْرَ كُلَّهُ فِي الْبَيْتِ، فَلِمَ يُطَفْ بِهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ مِنَ الْبَيْتِ؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَمَرْثَدٌ هَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ جَرْحًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

مرشد بن شرحبیل جو اس موقع پر موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے قریش کے کچھ معززین اور اکابرین کو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ”اگر تمہاری قوم زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتی تو میں خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ان لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بنیادوں میں کمی کیوں کی تھی‘‘۔ میں نے جواب دیا: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے پاس خرچ ختم ہو گیا تھا راوی بیان کرتے ہیں: اہل شام کے جلانے کی وجہ سے خانہ کعبہ کی عمارت کمزور ہو گئی تھی تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے منہدم کروا دیا میں ان دنوں مکہ میں موجود تھا انہوں نے حطیم میں بنیادوں سے ہٹایا تو اس کا حصہ ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوا تھا انہوں نے تیس دن تک اس جگہ کو کھلا رکھا تا کہ اس پر گواہ بنالیں راوی کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا کہ وہ اونٹ کی کوہان کی مانند پانچ پتھر تھے ایک طرح کا ایک پتھر تھا ایک طرح کا ایک پتھر تھا ایک طرح کا ایک پتھر تھا اور ایک طرح کے دو پتھر تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے پتھر اکھاڑنے والی لکڑی کو داخل کیا اور رکن کی طرف سے حرکت دی ‘ تو دوسری طرف کا رکن ہل گیا‘ تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان بنیادوں پر اسے تعمیر کیا اور اس کے دو دروازے بنائے جو زمین سے ملے ہوئے تھے ایک مشرق کی سمت میں تھا اور ایک مغرب کی سمت میں تھا۔ جب حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو حجاج نے حطیم والے حصے کو مہندم کروا دیا اور اسے پہلے کی طرح دوبارہ کر دیا عبدالملک نے اسے خط میں لکھا میری یہ خواہش تھی کہ تم ابن زبیر اور جو کچھ اس نے کیا ہے اسے ویسے ہی رہنے دیتے۔ مرثد بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اگر میں اس چیز کا نگران بنتا جس کے نگران ابن زبیر بنے تھے تو میں پوری حطیم کو بیت اللہ میں داخل کردیتا کیونکہ اگر یہ بیت اللہ کا حصہ نہ ہوتی تو اس کا طواف نہ کیا جاتا ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مرثد نامی اس راوی کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے۔ انہوں نے اس کے بارے میں کوئی جرح ذکر نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

مَرْثَدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَنَّهُ حَضَرَ ذَلِكَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › Chapter · Hadith 5732

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ تَطْهِيرِهَا مِنَ الشِّرْكِ] · حديث 5780

5780 - عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: «خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ».

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینہ منورہ سے نکلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالی ٰنے اس سرزمین کو شرک سے لاتعلق کر دیا ہے‘‘۔

إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَ هَذِهِ الْجَزِيرَةَ مِنَ الشِّرْكِ». ← خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْمَدِينَةِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهَا ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [Chapter of her purification from polytheism] · Hadith 5780

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ تَطْهِيرِهَا مِنَ الشِّرْكِ] · حديث 5781

5781 - وَفِي رِوَايَةٍ: " «إِنَّ اللَّهَ قَدْ طَهَّرَ هَذِهِ الْقَرْيَةَ مِنَ الشِّرْكِ إِنْ لَمْ تُضِلُّهُمُ النُّجُومُ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ فِي الْأَدَبِ.

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ” بے شک اللہ تعالی ٰنے اس بستی کو شرک سے پاک کر دیا ہے اگر ستارے ان لوگوں کو گمراہ نہ کریں‘‘۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور سفیان ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے اور لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے امام ابویعلی ٰکےبقیہ رجال ثقہ ہیں کتاب الادب میں یہ روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے۔

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [Chapter of her purification from polytheism] · Hadith 5781

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي قَوْلِهِ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَنَحْوِ هَذَا] · حديث 374

374 - وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ". فَأَدَارَ دَارَةً وَاسِعَةً فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ أَدَارَ فِي وَسَطِ الدَّارَةِ دَارَةً، فَقَالَ: الدَّارَةُ الْأُولَى الْإِسْلَامُ، وَالدَّارَةُ الَّتِي فِي وَسَطِ الدَّارَةِ الْإِيمَانُ، فَإِذَا زَنَى خَرَجَ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَلَا يُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا الشِّرْكُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ يَسَارٍ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ.

فضل بن یسار بیان کرتے ہیں: میں نے محمد بن علی( شاید اس سے مراد ، امام باقر) کو سنا، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: زنا کرنے والا، زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے ولا ، چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، تو محمد بن علی نے زمین پر ایک بڑا دائرہ بنایا، پھر اس کے درمیان میں ایک اور دائرہ بنایا، اور پھر یہ فرمایا: پہلے والا دائرہ اسلام ہے اور درمیان والا دائرہ 'ایمان' ہے جب کوئی شخص زنا کرتا ہے، تو وہ ایمان سے نکل کر اسلام کی طرف چلا جاتا ہے، لیکن شرک کے علاوہ اور کوئی چیز اسے اسلام سے باہر نہیں کرتی ہے۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن یسار ہے، عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے۔

مُحَمَّد بن علي وسئل ← الْفَضْلُ بْنُ يَسَارٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in his saying that the adulterer does not commit adultery when he commits adultery while he is a believer, and about this] · Hadith 374

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الرِّيَاءِ] · حديث 375

375 - عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ ". قَالَ: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الرِّيَاءُ، يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِذَا جَزَى النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاءُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا، هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً»؟ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ أَحَادِيثِ الرِّيَاءِ فِي الزُّهْدِ وَنَحْوِهِ.

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:: "تم لوگوں کے بارے میں، مجھے سب سے زیادہ اندیشہ چھوٹے شرک کا ہے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! چھوٹے شرک سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ریا کاری، جب اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دے گا(تو ریا کاری کرنے والوں سے فرمائے گا : ) تم لوگ ان کی طرف چلے جاؤ! جن کے لئے تم دنیا میں دکھاوا کرتے تھے، اور تم اس بات کا جائزہ لو! کہ تمہیں ان کے پاس کوئی جزا ملتی ہے؟"۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: ریاکاری سے متعلق باقی احادیث ، زہد اور اس کی مانند (دیگر امور سے متعلق ابواب )میں آئیں گی۔

مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of what came in hypocrisy] · Hadith 375

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ] · حديث 380

380 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ ; فَلَهُ الْجَنَّةُ - أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ -. وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَبَهْتُ مُؤْمِنٍ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَيَمِينٌ فَاجِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں:: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص اسی حالت میں، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو، کہ وہ کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیتا ہو، اور وہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے، اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتا ہو، وہ اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہو، تو اسے جنت نصیب ہو گی(راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں:)" وہ جنت میں داخل ہو گا، اور پانچ ایسے کام ہیں، جن کا کوئی کفارہ نہیں ہے، (کسی کو) اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا، کسی کو نا حق طور پر قتل کرنا، مومن پر بہتان لگانا، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا، جس کے ذریعے آدمی ناحق طور پر کسی کا مال ہتھیا لے"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے، جو تدریس کرنے والا ہےاور اس نے یہ روایت "عنعنہ" کے طور پر نقل کی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the majorities] · Hadith 380

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ] · حديث 385

385 - وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ السَّبْعَ "، فَسَكَتَ النَّاسُ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا تَسْأَلُونَنِي عَنْهُمْ؟ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ، وَالتَّعَرُّبُ بَعْدَ الْهِجْرَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " سات کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو ! لوگ خاموش رہے ، کسی نے کوئی بات نہیں کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھ سے ان کے ( کبیرہ گناہوں کے ) بارے میں دریافت نہیں کرو گے؟ ( وہ یہ ہیں : ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا ، کسی کو قتل کرنا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سو د کھانا ، پاک دامن عورت پر الزام لگانا ، اور ہجرت کر لینے کے بعد دیہاتی زندگی اختیار کرنا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایک راوی ابن لہیعہ ہے۔

«اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ السَّبْعَ فَسَكَتَ النَّاسُ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the majorities] · Hadith 385

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ] · حديث 386

386 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ: " لَا أُقْسِمُ، لَا أُقْسِمُ "، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ: " أَبْشِرُوا، أَبْشِرُوا، مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَاجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ; دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ ". قَالَ الْمُطَّلِبُ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو: أَسْمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُهُنَّ؟ قَالَ: نَعَمْ، عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَالشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ، وَأَكْلُ الرِّبَا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ نے ارشاد فرمایا: میں قسم اٹھا تا ہوں! میں قسم اٹھاتا ہوں ! پھر منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور ارشاد فرمایا: تم لوگ یہ خوش خبری حاصل کر و! تم لوگ یہ خوش خبری حاصل کرو! کہ جو شخص پانچ نمازیں ادا کرے اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے ، وہ جنت کے جس بھی دروازے سے چاہے گا، اندر داخل ہو جائے گا، مطلب نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان ( کبیرہ گناہوں ) کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں ! ( وہ کبیرہ گناہ یہ ہیں ) والدین کی نا فرمانی کرنا ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو قتل کرنا ، پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا ، یتیم کا مال کھانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور سود کھانا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ولید بن عباس ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the majorities] · Hadith 386

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ] · حديث 387

387 - وَعَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «ثَلَاثَةٌ لَا يَنْفَعُ مَعَهُنَّ عَمَلٌ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ، ضَعِيفٌ جِدًّا.

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : تین چیزو کے ہمراہ ، کوئی فائدہ نہیں دے گا، ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نا فرمانی کرنا ، اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیع ہے، جو انتہائی ضعیف ہے۔

النَّبِيِّ ← ثَوْبَانَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the majorities] · Hadith 387

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ] · حديث 391

391 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكَبَائِرُ؟ قَالَ: " الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالْإِيَاسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the majorities] · Hadith 391

chevron_left Previous
1…242526…144
Next chevron_right