حضرت ابن عجلان رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اور حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ یہ سب حضرات مشرکین سے سلام کرنے میں پہل کرتے تھے۔
حضرت سلمہ بن نبیظ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن مزاحم رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: میرے نزدیک شرک سے توبہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ میں مومن کو قتل سے توبہ کروں۔
حضرت زیاد بن ابی مریم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کسی سفر میں تشریف لے گئے ۔ پس ایک ہرن آپ رضی اللہ عنہ کی طرف آئی یہاں تک کہ جب وہ آپ رضی اللہ عنہ کے قریب ہوئی تو واپس لوٹ گئی ۔ اس پر کسی شخص نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا : اے امیر آپ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ جائیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : مجھے بتلاؤ تم نے کس چیز سے بد شگونی لی ؟ کیا اس کے آنے سے جب وہ میری طرف آئی ؟ یا اس کے پلٹ جانے سے کہ جب وہ پلٹ کر چلی گئی ؟ پھر اس وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : یقیناً بد فالی شرک کی شاخ ہے ۔
حضرت نوفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: آئے ہوئے تمہیں کیا چیز لائی؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آیا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے سوتے وقت پڑھنے کے لیے کوئی دعا سکھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو تم سورۃ الکافرون پڑھو، پھر اس کے ختم کرنے پر سو جاؤ۔ اس لیے کہ یہ سورت شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔
حضرت نوفل اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دیجئے جو میں صبح و شام پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سورۃ الکافرون پڑھا کرو، پھر اس کے ختم ہونے پر سوجایا کرو۔ اس لیے کہ یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کی ابتدا کا واقعہ یہ ہوا کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میری بہن کو در دزہ ہوا تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ میں ایک تاریک رات میں خانہ کعبہ کے پردوں میں داخل ہو گیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ جوتوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور جتنا اللہ نے چاہااتنی نماز پڑھی۔ پھر میں نے ایک ایسی آواز سنی جو پہلے نہ سنی تھی ۔ میں اس آواز کے پیچھے چل پڑا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے؟ میں نے کہا کہ عمر ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر! کیابات ہے کہ تم ہمیں نہ دن میں چھوڑ تے ہو نہ رات میں ۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے خلاف بد دعا نہ کر دیں ۔ لہٰذا میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا اے عمر اس بات کو خفیہ رکھو۔ میں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جس طرح میں نے شرک کا اعلان کیا تھا میں ایمان کا بھی اعلان کروں گا۔
حضرت عبداللہ بن عباس اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ کوئی شخص مشرکین کی سر زمین میں موجود کھانے میں سے کھا لے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلا جائے ۔
34347 - حضرت ابن عبداللہ سے دریافت کیا گیا کہ ہم لوگ کافروں کے ملک میں جا کر ان کے قلعہ کا محاصرہ کریں پھر وہ لوگ ہمارے ساتھ سخت مزاحمت کریں اور بعد میں ہم سے امن طلب کریں اور ان کا امیر انکار کر دے تو ان کے ساتھ لڑنے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 31- The book › 185- In the people, people are surrounded by the people, and they ask for safety. The people say: Yes, and some of them refuse to do so. · Hadith 34347
مصنف ابن أبي شيبة · 32- كِتَابُ الْبُعوثِ وَالسَّرَايَا ‹ 9- مَا حَفِظْتُ فِي الْيَرْمُوكِ. · حديث 34529
34529 - حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ہم یر موک کی لڑائی سے واپس آئے تو حضرت عمر ہمارے استقبال کے لئے آےت ۔ اس وقت ہمارے جسم پر ریشم کا لباس تھا ۔ حضرت عمر نے لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں پتھر مارے جائیں۔ ہم نے کہا کہ انہیں ہمارے بارے میں نہ جا
حضرت اوزاعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زھری رحمتہ اللہ علیہ سے ایک آدمی سے متعلق سوال کیا جو شرک کے زمانے میں کسی آدمی کی اس کے باپ سے نفی کر دے؟ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: اس پر حد جاری ہوگی ، اس لیے کہ اس نے اس کے نسب کی نفی کی ہے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 13- Book of sales and districts › 163. In a man, he buys food for the purpose of holding it before taking it. · Hadith 21742
مصنف ابن أبي شيبة · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ 164- مَنْ قَالَ إذا بِعت بيعًا فلا تبِعه حتّى تقبِضه. · حديث 21749
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 13- Book of sales and districts › 164. Whoever says if you sell something, do not sell it until you receive it. · Hadith 21749
مصنف ابن أبي شيبة · 23- كتَاب الدُّعاء ‹ 24- ما قالوا فِي الرّجلِ إذا أخذ مضجعه وأوى إلى فِراشِهِ ، ما يدعو بِهِ ؟. · حديث 29916
حضرت نوفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ و علیہ وسلم نے ان سے پوچھا؟ آنے والے کیا چیز تمہیں لے کر آئی ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم! آپ مجھے کوئی دعا سکھلا دیجیے جو میں سو تے وقت پڑھ لیا کروں، آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے بستر پرلیٹو تو یہ سورت کا فرون پڑھ لیا کرو کہہ دیجئے !اے کافرو؟“ پھراس کے خاتمہ پرسو جایا کرو کہ یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 23- The Book of Supplication › 24- What did they say to the man if he took his bed and lodged it to his bed, what should he do with it? · Hadith 29916
مصنف ابن أبي شيبة · 23- كتَاب الدُّعاء ‹ 24- ما قالوا فِي الرّجلِ إذا أخذ مضجعه وأوى إلى فِراشِهِ ، ما يدعو بِهِ ؟. · حديث 29918
حضرت نوفل الا شجعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ما! مجھے کوئی ایسی چیز بتاد یجئے جو میں صبح و شام پڑھا کروں، آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا تم سورت کافرون پڑھا کرو! کہہ دیجئے!اے کافرو! پھر اس کے خاتمہ پر سو جایا کرو، پس یہ شرک سے بری ہونے کا پروانہ ہے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 23- The Book of Supplication › 24- What did they say to the man if he took his bed and lodged it to his bed, what should he do with it? · Hadith 29918
مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 13- إِسْلاَمُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ الله ُعَنْهُ. · حديث 37754
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا اوّل ( زمانہ ) تھا۔ فرماتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ ایک رات میری بہن کو اونٹنی نے مارا تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ پس میں ایک ٹھنڈی رات کو کعبہ کے پردوں میں داخل ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ حجر اسود پر داخل ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی جتنی دیر اللہ تعالی ٰ نے چاہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلمٍ واپس مڑے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ میں نے ایسی شئی سُنی جس کی مثل میں نے ( پہلے )نہیں سُنی تھی ۔ پس میں نکلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٍکے پیچھے ہولیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا۔عمر ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر ! تو مجھے دن کو چھوڑتا ہے اور نہ ہی رات کو ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے بد دعا کر دیں گے ۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ فرماتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! اس کو چھپاؤ۔ فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ۔البتہ میں ضرور بالضروراس کا یوں ہی اعلان کروں گا جیسا کہ میں نے شرک کا اعلان کیا تھا۔
حضرت ابو علی رحمۃ اللہ علیہ جو قبیلہ بنو کاہل کے ایک شخص ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا : کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم سے خطاب کر تے ہوئے فرمانے لگے : اے لوگو! شرک سے بچو یقیناً وہ چیونٹی کی آھٹ سے بھی زیادہ خفی ہے ، پس جس نے پوچھنا چاہا تو پوچھا : اے اللہ کے رسول ہم کیسے اس سے بچ سکتے ہیں حالانکہ وہ چیونٹی کی آھٹ سے بھی زیادہ خفی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ کلمات پڑھ لیا کرو : اے اللہ ! ہم آپ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ شریک ٹھہرائیں اس چیز کو جس کو ہم جانتے ہیں ، اور ہم آپ سے بخشش طلب کرتے ہیں ان گناہوں کی جن کو ہم نہیں جانتے ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 23- The Book of Supplication › 62- In seeking refuge from polytheism, and what a man says when he is absolved of it. · Hadith 30163
مصنف ابن أبي شيبة · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ 426- شَهَادَةُ أَهْلِ الشِّرْكِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ. · حديث 23325