Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان والعمل

Faith & Deeds

26349 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16295

قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى قَالَ أَمَا مَرَرْتَ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِكَ مُجْدِبَةٍ ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُخْصَبَةً قَالَ نَعَمْ قَالَ كَذَلِكَ النُّشُورُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْإِيمَانُ قَالَ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ تُحْرَقَ بِالنَّارِ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِاللَّهِ وَأَنْ تُحِبَّ غَيْرَ ذِي نَسَبٍ لَا تُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا كُنْتَ كَذَلِكَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْإِيمَانِ فِي قَلْبِكَ كَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَاءِ لِلظَّمْآنِ فِي الْيَوْمِ الْقَائِظِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ لِي بِأَنْ أَعْلَمَ أَنِّي مُؤْمِنٌ قَالَ مَا مِنْ أُمَّتِي أَوْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبْدٌ يَعْمَلُ حَسَنَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا حَسَنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَازِيهِ بِهَا خَيْرًا وَلَا يَعْمَلُ سَيِّئَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا سَيِّئَةٌ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهَا وَيَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ إِلَّا هُوَ إِلَّا وَهُوَ مُؤْمِنٌ

حضرت ابورزین سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم کبھی ایسی وادی سے نہیں گذرے جہاں پہلے پھل نہ ہو پھر دوبارہ گذرنے پر وہ سر سبز شاداب ہوچکا ہو میں نے عرض کیا جی ہاں فرمایا اسی طرح مردے زندہ ہوجائیں گے۔پھرعرض کیا یا رسول اللہ ایمان کیا چیز ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ اللہ اور اس کے رسول تمہاری نگاہوں میں اپنے علاوہ سب سے زیادہ محبوب ہوجائیں تمہیں دوبارہ شرک کی طرف لوٹنے سے زیادہ آگ میں جل جانا پسند ہوجائے اور کسی ایسے شخص سے جو تمہارے ساتھ نسبی قرابت نہ رکھتا ہو صرف اللہ کی رضا کے لے محبت کرتا ہو جب تم اس کیفیت تک پہنچ جاؤ توسمجھ لو کہ ایمان کی محبت تمہارے دل میں اترچکی ہے جیسے سخت گرمی کے موسم میں پیاسے آدمی کے دل میں خواہش پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنے بارے میں کیسے معلوم کرسکتاہوں کہ میں مومن ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا جو امتی بھی کوئی نیک عمل کرے اور وہ اسے نیکی سمجھتا بھی ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدلہ ضرور دے گا یا کوئی گناہ کرے اور اسے یقین ہوجائے کہ یہ گناہ ہے اور وہ اس پر استغفار کرے اور یہ یقین رکھتا ہو کہ اللہ کے علاوہ اسے کوئی معاف نہیں کرسکتا تو وہ مومن ہے۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16295

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16308

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنٌ لِكِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَاهُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لِأُمَّتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ فَأَكْثَرَ الدُّعَاءَ فَأَجَابَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ قَدْ فَعَلْتُ وَغَفَرْتُ لِأُمَّتِكَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَقَالَ يَا رَبِّ إِنَّكَ قَادِرٌ أَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ وَتُثِيبَ الْمَظْلُومَ خَيْرًا مِنْ مَظْلَمَتِهِ فَلَمْ يَكُنْ فِي تِلْكَ الْعَشِيَّةِ إِلَّا ذَا فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ دَعَا غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ فَعَادَ يَدْعُو لِأُمَّتِهِ فَلَمْ يَلْبَثْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَبَسَّمَ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ضَحِكْتَ فِي سَاعَةٍ لَمْ تَكُنْ تَضْحَكُ فِيهَا فَمَا أَضْحَكَكَ أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ قَالَ تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللَّهِ إِبْلِيسَ حِينَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اسْتَجَابَ لِي فِي أُمَّتِي وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ أَهْوَى يَدْعُو بِالثُّبُورِ وَالْوَيْلِ وَيَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ جَزَعُهُ

حضرت ابن مرداس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب عرفہ اپنی امت کے لئے بڑی کثرت سے مغفرت اور رحمت کی دعاکی اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا کہ میں نے آپ کی دعاقبول کرلی اور آپ کی امت کو بخش دیا لیکن ایک دوسرے پر ظلم کرنے والوں کو معاف نہیں کروں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پروردگارتو اس بات پر قادر ہے کہ ظالم کو معاف فرمادے اور مظلوم کو اس پر ہونے والے ظلم کا بہترین بدلہ عطا فرمادے گا اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی دعا فرماتے رہے۔ اگلے دن جب آپ مزدلفہ میں صبح کے وقت دعا کرنے لگے تو پھر یہی دعا فرمائی کچھ ہی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے کسی صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس وقت آپ عام طور پرہنستے نہیں ہیں اللہ آپ کو ہنساتا رکھے آپ کس بات پرہنس رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کے دشمن ابلیس کو دیکھ کر مسکرا رہا ہوں کہ جب اسے یہ معلوم ہوا کہ اللہ نے میری امت کے بارے میں میری دعا قبول فرمالی اور ظالم کو بھی بخشنے کا وعدہ کرلیا تو وہ ہلاکت بربادی پکارتا ہوا اور سر پر خاک اڑاتا ہوا بھاگ گیا مجھے اس کی یہ حالت دیکھ کر ہنسی آگئی۔

أَبِيهِ أَنَّ أَبَاهُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ ← ابنٌ لكنانة بن عباس بن مرداسٍ، ← عبد القاهر بن السري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16308

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21780

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ أَيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْفَسُهَا قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ قَالَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ قَالَ فَدَعْ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کر دو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کر لو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں تو؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔

جاء رجل إلى النبي فسأله فقال ← اَبِیْ ذَرٍّ ← اَبِیُ مُرَاوِحِ الْغِفَارِیِّ ← عُرْوَةَ ← حَبِيبٍ مَوْلَی عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21780

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21792

حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَا حَدَّثَنَا الْعَوَّامُ قَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ الْقَاسِمِ وَقَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ رَجُلٍ قَالَ كُنَّا قَدْ حَمَلْنَا لِأَبِي ذَرٍّ شَيْئًا نُرِيدُ أَنْ نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فَأَتَيْنَا الرَّبَذَةَ فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قِيلَ اسْتَأْذَنَ فِي الْحَجِّ فَأُذِنَ لَهُ فَأَتَيْنَاهُ بِالْبَلْدَةِ وَهِيَ مِنًى فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ قِيلَ لَهُ إِنَّ عُثْمَانَ صَلَّى أَرْبَعًا فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ قَامَ أَبُو ذَرٍّ فَصَلَّى أَرْبَعًا فَقِيلَ لَهُ عِبْتَ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْئًا ثُمَّ صَنَعْتَ قَالَ الْخِلَافُ أَشَدُّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَقَالَ إِنَّهُ كَائِنٌ بَعْدِي سُلْطَانٌ فَلَا تُذِلُّوهُ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُذِلَّهُ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ وَلَيْسَ بِمَقْبُولٍ مِنْهُ تَوْبَةٌ حَتَّى يَسُدَّ ثُلْمَتَهُ الَّتِي ثَلَمَ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ ثُمَّ يَعُودُ فَيَكُونُ فِيمَنْ يُعِزُّهُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَغْلِبُونَا عَلَى ثَلَاثٍ أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَنْهَى عَنْ الْمُنْكَرِ وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ

ایک آدمی کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے کچھ چیزیں اکٹھی کیں تاکہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو جا کر دے آئیں چنانچہ ہم " ربذہ " میں پہنچے اور انہیں تلاش کرنے لگے لیکن وہ وہاں نہیں ملے کسی نے بتایا کہ انہوں نے حج پر جانے کی اجازت مانگی تھی جو انہیں مل گئی چنانچہ ہم منٰی میں پہنچے ابھی ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے ہی تھے کہ کسی نے آکر انہیں بتایا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے منٰی میں چار رکعتیں پڑھائی ہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی طبیعت پر اس کا بہت بوجھ ہوا اور انہوں نے کچھ تلخ باتیں کہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے انہوں نے دو رکعتیں پڑھی تھیں اور میں نے حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اسی طرح نماز پڑھی ہے۔ پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو چار رکعتیں پڑھیں کسی نے ان سے کہا کہ آپ نے پہلے تو امیرالمؤمنین کے فعل کو معیوب قرار دیا پھر خود وہی کام کرنے لگے انہوں نے فرمایا اختلاف کرنا زیادہ شدید ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک بادشاہ آئے گا تم اسے ذلیل نہ کرنا جو شخص اسے ذلیل کرنا چاہئے گا تو گویا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال دی اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی تاآنکہ وہ اس سوراخ کو بند کر دے جسے اس نے کھولا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا پھر اگر وہ واپس آجاتا ہے تو وہ عزت کرنے والوں میں ہوگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ ہم تین چیزوں سے مغلوب نہ رہیں امربالمعروف کرتے رہیں نہی عن المنکر کرتے رہیں اور لوگوں کو سنتوں کی تعلیم کرتے رہیں ۔ ی

رَجُلٌ: ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← يَزِيدُ، فِي حَدِيثِهِ ← الْقَاسِمِ، ← مُحَمَّدٍ ← العوام ← يَزِيدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21792

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26266

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ سَمِعَهُ مِنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي أَوْ مَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جس نے میرا نام رکھنا حلال اور میری کنیت رکھنا حرام قرار دیا ہے، یا وہ کون ہے جس نے میری کنیت رکھنا حرام اور میرا نام رکھنا حلال قرار دیا ہے۔

عَائِشَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ سَمِعَهُ مِنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26266

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21804

حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ قَالَ ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ ابْنَ آدَمَ إِنْ تَلْقَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً بَعْدَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ إِنْ تُذْنِبْ حَتَّى يَبْلُغَ ذَنْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ تَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرْ لَكَ وَلَا أُبَالِ

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے! تو میری جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

رَبِّهِ ← النَّبِيِّ يَرْوِيهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مَعْدِي كَرِبَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← غَيْلَانَ ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَارِمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21804

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26288

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى قَالَا لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَزَوَّجُ قَالَ مَنْ قَالَتْ إِنْ شِئْتَ بِكْرًا وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا قَالَ فَمَنْ الْبِكْرُ قَالَتْ ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ وَمَنْ الثَّيِّبُ قَالَتْ سَوْدَةُ ابْنَةُ زَمْعَةَ قَدْ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا تَقُولُ قَالَ فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهِمَا عَلَيَّ فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَتْ انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ حَتَّى يَأْتِيَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَتْ يَا أَبَا بَكْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَ وَمَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ قَالَ وَهَلْ تَصْلُحُ لَهُ إِنَّمَا هِيَ ابْنَةُ أَخِيهِ فَرَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ قَالَ ارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ أَنَا أَخُوكَ وَأَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي فَرَجَعَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ قَالَ انْتَظِرِي وَخَرَجَ قَالَتْ أُمُّ رُومَانَ إِنَّ مُطْعِمَ بْنَ عَدِيٍّ قَدْ كَانَ ذَكَرَهَا عَلَى ابْنِهِ فَوَاللَّهِ مَا وَعَدَ مَوْعِدًا قَطُّ فَأَخْلَفَهُ لِأَبِي بَكْرٍ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ وَعِنْدَهُ امْرَأَتُهُ أُمُّ الْفَتَى فَقَالَتْ يَا ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ لَعَلَّكَ مُصْبٍ صَاحِبَنَا مُدْخِلُهُ فِي دِينِكَ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ إِنْ تَزَوَّجَ إِلَيْكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِلْمُطْعِمِ بْنِ عَدِيٍّ آقَوْلَ هَذِهِ تَقُولُ قَالَ إِنَّهَا تَقُولُ ذَلِكَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ وَقَدْ أَذْهَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ مِنْ عِدَتِهِ الَّتِي وَعَدَهُ فَرَجَعَ فَقَالَ لِخَوْلَةَ ادْعِي لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَتْهُ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَعَائِشَةُ يَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ثُمَّ خَرَجَتْ فَدَخَلَتْ عَلَى سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ فَقَالَتْ مَاذَا أَدْخَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ مِنْ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ قَالَتْ مَا ذَاكَ قَالَتْ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطُبُكِ عَلَيْهِ قَالَتْ وَدِدْتُ ادْخُلِي إِلَى أَبِي فَاذْكُرِي ذَاكَ لَهُ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ أَدْرَكَهُ السِّنُّ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ الْحَجِّ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَحَيَّتْهُ بِتَحِيَّةِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ قَالَ فَمَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَرْسَلَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَخْطُبُ عَلَيْهِ سَوْدَةَ قَالَ كُفْءٌ كَرِيمٌ مَاذَا تَقُولُ صَاحِبَتُكِ قَالَتْ تُحِبُّ ذَاكَ قَالَ ادْعُهَا لِي فَدَعَيْتُهَا قَالَ أَيْ بُنَيَّةُ إِنَّ هَذِهِ تَزْعُمْ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَدْ أَرْسَلَ يَخْطُبُكِ وَهُوَ كُفْءٌ كَرِيمٌ أَتُحِبِّينَ أَنْ أُزَوِّجَكِ بِهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ادْعِيهِ لِي فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ فَجَاءَهَا أَخُوهَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ مِنْ الْحَجِّ فَجَعَلَ يَحْثِي فِي رَأْسِهِ التُّرَابَ فَقَالَ بَعْدَ أَنْ أَسْلَمَ لَعَمْرُكَ إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثِي فِي رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فِي السُّنْحِ قَالَتْ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْتَنَا وَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَنِسَاءٌ فَجَاءَتْنِي أُمِّي وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عَذْقَيْنِ تَرْجَحُ بِي فَأَنْزَلَتْنِي مِنْ الْأُرْجُوحَةِ وَلِي جُمَيْمَةٌ فَفَرَقَتْهَا وَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ أَقْبَلَتْ تَقُودُنِي حَتَّى وَقَفَتْ بِي عِنْدَ الْبَابِ وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ دَخَلَتْ بِي فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى سَرِيرٍ فِي بَيْتِنَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَجْلَسَتْنِي فِي حِجْرِهِ ثُمَّ قَالَتْ هَؤُلَاءِ أَهْلُكِ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكِ فِيهِمْ وَبَارَكَ لَهُمْ فِيكِ فَوَثَبَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ فَخَرَجُوا وَبَنَى بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا مَا نُحِرَتْ عَلَيَّ جَزُورٌ وَلَا ذُبِحَتْ عَلَيَّ شَاةٌ حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيْنَا سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ بِجَفْنَةٍ كَانَ يُرْسِلُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَارَ إِلَى نِسَائِهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ

ابو سلمہ رحمتہ اللہ علیہ اور یحییٰ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فوت ہو گئیں تو خولہ بنت حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا " جو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں" نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نکاح کیوں نہیں کر لیتے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس سے ؟ انہوں نے عرض کیا اگر آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور شوہر دیدہ بھی موجود ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کنواری لڑکی کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی مخلوق میں آپ کو سب سے محبوب آدمی کی بیٹی یعنی عائشہ بنت ابی بکر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا شوہر دیدہ کون ہے، انہوں نے عرض کیا سودہ بنت زمعہ، جو آپ پر ایمان رکھتی ہے اور آپ کی شریعت کی پیروی کرتی ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور دونوں کے یہاں میرا تذکرہ کر دو۔چنانچہ حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سیدنا صدیق اکبر کے گھر پہنچیں اور کہنے لگیں اے ام رومان ! اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیرو برکت داخل کرنے والا ہے، ام رومان نے پوچھا وہ کیسے ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اپنے نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ہے، ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ ابوبکر کے آنے کا انتظار کر لو، تھوڑی ہی دیر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آگئے، حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے درمیان بھی یہی سوال جواب ہوتے ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کرنا جائز ہے؟ کیونکہ وہ تو ان کی بھتیجی ہے، خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا واپس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں جا کر کہہ دو کہ میں تمہارا اور تم میرے اسلامی بھائی ہو ، اس لئے تمہاری بیٹی سے میرے لئے نکاح کرنا جائز ہے، انہوں نے واپس آکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ جواب بتا دیا، انہوں نے فرمایا تھوڑی دیر انتظار کرو اور خود باہر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد ام رومان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ مطعم بن عدی نے اپنے بیٹے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا رشتہ مانگا تھا، اور واللہ ابوبکر نے کبھی بھی وعدہ کر کے وعدہ خلافی نہیں کی تھی، لہذا ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے مطعم بن عدی کے پاس گئے ، اس کے پاس اس کی بیوی ام الفتی بھی موجود تھی ، وہ کہنے لگی، اے ابن ابی قخافہ! اگر ہم نے اپنے بیٹے کا نکاح آپ کے یہاں کر دیا تو ہو سکتا ہے کہ آپ ہمارے بیٹے کو بھی دین میں داخل کر لیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مطعم بن عدی سے پوچھا کہ کیا تم بھی یہی رائے رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس کی بات صحیح ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل آئے اور ان کے ذہن پر وعدہ خلافی کا جو بوجھ تھا وہ اللہ نے اس طرح دور کر دیا اور انہوں نے واپس آکر خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے یہاں بلا کر لے آؤ، خولہ جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمر چھ سال تھی۔ اس کے بعد خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہاں سے نکل کر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئیں او ران سے کہا کہ اللہ تمہارے گھر میں کتنی بڑی خیروبرکت داخل کرنے والا ہے ، سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پوچھا وہ کیسے ؟ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس اپنی جانب سے پیغام نکاح دیکر بھیجا ہے، انہوں نے کہا بہتر ہے کہ تم میرے والد کے پاس جا کر ان سے اس بات کا ذکر کرو، سودہ کے والد بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور ان کی عمر اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ وہ حج نہیں کر سکتے تھے، خولہ ان کے پاس گئیں اور زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق انہیں اداب کہا، انہوں نے پوچھا کون ہے؟ بتایا کہ میں خولہ بنت حکیم ہوں، انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟خولہ نے کہا کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ نے سودہ سے اپنا پیغام نکاح بھیجا ہے، زمعہ نے کہا کہ وہ تو بہترین جوڑ ہے، تمہاری سہیلی کی کیا رائے ہے؟خولہ نے کہا کہ اسے یہ رشتہ پسند ہے، زمعہ نے کہا کہ اسے میرے پاس بلاؤ، خولہ نے انہیں بلایا تو زمعہ نے ان سے پوچھا پیاری بیٹی ! ان کا کہنا ہے کہ محمد بن عبداللہ نے اسے تم سے اپنا پیغام نکاح دے کر بھیجا ہے اور وہ بہترین جوڑ ہے تو کیا تم چاہتی ہو کہ میں ان سے تمہارا نکاح کر دوں؟ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حامی بھر لی ، زمعہ نے مجھ سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا کر لے آؤ ، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اور زمعہ نے ان سے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح کر دیا، چند دنوں کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بھائی عبد بن زمعہ حج سے واپس آیا، اسے اس رشتے کا علم ہوا تو وہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا، اسلام قبول کرنے کے بعد وہ کہتے تھے تمہاری زندگی کی قسم ! میں اس دن بڑی بیوقوفی کر رہا تھا جب سودہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ہونے پر میں اپنے سر پر مٹی ڈال رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو ہم نے " مقام سخ" میں بنو حارث بن خزرج کے یہاں قیام کیا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لے آئے اور کچھ انصاری مرد و عورت بھی اکٹھے ہو گئے ، میری والدہ مجھے لے آئیں جبکہ میں دو درختوں کے درمیان جھولا جھول رہی تھی، اور میرے سر پر کسی وجہ سے بہت تھوڑے بال تھے، انہوں نے مجھے جھولے سے نیچے اتارا، مجھے پسینہ آیا ہوا تھا، اسے پونچھا اور پانی سے میرا منہ دھلایا، اور مجھے لے کر چل پڑیں ، حتیٰ کہ دروازے پر پہنچ کر رک گئیں ، میری سانس پھول رہی تھی ، جب میری سانس بحال ہوئی تو وہ مجھے گھر لے کر داخل ہو گئیں ، وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں ایک چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے، اور انصار کے کچھ مرووعورت بھی موجود تھے، میری والدہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بٹھا دیا اور کہنے لگیں کہ یہ آپ کے گھر والے ہیں ، اللہ آپ کو ان کے لئے اور انہیں آپ کے لئے مبارک فرمائے، اس کے بعد مردوعورت یکے بعد دیگرے وہاں سے جانے لگے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں ہی میرے ساتھ تخلیہ فرمایا: میری اس شادی کے لئے کوئی اونٹ ذبح نہ ہوا اور نہ بکری ، تا آنکہ سعد بن عبادہ نے ہمارے یہاں ایک پیالہ بھیجا جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت بھیجتے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کے پاس جاتے تھے اور اس وقت میری عمر نو سال کی تھی۔

لَمَّا هَلَكَتْ خَدِيجَةُ جَاءَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ← أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26288

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26299

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي قَالَ أَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26299

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21820

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتا ہے جو شخص نیکی کا ایک عمل کرتا ہے اسے دس گنا بدلہ ملے گا یا میں اس میں مزید اضافہ کردوں گا اور جو شخص گناہ کا ایک عمل کرتا ہے تو اس کا بدلہ اسی کے برابر ہوگا یا میں اسے معاف بھی کر سکتا ہوں جو شخص زمین بھر کر گناہ کرے پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے لئے اتنی ہی مغفرت کا فیصلہ کرلیتا ہوں اور جو شخص ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کے برابر قریب آتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21820

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21837

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي سَأَغْفِرُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَلَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَلَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً وَلَوْ عَمِلْتَ مِنْ الْخَطَايَا حَتَّى تَبْلُغَ عَنَانَ السَّمَاءِ مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي لَغَفَرْتُ لَكَ ثُمَّ لَا أُبَالِ

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے! تو میری جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔

رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ ← النَّبِيِّ فِيمَا يَرْوِي ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مَعْدِي كَرِبَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21837

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21855

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَكْحُولٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ حَدَّثَهُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعْ الْحِجَابُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ قَالَ أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہو جائے میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔

اُسَامَۃَ بْنِ سَلْمَانَ اَنَّ اَبَا ذَرٍّ ← ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ، ← مَكْحُولٌ ← أَبِي ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21855

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21873

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيَّ عَنْ شَهْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ وَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِ وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأُولَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي لَمْ يَزِيدُوا فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأُولَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَ كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ وَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مَا سَأَلَ لَمْ يَنْقُصْنِي إِلَّا كَمَا لَوْ مَرَّ أَحَدُكُمْ عَلَى شَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا ذَلِكَ لِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ وَاجِدٌ أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ عَطَائِي كَلَامِي وَعَذَابِي كَلَامِي إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو! تم سب کے سب گنہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت عطاء کردوں ، اس لئے مجھ سے معافی مانگا کرو میں تمہیں معاف کردوں گا اور جو شخص اس بات پریقین رکھتا ہے کہ مجھے معاف کرنے پر قدرت ہے اور وہ میری قدرت کے وسیلے سے مجھ سے معافی مانگتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگا کرو میں تم کو ہدایت عطاء کروں گا تم میں سے ہر ایک فقیر ہے سوائے اس کے جسے میں غنی کردوں ، لہٰذا مجھ سے غناء مانگا کرو میں تم کو غناء عطاء کروں گا۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب کے سب میرے سب سے زیادہ شقی بندے کے دل کی طرح ہو جائیں تو میری حکومت میں سے ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کر سکتے اور اگر وہ سب کے سب میرے سب سے زیادہ متقی بندے کے دل پر جمع ہو جائیں تو میری حکومت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کر سکتے۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب جمع ہوجائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی تمنا پہنچتی ہو اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق مطلوبہ چیزیں دیتا جاؤں تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی واقع نہ ہوگی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص ساحل سمندر سے گذرے اور اس میں ایک سوئی ڈبوئے اور پھر نکالے میری حکومت میں اتنی بھی کمی نہ آئیگی کیونکہ میں بے انتہا سخی، بزرگ اور بے نیاز ہوں میری عطاء بھی ایک کلام سے ہوتی ہے اور میرا عذاب بھی ایک کلام سے آجاتا ہے میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو " کن " کہتا ہوں اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ ی

((إن الله -تبارك وتعالى- ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عبد الرحمن بن غنم الأشعري، ← شَهْرٍ ← مُوسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيَّ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21873

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16480

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ ثَابِتٍ كَانَ يَسْكُنُ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَغَيَّرَ عَلَيْهِ فَقَالَ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ قَالَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَرَأَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ قَدْ أَحْسَنْتَ قَالَ فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عُمَرُ إِنَّ الْقُرْآنَ كُلَّهُ صَوَابٌ مَا لَمْ يُجْعَلْ عَذَابٌ مَغْفِرَةً أَوْ مَغْفِرَةٌ عَذَابًا وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ مَرَّةً أُخْرَى أَبُو ثَابِتٍ مِنْ كِتَابِهِ

حضرت ابوطلحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کوئی شخص حضرت عمر کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کررہا تھا اس دوران حضرت عمر نے اسے لقمہ دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ میں نے اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی چنانچہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہوئے اور اس آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم پڑھ کر سنایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تحسین فرمائی حضرت عمر نے غالباً اس بات کو محسوس کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر سارا قرآن درست ہے جب تک انسان مغفرت کو عذاب یا عذاب کو مغفرت میں تبدیل نہ کردے۔

عَبْدُ الصَّمَدِ مَرَّةً أُخْرَى أَبُو ثَابِتٍ ← فَكَأَنَّ عُمَرَ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ ← لَهُ قَدْ أَحْسَنْتَ ← فَقَرَأَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ ← فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ النَّبِيِّ ← عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَلَمْ يُغَيِّرْ عَلَيَّ، ← «قَرَأَ رَجُلٌ عِنْدَ عُمَرَ فَغَيَّرَ عَلَيْهِ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَرْبُ بْنُ ثَابِتٍ كَانَ يَسْكُنُ بَنِي سُلَيْمٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16480

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27644

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ عَمَّاتِهِ عَنْ أُمِّ فَرْوَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا

حضرت ام فروہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی علیہ السلام سے سب سے افضل عمل کے متعلق پوچھا تو نبی علیہ السلام نے فرمایا اول وقت پر نماز پڑھنا۔

الصَّلَاةُ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← أُمِّ فَرْوَةَ ← عَمَّاتِهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبُو عَاصِمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27644

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27646

حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ الدُّنْيَا عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ أَنَّها سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْأَعْمَالَ فَقَالَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تَعْجِيلُ الصَّلَاةِ لِأَوَّلِ وَقْتِهَا

حضرت ام فروہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی علیہ السلام سے سب سے افضل عمل کے متعلق پوچھا تو نبی علیہ السلام نے فرمایا اول وقت پر نماز پڑھنا۔

الْأَعْمَالَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَدَّتِهِ أُمِّ فَرْوَةَ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَ أَنَّها ← جَدَّتِهِ أُمِّ أَبِيهِ الدُّنْيَا ← الْقَاسِمِ بْنِ غَنَّامٍ ← عَبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرُ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← لَيْثٌ، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27646

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21898

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ الْحَسَنَةُ عَشْرٌ أَوْ أَزِيدُ وَالسَّيِّئَةُ وَاحِدَةٌ أَوْ أَغْفِرُهَا وَمَنْ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق و مصدوق نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کر سکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کر سکتا ہوں اور اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔

الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ رَفَعَ الْحَدِيثَ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← عَاصِمٍ، ← شَيْبَانَ ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21898

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21925

وَقَالَ مَنْ كَانَ هَمُّهُ الْآخِرَةَ جَمَعَ اللَّهُ شَمْلَهُ وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا فَرَّقَ اللَّهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَلَمْ يَأْتِهِ مِنْ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ

اور فرمایا جس شخص کا غم ہی آخرت ہو اللہ اس کے متفرقات کو جمع کر دیتا ہے اور اس کے دل کو غنی کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر خود ہی آجاتی ہے اور جس شخص کا مقصد ہی دنیا ہو اللہ اس کے معاملات کو متقرق کر دیتا ہے اس کی تنگدستی کو اس کی آنکھوں کے سامنے ظاہر کر دیتا ہے اور دنیا پھر بھی اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنی اس کے مقدر میں لکھی گئی ہوتی ہے۔

لَهُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21925

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21967

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَتَمَهَا وَقَالَ النَّاسُ حَيِّزٌ وَأَنَا وَأَصْحَابِي حَيِّزٌ وَقَالَ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ كَذَبْتَ وَعِنْدَهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَهُمَا قَاعِدَانِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ لَوْ شَاءَ هَذَانِ لَحَدَّثَاكَ فَرَفَعَ عَلَيْهِ مَرْوَانُ الدِّرَّةَ لِيَضْرِبَهُ فَلَمَّا رَأَيَا ذَلِكَ قَالَا صَدَقَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت نصر نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مکمل سنائی اور فرمایا تمام لوگ ایک طرف ہیں اور میں اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ایک پلڑے میں ہیں اور فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت فرض نہیں رہی البتہ جہاد اور نیت کا ثواب باقی ہے یہ حدیث سن کر مروان نے ان کی تکذیب کی اس وقت وہاں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے جو مروان کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اگر یہ دونوں چاہیں تو تم سے یہ حدیث بیان کر سکتے ہیں لیکن ان میں سے ایک کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے ان کی قوم کی چوہدارہٹ چھین لو گے اور دوسرے کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم ان سے صدقات روک لو گے اس پر وہ دونوں حضرات خاموش رہے اور مروان نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کو مارنے کے لئے کوڑا اٹھا لیا یہ دیکھ کر ان دونوں حضرات نے فرمایا یہ سچ کہہ رہے ہیں ۔ فائدہ ۔ اس روایت کی صحت پر راقم الحروف کو شرح صدر نہیں ہو پارہا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21967

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27717

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ إِلَّا بَدْرًا وَلَمْ يُعَاتِبْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ إِنَّمَا خَرَجَ يُرِيدُ الْعِيرَ فَخَرَجَتْ قُرَيْشٌ مُغَوِّثِينَ لِعِيرِهِمْ فَالْتَقَوْا عَنْ غَيْرِ مَوْعِدٍ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَعَمْرِي إِنَّ أَشْرَفَ مَشَاهِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ لَبَدْرٌ وَمَا أُحِبُّ أَنِّي كُنْتُ شَهِدْتُهَا مَكَانَ بَيْعَتِي لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حَيْثُ تَوَافَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ وَلَمْ أَتَخَلَّفْ بَعْدُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ وَهِيَ آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ بِالرَّحِيلِ وَأَرَادَ أَنْ يَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ وَذَلِكَ حِينَ طَابَ الظِّلَالُ وَطَابَتْ الثِّمَارُ فَكَانَ قَلَّمَا أَرَادَ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى غَيْرَهَا وَقَالَ يَعْقُوبُ عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَدَّثَنَاهُ سُفْيَانَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَقَالَ فِيهِ وَرَّى غَيْرَهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَكَانَ يَقُولُ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ فَأَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَنْ يَتَأَهَّبَ النَّاسُ أُهْبَةً وَأَنَا أَيْسَرُ مَا كُنْتُ قَدْ جَمَعْتُ رَاحِلَتَيْنِ وَأَنَا أَقْدَرُ شَيْءٍ فِي نَفْسِي عَلَى الْجِهَادِ وَخِفَّةِ الْحَاذِ وَأَنَا فِي ذَلِكَ أَصْغُو إِلَى الظِّلَالِ وَطِيبِ الثِّمَارِ فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَادِيًا بِالْغَدَاةِ وَذَلِكَ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فَأَصْبَحَ غَادِيًا فَقُلْتُ أَنْطَلِقُ غَدًا إِلَى السُّوقِ فَأَشْتَرِي جَهَازِي ثُمَّ أَلْحَقُ بِهِمْ فَانْطَلَقْتُ إِلَى السُّوقِ مِنْ الْغَدِ فَعَسُرَ عَلَيَّ بَعْضُ شَأْنِي فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ أَرْجِعُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَأَلْحَقُ بِهِمْ فَعَسُرَ عَلَيَّ بَعْضُ شَأْنِي فَلَمْ أَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى الْتَبَسَ بِي الذَّنْبُ وَتَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ وَأَطُوفُ بِالْمَدِينَةِ فَيُحْزِنُنِي أَنِّي لَا أَرَى أَحَدًا تَخَلَّفَ إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ وَكَانَ لَيْسَ أَحَدٌ تَخَلَّفَ إِلَّا رَأَى أَنَّ ذَلِكَ سَيُخْفَى لَهُ وَكَانَ النَّاسُ كَثِيرًا لَا يَجْمَعُهُمْ دِيوَانٌ وَكَانَ جَمِيعُ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا وَلَمْ يَذْكُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكًا فَلَمَّا بَلَغَ تَبُوكًا قَالَ مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي خَلَّفَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بُرْدَيْهِ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ وَقَالَ يَعْقُوبُ عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِئْسَمَا قُلْتَ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذَا هُمْ بِرَجُلٍ يَزُولُ بِهِ السَّرَابُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْ أَبَا خَيْثَمَةَ فَإِذَا هُوَ أَبُو خَيْثَمَةَ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ وَقَفَلَ وَدَنَا مِنْ الْمَدِينَةِ جَعَلْتُ أَتَذَكَّرُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخْطَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ كُلَّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي حَتَّى إِذَا قِيلَ النَّبِيُّ هُوَ مُصْبِحُكُمْ بِالْغَدَاةِ زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ وَعَرَفْتُ أَنِّي لَا أَنْجُو إِلَّا بِالصِّدْقِ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ سَفَرٍ فَعَلَ ذَلِكَ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ فَجَعَلَ يَأْتِيهِ مَنْ تَخَلَّفَ فَيَحْلِفُونَ لَهُ وَيَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ فَيَسْتَغْفِرُ لَهُمْ وَيَقْبَلُ عَلَانِيَتَهُمْ وَيَكِلُ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَآنِي تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ فَجِئْتُ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَلَمْ تَكُنْ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَمَا خَلَّفَكَ قُلْتُ وَاللَّهِ لَوْ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ غَيْرَكَ جَلَسْتُ لَخَرَجْتُ مِنْ سَخْطَتِهِ بِعُذْرٍ لَقَدْ أُوتِيتُ جَدَلًا وَقَالَ يَعْقُوبُ عَنِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ لَرَأَيْتُ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ سَخْطَتِهِ بِعُذْرٍ وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ أَخْرُجُ مِنْ سَخْطَتِهِ بِعُذْرٍ وَفِيهِ لَيُوشِكَنَّ أَنَّ اللَّهَ يُسْخِطُكَ عَلَيَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَلَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنِّي إِنْ أَخْبَرْتُكَ الْيَوْمَ بِقَوْلٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ وَهُوَ حَقٌّ فَإِنِّي أَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ وَإِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثًا تَرْضَى عَنِّي فِيهِ وَهُوَ كَذِبٌ أُوشِكُ أَنْ يُطْلِعَكَ اللَّهُ عَلَيَّ وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَيْسَرَ وَلَا أَخَفَّ حَاذًا مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ فَقَالَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَكُمْ الْحَدِيثَ قُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ فَقُمْتُ فَثَارَ عَلَى أَثَرِي نَاسٌ مِنْ قَوْمِي يُؤَنِّبُونَنِي فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُكَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَطُّ قَبْلَ هَذَا فَهَلَّا اعْتَذَرْتَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُذْرٍ يَرْضَى عَنْكَ فِيهِ فَكَانَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَأْتِي مِنْ وَرَاءِ ذَنْبِكَ وَلَمْ تُقِفْ نَفْسَكَ مَوْقِفًا لَا تَدْرِي مَاذَا يُقْضَى لَكَ فِيهِ فَلَمْ يَزَالُوا يُؤَنِّبُونَنِي حَتَّى هَمَمْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبَ نَفْسِي فَقُلْتُ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ غَيْرِي قَالُوا نَعَمْ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ وَمَرَارَةُ يَعْنِي ابْنَ رَبِيعَةَ فَذَكَرُوا رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا لِي فِيهِمَا يَعْنِي أُسْوَةً فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِ فِي هَذَا أَبَدًا وَلَا أُكَذِّبُ نَفْسِي وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ قَالَ فَجَعَلْتُ أَخْرُجُ إِلَى السُّوقِ فَلَا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ وَتَنَكَّرَ لَنَا النَّاسُ حَتَّى مَا هُمْ بِالَّذِينَ نَعْرِفُ وَتَنَكَّرَتْ لَنَا الْحِيطَانُ الَّتِي نَعْرِفُ حَتَّى مَا هِيَ الْحِيطَانُ الَّتِي نَعْرِفُ وَتَنَكَّرَتْ لَنَا الْأَرْضُ حَتَّى مَا هِيَ الْأَرْضُ الَّتِي نَعْرِفُ وَكُنْتُ أَقْوَى أَصْحَابِي فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَطُوفُ بِالْأَسْوَاقِ وَآتِي الْمَسْجِدَ فَأَدْخُلُ وَآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَأَقُولُ هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِالسَّلَامِ فَإِذَا قُمْتُ أُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ فَأَقْبَلْتُ قِبَلَ صَلَاتِي نَظَرَ إِلَيَّ بِمُؤَخَّرِ عَيْنَيْهِ وَإِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ أَعْرَضَ عَنِّي وَاسْتَكَانَ صَاحِبَايَ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ لَا يُطْلِعَانِ رُءُوسَهُمَا فَبَيْنَا أَنَا أَطُوفُ السُّوقَ إِذَا رَجُلٌ نَصْرَانِيٌّ جَاءَ بِطَعَامٍ يَبِيعُهُ يَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ إِلَيَّ فَأَتَانِي وَأَتَانِي بِصَحِيفَةٍ مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ فَإِذَا فِيهَا أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَأَقْصَاكَ وَلَسْتَ بِدَارِ مَضْيَعَةٍ وَلَا هَوَانٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِيكَ فَقُلْتُ هَذَا أَيْضًا مِنْ الْبَلَاءِ وَالشَّرِّ فَسَجَرْتُ لَهَا التَّنُّورَ وَأَحْرَقْتُهَا فِيهِ فَلَمَّا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً إِذَا رَسُولٌ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَتَانِي فَقَالَ اعْتَزِلْ امْرَأَتَكَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا قَالَ لَا وَلَكِنْ لَا تَقْرَبَنَّهَا فَجَاءَتْ امْرَأَةُ هِلَالٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَعِيفٌ فَهَلْ تَأْذَنُ لِي أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنْ لَا يَقْرَبَنَّكِ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ لِشَيْءٍ مَا زَالَ مُكِبًّا يَبْكِي اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا طَالَ عَلَيَّ الْبَلَاءُ اقْتَحَمْتُ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ حَائِطَهُ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَقُلْتُ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَسَكَتَ ثُمَّ قُلْتُ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ بَكَيْتُ ثُمَّ اقْتَحَمْتُ الْحَائِطَ خَارِجًا حَتَّى إِذَا مَضَتْ خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينِ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَنْ كَلَامِنَا صَلَّيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا صَلَاةَ الْفَجْرِ ثُمَّ جَلَسْتُ وَأَنَا فِي الْمَنْزِلَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ ضَاقَتْ عَلَيْنَا الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْنَا أَنْفُسُنَا إِذْ سَمِعْتُ نِدَاءً مِنْ ذُرْوَةِ سَلْعٍ أَنْ أَبْشِرْ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ جَاءَنَا بِالْفَرَجِ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَرْكُضُ عَلَى فَرَسٍ يُبَشِّرُنِي فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنْ فَرَسِهِ فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيَّ بِشَارَةً وَلَبِسْتُ ثَوْبَيْنِ آخَرَيْنِ وَكَانَتْ تَوْبَتُنَا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُلُثَ اللَّيْلِ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ عَشِيَّتَئِذٍ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا نُبَشِّرُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ إِذًا يَحْطِمَنَّكُمْ النَّاسُ وَيَمْنَعُونَكُمْ النَّوْمَ سَائِرَ اللَّيْلَةِ وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مُحْسِنَةً مُحْتَسِبَةً فِي شَأْنِي تَحْزَنُ بِأَمْرِي فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَوْلَهُ الْمُسْلِمُونَ وَهُوَ يَسْتَنِيرُ كَاسْتِنَارَةِ الْقَمَرِ وَكَانَ إِذَا سُرَّ بِالْأَمْرِ اسْتَنَارَ فَجِئْتُ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَبْشِرْ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ بِخَيْرِ يَوْمٍ أَتَى عَلَيْكَ مُنْذُ يَوْمِ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَمِنْ عِنْدِ اللَّهِ أَوْ مِنْ عِنْدِكَ قَالَ بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ تَلَا عَلَيْهِمْ لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ قَالَ وَفِينَا نَزَلَتْ أَيْضًا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي كُلِّهِ صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى رَسُولِهِ فَقَالَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ قَالَ فَمَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيَّ نِعْمَةً بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَدَقْتُهُ أَنَا وَصَاحِبَايَ أَنْ لَا نَكُونَ كَذَبْنَا فَهَلَكْنَا كَمَا هَلَكُوا إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَبْلَى أَحَدًا فِي الصِّدْقِ مِثْلَ الَّذِي أَبْلَانِي مَا تَعَمَّدْتُ لِكَذْبَةٍ بَعْدُ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيَ

حضرت کعب بن مالک کہتے ہیں کہ میں سوائے غزوہ تبوک کے اور کسی جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہیں رہا، ہاں غزوہ بدر سے رہ گیا تھا اور بدر میں شریک نہ ہونیوالوں پر کوئی عتاب بھی نہیں کیا گیا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادے سے تشریف لے گئے تھے (لڑائی کا ارادہ نہ تھا) بغیر لڑائی کے ارادہ کے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی دشمنوں سے مڈ بھیڑ کرادی تھی میں بیعت عقبہ کی رات کو بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جہاں ہم سب نے مل کر اسلام کے عہد کو مضبوط کیا تھا اور میں یہ چاہتا بھی نہیں ہوں کہ اس بیعت کے عوض میں جنگ بدر میں حاضر ہوتا، اگرچہ بدر کی جنگ لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے۔ میرا قصہ یہ ہے کہ جس قدر میں اس جہاد کے وقت مالدار اور فراخ دست تھا اتنا کبھی نہیں ہوا اللہ کی قسم اس جنگ کے لئے میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں اس سے پہلے کسی جنگ میں میرے پاس دو سواریاں نہیں ہوئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ اگر کسی جنگ کا ارادہ کرتے تھے تو دوسری لڑائی کا (احتمالی اور ذومعنی لفظ) کہہ کراصل لڑائی کو چھپاتے تھے لیکن جب جنگ تبوک کا زمانہ آیا تو چونکہ سخت گرمی کا زمانہ تھا ایک لمبا بے آب و گیاہ بیابان طے کرنا تھا اور کثیر دشمنوں کا مقابلہ تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے سامنے کھول کربیان کردیا تاکہ جنگ کے لئے تیاری کرلیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جوارادہ تھا وہ لوگوں سے کہدیا۔ مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور کوئی رجسٹر ایسا تھا نہیں جس میں سب کے ناموں کا اندراج ہوسکتا، جو شخص جنگ میں شریک نہ ہونا چاہتا وہ سمجھ لیتا تھا کہ جب تک میرے متعلق وحی نازل نہ ہو گی میری حالت چھپی رہے گی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جہاد کا ارادہ اس زمانہ میں کیا تھا جب میوہ جات پختہ ہوگئے تھے اور درختوں کے سائے کافی ہو چکے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سب مسلمانوں نے جنگ کی تیاری کی ، میں بھی روزانہ صبح کو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے کے ارادہ سے جاتا تھا لیکن شام کو بغیر کچھ کام سرانجام دیئے واپس آجاتا تھا ، میں اپنے دل میں خیال کرتا تھا کہ (وقت کافی ہے) میں یہ کام پھر کرسکتا ہوں ، اسی لیت ولعل میں مدت گزرگئی اور مسلمانوں نے سخت کوشش کرکے سامان درست کرلیا اور ایک روزصبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو ہمرہ لے کر چل دیئے اور میں اس وقت تک کچھ بھی تیاری نہ کرسکا لیکن دل میں خیال کرلیا کہ ایک دو روز میں سامان درست کر کے مسلمانوں سے جاملوں گا۔جب دوسرے روز مسلمان (مدینہ سے) دور نکل گئے تو سامان درست کرنے کے ارادہ سے چلا لیکن بغیر کچھ کام کیئے واپس آگیا میری برابر یہی سستی رہی اور مسلمان جلدی جلدی بہت آگے بڑھ گئے میں نے جاپہنچنے کا ارادہ کیا لیکن اللہ کا حکم نہ تھا کاش میں مسلمانوں سے جاکر مل گیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اب جو میں کہیں باہر نکل کر لوگوں سے ملتا تھا اور ادھرادھر گھومتا تھا تو یہ دیکھ مجھے غم ہوتا تھا کہ سوائے منافقوں کے اور ان کمزور لوگوں کے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معذور سمجھ کر چھوڑ دیا تھا اور کوئی نظر نہ آتا تھا راستہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں میری یاد نہ آئی جب تبوک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ گئے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر فرمایا یہ کعب نے کیا حرکت کی؟ ایک شخص نے جواب یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ اپنی دونوں چادروں کو دیکھتا رہا اور اسی وجہ سے نہ آیا، معاذ بن جبل بولے اللہ کی قسم تونے بری بات کہی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اس پر نیکی کا احتمال ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، کعب بن مالک کہتے ہیں جب مجھے اطلاع ملی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم واپس آرہے ہیں تو مجھے فکرپیدا ہوئی اور جھوٹ بولنے کا ارادہ کیا اور دل میں سوچا کہ کس ترکیب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے محفوظ رہ سکتاہوں ، گھر میں تمام اہل الرائے سے مشورہ بھی کیا، اتنے میں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہی تشریف لے آئے تو میں نے تمام جھوٹ بولنے کے خیال دل سے نکال دیئے اور میں سمجھ گیا کہ جھوٹ کی آمیزش کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے نہیں بچ سکتا لہذا سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا۔ صبح کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو شروع میں مسجد جا کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور پھر وہیں لوگوں سے گفتگو کرنے بیٹھ جاتے تھے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا اور جنگ سے رہ جانیوالے لوگ آ کر قسمیں کھا کھا کر عذر بیان کرنے لگے۔ ان سب کی تعداد کچھ اوپر اسی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ظاہر عذر کو قبول کرلیا اور بیعت کرلی ان کے لئے دعائے مغفرت کی اور ان کی اندورنی حالت کو اللہ کے سپرد کردیا۔ سب کے بعد میں نے حاضر ہو کر سلام کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت والا تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا قریب آجاؤ! میں قریب ہوگیا یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر بیٹھ گیا، پھر فرمایا تم کیوں رہ گئے تھے؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے عرض کیا خریدی تو ضرور تھی، اللہ کی قسم میں اگر آپ کے علاوہ کسی دنیا دار کے پاس بیٹھا ہوتا تو اس کے غضب سے عذر پیش کرکے چھوٹ جاتا کیونکہ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے خوش بیانی عطا فرمائی ہے، لیکن واللہ میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے آپ کے سامنے جھوٹی باتیں بنادیں اور آپ مجھ سے راضی بھی ہو گئے تو عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ پر غضب ناک کردے گا اور اگر آپ سے سچی بات بیان کردوں گا اور آپ مجھ سے ناراض ہوجائیں گے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ (آئندہ) مجھے معاف فرمادے گا۔خدا کی قسم مجھے کوئی عذر نہ تھا اور جس وقت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہا تھا اسو قت سے زائد کبھی نہ میں مال دارتھا نہ فراخ دست، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص نے سچ کہا اب تو اٹھ جا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تیرے متعلق کوئی فیصلہ کرے میں فورا اٹھ گیا اور میرے پیچھے پیچھے قیلہ بنی سلمہ کے لوگ بھی اٹھ کر آئے اور کہنے لگے اللہ کی قسم ہم جانتے ہیں کہ تونے اس سے قبل کوئی قصور نہیں کیا ہے (یہ تیرا پہلا قصور ہے) اور جس طرح اور جنگ سے رہ جانیوالوں نے معذرت پیش کی تو کوئی عذرپیش نہ کرسکا۔ تیرے قصور کی معافی کے لئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا مغفرت کرنا ہی کافی تھا۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم وہ مجھے برابر تنبیہہ کررہے تھے کہ میں نے دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر اپنے پہلے قول کی تکذیب کرنے کا ارادہ کرلیا لیکن میں نے ان سے پوچھا کہ اس جرم میں میری طرح کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں تیری طرح دو آدمی اور بھی ہیں اور جو تو نے کہا وہی انہوں نے کہا ہے اور ان کو وہی جواب ملا جو تجھے ملا ہے، میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا مرارہ بن ربیع عامری اور ہلال بن امیہ واقفی یہ دونوں شخص جنگ بدر میں شریک ہوچکے تھے اور ان کی سیرت بہت بہترین تھی۔ جب انہوں نے ان دونوں آدمیوں کا تذکرہ کیا تو میں اپنے قول پر قائم رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ہم تینوں سے کلام کرنے سے منع فرمادیا تھا اور دیگر جنگ سے غیر حاضر لوگوں سے بات چیت کرنے کی ممانعت نہ تھی۔ حسب الحکم لوگ ہم سے بچنے لگے اور بالکل بدل گئے یہاں تک کہ تمام زمین مجھ کو اجنبی معلوم ہونے لگی اور سمجھ میں نہ آتا تھا کہ میں کیا کروں ؟ میرے دونوں ساتھی تو کمزور تھے گھر میں بیٹھ کر روتے رہے اور میں جوان اور طاقتور تھا بازاروں میں گھومتا تھا باہر نکلتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا لیکن کوئی مجھ سے کلام نہ کرتا تھا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بھی نماز کے بعد حاضر ہوتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرکے دل میں کہتا تھا دیکھوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے جواب کے لئے لب مبارک ہلائے یا نہیں ؟ پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کھڑا ہو کر نماز بھی پڑھتا تھا اور کن انکھیوں سے دیکھتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہیں یا نہیں ، چنانچہ جب میں متوجہ ہوتا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف سے منہ پھیر لیتے تھے اور جب میں منہ پھیرلیتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھتے۔جب لوگوں کی بے رخی بہت زیادہ ہوگئی تو ایک روز میں ابوقتادہ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا کیونکہ ابوقتادہ میرا چچا زاد بھائی تھا اور مجھے پیارا تھا ، میں نے اس کو سلام کیا لیکن اللہ کی قسم اس نے سلام کا جواب نہ دیا، میں نے کہا ابوقتادہ میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم کو معلوم ہے کہ مجھے اللہ و رسول سے محبت ہے یا نہیں ابوقتادہ خاموش رہے، میں نے دوبارہ قسم دی لیکن وہ ویسے ہی خاموش رہا، تیسری بار قسم دینے پر اس نے کہا کہ اللہ و رسول ہی خوب واقف ہیں ، میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور پشت موڑ کر دیوار سے پار ہو کر چلا آیا۔ مدینہ کے بازار میں ایک دن جارہا تھا کہ ایک شامی کاشتکار ان لوگوں میں سے تھا جو مدینہ میں غلہ لا کر فروخت کرتے تھے اور بازار میں یہ کہتا جارہا تھا کہ کعب بن مالک کا کوئی پتہ بتادے، لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، اس نے آ کر شاہ غسان کا ایک خط مجھے دیا جس میں یہ مضمون تحریر تھا، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے تم پر ظلم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم کو ذلت کی جگہ اور حق تلفی کے مقام میں رہنے کے لئے نہیں بنایا ہے تم ہمارے پاس چلے آؤ ہم تمہاری دلجوئی کریں گے، خط پڑھ کر میں نے کہا یہ بھی میرا ایک امتحان ہے، میں نے خط لے کر چولہے میں جلا دیا۔ اسی طرح جب چالیس روز گزرگئے تو ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آیا اور کہنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے علیحدہ رہو، میں نے کہا کہ طلاق دیدوں یا کیا کروں ؟ قاصد نے کہا بیوی سے علیحدہ رہو اس کے پاس نہ جاؤ! اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی کہلا بھیجا تھا، میں نے حسب الحکم اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے میکے چلی جاؤ وہیں رہو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کے متعلق کوئی فیصلہ فرمائے۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ بلال بن امیہ کی بیوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہلال بن امیہ بہت بوڑھاہے اور اس کے پاس کوئی خادم بھی نہیں ہے، اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نامناسب نہ سمجھیں تو میں اس کا کام کر دیا کروں ؟ فرمایا مناسب ہے کہ لیکن وہ تیرے قریب نہ جائے، عورت نے کہا کہ اللہ کی قسم اس کو تو کسی چیز کی حس ہی نہیں ہے جب سے یہ واقعہ ہوا ہے آج تک برابر روتار ہتا ہے۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ میرے گھروالوں نے بھی مجھ سے کہا کہ اگر تم بھی اپنی بیوی کے لئے اجازت لے لو جس طرح بلال کی بیوی نے لے لی تو تمہاری بیوی تمہاری خدمت کردیا کرے گی، میں نے جواب دیا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت نہیں مانگوں گا، معلوم نہیں آپ کیا فرمائیں کیونکہ میں جوان آدمی ہوں ، اسی طرح دس روز گزر گئے اور پورے پچاس دن ہو گئے پچاس دن کے بعد فجر کی نماز اپنی چھت پر پڑھ کر میں بیٹھا تھا اور یہ حالت تھی کہ تمام روئے زمین مجھ پر تنگ ہو رہی تھی اور میری جان مجھ پر وبال تھی اتنے میں ایک چیخنے والے نے نہایت بلند آواز سے کوہ سلع پر چڑھ کر کہا اے کعب بن مالک تجھے خوشخبری ہو میں یہ سن کر فورا سجدہ میں گرپڑا اور سمجھ گیا کہ کشائش کا وقت آگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ کر ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان کیا تھا ، لوگ مجھے خوشخبری دینے آئے اور میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی کچھ خوشخبری دینے والے گئے ایک شخص گھوڑا دوڑا کر میرے پاس آیا اور بنی اسلم کے ایک آدمی نے سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی اس کی آواز گھوڑے کے پہنچنے سے قبل مجھے پہنچ گئی۔ جس شخص کی آواز میں نے سنی تھی جب وہ میرے پاس آیا تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو دیدئیے حالانکہ اللہ کی قسم اس روز میرے پاس ان دونوں کپڑوں کے علاوہ کوئی کپڑا نہ تھا اور مانگ کر میں نے دو کپڑے پہن لئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چل دیا، راستہ میں توبہ قبول ہونے کی مبارک باد دینے کے لئے جوق درجوق مجھے ملتے تھے اور کہتے تھے کہ کعب تجھے مبارک ہو تیری توبہ اللہ نے قبول کرلی۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور صحابہ آس پاس موجود تھے، حضرت طلحہ مجھے دیکھ کر فورا اٹھ کردوڑتے ہوئے آئے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی اور اللہ کی قسم طلحہ کے علاوہ مہاجرین میں سے اور کوئی نہیں اٹھا، طلحہ کی یہ بات میں نہیں بھولوں گا، میں نے پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اس وقت چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا کیونکہ خوشی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ ایسا چمکنے لگتا تھا جیسے چاند کا ٹکڑا اور یہی دیکھ کر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا اندازہ کرلیا کرتے تھے۔ فرمایا کعب جب سے تو پیدا ہوا ہے سب دنوں سے آج کا دن تیرے لئے بہترہے تجھے اس کی خوشخبری ہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ خوشخبری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ فرمایا میری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے، میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی توبہ قبول ہونے کے شکریہ میں اپنے تمام مال سے علیحدہ ہو کر بطور صدقہ کے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں ، فرمایا کچھ مال روک رکھ یہ تیرے لئے بہتر ہے، میں نے عرض کیا اچھا میں اپنا خیبر والا حصہ روکے لیتا ہوں ، اس کے بعد میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچ بولنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نجات بخشی ہے لہذا میری توبہ کا ایک جزو یہ بھی ہے کہ جب تک زندہ رہوں سوائے سچائی کے کوئی بات نہ کہوں گا اور اللہ کی قسم جب سے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولا ہے اس روز سے آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کو سچ بولنے کا اس سے بہتر انعام دیا ہو جیسا مجھے دیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو باقی زندگی میں بھی جھوٹ بولنے سے بچائے گا، اللہ تعالیٰ نے قبول توبہ کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی تھی لقد تاب اللہ علی النبی والمہاجرین الی قولہ وکونوامع الصادقین حضرت کعب کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہدایت اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس سچ کہنے سے بڑی کوئی نعمت مجھے عطاء نہیں فرمائی کیونکہ اگر میں جھوٹ بولتا تو جس طرح جھوٹ بولنے والے ہلاک ہو گئے میں بھی ہلاک ہوجاتا، ان جھوٹ بولنے والوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الی قولہ فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین۔ حضرت کعب کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے قسمیں کھا کر اپنی معذرت پیش کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معذرت قبول کرلی تھی ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ان کے بعد ہم تینوں کا (قبول توبہ کا) واقعہ ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے معاملہ میں ڈھیل چھوڑ دی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا فیصلہ کیا ۔ آیت وعلی الثلاثۃ الذین ۔ میں تینوں کے پیچھے رہنے سے جنگ سے رہ جانا مقصود ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27717

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18613

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي الْحَرَّانِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي فَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَآوَى إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ فَنَامَ تَحْتَهَا فَاسْتَيْقَظَ فَلَمْ يَجِدْ رَاحِلَتَهُ فَأَتَى شَرَفًا فَصَعِدَ عَلَيْهِ فَأَشْرَفَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ أَتَى آخَرَ فَأَشْرَفَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَقَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَكُونُ فِيهِ حَتَّى أَمُوتَ قَالَ فَذَهَبَ فَإِذَا بِرَاحِلَتِهِ تَجُرُّ خِطَامَهَا قَالَ فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہواراستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تواچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي الْحَرَّانِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18613

chevron_left Previous
1…424344…1,318
Next chevron_right