Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان والعمل

Faith & Deeds

26349 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25696

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ ان کے وصال تک انہیں "ام عبد اللہ" کہا جاتا رہا، حالانکہ ان کے یہاں اولاد نہیں ہوئی تھی۔

لِلنَّبِيِّ ← أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ ← هِشَامٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25696

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15945

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ مُجَاشِعٍ قَالَ قَدِمْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَقَالَ ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا فَقُلْتُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ قَالَ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ وَالْجِهَادِ قَالَ فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَكَانَ هُوَ أَكْبَرُهُمَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ صَدَقَ مُجَاشِعٌ

حضرت مجاشع بن مسعود سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ اپنے ایک بھتیجے کولے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت کا حکم باقی نہ رہا میں نے عرض کیا پھر کس چیز پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام اور جہاد پر۔

قَدِمْتُ بِأَخِي مَعْبَدٍ عَلَى النَّبِيِّ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ ← مُجَاشِعٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← زُهَيْرٍ ← اَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ وَاقِدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15945

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25698

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْكَذِبِ وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَذِبَةَ فَمَا يَزَالُ فِي نَفْسِهِ عَلَيْهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت بُری نہ تھی بعض اوقات اگر کوئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بول دیتا تو یہ چیز اسے مستقل ملامت کرتی رہتی حتیٰ کہ پتہ چلتا کہ اس نے اس سے توبہ کرلی ہے۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ عَائِشَةَ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25698

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25831

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو دائمی ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔

أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25831

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25945

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ بَهْزٌ أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَ بَهْزٌ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگرچہ تھوڑا ہو۔

عَائِشَةَ ← أَبَا سَلَمَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ ← بَهْزٌ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَبَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25945

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25987

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل کونسا ہے؟ انہوں نے فرمایا جو ہمیشہ ہو، اگر تھوڑا ہو۔

اكْلَفُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَائِشَةَ أَوْ ← وَسَمِعْتُهُ يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ ← أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25987

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16139

قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكَ بِاللَّهِ وَعُقُوقَ الْوَالِدَيْنِ وَالْيَمِينَ الْغَمُوسَ وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللَّهِ يَمِينًا صَبْرًا فَأَدْخَلَ فِيهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ نُكْتَةً فِي قَلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

حضرت عبداللہ بن انیس سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کبیرہ گناہوں میں بھی سب سے بڑاگناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی قسم کھانا اور اس میں مچھر کے پر کے برابر بھی جھوٹ شامل کردے اللہ اس کے دل پر قیامت تک کے لئے ایک نقطہ لگادیتا ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي أُمَامَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ التَّيْمِيِّ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← لَيْثٌ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16139

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21628

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ قَائِلٌ الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ وَقَالَ قَائِلٌ الْجِهَادُ قَالَ إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند ہے ؟ کسی نے نماز اور زکوۃ کا نام لیا اور کسی نے جہاد کو بتایا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ کے لئے کسی سے محبت یا نفرت کرنا ہے۔

قَائِلٌ الْجِهَادُ ← قَائِلٌ الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ ← أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ← خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← رَجُلٌ: ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ← يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ← حُسَيْنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21628

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16178

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ عَبْدَ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ

حسین بن سائب کہتے ہیں کہ جب اللہ نے حضرت ابولبابہ کی توبہ قبول فرما لی تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ میری توبہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ کر آپ کے پڑوس میں آکر بس جاؤں اور اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کردوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری طرف سے ایک تہائی بھی کافی ہوگا۔

أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ عَبْدَ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ← ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16178

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21635

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ قَالَ وَأَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَخْلَصَ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ وَجَعَلَ قَلْبَهُ سَلِيمًا وَلِسَانَهُ صَادِقًا وَنَفْسَهُ مُطْمَئِنَّةً وَخَلِيقَتَهُ مُسْتَقِيمَةً وَجَعَلَ أُذُنَهُ مُسْتَمِعَةً وَعَيْنَهُ نَاظِرَةً فَأَمَّا الْأُذُنُ فَقَمِعٌ وَالْعَيْنُ بِمُقِرَّةٍ لِمَا يُوعَى الْقَلْبُ وَقَدْ أَفْلَحَ مَنْ جَعَلَ قَلْبَهُ وَاعِيًا

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اپنے دل کو ایمان کے لئے خالص کرلیا اور اسے قلب سلیم ، لسان صادق ، نفس مطمئنہ اور اخلاق حسنہ عطاء کئے گئے ہوں اس کے کانوں کو شنوائی اور آنکھوں کو بینائی دی گئی ہو اور کانوں کی مثال پیندے کی سی ہے جبکہ آنکھ دل میں محفوظ ہونے والی چیزوں کو ٹھکانہ فراہم کرتی ہے اور وہ شخص کامیاب ہوگیا جس کا دل محفوظ کرنے والا ہو۔

أَبُو ذَرٍّ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← وَأَخْبَرَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ← بَقِيَّةُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21635

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21636

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ لَوْ عَمِلْتَ قِرَابَ الْأَرْضِ خَطَايَا وَلَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَكَ قُرَابَ الْأَرْضِ مَغْفِرَةً

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے بحوالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہ کرے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش تیرے لئے مقرر کردوں گا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21636

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21641

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ حَدَّثَنَا الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ وَالسَّيِّئَةُ بِوَاحِدَةٍ أَوْ أَغْفِرُ وَلَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً قَالَ وَقُرَابُ الْأَرْضِ مِلْءُ الْأَرْضِ

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق ومصدوق نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کرسکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں ، اور اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔

الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← عَاصِمٍ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21641

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21647

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي مَعْرُوفٍ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ عَبْدِي اسْتَقْبَلَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا اسْتَقْبَلْتُهُ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) اگر میرا بندہ زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ میرے سامنے آئے تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ اس کے سامنے آؤں گا۔

أَبِي مَعْرُوفٍ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21647

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26047

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي قَالَ أَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26047

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21665

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْهُ وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ هُوَ ذَاكَ فِي ضَيْعَةٍ لَهُ فَجَاءَ يَقُودُ أَوْ يَسُوقُ بَعِيرَيْنِ قَاطِرًا أَحَدَهُمَا فِي عَجُزِ صَاحِبِهِ فِي عُنُقِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قِرْبَةٌ فَوَضَعَ الْقِرْبَتَيْنِ قُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا كَانَ مِنْ النَّاسِ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ وَلَا أَبْغَضَ أَنْ أَلْقَاهُ مِنْكَ قَالَ لِلَّهِ أَبُوكَ وَمَا يَجْمَعُ هَذَا قَالَ قُلْتُ إِنِّي كُنْتُ وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكُنْتُ أَرْجُو فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّ لِي تَوْبَةً وَمَخْرَجًا وَكُنْتُ أَخْشَى فِي لِقَائِكَ أَنْ تُخْبِرَنِي أَنَّهُ لَا تَوْبَةَ لِي فَقَالَ أَفِي الْجَاهِلِيَّةِ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ثُمَّ عَاجَ بِرَأْسِهِ إِلَى الْمَرْأَةِ فَأَمَرَ لِي بِطَعَامٍ فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمَرَهَا فَالْتَوَتْ عَلَيْهِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا قَالَ إِيهٍ دَعِينَا عَنْكِ فَإِنَّكُنَّ لَنْ تَعْدُونَ مَا قَالَ لَنَا فِيكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ وَمَا قَالَ لَكُمْ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَرْأَةُ ضِلَعٌ فَإِنْ تَذْهَبْ تُقَوِّمُهَا تَكْسِرْهَا وَإِنْ تَدَعْهَا فَفِيهَا أَوَدٌ وَبُلْغَةٌ فَوَلَّتْ فَجَاءَتْ بِثَرِيدَةٍ كَأَنَّهَا قَطَاةٌ فَقَالَ كُلْ وَلَا أَهُولَنَّكَ إِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يُهَذِّبُ الرُّكُوعَ وَيُخَفِّفُهُ وَرَأَيْتُهُ يَتَحَرَّى أَنْ أَشْبَعَ أَوْ أُقَارِبَ ثُمَّ جَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ مَعِي فَقُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فَقَالَ مَا لَكَ فَقُلْتُ مَنْ كُنْتُ أَخْشَى مِنْ النَّاسِ أَنْ يَكْذِبَنِي فَمَا كُنْتُ أَخْشَى أَنْ تَكْذِبَنِي قَالَ لِلَّهِ أَبُوكَ إِنْ كَذَبْتُكَ كِذْبَةً مُنْذُ لَقِيتَنِي فَقَالَ أَلَمْ تُخْبِرْنِي أَنَّكَ صَائِمٌ ثُمَّ أَرَاكَ تَأْكُلُ قَالَ بَلَى إِنِّي صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ فَوَجَبَ لِي أَجْرُهُ وَحَلَّ لِي الطَّعَامُ مَعَكَ

نعیم بن قعنب ریاحی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ نہیں ملے میں نے ان کی اہلیہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی زمین میں گئے ہیں تھوڑی دیر میں وہ دو اونٹوں کو ہانکتے ہوئے آگئے ان میں سے ایک اونٹ کا لعاب اپنے ساتھی کی سرین پر گر رہا تھا اور ان میں سے ہر ایک کی گردن میں ایک ایک مشکیزہ تھا انہوں نے وہ دونوں مشکیزے اتارے تو میں نے عرض کیا اے ابوذر! مجھے آپ کی نسبت کسی دوسرے سے ملنے کی محبت تھی اور نہ ہی کسی سے اتنی نفرت تھی جتنی آپ سے ملنے کی تھی انہوں نے فرمایا بھئی! یہ دونوں چیزیں کیسے جمع ہوسکتی ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بچی کو زندہ درگور کیا تھا مجھے آپ سے ملاقات کرنے میں یہ امید تھی کہ آپ مجھے توبہ اور بچاؤ کا کوئی راستہ بتائیں گے (اس لئے آپ سے ملنے کی خواہش تھی) لیکن آپ سے ملنے میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہہ دیں کہ میرے لئے توبہ کا کوئی راستہ نہیں ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ کام تم سے زمانہ جاہلیت میں ہوا تھا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا اللہ نے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دیئے ہیں ۔ پھر انہوں نے اپنے سر کے اشارے سے اپنی بیوی کو میرے لئے کھانا لانے کا حکم دیا لیکن اس نے توجہ نہ دی انہوں نے دوبارہ اس سے کہا لیکن اس نے اس مرتبہ بھی توجہ نہ دی یہاں تک کہ ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم سے پیچھے ہی رہو تم لوگ اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے متعلق ہم سے بیان فرما دی تھیں میں نے ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے ان کے متعلق کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے یہ فرمان ذکر کیا کہ عورت ٹیڑھی پسلی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے اور اگر اسے یونہی چھوڑو گے تو اس ٹیڑھے پن اور بیوقوفی کے ساتھ ہی گذارہ کرنا پڑے گا۔ یہ سن کر وہ واپس چلی گئی اور تھوڑی دیر میں " قطاہ " کی طرح بنا ہوا ثرید لے آئی ، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا کھاؤ اور میری فکر نہ کرنا کیونکہ میں روزے سے ہوں پھر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے وہ اچھے لیکن ہلکے رکوع کرنے لگے میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سیراب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن تھوڑی ہی دیر بعد وہ آئے اور میرے ساتھ کھانے میں اپنا ہاتھ بھی شامل کر لیا میں نے یہ دیکھ کر" اناللہ " پڑھا انہوں نے پوچھا کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ عام آدمی کے متعلق تو مجھے یہ اندیشہ ہوسکتا تھا کہ وہ مجھ سے غلط بیانی کرسکتا ہے لیکن آپ کے متعلق یہ اندیشہ نہیں تھا انہوں نے فرمایا بخدا! جب سے تمہاری مجھ سے ملاقات ہوئی ہے میں نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا میں نے کہا کہ کیا آپ ہی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ آپ روزے سے ہیں پھر میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کھا بھی رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے اس مہینے میں تین روزے رکھ لئے تھے جن کا اجر میرے لئے ثابت ہوچکا اور اب تمہارے ساتھ کھانا میرے لئے حلال ہے۔

أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَلَمْ أَجِدْهُ وَرَأَيْتُ الْمَرْأَةَ فَسَأَلْتُهَا ← نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ الرِّيَاحِيِّ ← أَبِي السَّلِيلِ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21665

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21688

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا أَوْ أَزِيدُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتا ہے جو شخص نیکی کا ایک عمل کرتا ہے اسے دس گنا بدلہ ملے گا یا میں اس میں مزید اضافہ کردوں گا اور جو شخص گناہ کا ایک عمل کرتا ہے تو اس کا بدلہ اسی کے برابر ہوگا یا میں اسے معاف بھی کر سکتا ہوں جو شخص زمین بھر کر گناہ کرے پھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، میں اس کے لئے اتنی ہی مغفرت کا فیصلہ کرلیتا ہوں اور جو شخص ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کے برابر قریب آتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21688

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21695

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ وَمَنْ عَلِمَ أَنِّي أَقْدِرُ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِ وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَاسْأَلُونِي أُغْنِكُمْ وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَشْقَى قَلْبٍ مِنْ قُلُوبِ عِبَادِي مَا نَقَصَ فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي مَا زَادَ فِي مُلْكِي مِنْ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَحَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَنِي كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ فَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا سَأَلَ مَا نَقَصَنِي كَمَا لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ مَرَّ بِشَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ فِيهِ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا كَذَلِكَ لَا يَنْقُصُ مِنْ مُلْكِي ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ صَمَدٌ عَطَائِي كَلَامٌ وَعَذَابِي كَلَامٌ إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو! تم سب کے سب گنہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت عطاء کر دوں ، اس لئے مجھ سے معافی مانگا کرو میں تمہیں معاف کر دوں گا اور جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مجھے معاف کرنے پر قدرت ہے اور وہ میری قدرت کے وسیلے سے مجھ سے معافی مانگتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگا کرو میں تم کو ہدایت عطاء کروں گا تم میں سے ہر ایک فقیر ہے سوائے اس کے جسے میں غنی کردوں ، لہٰذا مجھ سے غناء مانگا کرو میں تم کو غناء عطاء کروں گا۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب کے سب میرے سب سے زیادہ شقی بندے کے دل کی طرح ہو جائیں تو میری حکومت میں سے ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کر سکتے اور اگر وہ سب کے سب میرے سب سے زیادہ متقی بندے کے دل پر جمع ہو جائیں تو میری حکومت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کر سکتے۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب جمع ہوجائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی تمنا پہنچتی ہو اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق مطلوبہ چیزیں دیتا جاؤں تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی واقع نہ ہوگی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص ساحل سمندر سے گذرے اور اس میں ایک سوئی ڈبوئے اور پھر نکالے میری حکومت میں اتنی بھی کمی نہ آئیگی کیونکہ میں بے انتہا سخی، بزرگ اور بے نیاز ہوں میری عطاء بھی ایک کلام سے ہوتی ہے اور میرا عذاب بھی ایک کلام سے آجاتا ہے میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو " کن " کہتا ہوں اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ليث بن أبي سليم ← عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21695

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21696

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا شَهْرٌ حَدَّثَنِي ابْنُ غَنْمٍ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عَبْدِي مَا عَبَدْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي غَافِرٌ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ وَيَا عَبْدِي إِنْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي لَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَا عِبَادِي كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ أَنَا عَافَيْتُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ وَاجِدٌ مَاجِدٌ إِنَّمَا عَطَائِي كَلَامٌ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے! تو جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا میرے بندو! تم سب کے سب گناہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت دے دوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔

ابْنِ غَنْمٍ ← شَهْرٍ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21696

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16237

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ كُنَّا نَبِيعُ الرَّقِيقَ فِي السُّوقِ وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَسَمَّانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْأَيْمَانُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ

حضرت قیس بن ابی غزرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہم تاجروں کو پہلے سماسرہ دلال کہا جاتا تھا ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے گروہ تجار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پہلے سے زیادہ عمدہ نام سے مخاطب کیا تجارت میں قسم اور جھوٹی باتیں بھی ہوجاتی ہیں لہذا اس میں صدقات وخیرات کی آمیزش کرلیا کرو ۔

قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ← أَبِي وَائِلٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16237

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21705

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحَسَنَةُ عَشْرٌ أَوْ أَزِيدُ وَالسَّيِّئَةُ وَاحِدَةٌ أَوْ أَغْفِرُهَا فَمَنْ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کر سکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کر سکتا ہوں اور اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔

رَسُولُ اللَّهِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21705

chevron_left Previous
1…414243…1,318
Next chevron_right