Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان والعمل

Faith & Deeds

26349 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26566

حَدَّثَنَا مُعَاذٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ قِرَاءَتَهُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ كَثُرُوا فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ اكْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ قَالَتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کر دیا، چنانچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہو گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیو نکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُعَاذٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26566

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27782

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَرَجَتْ امْرَأَةٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا بِثِيَابِهِ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا وَذَهَبَ وَانْتَهَى إِلَيْهَا رَجُلٌ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَذَهَبَ الرَّجُلُ فِي طَلَبِهِ فَانْتَهَى إِلَيْهَا قَوْمٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَوَقَعُوا عَلَيْهَا فَقَالَتْ لَهُمْ إِنَّ رَجُلًا فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَذَهَبُوا فِي طَلَبِهِ فَجَاءُوا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَهَبَ فِي طَلَبِ الرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هُوَ هَذَا فَلَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِ قَالَ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا هُوَ فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا فَقِيلَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا تَرْجُمُهُ فَقَالَ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ

حضرت وائل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت نماز پڑھنے کے لئے نکلی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا، اس نے اسے اپنے کپڑوں سے ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی ضروت پوری کر کے غائب ہو گیا، اتنی دیر میں اس عورت کے قریب ایک اور آدمی پہنچ گیا، اس نے اس سے کہا کہ ایک آدمی میرے ساتھ اس اس طرح کر گیا ہے، وہ شخص اسے تلاش کرنے کے لئے چلا گیا، اسی ثناء میں اس عورت کے پاس انصار کی ایک جماعت پہنچ کر رک گئی، اس عورت نے اسے بھی یہی کہا کہ ایک آدمی میرے ساتھ اس اس طرح کر گیا ہے، وہ لوگ بھی اس تلاش میں نکل کھڑے ہوئے، اور اس آدمی کو پکڑ لائے جو بدکار کی تلاش میں نکلا ہوا تھا، اور اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے، اس عورت نے بھی کہہ دیا یہ وہی ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو وہ بدکاری کرنے والا آگے بڑھ کر کہنے لگا یا رسول اللہ! واللہ وہ آدمی میں ہوں ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا جاؤ، اللہ نے تمہیں معاف کر دیا اور اس آدمی کی تعریف کی، کسی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! آپ سے رجم کیوں نہیں کرتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر سارے مدینہ والے یہ توبہ کر لیتے تو ان کی طرف سے قبول ہوجاتی۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27782

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18685

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَادٌ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَقُولُونَ بِفَرَحِ رَجُلٍ انْفَلَتَتْ مِنْهُ رَاحِلَتُهُ تَجُرُّ زِمَامَهَا بِأَرْضٍ قَفْرٍ لَيْسَ فِيهَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ وَعَلَيْهَا طَعَامٌ قَالَ عَفَّانُ وَشَرَابٌ فَطَلَبَهَا حَتَّى شَقَّ عَلَيْهِ ثُمَّ مَرَّتْ بِجِذْلِ شَجَرَةٍ قَالَ عَفَّانُ بِجِذْلٍ فَتَعَلَّقَ زِمَامُهَا فَوَجَدَهَا مُعَلَّقَةً بِهِ قَالَ عَفَّانُ مُتَعَلِّقَةً بِهِ قَالَ قُلْنَا شَدِيدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ و حَدَّثَنَاه جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے غالباً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہوا راستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تواچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتاہے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← إِيَادٍ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادٍ ← أبو الوليد وعفان

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18685

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22076

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے کتاب کے ستونوں کو دیکھا کہ انہیں میرے سر کے نیچے سے اٹھایا گیا ، میں سمجھ گیا کہ اسے لیجایا جارہا ہے چنانچہ میری نگاہیں اس کا پیچھا کرتی رہیں پھر اسے شام پہنچا دیا گیا یاد رکھو! جس زمانے میں فتنے رونما ہوں گے اس وقت ایمان شام میں ہوگا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22076

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22096

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو غُصْنٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ الْأَيَّامَ يَسْرُدُ حَتَّى يُقَالَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ الْأَيَّامَ حَتَّى لَا يَكَادَ أَنْ يَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ مِنْ الْجُمُعَةِ إِنْ كَانَا فِي صِيَامِهِ وَإِلَّا صَامَهُمَا وَلَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنْ الشُّهُورِ مَا يَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ لَا تَكَادُ أَنْ تُفْطِرَ وَتُفْطِرَ حَتَّى لَا تَكَادَ أَنْ تَصُومَ إِلَّا يَوْمَيْنِ إِنْ دَخَلَا فِي صِيَامِكَ وَإِلَّا صُمْتَهُمَا قَالَ أَيُّ يَوْمَيْنِ قَالَ قُلْتُ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمُ الْخَمِيسِ قَالَ ذَانِكَ يَوْمَانِ تُعْرَضُ فِيهِمَا الْأَعْمَالُ عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ وَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ قَالَ قُلْتُ وَلَمْ أَرَكَ تَصُومُ مِنْ شَهْرٍ مِنْ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ قَالَ ذَاكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ يُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ لوگ کہتے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ناغہ نہیں کریں گے اور بعض اوقات اتنے تسلسل کے ساتھ ناغہ فرماتے کہ یوں محسوس ہوتا کہ اب روزہ رکھیں گے ہی نہیں، البتہ ہفتہ میں دو دن ایسے تھے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں روزے سے ہوتے تو بہت اچھا، ورنہ ان کا روزہ رکھ لیتے تھے اور کسی مہینے میں نفلی روزے اتنی کثرت سے نہیں رکھتے تھے جتنی کثرت سے ماہ شعبان میں رکھتے تھے یہ دیکھ کر ایک دن میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ بعض اوقات اتنے روزے رکھتے ہیں کہ افطار کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے اور بعض اوقات اتنے ناغے کرتے ہیں کہ روزے رکھتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے ، البتہ دو دن ایسے ہیں کہ اگر آپ کے روزوں میں آجائیں تو بہتر ورنہ آپ ان کا روزہ ضرور رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سے دو دن ؟ میں نے عرض کی پیر اور جمعرات ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دو دنوں میں رب العالمین کے سامنے تمام اعمال پیش کئے جاتے ہیں ، میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں ۔ پھر میں نے عرض کیا کہ جتنی کثرت سے میں آپ کو ماہ شعبان کے نفلی روزے رکھتے ہوئے دیکھتا ہوں ، کسی اور مہینے میں نہیں دیکھتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رجب اور رمضان کے درمیان اس مہینے کی اہمیت سے لوگ غافل ہوتے ہیں حالانکہ اس مہینے میں رب العالمین کے سامنے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ← ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ أَبُو غُصْنٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22096

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18723

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْسَطُ قَالُوا الصَّلَاةُ قَالَ حَسَنَةٌ وَمَا هِيَ بِهَا قَالُوا الزَّكَاةُ قَالَ حَسَنَةٌ وَمَا هِيَ بِهَا قَالُوا صِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ قَالُوا الْحَجُّ قَالَ حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ قَالُوا الْجِهَادُ قَالَ حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ قَالَ إِنَّ أَوْسَطَ عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ فِي اللَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پوچھنے لگے اسلام کی کون سے رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نماز، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب اس کے بعد؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا زکوۃ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب ، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ماہ رمضان کے روزے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب ، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا حج بیت اللہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت خوب ، اس کے بعد؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جہاد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوب کہہ کر فرمایا ایمان کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ کی رضا کے لئے کسی سے محبت یا نفرت کرو۔

إِنَّ أَوْسَطَ عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ فِي اللَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ ← حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ ← الْجِهَادُ ← حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ ← الْحَجِّ ← حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ ← صِيَامُ رَمَضَانَ ← حَسَنَةٌ وَمَا هِيَ بِهَا ← الزَّكَاةِ ← حَسَنَةٌ وَمَا هِيَ بِهَا ← الصَّلَاةِ ← كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ فَقَالَ أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْسَطُ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← لَيْثٌ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18723

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18733

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زَاذَانَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ وَكَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرَ وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ فِي الْأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنْ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الشَّمْسُ مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ قَالَ فَتَخْرُجُ تَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ قَالَ فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ يَعْنِي بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ فَيَقُولُونَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى قَالَ فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ دِينِيَ الْإِسْلَامُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ فَيَقُولُ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولَانِ لَهُ وَمَا عِلْمُكَ فَيَقُولُ قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ فَيُنَادِي مُنَادٍ فِي السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَأَلْبِسُوهُ مِنْ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ فَيَأْتِيهِ مِنْ رَوْحِهَا وَطِيبِهَا وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ قَالَ وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ حَسَنُ الثِّيَابِ طَيِّبُ الرِّيحِ فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ لَهُ مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ فَيَقُولُ أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ فَيَقُولُ رَبِّ أَقِمْ السَّاعَةَ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي قَالَ وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنْ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنْ الْآخِرَةِ نَزَلَ إِلَيْهِ مِنْ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ مَعَهُمْ الْمُسُوحُ فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُولُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنْ اللَّهِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنْ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنْ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا مَا هَذَا الرُّوحُ الْخَبِيثُ فَيَقُولُونَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى فَتُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا ثُمَّ قَرَأَ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنْ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ فَتُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنْ السَّمَاءِ أَنْ كَذَبَ فَافْرِشُوا لَهُ مِنْ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ فَيَقُولُ أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ فَيَقُولُ مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالشَّرِّ فَيَقُولُ أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ فَيَقُولُ رَبِّ لَا تُقِمْ السَّاعَةَ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصاری کے جنازے میں نکلے ہم قبر کے قریب پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھ گئے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کو کرید رہے تھے پھر سر اٹھا کر فرمایا اللہ سے عذاب قبر سے بچنے کے لئے پناہ مانگو، دو تین مرتبہ فرمایا۔ پھر فرمایا کہ بندہ مؤمن جب دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے آس پاس سے روشن چہروں والے ہوتے ہیں آتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن اور جنت کی حنوط ہوتی ہے تاحد نگاہ وہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے نفس مطمئنہ ! اللہ کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل چل چنانچہ اس کی روح اس بہہ کر نکل جاتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ بہہ جاتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں اور دوسرے فرشتے پلک جھپکنے کی مقدار بھی اس کی روح کو ملک الموت کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے بلکہ ان سے لے کر اسے اس کفن لپیٹ کر اس پر اپنی لائی ہوئی حنوط مل دیتے ہیں اور اس کے جسم سے ایسی خوشبو آتی ہے جیسے مشک کا ایک خوشگوار جھونکا جو زمین پر محسوس ہوسکے ۔ پھر فرشتے اس روح کو لے کر اوپر چڑھ جاتے ہیں اور فرشتوں کے جس گروہ پر بھی ان کا گذر ہوتا ہے وہ گروہ پوچھتا ہے کہ یہ پاکیزہ روح کون ہے؟ وہ جواب میں اس کا وہ بہترین نام بتاتے ہیں جس سے دنیا میں لوگ اسے پکارتے تھے حتی کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور دروازے کھلواتے ہیں جب دروازہ کھلتا ہے تو ہر آسمان کے فرشتے اس کی مشایعت کرتے ہیں اگلے آسمان تک اسے چھوڑ کر آتے ہیں اور اس طرح وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کانامہ اعمال " علیین " میں لکھ دو اور اسے واپس زمین کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے اپنے بندوں کو زمین کی مٹی ہی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔چنانچہ اس کی روح جسم میں واپس لوٹادی جاتی ہے پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے بٹھاکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے میرا رب اللہ ہے وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرادین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرادین اسلام ہے وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون شخص ہے جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ جواب دیتا ہے کہ وہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا علم کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، اس پر آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا اس کے لئے جنت کا بستر بچھادو اسے جنت کا لباس پہنادو اور اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ کھول دو چنانچہ اسے جنت کی ہوائیں اور خوشبوئیں آتی رہتیں ہیں اور تاحد نگاہ اس کی قبر وسیع کردی جاتی ہے اور اس کے پاس ایک خوبصورت لباس اور انتہائی عمدہ خوشبو والا ایک آدمی آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تمہیں خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا وہ اس سے پوچھتاے کہ تم کون ہو؟ کہ تمہاراچہرہ ہی خیر کا پتہ دیتا ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تمہارا نیک عمل ہوں اس پر وہ کہتا ہے کہ پروردگار! قیامت ابھی قائم کردے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور مال میں واپس لوٹ جاؤں ۔ اور جب کوئی کافر شخص دنیا سے رخصتی اور سفر آخرت پر جانے کے قریب ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اتر کر آتے ہیں جن کے پاس ٹاٹ ہوتے ہیں وہ تاحد نگاہ بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آکر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس خبیثہ ! اللہ کی ناراضگی اور غصے کی طرف چل یہ سن کر اس کی روح جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ملک الموت اسے جسم سے اس طرح کھینچتے ہیں جیسے گیلی اون سے سیخ کھینچی جاتی ہے اور اسے پکڑ لیتے ہیں فرشتے ایک پلک جھپکنے کی مقدار بھی اسے ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے اور اس ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے مردار کی بدبوجیسا ایک ناخوشگوار اور بدبودار جھونکا آتا ہے۔ پھر وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے ان کا گذر ہوتا ہے وہی گروہ کہتا ہے کہ یہ کیسی خبیث روح ہے؟ وہ اس کا دنیا میں لیا جانے والا بدترین نام بتاتے ہیں یہاں تک کہ اسے لے کر آسمان دنیا میں پہنچ جاتے ہیں ۔ در کھلواتے ہیں لیکن دروازہ نہیں کھولاجاتا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " ان کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ ہی وہ جنت میں داخل ہوں گے تاوقتیکہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے " اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کا نامہ اعمال " سجین " میں سے نچلی زمین میں لکھ دو چنانچہ اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرپڑا پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے دور دراز کی جگہ میں لے جا ڈالے ۔ " پھر اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آکر اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے ہائے افسوس ! مجھے کچھ پتہ نہیں ، وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے وہ پوچھتے ہیں کہ وہ کون شخص تھا جو تمہاری طرف بھیجا گیا تھا؟ وہ پھر وہی جواب دیتا ہے اور آسمان سے ایک منادی پکارتا ہے کہ یہ جھوٹ بولتا ہے ، اس کے لئے آگ کا بستر بچھادو اور جہنم کا ایک دروازہ اس کے لئے کھول دو چنانچہ وہاں کی گرمی اور لو اسے پہنچنے لگتی ہے اور اس پر قبر تنگ ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں پھر اس کے پاس ایک بدصورت آدمی گندے کپڑے پہن کر آتا ہے جس سے بدبو آرہی ہوتی ہے اور اس سے کہتا ہے کہ تجھے خوشخبری مبارک ہو یہ وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ پوچھتا ہے کہ تو کون ہے ؟ کہ تیرے چہرے ہی سے شر کی خبر معلوم ہوتی ہے وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا گندہ عمل ہوں وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ! قیامت قائم نہ کرنا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ ← مِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18733

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22124

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ حَدَّثَهُ أَنَّ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ يَخْرُجُ فِي مَالٍ لَهُ بِوَادِي الْقُرَى فَيَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فَقُلْتُ لَهُ لِمَ تَصُومُ فِي السَّفَرِ وَقَدْ كَبِرْتَ وَرَقَقْتَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ قَالَ إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے میں اتنی پابندی کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ۔

أَنَّ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامُ يَعْنِي الدُّسْتُوَائِيَّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22124

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22160

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ مَوْلًى لِأُسَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى مَالِهِ بِوَادِي الْقُرَى فَيَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فَقُلْتُ لَهُ لِمَ تَصُومُ فِي السَّفَرِ وَقَدْ كَبِرْتَ وَرَقَقْتَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ فَقَالَ إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک دن وہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنے مال کی تلاش میں وادی قری گیا ہوا تھا حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے ان کے غلام نے ان سے پوچھا کہ آپ اس قدر بوڑھے اور کمزور ہونے کے باوجود بھی پیر اور جمعرات کا روزہ اتنی پابندی سے کیوں رکھتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پیر اور جمعرات کا روزہ رکھا کرتے تھے کسی نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں ۔

أَنَّ مَوْلًى لِأُسَامَةَ ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّ مَوْلَى قُدَامَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22160

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22210

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور اس پر اس کی حد بھی جاری کر دی جائے تو وہ اس کا کفارہ بن جاتی ہے۔

مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22210

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22220

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور اس پر اس کی حد بھی جاری کردی جائے تو وہ اس کا کفارہ بن جاتی ہے۔

مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22220

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19107

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ فَمُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةٍ فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ وَيَعْلَمَهَا اللَّهُ مِنْهُ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةٍ وَأَمَّا النَّاسُ فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ

حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اعمال چھ طرح کے ہیں اور لوگ چار طرح کے ہیں دوچیزیں واجب کرنے والی ہیں ایک چیز برابر برابر ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا اور ایک نیکی کا ثواب سات سو گنا ہے واجب کرنے والی دوچیزیں تو یہ ہیں کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا مرے وہ جہنم میں داخل ہوگا اور برابر سرابر یہ ہے کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے اس کے دل میں اس کا احساس پیدا ہو اور اللہ کے علم میں ہو تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو شخص برائی کا عمل سر انجام دے اس کے لئے ایک برائی لکھی جاتی ہے جو شخص ایک نیکی کرے اس کے لئے وہ دس گنا لکھی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کے راستہ میں خرچ کرے تو ایک نیکی سات سو گنا تک شمار ہوتی ہے ۔باقی رہے لوگ تو ان میں سے بعض پر دنیا میں کشادگی اور آخرت میں تنگی ہوتی ہے بعض پر دنیا میں تنگی اور آخرت میں کشادگی بعض پر دنیا و آخرت دونوں میں تنگی اور بعض پر دنیا و آخرت دونوں میں کشادگی ہوتی ہے۔

خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ، ← رَجُلٌ: ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19107

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22422

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زَحْرٍ حَدَّثَهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا يَقُولُونَ لَهُ قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي فَيَقُولُونَ نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ لِمَ فَيَقُولُونَ رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ فَيَقُولُ قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہیں یہ بھی بتاسکتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مؤمنین سے سب سے پہلے کیا کہے گا اور وہ سب سے پہلے اسے کیا جواب دیں گے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) فرمایا اللہ تعالیٰ مؤمنین سے فرمائے گا کہ کیا تم مجھ سے ملنے کو پسند کرتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے جی پروردگار! وہ پوچھے گا کیوں ؟ مؤمنین عرض کریں گے کہ ہمیں آپ سے درگذر اور معافی کی امید تھی وہ فرمائے گا کہ میں نے تمہارے لئے اپنی مغفرت واجب کردی ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي عَيَّاشٍ، ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← يحيى بن أيوب أن عبيد الله بن زحر ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22422

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22455

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِيلَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا قَالَ أَجْلِسُونِي فَقَالَ إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنْ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا ثُمَّ أَسْلَمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ

یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو کسی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن ! ہمیں کوئی وصیت فرما دیجئے انہوں نے فرمایا مجھے بٹھا دو، اور فرمایا علم اور ایمان اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں جو ان کی تلاش میں نکلتا ہے وہی انہیں پاتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا چار آدمیوں سے علم حاصل کرو، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جو پہلے یہودی تھے بعد میں مسلمان ہوگئے تھے اور ان کے متعلق میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ جنت میں دس افراد میں سے دسویں ہوں گے۔

يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22455

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22481

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ عَنْ زَبَّانَ عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهَ وَتُبْغِضَ لِلَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لئے محبت اور نفرت کرو اور اپنی زبان کو ذکر الہٰی میں مصروف رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس کے علاوہ ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور ان کے بھی اسی چیز کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو۔

وماذا ← اللہُ ← "أنْ تُحبَّ لله، وتُبْغِضَ لله، وتَعْمَلَ لسانَك في ← أفْضَلِ الإيمانِ؟ ← مُعَاذٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← سَهْلٍ ← زَبَّانَ ← رشدين ← يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22481

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22483

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا زَبَّانُ بْنُ فَائِدٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ قَالَ أَفْضَلُ الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل ایمان کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے لئے محبت اور نفرت کرو اور اپنی زبان کو ذکر الہٰی میں مصروف رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس کے علاوہ ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور ان کے بھی اسی چیز کو ناپسند کرو جو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو اور اچھی بات کہو یا خاموش رہو۔

وماذا ← اللہُ ← أَفْضَلُ الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ← أفْضَلِ الإيمانِ؟ ← أَبِيهِ، أَنَّهُ «سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22483

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22512

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا الْإِثْمُ فَقَالَ إِذَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ قَالَ فَمَا الْإِيمَانُ قَالَ إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔

«إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ» ← فَمَا الْإِيمَانُ؟ ← إِذَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ ← مَا الْإِثْمُ ← سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ ← أَبَا أُمَامَةَ، ← جَدِّهِ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22512

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22519

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْإِيمَانُ قَالَ إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا الْإِثْمُ قَالَ إِذَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو اس نے پوچھا کہ گناہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو۔

«إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ» ← أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ مَا الإِيمَانُ؟ ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22519

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19219

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ مَاعِزٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ثُمَّ الْجِهَادُ ثُمَّ حَجَّةٌ بَرَّةٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ كَمَا بَيْنَ مَطْلَعِ الشَّمْسِ إِلَى مَغْرِبِهَا

حضرت ماعز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اللہ پر ایمان لانا، پھر جہاد، پھر حج مبرور تمام اعمال میں اس طرح افضل ہیں جیسے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہوتاہے۔

النبي أنه سُئل: أَيُّ الأعمالِ أَفضلُ؟ ← مَاعِزٍ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، ← أَبِي مَسْعُودٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19219

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19220

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مَاعِزٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ

حضرت ماعز رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اللہ پر ایمان لانا، پھر جہاد، پھر حج مبرور تمام اعمال میں اس طرح افضل ہیں جیسے مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہوتاہے۔

مَاعِزٍ، ← حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19220

chevron_left Previous
1…434445…1,318
Next chevron_right