Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان والعمل

Faith & Deeds

26349 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12814

حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَأَنْ يَكْرَهَ الْعَبْدُ أَنْ يَرْجِعَ عَنْ الْإِسْلَامِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدُ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں ، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے ، اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12814

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25259

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ خَالِهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَجِدُونَ مِنْ الْوَسْوَسَةِ وَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَجِدُ شَيْئًا لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا خَرَّ مِنْ السَّمَاءِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ

حضرت عائشہ سے مریو ہے کہ کچھ صحابہ کرام نے اپنے آپ کو پیش آنے والے وساوس کی شکایت کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں ایسے وسو سے آتے ہیں کہ ہمیں وہ زبان پرندے سے زیادہ پسند یہ ہے کہ ہم آسمان سے نیچے گر پڑیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔

شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ مَا يَجِدُونَ مِنْ الْوَسْوَسَةِ وَقَالُوا ← عَائِشَةَ ← خَاله ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25259

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25263

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي قَالَ فَتَكَنَّيْ بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یارسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25263

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15573

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ الْمَكِّيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَقَالَ الْفَزَارِيُّ مَرَّةً عَنِ ابْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبِي وَقَالَ غَيْرُ الْفَزَارِيِّ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَانْكَفَأَ الْمُشْرِكُونَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَوُوا حَتَّى أُثْنِيَ عَلَى رَبِّي فَصَارُوا خَلْفَهُ صُفُوفًا فَقَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ اللَّهُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ وَلَا هَادِيَ لِمَا أَضْلَلْتَ وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لَا يَحُولُ وَلَا يَزُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعَيْلَةِ وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ اللَّهُمَّ إِنِّي عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا وَشَرِّ مَا مَنَعْتَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ وَاجْعَلْنَا مِنْ الرَّاشِدِينَ اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُونِينَ اللَّهُمَّ قَاتِلْ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ اللَّهُمَّ قَاتِلْ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَهَ الْحَقِّ

حضرت عبداللہ زرقی سے مروی ہے کہ جب غزوہ احد کے دن مشرکین شکست خوردہ ہو کر بھاگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا سیدھے ہوجاؤ تاکہ میں اپنے رب کی ثناء بیان کرو چنانچہ وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بستہ ہوگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ تمام تعریفیں آپ ہی کے لئے ہیں آپ جسے کشادہ کردیں اسے کوئی تنگ نہیں کرسکتا اور جسے آپ تنگ کردیں اسے کوئی کشادہ نہیں کرسکتا جسے آپ گمراہ کردیں اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جسے آپ ہدایت دیدیں اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا جس سے آپ کچھ روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے آپ کچھ نہ دیں اس کو کوئی دے نہیں سکتا جسے آپ دور کردیں اسے کوئی قریب نہیں کرسکتا جسے آپ قریب کرلیں اس کوئی دور نہیں کرسکتا ہم پر اپنی رحمتوں ، برکتوں فضل وکرم اور رزق کشادہ عطا فرما۔ اے اللہ میں آپ سے ان دائمی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو پھریں اور نہ زائل ہوں اسے اللہ میں آپ سے تنگدستی کے دن نعمتوں کا اور خوف کے دن امن کا سوالکرتا ہوں اے اللہ میں اس چیز کے شر سے آپ کی پناہ میں آتاہوں جو آپ نے ہمیں عطا فرمائی یا ہم سے روک لی اے اللہ ایمان کو ہماری نگاہوں میں محبوب کر اور ہمارے دلوں میں مزین فرما اور کفروفسق اور نافرمانی سے ہمیں کراہت عطا فرما اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کر اے اللہ ہمیں حالت اسلام میں موت عطا فرما حالت اسلام میں زندہ رکھ اور نیک لوگوں میں اس طریقے شامل فرما کہ ہم رسواہوں اور نہ ہی کسی فتنے کا شکارہوں اے اللہ ان کافروں کو کیفر کردار تک خود ہی پہنچا جو آپ کے پیغمبروں کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے راستے میں مزاحم ہوتے ہیں اور ان پر پناعذاب مسلط فرما اے اللہ اسے سچے معبود ان کافروں کو کیفر کردار تک پہنچا جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی۔

لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدِ وَانْکَفَأَ الْمُشْرِکُوْنَ ← أَبِي وَقَالَ غَيْرُ الْفَزَارِيِّ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ← أَبِيهِ ← ابْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ← وَقَالَ الْفَزَارِيُّ مَرَّةً ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّرَقِيِّ ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ الْمَكِّيِّ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15573

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15581

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ اجْتَمَعَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِيَوْمٍ

عبدالرحمن بن بیلمانی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چار صحابہ کہیں اکٹھے ہوئے تو ان میں سے ایک کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اگر بندہ مرنے سے پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے ۔

إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِيَوْمٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← اجْتَمَعَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ أَحَدُهُمْ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15581

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15582

فَقَالَ الثَّانِي أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِنِصْفِ يَوْمٍ

دوسرے نے کہا کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے پہلے نے جواب دیا جی ہاں دوسرے نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے پہلے صرف آدھا دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے ۔

إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِنِصْفِ يَوْمٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَأَنَا ← نَعَمْ ← هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← فَقَالَ الثَّانِي أَأَنْتَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15582

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15583

فَقَالَ الثَّالِثُ أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِضَحْوَةٍ

تیسرے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے دوسرے نے اثبات میں جواب دیا اس پر تیسرے نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے چوتھائی دن پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے ۔

إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِضَحْوَةٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← وَأَنَا ← نَعَمْ ← هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← فَقَالَ الثَّالِثُ أَأَنْتَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15583

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15584

قَالَ الرَّابِعُ أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَأَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ بِنَفَسِهِ

چوتھے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے تیسرے نے اثبات میں جواب دیا اس پر چوتھے نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ جب تک بندے پر نزع کی کیفیت طاری نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے ۔

إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ بِنَفَسِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← نَعَمْ وَأَنَا ← هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← الرَّابِعُ أَأَنْتَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15584

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15634

حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي مَنْصُورٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقَّ صَرِيحِ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ تَعَالَى وَيُبْغِضَ لِلَّهِ فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَأَبْغَضَ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَدْ اسْتَحَقَّ الْوَلَاءَ مِنْ اللَّهِ وَإِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ

حضرت عمر و بن جموح سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس وقت کوئی شخص صریح ایمان دار نہیں ہوسکتا جب تک صرف اللہ کی رضاء کے لئے محبت اور نفرت نہ کرنے لگے جب کوئی شخص صرف اللہ کی رضا کے لئے محبت اور نفرت کرنے لگے تو وہ اللہ کی دوستی کامستحق ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں میں سے میرے دوست اور میری مخلوق میں سے میرے محبوب لوگ وہ ہیں جو مجھے یاد کرتے ہیں اور میں انہیں یاد کرتا ہوں ۔

النَّبِيِّ ← عمرو بن الجموح: أنه ← أَبِي مَنْصُورٍ، مَوْلَى الْأَنْصَارِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← رشدين بن سعد ← مِنْ الْهَيْثَمِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15634

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25381

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَهَا يَا بُنَيَّةُ أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ قَالَ فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا أَبَتِ كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ جُدُدٍ يَمَانِيَةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ أُدْرِجَ فِيهَا إِدْرَاجًا

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر کی طبیعت بوجھل ہونے لگی تو انہوں نے پو چھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کس دن ہوا تھا؟ ہم نے بتایا پیر کے دن، انہوں نے پوچھا تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے عرض کیا ابا جان! ہم نے انہیں یمن کی تین نئی سفید سحولی چادروں میں کفن دیا تھا، جس میں قمیض تھی اور نہ ہی عمامہ، بس انہیں اس میں لپیٹ دیا گیا تھا۔

لَهَا يَا بُنَيَّةُ أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ قُلْتُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ← أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25381

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25392

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ مُعْرِضًا عَنْهُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ ابْنَةَ ابْنَتِهِ فَقَالَ تَحَلَّيْ بِهَذَا يَا بُنَيَّةُ

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے ہدیہ آیا جس میں سونے کا ایک ہار بھی تھا، اور اس میں حبشی نگینہ لگا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بے توجہی سے لکڑی کے ذریعے اٹھا یا اور اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص کو بلایا اور فرمایا پیاری بیٹی! یہ زیور تم پہن لو۔

عَائِشَةَ ← أبيه عباد بن عبد الله بن الزبير ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25392

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15704

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا زَبَّانُ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَظَمَ غَيْظَهُ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَنْتَصِرَ دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي حُورِ الْعِينِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ وَمَنْ تَرَكَ أَنْ يَلْبَسَ صَالِحَ الثِّيَابِ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ أَيَّتَهُنَّ شَاءَ

حضرت معاذ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے غصے کو قابو میں رکھے جبکہ وہ اس پر عمل کرنے پر قدرت بھی رکھتا ہو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلا کر یہ اختیار دے گا کہ جس حور عین کو چاہے پسند کرلے اور جو شخص تواضع کی نیت سے اچھے کپڑے پہننے کی قدرت کے باوجود سارا لباس اختیار کرے اللہ اسے قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلا کر یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے جوڑوں میں سے جسے چاہے پسند کرلے۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ← زَبَّانَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15704

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15716

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى دَعَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ أَيَّهَا شَاءَ

حضرت معاذسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص تواضع کی نیت سے اچھے کپڑے پہننے کی قدرت کے باوجود سادہ لباس اختیار کرے اللہ اسے قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے بلا کر یہ اختیار دے گا کہ وہ ایمان کے جوڑوں میں سے جسے چاہے پسند کرلے۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أبو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون ← سَعِيدٌ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15716

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25507

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَدَّانُ فَقِيلَ لَهَا مَا لَكِ وَلِلدَّيْنِ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ كَانَتْ لَهُ نِيَّةٌ فِي أَدَاءِ دَيْنِهِ إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنٌ فَأَنَا أَلْتَمِسُ ذَلِكَ الْعَوْنَ

محمد بن علی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لوگوں سے قرض لیتی رہتی تھیں کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ قرض کیوں لیتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کی نیت قرض ادا کرنے کی ہو تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شامل حال رہتی ہے، میں وہی مدد حاصل کرنا چاہتی ہوں۔

محمد بن علي ← الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25507

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25554

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي وَمَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا وہ کون ہے جس نے میرا نام رکھنا حلال اور میری کنیت رکھنا حرام قرار دیا ہے، یا وہ کون ہے جس نے میری کنیت رکھنا حرام اور میرا نام رکھنا حلال قرار دیا ہے۔

عَائِشَةَ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25554

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15826

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ وَإِسْحَاقَ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عَمِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْمَعُوا اسْمِي وَكُنْيَتِي

عبدالرحمن بن ابی عمرہ کے چچا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے نام اور کنیت کو اکٹھا نہ کیا کرو کہ ایک ہی آدمی میرا نام بھی رکھ لے اور میری کنیت بھی۔

عَمِّہٖ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← سُفْيَانَ، ← سُفْيَانَ وَإِسْحَاقَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15826

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15842

حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ

حسین بن سائب کہتے ہیں کہ جب اللہ نے حضرت ابولبابہ کی توبہ قبول کرلی تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ میری توبہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ کر آپ کے پڑوس میں آکر بس جاؤں اور اپنا سارامال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کردوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری طرف سے ایک تہائی بھی کافی ہوگا۔

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15842

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15862

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْجِنِي إِلَّا بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي إِلَى اللَّهِ أَنْ لَا أَكْذِبَ أَبَدًا وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ تَعَالَى وَرَسُولِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَإِنَّهُ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اللہ نے مجھے سچ کے علاوہ کسی اور چیز کی برکت سے نجات نہیں دی اب میری توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ آئندہ میں کبھی جھوٹ نہ بولوں اور میں اپنا سارامال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کرتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھوڑا بہت اپنے پاس بھی رکھ لو تو بہتر ہے عرض کیا کہ پھر میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ لیتاہوں۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15862

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15882

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَيْرِهَا قَطُّ إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَافَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا وَأَشْهَرَ وَكَانَ مِنْ خَبَرِي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لِأَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُ قَبْلَهَا رَاحِلَتَيْنِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهَا فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزَاةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزَاةُ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلَا لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرٌ لَا يَجْمَعُهُمْ كِتَابُ حَافِظٍ يُرِيدُ الدِّيوَانَ فَقَالَ كَعْبٌ فَقَلَّ رَجُلٌ يُرِيدُ يَتَغَيَّبُ إِلَّا ظَنَّ أَنَّ ذَلِكَ سَيُخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْيٌ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتْ الثِّمَارُ وَالظِّلُّ وَأَنَا إِلَيْهَا أَصْعَرُ فَتَجَهَّزَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَهُ وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَيْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُ فَأَرْجِعَ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَأَقُولُ فِي نَفْسِي أَنَا قَادِرٌ عَلَى ذَلِكَ إِذَا أَرَدْتُ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى شَمَّرَ بِالنَّاسِ الْجِدُّ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَادِيًا وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا فَقُلْتُ الْجَهَازُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَغَدَوْتُ بَعْدَ مَا فَصَلُوا لِأَتَجَهَّزَ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا مِنْ جَهَازِي ثُمَّ غَدَوْتُ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ يَتَمَادَى بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ وَلَيْتَ أَنِّي فَعَلْتُ ثُمَّ لَمْ يُقَدَّرْ ذَلِكَ لِي فَطَفِقْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْتُ فِيهِمْ يَحْزُنُنِي أَنْ لَا أَرَى إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَهُ اللَّهُ وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ مَا فَعَلَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ حَبَسَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِئْسَمَا قُلْتَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَجَّهَ قَافِلًا مِنْ تَبُوكَ حَضَرَنِي بَثِّي فَطَفِقْتُ أَتَفَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا أَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ كُلَّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي فَلَمَّا قِيلَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْهُ بِشَيْءٍ أَبَدًا فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُتَخَلِّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُمْ وَيَكِلُ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ لِي تَعَالَ فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِي مَا خَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدْ اسْتَمَرَّ ظَهْرُكَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي أَخْرُجُ مِنْ سَخْطَتِهِ بِعُذْرٍ لَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا وَلَكِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى عَنِّي بِهِ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ تَعَالَى يُسْخِطُكَ عَلَيَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ بِصِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو قُرَّةَ عَيْنِي عَفْوًا مِنْ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَاللَّهِ مَا كَانَ لِي عُذْرٌ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَفْرَغَ وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ تَعَالَى فِيكَ فَقُمْتُ وَبَادَرَتْ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا وَلَقَدْ عَجَزْتَ أَنْ لَا تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ بِهِ الْمُتَخَلِّفُونَ لَقَدْ كَانَ كَافِيَكَ مِنْ ذَنْبِكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبَ نَفْسِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي أَحَدٌ قَالُوا نَعَمْ لَقِيَهُ مَعَكَ رَجُلَانِ قَالَا مَا قُلْتَ فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُمْ مَنْ هُمَا قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَامِرِيُّ وَهِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ قَالَ فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا لِي فِيهِمَا أُسْوَةٌ قَالَ فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ قَالَ وَتَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ لِي مِنْ نَفْسِي الْأَرْضُ فَمَا هِيَ بِالْأَرْضِ الَّتِي كُنْتُ أَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً فَأَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ فَكُنْتُ أَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَطُوفُ بِالْأَسْوَاقِ وَلَا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَأَقُولُ فِي نَفْسِي حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ أَمْ لَا ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ وَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلَاتِي نَظَرَ إِلَيَّ فَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ ذَلِكَ مِنْ هَجْرِ الْمُسْلِمِينَ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ حَائِطَ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ هَلْ تَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَسَكَتَ قَالَ فَعُدْتُ فَنَشَدْتُهُ فَسَكَتَ فَعُدْتُ فَنَشَدْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي بِسُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ أَنْبَاطِ أَهْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِطَعَامٍ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ مَنْ يَدُلُّنِي عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ إِلَيَّ حَتَّى جَاءَ فَدَفَعَ إِلَيَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ وَكُنْتُ كَاتِبًا فَإِذَا فِيهِ أَمَّا بَعْدُ فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلَا مَضْيَعَةٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ قَالَ فَقُلْتُ حِينَ قَرَأْتُهَا وَهَذَا أَيْضًا مِنْ الْبَلَاءِ قَالَ فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهُ بِهَا حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنْ الْخَمْسِينَ إِذَا بِرَسُولِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ قَالَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ بَلْ اعْتَزِلْهَا فَلَا تَقْرَبْهَا قَالَ وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ قَالَ فَجَاءَتْ امْرَأَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هِلَالًا شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ لَا يَقْرَبَنَّكِ قَالَتْ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَيْءٍ وَاللَّهِ مَا يَزَالُ يَبْكِي مِنْ لَدُنْ أَنْ كَانَ مِنْ أَمْرِكَ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا قَالَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي لَوْ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَتِكَ فَقَدْ أَذِنَ لِامْرَأَةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَدْرِي مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ قَالَ فَلَبِثْنَا بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ كَمَالُ خَمْسِينَ لَيْلَةً حِينَ نُهِيَ عَنْ كَلَامِنَا قَالَ ثُمَّ صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَارِخًا أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ يَقُولُ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَيَّ يُبَشِّرُونَ وَرَكَضَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَرَسًا وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ وَأَوْفَى الْجَبَلَ فَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنْ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبِشَارَتِهِ وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ فَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا فَانْطَلَقْتُ أَتَأَمَّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْقَانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنِّئُونِي بِالتَّوْبَةِ يَقُولُونَ لِيَهْنِكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ حَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرَهُ قَالَ فَكَانَ كَعْبٌ لَا يَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ قَالَ كَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنْ السُّرُورِ أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ قَالَ قُلْتُ أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ حَتَّى يُعْرَفَ ذَلِكَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَإِلَى رَسُولِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ قَالَ فَقُلْتُ إِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا اللَّهُ تَعَالَى نَجَّانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِيتُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ أَبْلَاهُ اللَّهُ مِنْ الصِّدْقِ فِي الْحَدِيثِ مُذْ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَاللَّهِ مَا تَعَمَّدْتُ كَذِبَةً مُذْ قُلْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي فِيمَا بَقِيَ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمْ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنْ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ قَالَ كَعْبٌ فَوَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكُ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوهُ حِينَ كَذَبُوهُ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوهُ حِينَ كَذَبُوهُ شَرَّ مَا يُقَالُ لِأَحَدٍ فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَى عَنْ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ قَالَ وَكُنَّا خُلِّفْنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَلَفُوا فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ فَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ تَعَالَى فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا وَلَيْسَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا الَّذِي ذَكَرَ مِمَّا خُلِّفْنَا بِتَخَلُّفِنَا عَنْ الْغَزْوِ وَإِنَّمَا هُوَ عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سوائے غزوہ تبوک کے اور کسی جہاد میں رسول اللہ سے پیچھے نہیں رہا ہاں غزوہ بدر میں سے رہ گیا تھا۔ اور بدر میں شریک نہ ہونے والوں پر کوئی عتاب بھی نہیں کیا گیا تھا کیونکہ رسول اللہ صرف قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادے سے تشریف لے گئے تھے بغیر لڑائی کے ارادہ کے اللہ نے مسلمانوں کی دشمنوں سے مڈ بھیڑ کرادی تھی میں بیعت عقبہ کی رات کو بھی حضور کے ساتھ موجود تھا جہاں ہم سب نے مل کر اسلام کے عہد کو مضبوط کیا تھا اور میں یہ چاہتا بھی نہیں ہوں کہ اس بیعت کے عوض میں جنگ بدر میں حاضر ہوتا اگرچہ بدر کی جنگ لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے۔ میرا قصہ یہ ہے کہ جس قدر میں اس جہاد کے وقت مالدار اور فراخ دست تھا اتنا کبھی نہیں ہوا اللہ کی قسم اس جنگ کے لئے میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں اس سے پہلے کسی جنگ میں میرے پاس دو سواریاں نہ تھیں رسول اللہ کا دستور تھا کہ اگر کسی جنگ کا ارادہ فرماتے تو دوسرائی لڑائی کہہ کر اصل لڑائی کو چھپاتے تھے لیکن جب جنگ تبوک کا زمانہ آیا تو چونکہ سخت گرمی تھی ایک لمبا بے آب وگیاہ بیابان طے کرنا تھا اور کثیر دشمنوں کا مقابلہ کرنا تھا اس لئے آپ نے مسلمانوں کے سامنے کھول کربیان کیا کہ جنگ کے لے تیاری کرلیں اور حضور کا جو ارادہ تھا لوگوں سے کہہ دیا مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور کوئی رجسٹرار بھی نہیں تھا جس میں ناموں کا اندارج کیا جاتا جو شخص جنگ میں شریک نہ ہونا چاہتا وہ سمجھ لیتا تھا کہ جب تک میرے متعلق وحی نازل نہ کی گئی میری حالت چھپی رہے گی رسول اللہ نے اس جہاد کا ارادہ اس وقت کیا تھا جب میوہ جات پختہ ہوگئے تھے اور درختوں کے سائے کافی ہوگئے تھے چنانچہ رسول اللہ نے اور سب مسلمانوں نے جنگ کی تیاری کی میں بھی روزانہ صبح کو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے کے ارادہ سے جاتا لیکن شام کو بغیر کچھ کام سرانجام دیئے واپس آجاتا میں اپنے دل میں خیال کرتا کہ وقت کافی ہے میں یہ کام پھر کرسکتاہوں اسی لیت ولعل میں مدت گزر گئی اور مسلمانوں نے سخت کوشش کرکے سامان درست کرلیا اور ایک روز صبح رسول اللہ مسلمانوں کے ہمراہ چل دیئے اور میں اس وقت تک کچھ تیاری نہ کرسکا لیکن دل میں خیال کرلیا کہ ایک دوروز میں سامان درست کرکے مسلمانوں سے جاملوں گا۔ جب دوسرے روز مسلمان میدینہ سے دور نکل گئے توسامان درست کرنے کے ارادہ سے چلا لیکن بغیر کچھ کام کئے واپس آگیا میری برابر یہی سستی رہی اور مسلمان جلدی جلدی بہت آگے بڑھ گئے میں نے جاپہنچے کا ارادہ کیا لیکن اللہ کا حکم نہ تھا کاش میں مسلمانوں سے جا کرمل کگیا ہوتا رسول اللہ کے تشریف لے جانے کے بعد اب جو میں کہیں باہر نکل کر لوگوں سے ملتا تھا اور ادھرادھر گھومتا تھا تو یہ دیکھ کر مجھے غم ہوتا تھا کہ سوائے منافقوں کے اور ان کمزور لوگوں کے جن کو رسول اللہ نے معذور سمجھ کر چھوڑ دیا تھا اور کوئی نظر نہ آتا تھا۔ راستہ میں رسول اللہ کو میری کہیں یاد نہ آئی جب تبوک میں حضور پہنچ گئے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر فرمایا یہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا حرکت کی ہے ایک شخص نے جواب دیا رسول اللہ وپنی دونوں چادروں کو دیکھتا رہا اور اسی وجہ سے نہ آیا معاذ بن جبل بولے اللہ کی قسم تونے بری بات کہی ہے یا رسول اللہ ہم کو اس کی نیکی کا احتمال ہے حضورخاموش ہوگئے ۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب مجھے اطلاع ملی کہ حضور واپس آرہے ہیں تو مجھے فکر پیداہوئی کہ اور جھوٹ بولنے کا ارادہ کیا اور دل میں سوچا کہ کس ترکیب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے بچاجائے گھر میں تمام اہل رائے سے مشورہ کیا اتنے میں معلوم ہوا کہ رسول اللہ قریب ہی تشریف لاچکے ہیں میں نے تمام جھوٹ بولنے کے خیال دل سے نکال دیا میں سمجھ گیا کہ جھوٹ کی آمیزش سے حضور کی ناراضگی سے نہیں بچ سکتا لہذا سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا صبح کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کا دستور تھا کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو شروع میں مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھ لیتے تھے اور پھر وہیں لوگوں سے گفتگو کرنے بیٹھ جاتے تھے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایساہی کیا اور جنگ سے رہ جانے والے لوگ قسمیں کھا کھا کر عذر بیان کرن لگے ان سب کی تعداد کچھ اوپر اسی تھی رسول اللہ نے سب کے ظاہر عذ رکوقبول کرلیا اور بیعت کرلی ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی اور ان کی اندرونی حالت کو اللہ کے سپرد کردیا۔ سب کے بعد میں حاضر ہوا سلام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت والاتبسم کیا اور ارشاد فرمایا قریب آجاؤ میں قریب ہوگیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر بیٹھ گیا پھر فرمایا تم کیوں رہ گئے تھے کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی میں نے عرض کیا خریدی تھی اللہ کی قسم اگر آپ کے علاوہ کسی دنیادار کے پاس بیٹھا ہوتا تو اس کے غضب سے عذر پیش کرکے چھوٹ جاتا کیونکہ مجھ کو اللہ نے خوش بیانی عطا فرمائی تھی لیکن واللہ میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے آپ کے سامنے جھوٹی باتیں بیان کیں اور آپ مجھ سے ناراض ہوگئے تو عنقریب اللہ آپ کو غضب ناک کردے گا اور اگر آپ سے سچی بات بیان کردوں گا اور آپ مجھ سے ناراض ہوجائیں گے توامید ہے اللہ مجھے معاف فرمادے گا۔ اللہ کی قسم مجھے کوئی عذر نہ تھا اور جس وقت رسول اللہ سے پیچھے رہا اس وقت سے زائد کبھی نہ میں مال دار تھا نہ فراخ دست، حضور نے فرمایا اس شخص نے سچ کہا اب تواٹھ جا یہاں سے کہ خداتعالی تیرے متعلق کوئی فیصلہ کرے میں فورا اٹھ گیا اور میرے پیچھے پیچھے قبیلہ بنی سلمہ کے لوگ بھی اٹھ کر آئے اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ہم جانتے ہیں کہ تونے اس سے قبل کوئی قصور نہیں کیا ہے اور جس طرح اور جنگ سے رہ جانے والوں نے معذرت پیش کی تو کوئی عذر پیش نہ کرسکا تیرے قصور کی معافی تورسول اللہ کا دعائے مغفرت کرنا ہی کافی ہوگا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم وہ مجھے برابر اتنی تنبی صلی اللہ علیہ وسلمہ کررہے تھے کہ میں نے دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر اپنے قول کی تکذیب کرنے کا ارادہ کیا لیکن میں نے ان اس پوچھا کہ اس جرم میں میری طرح کوئی اور بھی ہے انہوں نے جواب دیا ہاں تیری طرح کے دو آدمی اور بھی ہیں جو تو نے کہا ہے وہی انہوں نے کہا ہے اور ان کو وہی جواب دیا گیا ہے جو تجھے ملا ہے میں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں انہوں نے کہا مرارہ بن ربیع عامری اور اہلال بن واقفی یہ دونوں شخص جنگ بدر میں شریک ہوچکے ہیں اور ان کی سیرت بہت بہترین تھی جب انہوں نے ان دونوں آدمیوں کا ذکر کیا تو میں اپنے قول پر قائم رہا رسول اللہ نے صرف ہم تینوں سے کلام کرنے سے منع فرمادیا تھا اور دیگرجنگ سے غیرحاضر لوگوں سے بات چیت کرنے کی ممانعت نہ تھی۔ لوگ ہم سے بچنے لگے اور بالکل بدل گئے یہاں تک کہ تمام زمین مجھ کو اجنبی صلی اللہ علیہ وسلم لگنے لگی اور سمجھ میں نہ آتا تھا کہ میں کیا کروں میرے دونوں ساتھی توکمزور تھے گھر میں بیٹھ کر روتے رہتے تھے اور میں جوان تھا طاقت وار تھا بازاروں میں گھومتا تھا باہر نکلتا تھا مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا لیکن کوئی مجھ سے کلام نہ کرتا تھا میں رسول اللہ کی مجلس میں میں بھی نماز کے بعد حاضر ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کرکے دل میں کہتا تھا دیکھوں کہ حضور نے سلام کے جواب کے لے لب مبارک ہلائے ہیں کہ نہیں پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کھڑا ہو کر نماز بھی پڑھتا تھا اور کن انکھیوں سے دیکھتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہیں یا نہیں چنانچہ جب میں متوجہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف سے منہ پھیر لیتے تھے اور جب میں منہ پھیر لیتا تھا تو آپ میری طرف دیکھتے۔ اسی طرح چالیس روز گذر گئے تو ایک روز رسول اللہ کا قاصدمیرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ تم کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے علیحدہ رہو میں نے کہا طلاق دیدوں کیا کروں قاصد نے کہا بیوی سے علیحدہ رہو اس کے پاس نہ جاؤ اسی طرح رسول اللہ نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی کہلابھیجا تھا میں نے اپنی بیوی سے کہا اپنے میکے چلی جاؤ وہیں رہو یہاں تک کہ اللہ اس معاملہ کے متعلق کوئی فیصلہ فرمائے ۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے گھروالوں نے مجھ سے کہا کہ اگر تم اپنی بیوی کے لئے اجازت لے لو میں نے جواب دیا کہ میں حضور سے اس کی اجازت نہیں مانگوں گا معلوم نہیں کہ آپ کیا فرمائیں گے کیونکہ میں جوان آدمی ہوں اسی طرح دس روز اور گزر گئے اور پورے پچاس دن ہوگئے پچاس دن کے بعد فجر کی کی نماز اپنی چھت پر پڑھی اور بیٹھا تھا اور یہ حالت تھی کہ تمام زمین مجھ پر تنگ ہورہی تھی اور میری جان مجھ پر وبال تھی اتنے میں ایک چیخنے والے نے نہایت بلند آواز سے کہا اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ تجھے خوش خبری ہو میں یہ سن کر فورا سجدہ میں گیا اور سمجھ گیا کہ کشائش کا وقت آگیا ہے رسول اللہ نے فجر کی نماز پڑھ کر ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان کردیا لوگ مجھے خوش خبری دینے آئے اور میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی کچھ خوش خبری دینے والے گئے ایک شخص گھوڑا دوڑا کر میرے پاس اور بنی اسلم کے ایک آدمی نے سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی کہ اس کی آواز گھوڑے کے پہنچے سے قبل مجھے پہنچ گئی جس شخص نے آواز میں نے سنی تھی جب وہ میرے پاس آیا تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کودے دیے۔ حالانکہ اللہ کی قسم اس دن ان دو کپڑوں کہ علاوہ میرے پاس کوئی کپڑا نہ تھا اور مانگ کر میں نے دو کپڑے پہن لئے ۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ بیٹھے ہوئے تھے اور صحابہ آس پاس موجود تھے حضرت طلحہ مجھے دیکھ کر فورا دورڑتے ہوئے آئے مصافحہ کیا مبارک باد دی اللہ کی قسم طلحہ کے علاوہ مہاجرین میں سے اور کوئی نہیں اٹھا طلحہ کی یہ بات میں کبھی نہیں بھولوں گا میں نے پہنچ کر رسول اللہ کوسلام کیا اس وقت چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا کیونکہ خوشی کے وقت رسول اللہ کا چہرہ چمکنے لگتا تھا ۔ فرمایا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب سے تو پیدا ہوا ہے سب دنوں سے آج کا دن تیرے لئے بہت بہتر ہے اس کی خوش خبری ہو میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ خوش خبری حضور کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے فرمایا میری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ اس روز سے آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کسی مسلمان کو سچ بولنے کا اس سے زیادہ بہتر انعام دیا ہو جیسا مجھے دیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ مجھ کو باقی زندگی میں بھی جھوٹ بولنے سے بچائے گا۔ اللہ نے توبہ قبول کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی " لقدتاب اللہ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم والمہاجرین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہدایت اسلام کے بعد اللہ نے اس سچ کہنے سے بڑی کوئی نعمت مجھے عطا نہیں فرمائی کیونکہ اگر میں جھوٹ بولتا تو جس طرح جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوگئے میں بھی ہلاک ہوجاتا ان جھوٹ بولنے والوں کے حق میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی" سیحلفون با اللہ لکم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جن لوگوں نے قسمیں کھا کر اپنی معذرت پیش کی تھی اور رسول اللہ نے ان کی معذرت قبول کرلی تھی ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ان کے واقعہ کے بعد ہم تینوں کا قبول توبہ کا واقعہ ہوا اور رسول اللہ نے ہمارے معاملہ میں ڈھیل چھوڑ دی تھی یہاں تک کہ اللہ نے خود اس کا فیصلہ کیا۔ آیت " وعلی الثلاثۃ الذین " میں تینوں کے پیچھے رہنے سے جنگ سے رہ جانا مقصود ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ ← ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15882

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15883

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ عَنْ غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا لِأَنَّهُ إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الْعِيرَ الَّتِي كَانَتْ لِقُرَيْشٍ كَانَ فِيهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ وَنَفَرٌ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ قَالَ تَعَالَ فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مَا خَلَّفَكَ أَلَمْ تَكُنْ قَدْ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخْطَتِهِ بِعُذْرٍ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو عَفْوَ اللَّهِ وَقَالَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِكِ فَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ وَقَالَ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى أَعْلَى جَبَلِ سَلْعٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِالتَّوْبَةِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ فِيهِ وَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سوائے غزوہ تبوک کے اور کسی جہاد میں رسول اللہ سے پیچھے نہیں رہا ہاں غزوہ بدر میں سے رہ گیا تھا۔ اور بدر میں شریک نہ ہونے والوں پر کوئی عتاب بھی نہیں کیا گیا تھا کیونکہ رسول اللہ صرف قریش کے قافلہ کو روکنے کے ارادے سے تشریف لے گئے تھے بغیر لڑائی کے ارادہ کے اللہ نے مسلمانوں کی دشمنوں سے مڈ بھیڑ کرادی تھی میں بیعت عقبہ کی رات کو بھی حضور کے ساتھ موجود تھا جہاں ہم سب نے مل کر اسلام کے عہد کو مضبوط کیا تھا اور میں یہ چاہتا بھی نہیں ہوں کہ اس بیعت کے عوض میں جنگ بدر میں حاضر ہوتا اگرچہ بدر کی جنگ لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے۔ میرا قصہ یہ ہے کہ جس قدر میں اس جہاد کے وقت مالدار اور فراخ دست تھا اتنا کبھی نہیں ہوا اللہ کی قسم اس جنگ کے لئے میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں اس سے پہلے کسی جنگ میں میرے پاس دو سواریاں نہ تھیں رسول اللہ کا دستور تھا کہ اگر کسی جنگ کا ارادہ فرماتے تو دوسرائی لڑائی کہہ کر اصل لڑائی کو چھپاتے تھے لیکن جب جنگ تبوک کا زمانہ آیا تو چونکہ سخت گرمی تھی ایک لمبا بے آب وگیاہ بیابان طے کرنا تھا اور کثیر دشمنوں کا مقابلہ کرنا تھا اس لئے آپ نے مسلمانوں کے سامنے کھول کربیان کیا کہ جنگ کے لے تیاری کرلیں اور حضور کا جو ارادہ تھا لوگوں سے کہہ دیا مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور کوئی رجسٹرار بھی نہیں تھا جس میں ناموں کا اندارج کیا جاتا جو شخص جنگ میں شریک نہ ہونا چاہتا وہ سمجھ لیتا تھا کہ جب تک میرے متعلق وحی نازل نہ کی گئی میری حالت چھپی رہے گی رسول اللہ نے اس جہاد کا ارادہ اس وقت کیا تھا جب میوہ جات پختہ ہوگئے تھے اور درختوں کے سائے کافی ہوگئے تھے چنانچہ رسول اللہ نے اور سب مسلمانوں نے جنگ کی تیاری کی میں بھی روزانہ صبح کو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے کے ارادہ سے جاتا لیکن شام کو بغیر کچھ کام سرانجام دیئے واپس آجاتا میں اپنے دل میں خیال کرتا کہ وقت کافی ہے میں یہ کام پھر کرسکتاہوں اسی لیت ولعل میں مدت گزر گئی اور مسلمانوں نے سخت کوشش کرکے سامان درست کرلیا اور ایک روز صبح رسول اللہ مسلمانوں کے ہمراہ چل دیئے اور میں اس وقت تک کچھ تیاری نہ کرسکا لیکن دل میں خیال کرلیا کہ ایک دوروز میں سامان درست کرکے مسلمانوں سے جاملوں گا۔ جب دوسرے روز مسلمان میدینہ سے دور نکل گئے توسامان درست کرنے کے ارادہ سے چلا لیکن بغیر کچھ کام کئے واپس آگیا میری برابر یہی سستی رہی اور مسلمان جلدی جلدی بہت آگے بڑھ گئے میں نے جاپہنچے کا ارادہ کیا لیکن اللہ کا حکم نہ تھا کاش میں مسلمانوں سے جا کرمل کگیا ہوتا رسول اللہ کے تشریف لے جانے کے بعد اب جو میں کہیں باہر نکل کر لوگوں سے ملتا تھا اور ادھرادھر گھومتا تھا تو یہ دیکھ کر مجھے غم ہوتا تھا کہ سوائے منافقوں کے اور ان کمزور لوگوں کے جن کو رسول اللہ نے معذور سمجھ کر چھوڑ دیا تھا اور کوئی نظر نہ آتا تھا۔ راستہ میں رسول اللہ کو میری کہیں یاد نہ آئی جب تبوک میں حضور پہنچ گئے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر فرمایا یہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا حرکت کی ہے ایک شخص نے جواب دیا رسول اللہ وپنی دونوں چادروں کو دیکھتا رہا اور اسی وجہ سے نہ آیا معاذ بن جبل بولے اللہ کی قسم تونے بری بات کہی ہے یا رسول اللہ ہم کو اس کی نیکی کا احتمال ہے حضورخاموش ہوگئے ۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب مجھے اطلاع ملی کہ حضور واپس آرہے ہیں تو مجھے فکر پیداہوئی کہ اور جھوٹ بولنے کا ارادہ کیا اور دل میں سوچا کہ کس ترکیب سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے بچاجائے گھر میں تمام اہل رائے سے مشورہ کیا اتنے میں معلوم ہوا کہ رسول اللہ قریب ہی تشریف لاچکے ہیں میں نے تمام جھوٹ بولنے کے خیال دل سے نکال دیا میں سمجھ گیا کہ جھوٹ کی آمیزش سے حضور کی ناراضگی سے نہیں بچ سکتا لہذا سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا صبح کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کا دستور تھا کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو شروع میں مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھ لیتے تھے اور پھر وہیں لوگوں سے گفتگو کرنے بیٹھ جاتے تھے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایساہی کیا اور جنگ سے رہ جانے والے لوگ قسمیں کھا کھا کر عذر بیان کرن لگے ان سب کی تعداد کچھ اوپر اسی تھی رسول اللہ نے سب کے ظاہر عذ رکوقبول کرلیا اور بیعت کرلی ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی اور ان کی اندرونی حالت کو اللہ کے سپرد کردیا۔ سب کے بعد میں حاضر ہوا سلام کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غصے کی حالت والاتبسم کیا اور ارشاد فرمایا قریب آجاؤ میں قریب ہوگیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر بیٹھ گیا پھر فرمایا تم کیوں رہ گئے تھے کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی میں نے عرض کیا خریدی تھی اللہ کی قسم اگر آپ کے علاوہ کسی دنیادار کے پاس بیٹھا ہوتا تو اس کے غضب سے عذر پیش کرکے چھوٹ جاتا کیونکہ مجھ کو اللہ نے خوش بیانی عطا فرمائی تھی لیکن واللہ میں جانتا ہوں کہ اگر میں نے آپ کے سامنے جھوٹی باتیں بیان کیں اور آپ مجھ سے ناراض ہوگئے تو عنقریب اللہ آپ کو غضب ناک کردے گا اور اگر آپ سے سچی بات بیان کردوں گا اور آپ مجھ سے ناراض ہوجائیں گے توامید ہے اللہ مجھے معاف فرمادے گا۔ اللہ کی قسم مجھے کوئی عذر نہ تھا اور جس وقت رسول اللہ سے پیچھے رہا اس وقت سے زائد کبھی نہ میں مال دار تھا نہ فراخ دست، حضور نے فرمایا اس شخص نے سچ کہا اب تواٹھ جا یہاں سے کہ خداتعالی تیرے متعلق کوئی فیصلہ کرے میں فورا اٹھ گیا اور میرے پیچھے پیچھے قبیلہ بنی سلمہ کے لوگ بھی اٹھ کر آئے اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ہم جانتے ہیں کہ تونے اس سے قبل کوئی قصور نہیں کیا ہے اور جس طرح اور جنگ سے رہ جانے والوں نے معذرت پیش کی تو کوئی عذر پیش نہ کرسکا تیرے قصور کی معافی تورسول اللہ کا دعائے مغفرت کرنا ہی کافی ہوگا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم وہ مجھے برابر اتنی تنبی صلی اللہ علیہ وسلمہ کررہے تھے کہ میں نے دوبارہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر اپنے قول کی تکذیب کرنے کا ارادہ کیا لیکن میں نے ان اس پوچھا کہ اس جرم میں میری طرح کوئی اور بھی ہے انہوں نے جواب دیا ہاں تیری طرح کے دو آدمی اور بھی ہیں جو تو نے کہا ہے وہی انہوں نے کہا ہے اور ان کو وہی جواب دیا گیا ہے جو تجھے ملا ہے میں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں انہوں نے کہا مرارہ بن ربیع عامری اور اہلال بن واقفی یہ دونوں شخص جنگ بدر میں شریک ہوچکے ہیں اور ان کی سیرت بہت بہترین تھی جب انہوں نے ان دونوں آدمیوں کا ذکر کیا تو میں اپنے قول پر قائم رہا رسول اللہ نے صرف ہم تینوں سے کلام کرنے سے منع فرمادیا تھا اور دیگرجنگ سے غیرحاضر لوگوں سے بات چیت کرنے کی ممانعت نہ تھی۔ لوگ ہم سے بچنے لگے اور بالکل بدل گئے یہاں تک کہ تمام زمین مجھ کو اجنبی صلی اللہ علیہ وسلم لگنے لگی اور سمجھ میں نہ آتا تھا کہ میں کیا کروں میرے دونوں ساتھی توکمزور تھے گھر میں بیٹھ کر روتے رہتے تھے اور میں جوان تھا طاقت وار تھا بازاروں میں گھومتا تھا باہر نکلتا تھا مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا لیکن کوئی مجھ سے کلام نہ کرتا تھا میں رسول اللہ کی مجلس میں میں بھی نماز کے بعد حاضر ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام کرکے دل میں کہتا تھا دیکھوں کہ حضور نے سلام کے جواب کے لے لب مبارک ہلائے ہیں کہ نہیں پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کھڑا ہو کر نماز بھی پڑھتا تھا اور کن انکھیوں سے دیکھتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہیں یا نہیں چنانچہ جب میں متوجہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف سے منہ پھیر لیتے تھے اور جب میں منہ پھیر لیتا تھا تو آپ میری طرف دیکھتے۔ اسی طرح چالیس روز گذر گئے تو ایک روز رسول اللہ کا قاصدمیرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ تم کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے علیحدہ رہو میں نے کہا طلاق دیدوں کیا کروں قاصد نے کہا بیوی سے علیحدہ رہو اس کے پاس نہ جاؤ اسی طرح رسول اللہ نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی کہلابھیجا تھا میں نے اپنی بیوی سے کہا اپنے میکے چلی جاؤ وہیں رہو یہاں تک کہ اللہ اس معاملہ کے متعلق کوئی فیصلہ فرمائے ۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے گھروالوں نے مجھ سے کہا کہ اگر تم اپنی بیوی کے لئے اجازت لے لو میں نے جواب دیا کہ میں حضور سے اس کی اجازت نہیں مانگوں گا معلوم نہیں کہ آپ کیا فرمائیں گے کیونکہ میں جوان آدمی ہوں اسی طرح دس روز اور گزر گئے اور پورے پچاس دن ہوگئے پچاس دن کے بعد فجر کی کی نماز اپنی چھت پر پڑھی اور بیٹھا تھا اور یہ حالت تھی کہ تمام زمین مجھ پر تنگ ہورہی تھی اور میری جان مجھ پر وبال تھی اتنے میں ایک چیخنے والے نے نہایت بلند آواز سے کہا اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ تجھے خوش خبری ہو میں یہ سن کر فورا سجدہ میں گیا اور سمجھ گیا کہ کشائش کا وقت آگیا ہے رسول اللہ نے فجر کی نماز پڑھ کر ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان کردیا لوگ مجھے خوش خبری دینے آئے اور میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی کچھ خوش خبری دینے والے گئے ایک شخص گھوڑا دوڑا کر میرے پاس اور بنی اسلم کے ایک آدمی نے سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی کہ اس کی آواز گھوڑے کے پہنچے سے قبل مجھے پہنچ گئی جس شخص نے آواز میں نے سنی تھی جب وہ میرے پاس آیا تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کودے دیے۔ حالانکہ اللہ کی قسم اس دن ان دو کپڑوں کہ علاوہ میرے پاس کوئی کپڑا نہ تھا اور مانگ کر میں نے دو کپڑے پہن لئے ۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ بیٹھے ہوئے تھے اور صحابہ آس پاس موجود تھے حضرت طلحہ مجھے دیکھ کر فورا دورڑتے ہوئے آئے مصافحہ کیا مبارک باد دی اللہ کی قسم طلحہ کے علاوہ مہاجرین میں سے اور کوئی نہیں اٹھا طلحہ کی یہ بات میں کبھی نہیں بھولوں گا میں نے پہنچ کر رسول اللہ کوسلام کیا اس وقت چہرہ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا کیونکہ خوشی کے وقت رسول اللہ کا چہرہ چمکنے لگتا تھا ۔ فرمایا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب سے تو پیدا ہوا ہے سب دنوں سے آج کا دن تیرے لئے بہت بہتر ہے اس کی خوش خبری ہو میں عرض کیا یا رسول اللہ یہ خوش خبری حضور کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے فرمایا میری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ اس روز سے آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کسی مسلمان کو سچ بولنے کا اس سے زیادہ بہتر انعام دیا ہو جیسا مجھے دیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ مجھ کو باقی زندگی میں بھی جھوٹ بولنے سے بچائے گا۔ اللہ نے توبہ قبول کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی " لقدتاب اللہ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم والمہاجرین۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہدایت اسلام کے بعد اللہ نے اس سچ کہنے سے بڑی کوئی نعمت مجھے عطا نہیں فرمائی کیونکہ اگر میں جھوٹ بولتا تو جس طرح جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوگئے میں بھی ہلاک ہوجاتا ان جھوٹ بولنے والوں کے حق میں اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی" سیحلفون با اللہ لکم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جن لوگوں نے قسمیں کھا کر اپنی معذرت پیش کی تھی اور رسول اللہ نے ان کی معذرت قبول کرلی تھی ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی تھی ان کے واقعہ کے بعد ہم تینوں کا قبول توبہ کا واقعہ ہوا اور رسول اللہ نے ہمارے معاملہ میں ڈھیل چھوڑ دی تھی یہاں تک کہ اللہ نے خود اس کا فیصلہ کیا۔ آیت " وعلی الثلاثۃ الذین " میں تینوں کے پیچھے رہنے سے جنگ سے رہ جانا مقصود ہے۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15883

chevron_left Previous
1…404142…1,318
Next chevron_right