Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

تربية الأبناء

Children & Parenting

5818 hadiths

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2361

2361 - أخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك ح قال : و ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك عن العلاء بن عبد الرحمن أنه سمع أبا السائب مولى هشام بن زهرة يقول : سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى صلاة و لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج فهي خداج فهي خداج غير تمام قلت يا أبا هريرة إني أكون أحيانا وراء الإمام قال : فغمز ذراعي و قال : يا فارس اقرأ بها و قال العقنبي اقرأها في نفسك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال الله عز و جل : قسمت الصلاة بيني و بين عبدي نصفين نصفها لي و نصفها لعبدي و لعبدي ما سأل قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اقرؤا يقول العبد { الحمد لله رب العالمين } يقول الله : حمدني عبدي يقول العبد { الرحمن الرحيم } يقول الله ( أثنى علي عبدي ) يقول العبد { مالك يوم الدين } يقول الله ( مجدني عبدي ) يقول العبد { إياك نعبد و إياك نستعين } فهذه الآية بيني و بين عبدي و لعبدي ما سأل يقول العبد : { اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم و لا الضالين } فهؤلاء لعبدي و لعبدي ما سأل أخرجه مسلم في الصحيح من حديث مالك قال الحليمي رضي الله عنه : و ليس في ابتداء القسمة من قوله { الحمد لله رب العالمين } دليل يقطع إن { بسم الله الرحمن الرحيم } ليست الآية الأولى لا يجوز أن يكون أراد فإذا انتهى العبد إلى الحمد لله رب العالمين قال الله حمدني عبدي ذاك جميع الجزء الأول من هذه السورة كما قال صلى الله عليه و سلم و إذا قال الإمام و لا الضالين فقولوا آمين و إنما أراد فإذا انتهى في القراءة إلى هذا القول لأن جميع ذلك قراءة و الله أعلم و أما التفسير فليس في الحديث أن التنصيف بالآي فإذا كانت تنصف مع ابتدائها بالتسمية و الكلام و الحروف نصفين فقد وقع بذلك الخروج من عهدة الخبر و الله أعلم و علم أنه إن ثبت أن المراد به أن تنصف السورة نصفين بالآي فقد يجوز أن يكون نصفها الأول أطول من التالي كما أن الشهر إذا لم يجاوز تسعا و عشرين لم يخل من التنصف و يكون نصفه الأول خمسة عشر و نصفه الآخر أربعة عشر حتى لو قال رجل لامرأته في أول الشهر إذا انتصف هذا الشهر فأنت طالق طلقت إذا انتصف من أيامه خمسة عشر يوما و لو نقص منه يوما من أن الطلاق كان واقعا قبل الوقت الذي ذكرنا

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ۔۔۔ح۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھا مالک پر علاء بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے سنا ابو السائب مولیٰ ہشام بن زہرہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز پڑھے جس میں فاتحہ نہ پڑھے وہ ناقص ہے ادھورا ہے نامکمل ہے حذاج کا مطلب ہے ادھوری نا مکمل ۔ میں نے کہا اے ابو ہریرہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں ۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا بازو ہلایا او رکہا اے فارس اسے پڑھیے اور قعنبی نے کہا آپ اسے اپنے دل میں پڑھیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نماز تقسیم کی گئی ہے ۔ میرے اور میرے بندے کے درمیان آدھی آدھی ۔ آدھی میرے لئے ہے اور آدھی میرے بندے کے لئے ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا پڑھو بندہ کہتا ہے الحمد للہ رب العالمین تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے الرحمٰن الرحیم اللہ تعالیٰ کہتا ہے میرے بندے نے میری ثناء بیان کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تمجید اور بزرگی بیان کی ہے ۔ بندہ کہتا ہے ایاک نعبدو ویاک نستعین ۔ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لئے سب کچھ ہے جو اس نے مانگا ہے ۔ بندہ کہتا ہے اھدنالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔ یہ سب میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کے لئے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا ہے ۔ اس کو مسلم نے صحیح میں حدیث مالک سے نقل کیا ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو زكريا يحيى بن إبراهيم،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2361

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8623

8623 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا أبو الربيع نا حماد بن زيد نا عبيد الله بن أبي يزيد عن سباع بن ثابت عن أم كرز قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : في العقيقة عن الغلام شاتان مكافأتان و عن الجارية شاة

ہمیں اس کی خبر دی ہے علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو ابوالربیع نے ان کو حماد بن زید نے ان کو عبید اللہ بن ابی یزید نے ان کو سباع بن ثابت نے ان کوام کرز نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا عقیقہ کے بارے میں کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہیں پوری پوری اورلڑ کی کی طرف سے ایک بکری ہے۔

أُمِّ کُرْزٍ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8623

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8624

8624 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا يحيى بن جعفر أنا الضحاك بن مخلد أنا أبو حفص سالم بن تميم عن أبيه عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال إن اليهود تعق عن الغلام و لا تعق عن الجارية فعقوا عن الغلام شاتين و عن الجارية شاة قال و الرابعة أن يحلق عقيقته و هو شعر رأسه الذي ولد به

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رزاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو ضحاک بن مخلد نے ان کو ابوحفص سالم بن تمیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد الرحمٰن اعرج نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک یہودی لڑکے کی طرف سے عقیقہ کرتے ہیں لڑ کی کی طرف سے نہیں کرتے لہذا تم لوگ عقیقہ کیا کرولز کے کی طرف سے دو بکریاں اورلڑ کی کی طرف سے ایک بکری فرمایا کہ چوتھی چیز جو بچہ پیدا ہونے کے وقت لازم ہے کہ اپنے عقیقہ کا حلق کرے یعنی بچے کے سر کے بال صاف کرے جن کے ساتھ وہ پیدا ہوا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← أَبِيهِ ← أبو حفص سالم بن تميم ← الضحاك بن مخلد ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8624

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8625

8625 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا سليمان بن حرب نا حماد بن زيد عن أيوب عن محمد عن رجل يقال له سلمان قال : مع الغلام عقيقة فأهريقوا الدم و أميطوا عنه الأذى رواه البخاري عن عارم عن حماد بن زيد موقوفا ثم ذكر حديث حماد بن سلمة مستشهدا به في رفعه

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو حماد بن زید نے ان کو ایوب نے ان کومحمد نے ایک آدمی سے جسے سلمان کہا جاتا ہے ۔ اس نے اس کو مرفوع بیان کیا ہے ۔ فرمایا کہ لڑ کے کے ساتھ عقیقہ کرو اورخون گراؤ اوراس سے تکلیف مٹاؤ ۔ اس کو روایت کیا ہے بخاری نے عارم سے اس نے حماد بن زید سے بطور موقوف روایت کے پھر اس نے حدیث ذکر فرمائی حماد بن سلمہ سےجس سے و ہ اس کے مرفوع ہونے پر استدلال کرتے ہیں ۔

حديث حماد بن سلمة مستشهدا به في رفعه ← حماد بن زيد موقوفا ثم ← عَارِمٌ، ← مع الغلام عقيقة فأهريقوا الدم و أميطوا عنه الأذى رواه البخاري ← رجل يقال له سلمان ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8625

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8630

8630 - أخبرنا أحمد بن الحسن أنا أبو جعفر بن دحيم نا إبراهيم بن إسحاق القاضي نا جعفر بن عون عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن سمرة بن جندب : أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : كل غلام رهينة بعقيقته يذبح عنه يوم سابعه و يحلق رأيه و يسمى قلت ولو سماه يوم تحنكه كان أولى و يشبه أن يكون التاريخ في حديث سمرة للعقيقة و الحلق دون التسمية فقد روينا في حديث أبي موسى في تسمية النبي صلى الله عليه و سلم ولده يوم حنكه بتمرة

ہمیں خبر دی احمد بن حسن نے اس کو ابو جعفر بن رحیم نے ان کو ابراہیم بن اسحاق قاضی نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے حسن سے اس نے سمرہ بن جندب سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہرلڑ کا اپنے عقیقے کے ساتھ گردی ہوتا ہے اس کی طرف سے ساتو یں دن ذبح کیا جائے اور اس کے سر کے بال صاف کئے جائیں اور اس کا نام رکھا جائے ۔ میں نے کہا ہے کہ اگر اس کا نام اس دن رکھا جائے جس دن اس کی تحنیک ہوتی ہے تو زیادہ بہتر ہے مناسب ہے کہ تاریخ ہو حدیث سمرہ میں عقیقے کے لئے ۔ اور حلق سوائے تسمیہ کے تحقیق ہم نے روایت کی ہے ابوموسیٰ سے نبی کریم کی طرف نام رکھنے کے بارے میں اپنے بیٹے کے لئے جس دن آپ نے کھجور چبا کر اس کے تالو میں لگائی تھی ۔

سمرة بن جندب أن نبي الله صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الحَسَنِ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8630

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8632

8632 - و رويناه عن أسماء بنت أبي بكر : في تحنيك النبي صلى الله عليه و سلم عبد الله بن الزبير حين ولدته و تسميته عبد الله و في كل ذلك دلالة على أن التاريخ في حديث سمرة يشبه أن يكون راجع إلى التسمية والله أعلم و في العقيقة سنن و آثار و كذلك في تسمية المولود و تكنيته و قد ذكرناها في كتاب العقيقة من كتاب السنن و في إعادتها ههنا مشقة فتركتها اختصارا من أرادها رجع إليها إن شاء الله

اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے اسماء بنت ابی بکر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عبداللہ بن زبیر کی پیدائش کے وقت اس کی تحنیک کرنے اور اس کا نام عبداللہ رکھنے کے بارے میں اور اس سب کچھ میں دلالت ہے اس بات پر کہ تاریخ حدیث سمرہ میں مناسب ہے کہ راجع ہو تسمیہ کی طرف ۔ واللہ اعلم ۔ اور عقیقے میں کچھ سنتیں ہیں اور آثار ہیں اور اس طرح نومولود کے نام رکھنے اور اس کی کنیت رکھنے میں ۔ ہم نے ان کو کتاب السنن کے کتاب العقیقہ میں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ ان کو یہاں ذکر کر نے میں مشقت ہے لہذا میں نے ان کو از راہ اختصار ترک کر دیا ہے جوان پر مطلع ہونا چاہے گا وہاں رجوع کرے گا انشاءاللہ ۔

و رويناه

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8632

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8637

8637 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا زكريا بن يحيى بن أسد نا سفيان عن الزهري عن سعيد عن أبي هريرة : يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : الفطرة خمس أو خمس من الفطرة الختان والاستحداد ونتف الإبط و قص الشارب و تقليم الأظافر

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کوز کر یا بن یحییٰ بن اسد نے ان کو سفیان نے زہری سے ان کو سعید نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فطرت پانچ چیزیں ہیں یا فرمایا تھا کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں ختنہ کرانا ،زیر ناف صاف کرنا بغلیں صاف کر نا ،مونچھیں کترانا، ناخن تراشنا ۔

أبي هريرة يبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← زكريا بن يحيى بن أسد ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8637

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8671

8671 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أخبرني أبو بكبر محمد بن داود بن سليمان الزاهد نا إبراهيم بن عبد الواحد العبسي نا وريزة بن الغساني الحمصي نا محمد بن عبيد الله الكريزي نا محمد بن عبد الله بن عمرو بن معاوية عن أبيه قال : قال زيد بن علي لأبنه إن الله عز و جل رضيني لك فحذرني فتنتك و لم يرضك لي فأوصاك بي يا بني خير الآباء من لم تدعه المودة إلى الإفراط و خير الأبناء من لم يدعه التقصير إلى العقوق

ہمیں خبر دی ابوز کر یا بن ابی اسحٰق نے ان کو خبر دی ابو بکر محمد بن داؤد بن سلیمان زاہد نے ان کو ابراہیم بن عبد الواحد عیسیٰ نے ان کو ور یز ہ بن غسانی حمصی نے ان کو محمد بن عبید اللہ کریزی نے ان کو محمد بن عبد اللہ بن عمرو بن معاویہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ کہازید بن علی نے اپنے بیٹے سے بے شک اللہ عز وجل نے مجھے تیرے لئے پسند کیا ہے اب تم مجھے اپنے فتنے سے بچانا۔ اور اس نے تجھے پسند نہیں کیا میرے لئے لہذا اسی لئے اس نے تجھے میرے بارے میں وصیت فرمائی ہے ( قرآن میں )اے بیٹے بہترین باپ وہ ہوتے ہیں کہ جس کو اولاد کی محبت افراط کی طرف نہ لے جائے اور بہترین بیٹے وہ ہوتے ہیں جن کی کوتاہی اس حد تک نہ پڑھ جائے کہ وہ نافرمان قرار پائیں ۔

أَبِيهِ ← محمد بن عبد الله بن عمرو بن معاوية ← محمد بن عبيد الله الكريزي ← وريزة بن الغساني الحمصي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْعَبْسِيُّ ← أبو بكبر محمد بن داود بن سليمان الزاهد ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8671

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8675

8675 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن عروة بن الزبير عن عائشة قالت : جاءت امرأة و معها ابنتان لها تسألني فلم تجد عندي شيئا غير تمرة واحدة فأعطيتها إياها فأخذتها فشققتها بين ابنتيها و لم تأكل منها شيئا ثم قامت فخرجت هي و ابنتاها فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم على بقية ذلك فحدثته حديثها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ابتلى من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن كن له سترا من النار هكذا في رواية عبد الرزاق عن معمر و رواه عبد الله بن المبارك عن معمر عن الزهري عن عبد الله بن أبي بكر بن حزم عن عروة و هو الصحيح و كذلك رواه شعيب بن أبي حمزة عن الزهري

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ ایک عورت آئی اس کی دو بیٹیاں بھی اس کے ساتھ تھیں ۔اس نے مجھ سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو میرے پاس اس نے کھجور کے ایک دانے کے سوا کچھ نہ پایا۔ میں نے اس کو وہی ایک دانہ دے دیا اس نے اسے دے کر آدھا آدھا کر کے دونوں بیٹوں کو دے دیا اور خود نہیں کھا یا اس کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی بیٹوں کے ساتھ ۔اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس کے چلے جانے کے بعد میں نے یہ بات ان کو بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص ان بیٹوں کے ساتھ آزمایا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے آڑ ثابت ہوں گی ۔ اسی طرح عبدالرزاق کی روایت میں ہے معمر سے اس کو عبد اللہ بن مبارک نے روایت کیا ہے معمر سے اس نے زہری سے اس نے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم سے اس نے عروہ سے وہ صحیح ہے اور اسی طرح ان کو روایت کیا ہے شعیب بن ابی حمزہ سے اس نے زہری سے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8675

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8701

8701 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تكرهوا البنات فإنهن المؤنسات المجملات هكذا جاء مرسلا

ہمیں خبر دی ابوز کریا بن ابی اسحٰق نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو عبداللہ بن سعید بن ابی ہند نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی بیٹیوں کو ناپسند نہ کیا کرو بے شک وہ محبت کرنے والیاں صاحب جمال ہوتی ہے۔ یہ روایت اسی طرح مرسل آئی ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8701

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8702

8702 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا مسلم بن إبراهيم نا عبد الله بن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تكرهوا البنات فإنهن المجهزات المؤنسات قال و يعلم أهله ما عسى لا تعلمه من أحكام العشرة و إن رآها مقصرة في العبادة حملها منها على ما تخرج به من حد التقصير و بصرها منها ما تجهله أو أذن لها في إتيان من يبصرها ذلك قال الله تعالى : { يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم و أهليكم نارا }

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عہدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے کو نافع بن ثابت نے ان کو عبد اللہ بن زبیر نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹیوں کو نا پسند نہ کیا کرو بے شک وہ گھریلو امور میں ہر چیز کو تیار کرنے والیاں اور محبت کرنے والیاں ہوتی ہیں ۔ (ابن زبیر ) فرماتے ہیں لڑکی کے گھر والے جانتے ہیں وہ زندگی گذارنے کے اصول واحکام جووہ نہیں جانتی اگر وہ اس کو عبادت میں کوتاہی کرتا دیکھیں تو اس کو اس کیفیت پر ابھار یں جس سے وہ کوتاہی کی حد سے نکل جائےجس سے وہ ان امور پرعمل پیرا نظر آنے لگے جن سے وہ نا واقف تھی یا اس کو اجازت دے ان چیزوں کے بارے میں جن کا عمل اس سے دیکھا جا سکے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ياايها الذين آمنوا قوا انفسكم وأهليكم ناراً . اے ایمان والو تم اپنے آپ کو بچاؤ اور اپنے اہل خانہ کو بچاؤ جہنم سے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8702

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الأخذ من اللحية والشارب · حديث 6441

6442 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أحمد بن يونس ثنا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الفطرة خمس الختان والاستحداد وقص الشارب وتقليم الأظافر ونتف الإبط رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن يونس وأخرجاه من حديث ابن عيينة وغيره عن الزهري

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ابراہیم بن سعد نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے: فطرت پانچ کام ہیں ختنہ کرانا، زیر ناف کے بال صاف کرنا، مونچھیں کتروانا، ناخن کاٹنا، بغلیں صاف کرنا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں احمد بن یونس سے۔ اور اس کو بخاری مسلم نے نقل کیا ہے ابن عیینہ وغیرہ سے زہری سے۔

الزُّهْرِيِّ، ← أخرجاه من حديث ابن عيينة وغيره ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الفطرة خمس الختان والاستحداد وقص الشارب وتقليم الأظافر ونتف الإبط رواه البخاري في الصحيح ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separate the removal of beard and mustache · Hadith 6441

شعب الإيمان · الحادي والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في تحريم الملاعب والملاهي ـ · حديث 6537

6538 - أخبرنا ابن بشران أنا ابن صفوان ثنا ابن أبي الدنيا ثنا إسحاق بن حاتم المدائني عن شيخ من النخع حدثه عن مغيرة عن إبراهيم قال : من لعب بالحمام الطيارة لم يمت حتى يذوق ألم الفقر قال وثنا ابن أبي الدنيا ثنا ابن جميل ثنا ابن المبارك أنا سفيان قال : سمعت أن لعبا بالجلاهق ولعبا بالحمام هو من عمل قوم لوط وأما الرقص فقد قال الحليمي رحمه الله : فما كان فيه تثن وتكسر حتى تباين أخلاق الذكور فهو حرام على الرجال وهو شر من التصفيق وقد جعله رسول الله صلى الله عليه و سلم للنساء لا ينبغي للرجال أن يصفقوا فأولى أن لا يكون لهم من الرقص الذي فيه التخنث أعظم مما في التصفيق وليس ذلك بمملوك لأحد من نفسه لأنه باطل كما أن ضرب الوجوه ولطم الخدود لم يكن مملوكا لأحد من نفسه لأنه باطل فالتلذذ بالباطل كالتألم بالباطل والله أعلم وأما لعب الصبايا باللعب التي تسميها البنات فإنهن لا يمنعن منه ما لم تكن تلك اللعب أشباه الأوثان وبسط الكلام في ذلك وقد ذكرنا الأخبار في ذلك في كتاب السنن قال الحليمي رحمه الله : ومن وجوه اللعب التحريش بين الكلاب والديوك وقد جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه نهى عنه التحريش بين البهائم هو حرام ممنوع لا يؤذن لأحد فيه لأن كل واحد من المتحارشين يؤلم الآخر ويجرحه ولو أراد المحرش أن يفعل ذلك بيده ما حل له

ہمیں خبر دی ابن بشران نے کہ ہمیں خبر دی ابن صفوان نے ان کو ابن ابی الدنیا نے ان کو اسحاق بن حاتم ملائبنی نے ان کو شہر نخع کے ایک شخص نے اس نے اس کو حدیث بیان کی مغیرہ سے اس نے ابراہیم سے انہوں نے فرمایا کہ جو شخص کبوتر اڑانے کا کھیل کھیلے وہ اس وقت تک نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ فقر و محتاج کا درد چکھ لے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن ابو الدنیا نے ان کو ابن جمیل نے ان کو ابن مبارک نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ہے کہ جلاھق اور غلیلوں سے کھیلنا اور کبوتر بازی قوم لوط کا عمل تھا۔ بہرحال رہا رقص کرنا اور ناچنا تو تحقیق شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں وہ رقص جس میں دہرا ہونا اور سکیڑنا ہو (یعنی اعضاء کو موڑنا، سکیٹرنا وغیرہ جیسے ناچ گانے میں ہوتا ہے)۔ اور ایسی حرکات جو مردوں کے اخلاق و عادت کے منافی اور مخالف ہوں وہ مردوں کے لئے حرام ہے۔(خلاصہ یہ کہ رقص کرنا یعنی ناچنا حرام ہے) اور ہاتھ پر ہاتھ مارنے تالیاں بجانے سے زیادہ برا ہے۔ بوقت ضرورت اور بوجہ ضرورت تالی مارنے کی حضور نے عورتوں کو اجازت دی تھی مردوں کے شایان شان نہیں ہے کہ وہ تالیاں بجائیں (خدا برا کرے یہود ونصاریٰ کا کہ انہوں نے آج کے دور میں ہر خوشی کے موقع پر تالیاں بجانا عام کر دیا ہے جس میں مسلمان بھی ان کے ساتھ ان کے برابر کے شریک ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت کی توفیق عطا فرمائے) مترجم۔ بہرحال مصنف فرماتے ہیں کہ اولیٰ اور سب سے بہتر یہی ہے کہ رقص کرنا ناچنا جس میں ہیجڑا بننا ہوتا ہے وہ بہت بڑا گناہ ہے تالیاں بجانے سے اور یہ کام کرنا اختیار میں نہیں ہے از روئے شریعت اور ازروئے دین (یعنی جیسے انسان اپنے وجود کا مالک نہیں ہے کہ جو چاہے اس کے ساتھ کر ڈالے بیچ دے کاٹ ڈالے مار ڈالے یہ کسی کے اختیار اور ملکیت میں داخل نہیں ہے اسی طرح مذکورہ حرکات رقص اور ناچنا بھی کسی کی ملکیت میں اور اختیار میں نہیں ہے) کیونکہ بذات خود یہ کام باطل ہے، جیسے اپنے منہ پر طمانچے مارنا منہ پیٹنا کسی کے شرعی اختیار اور ملکیت میں داخل نہیں ہے بذات خود۔ کیونکہ وہ باطل ہے، اور باطل کے ساتھ لذت حاصل کرنا یا لطف اندوز ہونا ایسے ناجائز اور حرام ہے جیسے باطل اور نا جائز اور نا غلط فعل کے ساتھ درد اٹھانا اپنے آپ کو تکلیف میں اور اذیت میں مبتلا کر نا ناجائز اور حرام ہے۔ بچیوں کا گڑیائیں کھیلنا: بہرحال بچیوں کا کھلونوں اور گڑیاؤں کے ساتھ کھیلنا جن کو وہ لڑکیاں یا بیٹیاں کہتی ہیں ان لڑکیوں کو منع نہیں کیا جائے گا اس کھیل سے جب تک وہ کھلونے یا گڑیائیں بتوں کی شبہیں نہ ہوں۔ شیخ حلیمی نے اس بارے میں تفصیل کے ساتھ کام کیا ہے۔ اور ہم نے وہ اخبار جو اس بارے میں میں کتاب السنن میں ذکر کر دی ہیں۔ کتے لڑانا اور مرغے لڑانا نا جائز اور حرام ہے شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ کھیل کے اقسام میں سے ہے کتوں میں اور مرغوں میں لڑائی یا مقابلے کروانا (کتوں کی لڑائی کتوں سے ہو یا کتوں کی ریچھ سے سب حرام ہے)۔ (مترجم) کیونکہ نبی کریم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے مقابلے کرنے والے کو حرام کہا ہے ممنوع کہا ہے، کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جائے گی ، اس لئے کہ با ہم لڑائی کرنے والوں میں سے ہر ایک دوسرے زخمی کر کے درد والم سے دو چار کرتا ہے۔اور اس کا وبال اور گناہ لڑانے والوں کو ملتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر لڑانے والا اپنے ہاتھ میں سے ان جانوروں یا پرندوں میں سے کسی کو مارے پیٹے یا زخمی کر دے تو یہ اس کے لئے شرعاً حلال نہیں ہو گا بلکہ نا جائز ہو گا۔ (اور ہر ہوش مند سنے گا کہ یہ بے زبان جانوروں پر ظلم ہے، اور کیا خیال ہے کہ جب وہ یہ کام درندوں سے کروائے یہ تو اس سے بھی بڑا ظلم ہو گا۔ میں یہاں پر ایک واقعہ نقل کرتا ہوں جو کتے لڑانے یار ریچھ اور کتوں کو لڑانے والوں کے لئے باعث عبرت ہے۔ ہمارے علاقے بہاولپور کی کسی نواحی بستی کا واقعہ ہے جو کئی سال قبل ہمیں کچھ دیندار اور نمازی حضرات نے بتایا بلکہ واقعہ اپنے زمانے میں اتنا مشہور ہو گیا تھا کہ اس وقت کے واعظوں اور خطیبوں نے اپنی تقریروں میں عبرت کے لئے اس کو سنا کر لڑانے والوں اور اس کے تماشائیوں اور شیدائیوں کواللہ کے غضب سے ڈراتا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ کسی بستی میں کسی ملک صاحب یا کسی مخدوم صاحب کے ڈیرے پر ریچھ اور کتوں کی لڑائی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ریچھ کے اوپر کئی کتے چھوڑ دیئے گئے تھے وہ ایک لمبی رسی کے ساتھ بندھا ہوا تھا لڑائی ہوتی رہی تماشائی لوگ محفوظ ہو رہے تھے مگر ادھر ایک بے زبان ریچھ کی جان پر بنی ہوئی تھی اس کو کتے بھنبھوڑ رہے تھے اس کی چیخیں نکل رہی تھیں اسی اثنا میں ریچھ کی رسی ٹوٹ گئی اور وہ مجمع سے نکل بھاگا بہت سارے تماشائی پکڑنے کے لئے پیچھے بھا گئے تو وہ گاؤں کی مسجد میں گھس گیا اور وہاں سے قرآن مجید اٹھا کر اِدھر اُدھر بھاگتا رہا جب لوگوں نے گھیر اتو اس نے وہ قرآن مجید تماشے کے کسی مخدوم یا زمیندار کی گود میں ڈال دیا (جو کہ زبان حال سے ان لوگوں کو قرآن کا واسطہ دے رہا تھا مگر ان سیاہ قلب انسانوں نے اس کی یہ عرض بھی مسترد کر دی اس کو باندھ کر پھر لڑوایا گیا عین اس لمحے یا شام کو اس بستی میں قدرتی طور پر آگ لگ گئی اور دیکھتے دیکھتے پوری بستی جل کر راکھ ہو گئی آواز خلق نقارہ خدا کا محاور تو آپ نے سنا ہی ہو گا سب لوگوں نے یہی کہا کہ یہ اسی ظلم کا نتیجہ تھا جو اس بے زبان پر کیا گیا۔ یہ اسی وجہ سے اللہ کا عذاب تھا۔ یہ عبرتناک واقعہ تمام انسانوں کے لئے باعث عبرت ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← شَيْخٍ، مِنَ النَّخَعِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَدَائِنِيُّ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← ابْنِ صَفْوَانَ ← ابن بشران،

Shuab ul Iman · Forty-first of the people of faith › It is a section in the prohibition of stadiums and amusement parks · Hadith 6537

شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9249

9250 - و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب أنا محمد بن أبي بكر نا يحيى بن سعيد حدثني أبو بكار قال : صليت مع أبي المليح على جنازة فقال : أقيموا صفوفكم و ليحسن شفعاتكم فلو اخترت رجلا اخترته ثم قال : حدثني عبد الله بن السليط عن بعض أزواج النبي صلى الله عليه و سلم ميمونة و كان أخاها من الرضاعة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من مسلم يصلي عليه أمة يشفعون فيه إلا شفعوا قال : و الأمة من الأربعين إلى المائة فصاعدا

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو حدیث بیان کی ابو بکار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الملیح کے ساتھ ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو انہوں نے فرمایا اپنی صفیں سیدھی کرو اور اپنی سفارش کو بہتر طریقے پر کرو میں اگر کسی آدمی کو منتخب کروں تو کر سکتا ہوں۔ اس کے بعد فرمایا مجھے حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن سلیط نے بعض ازواج رسول سے یعنی بی بی میمونہ سے ان کا رضاعی بھائی تھا۔ یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو مسلمان بھی مرتا ہے جس پر ایک جماعت نماز ادا کرتی ہے اس نماز میں وہ اس کے حق میں سفارش کرتے ہیں ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے اور امت چالیس سے لے کر ایک سو تک کی تعداد کو بلکہ کچھ زیادہ کو کہتے ہیں۔

عبد الله بن السليط ← أقيموا صفوفكم و ليحسن شفعاتكم فلو اخترت رجلا اخترته ثم ← صَلَّيْت مَعَ أَبِي الْمَلِيحِ عَلَى جِنَازَةٍ ← أبو بكار ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › And it is the door to prayer for the people of the qiblah who died · Hadith 9249

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7871

7871 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا يعلى بن عبيد نا محمد بن سوقه عن محمد بن عبد الله الثقفي عن وراد قال : كتب المغيرة بن شعبة إلى معاوية و زعم و راد أنه كتب بيده قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله تبارك و تعالى حرم ثلاثة و نهى عن ثلاثة : عقوق الأمهات و وأد البنات و لا وهات و نهى عن ثلاث : قيل و قال إضاعة المال و إلحاف السؤال أخرجه مسلم من وجه آخر عن محمد بن سوقة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الوہاب فراء نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کومحمدبن سوقہ نے ان کومحمد بن عبد اللہ ثقفی نے ان کو وراد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور یہ دعویٰ کیاوراد نے کہ اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تین چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ اور تین چیزوں سے منع کیا ہے ماؤں کی نافرمانی کرنا۔ بیٹیوں کوزندہ زمین میں دفن کرنا ۔ دینے کے لئے منع کرنا اور لینے کے لئے لاؤ دے دو کہنا۔ اور تین چیزوں سے منع کیا تھا۔ مال کو ضائع کرنا ، چپک کر سوال کر نا مانگنا اور قیل قال و حجت بازی کرنا ۔اس کو مسلم نے دوسرے طریق سے نقل کیا ہے محمد بن سوقہ سے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← إضاعة المال و إلحاف السؤال أخرجه مسلم من وجه آخر ← ثلاث قيل و ← ثلاثة عقوق الأمهات و وأد البنات و لا وهات و نهى ← إن الله تبارك و تعالى حرم ثلاثة و نهى ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنِّي ← بيده ← المغيرة بن شعبة إلى معاوية و زعم و راد أنه ← وَرَّادٍ ← محمد بن عبد الله الثقفي ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7871

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7872

7872 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي نا المطرز قاسم بن زكريا نا عبيد الله عن شيبان عن منصور عن المسيب بن رافع عن وراد عن المغيرة بن شعبة : أنه كتب إلى معاوية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا سلم من الصلاة قال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير و قال : إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات و وأد البنات و منع و هات وكره لكم قيل و كثرة السؤال و إضاعة المال رواه البخاري عن سعد بن حفص عن شيبان

ہمیں خبر دی ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو مطرز قاسم بن زکریا نے ان کو عبید اللہ نے ان کو شیبان نے ان کو منصور نے مسیب بن رافع سے اس نے وراد سے اس نے مغیرہ بن شعبہ سے کہ انہوں نے حضرت معاویہ کی طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ لا اله الا الله وحده لاشريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير . اور فرمایا کہ للہ تعالیٰ نے تمہارے اوپرحرام کیا ہے ماؤں کی نافرمانی کرنا بیٹیوں کوزند و در گور کرنا۔ دینے کے لئے منع کرنا اور لینے کے لئے ہاتھ پھیلا نا اور مکروہ قرار دیا ہے تمہارے لئے حجت بازی کرنے کو، کثرت سے مانگنے کو اور مال ضائع کرنے کو۔ بخاری نے اس کو روایت کی سعد بن حفص سے اس نے شیبان سے۔

إِلَى مُعَاوِيَةَ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ ← وَرَّادٍ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← المطرز قاسم بن زكريا ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7872

شعب الإيمان · الخامس و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في رحم الصغير و توقير الكبير · حديث 11019

11019 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو الحسن علي بن أحمد بن قرقوب التمار بهمدان نا إبراهيم بن الحسين نا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري نا عبد الله بن أبي بكرة أن عروة بن الزبير أخبره : أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : جاءت امرأة و معها ابنتان لها تسألني فلم تجد عندي شيئا غير تمرة واحدة فأعطيتها إياها فأخذتها فشققتها بين ابنتيها و لم تأكل منها شيئا ثم قامت و خرجت و ابنتاها فدخل علي النبي صلى الله عليه و سلم فحدثته حديثها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من ابتلى من البنات بشيء فأحسن إليهن كن سترا له من النار رواه البخاري عن أبي اليمان و رواه مسلم عن الدارمي عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی محمد بن عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن قرقوب تمار نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابوالیمان نے ان کو خبر دی شعیب نے زہری سے ان کو عبد اللہ بن ابوبکرہ نے یہ کہ عروہ بن زبیر نے اس کو خبر دی کہ عائشہ زوجہ رسول فرماتی ہیں کہ ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں اس نے مجھ سے کھانے کے لئے کچھ مانگا مگر میرے پاس سے اس کو کچھ نہ مل سکا سوائے کھجور کے ایک دانے کے میں نے اس کو وہی ایک دانہ دے دیا اس نے اس کو لے کر آدھا آدھا کر کے ان دونوں لڑکیوں کو دے دیا اور خود کچھ نہ کھایا اس کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی اور اس کی بیٹیاں بھی اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے میں نے ان کو یہ خبر سنائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بیٹیوں کے ساتھ آزمائش میں مبتلا کیا جائے اور وہ ان کے ساتھ اچھائی اور بھلائی کرے وہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ابوالیمان سے اور مسلم نے دارمی سے اس نے ابوالیمان سے۔

عبد الله بن أبي بكرة، ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-fifth of the people of faith › And it is a door in the womb of the young and the reverence of the great · Hadith 11019

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبَّاسٌ · حديث 723

723 - حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْخَفَّافُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعَقِيقَةُ تُذْبَحُ لِسَبْعٍ , أَوْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ , أَوْ أَحَدَ وَعِشْرِينَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ تَفَرَّدَ بِهِ الْخَفَّافُ

عیاش بن تمیم السکری البغدادی سے مروی حدیث ،حضرت عبداللہ بن برید رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عقیقہ کا جانور ساتویں دن ، چودھویں دن یا اکیسویس دن ذبح کیا جا سکتا ہے ۔ اس حدیث کو قتادہ سے صرف اسماعیل بن مسلم نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبدالوہاب بن عطاالخفاف منفرد ہیں ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← قَتَادَةَ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← عبد الوهاب بن عطاء الخفاف ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← عَيَّاشُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 723

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 1005

1005 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ابْنِ بِنْتِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَخِيَ مُحَمَّدَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ كُنْتَ عَنِ ابْنَةِ حَمْزَةَ؟ فَقَالَ: «إِنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ إِلَّا أَخُوهُ عَبْدُ اللَّهِ , وَلَا عَنْ أَخِيهِ إِلَّا بُكَيْرٌ , وَلَا عَنْهُ إِلَّا مَخْرَمَةُ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍ

محمد بن حسین ابن بنت رشد ین بن سعد المصری سے مروی حدیث ، ام المومنین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سے شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ نے فرمایا حمزہ میرے رضاعی بھائی ہیں ۔ اس حدیث کو زہری سے صرف ان کے بھائی عبداللہ نے روایت کیا ہے اور ان کے بھائی سے صرف بکیر نے روایت کیا ہے ان سے صرف مخرمہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن وہب منفرد ہے۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1005

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ إِبْرَاهِيمُ · حديث 243

243 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَنْدَلُسِيُّ بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي , عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ , فَقَالَ: إِنِّي عَمُّكِ مِنَ الرَّضَاعَةِ , فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ فَقَالَ «إيذَنِي لَهُ فَإِنَّهُ عَمُّكِ مِنَ الرَّضَاعَةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ إِلَّا شَبَّةُ بْنُ عُبَيْدٍ النُّمَيْرِيُّ وُجُودًا فِي كِتَابِهِ

ابراہیم بن جمیل الاندلسی سے مروی حدیث : ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ان کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، تو آپ ﷺنے اجازت نہ دی اس نے کہا میں آپ کا رضاعی چچا ہو ں۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا تم اس کو اجازت دے دوں کیونکہ وہ تمہارا رضاعی چچا ہے اس حدیث کو یونس سے صرف شعبہ بن عبید النمیری نے روایت کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← وجدت في كتاب أبي ← عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَمِيلٍ الْأَنْدَلُسِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 243

chevron_left Previous
1…333435…291
Next chevron_right