Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21566 hadiths

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1402

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْتُصَفِّحْ النِّسَاءُ

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تمہیں نماز کے دوران (امام کو متوجہ کرنے کی ضرورت پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور خواتین کو تالی بجانی چاہیے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1402

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1502

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ الْأَزْرَقُ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْجُدُ لَكَ فَقَالَ لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْهِنَّ مِنْ حَقِّهِمْ

قیس بن سعد بیان کرتے ہیں میں حیرہ میں آیا میں نے وہاں کےلوگوں کو اپنے رئیس کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا پھر جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو عرض کی یا رسول اللہ ہم لوگ آپ کو سجدہ نہ کیا کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی شخص کو یا کسی فرد کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو خواتین کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں کیونکہ اللہ نے ان خواتین پر ان کے شوہروں کے بہت سے حقوق مقرر کئے ہیں۔

أَتَيْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ فَقُلْتُ ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَقُ الْأَزْرَقُ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1502

سنن دارمی · من كتاب العيدين ‹ باب · حديث 1642

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ وَبِلَالٌ قَابِضٌ بِثَوْبِهِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تَجِيءُ بِالْخُرْصِ وَالشَّيْءِ ثُمَّ تُلْقِيهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات گواہی دے کر کہتا ہوں کہ آپ نے عید کے دن خطبہ دینے سے پہلے نماز ادا کی تھی پھر آپ نے خطبہ دیا تھا پھر آپ نے یہ مناسب سمجھا کہ خواتین تک آواز نہیں پہنچی تو آپ خواتین کے پاس تشریف لے گئے انہیں بطور خاص وعظ ونصحیت کی اور صدقہ کرنے کی ہدایت کی تو حضرت بلال نے اپنے کپڑے کو پھیلا لیا تو خواتین نے اپنی انگوٹھیاں وغیرہ اور دیگر چیزیں حضرت بلال کے کپڑے میں ڈال دیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of the two feasts › Door · Hadith 1642

سنن دارمی · من كتاب العيدين ‹ باب · حديث 1649

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ قَالَ تَصَدَّقْنَ فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ جَهَنَّمَ فَقَامَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سَفِلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ فَقَالَتْ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّكُنَّ تُفْشِينَ الشَّكَاءَ وَاللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ فَجَعَلْنَ يَأْخُذْنَ مِنْ حُلِيِّهِنَّ وَأَقْرَاطِهِنَّ وَخَوَاتِيمِهِنَّ يَطْرَحْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز عید میں شرکت کی آپ نے پہلے نماز ادا کی پھر خطبہ دیا پھر آپ حضرت بلال کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور خواتین کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں وعظ کیا اور انہیں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی اور صدقہ کرنے کے بارے میں فرمایا پھر آپ نے جہنم سے متعلق کچھ تذکرہ کیا ایک خاتون کھڑی ہوئی جو کسی عام خاندان سے تعلق رکھتی تھی اس کے رخسار کھینچے ہوئے تھے اس نے عرض کی یا رسول اللہ اس کی وجہ کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تم خواتین شکایت بکثرت کرتی ہو اور لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی نافرمانی بکثرت کرتی ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ خواتین نے اپنے زیورات اور انگوٹھیاں اور بالیاں حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالنا شروع کردیں یہ انہوں نے صدقے کے طور پر ڈالی تھیں۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of the two feasts › Door · Hadith 1649

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1692

أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَوَافَقَتْ زَيْنَبَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَضَعُ صَدَقَتِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَوْ فِي قَرَابَتِي فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ

حضرت عبداللہ کی اہلیہ سیدہ زینب بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے خواتین صدقہ دیا کرو خواہ وہ تمہارے زیور کیوں نہ ہو۔ حضرت زینب بیان کرتی ہیں حضرت عبداللہ ان دنوں تنگ دست تھے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دریافت کرنے کے لے گئے تو زینب نامی ایک انصاری خاتون مجھے ملی اس نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی سوال کرنا تھا جو میں نے کرنا تھا میں نے حضرت بلال سے کہا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر بتائیں کہ میں اپنا صدقہ کہاں خرچ کرو کیا عبداللہ پر یا اپنے رشتہ داروں پر حضرت بلال نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے دریافت کیا کون سی والی زینب ہے، حضرت بلال نے عرض کی حضرت عبداللہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو دو طرح کا اجر ملے گا ایک رشتہ داری کا دوسرا صدقہ کرنے کا۔

زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1692

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1888

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَ عَنْ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى زِرِّيَ الْأَعْلَى وَزِرِّيَ الْأَسْفَلِ ثُمَّ وَضَعَ فَمَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ فَقَالَ مَرْحَبًا بِكَ يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي سَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ رَجَعَ طَرَفُهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ فَصَلَّى فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا فَقَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ فَقَالَ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ فَنَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَخَلْفَهُ مِثْلُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يُنْزَلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ فَلَمْ يَزِدْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا وَلَبَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ قَالَ جَابِرٌ لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ وَكَانَ أَبِي يَقُولُ وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الرُّكْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا فَلَمَّا أَتَى الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ يَعْنِي فَرَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدْنَا مَشَى حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرَ طَوَافٍ عَلَى الْمَرْوَةِ قَالَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحِلَّ وَيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِأَبَدِ أَبَدٍ فَشَبَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى فَقَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدِ أَبَدٍ لَا بَلْ لَأَبَدِ أَبَدٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ بِبُدْنٍ مِنْ الْيَمَنِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابَ صَبِيغٍ وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ عَلِيٌّ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَبِي أَمَرَنِي فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحَرِّشُهُ عَلَى فَاطِمَةَ فِي الَّذِي صَنَعَتْ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَكَرَتْ فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَ صَدَقَتْ مَا فَعَلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحْلِلْ قَالَ فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَّهَ إِلَى مِنًى فَأَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى إِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ لَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي الْمُزْدَلِفَةِ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتْ يَعْنِي الشَّمْسَ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ فَأَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَلَا إِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَأَوَّلُ دَمٍ وُضِعَ دِمَاؤُنَا دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ فَرَفَعَهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُتُهَا إِلَى النَّاسِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ بِنِدَاءٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَةٍ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ لَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى وَقَفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصُّخَيْرَاتِ وَقَالَ إِسْمَعِيلُ إِلَى الشُّجَيْرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَذَهَبَتْ الصُّفْرَةُ حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ فَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ ثُمَّ دَفَعَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُصِيبُ رَأْسُهَا مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنْ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الْفَجْرَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَا اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا ثُمَّ دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا فَلَمَّا دَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالظُّعُنِ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ فَحَوَّلَ الْفَضْلُ رَأْسَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ حَتَّى إِذَا أَتَى مُحَسِّرَ حَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى إِذَا أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَهَا الشَّجَرَةُ فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ حَصَاةٍ مِنْ حَصَى الْخَذْفِ ثُمَّ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي بُدْنِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لُحُومِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَكِبَ فَأَفَاضَ إِلَى الْبَيْتِ فَأَتَى الْبَيْتَ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِمَكَّةَ وَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْتَقُونَ عَلَى زَمْزَمَ فَقَالَ انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا يَغْلِبُكُمْ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ

امام جعفر صادق اپنے والد امام محمد بن باقر کا یہ بیان نقل کرتے ہیں امام باقر فرماتے ہیں ہم حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے تمام حاضرین کا تعارف دریافت کیا جب میری باری آئی تو میں نے کہا میں علی بن حسین بن علی کا بیٹا "محمد" ہوں۔ تو حضرت جابر بن عبداللہ نے اپنا ہاتھ میرے اوپر والے اور نیچے والے بٹن کی طرف بڑھایا اور پھر اپنا منہ میرے سینے کے اوپر رکھ دیا میں ان دنوں نوجوان تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ فرمایا اے میرے بھتیجے تمہیں خوش آمدید ہو تم جو چاہو سوال کرسکتے ہو میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا وہ نابینا ہوچکے تھے اور نماز کا وقت ہوچکا تھا ۔ انہوں نے چھوٹی چادر لپیٹ کر نماز پڑھنا شروع کردی۔ وہ جب بھی اس چادر کو اپنے کندھوں کے او پر ڈالتے تو اس کے ایک طرف والا حصہ ڈھلک جاتا کیونکہ وہ چھوٹی چادر تھی حالانکہ ان کی بڑی چادر ایک طرف کھونٹی کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی جب انہوں نے نماز ادا کرلی تو میں نے دریافت کیا آپ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں انہوں نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نو برس تک کوئی حج نہ کیا پھر دسویں سال آپ نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے کہ مدینہ منورہ سے بہت سے لوگ حج کے لئے روانہ ہوئے ان میں سے بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرح حج کریں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم لوگ بھی روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ پہنچ گئے وہاں حضرت اسماء بنت عمیس نے محمد بن ابوبکر کو جنم دیا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کو بھیجا کہ اب میں کیا کروں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی کہ تم غسل کرلو اور کپڑے کے ذریعے خون کے مقام کو باندھ لو اور احرام باندھ لو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی پھر اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہوئے جب اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی میں نے یہ دیکھا کہ حدنگاہ تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سوار اور پیدل لوگوں کا ہجوم ہے آپ کے دائیں طرف بھی اسی طرح لوگ تھے اور بائیں طرف بھی اتنے ہی لوگ تھے اور آپ کے پیچھے بھی اتنے ہی لوگوں کا ہجوم تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے آپ پر قرآن نازل ہورہا تھا آپ کو اس کے مفہوم کا بخوبی علم تھا آپ نے کلمہ تو حید کے ذریعے تلبیہ پڑھا اور کہا میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں ہے میں حاضر ہوں بے شک حمد اور نعمت تیرے لئے ہے اور بادشاہی بھی تیرا کوئی شریک نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تلبیہ پڑھا تھا لوگوں نے بھی تلبیہ پڑھنا شروع کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی تلبیہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم آپ کی ہمراہی میں بیت اللہ تک پہنچ گئے۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں ہماری نیت صرف حج کرنے کی تھی ہمیں عمرے کا کوئی خیال نہیں تھا جب ہم بیت اللہ ان کے ہمراہ پہنچ گئے آپ نے رک کر ان کا استلام کیا تین مرتبہ رمل کیا اور چار مرتبہ چل کر گزرے پھر آپ مقام ابراہیم کے پاس تشریف لائے وہاں نماز ادا کی اور یہ آیت پڑھی ۔ " مقام ابراہیم کو مصلی (جائے نماز) بنا لو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا تھا میرے والد صاحب نے یہ بات بتائی تھی کہ میرا خیال ہے انہوں نے حضرت جابر کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طور پر نقل کی ہوگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعات میں سورت اخلاص اور سورت کافرون کی تلاوت کی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکن کے پاس واپس تشریف لائے آپ نے اس کا استلام کیا پھر آپ دروازے سے ہو کر صفا کی طرف تشریف لے گئے صفا تشریف لا کر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔ " بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا میں اس سے آغاز کروں گا جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے پہلے کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے آغاز کیا آپ اس پر چڑھ گئے جب آپ نے بیت اللہ کی طرف نظر کی تو اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور یہ پڑھا۔ " اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے بادشاہی ہے حمد و نعمت اسی کے لئے مخصوص ہے وہ زندہ کرتا ہے۔ وہ موت دیتا ہے وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے صرف ایک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اپنے خاص بندوں کی مدد کی اور دشمنوں کے گروہوں کو تنہا اس نے پسپا کیا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان دعا کی اور یہی کلمات تین مرتبہ پڑھے پھر آپ اتر کر مروہ کے پاس آگئے جب آپ بطن وادی میں پہنچے امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی فرماتے ہیں یعنی وہاں پہنچ کر آپ دوڑ کر گزرے یہاں تک کہ آپ بلندی کی طرف چڑھنے لگے تو آپ پھر چلنے لگے۔ ہم لوگ جب مروہ پر آئے تو آپ نے مروہ پر بھی وہی عمل کیا جو صفا پر کیا تھا یہاں تک کہ جب آپ نے مروہ کا آخری چکر لگایا تو یہ فرمایا جو بات بعد میں میرے ذہن میں آئی اگر مجھے پہلے خیال آجاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ لے کر نہ آتا اور اس عمل کو عمرہ بنا لیتا تم میں سے جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ احرام کھول دے اور اسے عمرے میں تبدیل کردے۔ حضرت سراقہ بن مالک نے دریافت کیا یا رسول اللہ کیا یہ اسی سال کے لئے مخصوص ہے یا ہمیشہ کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرتے ہوئے ارشاد فرمایا عمرہ حج میں داخل ہوگیا یہ بات آپ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی اور فرمایا نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے قربانی کے کچھ جانور لے کر آئے تو انہوں نے سیدہ فاطمہ کو دیکھا کہ وہ احرام کھول چکی ہیں انہوں نے رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس بات پر ان کا انکار کیا کہ حضرت فاطمہ نے بتایا کہ میرے والد نے مجھے یہ ہدایت کی ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تاکہ حضرت فاطمہ کی شکایت کروں جو انہوں نے عمل کیا ہے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کروں اور جو بات بتائی ہے اس کے بارے میں بھی دریافت کروں اور میں نے جو انکار کیا ہے اس کا بھی ذکر کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا نیت کی تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی میں نے یہ نیت کی تھی کہ اے اللہ میں وہی نیت کرتا ہوں جو تیرے رسول نے کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ساتھ تو قربانی کا جانور بھی ہے تو تم احرام نہ کھولو۔ حضرت جابر بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک سو قربانی کے اونٹ لے کر۔ سب لوگوں نے احرام کھول لئے اور بال کٹوا لئے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان لوگوں کے جن کے ہمراہ قربانی کے جانور موجود تھے۔ ترویہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منی کا رخ کیا تو ہم لوگوں نے حج کا احرام باندھ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے منی پہنچ کر آپ نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور صبح کی نماز ادا کی پھر آپ نے وہاں کچھ دیر قیام کیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا تو آپ نے نمرہ میں ایک خیمہ لگانے کا حکم دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر روانہ ہوئے قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آپ مشعر حرام کے نزدیک قیام کریں گے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں قریش مزدلفہ کے نزدیک قیام کیا کرتے تھے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزر کر عرفہ آگئے وہاں آپ کے لئے نمرہ میں خیمہ لگایا جا چکا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے جب سورج ڈھل گیا تو آپ کے حکم کے ذریعے قصواء پر پالان رکھا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر بطن وادی میں تشریف لائے آپ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ "بے شک تمہارے خون اموال اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر قابل احترام ہے خبردار زمانہ جاہلیت کے تمام تر معاملات میں اپنے قدموں کے نیچے روندتا ہوں زمانہ جاہلیت کے تمام خون معاف ہیں اور سب سے پہلے میں اپنا خون معاف کرتا ہوں جو ربیعہ بنت حارث کے صاحبزادے کا تھا۔ جو بنو سعد میں دودھ پی رہا تھا اسے ہذیل قبیلے کے لوگوں نے قتل کردیا تھا۔ زمانہ جاہلیت کا تمام سود معاف ہے میں سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطلب کے وصول کرنے والے سود کو معاف کرتا ہوں وہ سب معاف ہیں۔ خواتین کے بارے میں اللہ سے ڈرو تم نے اللہ کی امانت کے ذریعے انہیں حاصل کیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے گھر میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو تم ان کی پٹائی کرو لیکن زیادتی کئے بغیر اور ان کا تم پر حق ہے کہ تم ان کے کھانے پینے اور لباس کا مناسب طور پر انتظام کرو اگر تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے تو تم کیا جواب دو گے لوگوں نے عرض کی ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تصدیق کردی ہے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اور خیر خواہی کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھایا اور پھر انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے یہ دعا پڑھی اے اللہ تو گواہ ہوجا اے اللہ تو گواہ ہوجا اے اللہ تو گواہ ہوجا۔ پھر حضرت بلال نے ایک ہی اذان کہی پھر امامت کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی پھر حضرت بلال نے اقامت کہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی نماز ادا نہیں کی۔ پھر آپ سواری پر سوار ہوئے اور کھڑے ہوگئے آپ نے اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ "مخیرات" اور ایک روایت میں ہے "شجیرات" کی طرف کیا جبل مشات آپ کے سامنے تھا آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور وہاں کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب رہ گیا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اس کی زردی رخصت ہوگئی جب سورج کی ٹکیہ غروب ہوگئی آپ نے حضرت اسامہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور روانہ ہوگئے آپ نے قصواء اونٹنی کی لگام کھینچی ہوئی تھی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے ساتھ مل رہا تھا آپ اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے یہ فرما رہے تھے آرام سے چلو، آرام سے چلو، جب آپ کسی ٹیلے کے پاس آتے تو اس کی لگام ڈھیلی کردیتے تاکہ وہ اوپر چڑھ جائے یہاں تک کہ آپ مزدلفہ تشریف لے آئے وہاں آپ نے ایک اذان اور دو اقامت کے ذریعے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں پھر آپ لیٹ گئے یہاں تک کہ جب صبح صادق کا وقت ہوا تو آپ نے فجر کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ ادا کی پھر آپ قصوا اونٹنی پر سوار ہوئے اور مشعرح رام کے قریب آکر آپ نے قیام کیا۔ آپ نے قبلہ کی طرف منہ کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کی اس کی کبریائی بیان کی اس کی معبودیت کا ذکر کیا اس کی وحدانیت کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ جب اچھی طرح سے روشنی پھیل گئی تو سورج طلوع ہونے کے بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے آپ نے حضرت فضل بن عباس کو پیچھے بٹھا لیا وہ خوبصورت آدمی تھے ان کے بال بھی بہت خوبصورت تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو کچھ خواتین آپ کے پاس سے گزریں جو جارہی تھیں۔ حضرت فضل نے ان کی طرف دیکھنا شروع کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کے چہرے پر رکھا اور حضرت فضل کا منہ دوسری طرف پھیر دیا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محسر پہنچے تو آپ نے اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کردی اور اس کے درمیانی راستے پر ہو لئے جس سے تم لوگ جمرہ کبری کی طرف جاتے ہو جب آپ اس جمرہ کے پاس سے تشریف لائے جس کے پاس درخت ہیں تو وہاں آپ نے چھوٹی چھوٹی سات کنکریوں کے ذریعے رمی کی۔ پھر آپ نے بطن وادی سے رمی کی پھر آپ واپس قربان گاہ کی طرف لائے وہاں آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے اور پھر بقیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیئے جو انہوں نے قربان کئے آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی قربانی میں شریک کرلیا۔ پھر آپ کے حکم کے تحت ہر قربانی کے اونٹ کے کچھ حصہ لے کر ایک ہنڈیا میں پکایا گیا ان دونوں حضرات نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر آپ سوار ہوئے۔ بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے جب آپ بیت اللہ تشریف لائے تو آپ نے مکہ میں ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ بنوعبدالمطلب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ زم زم میں سے پانی نکال رہے تھے آپ نے فرمایا بنو عبدالمطلب پانی نکالتے رہو اگر لوگ تمہارے پلانے کے کام پر غالب نہ آگئے ہوتے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا ان لوگوں نے پانی کا ڈول آپ کی طرف بڑھایا تو آپ نے اسے نوش فرما لیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبَانَ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1888

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1943

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عَلَى النِّسَاءِ حَلْقٌ إِنَّمَا عَلَى النِّسَاءِ التَّقْصِيرُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خواتین کے لئے سر منڈوانا درست نہیں ہے۔ وہ صرف بال کٹوا سکتی ہیں۔

أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عُثْمَانَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ← صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1943

سنن دارمی · من كتاب المناسك ‹ باب · حديث 1974

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ الْيَمَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ حَبْسِ النِّسَاءِ عَنْ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ إِذَا حِضْنَ قَبْلَ النَّفْرِ وَقَدْ أَفَضْنَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ إِنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَذْكُرُ رُخْصَةً لِلنِّسَاءِ وَذَلِكَ قَبْلَ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِعَامٍ

ابن شہاب بیان کرتے ہیں طاؤس یا یمانی نے بتایا کہ انہوں نے عبداللہ بن عامر کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر واپس روانگی سے پہلے خواتین کو حیض آجائے اور وہ بیت اللہ کا الوداعی طواف نہ کرسکیں تو کیا ان کی وجہ سے رک جایا جائے گا جب کہ وہ قربانی کے دن طواف افاضہ کرچکی ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ بات بیان کی کہ خواتین کو یہ رخصت دی گئی ہے راوی کہتے ہیں یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے وصال سے ایک سال پہلے کی بات ہے۔

الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ إِذَا حِضْنَ قَبْلَ النَّفْرِ وَقَدْ أَفَضْنَ يَوْمَ النَّحْرِ ← حَبْسِ النِّسَاءِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَهُوَ يُسْأَلُ ← طاوس اليماني أنه ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the book of rites › Door · Hadith 1974

سنن دارمی · من كتاب الاضاحي ‹ باب · حديث 2030

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح خیبر کے موقع پر خواتین کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتوں گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کردیا تھا۔

مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ ← لِابْنِ عَبَّاسٍ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ ← عَلِيٍّ أَنَّ عَلِيًّا ← أَبِيهِمَا، ← الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنَيْ مُحَمَّدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book sacrifice › Door · Hadith 2030

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2109

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو خواتین پر وہ ہی فضیلت حاصل ہے جوثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2109

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2210

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ الَّذِي كَانَ مِنْ تَرْكِ النِّسَاءِ بَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عُثْمَانُ إِنِّي لَمْ أُومَرْ بِالرَّهْبَانِيَّةِ أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِي قَالَ لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ مِنْ سُنَّتِي أَنْ أُصَلِّيَ وَأَنَامَ وَأَصُومَ وَأَطْعَمَ وَأَنْكِحَ وَأُطَلِّقَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي يَا عُثْمَانُ إِنَّ لِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا قَالَ سَعْدٌ فَوَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ أَجْمَعَ رِجَالٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ هُوَ أَقَرَّ عُثْمَانَ عَلَى مَا هُوَ عَلَيْهِ أَنْ نَخْتَصِيَ فَنَتَبَتَّلَ

حضرت سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں جب حضرت عثمان بن مظعون کا بیویوں سے علیحدگی اختیار کرنے کا معاملہ درپیش ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر ارشاد فرمایا اے عثمان رضی اللہ عنہ۔ مجھے رہبانیت اختیار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے کیا تم میری سنت سے منہ موڑنا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ کی سنت کیا ہے آپ نے فرمایا میری سنت یہ ہے کہ میں رات کےوقت نوافل ادا کرتا ہوں اور سوبھی جاتاہوں دن میں روزہ بھی رکھ لیتاہوں اور کھاپی بھی لیتاہوں یعنی روزہ نہیں رکھتا۔ اور میں نکاح بھی کرلیتاہوں اور طلاق بھی دیدیتاہوں جو شخص میری سنت سے منہ موڑے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے پھر آپ نے ارشاد فرمایا اے عثمان رضی اللہ عنہ تمہارے اہل خانہ کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا تم پر حق ہے۔ حضرت سعد بیان کرتے ہیں اللہ کی قسم تمام مسلمان مردوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اجازت دیدی تو ہم سب خصی کروا کر مجرد زندگی بسر کریں گے۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْحِزَامِيُّ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2210

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2211

أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِلدِّينِ وَالْجَمَالِ وَالْمَالِ وَالْحَسَبِ فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں خواتین کے ساتھ چارباتوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے دین کی خوبصورتی مال اور نسب تمہیں چاہیے کہ دین دار عورت کے ساتھ نکاح کرو تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔

تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِلدِّينِ وَالْجَمَالِ وَالْمَالِ وَالْحَسَبِ فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2211

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2236

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ سَارُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ اسْتَمْتِعُوا مِنْ هَذِهِ النِّسَاءِ وَالِاسْتِمْتَاعُ عِنْدَنَا التَّزْوِيجُ فَعَرَضْنَا ذَلِكَ عَلَى النِّسَاءِ فَأَبَيْنَ أَنْ لَا نَضْرِبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُنَّ أَجَلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْعَلُوا فَخَرَجْتُ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي مَعَهُ بُرْدٌ وَمَعِي بُرْدٌ وَبُرْدُهُ أَجْوَدُ مِنْ بُرْدِي وَأَنَا أَشَبُّ مِنْهُ فَأَتَيْنَا عَلَى امْرَأَةٍ فَأَعْجَبَهَا شَبَابِي وَأَعْجَبَهَا بُرْدُهُ فَقَالَتْ بُرْدٌ كَبُرْدٍ وَكَانَ الْأَجَلُ بَيْنِي وَبَيْنَهَا عَشْرًا فَبِتُّ عِنْدَهَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ ثُمَّ غَدَوْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْبَابِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَكُمْ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مِنْ النِّسَاءِ أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَلْيُخَلِّ سَبِيلَهَا وَلَا تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا

حضرت ربیع بن سبرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم ان خواتین سے متعہ کرسکتے ہو ہمارے نزدیک اس سے مراد شادی تھی ہم نے کچھ خواتین کو یہ پیش کش کی انہوں نے انکار کردیا اور یہ شرط رکھی کہ ہمارے اور ان کے درمیان شادی کی مدت طے شدہ ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسا ہی کرلو۔ سبرہ بیان کرتے ہیں میں اور میرا چچازاد ہم دونوں نکلے اس کے پاس ایک چادر تھی اور میرے پاس بھی ایک چادر تھی اس کی چادر میری چادر سے زیادہ بہتر تھی اور میں اس سے زیادہ جوان تھا ہم ایک خاتون کے پاس آئے اسے میری جوانی پسند آگئی اور میرے چچازاد کی چادر پسند آگئی وہ بولی یہ چادر اس چادر جیسی ہے یعنی اس نے مجھے منتخب کرلیا میرے اور اس کے درمیان دس دن کا معاہدہ طے پایا اس رات میں اس کے ہاں رہا اگلے دن صبح میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکن اور خانہ کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے ارشاد فرما رہے تھے اے لوگو! میں نے تمہیں خواتین کے ساتھ متعہ کرنے کی اجازت دی تھی خبردار اللہ نے اسے قیامت کے دن تک کے لئے حرام قرار دے دیاہے جس شخص کے پاس ایسی کوئی خاتون ہو وہ اس سے علیحدگی اختیار کرے اور تم نے ان خواتین کو جو ادائیگی کی ہے اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔

الربيع بن سبرة أن أباه ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2236

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2238

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِمَا قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُتْعَةِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ عَامَ خَيْبَرَ

حسن اور عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے جب خیبر فتح ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کردیا۔

لابْنِ عَبَّاسٍ ← عَلِيًّا ← أَبِيهِمَا، ← الْحَسَنِ وَعَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2238

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2241

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَا تُغَالُوا فِي صُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلَا أُصْدِقَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ فَوْقَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً أَلَا وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيُغَالِي بِصَدَاقِ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَبْقَى لَهَا فِي نَفْسِهِ عَدَاوَةٌ حَتَّى يَقُولَ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ

ابوعجفاء بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب کو خطبہ دیتے ہوئے سنا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا خبردار خواتین کے مہر میں غیرضروری اضافہ نہ کرو کیونکہ اگر یہ چیز دنیا میں عزت کانشان ہوتی یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پرہیز گاری کانشان ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے سب سے زیادہ حق دار تھے آپ نے اپنی ازواج میں کسی خاتون کا یاصاحبزادیوں میں کسی کامہر بارہ اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا خبردار کوئی شخص بیوی کو مہر تو زیادہ دے دیتا ہے لیکن دل میں اس عورت کے لئے عداوت باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ سوچتا ہے تمہاری وجہ سے مجھے بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِي ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2241

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2242

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لِي فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا فَقَالَ أَعْطِهَا ثَوْبًا فَقَالَ لَا أَجِدُ قَالَ أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَاعْتَلَّ لَهُ فَقَالَ مَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ

حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون حاضر ہوئی اور عرض کی وہ اپنا آپ اللہ کے رسول کے نام کرتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے کسی خاتون کے ساتھ شادی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ایک صاحب نے عرض کیا اس کی شادی میرے ساتھ کردیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہر کے طور پر اسے کوئی کپڑا دے دو ان صاحب نے عرض کی وہ میرے پاس نہیں ہے آپ نے فرمایا اسے کچھ دیدو خواہ وہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ان صاحب نے اس سے بھی معذوری ظاہر کی تو آپ نے ارشاد فرمایا تمہیں قرآن مجید کتنایاد ہے اس نے عرض کی اتنا آپ نے فرمایا تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کی تعلیم دینے پر میں تمہاری شادی اس عورت کے ساتھ کرتا ہوں۔

فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ ← کَذَا وَکَذَا؟ ← مَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ ← أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ فَاعْتَلَّ لَهُ ← لا أجد ← أَعْطِهَا ثَوْبًا ← رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا ← رَسُولُ اللَّهِ مَا لِي فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ ← إِنَّهَا وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ← أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2242

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2252

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي قَالَ وَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ عَلَى النِّسَاءِ فِي شَوَّالٍ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شوال کے مہینے میں شادی کی اور میں شوال کے مہینے میں ہی آپ کے ہاں آئی آپ کی بارگاہ میں جو حثییت مجھے حاصل ہے وہ اور کسے حاصل ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس بات کو مستحب قرار دیتی تھیں کہ خواتین کی رخصتی شوال کے مہینے میں کی جائے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2252

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2254

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْخَطْمِيِّ عَنْ هَرَمِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ

حضرت خزیمہ بن ثابت بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا۔ تم خواتین کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ ← رَسُولِ اللَّهِ ← خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ ← هَرَمِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْخَطْمِيِّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2254

Sahih

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2261

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمَعَةَ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمًا فَوَعَظَهُمْ فِي النِّسَاءِ فَقَالَ مَا بَالُ الرَّجُلِ يَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا فِي آخِرِ يَوْمِهِ

عبداللہ بن زمعہ بیان کرتے ہیں ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خواتین کے بارے میں وعظ ونصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا مرد اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح کیوں مارتا ہے حالانکہ اسی دن کے آخری حصے میں تم نے اسی کے ساتھ ہم بستری کرنا ہوتی ہے ۔

خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ النَّاسَ يَوْمًا فَوَعَظَهُمْ فِي النِّسَاءِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2261

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2281

حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَمَّى زِيَادًا قَالَ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْنَ كَانَ يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ قَالَ نَعَمْ إِنَّمَا أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ ضَرْبًا مِنْ النِّسَاءِ وَوَصَفَ لَهُ صِفَةً فَقَالَ لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءُ مِنْ بَعْدُ مِنْ بَعْدِ هَذِهِ الصِّفَةِ

محمد بن ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص یہ بات بیان کرتا ہے میں نے حضرت ابی بن کعب سے دریافت کیا کہ آپ کے خیال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات فوت ہوجائیں تو کیا آپ کے لئے مزید شادی کرنا جائز ہوگا انہوں نے جواب دیا ہاں۔ کیونکہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خواتین کی مخصوص قسم کو حلال قرار دیاہے اور اس کی صفت بیان کی ہے اور یہ فرمایا ہے تمہارے لئے اس کے بعد عورتوں سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے یعنی جن میں یہ صفات نہ پائی جاتی ہوں۔

مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← وُهَيْبٌ، ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2281

chevron_left Previous
1…8910…1,079
Next chevron_right