Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21566 hadiths

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2282

أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحَلَّ اللَّهُ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ مِنْ النِّسَاءِ مَا شَاءَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال سے پہلے اللہ نے آپ پر یہ بات حلال کردی تھی کہ آپ جتنی خواتین کے ساتھ چاہے شادی کرسکتے ہیں۔

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← وُهَيْبٌ، ← المعلى

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2282

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2303

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ

نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انہوں نے اپنی اہلیہ طلاق دے دی وہ خاتون اس وقت حالت حیض میں تھی حضرت عمر نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو انہوں نے فرمایا اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دو کہ اس عورت سے رجوع کرلے اور اسے اپنے پاس رکھے یہاں کہ اسے حیض آجائے پھر پاک ہوجائے پھر اگر وہ (ابن عمر) چاہے تو اس عورت کو روک لے اگر چاہے تو اس کو طلاق دے دے یہ وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیاہے اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے۔

ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of divorce › Door · Hadith 2303

سنن دارمی · من كتاب الطلاق ‹ باب · حديث 2314

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ قَالَ كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنْ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ فِي لَيْلِي شَيْئًا فَيَتَتَابَعَ بِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ أُصْبِحَ قَالَ فَتَظَاهَرْتُ إِلَى أَنْ يَنْسَلِخَ فَبَيْنَا هِيَ لَيْلَةً تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَمَا لَبِثْتُ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ وَقُلْتُ امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَمْشِي مَعَكَ مَا نَأْمَنُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكَ الْقُرْآنُ أَوْ أَنْ يَكُونَ فِيكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةٌ يَلْزَمُنَا عَارُهَا وَلَنُسْلِمَنَّكَ بِجَرِيرَتِكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ خَبَرِي فَقَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ يَا سَلَمَةُ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا صَابِرٌ نَفْسِي فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ قَالَ فَأَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قُلْتُ وَهَلْ أَصَابَنِي الَّذِي أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ قَالَ فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا وَحْشَى مَا لَنَا طَعَامٌ قَالَ فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَكُلْ بَقِيَّتَهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ قَالَ فَأَتَيْتُ قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمْ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْيِ وَقَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ

سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں میں ایک ایسا شخص تھا جو بیوی کے ساتھ اتنی مرتبہ صحبت کیا کرتا تھا جو عام طور پر لوگ نہیں کرتے جب رمضان کا مہینہ آیا تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید میں رات کے وقت ایسی کسی حرکت کا مرتکب ہوجاؤں گا میں اس سے بچنے کی کوشش کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی وہ بیان کرتے ہیں میں نے مہینہ ختم ہونے کی مدت تک کے لئے ظہار کرلیا اسی دوران رات کے وقت میری بیوی میری خدمت میں حاضر ہوئی اس کا کچھ حصہ میرے سامنے بے پردہ ہوگیا تو میں اس کی طرف لپکنے سے باز نہیں رہ سکا جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور انہیں اس کے بارے میں بتایا اور ان سے کہا کہ تم میرے ساتھ نبی کریم کے پاس چلو لوگ بولے نہیں اللہ کی قسم ہم تمہارے ساتھ نہیں چلیں گے کیونکہ ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ تمہارے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہوجائے گا یا نبی پاک تمہارے بارے میں ایسی بات ارشاد فرمائیں گے جس سے ہمیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ہم تمہیں تمہارے جرم کے حوالے کرتے ہیں۔ سلمہ بن صخر بیان کرتے ہیں خود ہی نبی اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساراواقعہ بیان کیا نبی نے دریافت کیا یہ تم نے کیا کیا۔ میں نے عرض کی میں نے ایساہی کیا ہے آپ نے پھر دریافت کیا اے سلمہ تم نے ایسا ہی کیا ہے؟ میں نے عرض کی میں نے ایسا کیا ہے آپ نے دریافت کیا اے سلمہ تم نے ایسا کیا ہے میں نے عرض کیا میں نے ایساہی کیا ہے اور اب میں اپنے آپ کو پیش کردیاہے آپ میرے بارے میں وہ حکم دیں جو اللہ نے آپ کو حکم دیاہے نبی نے فرمایا تم غلام آزاد کردو۔ سلمہ کہتے ہیں میں نے اپنی گردن کی پشت پرہاتھ مارا اور عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میرے پاس تو صرف بیوی ہے کوئی غلام نہیں۔ نبی اکرم نے فرمایا تم ایک وسق کھجوریں ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اس نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے گزشتہ رات ہم نے بھوکے رہ کر گزارہ کیا ہے ہمارے پاس تو کھانا ہی نہیں ہے۔ نبی اکرم نے فرمایا جو صاحب بنوزریق سے صدقہ وصول کرنے پر مامور ہیں تم ان کے پاس جاؤ وہ تمہیں اس صدقے میں سے کچھ دیدے گا تم ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق کھجوریں کھلا دینا جو بچ جائے وہ تمہارے اور تمہارے گھروالوں کے لئے ہیں۔ سلمہ بیان کرتے ہیں میں اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آیا اور کہا میں نے تم لوگوں کے پاس تنگی اور غلط رائے پائی ہے اور میں نے اپنے نبی کریم کے پاس بہترین اور کشادہ رائے پائی ہے آپ نے مجھے تمہیں صدقہ دینے کا حکم دیاہے۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book of divorce › Door · Hadith 2314

سنن دارمی · من كتاب الاحدود ‹ باب · حديث 2363

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا وَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَى إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُ لَا نَجِدُ حَدَّ آيَةِ الرَّجْمِ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَالرَّجْمُ فِي كِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا أُحْصِنَ إِذَا قَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبَلُ أَوْ الِاعْتِرَافُ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اور آپ پر کتاب نازل کی ہے اور اس پر رجم کے متعلق بھی آیات نازل کی ہیں ہم اسے پڑھتے رہتے ہیں اسے یاد رکھا ہے اسے سمجھا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سنگسار کیا ہے اور آپ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کیا ہے مجھے یہ ڈر ہے کہ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد کوئی کہنے والا یہ کہے گا کہ رجم سے متعلق آیت تو ہم اللہ کی کتاب میں نہیں پاتے۔ (یہ بات یاد رکھنا۔) رجم کا حکم اللہ کی کتاب میں موجود ہے اور بالکل درست ہے یہ ان مردوں اور خواتین کے بارے میں ہے جو محصن ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کریں اور جب گواہی کے ذریعے یہ بات ثابت ہوجائے یا عورت حاملہ ہوجائے یا وہ اعتراف کرلے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book Alhoudod › Door · Hadith 2363

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2502

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وُجِدَ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک جنگ کے دوران ایک خاتون مقتول پائی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کردیاہے۔

قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ← وُجِدَ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةٌ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2502

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2682

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوا عَلَى النِّسَاءِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْحَمْوُ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ قَالَ يَحْيَى الْحَمْوُ يَعْنِي قَرَابَةَ الزَّوْجِ

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا خواتین کے پاس تنہائی میں نہ جاؤ عرض کی یا رسول اللہ دیور جاسکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا دیور تو موت ہے۔ یحییٰ بیان کرتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ الحمو سے مراد شوہر کا قریبی رشتے دار ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بِسْطَامَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2682

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2685

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ عَنْ امْرَأَتِهِ عَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ قَالَتْ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تَحَلَّى الذَّهَبَ فَتُظْهِرَهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ

حضرت حذیفہ کی بہن نقل کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے خواتین کیا تمہارے پاس چاندی نیہں ہے جس کا تم زیور بنالو تم میں سے جو خاتون سونے کا زیورپہن کر زیب وزینت کے اظہار کی کوشش کرے گی اسے اس سونے کے ذریعے عذاب دیا جائے گا۔

خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ← أُخْتٍ لِحُذَيْفَةَ ← امْرَأَتِهِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2685

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2689

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ هُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنْ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ قَالَ فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا أَوْ فُلَانَةً قَالَ عَبْد اللَّهِ فَأَشُكُّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان مردوں پر لعنت کی ہے جوہیجڑوں جیسی شکل اختیار کرتے ہیں اور ان خواتین پر لعنت کی ہے جو مردوں جیسی وضع قطع اختیار کرتی ہیں آپ نے ارشاد فرمایا انہیں اپنے گھر سے نکال دو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو اس طریقے سے نکال دیا تھا اور حضرت عمر نے فلاں مرد اور فلاں عورت کو نکال دیا تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں یہ شک مجھے ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى ← هِشَامٌ -هُوَ الدَّسْتُوَائِيُّ-، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2689

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2791

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَأْدِ الْبَنَاتِ وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ وَعَنْ مَنْعٍ وَهَاتِ وَعَنْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ وَإِضَاعَةِ الْمَالِ

حضرت مغیرہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے ماؤں کی نافرمانی کرنے خوامخواہ منع کرنے اور فضول بحث ومباحثہ کرنے اور بکثرت مانگنے اور مال کو ضائع کرنے سے منع کیا ہے۔

وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ» ← قِيلَ ← مَنْعٍ وَهَاتِ، ← وَأْدِ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقِ الْأُمَّهَاتِ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةِ، ← وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2791

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2921

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ رَجُلٍ تَرَكَ بِنْتًا وَأُخْتًا فَقَالَ لِابْنَتِهِ النِّصْفُ وَلِأُخْتِهِ مَا بَقِيَ وَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَجْعَلُ الْأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً لَا يَجْعَلُ لَهُنَّ إِلَّا مَا بَقِيَ

بشر بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے ابن ابی زیاد سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑی ہو انہوں نے جواب دیا اس کی بیٹی کو نصف حصہ ملے گا اور بقیہ مال اس کی بہن کو مل جائے گا راوی بیان کرتے ہیں انہوں نے یہ بات بھی بیان کی کہ میرے والد نے حضرت خارجہ بن زید کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے کہ حضرت زید بن ثابت بہنوں کو بیٹیوں کے ہمراہ عصبہ قرار دیتے تھے وہ انہیں بقیہ بچ جانے والا مال نہیں دیا کرتے تھے۔

أَبِي ← لِابْنَتِهِ النِّصْفُ وَلِأُخْتِهِ مَا بَقِيَ ← رَجُلٍ تَرَكَ بِنْتًا وَأُخْتًا ← سَأَلْتُ ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2921

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2932

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِي أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَإِخْوَةٍ وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ أَنَّهُ كَانَ يُعْطِي لِلْأَخَوَاتِ مِنْ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلذُّكُورِ دُونَ الْإِنَاثِ فَقَالَ حَكِيمٌ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ هَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَرِثَ الرِّجَالُ دُونَ النِّسَاءِ إِنَّ إِخْوَتَهُنَّ قَدْ رُدُّوا عَلَيْهِنَّ

اسماعیل بیان کرتے ہیں ہم نے حکیم بن جابر کے پاس یہ بات ذکر کی کہ حضرت ابن مسعود سگی بہنوں اور باپ کی طرف والے بہن بھائیوں کے بارے میں یہ فتوی دیتے ہیں کہ سگی بہنوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال باپ کی طرف سے بھائیوں کو ملے گا باپ کو کچھ نہیں ملے گا تو حکیم نے جواب دیا حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں یہ زمانہ جاہلیت کا کام ہے کہ مردوں کو وارث قرار دیا جائے۔ اور عورتوں کو نہ دیا جائے وہ بہنیں دوسری بہنوں کو وراثت میں شریک کریں گی۔

ذَكَرْنَا عِنْدَ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ ← إِسْمَعِيلُ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2932

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 2933

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تُشَرِّكُ بَيْنَ ابْنَتَيْنِ وَابْنَةِ ابْنٍ وَابْنِ ابْنٍ تُعْطِي الِابْنَتَيْنِ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَشَرِيكُهُمْ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ لَا يُشَرِّكُ يُعْطِي الذُّكُورَ دُونَ الْإِنَاثِ وَقَالَ الْأَخَوَاتُ بِمَنْزِلَةِ الْبَنَاتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دو بیٹیوں اور ایک پوتی اور پوتے کو وراثت میں شریک قرار دیتی تھیں دو بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دیتی تھیں۔ اور باقی بچ جانے والے مال میں پوتی کو حصہ قرار دیتی تھیں۔ حضرت عبداللہ انہیں شریک قرار نہیں دیتے تھے وہ صرف مردوں پوتوں کو وراثت میں حصہ دیتے تھے لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے یہ ارشاد فرماتے تھے بہنیں بھی بیٹیوں کی مانند ہیں۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← معبد بن خالد، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 2933

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3150

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ أَوْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا قَالَ يَتَوَارَثُونَ مِنْ قِبَلِ الْأُمَّهَاتِ وَإِنْ وَلَدَتْ تَوْأَمًا فَمَاتَ وَرِثَ السُّدُسَ

زہری، زنا کے نتیجے میں پیداہونے والے بچے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں یہ ماں کی طرف سے ایک دوسرے کے وارث بنیں گے اگرچہ اس عورت نے جس دن اسے جنم دیاہے وہ بچہ اسی دن فوت ہو جائے تو وہ چھٹے حصے کا وارث ہوگا۔

يَتَوَارَثُونَ مِنْ قِبَلِ الْأُمَّهَاتِ وَإِنْ وَلَدَتْ تَوْأَمًا فَمَاتَ وَرِثَ السُّدُسَ ← الزُّهْرِيِّ فِي أَوْلَادِ الزِّنَا ← مَعْمَرٍ أَوْ يُونُسَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3150

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3183

حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ وَيَتْرُكُ مُكَاتَبًا وَلَهُ بَنُونَ وَبَنَاتٌ أَيَكُونُ لِلنِّسَاءِ مِنْ الْوَلَاءِ شَيْءٌ قَالَ تَرِثُ النِّسَاءُ مِمَّا عَلَى ظَهْرِهِ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِلرِّجَالِ دُونَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا كَاتَبْنَ أَوْ أَعْتَقْنَ

عطاء بیان کرتے ہیں جو شخص فوت ہوجائے اور وہ کوئی مکاتب غلام چھوڑ کر مرے اس شخص کے کچھ بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو کیا ان خواتین کو ولاء میں سے کچھ ملے گا عطاء فرماتے ہیں اس مکاتب غلام کی غلامی میں جو کچھ ہے وہ خواتین اس کی وارث بنیں گی لیکن ولاء کا حق خواتین کو نہیں ملے گا وہ صرف مردوں کو ملے گا البتہ ان خواتین نے خود کتابت کا معاہدہ کیا ہو یا غلام کو آزاد کیا ہو پھر ولاء کا حق انہیں ملے گا۔

عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3183

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3184

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ

طاوس فرماتے ہیں خواتین ولاء کے حق کی مالک نہیں بن سکتی البتہ وہ خود کسی غلام کو آزاد کردیں یا انہوں نے جس غلام کو آزاد کیا تھا وہ کسی غلام کو آزاد کردے تو اس کی ولاء کا حق خواتین کو ملے گا۔

لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ ← طَاوْسٍ ← لَيْثٌ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3184

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3185

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ وَتَرَكَ مُكَاتَبًا ثُمَّ مَاتَ الْمُكَاتَبُ وَتَرَكَ مَالًا فَجَعَلَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا بَقِيَ مِنْ مُكَاتَبَتِهِ بَيْنَ بَنِي مَوْلَاهُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ عَلَى مِيرَاثِهِمْ وَمَا فَضَلَ مِنْ الْمَالِ بَعْدَ كِتَابَتِهِ فَلِلرِّجَالِ مِنْهُمْ مِنْ بَنِي مَوْلَاهُ دُونَ النِّسَاءِ

یحیی بن ابوکثیر بیان کرتے ہیں ایک شخص فوت ہوگیا اس نے ایک مکاتب غلام چھوڑا پھر وہ مکاتب غلام بھی مر گیا اور کچھ مال چھوڑ کر مرا تو مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے اس کی مکاتبت میں سے بچنے والا مال اسے آزاد کرنے والے شخص کی اولاد میں سے مردوں اور عورتوں میں ان کی وراثت کے مطابق تقسیم کردیا اور اس کی کتابت کی ادائیگی کے علاوہ جو مال تھا وہ اسے آزاد کرنے والے کی اولاد میں سے خواتین کی بجائے صرف مردوں کو دیا۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبُو سُفْيَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3185

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3186

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَزَيْدٍ أَنَّهُمْ قَالُوا الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ وَلَا يَرِثُونَ النِّسَاءَ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ أَوْ كَاتَبْنَ

حضرت عمر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید یہ ارشاد فرماتے ہیں ولاء کا حق قریبی رشتہ داروں کو ملتا ہے یہ حضرات خواتین کو ولاء کے حق میں وارث قرار نہیں دیتے ماسوائے اس صورت کے جب خواتین نے خود کسی غلام کو آزاد کیا ہو یا کسی غلام کے ساتھ مکاتبت کی ہو۔

الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ وَلَا يَرِثُونَ النِّسَاءَ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ أَوْ كَاتَبْنَ ← عُمَرَ وَعَلِيٍّ وَزَيْدٍ أَنَّهُمْ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3186

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3189

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمْ قَالُوا لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ أَوْ كَاتَبْنَ

خالد ابو قلابہؒ اور زہریؒ سعید بن مسیبؒ سے اور ابو زناد سلیمان بن یسار سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:" عورتیں لاء سے وارث نہ ہوں گی مگر جب وہ خود آزاد کریں یا مکاتب کریں۔"

لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ أَوْ كَاتَبْنَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُمْ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← و،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3189

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3190

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مُعَاذٌ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ إِلَّا الْمُلَاعَنَةُ فَإِنَّهَا تَرِثُ مَنْ أَعْتَقَ ابْنُهَا وَالَّذِي انْتَفَى مِنْهُ أَبُوهُ

حسن ارشاد فرماتے ہیں خواتین ولاء کی وارث نہیں بنتی ہیں البتہ جنہیں انہوں نے خود آزاد کیا یاجس کو انہوں نے آزاد کیا ہو اس نے جنہیں آزاد کیا ہو ان کی ولاء کا حق خواتین کو مل جاتا ہے البتہ لعان کرنے والی عورت اس غلام کی وارث بنتی ہے جسے اس کے اس بیٹے نے آزاد کیا ہو جس کے باپ نے اس کے نسب کی نفی کی تھی۔

الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← مُعَاذٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3190

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3304

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ فَأَمَرَ أَنْ يُوصِيَ لِوَالِدَيْهِ وَأَقَارِبِهِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ فَجَعَلَ لِلْوَالِدَيْنِ نَصِيبًا مَعْلُومًا وَأَلْحَقَ لِكُلِّ ذِي مِيرَاثٍ نَصِيبَهُ مِنْهُ وَلَيْسَتْ لَهُمْ وَصِيَّةٌ فَصَارَتْ الْوَصِيَّةُ لِمَنْ لَا يَرِثُ مِنْ قَرِيبٍ وَغَيْرِهِ

قتادہ کے بارے میں منقول ہے انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ جب کسی شخص کے پاس موت آجائے اور اگر وہ بھلائی (مال) چھوڑ کر جارہاہے تو اسے والدین اور قریبی رشتے داروں کے بارے میں مناسب طور پر وصیت کرنی چاہیے یہ پرہیز گاروں پر لازم ہے۔ قتادہ نے کہا یہ حکم دیا گیا کہ والدین اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کی جائے اس کے بعد اسے سورت نساء میں منسوخ کردیا گیا ہے اور والدین کے لئے طے شدہ حصہ ہے۔ اس لئے ورثاء کے بارے میں وصیت نہیں ہوسکتی۔ وصیت اس شخص کے بارے میں ہوگی جو وارث نہیں بنتا ہے خواہ وہ قریبی عزیز ہو یا دور کا عزیز۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3304

chevron_left Previous
1…91011…1,079
Next chevron_right