Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21566 hadiths

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 456

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ عَنْ زَمْعَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا قَالَ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا فَانْسَاقَ رَجُلَانِ إِلَى أَهْلَيْهِمَا فَكِلَاهُمَا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سفر سے واپسی پر شہر پہنچنے پر جب رات ہوجائے تو رات کے وقت کوئی اپنی بیوی کے پاس نہ جائے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قافلے کی شکل میں کسی سفر سے تشریف لائے تھے۔ دولوگ اپنے گھرچلے گئے تو ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی کے ساتھ ایک شخص کو پایا۔

لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ،

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 456

سنن دارمی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ باب · حديث 457

أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ الْمُعَرَّسَ ثُمَّ قَالَ لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا فَخَرَجَ رَجُلَانِ مِمَّنْ سَمِعَ مَقَالَتَهُ فَطَرَقَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو رات کے وقت پڑاؤ کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا کوئی بھی شخص رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس نہ جائے جن لوگوں نے آپ کی بات سنی تھی ان میں دو صاحبان نکلے اور اپنے گھرچلے گئے تو ان دونوں میں ہر ایک نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک شخص کو پایا۔

مَقَالَتَهُ فَطَرَقَا أَهْلَيْهِمَا فَوَجَدَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ← لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا فَخَرَجَ رَجُلَانِ مِمَّنْ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ الْمُعَرَّسَ ثُمَّ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · an introduction › Door · Hadith 457

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 785

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمُّ سُلَيْمٍ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْتَصِرًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ بَلْ أَنْتِ تَرِبَتْ يَدَاكِ إِنَّ خَيْرَكُنَّ الَّتِي تَسْأَلُ عَمَّا يَعْنِيهَا إِذَا رَأَتْ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَلِلنِّسَاءِ مَاءٌ قَالَ نَعَمْ فَأَنَّى يُشْبِهُهُنَّ الْوَلَدُ إِنَّمَا هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدہ ام سلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اس وقت ام سلمہ بھی آپ کے پاس موجود تھیں ام سلیم نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر کوئی عورت ویسا ہی خواب دیکھے جو مرد دیکھتے ہیں تو کیا حکم ہے ام سلمہ نے کہا تمہارا ستیا ناس ہو تم نے عورتوں کو شرمندہ کردیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلیم کی حمایت کرتے ہوئے فرمایا بلکہ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں سب سے بہتر عورت وہ ہے جوضروری مسائل کے بارے میں دریافت کرے۔ پھر آپ نے ام سلیم سے فرمایا اگر عورت کو منی نظر آجائے تو اسے غسل کرلینا چاہیے سیدہ ام سلمہ نے عرض کی کیا خواتین کی بھی منی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ورنہ بچہ ان سے مشابہہ کیسے ہوسکتا ہے وہ بھی اس بارے میں مردوں کے ساتھ شامل ہوتی ہیں۔

نَعَمْ فَأَنَّى يُشْبِهُهُنَّ الْوَلَدُ إِنَّمَا هُنَّ شَقَائِقُ الرِّجَالِ ← أُمُّ سَلَمَةَ وَلِلنِّسَاءِ مَاءٌ ← أُمُّ سَلَمَةَ تَرِبَتْ يَدَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَضَحْتِ النِّسَاءَ ← الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ ← عِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ ← دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أُمُّ سُلَيْمٍ ← أَنَسٍ، ← إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 785

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 816

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ امْرَأَةٌ كَانَ حَيْضُهَا مَعْلُومًا فَزَادَتْ عَلَيْهِ خَمْسَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ أَوْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قَالَ تُصَلِّي قُلْتُ يَوْمَيْنِ قَالَ ذَاكَ مِنْ حَيْضِهَا وَسَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ قَالَ النِّسَاءُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ

معتمر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے قتادہ سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا جس کے حیض کے ایام مخصوص ہوں اور پھر اس کے بعد پانچ چار یا تین دن تک (خون آتا رہے) انہوں نے جواب دیا وہ عورت نماز پڑھے گی میں نے دریافت کیا اگر دو دن ہوں؟ انہوں نے جواب دیا یہ اس کے حیض کا حصہ شمار ہوں گے۔ میں نے یہی سوال ابن سیرین سے کیا تو انہوں نے جواب دیا اس بارے میں خواتین زیادہ بہتر جانتی ہیں۔

أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 816

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 876

أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ فِي شَهْرٍ أَوْ فِي أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثَلَاثَ حِيَضٍ فَإِذَا شَهِدَ لَهَا الشُّهُودُ الْعُدُولُ مِنْ النِّسَاءِ أَنَّهَا رَأَتْ مَا يُحَرِّمُ عَلَيْهَا الصَّلَاةَ مِنْ طُمُوثِ النِّسَاءِ الَّذِي هُوَ الطَّمْثُ الْمَعْرُوفُ فَقَدْ خَلَا أَجَلُهَا قَالَ أَبُو مُحَمَّد سَمِعْت يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يَقُولُ أَسْتَحِبُّ الطُّهْرَ خَمْسَ عَشْرَةَ

ابراہیم نخعی فرماتے ہیں جب کسی عورت کو ایک ہی مہینے میں یا چالیس دن کے اندر تین مرتبہ حیض آ جائے تو اگر معتبر گواہ عورتیں اس عورت کے حق میں گواہی دیں کہ اس عورت نے وہ حیض دیکھا ہے جس کی وجہ سے نماز حرام ہوجاتی ہے اور جو خواتین کو آتا ہے وہ اس عورت کی عدت کی مدت پوری ہوجائے گی۔ امام دارمی فرماتے ہیں میں نے یزید بن ہاروں کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے میرے نزدیک طہر کی مدت پندرہ دن ہے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 876

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 879

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ كَانَتْ عَائِشَةُ تَنْهَى النِّسَاءَ أَنْ يَنْظُرْنَ لَيْلًا فِي الْمَحِيضِ وَتَقُولُ إِنَّهُ قَدْ يَكُونُ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ

عمرہ بیان کرتی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا عورتوں کو اس بات سے منع کرتی تھیں کہ وہ رات کو اٹھ کر حیض (یعنی خون) کے خروج کا جائزہ لیں اور یہ فرمایا کرتی تھیں بعض اوقات اس مواد کا رنگ زرد اور مٹیالا بھی ہوتا ہے۔

عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَقَ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 879

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 880

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مَوْلَاةِ عَمْرَةَ قَالَتْ كَانَتْ عَمْرَةُ تَأْمُرُ النِّسَاءَ أَنْ لَا يَغْتَسِلْنَ حَتَّى تَخْرُجَ الْقُطْنَةُ بَيْضَاءَ

یحییٰ بن سعید، عمرہ کی کنیز کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں عمرہ خواتین کو یہ ہدایت کرتی تھیں کہ وہ اس وقت تک غسل نہ کریں جب تک شرمگاہ میں پھیرنے کے بعد روئی سفید نہ نکلے۔

كَانَتْ عَمْرَةُ تَأْمُرُ النِّسَاءَ أَنْ لَا يَغْتَسِلْنَ حَتَّى تَخْرُجَ الْقُطْنَةُ بَيْضَاءَ ← مَوْلَاةِ عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 880

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1041

أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا عَنْ وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ لِمَ أَوْ بِمَ أَوْ فِيمَ قَالَ إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا مِنْ نَاقِصِي الدِّينِ وَالْعَقْلِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الْأَمْرِ عَلَى أَمْرِهِمْ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّهِ مَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا قَالَ جُعِلَتْ شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ قَالَ سُئِلَ مَا نُقْصَانُ دِينِهَا قَالَ تَمْكُثُ كَذَا وَكَذَا مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَا تُصَلِّي لِلَّهِ صَلَاةً

حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے فرمایا تھا تم صدقہ کیا کرو کیونکہ جہنم میں اکثریت تمہاری ہے تو ایک خاتون جو کسی بڑے خاندان سے تعلق نہیں رکھتی تھی نے عرض کی کیوں۔ کس وجہ سے یا کس لیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کیونکہ تم بکثرت لعنت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا دین اور عقل کے اعتبار سے ناقص لوگوں میں کوئی ایسا نہیں ہے جو عورتوں کی طرح عقل مند مردوں پر غالب آجائے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ان عورتوں کی عقل میں کیا کمی ہے تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر قرار دی گئی ہے ان سے سوال کیا گیا ان عورتوں کے دین میں کیا کمی ہے تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا وہ عورت حیض آنے پر کئی دن تک اللہ کی بارگاہ میں نماز ادا نہیں کرسکتی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← وائل بن مهانة ← ذَرًّا، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1041

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1078

أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِحَافٍ فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ قُلْتُ وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ قَالَ ذَاكَ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ قَالَتْ فَقُمْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي ثُمَّ رَجَعْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلِي فِي اللِّحَافِ فَدَخَلْتُ

سیدہ ام سلمہ بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم کے ہمراہ ایک لحاف میں لیٹی ہوئی تھی میں نے وہی صورت پائی جو خواتین پاتی ہیں میں اٹھ کھڑی ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تمہیں کیا ہوا کیا تمہیں حیض آگیا ہے ؟ میں نے عرض کی میں نے وہی صورت پائی ہے جو خواتین پاتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ چیز ہے جو اللہ نے حضرت آدم کی بیٹیوں کا مقدر کردی ہے سیدہ ام سلمہ بیان کرتی ہیں میں اٹھی میں نے اپنا معاملہ درست کیا اور واپس آگئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لحاف کے اندر آجاؤ تو میں آگئی۔

فَقُمْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي ثُمَّ رَجَعْتُ ← اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ ← ذَاكَ مَا ← رَسُولُ اللَّهِ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ قُلْتُ وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ ← كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي لِحَافٍ فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ فَقُمْتُ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1078

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1153

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ ابْنِ سَابِطٍ قَالَ سَأَلْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ قُلْتُ لَهَا إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْهُ قَالَتْ سَلْ يَا ابْنَ أَخِي عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ أَسْأَلُكِ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ فَقَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ الْأَنْصَارُ لَا تُجَبِّي وَكَانَتْ الْمُهَاجِرُونَ تُجَبِّي فَتَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَبَّاهَا فَأَبَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ فَأَتَتْ أُمَّ سَلَمَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحْيَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ وَخَرَجَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُوهَا لِي فَدُعِيَتْ لَهُ فَقَالَ لَهَا نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكَمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سِمَامًا وَاحِدًا وَالسِّمَامُ السَّبِيلُ الْوَاحِدُ

ابن سابط بیان کرتے ہیں میں نے حفصہ بنت عبدالرحمن یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں سے سوال کیا میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے وہ سوال کرتے ہوئے شرم آتی ہے سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن نے فرمایا اے بھتیجے تم نے جو سوال کرنا ہے کرو۔ ابن سابط نے کہا میں آپ سے عورتوں کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں تو سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن نے بتایا مجھے سیدہ ام سلمہ نے یہ بات بتائی ہے انصاری (اپنی بیویوں کو) الٹا نہیں لٹاتے تھے جبکہ مہاجرین ایسا کیا کرتے تھے۔ ایک مہاجر نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی اسے الٹا لٹایا تو اس نے انکار کردیا پھر وہ انصاری خاتون سیدہ ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس بات کا تذکرہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس انصاری خاتون کو حیاء آگئی اور وہ چلی گئی۔ سیدہ ام سلمہ نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس بلاؤ اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ "تمہاری عورتیں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آ سکتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحبت کرنے کا مقام ایک ہی ہے۔ (امام محمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ سمام سے مراد راستہ ہے۔

ابْنِ سَابِطٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1153

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1161

أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَصْنَعُونَ فِي الْحَائِضِ نَحْوًا مِنْ صَنِيعِ الْمَجُوسِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَلَمْ يَزْدَدْ الْأَمْرُ فِيهِنَّ إِلَّا شِدَّةً

عکرمہ بیان کرتے ہیں زمانہ جاہلیت میں لوگ حائضہ عورت کے ساتھ وہی سلوک کرتے تھے جو مجوسی کیا کرتے تھے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ لوگ تم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم جواب دو وہ ناپاکی ہے حیض کے دوران عورتوں سے جنسی طور پر الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ عکرمہ کہتے ہیں تو ان خواتین کے بارے میں سختی میں اضافہ ہوگیا۔

ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ ← كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَصْنَعُونَ فِي الْحَائِضِ نَحْوًا مِنْ صَنِيعِ الْمَجُوسِ ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1161

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1169

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَهُوَ مِنْ الْمَرْأَةِ مِثْلُهُ مِنْ الرَّجُلِ ثُمَّ تَلَا وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ اللَّهُ أَنْ تَعْتَزِلُوهُنَّ فِي الْمَحِيضِ الْفَرْجَ ثُمَّ تَلَا نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ قَائِمَةً وَقَاعِدَةً وَمُقْبِلَةً وَمُدْبِرَةً فِي الْفَرْجِ

مجاہد فرماتے ہیں جو شخص عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرے اس نے گویا کسی مرد کے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ لوگ تم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم جواب دو یہ ناپاکی ہے حیض کے دوران عورتوں سے جنسی تعلق کے اعتبار سے الگ رہو۔ اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں تو ان کے قریب نہ جاؤ جب وہ اچھی طرح پاک ہوجائیں تو جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کےساتھ صحبت کرو۔ مجاہد فرماتے ہیں حیض کے دوران ان سے الگ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی اگلی شرمگاہوں میں صحبت نہ کرو۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ۔ اس کی وضاحت مجاہد نے یوں بیان کی ہے خواہ وہ عورت کھڑی ہو خواہ وہ بیٹھی ہو خواہ تمہاری طرف منہ کرے خواہ تمہاری طرف پیٹھ کرے لیکن صحبت فرج یعنی اگلی شرمگاہ میں کی جائے گی۔

مُجَاهِدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1169

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1171

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ عَنْ أَبِي الْقَعْقَاعِ الْجَرْمِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ آتِي امْرَأَتِي حَيْثُ شِئْتُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَمِنْ أَيْنَ شِئْتُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَكَيْفَ شِئْتُ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ السُّوءَ قَالَ لَا مَحَاشُّ النِّسَاءِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهِ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوقعقاع جرمی بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا اے ابوعبدالرحمن میں اپنی بیوی کے ساتھ جیسے چاہوں صحبت کرسکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا ہاں اس شخص نے سوال کیا اور جہاں چاہوں صحبت کرسکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا ہاں اس نے سوال کیا جس طرح چاہوں۔ حضرت عبداللہ نے جواب دیا ہاں تو ایک شخص نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن اس شخص کا مطلب غلط ہے تو حضرت عبداللہ نے فرمایا نہیں عورتوں کی پچھلی شرمگاہیں تمہارے لئے حرام ہیں۔ امام محمد دارمی سے سوال کیا گیا آپ بھی اس بات کے قائل ہیں انہوں نے جواب دیا ہاں۔

نَعَمْ ← لَا مَحَاشُّ النِّسَاءِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهِ ← لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ السُّوءَ ← نَعَمْ ← وَكَيْفَ شِئْتُ ← نَعَمْ ← وَمِنْ أَيْنَ شِئْتُ ← نَعَمْ ← يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ آتِي امْرَأَتِي حَيْثُ شِئْتُ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الْقَعْقَاعِ الْجَرْمِيِّ، ← أَبِي عَبْدِ اللهِ الشَّقَرِيِّ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1171

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1175

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَتَوَضَّأْ ثُمَّ يُصَلِّي وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ عَلِيُّ بْنُ طَلْقٍ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ نَعَمْ

حضرت علی بن طلق روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب نماز کے دوران کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے اور وہ جا کر وضو کرے اور پھر وہیں سے نماز پڑھنا شروع کردے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے عورتوں کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو بے شک اللہ حق بیان کرنے سے حیاء نہیں کرتا۔ امام محمد عبداللہ درامی سے سوال کیا گیا حضرت علی بن طلق کو شرف صحبت حاصل ہے۔ یعنی وہ صحابی رسول ہے) تو انہوں نے جواب ہاں۔

عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ ← مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ الْحَنَفِيِّ ← عِيسَى بْنِ حِطَّانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1175

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1177

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِي حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَذَاكَرْنَا شَأْنَ النِّسَاءِ فِي مَجْلِسِ بَنِي وَاقِفٍ وَمَا يُؤْتَى مِنْهُنَّ فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ

ھرمی بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ہم بنو واقف کی ایک محفل میں خواتین اور ان سے صحبت کرنے کے طریقے کے بارے میں گفتگو کررہے تھے تو حضرت خزیمہ بن ثابت نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا عورتوں کے ساتھ ان کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو۔

رَسُولِ اللَّهِ ← خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ ← تَذَاكَرْنَا شَأْنَ النِّسَاءِ فِي مَجْلِسِ بَنِي وَاقِفٍ وَمَا يُؤْتَى مِنْهُنَّ ← هَرَمِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ الْأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1177

Sahih

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1178

أَخبَرَنَا المُعَلَّی بنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبدُالوَاحِدِ حَدَثَنَا خُصِیفٌ عَن مُجَاھِدً قَالَ: کَانُوا یَجتَنِبُونَ النِّسَاءَ فِی المَحِیضِ وَیَأ تُو نَھُنَّ فِی أَدبَارِ ھِنَّ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللہِﷺ عَن ذٰلِکَ فَأَنزَلَ اللہُ تَعَالَی وَیَسأَلُونَکَ عَنِ المَحِیضِ قُل ھُوَ أَذًی فَاعتَزِ لَوا النِّسَاءِ فِی المَحِیضِ وَلَا تَفرَبُوھُنَّ حَتّٰی یَطھُرنَ فَاِذَا تَطَھَّرُنَ فَأَتُوھُنَّ مِن حَیثُ أَمَرَکُم اللہُ) فِی الفَرجِ وَلَا تَعدُوہُ۔

مجاہد بیان کرتے ہیں لوگ حیض کے دوران عورتوں سے صحبت کرنے سے اجتناب کرتے تھے اور ان کی پچھلی شرمگاہوں میں صحبت کرلیا کرتے تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ "لوگ تم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم فرما دو یہ ناپاکی ہے حیض کے دوران صحبت سے عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ جب وہ اچھی طرح پاک ہوجائیں جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی ہے ان کے ساتھ صحبت کرنے کی۔ مجاہد فرماتے ہیں ان کی اگلی شرمگاہوں میں صحبت کی جائے گی اس کے علاوہ نہیں۔

مُجَاهِدٍ ← خُصَيْفٍ ← عبدالواحد ← الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1178

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1179

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ طَاوُسٍ وَسَعِيدٍ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْكِرُونَ إِتْيَانَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ وَيَقُولُونَ هُوَ الْكُفْرُ

طاؤس، سعید، مجاہد اور عطا عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے کا انکار کرتے تھے اور اسے کفر قرار دیتے تھے۔

أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنِ إِسْحَقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1179

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1246

أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعِشَاءِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَدْ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي يَوْمَئِذٍ غَيْرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کردی یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب نے بلند آواز سے عرض کی خواتین اور بچے سو چکے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا اس وقت روئے زمین میں تمہارے علاوہ اور کوئی اس نماز کو ادا نہیں کرے گا (سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں) اس زمانے میں مدینہ منورہ کےعلاوہ کہیں بھی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1246

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1248

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ح وَابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقِّهِ وَهُوَ يَقُولُ هُوَ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء ادا کرنے میں تاخیر کردی عرض کی گئی یارسول اللہ! خواتین اور بچے سو چکے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ اپنے پہلو سے پانی پونچھ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا خیال نہ ہوتا تو (عشاء کی نماز) کا یہی وقت ہوتا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← وَابْنُ جُرَيْجٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1248

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1302

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا

حضرت ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مردوں کی سب سے بہتر صف سب سے پہلی صف ہے اور سب سے کم بہتر صف سب سے آخری صف ہے اور عورتوں کی سب سے بہتر صف سب سے آخری صف ہے اور سب سے کم بہتر صف سب سے پہلی صف ہے۔

خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1302

chevron_left Previous
1…789…1,079
Next chevron_right