Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21806 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10863

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10863

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10990

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الطُّفَاوَةِ قَالَ نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَلَمْ أُدْرِكْ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَشَدَّ تَشْمِيرًا وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ فَبَيْنَمَا أَنَا عِنْدَهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ وَأَسْفَلَ مِنْهُ جَارِيَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ وَمَعَهُ كِيسٌ فِيهِ حَصًى وَنَوًى يَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ حَتَّى إِذَا أَنْفَذَ مَا فِي الْكِيسِ أَلْقَاهُ إِلَيْهَا فَجَمَعَتْهُ فَجَعَلَتْهُ فِي الْكِيسِ ثُمَّ دَفَعَتْهُ إِلَيْهِ فَقَالَ لِي أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَإِنِّي بَيْنَمَا أَنَا أُوعَكُ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّ مَنْ أَحَسَّ الْفَتَى الدَّوْسِيَّ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ هُوَ ذَاكَ يُوعَكُ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيَّ وَقَالَ لِي مَعْرُوفًا فَقُمْتُ فَانْطَلَقَ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ إِنْ نَسَّانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحْ الْقَوْمُ وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْسَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ مَجَالِسَكُمْ هَلْ مِنْكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَغْلَقَ بَابَهُ وَأَرْخَى سِتْرَهُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُحَدِّثُ فَيَقُولُ فَعَلْتُ بِأَهْلِي كَذَا وَفَعَلْتُ بِأَهْلِي كَذَا فَسَكَتُوا فَأَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تُحَدِّثُ فَجَثَتْ فَتَاةٌ كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا وَتَطَاوَلَتْ لِيَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَسْمَعَ كَلَامَهَا فَقَالَتْ إِي وَاللَّهِ إِنَّهُمْ لَيُحَدِّثُونَ وَإِنَّهُنَّ لَيُحَدِّثْنَ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ إِنَّ مَثَلَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مَثَلُ شَيْطَانٍ وَشَيْطَانَةٍ لَقِيَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ بِالسِّكَّةِ قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ قَالَ وَذَكَرَ ثَالِثَةً فَنَسِيتُهَا أَلَا إِنَّ طِيبَ الرَّجُلِ مَا وُجِدَ رِيحُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ لَوْنُهُ أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَلَمْ يُوجَدْ رِيحُهُ

ابی نضرہ سے روایت ہے کہ مجھ سے طفاوہ کے ایک شخص نے بیان کیا کہ میں مدینہ منورہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان ہوا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے عبادت اور مہمان نوازی میں اس قدر مستعد کسی کو نہیں دیکھا کہ جس قدر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا میں ایک روز ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ابوہریرہ ایک تخت پر تشریف فرماتھے ایک تھیلی (ہاتھ میں) لئے ہوئے کہ جس میں کنکریاں گٹھلیاں بھری ہوئی تھیں اور نیچے ایک سیاہ رنگ کی باندی بیٹھی ہوئی تھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کنکریوں یا گٹھلیوں پر سبحان اللہ پڑھتے تھے جب تمام کنکریاں ختم ہوجاتی تو وہ باندی ان کو جمع کرکے پھر ان کو تھیلی میں ڈال دیتی اور ان کو اٹھا کر دے دیتی (پھروہ ان کنکریوں پر تسبیح پڑھنا شروع کردیتے) انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں اپنی حالت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک نہ بیان کروں ؟ میں نے کہا ضرور انہوں انہوں نے فرمایا ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں بخار میں تپ رہا تھا کہ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (قبیلہ) دوس کے نوجوان شخص کو کسی شخص نے دیکھاہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ یہی فرمایا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ! (محبت و شفقت سے) اپنا دست مبارک مجھ پر پھیرا اور پیار سے گفتگو فرمائی میں اٹھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر پہنچے کہ جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی جانب چہرہ انور فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مردوں کی دو صفیں تھیں اور ایک صف خواتین کی تھی یا خواتین کی دو صفیں تھیں اور ایک صف مردوں کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے شیطان نماز میں بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور خواتین ہاتھ پر ہاتھ ماریں راوی نے بیان کیا کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جگہ بھول نہیں ہوئی اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمام حضرات اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہو کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص ہے کہ جو اپنی بیوی کے پاس پہنچ کر دروازہ بند کرلیتا ہے اور وہاں پردہ ڈال لیتا ہے پھر باہر نکل کر لوگوں کے سامنے خلوت کی باتیں بیان کرتا ہے؟ لوگ یہ بات سن کر خاموش ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی جانب مخاطب ہوئے اور ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی ایسی خاتون ہے جو دوسری خاتون سے ایسی ایسی باتیں نقل کرتی ہو (یعنی شوہر کے جماع کرنے کی کیفیت بیان کرتی ہو) یہ سن کر خواتین خاموش رہیں اتنے میں ایک خاتون نے گھٹنے زمین پر رکھ کر خود کو اونچا کیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیں اور اس کی بات سن لیں اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرد بھی اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں اور خواتین بھی اس بات کا تذکرہ کرتی ہیں (یعنی مرد بھی ایسے ہیں کہ جو بیوی سے جماع کی کیفیت کو دوسروں سے بیان کرتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم لوگ واقف ہو کہ اس بات کی کیا مثال ہے؟ اس کی مثال یہ ہے کہ شیطان کسی شیطانہ سے راستہ میں ملاقات کرے اور اس سے اپنی خواہش نفسانی پوری کرے اور لوگ اس کو دیکھ رہے ہیں باخبر ہوجاؤ کہ مردوں کی خوشبو یہ ہے کہ اس کی خوشبو معلوم ہو اور اس کا رنگ معلوم نہ ہو اور خواتین کی خوشبو وہ ہے کہ جس کا رنگ معلوم ہو لیکن اس کی خوشبو معلوم نہ ہو۔

رَجُلٍ مِنْ الطُّفَاوَةِ ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10990

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11007

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذِهِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فِي الْمَجْلِسِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمْ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقُولُوا اللَّهُ أَكْبَرُ وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ وَإِنَّ خَيْرَ الصُّفُوفِ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس سے اللہ گناہوں کو معاف فرمادے اور نیکیوں میں اضافہ فرمادے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا مشقت کے باوجود وضو مکمل کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو شخص بھی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلے اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرے، پھر مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرے تو فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ! اسے معاف فرمادے، اے اللہ! اس پر رحم فرمادے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11007

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11138

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ وَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ إِذَا سَجَدْتُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف پہلی اور سب سے کم ترین صف آخری ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین آخری اور سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے، اے گروہ خواتین! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نگاہیں پست رکھا کرو ، اور تہبند کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہوں کو نہ دیکھا کرو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11138

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11160

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ حَفِظَهَا مِنَّا مَنْ حَفِظَهَا وَنَسِيَهَا مِنَّا مَنْ نَسِيَهَا فَحَمِدَ اللَّهَ قَالَ عَفَّانُ وَقَالَ حَمَّادٌ وَأَكْثَرُ حِفْظِي أَنَّهُ قَالَ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى مِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا أَلَا إِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ تُوقَدُ فِي جَوْفِ ابْنِ آدَمَ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَالْأَرْضَ الْأَرْضَ أَلَا إِنَّ خَيْرَ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ بَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الرِّضَا وَشَرَّ الرِّجَالِ مَنْ كَانَ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الرِّضَا فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ وَسَرِيعَ الْغَضَبِ وَسَرِيعَ الْفَيْءِ فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ خَيْرَ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ وَشَرَّ التُّجَّارِ مَنْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ أَوْ كَانَ سَيِّئَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ فَإِنَّهَا بِهَا أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ أَلَا وَأَكْبَرُ الْغَدْرِ غَدْرُ أَمِيرِ عَامَّةٍ أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا مَهَابَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا عَلِمَهُ أَلَا إِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ قَالَ أَلَا إِنَّ مِثْلَ مَا بَقِيَ مِنْ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل خطبہ ارشاد فرمایا جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا ، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا اما بعد ! دنیا سر سبز وشاداب اور شریں ہے ، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو ؟ یاد رکھو! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو ، اور یاد رکھو! کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں ، مؤمن ہو کر زندہ رہتے ہیں او رمؤمن ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں ، کافر ہو کر زندگی گذار تے ہیں اور کافر ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں مؤمن ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور کافر ہو کر مرتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور مؤمن ہو کر مرجاتے ہیں ۔ یاد رکھو! غصہ ایک چنگاری ہے جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے ، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور رگوں کا پھول جانا ہی دیکھ لو ، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے تو وہ زمین پر لیٹ جائے یاد رکھو! بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور وہ جلدی راضی ہو جائے، اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور وہ دیر سے راضی ہو ، اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر ہی سے جائے یاجلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے ۔ یاد رکھو! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض اداء کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے ، اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اسی انداز میں مطالبہ کرے ، اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے ۔ قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا ، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہو ، یاد رکھو! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جبکہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو ، یاد رکھو! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے ، پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! دنیا کی جتنی عمر گزر گئی ہے ، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت سے جو آج اسے گزرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت کی ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يزيد بن هارون وعَفَّان

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11160

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11186

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا لِيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاءِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ فِي حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ فَقَالَ لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ وَقَالَ مَرَّةً لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ أَوْ الْمَلَكِ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَحَدَّثَنَاهُ عَفَّانُ قَالَ الْمَلِكُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ تُقْتَلُ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذُرِّيَّتُهُمْ وَقَالَ قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا سرسبز و شاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سرانجام دیتے ہو؟ یاد رکھو! دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، کیوں کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلی آزمائش عورت ہی کے ذریعے سے ہوئی تھی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ بنو قریظہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے رضامندی ظاہر کردی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ اپنی سواری پر سوار ہو کر آئے، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے سردارکا کھڑے ہو کر استقبال کرو، پھر ان سے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں ) انہوں نے عرض کیا کہ آپ ان کے جنگجو افراد کو قتل کروادیں ، اور ان کے بچوں کو قیدی بنالیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ تم نے وہی فیصلہ کیا جو اللہ کا فیصلہ ہے گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبَا نَضْرَةَ ← اَبِیْ مَسْلَمَۃَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11186

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11316

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَأْتِيكَ فِيهِ فَوَاعَدَهُنَّ مِيعَادًا فَأَمَرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَقَالَ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ أَوْ اثْنَانِ فَإِنَّهُ مَاتَ لِي اثْنَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ اثْنَانِ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ خواتین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی مجلس میں شرکت کے حوالے سے مرد ہم پر غالب ہیں ، آپ ہمارے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کے پاس آسکیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک مقررہ وقت کا وعدہ فرمالیا اور وہاں انہیں وعظ نصیحت فرمائی، اور فرمایا کہ تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوجائیں ، وہ اس کے لئے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے، ایک عورت نے پوچھا کہ اگر دوہوں تو کیا حکم ہے؟ کہ میرے دوبچے فوت ہوئے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے.

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ ← ذَكْوَانَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11316

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11335

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ فِي الْفِطْرِ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَتَقَدَّمُ فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَيَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَكَانَ أَكْثَرَ مَا يَتَصَدَّقُ مِنْ النَّاسِ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَالْخَاتَمِ وَالشَّيْءِ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْبَعْثِ ذَكَرَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ انْصَرَفَ حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ فَذَكَرَهُ قَالَ وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ وَإِلَّا انْصَرَفَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عیدگاہ کے لئے ) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں ، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11335

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11401

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ يَوْمَ الْفِطْرِ صَلَّى بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَامَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَبِالْخَاتَمِ وَبِالشَّيْءِ فَإِنْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةٌ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ لَهُمْ وَإِلَّا انْصَرَفَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے ) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر سلام پھیر کر کھڑے ہوجاتے اور آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ کر دیا کرتی تھیں ، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرمادیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ*، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11401

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11446

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الْإِيَادِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا فَقَالَ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَاتَّقُوهَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تُعْرَفَانِ وَامْرَأَةً قَصِيرَةً لَا تُعْرَفُ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ الْمِسْكِ وَجَعَلَتْ لَهُ غَلَقًا فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَلَإِ أَوْ بِالْمَجْلِسِ قَالَتْ بِهِ فَفَتَحَتْهُ فَفَاحَ رِيحُهُ قَالَ الْمُسْتَمِرُّ بِخِنْصَرِهِ الْيُسْرَى فَأَشْخَصَهَا دُونَ أَصَابِعِهِ الثَّلَاثِ شَيْئًا وَقَبَضَ الثَّلَاثَةَ

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا دنیا بڑی سر سبز و شاداب اور شیریں ہے، لہٰذا اس سے اور عورتوں سے بچو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کی تین عورتوں کا ذکر کیا جن میں سے دو کا قد اتنا لمبا تھا کہ دور سے ہی پہچان لی جاتی تھیں اور ایک ٹھگنے قد کی تھی، اس نے (اپنا قد اونچا کرنے کے لئے ) لکڑی کی دو مصنوعی ٹانگیں بنوا لیں ، اب جب وہ چلتی تو اس کے دائیں بائیں کی عورتیں چھوٹی لگتیں، پھر اس نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے نگینے کے نیچے سب سے بہترین خوشبو مشک بھر دی، اب جب بھی وہ کسی مجلس سے گذرتی تو اپنی انگوٹھی کو حرکت دیتی اور وہاں اس کی خوشبو پھیل جاتی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ ← الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ الْإِيَادِيُّ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11446

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11528

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عِيَاضٌ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ قَالَ يَحْيَى لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ فَيَقُومُ قَائِمًا فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ وَيَقُولُ تَصَدَّقُوا فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِالْخَاتَمِ وَالْقُرْطِ وَالشَّيْءِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَ أَنْ يَضَعَ بَعْثًا تَكَلَّمَ وَإِلَّا انْصَرَفَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے ) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرما لیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ دیا کرتی تھیں ، پھر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما دیتے، ورنہ چلے جاتے۔

عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِالْخَاتَمِ وَالْقُرْطِ وَالشَّيْءِ ← تَصَدَّقُوا فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ← الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ فَيَقُومُ قَائِمًا فَيَسْتَقْبِلُ النَّاسَ بِوَجْهِهِ ← يحيى لا أعلمه إلا ← كَانَ النَّبِيُّ يَخْرُجُ يَوْمَ الْعِيدِ ← أَبُو سَعِيدٍ ← عِيَاضٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11528

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 11608

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ذَاتَ يَوْمٍ بِنَهَارٍ ثُمَّ قَامَ يَخْطُبُنَا إِلَى أَنْ غَابَتْ الشَّمْسُ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا مِمَّا يَكُونُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا حَدَّثَنَاهُ حَفِظَ ذَلِكَ مَنْ حَفِظَ وَنَسِيَ ذَلِكَ مَنْ نَسِيَ وَكَانَ فِيمَا قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ أَلَا إِنَّ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ يُنْصَبُ عِنْدَ اسْتِهِ يُجْزَى بِهِ وَلَا غَادِرَ أَعْظَمُ مِنْ أَمِيرِ عَامَّةٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْأَخْلَاقَ فَقَالَ يَكُونُ الرَّجُلُ سَرِيعَ الْغَضَبِ قَرِيبَ الْفَيْئَةِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ وَيَكُونُ بَطِيءَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْئَةِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ فَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْئَةِ وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْئَةِ قَالَ وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ تَتَوَقَّدُ أَلَمْ تَرَوْا إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَجْلِسْ أَوْ قَالَ فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ الْمُطَالَبَةَ فَقَالَ يَكُونُ الرَّجُلُ حَسَنَ الطَّلَبِ سَيِّئَ الْقَضَاءِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ وَيَكُونُ حَسَنَ الْقَضَاءِ سَيِّئَ الطَّلَبِ فَهَذِهِ بِهَذِهِ فَخَيْرُهُمْ الْحَسَنُ الطَّلَبِ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ وَشَرُّهُمْ السَّيِّئُ الطَّلَبِ السَّيِّئُ الْقَضَاءِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ النَّاسَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ فَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيَعِيشُ مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا وَيُولَدُ الرَّجُلُ كَافِرًا وَيَعِيشُ كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا ثُمَّ قَالَ فِي حَدِيثِهِ وَمَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ عَدْلٍ تُقَالُ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ فَلَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ اتِّقَاءُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِالْحَقِّ إِذَا رَآهُ أَوْ شَهِدَهُ ثُمَّ بَكَى أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ مَنَعَنَا ذَلِكَ قَالَ وَإِنَّكُمْ تُتِمُّونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ ثُمَّ دَنَتْ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ فَقَالَ وَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنْ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ عصر پڑھائی اور اس کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک مسلسل قیامت تک پیش آنے والے حالات بیان کرتے ہوئے خطبہ ارشاد فرمایا: جس نے اسے یاد رکھ لیا سو رکھ لیا اور جو بھول گیا سو بھول گیا، اس خطبے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدو ثناء کرنے کے بعد منجملہ دیگر باتوں کے یہ بھی فرمایا لوگو! دنیا سرسبز وشاداب اور شیریں ہے، اللہ تمہیں اس میں خلافت عطاء فرما کر دیکھے گا کہ تم کیا اعمال سر انجام دیتے ہو؟ دنیا اور عورت سے ڈرتے رہو، یاد رکھو! قیامت کے دن ہر دھوکے باز کا اس کے دھوکے بازی کے بقدر ایک جھنڈا ہوگا، یاد رکھو سب سے زیادہ بڑا دھوکہ اس آدمی کا ہوگا جو پورے ملک کا عمومی حکمران ہوگا، بہترین آدمی وہ ہے جسے دیر سے غصہ آئے اور جلدی راضی ہوجائے، اور بدترین آدمی وہ ہے جسے جلدی غصہ آئے اور دیر سے راضی ہو، اور جب آدمی کو غصہ دیر سے آئے اور دیر سے ہی جائے، یا جلدی آئے اور جلدی ہی چلا جائے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر اخلاق کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ غصہ ایک چنگاری ہے، جو ابن آدم کے پیٹ میں سلگتی ہے، تم غصے کے وقت اس کی آنکھوں کا سرخ ہونا اور اس کی رگوں کا پھول جاناہی دیکھ لو، جب تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے وہ زمین پر لیٹ جائے۔ یاد رکھو! بہترین تاجر وہ ہے جو عمدہ انداز میں قرض ادا کرے اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے، اور بدترین تاجر وہ ہے جو بھونڈے انداز میں ادا کرے اور اس انداز میں مطالبہ کرے، اور اگر کوئی آدمی عمدہ انداز میں ادا اور بھونڈے انداز میں مطالبہ کرے یا بھونڈے انداز میں ادا اور عمدہ انداز میں مطالبہ کرے تو یہ اس کے حق میں برابر ہے۔ پھر فرمایا کہ بنی آدم کی پیدائش مختلف درجات میں ہوئی ہے، چنانچہ بعض تو ایسے ہیں جو مؤمن پیدا ہوتے ہیں ، مومن ہو کر زندہ رہتے ہیں اور مومن ہو کر ہی مرجاتے ہیں ، بعض کافر پیدا ہوتے ہیں ، کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہی ہو کر مرجاتے ہیں ، بعض ایسے ہیں جو مومن پیدا ہوتے ہیں مومن ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور کافر ہو کر مرجاتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو کافر پیدا ہوتے ہیں کافر ہو کر زندگی گذارتے ہیں اور مومن ہو کر مرجاتے ہیں ۔ یاد رکھو! سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے، یاد رکھو! کسی شخص کو لوگوں کا رعب و دبدبہ کلمہ حق کہنے سے روکے جب کہ وہ اسے اچھی طرح معلوم بھی ہو۔ پھر جب غروب شمس کا وقت قریب آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! دنیا کی جتنی عمر گذر گئی ہے، بقیہ عمر کی اس کے ساتھ وہی نسبت ہے جو آج اسے گذرے ہوئے دن کے ساتھ اس وقت ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 11608

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14287

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا وَكَبُرَ عَلَيْنَا فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي لَفَعَلْتُ مِثْلَ مَا تَفْعَلُونَ فَفَعَلْنَا حَتَّى وَطِئْنَا النِّسَاءَ مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّى إِذَا كَانَ عَشِيَّةُ التَّرْوِيَةِ أَوْ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ جَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرٍ وَلَبَّيْنَا بِالْحَجِّ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم لوگ ذی الحجہ کی چار تاریخ کو گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ سے حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ کا احرام بنا لیں اس پر ہمارے دل کچھ بوجھل ہوئے اور یہ بات ہمیں بری محسوس ہوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ لوگو احرام کھول کر حلال ہوجاؤ اگر میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور نہ لایا ہوتا تو یہی کرتا جو تم کرو گے چنانچہ ہم نے ایساہی کیا حتی کہ ہم نے اپنی عورتوں سے بھی وہی کیا جو غیر محرم کرسکتا ہے یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی شام یا دن ہوا تو ہم نے مکہ مکرمہ کو اپنی پشت پر رکھا اور حج کاتلبیہ پڑھ کر روانہ ہوئے۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14287

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14319

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نَتَمَتَّعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حَتَّى نَهَانَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخِيرًا يَعْنِي النِّسَاءَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے دور میں عورتوں سے متعہ کیا کرتے تھے حتی کہ بعد میں حضرت عمر نے اس کی ممانعت فرمائی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← إِسْحَاقُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14319

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14355

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ نُبَيْحٍ عَنْ جَابِرٍ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کے وقت شہر میں داخل ہو کر بلا اطلاع اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے لیکن ان کے بعد ہم اس طرح کرنے لگے۔

جَابِرٍ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ ← نُبَيْحٍ، ← الْأَسْوَدِ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14355

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14380

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَنَا ثُمَّ نَزَلَ فَمَشَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا إِلَى بِلَالٍ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان واقامت کے نماز پڑھائی نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہونے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ ونصیحت فرمائی اس دوران آپ کے ساتھ حضرت بلال بھی تھے دوسرا کوئی نہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال کے حوالے کرنے لگیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← عَطَاءٍ، ← حجاج، ← نَصْرُ بْنُ بَابٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14380

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14422

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ قَالَ ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى قَوْسٍ قَالَ ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَخَطَبَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَ فَجَعَلْنَ يَطْرَحْنَ الْقِرَطَةَ وَالْخَوَاتِيمَ وَالْحُلِيَّ إِلَى بِلَالٍ قَالَ وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان واقامت کے نماز پڑھائی نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہونے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ ونصیحت فرمائی اس دوران آپ کے ساتھ حضرت بلال بھی تھے دوسرا کوئی نہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال کے حوالے کرنے لگیں۔

وَلَمْ يُصَلِّ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا ← فَجَعَلْنَ يَطْرَحْنَ الْقِرَطَةَ وَالْخَوَاتِيمَ وَالْحُلِيَّ إِلَى بِلَالٍ ← ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ فَخَطَبَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ ← ثُمَّ خَطَبَ الرِّجَالَ وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى قَوْسٍ ← بَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14422

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14423

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ہمارے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے بچوں کی طرف سے ہم نے تلبیہ پڑھا اور کنکریاں بھی ہم نے ماری تھیں۔

حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَشْعَثَ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14423

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14473

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ شَهِدْتُ الصَّلَاةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ وَحَثَّهُمْ عَلَى طَاعَتِهِ ثُمَّ مَضَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَوَعَظَهُنَّ وَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَحَثَّهُنَّ عَلَى طَاعَتِهِ ثُمَّ قَالَ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَكْثَرَكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ سَفَلَةِ النِّسَاءِ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ فَجَعَلْنَ يَنْزِعْنَ حُلِيَّهُنَّ وَقَلَائِدَهُنَّ وَقِرَطَتَهُنَّ وَخَوَاتِيمَهُنَّ يَقْذِفْنَ بِهِ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ يَتَصَدَّقْنَ بِهِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عیدالفطر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا انہوں نے بغیر اذان واقامت کے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی نماز کے بعد آپ نے حضرت بلال کے ہاتھوں پر ٹیک لگائی اور کھڑے ہو کر خطبہ دینے لگے اللہ کی حمد و ثناء بیان کی لوگوں کو وعظ ونصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی پھر حضرت بلال کو ساتھ لے کر عورتوں کی طرف گئے اور وہاں بھی اللہ کی حمدوثناء بیان کی انہیں وعظ ونصیحت کی اور انہیں اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی اور فرمایا کہ تم صدقہ کیا کرو کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے ایک نچلے درجے کی دھنسے ہوئے رخساروں والی عورت نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس لے کہ تم شکوہ بہت زیادہ کرتی ہو اپنے خاوند کی ناشکری بہت کرتی ہویہ سن کر عورتیں اپنے زیور، ہار، بالیاں اور انگھوٹھیاں اتاراتار کر حضرت بلال کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14473

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14605

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین آخری صف ہوتی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سے سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری ہوتی ہے۔

خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ. ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14605

chevron_left Previous
1…171819…1,091
Next chevron_right