Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21806 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14709

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَنْسَانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر شیطان مجھے نماز کا کوئی کام بھلا دے تو مردوں کوسبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آوازیں میں تالی بجانی چاہیے۔

إِذَا أَنْسَانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14709

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1902

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ فِي الْعِيدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعْ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءَ

It was narrated from Ibn 'Abbas; I bear witness that the Messenger of Allah (PBUH) prayed before the khutbah on Eid, then he delivered the khutbah. And he thought that the women had not heard, so he went over to them and reminded them (of Allah) and exhorted them and enjoined them to give in charity, and the women started giving their earrings, rings and things.

عَطَاءٍ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1902

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1926

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا حَتَّى ذَهَبَ مِنْ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَذِهِ السَّاعَةَ

It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (PBUH) delayed 'Isha' until as much of the night as Allah willed had passed. Then 'Umar said to him; O Messenger of Allah, the women and children have gone to sleep. He came out and said; "Were it not that it would be too difficult for my ummah, I would have enjoined them to pray at this hour."

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1926

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14809

حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا عَنْ التَّصْفِيقِ وَالتَّسْبِيحِ قَالَ جَابِرٌ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ

ابوالزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے تسبیح اور تصفیق کامسئلہ پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے کہ نماز میں سبحان اللہ کہنے کا حکم مردوں کے لئے ہے اور ہلکی آواز میں تالی بجانے کا حکم خواتین کے لئے ہے۔

التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← التَّصْفِيقِ وَالتَّسْبِيحِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُوسَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14809

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1967

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ قَتْلِ الصِّبْيَانِ وَعَنْ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ وَعَنْ الصَّبِيِّ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ النِّسَاءِ هَلْ كَانَ يَخْرُجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَعَنْ الْعَبْدِ هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَّا الصِّبْيَانُ فَإِنْ كُنْتَ الْخَضِرَ تَعْرِفُ الْكَافِرَ مِنْ الْمُؤْمِنِ فَاقْتُلْهُمْ وَأَمَّا الْخُمُسُ فَكُنَّا نَقُولُ إِنَّهُ لَنَا فَزَعَمَ قَوْمُنَا أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا وَأَمَّا النِّسَاءُ فَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مَعَهُ بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيَقُمْنَ عَلَى الْجَرْحَى وَلَا يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ وَأَمَّا الصَّبِيُّ فَيَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ إِذَا احْتَلَمَ وَأَمَّا الْعَبْدُ فَلَيْسَ لَهُ مِنْ الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ وَلَكِنَّهُ قَدْ كَانَ يُرْضَخُ لَهُمْ

It was narrated that Ibn 'Abbas said: Najdah al-Haroori wrote to Ibn 'Abbas to ask him about killing boys; who the khumus belongs to; when a child is no longer to be regarded as an orphan; whether women accompanied any campaign or took part in fighting; and whether slaves had any share of the booty. Ibn 'Abbas wrote to him (saying): As for boys, if you are al-Khadir and could tell disbelievers apart from believers, then (go ahead) and kill them; as for the khurnus, we used to say that it is for us but our people said that it is not for us; as for women, the Messenger of Allah (PBUH) used to take women with him so they could treat the sick and take care of the wounded, but they did not take part in fighting; as for the child, he is no longer regarded as an orphan when he reaches puberty; as for slaves, they had no share of the booty but they would be given something.

الْعَبْدِ هَلْ لَهُ فِي الْمَغْنَمِ نَصِيبٌ ← النِّسَاءِ هَلْ كَانَ يَخْرُجُ بِهِنَّ أَوْ يَحْضُرْنَ الْقِتَالَ ← الصَّبِيِّ مَتَى يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ ← الخمس لمن هو ← قَتْلِ الصِّبْيَانِ ← نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 1967

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14860

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صُفُوفِنَا فِي الصَّلَاةِ صَلَاةِ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَاوَلُ شَيْئًا ثُمَّ تَأَخَّرَ فَتَأَخَّرَ النَّاسُ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ شَيْئًا صَنَعْتَهُ فِي الصَّلَاةِ لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ بِمَا فِيهَا مِنْ الزَّهْرَةِ وَالنَّضْرَةِ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ لِآتِيَكُمْ بِهِ فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَلَوْ أَتَيْتُكُمْ بِهِ لَأَكَلَ مِنْهُ مَنْ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يُنْقِصُونَهُ شَيْئًا ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَلَمَّا وَجَدْتُ سَفْعَهَا تَأَخَّرْتُ عَنْهَا وَأَكْثَرُ مَنْ رَأَيْتُ فِيهَا النِّسَاءُ اللَّاتِي إِنْ اؤْتُمِنَّ أَفْشَيْنَ وَإِنْ يُسْأَلْنَ بَخِلْنَ وَإِنْ يَسْأَلْنَ أَلْحَفْنَ قَالَ حُسَيْنٌ وَإِنْ أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَرَأَيْتُ فِيهَا لُحَيَّ بْنَ عَمْرٍو يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ مَعْبَدُ بْنُ أَكْثَمَ الْكَعْبِيُّ قَالَ مَعْبَدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُخْشَى عَلَيَّ مِنْ شَبَهِهِ وَهُوَ وَالِدٌ فَقَالَ لَا أَنْتَ مُؤْمِنٌ وَهُوَ كَافِرٌ قَالَ حُسَيْنٌ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ حَمَلَ الْعَرَبَ عَلَى عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ قَالَ حُسَيْنٌ تَأَخَّرْتُ عَنْهَا وَلَوْلَا ذَلِكَ لَغَشِيَتْكُمْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ ظہر یا عصر کی نماز میں صف بستہ کھڑے تھے اور محسوس ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو پکڑ رہے ہیں پھر وہ پیچھے ہٹنے لگے تو لوگ بھی پیچھے ہٹنے لگے نماز سے فارغ ہو کر حضرت ابی بن کعب نے عرض کیا آج تو آپ نے ایسے کیا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے جنت کو اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ پیش کیا گیا میں نے انگوروں کا ایک گچھا توڑنا چاہا تاکہ تمہیں دیدوں لیکن پھر کوئی چیز درمیان میں حائل ہو گئی اگر وہ میں تمہارے پاس لے آتا اور سارے آسمان وزمین والے اسے کھاتے تب بھی اس میں کوئی کمی نہ ہوتی پھر میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا جب میں نے اس کی بھڑک کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹ گیا اور میں نے اس میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ہے جنہیں اگر کوئی راز بتایا جائے تو اسے افشاء کردیتی ہیں کچھ مانگا جائے تو بخل سے کام لیتی ہیں خود کسی سے مانگیں تواصرار کرتی ہیں مل جائے شکر نہیں کرتیں میں نے وہاں لحیی بن عمرو کو بھی دیکھا ہے جوجہنم میں اپنی انتریاں کھینچ رہا تھا اور میں نے اس کے سب سے زیادہ مشابہہ معبد بن اکثم کعبی کو دیکھا ہے اس پر معبد کہنے لگے کہ یا رسول اللہ اس کی مشابہت سے مجھے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تو نہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں تم مسلمان ہو اور وہ کافر تھا۔

جَابِرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← زَکَرِیَّا،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14860

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14895

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَمَتَّعْنَا مُتْعَتَيْنِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَالنِّسَاءَ فَنَهَانَا عُمَرُ عَنْهُمَا فَانْتَهَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا حج تمتع اور عورتوں سے متعہ حضرت عمر نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا ہم رک گئے۔

تَمَتَّعْنَا مُتْعَتَيْنِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ الْحَجَّ وَالنِّسَاءَ فَنَهَانَا عُمَرُ عَنْهُمَا فَانْتَهَيْنَا ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14895

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14920

حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ فِي الصَّلَاةِ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام کو یاد کرانے کے لئے مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آواز میں تالی بجانی چاہیے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← عبيدة بن حميد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14920

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8030

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ قَالَ أَبُو النَّضْرِ سَعْدٌ أَبُو مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا إِذَا رَأَيْنَاكَ رَقَّتْ قُلُوبُنَا وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ قَالَ لَوْ تَكُونُونَ أَوْ قَالَ لَوْ أَنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي أَنْتُمْ عَلَيْهَا عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّهِمْ وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنَا عَنْ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا قَالَ لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہم آپ کی زیارت کرتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں اور ہم اہل آخرت میں سے ہوجاتے ہیں اور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمیں دنیا اچھی لگتی ہے اور ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو سونگھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ہر وقت اسی کیفیت پر رہنے لگو جو تمہیں میرے پاس حاصل ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگیں اور تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کو آنے لگیں اور اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے کر آئے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنت کے بارے میں کچھ بتائیے کہ اس کی تعمیر کیسی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اس کا گارا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہے گا کبھی تنگ نہ ہوگا ہمیشہ رہےگا اسے کبھی موت نہ آئے گی اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہوگی۔ تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل حکمران روزہ دار تا آنکہ روزہ کھول لے اور مظلوم کی بد دعا وہ بادلوں پر سوار ہو کر جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔

قُلْنَا ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ← أَبُو النَّضْرِ سَعْدٌ أَبُو مُجَاهِدٍ ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو كَامِلٍ وَأَبُو النَّضْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8030

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20729

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِمْ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَهُمْ امْرَأَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآنَ هَلَكَتْ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتْ النِّسَاءَ هَلَكَتْ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتْ النِّسَاءَ ثَلَاثًا

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمن کے خلاف اپنے لشکر کی کامیابی کی خوشخبری سنائی اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک حضرت عائشہ کی گود میں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ خوشخبری سن کر سجدے میں گرگئے پھر خوشخبری دینے والے سے مختلف سوالات کرنے لگے اس نے جو باتیں بتائیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ دشمن نے اپنا ایک حکمران ایک عورت کو مقرر کرلیا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تین مرتبہ فرمایا اب مرد ہلاکت میں پڑ گئے جب کہ انہوں نے عورتوں کی پیروی کرنا شروع کردی۔

أَبِي بَكْرَةَ ← أَبِي ← أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20729

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14978

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتْعَتَيْنِ الْحَجَّ وَالنِّسَاءَ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا مُتْعَةَ الْحَجِّ وَمُتْعَةَ النِّسَاءِ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا عَنْهُمَا فَانْتَهَيْنَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں دو طرح کا متعہ ہوتا تھا حج تمتع اور عورتوں سے متعہ، حضرت عمر نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا ہم رک گئے۔

حَمَّادٌ أَيْضًا مُتْعَةَ الْحَجِّ وَمُتْعَةَ النِّسَاءِ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ نَهَانَا عَنْهُمَا فَانْتَهَيْنَا ← تَمَتَّعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ مُتْعَتَيْنِ الْحَجَّ وَالنِّسَاءَ وَقَدْ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 14978

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15005

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيَّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغْنَا سَرِفَ حَاضَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ تَبْكِينَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنِي الْأَذَى قَالَ إِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ يُصِيبُكِ مَا يُصِيبُهُنَّ قَالَ وَقَدِمْنَا الْكَعْبَةَ فِي أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَيَّامًا أَوْ لَيَالِيَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا فَأَحْلَلْنَا الْإِحْلَالَ كُلَّهُ قَالَ فَتَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا خَرَجْنَا حُجَّاجًا لَا نُرِيدُ إِلَّا الْحَجَّ وَلَا نَنْوِي غَيْرَهُ حَتَّى إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَاتٍ إِلَّا أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ أَوْ لَيَالٍ خَرَجْنَا إِلَى عَرَفَاتٍ وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ الْمَنِيَّ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْعُمْرَةَ قَدْ دَخَلَتْ فِي الْحَجِّ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَأَحْلَلْتُ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَبِّرْنَا خَبَرَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ قَالَ فَأَتَيْنَا عَرَفَاتٍ وَانْصَرَفْنَا مِنْهَا ثُمَّ إِنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي قَدْ اعْتَمَرُوا قَالَ إِنَّ لَكِ مِثْلَ مَا لَهُمْ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي فَوَقَفَ بِأَعْلَى وَادِي مَكَّةَ وَأَمَرَ أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْدَفَهَا حَتَّى بَلَغَتْ التَّنْعِيمَ ثُمَّ أَقْبَلَتْ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا مقام سرف میں پہنچے تو حضرت عائشہ کو ایام آگئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ توایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی ساری بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہے۔ہم لوگ چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر مکمل حلال ہوگئے کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی ہلال ہوجاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے۔ اور سراقہ بن مالک جمرہ عقبہ کی رمی کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ یہ حکم اس سال کے لئے خاص ہے یاہمیشہ کے لئے فرمایا ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے پھر ہم عرفات پہنچے وہاں سے واپسی ہوئی تو حضرت عائشہ صدیقہ کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ آپ لوگ حج اور عمرے کے ساتھ روانہ ہوں اور میں صرف حج کے ساتھ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن کو حکم دیا کہ وہ انہیں تنعیم لے جائیں چنانچہ حضرت عائشہ نے حج کے بعد ذی الحجہ میں ہی عمرہ کیا اور تنعیم سے عمرہ کرکے واپس آگئیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← معقل يعني ابن عُبَيد الله الجزري، ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15005

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15006

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَا حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ أَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ كُلُّنَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَصَلَّيْنَا الرَّكْعَتَيْنِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنَا فَقَصَّرْنَا ثُمَّ قَالَ أَحِلُّوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حِلُّ مَاذَا قَالَ حِلُّ مَا يَحِلُّ لِلْحَلَالِ مِنْ النِّسَاءِ وَالطِّيبِ قَالَ فَغُشِيَتْ النِّسَاءُ وَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ قَالَ خَلَفٌ وَبَلَغَهُ أَنَّ بَعْضَهُمْ يَقُولُ يَنْطَلِقُ أَحَدُنَا إِلَى مِنًى وَذَكَرُهُ يَقْطُرُ مَنِيًّا قَالَ فَخَطَبَهُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ وَلَوْ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ أَلَا فَخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ قَالَ فَقَامَ الْقَوْمُ بِحِلِّهِمْ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَأَرَادُوا التَّوَجُّهَ إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ قَالَ فَكَانَ الْهَدْيُ عَلَى مَنْ وَجَدَ وَالصِّيَامُ عَلَى مَنْ لَمْ يَجِدْ وَأَشْرَكَ بَيْنَهُمْ فِي هَدْيِهِمْ الْجَزُورَ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَالْبَقَرَةَ بَيْنَ سَبْعَةٍ وَكَانَ طَوَافُهُمْ بِالْبَيْتِ وَسَعْيُهُمْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ طَوَافًا وَاحِدًا وَسَعْيًا وَاحِدًا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ہم لوگ چارذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے بیت اللہ کا طواف دوگانہ طواف اور صفاومروہ کے درمیان سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہم نے بال چھوٹے کروا لئے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال ہو جاؤ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ کس طرح فرمایا جس طرح ایک غیر محرم کے لئے عورت خوشبو حلال ہوجاتی ہے چنانچہ لوگوں نے اپنے عورتوں سے خلوت کی اور انگھٹیاں خوشبو اڑانے لگیں کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم تو صرف حج کے ارادے سے نکلے تھے حج کے علاوہ ہمارا کوئی ارادہ نہ تھا جب ہمارے اور عرفات کے درمیان چار دن رہ گئے تو یہ حکم آگیا کہ اس کا مطلب ہے کہ جب ہم عرفات کی طرف روانہ ہوں تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرے ٹپک رہے ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے اگر میرے سامنے بات پہلے ہی سے آجاتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا اس لئے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے مجھ سے مناسک حج سیکھ لو پھر لوگوں کو غیر محرم ہونے کی حالت میں ہی رہنے دیا یہاں تک کہ جب آٹھ ذی الحجہ کی تاریخ آئی اور منی کی طرف روانگی کا حکم ہوا تو انہوں نے حج کا احرام باندھا اس سفر میں جس کے پاس ہدی کا جانور موجود تھا اس پر قربانی رہی اور جس کے پاس نہیں تھا اس پر روزے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ اور ایک گائے میں سات آدمیوں کو شریک کرایا اور یاد رہے کہ حج اور عمرے کے لئے انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی ایک ہی مرتبہ کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی بھی ایک مرتبہ ہی کی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ صَبِيحٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَخَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15006

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8189

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلْقَوْمِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8189

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20971

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَتَدْرُونَ فِي أَيِّ شَهْرٍ أَنْتُمْ وَفِي أَيِّ يَوْمٍ أَنْتُمْ وَفِي أَيِّ بَلَدٍ أَنْتُمْ قَالُوا فِي يَوْمٍ حَرَامٍ وَشَهْرٍ حَرَامٍ وَبَلَدٍ حَرَامٍ قَالَ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ تَلْقَوْنَهُ ثُمَّ قَالَ اسْمَعُوا مِنِّي تَعِيشُوا أَلَا لَا تَظْلِمُوا أَلَا لَا تَظْلِمُوا أَلَا لَا تَظْلِمُوا إِنَّهُ لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ وَمَالٍ وَمَأْثَرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمِي هَذِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ يُوضَعُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ أَلَا وَإِنَّ كُلَّ رِبًا كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَى أَنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ أَلَا وَإِنَّ الزَّمَانَ قَدْ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ أَلَا لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ وَلَكِنَّهُ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّهُنَّ عِنْدَكُمْ عَوَانٌ لَا يَمْلِكْنَ لِأَنْفُسِهِنَّ شَيْئًا وَإِنَّ لَهُنَّ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ عَلَيْهِنَّ حَقًّا أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا غَيْرَكُمْ وَلَا يَأْذَنَّ فِي بُيُوتِكُمْ لِأَحَدٍ تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ قَالَ حُمَيْدٌ قُلْتُ لِلْحَسَنِ مَا الْمُبَرِّحُ قَالَ الْمُؤَثِّرُ وَلَهُنَّ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَإِنَّمَا أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَانَةٌ فَلْيُؤَدِّهَا إِلَى مَنْ ائْتَمَنَهُ عَلَيْهَا وَبَسَطَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ثُمَّ قَالَ لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ أَسْعَدُ مِنْ سَامِعٍ قَالَ حُمَيْدٌ قَالَ الْحَسَنُ حِينَ بَلَّغَ هَذِهِ الْكَلِمَةَ قَدْ وَاللَّهِ بَلَّغُوا أَقْوَامًا كَانُوا أَسْعَدَ بِهِ

حضرت ابورقاشی اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں ایام تشریق کے درمیانی دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام میں نے پکڑی ہوئی تھی اور لوگوں پیچھے ہٹا رہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ آج تم کس دن میں ہو؟ کس مہینے میں ہو؟ اور کس شہر میں ہو لوگوں نے عرض کیا حرمت والے دن میں ہیں اور حرمت والے مہینے میں اور حرمت والے شہر میں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تمہاری جان، مال، اور عزت آبرو ایک دوسرے کے لئے اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح یہ دن اور یہ مہینہ اور اس شہر میں ہے یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ پھر فرمایا کہ لوگو میری بات سنو تمہیں زندگی ملے گی خبردار کسی پر ظلم نہ کرو تین مرتبہ فرمایا کسی شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں ہے یادر کھو۔ ہر وہ خون، مالی معاملہ اور فخر ومباہات کی چیزیں جو زمانہ جاہلیت میں تھیں آج میرے ان دو قدموں کے نیچے ہیں قیامت تک کے لۓ اور سب سے پہلا خون جو معاف کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا ہے جو بنولیث کے یہاں دودھ پیتا بچہ تھا تھا اور بنوہذیل نے اسے قتل کردیا تھا اسی طرح زمانہ جاہلیت کا ہر سود ختم کیا جاتا ہے اور اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ سب سے پہلا سود حضرت عباس بن عبدالمطلب کا ختم کیا جاتا ہے تمہیں تمہارا اصل راس المال ملے گا جس میں تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ یاد رکھو زمانہ اسی کی ہیئت پر واپس گھوم کر آگیا ہے جس پر اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی "اللہ کے نزدیک اللہ کے فیصلے میں اسی دن مہینوں کی گنتی بارہ تھی جب اس نے آسمان وزمین کو پیدا کیا تھا ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے لہذا ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔" خبردار میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو یادر کھو شیطان اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ اب نمازی اس کی پوجا کریں گے لیکن وہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈالتا رہے گا عورتیں کے معاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا کیونکہ وہ تمہارے زیرنگین ہیں خود وہ کسی چیز کی مالک نہیں ان کے تم پر اور تمہارے ان پر کچھ حقوق ہیں۔ وہ تمہارے بستروں پر تمہارے علاوہ کسی کو نہ آنے دیں کسی ایسے شخص کو تمہارے گھروں میں آنے کی اجازت نہ دیں جس کو تم اچھا نہ سمجھتے ہو اگر تمہیں ان کی نافرمانی سے خطرہ ہو تو انہیں سمجھاؤ ان کے بستر الگ کردو اور اس طرح مارو جس سے کوئی نقصان نہ ہو ان کا کھانا پینا اور کپڑے بھلے طریقے سے تمہارے ذمہ ہیں تم نے انہیں امانتاً لیا ہے اور اللہ کے کلمہ کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے۔ خبردار جس کے پاس کوئی امانت ہو اس کو امانت رکھوانے والے کے لئے حوالے کردیا جائے اور پھر ہاتھ پھیلا کر فرمایا کیا میں نے پیغام الٰہی پہنچا دیا؟ (تین مرتبہ فرمایا) پھر فرمایا حاضرین غائبین تک یہ باتیں پہنچا دیں کیونکہ بہت سے غائبین سننے والوں سے زیادہ سعادت مند ہوتے ہیں۔

عَمِّہٖ ← أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20971

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15228

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّهَا الْمُقَدَّمُ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مردوں کی صفوں میں سے سب سے بہترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے کم ترین صف آخری صف ہوتی ہے جب کہ خواتین کی صفوں میں سب سے کم ترین صف پہلی ہوتی ہے اور سب سے بہترین صف آخری صف ہوتی ہے پھر فرمایا اے گروہ خواتین جب مرد سجدے میں جائیں تو اپنی نگاہیں پست رکھا کرو اور تہنبدوں کے سوراخوں سے مردوں کی شرمگاہیں نہ دیکھا کرو۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15228

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20994

حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخِتَانُ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ مَكْرُمَةٌ لِلنِّسَاءِ

حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ختنہ کرنا مردوں کی سنت اور عورتوں کی عزت ہے۔

أَبِيهِ ← أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ، ← الْحَجَّاجِ، ← عَبَّادٌ، يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ، ← سُرَيْجٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20994

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15230

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ قَالَ فَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَوَقَعَتْ النِّسَاءُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ قَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عُمْرَتُنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا أَمْ لِلْأَبَدِ قَالَ لَا بَلْ لِلْأَبَدِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کاتلبیہ پڑھتے ہوئے روانہ ہوئے جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو وہ اپنا احرام کھول لے چنانچہ اس کے بعد ہم اپنی بیویوں کے پاس بھی گئے سلے ہوئے کپڑے بھی پہنے اور خوشبو بھی لگائی۔آٹھ ذی الحجہ کو ہم نے حج کا احرام باندھا اسی دوران حضرت سراقہ بن مالک بھی آگئے اور کہنے لگے یارسول اللہ کیاعمرہ کاصرف حکم اس سال کے لئے ہے یاہمیشہ کے لئے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیشہ کے لئے۔

سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ ← فَسَطَعَتْ الْمَجَامِرُ وَوَقَعَتْ النِّسَاءُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ ← رَسُولُ اللَّهِ أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلَّا مَنْ سَاقَ الْهَدْيَ ← خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَطُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15230

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8409

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 8409

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15315

حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّي وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا قَالَ الْحِلُّ كُلُّهُ فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي قَالَ مَا شَأْنُكِ قَالَتْ شَأْنِي أَنِّي حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الْآنَ قَالَ فَإِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ كُلَّهَا حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْكَعْبَةِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ وَذَلِك لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صرف حج کے ارادہ سے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے حضرت عائشہ نے عمرے کا احرام باندھا مقام سرف میں پہنچ کر انہیں ایام آگئے ہم نے تو مکہ مکرمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کا طواف کیا صفامروہ کی سعی کی اور ہم میں سے جس کے پاس ہدی کا جانور نہیں تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حلال ہونے کا حکم دیا ہم نے حلال ہونے کی نوعیت پوچھی تو فرمایا کہ مکمل حلال ہو جاؤ چنانچہ ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگائی جبکہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں تھیں پھر ہم نے آٹھ ذی الحجہ کو احرام حج باندھا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رورہی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ سب لوگ احرام کھول چکے ہیں لیکن میں اب تک نہیں کھول پائی لوگوں نے طواف کرلیا لیکن میں اب تک نہیں کرسکی اور حج کے ایام سر پر ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ توایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں میں لکھ دی ہے اس لئے تم غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو اور حج کرلو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مجبوری سے فراغت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرلو اس طرح تم اپنے حج اور عمرے کے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجاؤ گی وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی خلش رہے گی کہ میں نے حج تک کوئی طواف نہیں کیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ یہی حصبہ کی رات تھی۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُونُسُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15315

chevron_left Previous
1…181920…1,091
Next chevron_right