Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المرأة

Women

21806 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7283

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔

النَّبِيِّ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7283

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7356

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا وَشَرُّهَا آخِرُهَا وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ أَوَّلُهَا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایۃ منقول ہے کہ مردوں کی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔

سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7356

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7415

حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ قَالَ الَّذِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے؟ فرمایا وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے جب حکم دے تو اس کی بات مانے اور اپنی ذات اور اس کے مال میں جو چیز اس کے خاوند کو ناپسند ہو اس میں اپنے خاوند کی مخالفت نہ کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7415

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7541

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7541

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7677

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَزْرَقِ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِالسُّوقِ فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا فَعَابَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَانْتَهَرَهُنَّ فَقَالَ لَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ لَا تَقُلْ ذَلِكَ فَأَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَسَمِعْتُهُ يَقُولُ وَتُوُفِّيَتْ امْرَأَةٌ مِنْ كَنَائِنِ مَرْوَانَ وَشَهِدَهَا وَأَمَرَ مَرْوَانُ بِالنِّسَاءِ اللَّاتِي يَبْكِينَ يُطْرَدْنَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ دَعْهُنَّ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ فَإِنَّهُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا وَأَنَا مَعَهُ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَانْتَهَرَ عُمَرُ اللَّاتِي يَبْكِينَ مَعَ الْجِنَازَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ وَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ

محمد بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلمہ بن ازرق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں وہاں سے جنازہ گذرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے معیوب قرار دے کر انہیں ڈانٹا سلمہ بن ازرق کہنے لگے آپ اس طرح نہ کہیں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ گواہی دیتا ہوں کہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی عورت مر گئی عورتیں اکھٹی ہو کر اس پر رونے لگیں مروان کہنے لگا کہ عبد الملک جاؤ اور ان عورتوں کو رونے سے منع کرو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ اے ابوعبدالملک رہنے دو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے بھی ایک جنازہ گذرا تھا جس پر رویا جا رہا تھا میں بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے جنازے کے ساتھ رونے والی عورتوں کو ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب رہنے دو کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ روایت آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7677

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7842

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْيَمَامِيُّ عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْيَمَامِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7842

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7878

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ عَنْ طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهِينَ بِالرِّجَالِ وَالْمُتَبَتِّلِينَ مِنْ الرِّجَالِ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا نَتَزَوَّجُ وَالْمُتَبَتِّلَاتِ مِنْ النِّسَاءِ اللَّائِي يَقُلْنَ ذَلِكَ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَبَانَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ الْبَائِتُ وَحْدَهُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر گوشہ نشین مردوں پر جو یہ کہیں کہ وہ شادی نہیں کریں گے اور گوشہ نشین عورتوں پر جو یہی بات کہیں اور جنگل میں تنہا سفر کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ بات اتنی محسوس ہوئی کہ اس کے آثار ان کے چہروں سے ظاہر ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے رات گذارنے والے کا بھی ذکر فرمایا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← طَيِّبِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبُ بْنُ النَّجَّارِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7878

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7938

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَوَجَدْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں خواتین کی اکثریت دکھائی دی اور جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں فقراء کی اکثریت دکھائی دی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَوْفٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 7938

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16535

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كُنْتُ امْرَأً قَدْ أُوتِيتُ مِنْ جِمَاعِ النِّسَاءِ مَا لَمْ يُؤْتَ غَيْرِي فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ تَظَاهَرْتُ مِنْ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَرَقًا مِنْ أَنْ أُصِيبَ فِي لَيْلَتِي شَيْئًا فَأَتَتَابَعُ فِي ذَلِكَ إِلَى أَنْ يُدْرِكَنِي النَّهَارُ وَأَنَا لَا أَقْدِرُ عَلَى أَنْ أَنْزِعَ فَبَيْنَا هِيَ تَخْدُمُنِي إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي وَقُلْتُ لَهُمْ انْطَلِقُوا مَعِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُخْبِرُهُ بِأَمْرِي فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَفْعَلُ نَتَخَوَّفُ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا قُرْآنٌ أَوْ يَقُولَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَةً يَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهَا وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي فَقَالَ لِي أَنْتَ بِذَاكَ فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ فَقَالَ أَنْتَ بِذَاكَ فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ قَالَ أَنْتَ بِذَاكَ قُلْتُ نَعَمْ هَا أَنَا ذَا فَأَمْضِ فِيَّ حُكْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنِّي صَابِرٌ لَهُ قَالَ أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ فَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي بِيَدِي وَقُلْتُ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ غَيْرَهَا قَالَ فَصُمْ شَهْرَيْنِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ أَصَابَنِي مَا أَصَابَنِي إِلَّا فِي الصِّيَامِ قَالَ فَتَصَدَّقْ قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ وَحْشَاءَ مَا لَنَا عَشَاءٌ قَالَ اذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ فَأَطْعِمْ عَنْكَ مِنْهَا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ سِتِّينَ مِسْكِينًا ثُمَّ اسْتَعِنْ بِسَائِرِهِ عَلَيْكِ وَعَلَى عِيَالِكَ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي فَقُلْتُ وَجَدْتُ عِنْدَكُمْ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَالْبَرَكَةَ قَدْ أَمَرَ لِي بِصَدَقَتِكُمْ فَادْفَعُوهَا لِي قَالَ فَدَفَعُوهَا إِلَيَّ

حضرت سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں عورتوں کو بہت چاہتا تھا اور میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورتوں سے اتنی صحبت کرتا ہو، جیسے میں کرتا تھا۔ خیر رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، اخیر رمضان تک تاکہ رات کے وقت اس کے قریب نہ چلا جاؤں ، دن ہونے تک میں اسی طرح کرتا تھا، اور اپنے اندر اتنی طاقت نہ پاتا تھا کہ اس سے مکمل جدا ہوجاؤں ، ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کی ران سے کپڑا اوپر ہوگیا، میں اس سے صحبت کر بیٹھا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا کہ میرے لئے یہ مسئلہ تم آنحضرت سے دریافت کرو۔ انہوں نے کہا ہم تو نہیں پوچھیں گے ایسا نہ ہو کہ ہمارے متعلق کتاب نازل جو تاقیامت باقی رہے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ (غصہ) فرما دیں اور اس کی شرمندگی تاعمر ہمیں باقی رے لیکن اب تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب سمجھو کرو، چنانچہ میں وہاں سے نکلا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ بیان کردیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا یہ کام کیا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور میں حاضر ہوں یا رسول اللہ! اور میں اللہ عزوجل کے حکم پر صابر رہوں گا جو میرے بارے میں اترے، آپ نے فرمایا تو ایک غلام آزاد کر، میں نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا، میں تو بس اپنے ہی نفس کا مالک ہوں ، آپ نے فرمایا اچھا! دو ماہ لگاتار روزے رکھ، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ جو بلا مجھ پر آئی یہ روزہ رکھنے ہی سے تو آئی، آپ نے فرمایا تو صدقہ دے اور ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا، میں نے کہا قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہم تو اس رات بھی فاقے سے تھے، ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ نے فرمایا بنی زریق کے صدقات کے ذمے دار کے پاس جا اور اس سے کہ وہ تجھے جو مال دے اس میں سے ساٹھ مساکین کو کھلا اور جو بچے اسے اپنے استعمال میں لا، چنانچہ میں اپنی قوم میں جب واپس آیا تو ان سے کہا کہ مجھے تمہارے پاس سے تنگی اور بری رائے ملی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کشادگی اور برکت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے تمہارے صدقات کا حکم دیا ہے لہذا وہ میرے حوالے کرو، چنانچہ انہوں نے وہ مجھے دے دیئے۔

سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الأَنْصَارِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16535

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16616

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ وَأَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَاءِ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا قَالَ فَلَمَّا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَقَتَلْنَا عَلَى الْمَاءِ مَنْ قَتَلْنَا قَالَ سَلَمَةُ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى عُنُقٍ مِنْ النَّاسِ فِيهِ الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ نَحْوَ الْجَبَلِ وَأَنَا أَعْدُو فِي آثَارِهِمْ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ عَلَى الْمَاءِ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ قَالَ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا قَالَ فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بِتُّ فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكَنِي حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ أَعْجَبَتْنِي مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا وَهِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَفِي أَيْدِيهِمْ أُسَارَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَفَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتِلْكَ الْمَرْأَةِ

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے، اور اس ندی کے قریب بے شمار لوگوں کو قتل کر دیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا، اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہوگیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھے سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اوپر پہاڑ کے درمیان جاگرا۔پھر میں انہیں ہانکتا ہوا حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین و جمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمانے لگے سلمہ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان قیدیوں کو چھڑا لیا۔

أَبِي ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16616

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16649

قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَا خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ فَاسْتَمْتِعُوا يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جہاد میں شریک تھے، اسی دوران ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم عورتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔

خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ فَنَادَى ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16649

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16667

قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ عَامَ أَوْطَاسٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ نَهَى عَنْهَا

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اوطاس کے سال صرف تین دن کے لئے متعہ کی رخصت دی تھی اس کے بعد اس کی ممانعت فرما دی تھی۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← أَبُو عُمَيْسٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16667

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16968

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سُوءٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الزُّورِ وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الزُّورُ قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ فَقَالَ أَلَا وَهَذَا الزُّورُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ قَالَ قَتَادَةُ هُوَ مَا يُكْثِرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنْ الْخِرَقِ

سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے برا طریقہ ایجاد کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " زور " سے منع فرمایا ہے، اسی دوران ایک آدمی آیا جس کے ہاتھ میں لاٹھی تھی اور سر پر عورتوں جیسا کپڑا تھا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ ہے زور۔

قَتَادَةُ هُوَ مَا يُكْثِرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنْ الْخِرَقِ ← أَبُو عَامِرٍ ← وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ فَقَالَ أَلَا وَهَذَا الزُّورُ ← الزُّورِ وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الزُّورُ ← مُعَاوِيَةُ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سُوءٍ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← سَعِيدٌ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْمَلَكِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16968

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17300

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْنَافِ النِّسَاءِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت ابوعامر اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ کسی مجلس میں تشریف فرما تھے، کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی شکل وصورت بدل کر آگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھے کہ یہ کوئی مسلمان آدمی ہے، انہوں نے سلام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ دیئے اور پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دو، لا الہ الا اللہ کی گواہی دو اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو اور زکوۃ دو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کر لوں گا تو مسلمان کہلاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا کہ ایمان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پر، یوم آخرت، ملائکہ، کتابوں ، نبیوں ، موت اور حیات بعد الموت، جنت وجہنم، حساب و میزان اور ہر اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہونے کا یقین رکھو، انہوں نے پوچھا کہ جب میں یہ کام کرلوں گا تو مومن بن جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! پھر انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرنا کہ گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اگر یہ تصور نہیں کر سکتے تو پھر یہی تصور کر لو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، انہوں نے پوچھا اگر میں ایسا کر لوں تو میں نے احسان کا درجہ حاصل کر لیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ، راوی کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات تو سن رہے تھے لیکن وہ شخص نظر نہیں آ رہا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرما رہے تھے اور نہ ہی اس کی بات سنائی دے رہی تھی۔ پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! غیب کی پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی) " بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا، بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے " پھر سائل نے عرض کیا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو دو علامتیں بتا سکتا ہوں جو قیامت سے پہلے رونما ہوں گی۔ اس نے کہا جب آپ دیکھیں کہ باندی اپنی مالکن کو جنم دے رہی ہے اور عمارتوں والے عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کر رہے ہیں اور ننگے افراد لوگوں کے سردار بن گئے ہیں (تو قیامت قریب آجائے گی) راوی نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ کون لوگ ہوں گے؟ فرمایا دیہاتی لوگ۔ پھر وہ سائل چلا گیا اور ہمیں بعد میں اس کا راستہ نظر نہیں آیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ کر فرمایا یہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کے دین کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، جبرائیل میرے پاس اس مرتبہ کے علاوہ جب بھی آئے، میں نے انہیں پہچان لیا (لیکن اس مرتبہ نہیں پہچان سکا) ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عورتوں سے ابتداء میں نکاح کرنے سے منع کر دیا تھا۔ فائدہ : حدیث کی مکمل وضاحت نمبر٢٩٢٤ ملاحظہ کیجئے۔

أَصْنَافِ النِّسَاءِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17300

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17480

حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے اپنے آپ کو بچاؤ ایک انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) دیور کا کیا حکم ہے؟ فرمایا دیور تو موت ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← حجاج،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17480

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17508

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُكْرِهُوا الْبَنَاتِ فَإِنَّهُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِيَاتُ

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیٹیوں کو برا نہ سمجھا کرو، کہ وہ انتہائی گراں قدر غمخوار ہوتی ہیں ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أبي عشانة ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قُتَيْبَةُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17508

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17531

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ

حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے پاس جانے سے اپنے آپ کو بچاؤ ایک انصاری نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) دیور کا کیا حکم ہے؟ فرمایا دیور تو موت ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثٌ، ← هَاشِمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 17531

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10452

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ النِّسَاءَ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ لَا يَسْتَقِمْنَ عَلَى خَلِيقَةٍ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالوگے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10452

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10599

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔

التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فِي الصَّلَاةِ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10599

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 10601

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَهُ فَإِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا فَقَالَ الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ مِنْ النِّسَاءِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوَلَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي تَدْخُلُ الْجَنَّةَ وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالزُّمْرَةُ الثَّانِيَةُ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَانِ مِنْ الْحُورِ الْعِينِ يُرَى مُخُّ سُوقَيْهِمَا مِنْ وَرَاءِ الْحُلَلِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا فِيهَا مِنْ أَعْزَبَ

محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعداد زیادہ ہوگی یا عورتوں کی؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہوگا اس کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آجائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہوگا۔

الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ مِنَ النِّسَاءِ، ← كُنَّا عِنْدَهُ فَإِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 10601

chevron_left Previous
1…161718…1,091
Next chevron_right