Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الرؤى والأحلام

Dreams

2062 hadiths

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4762

4762 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله بن إبراهيم الهاشمي ببغداد نا أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك نا أبو بكر يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم أنا خلد و هشام عن محمد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا قرب أو قال : اقترب الزمان لم تكد رؤيا المسلمين تكذب و أصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا و رؤيا المسلم جزء من ستة و أربعين جزئا من النبوة و الرؤيا ثلاثة فرؤيا بشرى من الله و رؤيا من الشيء يحدث به الإنسان نفسه و رؤيا من تحزين الشيطان فإذا رأى أحدكم ما يكره فلا يذكرنه و ليقم فليصل و أحب القيد في النوم و أكره الغل و القيد ثبات في الدين أخرجه البخاري و مسلم في الصحيح من أوجه عن محمد بن سيرين و أدرج بعضهم من الحديث ما في آخره من أمر القيد و الغل و وصله معمر عن أيوب عن ابن سيرين فجعله من قول أبي هريرة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن عبداللہ بن ابراہیم ہاشمی نے بغداد میں ان کو ابو عمرو عثمان نے احمد سماک نے ان کو ابوبکر یحییٰ بن ابوطالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو خالد اور ہشام نے محمد سے اس نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب (قیامت کا) زمانہ قریب آ جائے گا۔ تو مسلمانوں کے خواب جھوٹے نہیں ہوں گے جو بندہ بات کے اعتبار سے زیادہ سچا ہوگا اس کا خواب بھی زیادہ سچا ہوگا۔ اور مسلمان کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزا میں سے ایک جز ہے اور خواب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک خواب تو اللہ کی طرف سے بشارت و خوشخبری ہوتے ہیں۔ اور بعض خواب وہ ہوتے ہیں کہ انسان اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے۔اور بعض خواب شیطان کی طرف سے حزن و غم دینے کے لئے ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی آدمی ایسا خواب دیکھے جو ناپسندیدہ ہو تو اس کا تذکرہ کسی سے نہ کرے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ کھڑا ہو جائے اور نماز پڑھے اور نیند میں میں قید بیڑیوں کو ناپسند کرتا ہوں وہ بیڑیاں دین میں پائیداری اور ثابت قدمی ہیں۔اور اس کو بخاری اور مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے کئی طریقوں سے محمد بن سیرین سے اور ن میں سے بعض نے درج کیا ہے حدیث سے وہ جس کے آخر میں ہے قید اور عمل بیڑیوں اور طوق کا معاملہ مذکور ہے۔ اور موصول بیان کیا ہے اس کو معمر نے ایوب سے اس نے ابن سیرین سے اور انہوں نے اس کو ابوہریرہ کا قول بتایا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← خلد و هشام ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أبو عمرو عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ بِبَغْدَادَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4762

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4763

4763 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن أيوب عن ابن سيرين عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : في آخر الزمان لا تكاد رؤيا المؤمن تكذب و أصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا و الرؤيا ثلاث الرؤيا الحسنة بشرى من الله عز و جل و الرؤيا يحدث بها الرجل نفسه و الرؤيا تحزين من الشيطان فإذا رأى أحدكم رؤيا يكرهها فلا يحدث بها أحدا و ليقم فليصل قال أبو هريرة : يعجبني القيد و أكره الغل القيد ثبات في الدين قال : و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رؤيا المؤمن جزء من ستة و أربعين جزءا من النبوة رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ایوب نے ان کو ابن سیرین نے ان کو ابوہریرہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر زمانے میں مؤمن کے خواب جھوٹے نہیں ہوں گے اور زیادہ سچے خوابوں والا زیادہ سچی بات والا ہوگا خواب تین طرح پر ہیں اچھے خواب اللہ کی طرف سے خوش خبری ہوتے ہیں۔ اور کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان اپنے آپ سے باتیں کرتا ہے۔ اور بعض خواب شیطان کی طرف سے دکھا دینا ہوتا ہے جب تم میں سے کوئی آدمی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ کسی کو بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو جائے اور نماز پڑھے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ مجھے قید پسند ہے بیڑی ناپسند ہے اور خواب کے بارے میں جھوٹ اور غلط بیان کو ناپسند کرتا ہوں۔ قید سے مراد ثبات فی الدین ہے ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا محمد بن رافع سے اس نے عبدالرزاق سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4763

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4764

4764 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن دراجا أبا السمح حدثه عن عبد الرحمن بن جبير عن عبد الله بن عمرو بن العاص : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : لهم البشرى في الحياة الدنيا الرؤيا الصالحة يبشر بها المؤمن من جزء من ستة و أربعين جزءا من النبوة فمن رأى ذلك فليخبر بها وادا و من رأى سوى ذلك فإنما هو من الشيطان ليحزنه فلينفث عن يساره ثلاثا و ليسكت و لا يخبر بها أحدا

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے کہ درج ابوالسمع نے اس کو حدیث بیان کی ہے عبدالرحمٰن بن جبیر نے اس نے عبداللہ بن عمرو بن العاص سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا۔ لهم البشريٰ في الحيات الدنيا. سے مراد سچے خواب ہیں جن کے ذریعے مؤمن کو بشارت ملتی ہے۔ اور وہ نبوت کے چھیالیس اجزا میں سے ایک جز ہے۔ تم میں سے جو کوئی ویسا خواب دیکھے تو اسے چاہئے کہ اپنے خیر خواہ کو بتائے اور جو ناپسندہ خواب دیکھے تو بس وہ شیطان کی طرف ہے۔ وہ اس کو ٖغم دینا چاہتا ہے لہذا وہ اپنے بائیں طرف تین بار تھوک دے اور خاموش ہو جائے اور کسی کو اس کے بارے میں خبر نہ دے۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السمح ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4764

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4766

4766 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة نا أبو داود نا أحمد بن حنبل نا هشيم أنا يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس عن عمه أبي رزين قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الرؤيا على رجل طاير ما لم تعبر فإذا عبرت وقعت قال : و أحسبه قال : و لا تقصها إلا على واد أو ذي رأي

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوبکر بن داسہ نے ان کو ابوداؤد نے ان کو احمد بن حنبل نے ان کو خبر دی ہشیم نے ان کو یعلیٰ بن عطاء نے ان کو وکیع بن عدس نے ان کو ان کے چچا نے ان کو ابوزریں نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواب انسان کے اوپر منڈلاتا رہتا ہے جب تک کہ اس کی تعبیر نہ بیان کی جائے جب تعبیر دے دی جائے واقع ہو جاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا کہ انسان خواب کو یا تو کسی محبت کرنے والے پر بیان کرے یا کسی صاحب رائے پر۔

عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4766

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4768

4768 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث أن دراجا أبا السمح حدثه عن أبي الهيثم عن أبي سعيد الخدري : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : اصدق الرؤيا بالأسحار

ہمیں خبر دی ہے ابوزکریا بن ابواسحٰق نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن مصب نے ان کو خبر دی ہے عمرو بن حارث نے کہ بے شک دراج ابوالسمع نے اس کو حدیث بیان کی ہے ابوالھثیم سے اس نے ابوسعید خدری سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا۔خوابوں میں سے زیادہ تر سچے خواب سحری کے وقت کے ہوتے ہیں۔

«أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السمح ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4768

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في الرؤيا التي هي نعمة من نعم الله تعالى · حديث 4773

4773 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر بن الحسن أنا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني مالك بن أنس عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن زفر بن صعصعة بن مالك عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا انصرف من صلاة الغداة يقول : هل رأى أحد منكم الليلة رؤيا إنه ليس يبقى بعدي من النبوة إلا الرؤيا الصالحة فروينا اللفظ الأول في الاستخبار في حديث سمرة بن جندب و فيه قصة طويلة ذكرناها في كتاب عذاب القبر

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن ابواسحاق نے اور ابوبکر بن حسن نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وھب نے ان کو خبر دی ہے مالک بن انس نے ان کو اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ نے ان کو نصر بن صعصعہ بن مالک نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو یہ پوچھتے تھے۔ کیا تم میں کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے بے شک حال یہ ہے کہ میرے بعد نبوت میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا مگر سچے خواب۔ تو ہم نے لفظ اول روایت کیا ہے خبر پوچھنے کے بارے میں حدیث سمرہ بن جندب میں اور اس میں طویل قصہ ہے ہم نے اس کو ذکر کیا ہے کتاب عذاب قبر میں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالک بن أنس ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بَكْر بن الحَسَن

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › A chapter on the vision, which is a blessing from God Almighty · Hadith 4773

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4781

4781 - و حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا الحسن بن محمد الزعفراني نا سفيان بن عيينة عن ابن سنان عن عبد الله بن شداد قال : وقعت رؤيا يوسف عليه السلام بعد أربعين سنة و إليها تنتهي أقصى الرؤيا

ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کو ابن سنان نے ان کو عبداللہ بن شداد نے وہ کہتے ہیں یوسف علیہ السلام کا خواب چالیس سال بعد واقع ہوا تھا اور اتنی مدت میں وہ خواب اپنی تکمیل اور اپنی انتہا کو پہنچا تھا۔

وقعت رؤيا يوسف بعد أربعين سنة و إليها تنتهي أقصى الرؤيا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← ابن سنان ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4781

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4786

4786 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور الرمادي نا عبد الرزاق أنا معمر عن جعفر بن برقان قال : قال : ابن مسعود كل ما هو آت قريب ألا إن البعيد ما ليس بآت ألا لا يجعل الله لعجلة أحد و لا تجد لأمر الناس فإن شاء الله لا ما شاء الناس يريد الله أمرا و يريد الناس أمرا ما شاء الله كان و لو كره الناس لا مقرب لما باعد الله و لا مباعد لما قرب الله و لا يكون شيء ألا بإذن الله أصدق الحديث كتاب الله و أحسن الهدي هدي محمد صلى الله عليه و سلم و شر الأمور محدثاتها وكل محدثه بدعة و كل بدعة ضلالة قال معمر : و قال : غير جعفر عن ابن مسعود و خير ما ألقى في القلب اليقين و خير الغنى غنى النفس و خير العلم ما نفع وخير الهدي ما أتبه و ما قل و كفى و خير مما كثر و ألهى و إنما يصير أحدكم إلى موضع أربعة اذرع فلا تملوا الناس و لا تسأموهم فإن لكل نفس نشاطا و إقبالا و إن لها سآمة و إدربار ألا و شر الرؤيا رؤيا الكذب الكذب يقود إلى الفجور و إن الفجور يقود إلى النار ألا و عليكم بالصدق فإن الصدق يقود إلى البر و إن البر يقود إلى الجنة واعتبروا في ذلك أنهما الفتيان التقتا يقال للصادق صدق و بر ويقال للفاجر كذب و فجر و قد سمعنا نبيكم صلى الله عليه و سلم يقول : لا يزال العبد يصدق حتى يكتب صديقا و لا يزال يكذب حتى يكتب كذابا ألا و إن الكذب لا يصلح في جد و لا هزل و لا إن يعد الرجل منكم صبية ثم لا ينجز له ألا و لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإنهم قد طال عليهم الأمد فقست قلوبهم وابتدعوا في دينهم فإن كنتم لا محالة سائليهم ما وافق كتابكم فخذوه و ما خالفه فذكر عبد الله كلمة يعني أمسكوا عنه واسكتوا ألا و إن أصغر البيوت البيت الذي ليس فيه من كتاب الله شيء ألا و إن البيت الذي ليس فيه من كتاب الله خرب لخراب البيت الذي لا عامر له ألا و إن الشيطان يخرج من البيت الذي يسمع سورة البقرة تقرأ فيه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور رمادی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو جعفر بن برقان نے وہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود نے کہا ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔خبر دار دور وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں ہے۔ خبر دار اللہ تعالیٰ کسی ایک کے جلدی کرنے کی وجہ سے جلدی نہیں لائیں گے۔ آپ لوگوں کے امر سے کچھ نہیں پائیں گے۔ بیشک وہی کچھ ہوگا جو اللہ چاہے گا اور وہ نہیں ہوگا جو کچھ لوگ چاہیں گے۔ اللہ ارادہ کرتا ہے ایک امر کا اور لوگ ارادہ کرتے ہیں دوسرے امر کا۔اللہ جو کچھ ارادہ کرتا ہے وہی کچھ ہوتا ہے اگرچہ لوگ اس کو ناپسند بھی کریں جس چیز کو اللہ دور کرے اسے قریب کرنے والا کوئی نہیں اور جس چیز کو کوئی دور کرنے والا نہیں اس کو اللہ قریب کرے۔ اور کوئی کام نہیں ہوتا مگر اللہ کے حکم سے۔سب سے زیادہ سچی حدیث کتاب اللہ ہے اور خوبصورت سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین کام دین میں نوپیدا کام ہیں اور ہر نوپیدا کام (دین میں) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ معمر نے کہا ہے کہ ابن مسعود سے جعفر کے علاوہ دیگر نے روایت کیا ہے کہ بہترین چیز جو دل میں ڈالی گئی وہ یقین ہے۔اور بہترین غنیٰ نفس اور دل کا غنیٰ ہوتا ہے۔ اور بہترین علم وہ ہے جو نفع دے اور بہترین ہدایت وہ ہے جس کی اتباع کی جائے جو قلیل ہو اور کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو بہت ہو اور اس سے غفلت و لاپرواہی برتی جائے۔ یقینی بات ہے کہ ایک تمہارا رجوع کرے گا اور لوٹے گا چار ہاتھ (زمین کی طرف) لہذا لوگوں کو نہ تو اداس کرو نہ ہی ان کو نظر انداز کرو۔ بیشک ہر نفس کے لئے ایک نشاط اور خوشی ہوتی ہے اور بخت کامیابی ہوتی ہے۔ اور بیشک اس کے لئے نحوست اور بدبختی بھی ہوتی ہے۔ خبر دار بدترین خواب جھوٹا خواب ہے۔ جھوٹ گناہوں کی طرف چلاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف چلاتے ہیں۔خبر دار لازم پکڑو تم سچائی کو بے شک سچائی نیکی کی طرف چلاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف چلاتی ہے عبرت و نصیحت پکڑو تم اس بارے میں بے شک وہ دونوں جوان ہیں جو باہم ملتے ہیں صادق کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ بولا اور نیکی کی اور گناہگار کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا اور ہم نے تو تمہارے نبی سے سنا تھا وہ فرماتے تھے ایک بندہ ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح بندہ ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ خبر دار بیشک جھوٹ درست نہیں ہوتا نہ حقیقت میں نہ ہی مذاق میں۔اور نہ اس طرح مناسب ہے کر تم میں سے کوئی آدمی اپنے بچے کو وعدہ دے بچے سے وعدہ کرے اس کے بعد وہ اس کو پورا نہ کرے۔ خبر دار تم میں سے کوئی آدمی اہل کتاب سے کوئی بات نہ پوچھے بے شک ان پر طویل ہوگئی ہے مدت بندان کے دل سخت ہو چکے ہیں۔اور انہوں نے دین میں بدعت ایجاد کر لی ہے۔ اگر تم لا محالہ ان سے پوچھتے بھی ہو تو جو تمہاری کتاب قرآن کے مطابق ہو اس کو لے لو اور جو اس کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دو۔ پھر عبداللہ نے ایک کلمہ ذکر کیا یعنی اس سے رک جاؤ۔ اور خاموش رہو۔ بے شک تمام گھروں میں سے ذلیل ترین گھر وہ ہے جس میں کتاب اللہ میں سے کوئی شئی نہ ہو۔ خبر دار بے شک وہ گھر جس میں کتاب اللہ میں سے کچھ نہ ہو وہ ویران ہے اور ویران گھر وہ ہے جس کو کوئی آباد کرنے والا نہ ہو۔ خبر دار بے شک شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں وہ سن لے کہ سورۃ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔

ابن مسعود كل ما هو آت قريب ألا ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4786

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4788

4788 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن أبي مسعود قال : إنما هما اثنتان الهدي و الكلام فأحسن الكلام كلام الله و أحسن الهدي هدي محمد صلى الله عليه و سلم ألا و إياكم المحدثات و البدع فإن شر الأمور محدثاتها و كل محدثة ضلالة ألا لا يطولن عليكم المد فتقسوا قلوبكم ألا كل ما هو آت قريب ألا إن البعيد ما ليس آت ألا إن الشقي من شقي في بطن أمه و السعيد من وعظ بغير ألا و شر الرؤيا الرؤيا الكذب ألا و إن الكذب لا يصلح في جد و لا هزل و لا أن يعد الرجل منكم صبية ثم لا ينجز له ألا و إن الكذب يهدي إلى الفجور و إن الفجور يهدي إلى النار و أن الصدق يهدي إلى البر و إن البر يهدي إلى الجنة و إنه يقال للصادق صدق و بر و يقال للكاذب كذب و فجر و إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن العبد ليكذب حتى يكتب كاذبا و يصدق حتى يكتب صديقا ثم قال إياكم و العضة أتدرون ما العضة النميمة و نقل الأحاديث

اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی بن عبدالحمید صنعانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابواسحاق نے ان کو ابوالاحوص نے ان کو ابومسعود نے فرمایا کہ بے شک وہ دو چیزیں ہیں ایک سیرت ہے اور دوسری چیز کلام ہے۔سو سب سے حسین ترین کلام اللہ کا کلام ہے اور سب سے خوبصورت اور اچھی سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔خبر دار تم بچاؤ اپنے آپ کو نئے کاموں سے اور بدعتوں سے۔ بے شک بدترین کام (دین) میں نوپیدا کام ہیں۔اور ہر نیا بنایا ہوا (اور دین میں) بدعت و گمراہی ہے۔ خبر دار نہ طویل ہو جائے تمہارے اوپر امیدیں جو کہ سخت کر دے تمہارے دلوں کو خبر دار ہر وہ چیز جو آنے والی ہے وہ قریب ہے۔ خبر دار بعید وہ چیز ہے جو آنے والی نہیں ہے خبر دار بد بخت وہ ہے اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا۔ اور سعادت مند وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کر لے۔ خبر دار بدترین خواب جھوٹا خواب ہے۔ خبر دار بے شک جھوٹ ٹھیک نہیں ہے نہ حقیقت میں نہ ہی مذاق میں اور نہ ہی بایں صورت کہ تم میں سے کوئی آدمی بچے سے وعدہ کرے پھر اس کو پورا نہ کرے۔ خبر دار جھوٹ گناہوں کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کا راستہ دکھاتے ہیں۔اور بے شک سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔اور بے شک سچ بولنے والے سے کہا جاتا ہے کہ اس نے سچ بولا ہے اور درست کیا ہے۔ اور جھوٹ بولنے والے کے لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے اور گناہ کیا ہے اور بے شک میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے۔ بے شک بندہ البتہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ اور ایک بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ سچا لکھ دیا جاتا ہے اس کے بعد فرمایا کہ بچاؤ تم اپنے آپ کو منہ کے ساتھ کاٹ کھانے سے کیا تم جانتے ہو کہ وہ کاٹ کھانا کیا ہے وہ چغل خوری ہے۔اس کے بعد کئی احادیث نقل کی ہیں۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4788

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إفراد المصحف للقرآن و تجريده فيه عما سواه ـ · حديث 2678

2678 - و عن شعبة عن أبي رجاء محمد بن سيف قال : سألت الحسن عن المصحف ينقط بالعربية قال : لا بأس به أو ما بلغك عن كتاب عمر أنه كتب تعلموا العربية وتفقهوا في الدين و أحسنوا عبارة الرؤيا قال الحليمي رحمه الله : ـ و لأن النقطة ليست بمقرؤه فيتوهم لأجلها ما ليس بقرآن قرآنا و إنما هي دلالات على هيئة المقرؤ فلا يضر إثباتها لمن يحتاج إليها والله أعلم قال البيهقي رضي الله عنه : من كتب مصحفا فينبغي له أن يحافظ على الهجاء التي كتبوا بها تلك المصاحف و لا يخالفهم فيها ولا يغير مما كتبوه شيئا فإنهم كانوا أكثر علما و أصدق قلبا و لسانا و أعظم أمانة منا فلا ينبغي لنا أن نظن بأنفسنا إستدراكا عليهم و لا سقطا لهم

حضرت شعبہ سے مروی ہے اس نے ابو رجاء محمد بن یوسف سے انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت حسن سے پوچھا مصحف کے بارے میں جو عربی میں نقطے لگایاگیا ہو انہوں نے فرمایا کہ اس کے ساتھ کوئی حرج نہیں ۃے ۔ کیا آپ کو حضرت عمر کی کتاب کے بارے میں اطلاع نہیں پہنچی وہ لوگوں کو لکھ کر یہ حکم دیتے تھے کہ عربی سیکھو اور دین میں سمجھ حاصل کرو اور خواب کی تعبیر اچھی دو۔

كتاب عمر ← لا بأس به أو ما بلغك ← المصحف ينقط ← سَأَلْتُ الْحَسَنَ ← أَبِي رَجَاءٍ مُحَمَّدِ بْنِ سَيْفٍ ← شُعْبَةُ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on singling out the Qur’an for the Qur’an and stripping it of it from anything else · Hadith 2678

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الأذان و الإقامة ـ للصلاة المكتوبة و فضل المؤذنين · حديث 3101

3101 - أخبرنا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى ثنا يحيى بن منصور و أبو القاسم علي بن المؤمل بن الحسن بن عيسى قالا : ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا أبو صالح الفراء ثنا أبو إسحاق الفزاري عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر قال : كنت أبيت في المسجد و لم يكن لي أهل فرأيت في المنام كأنه انطلق بي إلى بئر فيها رجال معلقين فقيل انطلقوا به إلى ذات اليمين فذكرت الرؤيا لحفصة قلت : قصيها على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقصتها عليه فقال : من رأى هذه الرؤيا ؟ فقالت : ابن عمر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم الفتى أو نعم الرجل لو كان يصلي من الليل قال : و كنت إذا نمت لم أقم حتى أصبح قال نافع : و كان ابن عمر بعد يصلي بالليل أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبي إسحاق الفزاري

ہمیں خبر دی یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو یحییٰ بن منصور نے اور ابوالقاسم علی بن مؤمل بن حسن بن عیسیٰ نے دونوں نے کہا ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابو صالح فراء نے ان کو ابو اسحٰق فزاری نے ان کو عبید اللہ بن عمر نے نافع سے ان کو ابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ میں رات کومسجد میں رہتا تھا اور میرے کوئی گھر والے ہی نہیں تھے تو میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ کوئی مجھے ایک کنویں کی طرف لے گیا ہے اس میں کئی جوان لٹکے ہوئے ہیں اور کسی نے کہا ہے کہ اس کو بھی لے جاؤ دائیں طرف میں نے یہ خواب سیدہ حفصہ سے ذکر کیا اور میں نے کہا کہ آپ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیان کیجئے گا اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ خواب کس نے دیکھا ہے؟ اس نے بتایا کہ ابن عمر نے دیکھا تو رسول اللہ نے فرمایا: اچھا جوان ہے یا فرمایا اچھا آدمی ہے کاش اگر وہ رات کو نماز پڑھتا ہوتا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ایسا تھا کہ جب سوتا تھا تو اٹھتا ہی نہیں تھا حتیٰ کہ صبح ہو جاتی۔ نافع نے کہا کہ اس کے بعد ابن عمر رات کو نماز پڑھنے لگے۔ اسکو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں ابو اسحٰق فزاری کی حدیث سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← يحيى بن منصور و أبو القاسم علي بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ← يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The virtue of the call to prayer and the iqaamah for the prescribed prayer and the virtue of the muezzins · Hadith 3101

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في قراءة القرآن بالتفخيم و الإعراب · حديث 2297

2297 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا إسماعيل بن عياش عن عبيد الله بن عبيد الكلاعي قال : كان عمر بن الخطاب رضي الله عنه يقول : اعربوا القرآن فإنه عربي و تفقهوا في السنة و أحسنوا عبارة الرؤيا فإذا قص أحدكم على أخيه فليقل اللهم إن كان خيرا فلنا و إن كان شرا فعلى عدونا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو عبید اللہ بن عبید کلاعی نے انہوں نے کہا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ۔ قرآن کو عربی لہجے میں پڑھو بے شک وہ عربی ہے اور سنت میں تفقہ حاصل کرو یعنی سمجھ بوجھ حاصل کرو اور خواب کی تعبیر اچھی دو ۔ جب ایک تمہارا اپنے بھائی پر بیان کرے تو اسے چاہیے کہ یوں دعا کرے ۔ اے اللہ اگر خیر ہو تو ہمارے لئے کر دے اور اگر یہ برا ہو تو ہمارے دشمن پر کردے۔

كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدٍ الْكَلاَعِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on reading the Qur’an with glorification and parsing · Hadith 2297

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4077

4077 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا محمد بن يحيى بن الحسن العمي نا ابن عائشة نا حماد بن سلمة نا أبو عاصم الغنوي عن أبي الطفيل قال : قلت لابن عباس يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم طاف بين الصفا و المروة على بعير و إن ذلك سنة قال : صدقوا و كذبوا قال : قلت ما صدقوا و كذبوا ؟ قال : صدقوا طاف رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الصفا و المروة على بعير و كذبوا ليس بسنة كان الناس لا يدفعون من رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا يصدون فطاف على بعير ليسمعوا كلامه و ليروا مكانه و لا تناله الأيدي قلت و يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد رمل بالبيت و ذلك سنة قال : صدقوا و كذبوا قلت ما صدقوا و كذبوا ؟ قال قد صدقوا قد رمل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالبيت و كذبوا ليس بسنة إن قريشا قالت زمن الحديبية دعوا محمد و أصحابه حتى يموتوا موت النغف قال ابن عائشة : ديدان تكون في مناخر الشاة فما صالحوه على أن يجيئوا من العام المقبل فيقيموا بمكة ثلاثة أيام قال : فقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم و المشركون من قبل بقيقعان قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارملوا بالبيت ثلاثا و ليس بسنة قلت و يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سعى بين الصفا و المروة و أن ذلك سنة قال : صدقوا إن إبراهيم عليه السلام لما ابتلى بصبر المناسك عرض له شيطان عند المسعى فسابقه إبراهيم فسبقه إبراهيم ثم ذهب به جبريل إلى الجمرة فعرض له شيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم عرض له شيطان عند الجمرة الوسطى فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم تله للجبين و على إسماعيل قميص أبيض فقال : يا أبه إنه ليس لي ثوب تلفني فيه فعالجه ليخلعه فنودي من خلفه { أن يا إبراهيم * قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين } قال : فالتفت إبراهيم إذا هو بكبش أقرن أعين أبيض فذبحه قال ابن عباس فلقد رأيتنا نبيع ذلك الضرب من الكباش فلما ذهب به جبريل إلى الجمرة القصوى تعرض له شيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم ذهب به جبريل إلى منى فقال : هذا مناخ الناس ثم أتى به جمعا فقال هذا المشعر الحرام ثم ذهب به إلى عرفة قال : فقال ابن عباس هل تدري لم سميت العرفة عرفة قلت : و لم ؟ قال : إن جبريل عليه السلام قال لإبراهيم هل عرفت ؟ قال : نعم قال ابن عباس : فمن ثم سميت عرفة ثم قال : فهل تدري كيف كانت التلبية ؟ قلت و كيف كانت ؟ قال : لإن إبراهيم لما أمر أن يؤذن في الناس بالحج فخفضت له الجبال بروؤسها و رفعت له القرى فأذن في الناس بالحج قال الشيخ أحمد : قول ابن عباس في الرمل و ليس بسنة يشبه أن يكون أراد ليس بسنة يفسد الحج بتركه أو يجب على من تركه شيء و الله أعلم و قد روينا عن عمر بن الخطاب ما يدل على أنه بقي هيئته في الطواف مع زوال سببه و في رمل النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع بعد زوال السبب دلالة على بقائه مشروعا و روينا عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس رفعه قال : لما أتى إبراهيم خليل الرحمن المناسك عرض له لشيطان عند الجمرة فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض ثم عرض له عند الجمرة الثانية فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض ثم عرض له في الجمرة الثالثة فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض قال ابن عباس : الشيطان ترجمون و ملة أبيكم تتبعون

ہمیں خبر دی ابونصربن قتادہ نے ا ن کو ابو عمر و بن مطر نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حسن عمی نے ان کو ابن عا ئشہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو عا صم غنوی نے ان کو ابو الطفیل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا تیری قوم کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اونٹ پر اور یہ سنت ہے۔انہوں نے کہا کہ سچ کہتے ہیں وہ اور جھوٹ بو لتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ کہا ہے؟جھوٹ: انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے طواف کیا تھا صفاء اور مروہ کے درمیان اونٹ پر ۔ اور جھوٹ کہا ہے سنت نہیں ہے لوگ رسول اللہ سے لوگوں کو ہٹاتے نہیں تھے۔ اور نہ ہی روکتے تھے ۔ حضور نے طاف کیا تھا اونٹ پر اس لئے تاکہ لوگ آسانی کے اتھ آپ کا کلام آپ کی بات سن سکیں ۔ اور ان کو دیکھ بھی سکیں اور لوگوں کے ہاتھ بھی ان تک نہ پہنچ سکیں گے ۔ میں نے کہا کہ تیری قوم یہ کہتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے بیت اللہ میں رمل کیا تھا ۔ اور یہ بھی سنت ہے ابن عباس نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی کہا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا س کہا اور کیا جھوٹ کہا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ نے رمل کیا تھا بیت اللہ کے پاس ۔ اور جھوٹ کہا ہے وہ سنت نہیں ہے ۔ بے شک قریش نے کہا تھا صلح حدیبیہ کے زمانے میں کہ چھوڑ دو محمد کو اور اس کے ساتھیوں کو وہ اپنے آپ مر جائیں گے نغف کی موت (بکریوں کی موت ) ( جیسے بکریوں میں انک کے جراثیم کی بیماری آتی ہے اور وہ مر جاتیں ہیں ۔) ابن عائشہ نے کہا یہ ایک کیڑا ہے جو بکریوں کی ناک میں ہوتا ہے ۔ جب مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے صلح کر لی اس شرط پر کہ (اس سال واپس چلے جائیں )اور آئندہ سال آئیں اور مکہ میں صرف تین دن رہیں ( ار پھر مکے سے واپس نکل جائیں ) کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم آئے اور مشرکین پہلے سے (وادی ) قیقعان میں پہنچے ہوئے تھے ۔ لہذا رسول اللہ نے فرمایا کہ تم لوگ رمل کر و تین بار اور یہ سنت نہیں ہے ۔میں نے کہا تیری قوم کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ سن ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سچ کہتے ہیں بے شک ابراہیم علیہ السلام جب مناسک حج کے صبر کے ساتھ آزمائے گئے تو ان کے پاس سعی کے مقام پر شیطان سامنے آیا ۔ انہوں نے اس کو سات کنکریاں ماریں ۔ یہاں تک وہ چلا گیا ۔ پھر شیطان ان کے سامنے آیا جمرہ وسطی کے پاس ۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کو سات کنکریاں ماریں ۔ یہاں تک کہ وہ چلا گیا ۔ پھر لٹا دیا اس کو ماتھے کے بل ( یا کروٹ کے بل ) اور حضرت اسماعیل کے جسم پر سفید قمیض تھی ۔ انہوں نے کہا اے ابا جان بے شک میرے لئے کوئی کپڑا نہیں ہے جس میں آپ مجھے لپٹیں گے ۔ انہوں نے کوشش کی تاکہ اس کو اتار لیں لہذا پیچھے سے آواز لگائی گئی ۔ ان یا ابراھیم قد صدقت الروبا انا کذالک نجزی المحسنین ۔اے ابراہیم بے شک آپ نے خواب سچا کر دکھلایا ہے ۔ بے شک ہم اسی طرح جزا دیں گے نیکو کاروں کو ۔ کہتے ہیں کہ ابراہیم نے پلٹ کر دیکھا تو وہ اچانک بڑے سینگوں والا بڑی آنکھوں والا سفید رنگ والا مینڈھا ان کے پاس موجود تھا لہذا انہوں نے اس کو ذبح کیا ۔ ابن عباس نے کہا کہ البتہ تحقیق نایاب ہو گئی مینڈھوں کی یہ قسم ۔ جب جبرائیل ان کو جمرہ آکری پر لے گئے تو پھر شیطان ان کے سامنے آیا پھر انہوں نے اس کو ساتھ کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا ۔ پھر جبرائیل ان کو منیٰ میں لے گئے ۔ اور کہا کہ یہ لوگوں کے سواریاں بیٹھانے کی جگہ ہے ۔پھر وہ ان کو اکٹھے لے گئے اور کہا کہ یہ مشعر الحرام ہے ۔ اس کے بعد پھر وہ ان کو عرفہ لے گئے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ عرفے کا نام کیوں دیا گیا ۔ میں نے کہا کہ کیوں دیا گیا ؟ کہا کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم سے کہا کیا آپ نے پہچان لیا ؟ انہوں نے کہ کہ جی ہاں ۔ ابن عباس کہتے ہیں اسی وجہ سے نام رکھا گیا پھر ابن عباس نے کہا تم جانتے ہو کہ کیسے تلبیہ کا آغاز ہوا ؟ میں نے کہا کہ کیسے ہوا ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اس طرح ہوا جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں تو پہاڑوں نے اس کے لئے اپنے سر جھکا دئیے اور اٹھ کھڑی ہوئیں بستیاں انہوں نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا ۔ شیخ احمد نے کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا رمل کے بارے میں کہ وہ سنت نہیں ہے مناسب یہ ہے کہ یوں تاویل و توجیہ کی جائے کہ ان کی مراد ہے ایسی سنت نہیں ہے جس کے ترک سے حج فاسد ہو جائے یا اس کے ترک کرنے پر کوئی سئی وجب ہو جائے ۔ واللہ اعلم ۔ تحقیق ہم نے روایت کی ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے وہ جو دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ طواف میں اس کی شکل باقی رہ گئی ہے باوجود یہ کہ اس کا سبب زائل ہو گیا ے ۔ ور سبب زائل ہو جانے کہ باوجود حجۃالوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے رمل کرن میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل مشروع ہے اور باقی ہے ۔ اور ہم نے روایت کی ہے سالم بن ابوالجعد سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا مرفوع ہونا ۔ وہ کہتے ہیں جب ابراہیم خلیل اللہ احکامات و مناسک حج ادا کرنے آئے تو شیطان ان کے پاس جمرے کے پاس آیا انہوں نے سات کنکریاں ان کو ماریں حتٰی کہ وہ زمین میں دھنس گیا ۔ پھر ان کے سامنے آیا جمرہ ثانی کے پاس پھر انہوں نے ان کو ساتھ کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا ۔پھر وہ سامنے آیا جمرہ ثالثہ کے پاس پھر انہوں نے اس کو ساتھ کنکریاں ماریں تو وہ پھر زمین میں دھنس گیا ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ رمی کر کے تم لوگ شیطان کو سنگسار کرتے ہو اور تم اپنے باپ ( ابراہیم ) کی ملت کی اتباع کرتے ہو۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← ابْنُ عَائِشَةَ ← محمد بن يحيى بن الحسن العمي ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4077

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7328

7328 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري في قوله : ـ { إني أرى في المنام أني أذبحك } قال : أخبرني القاسم بن محمد قال : اجتمع أبو هريرة و كعب فجعل أبو هريرة يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم وجعل يحدث كعب عن الكتب فقال أبو هريرة قال النبي صلى الله عليه و سلم إن لكل نبي دعوة مستجابة وإني خبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة فقال له كعب : أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم قال : فداه أبي وأمي أولا أخبرك عن إبراهيم عليه السلام أنه لما أري ذبح ابنه إسحاق قال الشيطان : إن لم أفتن هؤلاء عند هذه لم أفتنهم أبدا فخرج إبراهيم بابنه ليذبحه فذهب الشيطان فدخل على سارة فقال : أين يذهب إبراهيم بابنك قالت : غدا به لبعض حاجته فقال : إنه لم يغد به لحاجة إنما ذهب به ليذبحه قالت : ولم يذبحه قال : يزعم أن ربه أمره بذلك قالت : فقد أحسن أن يطيع ربه فخرج الشيطان في أثرهما فقال للغلام : أين يذهب بك أبوك قال : لبعض حاجته قال : إنه لا يذهب بك لحاجة ولكنه يذهب بك ليذبحك قال : لم يذبحني قال : يزعم أن ربه أمره بذلك قال : فو الله لئن كان أمره بذلك ليفعلن قال : فيئس منه فتركه ولحق بإبراهيم فقال أين عدوت بابنك قال : لحاجة قال : فإنك لم تغد به لحاجة إنما غدوت به لتذبحه قال : ولم أذبحه قال : تزعم أن ربك أمرك بذلك قال : فو الله لئن كان الله أمرني بذلك لأفعلن قال : فتركه ويئس أن يطاع قال : { فلما أسلما وتله للجبين * وناديناه أن يا إبراهيم * قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين } قال : فأوحى إلى إسحاق أن ادع فإن لك دعوة مستجابة قال إسحاق اللهم إني أدعوك أن تستجيب لي أيما عبد لقيك من الأولين والآخرين لقيك لا يشرك بك شيئا أن تدخله الجنة قال الحليمي رحمه الله : والمعنى في ذلك والله أعلم أن من حج واعتقد في حجه ما قدمنا ذكره في بابه من أنه قد انسلخ من زينة الدنيا وشهواتها وخلفها وراء ظهره وتاب من الذنوب طهر منها قلبه وجاء معتذرا متنصلا منيبا إلى ربه أمر أن يقرب بذلك قربانا يقربه له من بعض ما أحل له من بهيمة الأنعام حتى إذا رمى اتبعه نحره أو ذبحه وكان كأنه يقول : اللهم إني قد أتيت من التقصير في حقوقك وكسبت من السيئات ما لو كان لي إلى نحر نفسي سبيل لنحرتها عقوبة لها بما أسلفت من المعاصي ولكنك حرمت ذلك علي وأحللت لي بهيمة الأنعام وإني متقرب إليك بهديي هذا فاقبله مني واجعله فداء لي بمنك وطولك كما فديت ابن خليلك إبراهيم بالذبح العظيم برحمتك وفضلك واقبله مني كما قبلته من إبراهيم خليلك ومن محمد نبيك ورسولك ونحر وذلك بقلبه ويعتقده ويعلم أن هذا معنى قربانه وغرضه وإن قاله بلسانه فلا بأس ما قلته من هذا فهو في الأضحية مثله ليس بينهما فرق سوى أن ذلك هدي إلى البيت الحرام وهذا ليس بهدي وهما جميعا سنة مباشرة وليس بفرض لأن إخلاص التوبة تجزي عن الفدية كما تجزي عن الاستغفار لكن الاستغفار معها من أعظم السنن كذلك الفدية قال الإمام أحمد رحمه الله : ثم ذكر الحليمي ما جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم فيما لا يجزي من الضحايا وهو ما

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے اللہ کے اس قول کے بارے میں انی اری فی المنام انی اذبحک اے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ زہری کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی قاسم بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت کعب اکٹھے ہوئے تو حضرت ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنا شروع کی اور حضرت کعب نے کتب سابقہ سے لہٰذا ابو ہریرہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوئی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لئے قیامت کے دن شفاعت کرنے کے لئے چھپا رکھی ہے؟ حضرت کعب نے ان سے کہا تم نے واقعی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے بولا کہ جی ہاں کی تھی۔ کعب نے کہا کہ میرے ماں باپ ان پر قربان ، کیا میں تجھے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں خبر نہ دوں کہ انہوں نے جب اپنے بیٹے اسحاق کو ذبح کرنے کا خواب دیکھا تو شیطان نے کہا اگر میں نے آج ان لوگوں کو فتنے میں مبتلا نہ کیا تو میں آئندہ کبھی ان کو فتنے میں مبتلا نہیں کر سکوں گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لے کر نکلے تو شیطان بی بی سارہ کے پاس پہنچ گیا اور پو چھا کہ ابراہیم تیرے بیٹے کو کہاں لے کر گئے ہیں۔اس نے بتایا کہ وہ صبح صبح اس کو کسی کام سے لے کر گئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ اس کو کسی کام کے لئے نہیں لے گئے بلکہ وہ اس کو ذبح کرنے کے لئے لے گئے ہیں۔ سارہ نے پو چھا کہ وہ اسے کیونکر ذبح کرنے لگے۔ کہا کہ ان کا گمان ہے خیال یہ ہے کہ ان کو ان کے رب نے اس بات کا حکم دیا ہے سارہ نے کہا کہ پھر تو اس نے یہ اچھا کیا کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کریں گے۔ (وہاں سے نا کام ہو کر) پھر شیطان ان دونوں باپ بیٹوں کے پیچھے چلا گیا۔ اور جا کر لڑکے سے کہا کہ تیرے والد تجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں بیٹے نے کہا کہ کسی ضروری کام کے لئے۔ شیطان نے کہا کہ نہیں کسی ضروری کام سے نہیں لے جا رہے بلکہ وہ تجھے اس لئے لے جا رہے ہیں تاکہ تجھے ذبح کریں۔ اس نے پوچھا کہ وہ مجھے کیوں ذبح کریں گے؟ کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ان کو ان کے رب نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بیٹے نے کہا کہ اگر ان کو رب نے حکم دیا ہے تو اللہ کی قسم وہ ضرور ایسا کریں۔ کعب نے کہا کہ پھر شیطان اس سے بھی مایوس ہو گیا اور اسے چھوڑ دیا اب ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا اے ابراہیم تو کہاں اپنے بیٹے کے ساتھ دشمنی کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا میں ان کو ضروری کام سے لے جا رہا ہوں اس نے کہا نہیں تم کوئی ضروری کام سے نہیں بلکہ تم اس کو ذبح کرنے لے جا رہے ہو۔ ابراہیم نے کہا کہ میں کیوں اس کو ذبح کروں گا کہا کہ تم یہ گمان کر تے ہو کہ تمہیں تمہارے رب نے اس کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے ابراہیم نے کہا کہ مجھےاللہ کی قسم ہے کہ اگر مجھے اللہ اس کے ذبح کرنے کا حکم دیتا تو میں ضرور اس کو ذبح کرتا چنانچہ شیطان نے ان کو بھی چھوڑ دیا اور مایوس ہو گیا کہ اس کی بات مانی جائے۔ اللہ نے فرمایا۔ فلما اسلما وتلہ للجبین ونا دیناہ ان یا ابراہیم قد صدقت الریاء انا کذالک تجزی المحسنین (۱۰۵/۱۰۳) کعب نے کہا کہ لہٰذا حضرت اسحٰق کی طرف وحی کی گئی کہ آپ چھوڑیے آپ کی ایک دعا قبول ہے۔ اسحٰق علیہ السلام نے دعا مانگی۔اے اللہ میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں کہ میری دعا قبول فرما کہ تیرا جو بھی بندہ تجھے ملے خواہ وہ پہلوں میں سے ہو یا پچھلوں میں سے بشرطیکہ وہ تیرے ساتھ کسی شئی کوشریک نہ کرتا ہو اس کو آپ جنت میں داخل کرنا۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس میں مطلب (واللہ اعلم) یہ ہے کہ جو شخص حج کرے اور اپنے حج میں یہی عقیدہ رکھے جو اوپر ذکر ہوا۔ اسی کے باب میں کہ وہ شخص نکل چکا ہو دنیا کی زینت سے اور اس کی خواہشات سے، اور ان کو اپنی پیٹھ کے نیچے پھینک چکا ہو۔ اور گناہوں سے توبہ کر چکا ہو۔ اور گناہوں سے اس کا دل پاک ہو چکا ہو۔ اور وہ شخص آئے اپنے رب کے پاس معذرت کرنے والا، انابت ورجوع کرنے والا ،ا سے حکم دیا گیا کہ وہ اسی طریقے سے قربانی کرے ایسی قربانی جو کو اللہ کے قریب کر دے بعض ان چوپایوں اور مویشیوں میں سے، حتٰی کہ وہ جب رمی کر چکے تو اس کے بعد وہ قربانی کرے خواہ نحر کی صورت میں ہو یا ذبح کی صورت میں تو وہ شخص ایسے ہو گا گویا کہ وہ اپنی زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے اے اللہ بے شک میں تیرے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کر چکا ہوں اور گناہوں کا ارتکاب کر چکا ہوں اس قدر کہ اگر مجھے اپنے آپ کو بھی قربان کرنے کا حکم دیا جاتا تو میں اس کو بھی قربان کر دیتا سزا کے طور ان گناہوں کی جو میں پہلے کر چکا ہوں مگر تو نے اس کو کیونکہ مجھ پر حرام کر دیا ہے اور میرے لئے تو نے چوپایوں اور مویشیوں کو قربان کرنے کو حلال کیا ہے۔ اور میں تیری بارگاہ میں تقرب حاصل کرتا ہوں اپنی اس قربانی کے ساتھ تو اس کو میری طرف سے قبول فرما۔ اور اس کو میرے لئے محض اپنے احسان کے ساتھ فدیہ اور بدلہ بنا محض اپنے احسان اور اپنی طاقت کے ساتھ۔ جیسے آپ نے اس کو فدیہ اور بدلہ بنایا تھا اسے خلیل ابراہیم کے بیٹے سے ذبح عظیم کے ساتھ محض اپنی رحمت اور فضل کے ساتھ اور اس کو آپ قبول کیجئے میری طرف سے جیسے آپ نے اس کو قبول کیا تھا اپنے خلیل ابراہیم سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نبی اور رسول سے۔ قربانی کرے اور یہ عمل اس کی دل سے ہو اور اس کا عقیدہ رکھے اور یقین رکھے اور جان لے کہ اس کی قربانی کا یہی مقصد ہے اور یہی غرض ہے اس کی۔ اگر یہی بات وہ اپنی زبان سے بھی کہے تو بھی اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے جو کچھ میں نے اس بارے میں کہا ہے۔ (اگر اس نیت سے اور اس عقیدے سے اور اسی طریقے سے قربانی کرے تو) وہ شخص قربانی کرنے میں حاجی کی طرح ہو گا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ہاں صرف یہی فرق ہو گا کہ حاجی قربانی کا جانور بیت اللہ کی طرف چلا کر لے جاتا ہے اور یہ جانور چلا کر نہیں لے جاتا یعنی وہ ھدی ہوتا ہے اور یہ ھدی نہیں ہوتا۔ مجموعی طور پر دونوں ایک دوسرے کے مشابہ سنت ہیں۔ فرض نہیں ہیں۔اس لئے کہ توبہ خالص کرنا فدیہ کے قائمقام ہوتا ہے جیسے فدیہ استغفار کے قائمقام ہوتا ہے لیکن استغفار توبہ کے ساتھ سب سے بڑی عظیم سنتوں میں سے ہے یہی حال فدیہ کا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس کے بعد حلیمی نے وہ احادیث ذکر کی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان جانوروں کے بارے میں آئی ہیں جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور و ہ درج ذیل ہیں۔

الْكُتُبِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ← کَعْبٍ ← النبي صلى الله عليه و سلم وجعل ← اجتمع أبو هريرة و كعب فجعل أبو هريرة ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزهري في قوله إني أرى في المنام أني أذبحك ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7328

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 903

903 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُقَصُّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ , أَوْ نَاصِحٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامٍ إِلَّا مُبَارَكٌ، تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ , وَلَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ نُصَيْرٍ

محمد بن نصیر الا صبہانی سے مروی حدیث ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا اپنا خواب صرف عالم کے سامنے بیان کر دیا اپنے کسی خیر خواہ کے سامنے بیان کرو۔ اس حدیث کو ہشام سے صرف مبارک نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں اسماعیل بن عمرو منفرد ہیں میں نے یہ حدیث صرف ابن نصیر کے حوالے سے لکھی ہے ۔

ابْنِ نُصَيْرٍ ← هِشَامٍ إِلَّا مُبَارَكٌ، تَفَرَّدَ بِهِ إِسْمَاعِيلُ وَلَا كَتَبْنَاهُ إِلَّا ← «لَا تُقَصُّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ» لَمْ يَرْوِهِ ← النبي صلى الله عليه وآله وسلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 903

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 928

928 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الضَّبِّيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ إِلَّا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ

محمد بن یحییٰ بن المالک الضبی الا صبہانی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نیک اور اچھے خواب بہت اچھی چیز ہے یہ نبوت کا 70واں حصہ ہے ۔ اس حدیث کو مسعر سے صرف فضل بن موسیٰ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن ابی رزمہ منفرد ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ الضَّبِّيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 928

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3052

3051 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا أبو عاصم عن مهدي بن ميمون عن عثمان بن عبيد عن أبي الطفيل Y عن حذيفة بن أسيد قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذهبت النبوة فلا نبوة بعدي إلا المبشرات قيل : وما المبشرات ؟ قال : الرؤيا الصالحة يراها الرجل أو ترى له

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبوت ختم ہو گئی ' میری نبوت کے بعد بس خوشخبریاں رہ گئیں۔ عرج کی گئی: خوشخبریوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: نیک خواب جو آدمی دیکھے یا اس کو دکھایا جائے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3052

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 9075

9057 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا الفريابي ثنا سفيان ثنا أبو إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عبد الله بن مسعود قال Y الرؤيا الصالحة جزء من سبعين جزءا من النبوة وإن السموم التي خلق منها الجان جزء من سبعين جزء من نار جنهم وإن ناركم هذه جزء من سبعين جزءا من نار جهنم

حضرت مسروق سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مرجان سے مراد سرخ رنگ کے موتی ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9075

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16129

461 - حدثنا محمد بن عبدوس بن كامل ثنا علي بن الجعد أنا شعبة و هشيم عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس عن عمه أبي رزين العقيلي قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( الرؤيا جزء من أربعين جزءا أو ستة وأربعين جزءا من النبوة و هي على رجل طائر فإذا عبرت وقفت ) قال شعبة في حديثه وأحسبه قال : ( لا يقعها إلا على واد أو ذي رأي )

حضرت ابو رزین العقیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: خواب نبوت کا چالیسواں یا چھیالیسواں حصہ ہے یہ پرندے کی ٹانگ پر ہوتے ہیں پس جب ان کی تعبیر کر دی جائے تو ضرور واقع ہو جاتے ہیں۔ حضرت شعبہ نے اپنی حدیث میں کہا: میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: یہ واقع نہیں ہوتے مگر کسی محبت کرنے والے یا صاحب رائے پر۔

عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← وَکِیْعِ بْنِ عُدَّسٍ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شعبة و هشيم ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16129

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16131

463 - حدثنا عبد الله بن احمد بن حنبل ثنا إبراهيم بن الحجاج السامي ثنا حماد بن سلمة عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن حدس عن عمه أبي رزين العقيلي أن Y النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( الرؤيا جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة والرؤيا معلقة برجل طائر حتى يحدث بها صاحبها فإذا حدث بها وقعت فلا يحدث بها إلا عالما أو ناصحا او حبيبا )

حضرت ابو رزین العقیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے یہ پرندے کی ٹانگ پر ہوتے ہیں پس جب ان کی تعبیر کر دی جائے تو ضرور واقع ہو جاتے ہیں پس ان کو کسی عالم کے سامنے یا مخلص یا اچھے محب ساتھی کے سامنے بیان کرنا چاہیے۔

عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، ← وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16131

chevron_left Previous
1…111213…104
Next chevron_right