Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الرؤى والأحلام

Dreams

2062 hadiths

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ وكيع بن حدس ويقال عدس عن أبي رزين · حديث 16132

464 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا هشيم عن يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس العقيلي عن عمه أبي رزين العقيلي أنه Y سمع النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( الرؤيا على رجل طائر ما لم تعبر فإذا عبرت وقعت - وقال الرؤيا جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة - وأحسبه قال - ولا يقصها إلا على واد أو ذي رأي )

حضرت ابو رزین العقیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: خواب نبوت کا چالیسواں یا چھیالیسواں حصہ ہے یہ پرندے کی ٹانگ پر ہوتے ہیں پس جب ان کی تعبیر کر دی جائے تو ضرور واقع ہو جاتے ہیں ۔ اور فرمایا: خواب نبوت کے چھیالیش اجزاء میں سے ایک جزء ہوتے ہیں اور میرا گمان ہے کہ کہا: ان کو محبت کرنے والے یا صاحب رائے پر بیان کیا کریں۔

ولا يقصها إلا على واد أو ذي رأي ← الرؤيا جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة وأحسبه ← الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعْبَرْ فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَتْ. ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ ← وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ الْعُقَيْلِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 16132

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عاتكة بنت عبد المطلب عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 20879

860 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة قال : Y كانت عاتكة بنت عبد المطلب عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم ساكنة مع أخيها العباس بن عبد المطلب فرأت رؤيا قبيل بدر ففزعت فأرسلت إلى أخيها عباس من ليلتها حين فزعت واستيقظت من نومها وقالت : رأيت رؤيا وقد خشيت منها على قومك الهلكة قال : وما رأيت ؟ قالت : لن أحدثك حتى تعاهدني أن لاتذكرها فإنهم إن سمعوها آذونا فأسمعونا ما لانحب ن فعاهدها عباس فقالت : رأيت راكبا أقبل على راحلته من أعلى مكة يصيح بأعلى صوته : يا آل غدر و يا آل فجر اخرجوا في ليلتين أو ثلاث ثم دخل المسجد على راحلته فصرخ في المسجد ثلاث صرخات ومال إليه من الرجال والنساء والصبيان وفزع الناس له أشد الفزع ثم أراه مثل على ظهر الكعبة على راحلته فصاح ثلاث صرخات : يا آل غدر ويا آل فجر اخرجوا في ليلتين أو ثلاث حتى أسمع من بين الأخشبين من أهل مكة ثم عمد لصخرة عظيمة فنزعها من أصلها ثم أرسلها على أهل مكة فأقبلت الصخرة لها دوي حتى إذا كانت عند أصل الجبل ارفضت فلا أعلم بمكة بيتا ولادارا إلا قد دخلها فلقة من تلك الصخرة فلقد خشيت على قومك أن ينزل بهم شر ففزع منها العباس وخرج من عندها فلقي من آخر ليلته الوليد بن عتبة بن ربيعة وكان خليلا للعباس فقص عليه رؤيا عاتكة وأمره أن لايذكرها لأحد فذكرها الوليد لأبيه فذكرها عتبة لأخيه شيبة وارتفع حديثها حتى بلغ أبا جهل بن هشام واستفاضت فلما أصبحوا غدا عباس يطوف بالبيت حين أصبح فوجد أبا جهل وعتبة بن ربيعة وشيبة بن ربيعة وأمية بن خلف وزمعة بن الأسود وأبا البختري في نفر يتحدثون فلما نظروا إلى عباس يطوف بالبيت ناداه أبو جهل : يا أبا الفضل إذا قضيت طوافك فائتنا فلما قضى طوافه أتى فجلس فقال أبو جهل : يا أبا الفضل ما رؤيا رأتها عاتكة ؟ قال : ما رأت من شيء قال : بلى أما رضيتم يا بني هاشم بكذب الرجال حتى جئتمونا بكذب النساء إنا كنا وأنتم كفرسي رهان فاستبقنا المجد منذ حين فلما تحاذت الركب قلتم منا نبي فما بقي إلا تقولوا منا نبية لاأعلم في قريش أهل بيت أكذب رجلا ولا أكذب امرأة منكم فآذوه يومئذ أشد الأذى وقال أبو جهل : زعمت عاتكة أن الركب قال : اخرجوا في ليلتين أو ثلاث فلو قد مضت هذه الثلاث تبينت لقريش كذبكم وكتبنا سجلا ثم علقناه بالكعبة أنكم أكذب بيت في العرب رجلا وامرأة أما رضيتم يا بني قصي أنكم ذهبتم بالحجابة والندوة والسقاية والرواء والرفادة حتى جئتمونا زعمتم بنبي منكم فآذوه يومئذ أشد الأذى وقال له العباس : مهلا يا مصفر أسته هل أنت منته فإن الكذب فيك وفي أهل بيتك وقال له من حضره : يا أبا الفضل ما كنت بجاهل ولاخرف ولقي عباس من عاتكة أذى شديدا فيما أفشى من حديثها فلما كان مساء ليلة الثالثة من الليالي التي رأت فيها عاتكة الرؤيا جاءهم الراكب الذي بعث أبو سفيان ضمضم بن عمرو الغفاري فقال : يا آل غالب انفروا فقد خرج محمد وأصحابه ليعترضوا لأبي سفيان فاحرزوا عيركم ففزعت قريش أشد الفزع واشفقوا من رؤيا عاتكة ونفروا على كل صعب وذلول

حضرت عروہ فرماتے ہیں : حضرت عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا، رسول کرویم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پھوپھی تھیں، وہ اپنے بھائی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس رہتی تھیں۔ پس انہوں نے غزوہ بدر سے تھوڑا پہلے ایک خواب دیکھا تو گھبرا گئیں ، انہوں نے اپنے بھائی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اسی رات پیغام بھیجا جب وہ پریشان ہوئیں، اور ان کی نیند اڑ گئی اور کہا: میں نے ایک خواب دیکھا ہے ، اس کی وجہ سے مجھے آپ کی قوم کی ہلاکت کا ڈر ہے ۔ انہوں نے کہا : تو نے کیا دیکھا ہے ؟ کہا : میں ہر گز آپ کو نہیں بتاؤں گی یہاں تک کہ آپ مجھے وعدہ دیں کہ آپ کسی سے اس کا ذکر نہیں کریں گے ، کیونکہ اگر کفار مکہ نے سن لیا تو وہ ہمیں تکلیف دیں گے اور ہمیں وہ کچھ سنائیں گے جو ہمیں پسند نہیں ہے ۔ پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے معاہدہ کر لیا انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک سوار دیکھا ہے جو مکہ کی بلند جگہ سے اپنی سواری پر بلند آواز سے چیختا چلاتا ہوا آ رہا ہے ، اے آل غدر اے آل فجر دو یا تین راتوں میں اپنے گھروں سے نکلو ! پھر وہ اپنی سواری پر سوار مسجد حرام میں داخل ہوا اور تین بار بلند آواز سے چلایا مرد ، عورتیں اور بچے اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کی وجہ سے تمام لوگ بہت پریشان ہو گئے ہیں ، پھر کعبہ کی چھت پر بھی وہ ادمی مجھے دیکھا گیا ( یا میرا خیال ہے ) وہ تین بار بلند آواز سے چلایا : اے آل غدر اور اے آل فجر ! دو تین راتوں میں نکلو حتیٰ کہ اس نے اس آدمی کو بھی سنوایا جو مکہ والوں میں سے دو شہتیروں کے درمیان ( چھت کے نیچے ) تھا۔ پھر اس نے ایک بہت بڑی چٹان کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو اس کے پاس جا کر اس کو جڑ سے اکھیڑ دیا ، پھر اسے اہل مکہ پر یوں پھینکا کہ چٹان گونجتی ہوئی گئی حتیٰ کہ جب وہ پہاڑ کے پاس پہنچی تو ریزہ ریزہ ہو گئی ، پس مجھے تو ایسے ہی معلوم ہوا کہ مکہ کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں اس چٹان کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا ضرور پہنچا ۔ پس مجھے خوف ہے کہ آپ کی قوم پر کوئی تکلیف آئے گی ۔ پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی اس سے پریشان ہو گئے اور اسی وقت ان کے پاس سے نکل گئے ۔ پس وہ اسی رات کے آخری حصے میں ولید بن عتبہ بن ربیعہ سے ملے ۔ وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ، پس حضرت عباس نے حضرت عاتکہ کا خواب اس کو بتا دیا، لیکن اسے تاکید کی کہ وہ کسی کے سامنے ذکر نہ کرے ۔ پس ولید نے اپنے والد کے سامنے ذکر کیا ( اس کے والد ) عتبہ نے شیبہ کے سامنے ذکر کیا۔ یہ بات عام ہو گئی حتیٰ کہ ابو جہل بن ہشام تک جا پہنچی ۔ پس جب صبح ہوئی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے ، جب انہوں نے صبح کی تو انہوں نے ابو جہل عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، امیہ بن خلف ، زمعہ بن اسود اور ابو البختری ایک گروہ میں بیٹھ کر باتیں کر رہے تھے ۔ پس جب ان کی نظر حضرت عباس رضی اللہ عنہ پر پڑی کہ وہ طواف کر رہے ہیں ، ابو جہل نے ان کو نداء دی : اے ابو الفضل ! جب طواف پورا کر تو ہمارے پاس ضرور آئیں ۔ پس جب انہو ں نے طواف مکمل کیا تو ان کے پاس آ کر بیٹھ گئے ۔ ابو جہل بولا : اے بو ہاشم ! کیا تم اس پر خوش ہو کہ لوگ تمہیں جھوٹا کہیں حتیٰ کہ تم ہمارے پاس اپنی عورتوں کے جھوٹ لے کر آؤ، بے شک ہم اور تم کمال میں برابر ہیں ، اس وقت سے ہم بزرگی میں آگے نکل گئے ، جب قافلے برابر ہوئے ۔ تم نے کہا : ہم میں سے ایک نبی ہے ، پس اب یہی رہ گیا ہے کہ تم کہو : ہم میں سے ایک نبیہ ہے ( کم از کم ) میں قریش میں کوئی ایسا گھر نہیں جانتا ، جس نے تم میں سے کسی مرد یا عورت کو جھٹلایا ہو اور م نے اسے سخت تکلیف نہ دی ہو۔ اور ابو جہل نے کہا : عاتکہ کا گمان ہے کہ ایک سوار ہے ، جس نے کہا : دو راتوں میں یا تین راتوں میں نکلو ۔ پس اگر یہ تین راتیں گزر گئیں تو قریش کیلئے تمہارا جھوٹ ظاہر ہو جائے گا اور ہم ایک کتبہ رکھ کر کعبہ سے لٹکا دیں گے کہ پورے عرب میں اس گھر سے زیادہ جھوٹا کوئی گھر نہیں ہے ۔ خواہ مرد ہوں یا عورتیں ، اے بنو قصی ! کیا تم اس بات پر خوش ہو کہ تم کعبہ کی دربانی مجلس مشاورت ، پانی پلانے کی عزت ، سیرابی اور حاجیوں کی مہمان نوازی کا نظام سب ختم کر دو۔ یہاں تک کہ تم ہمارے پاس آؤ اور تمہارا گمان ہو کہ تم میں سے ایک نبی ہے ، لوگ اسے سخت تکلیف دیں ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : ٹھہر ! ارے کیا تو رکنے والا نہیں ہے ، کیونکہ جھوٹ تیرے اندر اور تیرے گھر والوں کے اندر ہے ۔ حاضرین نے ان سے کہا : اے ابو فضل ! نہ آ پ جاہل ہیں اور نہ ہی سٹھیائے ہوئے ہیں ۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حضرت عاتکہ رضی اللہ عنہ کی بات عام کرنے کی وجہ سے خاصی تکلیف اٹھانا پڑی۔ پس جب راتوں میں سے تیسری رات کی شام جس میں حضرت عاتکہ نے خواب دیکھا تھا تو ان کے پاس سوار آ گیا جسے ابو سفیان نے بھیجا تھا اور اس کا نام ضمضم بن عمرو غفاری تھا ۔ اس نے کہا : اے اآل غالب چلو بھاگو ! تحقیق ( حضرت ) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اپ کے صحابہ نے چڑھائی کی ہے تاکہ ابو سفیان ( اور اس کے قافلے ) کو روک لیا، پس اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کرو، قریش حد درجہ پریشان ہوئے اور ( اب ) انہیں حضرت عاتکہ کے خواب کی وجہ سے ڈر مھسوس ہوا اور ہر طاقتور اور کمزور اونٹ پر سوار ہو کر نکل کھڑے ہوئے ۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20879

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العين ‹ عاتكة بنت عبد المطلب عمة رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 20880

861 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الزبير بن بكار حدثني مصعب بن عبد الله وغيره من قريش أن عاتكة بنت عبد المطلب قالت Y في صدق رؤياها وتكذيب قريش لها حين أوقع بهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ببدر : ( ألم تكن الرؤيا بحق ويأتكم ... بتأويلها فل من القوم هارب رأى فأتاكم باليقين الذي رأى بعينيه ما تفري السيوف القواضب فقلتم ولم أكذب كذبت وإنما يكذبني بالصدق من هو كاذب وما فر إلا رهبة الموت منهم حكيم وقد ضاقت عليه المذاهب أقر صباح القوم عزم قلوبهم فهن هواء والحلوم عوازب مروا بالسيوف المرهقات دماءكم كفاحا كما يمري ا لسحاب الجنائب فكيف رأى يوم اللقاء محمدا بنو عمه والحرب فيها التجارب ألم يغثهم ضربا يحار لوقعه السحيان وتبدو بالنهار الكواكب ألا بأبي يوم اللقاء محمدا إذا عض من عون الحروب الغوارب كما بردت أسيافه من مليكتي زعازع وردا بعد إذ هي صالب حلفت لئن عدتم ليصلمنكم مجافا تردى حافتيها المقانب كأن ضياء الشمس لمع بروقها لها جانبا نور شعاع وثاقب )

حضرت معصب بن عبداللہ اور ان کے علاوہ کسی قریشی نے حدیث بیان کی ہے کہ حضرت عاتکہ بنت عبدالمطلب نے اپنے خواب کے سچا ہونے اور قریش مکہ کے جھوٹا ہونے کے حوالے سے کہا ، جب بدر کے مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ساتھ جنگ کی : " کیا خواب حق اور سچ نہیں تھا اور تمہارے پاس اس کی تعبیر بھی آ گئی قوم میں سے بھاگنے والے کے سر پر تلوار مارو، اس نے دیکھا : پس وہ اس یقین سے آیا جس کو اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا، جب تک تیز تلواریں کند نہیں ہو گئیں۔ پس تم نے کہا اور میں نے جھوٹ نہیں بولا کہ میں نے جھوٹ بولا ، میرے صدق کو صرف وہی جھٹلاتا ہے جو خود جھوٹا ہے ۔ نہیں بھاگا مگر موت کے ڈر سے ان میں سے دانا جبکہ اس پر جانے کے راستے تنگ ہو گئے ۔ صبح کے وقت قوم کے دلوں کے عزم مضبوط ہو گئے ، پس وہ کھوکھلی ہیں اور عقل سے دور ہیں ۔ تلواروں سے کہو جو عنقریب تمہارے خون بہانے والی ہیں ، جس طرح بادل پہلو بہ پہلو بارش کا پانی بہاتے ہیں ۔ پس مڈ بھیڑ کے دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا کے بیٹے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھیں گے ، جس میں جنگ اپنے زوروں پر ہوگی، کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی ایک قسم عدو نہیں کی سحیان کے واقعہ کی وجہ سے حیران کن ہے اور دن کے وقت ستارے نظر آ گئے ۔ خبردار ! میرا باپ قربان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کے دن پر جب جنگوں کی مدد ست غوارب ( ہر چیز کا بلند حصہ ) نے داڑھوں سے پکڑا۔ جس طرح ان کی تلواروں نے ٹھنڈا کر دیا بعد اس کے کہ وہ سخت تھیں ، میری قسمت میں آندھیاں ہیں ۔ میں نے قسم اٹھائی کہ اگر تم واپس آؤ تاکہ وہ تمہیں کاٹ دیں ، اس کی دونوں جماعتوں کو گھڑ سوار دستوں نے ہلاک کر دیا، گویا سورج کی روشنی اور اس کی روشنی کی چمک الگ ہے اور شعاع اور ٹوٹنے والا نور الگ ہے ۔

مصعب بن عبد الله وغيره من قريش أن عاتكة بنت عبد المطلب ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20880

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب · حديث 10552

10532 - حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا عبيد بن إسحاق العطار ثنا زهير عن أبي إسحاق عن عمرو بن عبد الله الأصم عن ابن مسعود قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الرؤيا بشرى من الله عز و جل وهي من سبعين جزءا من النبوة وإن ناركم هذه من سبعين جزءا من سموم حهنم وإنه من أتى المسجد ينتظر الصلاة فهو في صلاة مالم يحدث ومن عقب الصلاة بعد الصلاة فهو في صلاة ما لم يحدث

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو لوگوں کو گھر عطا فرمائے اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھی ایک گھر دیا جو دیا ‘صحابہ نے آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! اس کو ہم سے دور کر دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ نے مجھے مبعوث ہی کیوں فرمایا ہے؟ بے شک اللہ تعالیٰ نے کسی اُمت کو تقدس عطا نہیں فرمایا جن کے کمزور کو وہ اس کا حق نہ دیں۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عمرو بن عبد الله الأصم ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10552

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب · حديث 10560

10540 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا محمد بن عبد العزيز ابن أبي رزمة ثنا الفضل بن موسى عن مسعر بن كدام عن الركين عن أبيه عن ابن مسعود رضي الله عنه قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الرؤيا الصادقة [ الصالحة ] جزء من ستة وسبعين جزءا من النبوة

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ پیدا ہوتا ہے تو مؤمن ہوتا ہے ‘زندگی گزارے گا تو مؤمن ‘لیکن مرے گا تو کافر ہوگا (ایسا بھی ہوگا کہ) ایک آدمی کفر پر پید ا ہو گا ‘کفر پر زندگی گزارے گا لیکن ایمان پر مرے گا ‘بے شک بندہ ایک لمبا زمانہ سعادت والے کام کرتا ہے ‘پھر لکھا اُس پر غالب آ جاتا ہے تو وہ بدبخت ہو کر مر جاتا ہے اور ایک آدمی لمبا وقت بدبختی والے کام کرتا رہتا ہے پھر اسے لکھا ہوا پالیتا ہے تو وہ اس حال میں فوت ہوتا ہے کہ خوش بخت ہوتا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← الرُّکَيْنَ ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← محمد بن عبد العزيز ابن أبي رزمة، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10560

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10753

10733 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الوطي ثنا يحيى بن صالح الوحاظي ( ح ) وحدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج المصري ثنا يوسف بن عدي قالا : ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه عن عبد الله عن ابن عباس رضي الله عنهما قال Y تنفل رسول الله صلى الله عليه و سلم سيفه ذا الفقار يوم بدر وهو الذي رأى فيه الرؤيا يوم أحد

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن ٹھہرئے ‘آپ ان دنوں میں نماز قصر پڑھتے رہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الوطي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10753

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ مصعب بن سعد عن معاذ بن جبل · حديث 17065

310 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال سمعت الأعمش يحدث عن عبد الملك بن ميسرة عن مصعب بن سعد ان معاذ بن جبل قال Y والله ان عمر في الجنة وما أحب أن لي حمر النعم أنكم تفرقتم قبل أن أخبركم لم قلت ذلك ؟ ثم حدثهم الرؤيا التي رأى النبي صلى الله عليه و سلم في شأن عمر فقال : ورؤيا النبي صلى الله عليه و سلم حق

حضرت مصعب بن سعد سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم بخدا! بے شک حضرت عمر جنتی ہیں‘ مجھے پسند نہیں ہے کہ میرے لیے سرخ نعمتیں ہوں جبکہ تم بکھر جاؤ اس سے پہلے کہ میں تمہیں خبر دوں کہ میں نے کیوں یہ کہا ہے۔ پھر وہ خواب لوگوں کے سامنے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں دیکھا تھا‘ فرمایا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خواب حق اور سچ ہیں۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17065

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ سليمان بن سمرة عن أبيه · حديث 7073

7057 - وبإسناده عن سمرة Y قال أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول لنا : إن أبا بكر تأول الرؤيا وإن الرؤيا الصالحة حظ من النبوة

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں مشرکوں پر لعنت کرتے تو قریش سے ابتداء کرتے‘ پھر اس کے بعد عرب کے بہت زیادہ قبائل سے‘ آپ سے ایک مرتبہ عرض کی گئی: قریش کے کافروں پر لعنت کریں‘ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی قبیلہ پر لعنت کر تے ( تو کہتے :) اے اللہ ! قریش کے بنی فلاں کے کافروں پر لعنت فرما!

سَمُرَةَ ← وَبِإِسْنَادِهِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 7073

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11664

11640 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن بشار النسائي ثنا إسحاق بن راهوية أنا عمرو بن محمد العنقري ثنا إبراهيم بن يزيد عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن ابن عباس Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : عجبت لصبر أخي يوسف وكرمه والله يغفر له حيث أرسل ليستفتى في الرؤيا ولو كنت أنا لم أفعل حتى أخرج وعجبت لصبره وكرمه والله يغفر له أتي ليخرج فلم يخرج حتى أخبرهم بعذره ولو كنت أنا لبادرت الباب ولولا الكلمة لما لبث في السجن حيث يبتغي الفرج من عند غير الله قوله { اذكرني عند ربك }

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند گرہن لگا ‘لوگوں نے کہا: چاند کو جادو کیا گیا ‘یہ آیت نازل ہوئی: ” اقتربت الساعة وانشق الٰى قوله مستمر ‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← عمرو بن محمد العنقري ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← أحمد بن عبد الرحمن بن بشار النسائي،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11664

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11665

11641 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا سعيد بن منصور ثنا سفيان عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن ابن عباس Y في قوله { وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس } قال : هي رؤيا رآها النبي صلى الله عليه و سلم ليلة أسري به وليست برؤيا منام

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا ‘اس کے بعد ابن جریج والی حدیث ذکر کی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاکَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11665

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكرمة عن ابن عباس · حديث 11751

11727 - حدثنا بشر بن موسى ثنا خلف بن الوليد ثنا إسرائيل عن سماك بن حرب عن عكرمة عن ابن عباس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الرؤيا الصالحة جزء من سبعين جزءا من النبوة

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ ! آپ اُن صحابہ کرام کے متعلق بتائیں جن کا وصال اس حالت میں ہوا کہ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا کیونکہ اللہ لوگوں پر رؤف و رحیم ہے‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 11751

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ سعيد بن جبير عن ابن عباس · حديث 12318

12292 - حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا سريج بن النعمان ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس Y أن جبريل عليه السلام ذهب بالنبي صلى الله عليه و سلم إلى جمرة العقبة فعرض له الشيطان فرماه بسبع حصيات [ فساخ ثم أتى الجمرة القصوى فعرض له الشيطان فرماه بسبع حصيات ] فلما أراد إبراهيم عليه السلام أن يذبح إسحاق قال لأبيه : إذا ذبحتني فاعتزل لا أضطرب فينتفح عليك دمي فشده فلما أخذ الشفرة وأراد أن يذبجه نودي من خلفه أن يا إبراهيم قد صدقت الرؤيا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدالفطر کے دن نکلا ‘آپ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی ‘بغیر اذان اور اقامت کے ‘پھر سواری پر سوار ہوئے ‘اس پر خطبہ دیا ‘پھر عورتوں کے پاس آئے ‘ان کو خطبہ دیا اور صدقہ دینے پر اُبھارا فرمایا: اے عورتوں کے گروہ ! صدقہ دو! عورتیں اپنے زیورات اور سونا ‘حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 12318

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه · حديث 8161

ثم يستقبل الناس بوجهه وكان يعجبه الرؤيا فيقول : هل رأى أحد منكم شيئا قال ابن زمل : فقلت : أنا يا نبي الله قال خيرا تلقاه وشرا توفاه وخيرا لهنا وشرا على أعدائنا والحمد لله رب العالمين أقصص روياك فقلت : رأيت جيمع الناس على طريق رحب سهل لأحب والناس على الجادة منطلقين فبينا هم كذلك إذا اشفى ذلك الطريق على مرج لم تر عيناني مثله يرف رفيفا ويقطر نداه فيه من أنواع الكلأ وكأني بالرعلة الأولى حتى أشفوا على المرج كبروا ثم ركبوا رواحلهم في الطريق فنهم المرتع ومنهم الآخذ الضعث ومضوا على ذلك قال : ثم قدم معظم الناس فلما أشفوا على المرج كبروا فقالوا : خير المنزل فكأني أنظر إليهم يميلون يمينا وشمالا فلما رأيت ذلك لزمت الطريق حتى آتى أقصى المرج فإذا أنا بك يا رسول الله على منبر فيه سبع درجات وأنت في أعلاها درجة وإذا عن يمينك رجل آدم ششل أفتى إذا هو تكلم يسمو فيفرع الرجال طولا وإذا عن يسارك رجل تار ربعة أحمر كثير خيلان الوجه كأنما حمم شعره بالماء إذا هو تكلم أصغيتم له إكراما وإذا أمامك شيخ أشبه الناس بك خلقا ووجها كلكم تؤمونه تريدونه وإذا أمام ذلك ناقة عجفاء شارف وإذا أنت يا رسول الله كأنك تتقيها قال : فانتفع لون رسول الله صلى الله عليه و سلم ساعة ثم سري عنه فقال : أما ما رأيت من الطريق السهل الرحب اللاحب فذلك ما حملتم عليه الهدى وأنتم عليه وأما المرج الذي رأيت فالدنيا وعصارة عيشها مضيت أنا وأصحابي لم نتعلق بها شيئا ولم نردها ولم تردنا ثم جاءت الرعلة الثانية بعدنا وهم أكثر منا ضعافا فمنهم المرتع ومنهم الآخذ الضغث ونحوه على ذلك ثم جاء عظم الناس فمالوا في المرج يمينا وشمالا فأنا لله وإنا إليه راجعون أما أنت فمضيت على طريقة صالحة فلم تزل عليها حتى تلقاني وأما المنبر الذي رأيت فيه سبع درجات وأنا في أعلى درجة فالدنيا سبعة آلاف سنة وأنا في آخرها ألفا وأما الرجل الذي رأيت على يميني الآدم الششل فذلك موسى عليه السلام إذا هو تكلم يعلو الرجال بفضل صلاح الله إياه والذي رأيت عن يساري التار الر بعة الكبير خيلان الوجه فكأنما حمم شعره بالماء فذاك عيسى بن مريم نكرمه لإكرام الله إياه وأما الشيخ الذي رأيت أشبه الناس بي خلقا ووجها فذلك أبونا إبراهيم عليه السلام كلنا نؤمه ونقتدي به وأما الناقة التي رأيت ورأيتني أتقيها فهي الساعة علينا تقوم لا نبي بعدي ولا أمة بعد أمتي قال : فما سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رؤيا بعدها إلا أن يجيء الرجل فيحدثه بها متبرعا

پھر لوگوں کی طرف چہرہ مبارک کرتے ‘ خوابآ پ کو بہت خوش لگتے تھے ‘ فرماتے: کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ابن زمل کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! میں نے دیکھا ہے۔فرمایا: تو بھلائی سے ملے اور برائی سے بچ جائے ‘ بھلائی ہمارا حصہ ہے اور برائی کا وبال ہمارے دشمنوں پر ہے ‘ تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں‘ اپنا خواب بیان کیجئے! میں نے عرض کی: میں نے دیکھا کہ تمام لوگ ایک کھلے ‘ نرم راستے پر ہیں اور کچھ لوگ پختہ راستے پہ چل رہے ہیں ‘ وہ لوگ اسی حال پر ہیں کہ اچانک وہ راستہ رات کے آخری حصے میں ایک کھلی چراگاہ پر پہنچ گیا‘ اس کی مثل میری آنکھوں نے کوئی چیز نہ دیکھی تھی ‘ پرندوں کے پروں کی آواز آ رہی تھی ‘ اس میں شبنم گر رہی تھی، قسم قسم کی گھاس تھی ‘ گویا میں ہراول دستہ یعنی پیش رو جماعت میں تھا یہاں تک کہ سارے اس چراگاہ پر پہنچ گئے ‘ انہوں نے تکبیر کہی اور اپنی سواریوں کو راستے پر لگایا ‘ ان میں سے کچھ چرنے والے کچھ لینے والے ‘ مٹھا بنانے والے تھے ‘ اسی حال میں کہ وہ اس پر سے گزر گئے ۔ کہتے ہیں: پھر بڑے بڑے لوگ آئے ‘ جب چراگاہ پر پہنچے تو اللہ اکبر کہا ‘ اور کہا کہ بہترین مقام ہے ‘ گویا میں ان سب کو دیکھ رہا ہوں ‘ کہ کوئی دائیں جا رہا ہے کوئی بائیں ۔ جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے بھی راستہ پکڑ لیا ‘ حتی ٰکہ میں چراگاہ کے آخر تک آیا۔ اچانک میں آپ کے ساتھ ہوں ‘ اے اللہ کے رسول! ایک منبر پر جس کی سات سیٹرھیاں ہیں اور آپ سب سے اوپر والی سیٹرھی پر ہیں ‘ آپ کی دائیں جانب ایک آدمی گندم گوں ‘ سنجیدہ ‘ بلند بینی والے تھے ‘ اس نے گفتگو کی‘ پس لوگ فارغ ہوئے جاتے ہیں لمبائی میں ‘ آپ کی بائیں جانب بھی ایک آدمی ہے بھرا جسم ‘ درمیانہ قد ‘ سرخ رنگ ‘ بارعب ‘ گویا اس کے ہاں پانی سے دھو کر چمٹا دیئے گئے ہیں ‘ وہ کلام کرتا ہے اور اس کے اکرام میں تم سب غور سے سنتے ہو ‘ آپ کے سامنے ایک بزرگ ہے تمام لوگوں سے زیادہ چہرے اور شکل کے لحاظ سے آپ کی طرح ہے ‘ تم سب لوگ اسی کا ارادہ کرتے ہو اور اسے چاہتے ہو۔ اس کے سامنے ایک کمزور سی اونٹنی ہے اور اے اللہ کے رسول! گویا آپ اس سے بچتے ہیں ۔ راوی کا بیان ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ ایک گھڑی میں چمک اٹھا‘ پھر اس سے سرگوشی کی (یعنی پوشیدہ طور پر بتایا) ‘ فرمایا: وہ جو نرم کھیلا اور واضح راستہ تو نے دیکھا ‘ وہ وہی ہدایت کا راستہ ہے جس پر تم کو ڈالا گیا ہے اور تم اسی پر ہو۔ بہرحال چراگاہ ‘ جو تو نے دیکھی ‘ وہ دنیا ہے اور اس کی عیش کا نتیجہ ‘ میں اور میرے صحابہ ( جلدی ) اس سے گزر گئے ‘ اس سے کوئی سروکار نہیں رکھا‘ نہ اترے اور نہ ارادہ کیا۔ پھر دوسرا قافلہ ہمارے بعد آیا ‘ وہ ہم سے زیادہ کئی گنا تھے ‘ پس ان میں سے چرنے والے ‘ مٹھی بھر بھر کر لینے والے اور اس جیسے ( بہر حال ) پھر لوگوں میں سے بڑے آئے ‘ پس وہ چراگاہ میں دائیں بائیں جھکے : اناللہ وانا الیہ راجعون! بہر حال تو نیک راستے پر چلا‘ پس اس ( چراگاہ) پر نہیں اترا حتی ٰکہ مجھے سے آ کر ملا ‘ لیکن وہ منبر جو تو نے دیکھا اس میں سات سیٹرھیاں تھیں اور میں سب سے اوپر والی پر تھا ‘ جو آ دمی تو نے میری دائیں طرف دیکھا وہ حضرت موسی علیہ السلام تھے ‘ وہ بلند آواز سے لوگوں پر گفتگو کرتے تھے‘ اللہ کے عطا کردہ فضل سے ‘ اور جو آدمی تو نے میری بائیں طرف دیکھا بھاری جسم ‘ درمیانہ قد پانی کے ساتھ گویا ان کے بالوں کو گرم کیا گیا ہے ‘ وہ حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام تھے ‘ اللہ نے ان کو عزت دی اس لیے ہم ان کی عزت کر رہے تھے ‘ بہر حال وہ بزرگ جو تو نے شکل و چہرے کے لحاظ سے میرے مشابہ دیکھے تو وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ‘ ہم سب ان کو اپنا امام بناتے ہیں اور ان کی اقتداء کرتے ہیں اور وہ اونٹنی جو تو نے دیکھی اور مجھے اس سے بچتے ہوئے دیکھا ‘ وہ ہم پر آنے والی قیامت کی گھڑی تھی کیونکہ میرے بعد نبی کوئی نہیں اور تمہارے بعد امت کوئی نہیں۔ راوی کا بیان ہے: اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خوابوں کے بارے میں سوال نہ کیا مگر کوئی آدمی خود آ کر رضا کارانہ طور پر سناتا ۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8161

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الضاد ‹ 742 - ضحاك بن زمل الجهني · حديث 8162

8146 - حدثنا أحمد بن النضرالعسكري و جعفر بن محمد الفريابي قالا ثنا الوليد بن عبد الملك بن مسرح الحراني ثنا سليمان بن عطا القرشي الحراني عن مسلمة بن عبد الله الجهني عن عمه أبي مشجعة بن ربعي الجهني عن ابن زمل الجهني قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى الصبح قال وثان رجله : سبحان الله وبحمده واستغفر الله إنه كان توابا سبعين مرة ثم يقول : سبعين بسبعمائة لا خير لمن كانت ذنوبه في يوم واحد أكثر من سبعمائة ثم يستقبل الناس بوجهه وكان يعجبه الرؤيا فيقول : هل رأى أحد منكم شيئا قال ابن زمل : فقلت : أنا يا نبي الله قال خيرا تلقاه وشرا توفاه وخيرا لهنا وشرا على أعدائنا والحمد لله رب العالمين أقصص روياك فقلت : رأيت جيمع الناس على طريق رحب سهل لأحب والناس على الجادة منطلقين فبينا هم كذلك إذا اشفى ذلك الطريق على مرج لم تر عيناني مثله يرف رفيفا ويقطر نداه فيه من أنواع الكلأ وكأني بالرعلة الأولى حتى أشفوا على المرج كبروا ثم ركبوا رواحلهم في الطريق فنهم المرتع ومنهم الآخذ الضعث ومضوا على ذلك قال : ثم قدم معظم الناس فلما أشفوا على المرج كبروا فقالوا : خير المنزل فكأني أنظر إليهم يميلون يمينا وشمالا فلما رأيت ذلك لزمت الطريق حتى آتى أقصى المرج فإذا أنا بك يا رسول الله على منبر فيه سبع درجات وأنت في أعلاها درجة وإذا عن يمينك رجل آدم ششل أفتى إذا هو تكلم يسمو فيفرع الرجال طولا وإذا عن يسارك رجل تار ربعة أحمر كثير خيلان الوجه كأنما حمم شعره بالماء إذا هو تكلم أصغيتم له إكراما وإذا أمامك شيخ أشبه الناس بك خلقا ووجها كلكم تؤمونه تريدونه وإذا أمام ذلك ناقة عجفاء شارف وإذا أنت يا رسول الله كأنك تتقيها قال : فانتفع لون رسول الله صلى الله عليه و سلم ساعة ثم سري عنه فقال : أما ما رأيت من الطريق السهل الرحب اللاحب فذلك ما حملتم عليه الهدى وأنتم عليه وأما المرج الذي رأيت فالدنيا وعصارة عيشها مضيت أنا وأصحابي لم نتعلق بها شيئا ولم نردها ولم تردنا ثم جاءت الرعلة الثانية بعدنا وهم أكثر منا ضعافا فمنهم المرتع ومنهم الآخذ الضغث ونحوه على ذلك ثم جاء عظم الناس فمالوا في المرج يمينا وشمالا فأنا لله وإنا إليه راجعون أما أنت فمضيت على طريقة صالحة فلم تزل عليها حتى تلقاني وأما المنبر الذي رأيت فيه سبع درجات وأنا في أعلى درجة فالدنيا سبعة آلاف سنة وأنا في آخرها ألفا وأما الرجل الذي رأيت على يميني الآدم الششل فذلك موسى عليه السلام إذا هو تكلم يعلو الرجال بفضل صلاح الله إياه والذي رأيت عن يساري التار الر بعة الكبير خيلان الوجه فكأنما حمم شعره بالماء فذاك عيسى بن مريم نكرمه لإكرام الله إياه وأما الشيخ الذي رأيت أشبه الناس بي خلقا ووجها فذلك أبونا إبراهيم عليه السلام كلنا نؤمه ونقتدي به وأما الناقة التي رأيت ورأيتني أتقيها فهي الساعة علينا تقوم لا نبي بعدي ولا أمة بعد أمتي قال : فما سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن رؤيا بعدها إلا أن يجيء الرجل فيحدثه بها متبرعا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنو ازد قبیلے کا ایک آدمی دشمنی والا جس کا نام ضمام تھا ‘ یمن میں رہتا تھا ‘ بدروحوں کا علاج کیا کرتا تھا‘ پس وہ مکے آیا ‘ پس اس نے خسیس لوگوں سے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جادوگر ہیں ‘ کاہن اور مجنون ہیں ۔ ( نیک نیت تھا ) اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کے پاس جاؤں تو ممکن ہے اللہ میرے ہاتھ پر اسے شفاء دے ۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو اس نے کہا: اے محمد ! میرے ہاتھ پر اللہ شفاء دیتا ہے ‘ میں ان بدروحوں کا معالج ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ‘ ہم اسی کی حمد کرتے ہیں ‘ اس سے مدد طلب کرتے ہیں ‘ جس کو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کی گمراہی کے اسباب اللہ مہیا کرے ‘ اسے کوئی ہدایت دینے والانہیں ‘ میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔اس نے کہا: دوبارہ پڑھو! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار پڑھا اس نے کہا: میں نے کاہنوں ‘‘ جادوگروں اور شاعروں کے اقوال سنے ہیں ‘ میں نے ان کلمات کی مثل کوئی چیز نہیں سنی ‘ تحقیق میں قاموس البحر کو پہنچے ہیں ‘ اپنا ہاتھ بڑھائیں تا کہ میں اسلام پر بیعت کروں‘ پس آپ نے ہاتھ آگے کیا تو اس نے اسلام پر بیعت کر لی اور میری قوم پر ‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم پر بھی اس کو بیعت کی ۔

ابن زمل الجهني ← عَمِّهِ أَبِي مَشْجَعَةَ بْنِ رِبْعِيِّ الْجُهَنِيِّ، ← مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ← سليمان بن عطا القرشي الحراني ← الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسَّرحٍ الْحَرَّانِيُّ ← أحمد بن النضرالعسكري و جعفر بن محمد الفريابي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8162

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو عبيد الله بن مشكم عن عوف · حديث 14825

118 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا أبو مسهر و محمد بن المبارك الصوري ( ح ) وحدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عثمان ( ح ) وحدثنا إدريس بن عبد الكريم الحداد ثنا الحكم بن موسى قالوا ثنا يحيى بن حمزة عن يزيد بن عبيدة حدثني أبو عبدي الله عن عوف بن مالك Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( الرؤيا ثلاثة منها تهاويل من الشيطان ليحزن ابن آدم ومنها ما يهم يه الرجل في يقظته فرآه في منامه ومنها جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة ) فقلت له أنت سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أنا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین طرح کے ہیں ‘شیطان کے ڈراوے تا کہ آدمی غمگین ہو‘ عالمِ بیداری میں بندہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے تو عالم خواب میں اسی کو مشاہدہ کرتا ہے‘ وہ خواب جو نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک ہے۔ میں نے (یعنی ایک راوی نے ) ان سے عرض کی: آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو خود سنا؟ فرمایا: میں نے بذات خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أبو عبدي الله ← يَزِيدَ بْنِ عَبِيدَةَ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ ← هشام بن عثمان ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ ← أبو مسهر و محمد بن المبارك الصوري ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14825

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن أبي بكر وخطبته ووفاته رضي الله عنه

فلما أراد إبراهيم عليه السلام أن يذبح إسحاق قال لأبيه : إذا ذبحتني فاعتزل لا أضطرب فينتفح عليك دمي فشده فلما أخذ الشفرة وأراد أن يذبجه نودي من خلفه أن يا إبراهيم قد صدقت الرؤيا

پس جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ارادہ کیا کہ حضرت اسحاق کو ذبح کریں تو اُنہوں نے اپنے باپ سے عرض کی : جب آپ مجھے ذبح کر لیں تو مجھ سے الگ ہو جانا ‘ایسا نہ ہو کہ میں تڑپوں تو آپ پر میرا خون پڑے۔ پس اُنہوں نے اپنے بیٹے کو باندھا ‘پس جب اُنہوں نے چھری پکڑی اور ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو ان کے پیچھے سے آواز آئی: ” اے ابراہیم! بے شک آپ نے اپنا خواب سچا کر دکھایا‘‘۔

فلما أراد إبراهيم أن يذبح إسحاق

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 6742

6742 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زُرْعَةَ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمُ بْنُ مِشْكَمٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: مِنْهَا أَهَاوِيلُ الشَّيْطَانِ لِيُحْزِنَ ابْنَ آدَمَ، وَمِنْهَا مَا يَهُمُّ بِهِ الرَّجُلُ فِي يَقَظَتِهِ فَيَرَاهُ فِي مَنَامِهِ، وَمِنْهَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ» قُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «أَنَا سَمِعَتْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» لَمْ يُرْوَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ: يَزِيدُ بْنُ عُبَيْدَةَ "

یہ حدیث عوف بن مالک سے ایسی سند سے روایت ہے۔ اس کو روایت کرنے میں یزید بن عبیداللہ اکیلے ہیں۔

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 6742

المعجم الاوسط للطبرانی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 1698

1698 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قَالَ: أَنَا عَمْرُو بْنُ قُتَيْبَةَ قَالَ: نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنْتُ شَابًّا عَزَبًا، وَكُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ، وَكَانَ الرَّجُلُ مِنْهُمْ إِذَا رَأَى الرُّؤْيَا أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْبُرُهَا» لَمْ يَرْوِ هَذِّ الْحَدِيثَ عَنْ سَعِيدٍ إِلَّا الْوَلِيدُ، تَفَرَّدَ بِهِ: عَمْرٌو "

یہ حدیث سعید سے صرف ولیدہی روایت ہیں اسے روایت کرنے میں عمرو اکیلے ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ قُتَيْبَةَ ← أَحْمَدُ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Chapter of the thousand › From his name, Ahmad · Hadith 1698

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُطَّلِبٌ · حديث 8724

8724 - وَبِهِ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَرَاءَى بِي»

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے ، احتلام شیطان کی طرف سے ہے ، جو بُرا خواب دیکھے تو وہ اپنی بائیں جا نب تین دفعہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے کیونکہ وہ بُرا خواب اس کو تکلیف نہیں دے گا کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا ہے۔

«الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← اللَّيْثُ ← وبه

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: is required · Hadith 8724

المعجم الاوسط للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ: مُحَمَّدٌ · حديث 7275

7275 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُصَّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو "

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خواب صرف عالم یا کوئی نصیحت کرنے والے سے بیان کرو۔

مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ إِلَّا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو ← «لَا تَقُصَّ الرُّؤْيَا إِلَّا عَلَى عَالِمٍ أَوْ نَاصِحٍ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نُصَيْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Awsat Tibrani · Mim section › Of his name: Muhammad · Hadith 7275

chevron_left Previous
1…121314…104
Next chevron_right