مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ 56- ما يُروَى عَن رجال أهل الكوفة:
1- ما يُروَى، عَن طاووس وغيره، عَن ابن عَبَّاس، عَن النبي صَلى الله عَليه وسَلم: · حديث 2526
2526- أخبرنا سفيان، عَن سليمان بن سحيم، عَن إبراهيم بن عَبد الله بن معبد، عَن أبيه، عَن ابن عَبَّاس، قال: كشف رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم الستارة والناس صفوف خلف أبي بكر فقال: إنه لم يبق من مبشرات النبوة إلاَّ الرؤيا الصالحة يراها المسلم، أَو ترى له، ثُم قال: ألا إني نهيت أن أقرأ راكعا وساجدا أما الركوع فعظموا فيه الرب، وَأمَّا السجود فاجتهدوا في الدعاء فقمن أن يستجاب لكم.
Musnad Ishaq Bin Rahiviyah · Book › Chapter · Hadith 2526
مسند اسحاق بن راوایہ · کتاب ‹ 4- ما يُروَى، عَن أبي الطفيل، وقد رأى رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم، عَن ابن عَبَّاس، عَن النبي صَلى الله عَليه وسَلم · حديث 2640
2640- أخبرنا النضر بن شميل، حَدَّثَنا حماد بن سلمة، حَدَّثَنا أبو عاصم، عَن أبي الطفيل قال: قلت لابن عَبَّاس يزعم قومك أن رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم قد رمل وأنه سنة فقال: صدقوا وكذبوا قلت: وما صدقوا وكذبوا؟ فقال: قد رمل رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم . إن قريشا قالت: دعوهم حتى يموتوا مَوتَ النَّغَفِ، في ( ... ) الذي أحصروا فيه فلما كان من العام المقبل قدم رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم مكة والمشركون من قبل قعيقعان فأمرهم رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم أن يرملوا بالبيت ثلاثة أشواط فرملوا وسعوا إلى الركن وذلك ليس بسنة قلت لابن عَبَّاس: إن قومك يزعمون أن رسول الله صَلى الله عَليه وسَلم طاف الصفا والمروة على بعير وأن ذلك سنة فقال: صدقوا وكذبوا إن إبراهيم لما بين له المناسك عرض له الشيطان في السبع فسابقه فسبقه إبراهيم وإن جبريل ذهب به إلى الجمرة فعرض له الشيطان فرماه سبع حصيات فذهب، ثُم أتى بين الجمرة والوسطى فرماه بسبع حصيات فذهب، ثُم تل إسماعيل للجبين وعليه ثوب أبيض فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَهْ، إِنَّهُ ليس علي ثوب غير ذي يكفيني عنه فاخلعه عني حتى تلفني فيه فبينما هو يخلعه إذ نودي {أن ياإبراهيم} و{قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين} فالتفت فإذا هو بكبش أبيض أقرن أعين فذبحه، ثُم ذهب إلى الجمرة القصوى فرماها سبع حصيات، ثُم أتى به منى فقال: هذا مناخ الناس، ثُم أتى به جمعا فقال: هذا المشعر الحرام، ثُم أتى عرفة فقال له: هل عرفت؟ فمن، ثُم سميت عرفة، ثُم قال: أتدري كيف كانت التلبية إن إبراهيم أمر أن يؤذن في الناس بالحج . فرفعت له القرى، وخفضت الجبال ورؤوسها فأذن بالناس في الحج.
حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف ‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا:’’اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بُرا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی ایک نا پسندیدہ بات دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور اسے( کسی کے سامنے) بیان نہ کرے ‘وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچائے گا ۔‘‘
سیدہ عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ پر وحی کا آغاز سچے خوابو ں کے ذریعہ ہوا آپ جو بھی خواب دیکھتے تھے وہ صبح کی مانند واضح طور پر پھر آپ کے لیے تنہائی کو محبوب کر دیا گیا آپ غار حرام آتے تھے اور وہاں تخت کرتے تھے اس سے مراد متعدد راتوں تک عبادت کے لیے وہاں رہنا ہے ۔ آپ اس لیے زاد راہ ساتھ لے جاتے تھے پھر واپس دسیدہ خدیجہ کے پاس آتے تھے وہ آپکو مزید زاد راہ دے دیا کرتی تھیں یہاں تک کہ وہ وقت آگیا جب حق آپ کے پاس آگیا آپ اُس وقت غار حرا میں موجود تھے اُس غار میں فرشتہ آپ کے پاس آیا اُٗ س نے آپ سے کہا: آپ تلاوت کیجئے! اُس نے نبی اکرمﷺ سے کہا تھا کہ آپ تلاوت کیجئے! نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا ! اُس نے مجھے پکڑا اور مجھے بھینچ لیا یہاں تک کہ مجھے اُس کی طر ف سے شدت کا سامنا کرنا پڑا پھر اُس نے مجھے چھوڑ دیا اور بولا : آپ پڑھیے! میں نے کہا: میں نہیں پڑھوں گا ! تو اُس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑ کر بھینچا یہاں تک کہ مجھے دشواری ہوئی تو اُس نے مجھے چھوڑ دیا اُس نے کہا: آپ اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھئے جس نے پیدا کیا ہے یہ آیت یہاں تک ہے جو وہ نہیں جانتا ۔ نبی اکرمﷺ جب وہاں سے واپس آئے تو آپ پر کپکی طاری تھی یہاں تک کہ آپ سیدہ خدیجہ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: مجھے کچھ اوڑھنے کے لیے دو ! مجھے کچھ اوڑھنے کے لیے دو ! اُنہوں نے آپ کو اوڑھنے کے لیے دیا یہاں تک کہ جب آپ کی کیفیت زائل ہوئی تو آپ نے سیدہ خدیجہ کو پورا واقعہ سنا یا اور فرمایا: مجھے اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہے ! تو سیدہ خدیجہ نے کہا: ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوائی کا شکار نہیں کرے گا کیونکہ آپ رشہ داری کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں سچ بولتے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔ پھر سیدہ خدیجہ نے نبی اکرمﷺ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن راشد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے پاس گئیں جو سیدہ خدیجہ کا چچا زاد تھا یعنی اُن کے والد کے بھائی کا بیٹا تھا ۔راوی بیان کرتے ہیں: ہم تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرمﷺ کو وحی کے آغاز میں جس پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا اب اس کا انقطا ع کے بعد آپ کی پریشانی زیادہ ہو گئی یہاں تک کہ آپ دن میں کئی مرتبہ جاتے تھے تاکہ پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگا دیں جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو حضرت جبرائیل آپ کے سامنے آتے اور بولتے : اے حضرت محمد! اے اللہ کے رسول! آپ حق پر ہیں۔ اس سے آپ کو سکون ملتا ہے اور آپ کو قرار آجاتا ہے پھر آپ واپس جاتے تھے جب وحی کے انقطاع کا سلسلہ طویل ہو گیا تو ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ نے پھر ایسا ہی کیا جب آپ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے تو حضرت جبرائیل آپ کے سامنے آگئے اور اس کی مانند کلمات کہے: معمر بیا ن کرتے ہیں: زہری نے یہ بات بیان کی ہے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت جابر بن عبداللہ کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرمﷺ کو وحی کے انقطاع کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سنا آپ نے اپنی بات میں یہ بات بھی ارشاد فرمائی : ایک مرتبہ میں جا رہا تھا میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنائی میں نے سر کو اُٹھا کر دیکھا تو جو فرشتہ میرے پاس غار حرام میں آیا تھا وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اُسے دیکھ کر مجھ پر بڑا رعب طاری ہوا پھر وہ واپس آگیا اور میں نے کہا: مجھے کچھ اوڑھنے کے لیے دو ! مجھے کچھ اوڑھنے کے لیے دو! مجھے اوڑھنے کے لیے کمبل دو! تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے کمبل اوڑھنے والے ! یہ آیت یہاں تک ہے رجز سے علیحدگی اختیار کرو ۔ راوی کہتے ہیں: یہ نماز کی فرضیت سے پہلے کی بات ہے اور رجز سے مراد بت ہے ۔ معمر بیان کرتے ہیں: زہری نے یہ بات بیان کی ہے کہ اُنہوں نے مجھے یہ بات بھی سنائی : جب سیدہ خدیجہ کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے جنت میں خدیجہ کا گھر دکھایا گیا جو موتیوں سے بنا ہوا تھا جس میں کوئی شور اور کوئی تکلیف نہیں تھی اور وہ کھوکلے موتی کا بنا ہوا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ سے ورقہ بن نوفل کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں نے اُسے خواب میں دیکھا اُس کے جسم پر سفید کپڑے تھے میرا یہ گمان ہے کہ اگر وہ جہنمی ہوتا تو میں اُس پر سفید کپڑے نہ دیکھتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرمﷺ نے اسلام کی طرف پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ طور پر دعوت دینا شروع کر دی ۔ حسن بصری اور دیگر حضرات نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرمﷺ پر سب سے پہلے ایمان لانے والے شخص حضرت علی بن ابو طالب تھے جن کی عمر اُس وقت پندرہ یا شاید سولہ سال تھی ۔ حضرت عبداللہ بن عبا س بیان کرتے ہیں: حضرت علی اسلام قبول کرنے والے سب سے پہلے فرد ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے زہری سے دریافت کیا تو اُنہوں نے کہا: ہمارے علم کے مطابق حضرت زید بن حارثہ سے پہلے اور کسی نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت عمر نے اسلام قبول کر لیا تو اس سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کر چکے تھے کہ حضرت علی کو یہ بات بتائی گئی کہ اُنہیں اُن کی بہن اُم جمیل بنت خطاب نے اسلام قبو کر لیا اور اُن کے پاس کندھا ہے جس پر اُنہوں نے قرآن نوٹ کیا ہو ا ہے جسے وہ پوشیدہ طور پر تلاوت کرتی ہیں ۔ حضرت عمر کو یہ بات بھی بتائی گئی کہ وہ مردار گوشت نہیں کھاتی ہیں جس کا گوشت حضر ت عمر کھا لیتے ہیں۔ حضرت عمر اُس خاتون کے پاس تشریف لے گئے اور بولے: کندھے کی اُس ہڈی کا کیا معاملہ ہے ؟ جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ تمہارے پاس موجود ہے اور تم اُس کو دیکھ کر وہ چیز پڑھتے ہو جو ابن ابو قبثہ کہتے ہیں حضرت عمر کی مراد نبی اکرمﷺ تھے ۔ اُس خاتون نے جواب دیا: میرے پاس تو کوئی کندھے کی ہڈی نہیں ہے ۔ تو حضرت عمر نے اُسے طمانچہ رسید کیا اُس کی پٹائی کی پھر وہ کھڑے ہوئے گھر میں وہ ہڈی تلاش کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اُنہیں مل گئی ۔ پھر وہ اُس ہڈی کو لے کر نکلے تاکہ کسی پرھنے والے کو بلوائیں جو اُن کے سامنے پڑھ کر سنائے کہ اس میں کیا لکھا ہے حضرت عمر خود نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ جب اُس پڑھنے والے نے اُنہیں پڑھ کر سنایا اور اُنہوں نے قرآن کو سنا تو اُن کے دل میں حر کت پیدا ہوئی اور اُن کے دل میں اسلام کے بارے میں محبت پیدا ہوئی وہ شام کے وقت گئے تو نبی اکرمﷺ کے قریب پہنچے نبی اکرمﷺ اُس وقت نماز پڑھ رہے تھے اور بلند آواز میں تلاوت کر رہے تھے اُنہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہآیت تلاوت کرتے ہوئے سنا: اور تم اس سے پہلے اُن کے سامنے نہ تو کتا ب کی تلاوت کرتے تھے اور نہ ہی اپنےہاتھ کے ذریعہ لکیریں کھینچتے تھے یہ آیت یہاں تک ہے ظلم کرنے والا۔ اُنہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بھی تلاوت کرتے ہوئے سنا : اور وہ لوگ جو کافر ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ تم رسول نہیں ہو یہ آیت یہاں تک ہے کتاب کا علم۔ جب حضرت عمر نے اسلام قبول کر لیا تو وہ نکلے اور ولید بن مغیرہ کے پاس پہنچے اُنہوں نے کہا: اے میرے ماموں! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لے آیا ہوں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں آپ اپنی قوم کو اس بارے میں بتا دیجئے۔ تو ولید بن مغیرہ نے کہا: اے میرے بھانجے ! تم اپنے معاملہ پر ثابت قدم رہنا تم ایک ایسی حالت پر ہو کہ جس کے بارے میں لوگوں کے بارے میں یہ پتا چلتا ہے کہ و ہ صبح ایک وقت ایکحالت میں ہوتے ہیں اور شام کے وقت کسی اور حالت میں ہوتے ہیں ۔ تو حضرت عمر نے کہ ا: اللہ کی قسم! معاملہ میرے سامنے واضح ہو گیا ہے آپ اپنی قوم کو میرے اسلام کے بارے میں بتا دیجئے۔ تو ولید نے کہا: میں تمہارے حوالے سے یہ چیز ذکر کرنے والا پہلا فرد نہیں بنو ں گا۔ زہری بیان کرتے ہیں: مجھے حضرت انس نے یہ بات بتائی ہے : جب نبی اکرمﷺ پر معراج کی رات نمازیں فرض ہوئیں تو پچا س نمازیں فرض ہوئی تھی پھر وہ کم ہوتی ہوئی پانچ ہو گئی پھر یہ پکا ر کر کہا گیا : اے محمد! ہمارا فرمان تبدیل نہیں ہوتا تمہیں پانچ کے بدلے میں پچاس کا ثواب ملے گا ۔ زہری بیان کرتے ہیں: ابو سلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب میری قوم نے مجھے جھوٹا قرار دیا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا گیا یہاں تک کہ میں نے اُن کی صفات اُن لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کی : سعید بن مسیب نے ابو ہریرہ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : جب معراج کروائی گئی تو میری ملاقات حضرت ابو موسیٰ سے ہوئی نبی اکرمﷺ نے اُن کاحلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : وہ ایک شخص تھے جن کے س کے بال گھنگریالے تھے یوں لگتا تھا جیسے وہ شنو قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے ابراہیم کو بھی دیکھا اُن کی اولاد میں میں اُن سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس دو برتن لائے گئے اُن میں سے ایک مین دودھ تھا اور دوسرے میں شراب تھی فرشتہ نے کہا :
Musannaf Abdul Razzaq · The Maghazi Book › The door of what came in Hafar Zamzam, and has entered during the Hajj the first of what was mentioned by Abd Al-Muttalib · Hadith 9719
2839 –حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے پردہ ہٹایا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ حضرت ابو بکر کے پیچھے صفیں بنا کر کھڑے ہوئے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: نبوت کے مبشرات میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے ۔ جو اُسے دیکھائے جاتے ہیں اور مجھے اس بات سے منع کیا گیا ہے میں رکوع یا سجدہ کے عالم میں تلاوت کروں جہاں تک رکوع کا تعلق ہے تو اُس میں پروردگار کی عظمت کا اعتراف کیا جائے گا جہاں تک سجدہ کا تعلق ہے تو تم اُس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو وہ اس لائق ہو گی کہ اُسے تمہارے لیے قبول کر لیا جائے ۔
7948 - محمد بن سیف ابو رجا ء بیان کرتے ہیں: میں نے حسن بصری سے مصحف کے بارے میں دریافت کیا کہا اُس پر عربی کے نقطے لگائیں جائیں گے ؟ اُنہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیا تم تک حضرت عمر کے مکتوب کے بارے میں روایت نہیں پہنچی ہے ! اُنہوں نے خط میں یہ لکھا تھا کہ دین کے احکا م کی سمجھ بوجھ حاصل کرو اور تعبیر کا علم اچھی طرح سے حاصل کرو اور عربی زبان سیکھ لو ۔
15985 - معم رنے زہری اور قتادہ کے حوالے سے ایسے شخص کے بارے میں نقل کیا ہے : جو یہ کہت اہے : میں گواہی دیتا ہوں یا میں قسم اٹھاتا ہوں یا میں حلف اٹھاےا ہوں تو ان دونوں نے حضرات فر مایا: اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی جب تک وہ یہ نہیں کہت ا: کہ میں اللہ کے نام کا حلف اٹھاتا ہوں یا میں اللہ کئ نام کی قسم اٹھاتا ہوں ۔
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him › Amr ibn Maymoun, on the authority of Allah · Hadith 1864
مسند بزار · مُسْنَدُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ‹ يَزِيد بن الأودي · حديث 9648
9648- حَدَّثَنا علي بن سعيد المسروقي , حَدَّثَنا عبد الله بن إدريس , عن أبيه , عن جده , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرؤيا جزء من ستة أو سبعة وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.
وَهَذَا الحديثُ لاَ نَعْلَمُ رَوَاهُ عن إدريس إلا ابنه.
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › Yazid bin Al-Oudi · Hadith 9648
مسند بزار · مُسْنَدُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ‹ ما روى ابن عباس، عَن أبي هُرَيرة · حديث 7614
7614- حَدَّثنا عُمَر بن الخطاب السجستاني، قَال: حَدَّثنا أَبُو اليمان الحكم بن نافع، عَن أبي حمزة، قَال: حَدَّثني عَبد الله بن أبي حسين، قَال: حَدَّثني نافع بن جُبَير، عَن ابن عباس قال قدم مسيلمة الكذاب على عهد النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم فقدم المدينة فجعل يقول: إن جعل لي مُحَمد الأمر من بعده تبعته، وقدمها في بشر من قومه، فأقبل إليه النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم، ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وفي يد النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم قطعة جريد حتى وقف على مُسيلمة، لعنةُ الله عليه، وأصحابِهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم: لو سألتني هذه القطعة ما أعطيتكها، ولن تعدو أمر الله فيك، وَإِنِّي لأريكَ الَّذِي أُرِيتُ، وهذا ثابت بن قيس يجيبك عني، وانصرف عنه. قال ابن عباس فسألت عن قول النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم وانصرف عنه: قال ابن عباس فسألت عن قول النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم إني أريك الذي رأيت، أو الرؤيا التي رأيت فيك قال: فأخبرني أَبُو هُرَيرة أَنَّ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قَالَ: بينما هو نائم قال رأيت في يدي سوارين من ذهب فأوحي إلى في المنام انفخهما فنفختهما فطارا فأولتهما العنسي والآخر مسيلمة صاحب اليمامة.
وَهَذَا الْحَدِيثُ لاَ نعلمُهُ يُرْوَى، عَن ابْنِ عباس، عَن أبي هُرَيرة إلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ولاَ نَعْلَمُهُ يُرْوَى بِهَذَا اللَّفْظِ إلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ بِهَذَا الإسناد.
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › What Ibn Abbas narrated, on the authority of Abu Huraira · Hadith 7614
مسند بزار · مُسْنَدُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ‹ أبو أمامة بن سَهْل، عَن أبي هُرَيرة · حديث 7630
7630- حَدَّثنا يحيى بن مُحَمد السكن حدثني عَبد الغفار بن عُبَيد الله، قَال: حَدَّثنا صالح بن أبي الأخضر، عَن ابن شِهاب، عَن أبي أُمَامَة بن سَهْل، عَن أبي هُرَيرة، قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم: الرؤيا من الله والحلم من الشيطان فإذا رأى أحدكم ما يكره فليتفل عن يساره وليستعذ بالله من شره فلن يضره.
وَهَذَا الْحَدِيثُ لا نعلَمُ أحَدًا رَوَاهُ عَن الزُّهْرِيّ، عَن أبي أُمَامَة إلاَّ صالح.
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← يحيى بن محمد السكن
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › Abu Umamah bin Sahl, on the authority of Abu Huraira · Hadith 7630
Musnad e Bazzar · The chain of transmission of Hudhaifa ibn al-Yaman, may God be pleased with them › Abu Tufail from Huzaifa · Hadith 2805
مسند بزار · مُسْنَدُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ‹ مُحَمَّد بن سيرين , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أيوب , عن مُحَمَّد · حديث 9828
9828- حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بْنُ المُثَنَّى , حَدَّثَنا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ أيوب , عن محمد بن سيرين , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا اقترب الزمان لم تكد رؤيا مسلم تكذب وأصدقهم رؤيا أصدقهم أحسبه قال حديثا ورؤيا المسملم جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ والرؤيا ثلاثة فمنها بشرى من الله ورؤيا تحزين من الشيطان ورؤيا مما يحدث به المرء نفسه , فإذا رأى أحدكم ما يكره فليقم فليصل ولا يحدث به الناس ويحب القيد ويكره الغل والقيد ثبات فِي الدِّينِ.
وَهَذَا الحديثُ قَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ , عن ابن سيرين , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › Muhammad bin Sirin, on the authority of Abu Hurayrah, may God be pleased with him, Ayoub, on the authority of Muhammad · Hadith 9828
مسند بزار · مُسْنَدُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ‹ أبو حرة · حديث 9945
9945- وحَدَّثَنا يحيى بن محمد بن السكن حَدَّثَنا سلم بن سليمان حَدَّثَنا أبو حرة , عن ابن سيرين , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , رفعه قال إذا تقارب الزمان لم تكد رؤيا المسلم تكذب وأصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا والرؤيا ثلاثة فرؤيا بشرى من الله ورؤيا مما يحدث به المرء نفسه ورؤيا تحزين من الشيطان.
أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَبُو حُرَّةَ ← سلم بن سليمان ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › Abu free · Hadith 9945
مسند بزار · مُسْنَدُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ‹ أبو حرة · حديث 9946
9946- وحَدَّثَنا يحيى بن محمد حَدَّثَنا سلم بن سليمان حَدَّثَنا أبو حرة , عن محمد , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النبوة.
ولا نعلم روى حديث أبي حرة , عن محمد , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , في الرؤيا إلا سلم بن سليمان وكان راويه عن أبي حرة لم يكن به بأس.
سهل السراج
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَبُو حُرَّةَ ← سلم بن سليمان ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › Abu free · Hadith 9946
9955- حَدَّثَنا أحمد بن أبي عبيد الله أبو عَبْد الله الوراق حَدَّثَنا يزيد بن زريع حَدَّثَنا سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادةَ , عَنِ محمد بن سيرين , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إذ تقارب الزمان لم تكد رؤيا المؤمن تكذب وأصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا والرؤيا ثلاثة رؤيا مما يحدث بها الرجل نفسه ورؤيا حق ورؤيا تحزين من الشيطان وأحب القيد وأكره الغل , فإذا رأى أحدكم ما يكره فليقم فليصل.
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أحمد بن أبي عبيد الله أبو عَبْد الله الوراق
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › Qatada · Hadith 9955
9976- وَحَدَّثَنا يوسف بن موسى ووجدته مكتوبا عندي بخطي قال: حَدَّثَنا عمروبن حمران , عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادةَ , عن ابْنِ سِيرِين , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَآنِي فِي المنام فإني أنا هو فإنه ليس للشيطان أن يتمثل بي وكان يقول لا تقص الرؤيا إلا على عالم أو ناصح.
وهذا الحديثُ لا نحفظه من حديث قتادة , عن ابْنِ سِيرِين , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ , عَنِ أحد ورأيته في موضع آخر , عن هشام , عن ابْنِ سِيرِين , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عمروبن حمران ← وَحَدَّثَنا يوسف بن موسى ووجدته مكتوبا عندي بخطي
Musnad e Bazzar · The chain of narration of Ibn Abbas, may God be pleased with them › Qatada · Hadith 9976