Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الرؤى والأحلام

Dreams

2062 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2588

2588 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَهُ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ كَانَ رَأْيُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ بِالْمَدِينَةِ يُقَاتِلُهُمْ فِيهَا فَقَالَ لَهُ نَاسٌ: لَمْ يَكُونُوا شَهِدُوا بَدْرًا أَتَخْرُجُ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ نُقَاتِلْهُمْ بِأُحُدٍ، وَرَجَوْا أَنْ يُصِيبُوا مِنَ الْفَضِيلَةِ مَا أَصَابَ أَهْلُ بَدْرٍ، فَمَا زَالُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَبِسَ أَدَاتَهُ فَنَدِمُوا وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِمْ فَالرَّأْيُ رَأْيُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَضَعَ أَدَاتَهُ بَعْدَ أَنْ لَبِسَهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَدُوِّهِ» قَالَ: وَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ يَلْبَسَ الْأَدَاةَ: «إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ، وَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ، وَرَأَيْتُ أَنَّ سَيْفِي ذَا الْفَقَارِ، فُلَّ فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا فِيكُمْ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، فَبَقَرٌ، وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2588 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار جنگ بدر کے موقع پر مال غنیمت کے اضافی حصہ کے طور پر حاصل کی تھیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ وہی تلوارتھی جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احد کے دن جب مشرکین جنگ کے لئے تیار تھے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مد ینہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم لوگ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے ، یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے ہمراہ لے چلیں گے؟ تا کہ ہم دشمن کے ساتھ میدان احد میں مقابلہ کر یں اور ان کو وہی فضیلت پانے کی تمناتھی جو جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کو حاصل ہوئی تھی ، وہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس زیب تن کیا اور ہتھیا وغیرہ پہن لیے ۔ پھر وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے ہی بہتر رائےہے ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر جائیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نبی جنگ کے لئے ہتھیا راٹھالیتا ہے تو پھر جب تک اللہ تعالی اس کے اور دشمن کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا، اس وقت تک وہ اپنے ہتھیا را تارتانہیں ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: حالانکہ اس دن جنگی لباس پہنے سے پہلےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ بات بتا چکے تھے کہ میں نے ( خواب میں) دیکھا ہے کہ میں بہت مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر شہر (مدینہ) قرار دی ہے، میں نے دیکھا کہ میں ایک مینڈھے کوغبار میں روند ر ہا ہوں ، اس کی تعبیر یہ ہے کہ دشمن کے لشکر کا سر دار مارا جائے گا اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میری تلوار ذوالفقار کو دندانے پڑ گئے ہیں ، میں نے اس کی تعبیر تمہاری شکست سمجھی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم ! گائے ( کوخواب میں دیکھنا )اچھا ہے ۔ اللہ کی قسم ! گائے ( کوخواب میں دیکھنا) اچھا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ الَّذِى رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ وَذَلِكَ ← تنفل رسول الله سيفه ذا الفقار يوم بدر ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2588

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفَرَائِضِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8021

8021 - مَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِحَائِطٍ لَهُ فَأَتَى أَبَوَاهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا كَانَتْ قِيَمَ وُجُوهِنَا وَلَمْ يَكُنْ لَنَا شَيْءٌ غَيْرَهُ، فَدَعَا عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ قَبِلَ صَدَقَتَكَ وَرَدَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ» قَالَ بَشِيرٌ: «فَتَوَارَثْنَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ» وَهَذَا الْحَدِيثُ وَإِنْ كَانَ إِسْنَادُهُ صَحِيحًا عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فَإِنِّي لَا أَرَى بَشِيرَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ سَمِعَ مِنْ جَدِّهِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ، وَإِنَّمَا تَرَكَ الشَّيْخَانِ حَدِيثَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ فِي الْأَذَانِ وَالرُّؤْيَا الَّتِي قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ لِتَقَدُّمِ مَوْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، فَقَدْ قِيلَ إِنَّهُ اسْتُشْهِدَ بِأُحُدٍ، وَقِيلَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَسِيرٍ وَاللَّهُ أَعْلَمُ "

محمد عبداللہ بن زید کے بیٹے بشیر اپنے دادا حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا باغ صدقہ کردیا، ان کے والدین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے اور عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری گزر اوقات فقط اسی باغ سے ہی ہوتی ہے ، اس کے علاوہ ہمارا روزی کا کوئی آسرا نہیں ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ کو بلایا اور فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تیرا صدقہ قبول کر لیا ہے اور وہ باغ تیرے والدین کی طرف لوٹا دیا ہے ۔ بشیر کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ باغ ہمیں وراثت میں ملا۔ اس حدیث کی اسناد اگرچہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن بشیر بن محمد انصاری نے اپنے دادا عبداللہ بن زید سے سماع نہیں کیا۔ اسی اسناد کے ہمراہ عبداللہ بن زید کی اذان کے بارے میں وہ خواب جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنایا تھا منقول ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو اس لئے چھوڑا تھا کہ عبداللہ بن زید کی وفات پہلے ہے ۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ آپ جنگ احد میں شہید ہوئے اور بعض کا مؤقف یہ ہے کہ ان کی شہادت احد کے چند دنوں بعد ہوئی ۔ واللہ اعلم ۔

بَشِيرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Surplus › The merits of all Arabs · Hadith 8021

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3302

3302 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: 64] قَالَ: «هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الرَّجُلُ، أَوْ تُرَى لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3302 - صحيح

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا وفی الاٰخرۃ" (یونس:64) " ان کے لئے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اس سے مراد) اچھے خواب ہیں، جو آدمی دیکھتا ہے یاس اس کو دکھائے جاتے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [يونس: ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3302

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3380

3380 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ} [الإسراء: 60] قَالَ: «هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ رَأَى لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3380 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وماجعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس ( الاسراء : 60) " اور ہم نے یہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضارحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : یہ وہ حقیقی خواب تھا جو معراج کی رات آپ کی (جاگتی) آنکھوں نے دیکھا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابن عباس في قوله تعالى] ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3380

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 928

928 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، قَالَ: فَأُتِيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي نَوْمِهِ فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ، وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَافْعَلُوا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ سُمَيٍّ» . عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ» . وَلَيْسَ فِيهَا الرُّؤْيَا وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 928 - صحيح

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا(زید کہتے ہیں) ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کو کوئی شخص پوچھ رہا ہے کہ کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر نماز کےبعد (فلاں فلاں چیز) اتنی اتنی بار پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس نے کہا: اسکو پچیس مرتبہ پڑھ لیاکرو لیکن ساتھ ہی ساتھ "ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم"۔ بھی پڑھ لیا کرو۔ جب صبح ہوئی تو وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور رات کا دیکھا ہوا خواب سنایا(اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) ایسے کر لیا کرو۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس انداز سے بیان نہیں کیا۔ تاہم دونوں نے سمی کی وہ حدیث نقل کی ہے جس میں انہوں نے ابو صالح کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی :ذھسب اھل الدثور بالاجور" (مالدار، اجر لے گئے) والی حدیث نقل کی ہے اور اس میں خواب اور یہ زائد الفاظ موجود نہیں ہیں۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 928

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8174

8174 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: فَالرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ بِهَا الرَّجُلُ نَفْسَهُ، وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8174 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں (بھی بعض) مومنوں کے خواب سچے ہوں گے، اور سب سے زیادہ سچا خواب اس کا ہو گا جو سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہو گا، اور خواب تین طرح کے ہوتے ہیں۔ 1۔ آچھا خواب، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کے لئے خوشخبری ہوتا ہے۔ 2 ۔ ایسا خواب کہ انسان خود اپنے آپ سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے (یعنی انسان کی سوچیں متشکل ہو کر دکھائی دیتی ہیں)۔ 3۔ ایسا خواب جو شیطان کی جانب سے انسا ن کو پریشان کرنے کے لئے دکھایا جاتا ہے۔ جب کوئی ناپسند یدہ خواب دیکھے ، وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہئے ، اور بیدار وہ کر نماز پڑھ کر دعا مانگنی چاہئے ۔ اور مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، خواب میں قید دیکھنے کو میں اچھا سمجھتا ہوں اور ہتھکڑی یا طوق کو اچھا نہیں سمجھتا، خواب میں خود کو قید دیکھنا دین میں ثابت قدمی کی نشانی ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنْبَأَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8174

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8176

8176 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الْخَزَّازُ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ: «هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ أَلَا إِنَّهُ لَا يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8176 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز فجر سے فارغ ہوتے تو پوچھتے : آج رات کسی نے خواب دیکھا ہے؟ خبردار! میرے بعد نبوت کو امور میں سے صرف اچھے خواب ہی باقی رہ گئے ہیں۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ، ← إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مالک بن أنس ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مِهْرَانَ الْخَزَّازُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8176

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8177

8177 - حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَفْوَانَ الْبُخَارِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ الْبُخَارِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الرُّؤْيَا تَقَعُ عَلَى مَا تُعَبَّرُ، وَمَثَلُ ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ رَفَعَ رِجْلَهُ فَهُوَ يَنْتَظِرُ مَتَى يَضَعُهَا، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا نَاصِحًا أَوْ عَالِمًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8177 - صحيح

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خواب اسی طرح وقوع پذیر ہو جاتا ہے ، جیسے اس کی تعبیر بیان کی جائے، اور اس کی مثال ایسے دی ، کہ ایک آدمی اپنا پاؤں اٹھاتا ہے، تو وہ اس انتظار میں ہوتا ہے کہ ہو اپنے اس پاؤں کو کب رکھے گا۔ جب کوئی خواب دیکھے تو وہ اپنا خواب اپنے کسی خیر خواہ کو یا کسی عالم دین کو سنائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ مَعْمَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ الْبُخَارِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَفْوَانَ الْبُخَارِيُّ، ← أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخارى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8177

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8179

8179 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانَ الْمُقْرِئُ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: 64] قَالَ: «هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ الَّذِي [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8179 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ؛" لھم البشریٰ فی الحیاۃ الدنیا" :" انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد ہو نیک خواب ہیں جو بندہ مومن دیکھتا ہے ، ای اسے دکھائے جاتے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔

قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← نُبِّئْتُ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانَ الْمُقْرِئُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8179

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8180

8180 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: 64] فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ، هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ»

عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد " لھم البشری فی الحیاۃ الدنیا"۔ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس آیت کے بارے میں جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا ہے تب سے آج تک تیرے علاوہ اور کسی نے مجھ سے اس آیت کے بارے میں نہیں پوچھا، میں نے اس آیت کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے، تیرے سوا کسی نے مجھ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد وہ نیک خواب ہیں جو بندہ مومن دیکھتا ہے، یا اسے دکھائے جاتے ہیں۔

مَا سَأَلَنِي أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← قَوْلِ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ {لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا} [يونس: ← سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8180

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8181

8181 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا أَبُو عِيسَى مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِمَا رَأَى، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8181 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی بندہ ایسا خواب دیکھے جو اسے بہت اچھا لگے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے ہے، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور جو کچھ دیکھا ہے وہ (کسی اہل کے سامنے) بیان کرنا چاہئے۔ اور جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے، یہ شیطان کی طرف سے ہے، اس کو چاہئے کہ اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے ، اور وہ اپنا یہ خواب کسی کے سامنے بیان نہ کرے، اس کا نقصان ہو گا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← ابْنِ الْھَادِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو عيسى مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8181

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8182

8182 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَمْتُ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ وَأَنَا أَتْبَعُهُ، فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِكَ فِي الْمَنَامِ» وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8182 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک دیہاتی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کٹ گیا ہے اور میں اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو ڈانٹا اور فرمایا: خواب میں شیطان جو تیری ساتھ کھیلتا رہا ہے، وہ ہمیں مت بتا۔ اسی اسناد کے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد بھی منقول ہے کہ جب کوئی بندہ ناپسندیدہ خواب دیکھے تو وہ اپنے بائیں جانب تھوک دے اور کروٹ بدل کر لیٹ جائے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

جَابِرٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8182

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8183

8183 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَصْدَقُ الرُّؤْيَا بِالْأَسْحَارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8183 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں؛ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سحری کے وقت جو خواب آئے وہ اکثر سچا ہوتا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← عَمْرُو بْنُ سَوَادٍ السَّرْحِيُّ، ← أَبِي ← أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مهران،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8183

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8195

8195 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِيُّ، ثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: " الْفَتَيَانِ اللَّذَانِ أَتَيَا يُوسُفَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فِي الرُّؤْيَا إِنَّمَا كَانَا تَكَاذَبَا فَلَمَّا أَوَّلَ رُؤْيَاهُمَا قَالَ: إِنَّا كُنَّا نَلْعَبُ، قَالَ يُوسُفُ: قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8195 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ دو نوجوان حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس خوابوں کی تعبیر پوچھنے آئے، دونوں ہی جھوٹ بول رہے تھے، جب حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کے بیان کردہ خوابوں کی تعبیر بیان کر دی تو وہ کہنے لگے : ہم تو مزاق کر رہے تھے، حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: تم نے جس جس خواب کی تعبیر پوچھی ہے ان کے بارے میں تعبیر کے موافق فیصلہ ہو چکا ہے( اگرچہ تم نے ہو جھوٹ بیان کیا تھا)۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے میعار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْخَطْمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8195

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8199

8199 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْحَمَّالُ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ الدَّوْسِيُّ، ثَنَا الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، الرَّجُلُ يَرَى الرُّؤْيَا فَمِنْهَا مَا تَصْدُقُ وَمِنْهَا مَا تَكْذِبُ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ يَنَامُ فَيَمْتَلِئَ نَوْمًا إِلَّا عُرِجَ بِرُوحِهِ إِلَى الْعَرْشِ فَالَّذِي لَا يَسْتَيْقِظْ دُونَ الْعَرْشِ فَتِلْكَ الرُّؤْيَا الَّتِي تَصْدُقُ وَالَّذِي يَسْتَيْقِظُ دُونَ الْعَرْشِ فَتِلْكَ الرُّؤْيَا الَّتِي تَكْذِبُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8199 - حديث منكر

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملے اور کہا: اے ابو الحسن! انسان خواب دیکھتا ہے، ان میں کچھ سچے ہوتے ہیں اور کچھ جھوٹے ہوتے ہیں، حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہو سنا ہے کہ کوئی بھی مر د یا عورت جب نیند میں پوری طرح مستغرق ہو جاتا ہے، تو اس کی روح کو آسمانوں کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو روح عرش تک پہنچنے سے پہلے بیدار نہیں ہوتیں، وہ خواب سچے ہوتے ہیں، اور جو روح عرش تک پہنچنے سے پہلے ہی بیدار ہو جاتی ہے وہ خواب جھوٹا ہوتا ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← نَعَمْ ← يَا أَبَا الْحَسَنِ، الرَّجُلُ يَرَى الرُّؤْيَا فَمِنْهَا مَا تَصْدُقُ وَمِنْهَا مَا تَكْذِبُ، ← لَقِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ الدَّوْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْحَمَّالُ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ماهان ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8199

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8394

8394 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغُ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّذُورِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: لَمَّا كَانَتِ الْفِتْنَةُ الْأُولَى أَشْكَلَتْ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ أَرِنِي أَمْرًا مِنْ أَمْرِ الْحَقِّ أَتَمَسَّكُ بِهِ، قَالَ: فَأُرِيتُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ وَبَيْنَهُمَا حَائِطٌ غَيْرُ طَوِيلٍ، وَإِذَا أَنَا بِجَائِزٍ، فَقُلْتُ: لَوْ تَشَبَّثْتُ بِهَذَا الْجَائِزِ لَعَلِّي أَهْبِطُ إِلَى قَتْلَى أَشْجَعَ لِيُخْبِرُونِي، قَالَ: فَهَبَطْتُ بِأَرْضٍ ذَاتِ شَجَرٍ، وَإِذَا أَنَا بِنَفَرٍ جُلُوسٌ، فَقُلْتُ: أَنْتُمُ الشُّهَدَاءُ؟ قَالُوا: لَا، نَحْنُ الْمَلَائِكَةُ، قُلْتُ: فَأَيْنَ الشُّهَدَاءُ؟ قَالُوا: تَقَدَّمْ إِلَى الدَّرَجَاتِ الْعُلَى إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَقَدَّمْتُ فَإِذَا أَنَا بِدَرَجَةٍ اللَّهُ أَعْلَمُ مَا هِيَ فِي السَّعَةِ وَالْحَسَنِ، فَإِذَا أَنَا بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: اسْتَغْفِرْ لِأُمَّتِي، فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، أَرَاقُوا دِمَاءَهُمْ، وَقَتَلُوا إِمَامَهُمْ، أَلَا فَعَلُوا كَمَا فَعَلَ خَلِيلِي سَعْدٌ، قُلْتُ: أُرَانِي قَدْ أُرِيتُ أَذْهَبُ إِلَى سَعْدٍ فَأَنْظُرُ مَعَ مَنْ هُوَ فَأَكُونُ مَعَهُ، فَأَتَيْتُهُ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الرُّؤْيَا فَمَا أَكْثَرَ بِهَا فَرَحًا، وَقَالَ: «قَدْ شَقِيَ مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلًا» ، قُلْتُ: فِي أَيِّ الطَّائِفَتَيْنِ أَنْتَ؟ قَالَ: «لَسْتُ مَعَ وَاحِدٍ مِنْهُمَا» ، قُلْتُ: فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «أَلَكَ مَاشِيَةٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَاشْتَرِ مَاشِيَةً وَاعْتَزِلْ فِيهَا حَتَّى تَنْجَلِيَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8394 - صحيح

حسین بن خارجہ بیان کرتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ ہوا تو مجھ پر بہت مشکل بنی، میں نے دعا مانگی " یا اللہ ! مجھے حق راستہ دکھا دے، تاکہ میں اس پر مضبوطی سے گامزن ہو جاؤں، آپ فرماتے ہیں: مجھے دنیا اور آخرت دکھائی گئ، ان دونوں کے درمیان ایک دیوار تھی ، یہ دیوار کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی، وہاں مجھے ایک سیڑھی دکھائی دی، میں نے سوچا: اگر میں اس سیڑھی کے ذریعے اوپر چڑھ جاؤں تو اشجع کے مقتولوں کے پاس پہنچ سکتا ہوں اور ان کے بارے میں کوئی خبر لی جا سکتی ہے، چنانچہ میں ایک درختوں والی زمین پر پہنچا، میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے پوچھا:کیا تم شہداء ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہم فرشتے ہیں، میں نے پوچھا: تو شہداء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: تم ان درجات کی طرف چلے جاؤ، جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف چڑھ رہے ہیں، میں ادھر چلا گیا، میں ایک درجے میں پہنچا،اس کے حسن اوراس کی وسعت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، وہاں پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابراہیم علیہ السلام موجود تھے،محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ،حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہہ رہے تھے: آپ میری امت کے لئے بخشش کی دعافرما دیجئے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: آپ کو معلوم نہیں، انہوں نےآپ کے بعد کون کون سے کارنامے کئے ہیں، انہوں نے خونریزیاں کیں، اپنے اماموں کو شہید کیا، انہوں نے میرے دوست سعد کی طرح کیوں نہیں کیا؟ (میری آنکھ کھل گئی) میں نے سوچا کہ مجھے حق دکھا دیا گیا ہے، اب میں سعد کے پاس جاؤں گا اور دیکھوں گا کہ وہ کون ہے، پھر اس کے ساتھ ہو جاؤں گا، پھر میں سعد کے پاس گیا، ان کو اپنا خواب سنایا،خواب سن کر وہ بہت خوش ہوئے، اور فرمایا: وہ شخص بدبخت ہے ، ابراہیم علیہ السلام جس کے دوست نہیں ہیں، میں نے پوچھا: آپ کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں کسی بھی جماعت میں سے نہیں ہوں، میں نے کہا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تیرے پاس کوئی سواری ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ایک سواری خچر خرید لے، اس پر سوار ہو کر کہیں دور چلا جا،جب تک کہ یہ فتنہ ختم نہیں ہو جاتا(تب تک واپس نہ آنا)۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

الْحُسَيْنِ بْنِ خَارِجَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8394

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الصَّافَّاتِ · حديث 3612

3612 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لِإِبْرَاهِيمَ} [الصافات: 83] قَالَ: " مِنْ شِيعَةِ نُوحٍ إِبْرَاهِيمُ عَلَى مِنْهَاجِهِ وَسُنَّتِهِ بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ شَبَّ حَتَّى بَلَغَ سَعْيُهُ سَعْيَ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَمَلِ، فَلَمَّا أَسْلَمَا مَا أُمِرَا بِهِ وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَضَعَ وَجْهَهُ إِلَى الْأَرْضِ فَقَالَ: لَا تَذْبَحْنِي وَأَنْتَ تَنْظُرُ عَسَى أَنْ تَرْحَمَنِي فَلَا تُجْهِزْ عَلَيَّ ارْبُطْ يَدَيَّ إِلَى رَقَبَتِي، ثُمَّ ضَعْ وَجْهِي عَلَى الْأَرْضِ فَلَمَّا أَدْخَلَ يَدَهُ لِيَذْبَحَهُ فَلَمْ يَحُكَّ الْمُدْيَةَ حَتَّى نُودِيَ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا} [الصافات: 105] فَأَمْسَكَ يَدَهُ وَرَفَعَ قَوْلُهُ {وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ} [الصافات: 107] بِكَبْشٍ عَظِيمٍ مُتَقَبَّلٍ «وَزَعَمَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ الذَّبِيحَ إِسْمَاعِيلُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3612 - على البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد:" وان من شیعتہ لابراہیم (الصافات:83) " اور بے شک اسی کے گروہ سے حضرت ابراہیم ہیں "۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ کے متعلق فرماتے ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے طریقہ کار پر ابراہیم علیہ السلام کار بند تھے۔ وہ (اسماعیل علیہ السلام) کام کاج میں ان (ابراہیم علیہ السلام) کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ جب عمل میں وہ ان کے معاون ہو گئے۔ "فلما اسلما (الصافات:103)"۔" جب ان دونوں نے ہمارے حکم پر گردن رکھی"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یعنی جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔ "وتلہ للجبین " (الصافات: 103) " ان کے چہرے کے بل زمین پر لٹایا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو ( حضرت اسماعیل علیہ السلام نے )کہا: آپ اپنی نظروں کے سامنے مجھے ذبح نہ کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کو مجھ پر ترس آ جائے اور آپ مجھے ذبح کرنے سے رک جائیں۔ اس لئے آپ میرے ہاتھ میری گردن پر باندھ دیں پھر میرا چہرہ زمین پر رکھ دیں ، جب آپ نے ان کو ذبح کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ابھی چھری نہیں چلائی تھی کہ ان کو آواز آئی " اےابراہیم علیہ السلام آپ نے خواب سچ کر دکھایا۔ اب اپنا ہاتھ روک لیں اور ہم نے ای بڑا ذبیحہ ان کے فدیہ میں دے کر ان کو بچا لیا وہ ایک عظیم خوبصورت مینڈھا تھا اور حضرت عبداللہ بند عباس رضی اللہ عنہ کا موقف یہ ہے کہ یہ ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat as-Saffat · Hadith 3612

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4092

4092 - أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ كَعْبٍ، قَالَ: «ثُمَّ وُلِدَ لِيَعْقُوبَ، يُوسُفُ الصِّدِّيقُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ وَاخْتَارَهُ وَأَكْرَمَهُ وَقَسَمَ لَهُ مِنَ الْجَمَالِ الثُّلُثَيْنِ وَقَسَمَ بَيْنَ عِبَادِهِ الثُّلُثَ، وَكَانَ يُشْبِهُ آدَمَ يَوْمَ خَلْقَهُ اللَّهُ وَصَوَّرَهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَ الْمَعْصِيَةَ، فَلَمَّا عَصَى آدَمُ نُزِعَ مِنْهُ النُّورُ وَالْبَهَاءُ، وَالْحُسْنُ وَكَانَ اللَّهُ أَعْطَى آدَمَ الْحُسْنَ وَالْجَمَالَ وَالنُّورَ وَالْبَهَاءَ يَوْمَ خَلْقَهُ، فَلَمَّا فَعَلَ مَا فَعَلَ وَأَصَابَ الذَّنْبَ نُزِعَ ذَلِكَ مِنْهُ، ثُمَّ وَهَبَ اللَّهُ لِآدَمَ الثُّلُثَ مِنَ الْجَمَالِ مَعَ التَّوْبَةِ الَّذِي تَابَ عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَعْطَى يُوسُفَ الْحُسْنَ وَالْجَمَالَ وَالنُّورَ وَالْبَهَاءَ الَّذِي نَزَعَهُ مِنْ آدَمَ حِينَ أَصَابَ الذَّنْبَ، وَذَلِكَ أَنَّ اللَّهَ أَحَبَّ أَنْ يُرِيَ الْعِبَادَ أَنَّهُ قَادِرٌ عَلَى مَا يَشَاءَ وَأَعْطَى يُوسُفَ مِنَ الْحُسْنِ وَالْجَمَالِ مَا لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، ثُمَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ الْعِلْمَ بِتَأْوِيلِ الرُّؤْيَا، وَكَانَ يُخْبِرُ بِالْأَمْرِ الَّذِي رَآهُ فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ سَيَكُونُ وَقَبْلَ أَنْ يَكُونَ عَلَّمَهُ اللَّهُ كَمَا عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا، وَكَانَ إِذَا تَبَسَّمَ رَأَيْتَ النُّورَ فِي ضَوَاحِكِهِ، وَكَانَ إِذَا تَكَلَّمَ رَأَيْتَ شُعَاعَ النُّورِ فِي كَلَامِهِ وَيَلْتَهِبُ الْتِهَابًا بَيْنَ ثَنَايَاهُ» قَدِ اخْتَصَرْتُ مِنْ أَخْبَارِ يُوسُفَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَا صَحَّ إِلَيْهِ الطَّرِيقُ وَلَوْ أَخَذْتُ فِي عَجَائِبِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْوَاقِدِيِّ لَطَالَتِ التَّرْجَمَةُ بِهَا " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4092 - عن سمرة عن كعب والسند واه

حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاں یوسف الصدیق علیہ السلام پیدا ہوئے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا تھا اور منتخب فرما لیا تھا اور ان کو عزت بخشی تھی اور حسن کا دو تہائی حصہ ان کو دیا تھا اور باقی ایک تہائی پوری دنیا میں تقسیم فرمایا اور آپ حضرت آدم علیہ السلام کی اس صورت کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے جو معصیت میں مبتلا ہونے سے پہلے اس دن تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ، ان کی صورت بنائی اور ان میں اپنی روح پھونکی تھی لیکن جب آدم علیہ السلام معصیت میں مبتلا ہوئے تو آپ کا وہ نور ، خوبصورتی اور وہ حسن جاتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کو حسن و جمال اور نور اور رعب عطا فرمایا تھا لیکن جب ان سے ذنب کا ارتکاب ہوا تو یہ تمام حسن و جمال ان سے ختم ہو گیا ۔ پھر جب آپ کی توبہ قبول ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ایک تہائی حسن آپ کو عطا فرما دیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وہ حسن و جمال جو حضرت آدم علیہ السلام سے اتار تھا وہ حضرت یوسف علیہ السلام عطا فرما دیا اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیہ دکھا دینا چاہتا ہے کہ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو وہ حسن وہ جمال عطا فرمایا جو کسی اور انسان کو نہیں دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا اور جو کوئی خواب دیکھتا تو آ پاس کی تعبیر کرتے ہوئے مستقبل میں ہونے والے کام کی پہلے ہی خبر دے دیا کرتے تھے اور اس کے ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی خبر دے دیتا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھا دیئے تھے ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام مسکراتے تو آ پ کے دانتوں سے نور کی شعائیں نکلتی تھیں اور جب آپ گفتگو کرتے تو آپ کے کلام میں نور نظر آتا اور آپ کے دانتوں میں روشنی نظر آتی ۔ میں نے مختصراً حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ بیان کر دیا ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے اور اگر وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ اور ابو عبداللہ واقدی کے عجائب شروع کر دیتا تو بہت زیادہ طوالت ہو جاتی ۔

«ثُمَّ وُلِدَ لِيَعْقُوبَ، يُوسُفُ الصِّدِّيقُ الَّذِي اصْطَفَاهُ اللَّهُ ← کَعْبٍ ← سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← مُدْرِكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حُمَيْدُ بْنُ مُعَاذٍ ← مروان بن جعفر السمري ← الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ ← أبو سعيد الأحمسي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4092

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4297

4297 - مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَا: " رَأَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِيمَا يَرَى النَّائِمُ قَبْلَ مَقْدَمِ ضَمْضَمَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ عَلَى قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بِثَلَاثِ لَيَالٍ رُؤْيَا، فَأَصْبَحَتْ عَاتِكَةُ فَأَعْظَمَتْهَا، فَبَعَثَتْ إِلَى أَخِيهَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَخِي، لَقَدْ رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا أَفْزَعَتْنِي لَيَدْخُلَنَّ عَلَى قَوْمِكَ مِنْهَا شَرٌّ وَبَلَاءٌ، فَقَالَ: وَمَا هِيَ؟ فَقَالَتْ: رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ فَوَقَفَ بِالْأَبْطَحِ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، فَأَرَى النَّاسَ اجْتَمَعُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ أُرَى بَعِيرَهُ دَخَلَ بِهِ الْمَسْجِدَ، وَاجْتَمَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَثَلَ بِهِ بَعِيرُهُ، فَإِذَا هُوَ عَلَى رَأْسِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ مَثُلَ بِهِ عَلَى رَأْسِ أَبِي قُبَيْسٍ، فَقَالَ: انْفِرُوا يَا آلَ غَدْرٍ لِمَصَارِعِكُمْ فِي ثَلَاثٍ، ثُمَّ أَخَذَ صَخْرَةً، فَأَرْسَلَهَا مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ، فَأَقْبَلَتْ تَهْوِي حَتَّى إِذَا كَانَتْ فِي أَسْفَلِ الْجَبَلِ، أَرْفَضَتْ فَمَا بَقِيَتْ دَارٌ مِنْ دُورِ قَوْمِكَ، وَلَا بَيْتٍ إِلَّا دَخَلَ فِيهِ بَعْضُهَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: وَاللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَرُؤْيَا فَاكْتُمِيهَا، قَالَتْ: وَأَنْتَ فَاكْتُمْهَا لَئِنْ بَلَغَتْ هَذِهِ قُرَيْشًا لَيُؤْذُونَنَا، فَخَرَجَ الْعَبَّاسُ مِنْ عِنْدِهَا وَلَقِيَ الْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَكَانَ لَهُ صَدِيقًا فَذَكَرَهَا لَهُ وَاسْتَكْتَمَهُ إِيَّاهَا، فَذَكَرَهَا الْوَلِيدُ لِأَبِيهِ، فَتَحَدَّثَ بِهَا فَفَشَا الْحَدِيثُ، قَالَ الْعَبَّاسُ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَغَادٍ إِلَى الْكَعْبَةِ لِأَطُوفَ بِهَا إِذْ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَبُو جَهْلٍ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ يَتَحَدَّثُونَ، عَنْ رُؤْيَا عَاتِكَةَ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: يَا أَبَا الْفَضْلِ، مَتَى حَدَّثَتْ هَذِهِ النَّبِيَّةُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: رُؤْيَا رَأَتْهَا عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَمَا رَضِيتُمْ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْ يَتَنَبَّأَ رِجَالُكُمْ حَتَّى تَنَّبَّأَ نِسَاؤُكُمْ فَسَنَتَرَبَّصُ بِكُمْ هَذِهِ الثَّلَاثَ الَّتِي ذَكَرَتْ عَاتِكَةُ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا فَسَيَكُونُ، وَإِلَّا كَتَبْنَا عَلَيْكُمْ كِتَابًا إِنَّكُمْ أَكْذَبُ أَهْلِ بَيْتٍ فِي الْعَرَبِ، فَوَاللَّهِ مَا كَانَ إِلَيْهِ مِنِّي مِنْ كَبِيرٍ إِلَّا أَنِّي أَنْكَرْتُ مَا قَالَتْ، فَقُلْتُ: مَا رَأَتْ شَيْئًا وَلَا سَمِعْتُ بِهَذَا، فَلَمَّا أَمْسَيْتُ لَمْ تَبْقَ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِلَّا أَتَتْنِي، فَقُلْنَ: أَصَبَرْتُمْ لِهَذَا الْفَاسِقِ الْخَبِيثِ أَنْ يَقَعَ فِي رِجَالِكُمْ، ثُمَّ تَنَاوَلَ النِّسَاءَ وَأَنْتَ تَسْمَعُ فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ فِي ذَلِكَ غَيْرَةٌ؟ فَقُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ صَدَقْتُنَّ، وَمَا كَانَ عِنْدِي فِي ذَلِكَ مِنْ غَيْرَةٍ إِلَّا أَنِّي قَدْ أَنْكَرْتُ مَا قَالَ، فَإِنْ عَادَ لَأَكْفِيَنَّهُ، فَقَعَدْتُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ أَتَعَرَّضُهُ لَيَقُولَ شَيْئًا فَأُشَاتِمُهُ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَمُقْبِلٌ نَحْوَهُ، وَكَانَ رَجُلًا حَدِيدَ الْوَجْهِ، حَدِيدَ الْمَنْظَرِ، حَدِيدَ اللِّسَانِ إِذْ وَلَّى نَحْوَ بَابِ الْمَسْجِدِ يَشْتَدُّ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: اللَّهُمُ الْعَنْهُ كُلَّ هَذَا فَرَقًا مِنْ أَنْ أُشَاتِمَهُ، وَإِذَا هُوَ قَدْ سَمِعَ مَا لَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ ضَمْضَمَ بْنَ عَمْرٍو وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِالْأَبْطَحِ قَدْ حَوَّلَ رَحْلَهُ، وَشَقَّ قَمِيصَهُ، وَجَدَعَ بَعِيرَهُ، يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اللَّطِيمَةُ اللَّطِيمَةُ أَمْوَالُكُمْ مَعَ أَبِي سُفْيَانَ، وَتِجَارَتُكُمْ قَدْ عَرَضَ لَهَا مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ، فَالْغَوْثُ، فَشَغَلَهُ ذَلِكَ عَنِّي، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا الْجِهَازُ حَتَّى خَرَجْنَا، فَأَصَابَ قُرَيْشًا مَا أَصَابَهَا يَوْمَ بَدْرٍ، مِنْ قَتْلِ أَشْرَافِهِمْ، وَأَسَرِّ خِيَارِهِمْ، فَقَالَتْ عَاتِكَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: [البحر الطويل] أَلَمْ تَكُنِ الرُّؤْيَا بِحَقٍّ وَعَابَكُمْ ... بِتَصْدِيقِهَا قَلَّ مِنَ الْقَوْمِ هَارِبُ فَقُلْتُمْ وَلَمْ أَكْذِبْ كَذَبْتِ وَإِنَّمَا ... يُكَذِّبْنَ بِالصِّدْقِ مَنْ هُوَ كَاذِبُ" وَذَكَرَ قِصَّةً طَوِيلَةً [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4297 - حسين ضعيف

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ تعالی عنہ فر ما تے ہیں :ابن اسحاق اور عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ نے ضمضم بن عمروالغفاری کے قر یش پر چڑھائی کر نے سے تین دن پہلے خوا ب دیکھا۔جب صبح ہو ئی تو حضرت عاتکہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس خواب کو معمو لی سمجھا اور اپنے بھائی حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ کو بلوا یا اور کہا:اے میرے بھائی!میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ہے ،اس کی وجہ سے میں بہت پر یشا ن ہو ں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ کی قوم پر آزمائش اور مصیبت نہ آجائے حضرت عباس نے کہا:وہ کیا(خواب)ہے ؟انہو ں نے کہا:میں نے دیکھا ہے کہ ایک آدمی اپن اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور (مقام)ابطح میں کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے غدارو!باہر نکلو،تین دن بعد تمہارے ساتھ جنگ ہو گی ۔میں د یکتھی ہو ں کہ وہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں ،پھر میں د یکھتی ہوں کہ اس کا اونٹ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے اور لوگ اس کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں،پھر وہ اونٹ سمیت کعبہ کے اوپر ہو تا ہے اور کہتا ہے :اے غدارو ! تین دن میں تمہارا قتل ہو گا ،اپھر وہ اونٹ سمیت ابو قبیس (پہاڑ) پر ہوتا ہے اور کہتا ہے :اے غدارو !با ہر نکلو ، تین دن میں تمہارا قتل ہو گا۔ پھر اس نے پہاڑ کی چوٹی سے ایک بھاری پتھر گرا دیا،وہ نیچے کی جانب لڑ ھکتا آیا حتی کہ جب وہ پہاڑ کی گہرائ میں پہنچا تو پھٹ گیا تو تمہاری قو م کا کوئی گھر اور کوئی مکان ایسا نہیں ہو گا جس میں اس ذرات نہ پہنچے ہوں۔ حضرت عباس نے کہا:خدا کی قسم یہ خا ص بات ہے ، اس کو چھپا کر رکھنا۔حضرت عاتکہ نے کہا :آپ بھی اس کو پو شیدہ رکھنا ، کیو نکہ اگر اس بات کی خبر قر یش کو ہو گئی تو وہ مجھے تکلیف دیں گے۔حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ وہا ں سے نکلے اور اپنے دوست ولید بن عتبہ کے پاس گئے اوریہ خواب اس کو سنا دیا اور سا تھ اس کو کسی کے سا منے ظا ہر نہ کر نے کی تا کید بھی کر دی، لیکن ولید نے یہ خواب اپنے والد کو بتا دیا ، اور اس کے والد نے جگہ جگہ بیان کر دیا،اس کی وجہ سے یہ بات پھیل گئی ، حضرت عباس نے کہا :میں کل کعبتہ اللہ کا طواف کروں گا ۔ لیکن جب مسجد میں داخل ہوا تو ابو جہل پوری ایک جماعت میں بیٹھا تھا اور ان میں اسی خواب کا تذ کرہ ہو رہا تھا ،ابو جہل نے کہا :اے ابو الفضل ! تم میں یہ عورت کب سے نبی بن گئی ہے؟ میں نے کہا:کیا مطلب؟اس نے کہا:وہی عاتکہ بنت عبد المطلب کی خواب۔اے بنی عبد المطلب! کیا تمہیں اپنے مردوں کا دعوائے نبوت کافی نہ تھا کہااب تمہاری عورتوں نے بھی نبوت کے دعوئے شروع کر دیئے ہیں؟۔ ہم ان تین دونوں کا انتظار کر رہے ہیں،جن کا تذ کرہ عاتکہ نے کیا ہے۔کہ اگر (اس کا یہ خواب ) حق ہو جائےگا ورنہ ہم تمہارے بارے میں یہ فیصلہ لکھ دیں گے کہ پورے عر ب میں تمہارا گھرانہ سب سے زیا دہ جھوٹا ہے (حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:)خدا کی قسم! میرے لئے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ کوئی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ میں عا تکہ کے خواب سے مکر گیا اور میں نی کہہ دیا کہ نہ اس نے کوئی خواب د یکھا ہے اورنہ میں نے اس سے کوئی بات سنی ہے۔جب شام ہوئی تو بنی عبد المطلب کی تمام عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں:تم نےاس فاسق خبیث کی باتیں سن کر بھی صبر کیا ،اس نے تمہارے مر دوں پر طعنہ زنی کی ہے اور تمہاری عو رتوں پر بھی باتیں بنا ئیں اور تم( خا مو ش تما شا ئی بنے) سنتے رہے،تمہارے اندر غیرت نام کی کو ئی چیز نہیں ہے؟ میں نے کہا :خدا کی قسم سچ کہہ رہی ہو،اس معاملے میں واقعی مجھ میں غیرت نہیں تھی (یعنی غیرت تو تھی مگر میں اس پر بگڑ نہیں سکتا تھا )تو سوائے اس کے کہ میں اس بات سے ہی مکر جاتا میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا لیکن اب اس نے دوبارہ ایسی کوئی بات کہی تو میں اس کو بھر پور جواب دو نگا۔چنانچہ میں تیسرے دن ان کا مقابلہ کرنے کی نیت سے بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کچھ بو لے تو میں اس کو گالیاں دوں۔ خدا کی قسم! میں تو اس کی طرف متوجہ ہوکر بیٹھا ہواتھا کہ ایک آدمی لو ہے کے چہرے والا، دیکھنے میں نیا اور تیز زبان والا ، مسجد کے دورازےکی جانب تیزی سے بڑھا ،میں نے اپنے دل میں کہا :یا اللہ !اس پر لعنت کر،میں اس سے مقابلہ نہیں کر سکتا اور وہ ضمضم بن عمرو کی آواز سن رہا تھا جو میں نہیں سن رہا تھا۔ وہ اونٹ پر سوار’’ابطح‘‘ میں کھڑا تھا،اس نے اپنا کجاوہ اتارا،اپنی قمیض پھاڑی اوراپنے اونٹ کی ناک کاٹ ڈالی اور بولا:اے گروہ قریش !بازار میں آؤ،بازارمیں آؤ۔ تمہارا مال ابو سفیان کے پاس ہے اور تمہاری تجارت کو محمد اور اس کے ساتھیوں نے روک اکھاہے اور آؤ میری مدد کرو۔تو وہ لوگ اسی سلسلیہ میں مشغول ہو گئے ،اور ہم تیاری کر کے وہاں سے نکل گئے ۔تو اس دن قر یش کو اتنا نقصان پہنچا جتنا جنگ بدر میں پہنچا تھا۔ ان کے بڑے بڑے لوگو ں کو قتل کر دیا گیا اور سرداروںکو گر فتا ر کیا گیا تو حضرت عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:کیا میرا خواب سچا نہ تھا؟اوراس کی تصدیق نے تمہیں نقصان دیا ،قوم میں سے بہت کم لوگ بھاگ سکے۔تو تم نے کہا:اورمیں تمہارے جھٹلانے سے جھوٹی نہیں ہو گئی، کیو نکہ سچائی کو جھوٹا ہی جھٹلا تا ہے پھر اس کے بعد مفصل قصہ بیان کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← مَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4297

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْمَغَازِي وَالسَّرَايَا ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4401

4401 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا جُنَيْدُ بْنُ حَكِيمٍ الدَّقَّاقُ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا، قَالَ: «هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا الْيَوْمَ» ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ دُفِنَ فِي بَيْتِكِ ثَلَاثَةٌ هُمْ أَفْضَلُ أَوْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ» ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدُفِنَ فِي بَيْتِهَا، قَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذَا أَحَدُ أَقْمَارِكِ وَهُوَ خَيْرُهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَدُفِنَا فِي بَيْتِهَا

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خوابوں کو بہت پسند کرتے تھے ۔ آپ پوچھا کرتے تھے کہ آج تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ تو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے خواب دیکھا کہ میرے حجرے میں تین چاند آگرے ہیں ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:اگر تیرا خواب سچا ہوا تو تیرے حجرے میں تین آدمی دفن ہوں گے جو پوری روئے زمین سے افضل ہوں گے ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اوران کومیرے حجرہ میں دفن کیا گیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: یہ تیرے ان چاندوں میں سے ایک ہے۔اور یہ ان سب سے افضل ہے ۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی بعد از وفات اس حجرے میں میں دفن کئے گئے ۔

عَائِشَةُ رَأَيْتُ كَأَنَّ ثَلَاثَةَ أَقْمَارٍ سَقَطْنَ فِي حُجْرَتِي، ← «هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا الْيَوْمَ» ← كَانَ النَّبِيُّ يُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عُمَرُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ، ← جُنَيْدُ بْنُ حَكِيمٍ الدَّقَّاقُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Magazi and the Saraya Book › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4401

chevron_left Previous
1…8910…104
Next chevron_right