المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2588
2588 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: تَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَهُوَ الَّذِي رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا جَاءَهُ الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ أُحُدٍ كَانَ رَأْيُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ بِالْمَدِينَةِ يُقَاتِلُهُمْ فِيهَا فَقَالَ لَهُ نَاسٌ: لَمْ يَكُونُوا شَهِدُوا بَدْرًا أَتَخْرُجُ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ نُقَاتِلْهُمْ بِأُحُدٍ، وَرَجَوْا أَنْ يُصِيبُوا مِنَ الْفَضِيلَةِ مَا أَصَابَ أَهْلُ بَدْرٍ، فَمَا زَالُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَبِسَ أَدَاتَهُ فَنَدِمُوا وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِمْ فَالرَّأْيُ رَأْيُكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَضَعَ أَدَاتَهُ بَعْدَ أَنْ لَبِسَهَا، حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَدُوِّهِ» قَالَ: وَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ أَنْ يَلْبَسَ الْأَدَاةَ: «إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي فِي دِرْعٍ حَصِينَةٍ، فَأَوَّلْتُهَا الْمَدِينَةَ، وَأَنِّي مُرْدِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُهُ كَبْشَ الْكَتِيبَةِ، وَرَأَيْتُ أَنَّ سَيْفِي ذَا الْفَقَارِ، فُلَّ فَأَوَّلْتُهُ فَلًّا فِيكُمْ، وَرَأَيْتُ بَقَرًا تُذْبَحُ، فَبَقَرٌ، وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَبَقَرٌ وَاللَّهِ خَيْرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2588 - صحيح
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار جنگ بدر کے موقع پر مال غنیمت کے اضافی حصہ کے طور پر حاصل کی تھیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ وہی تلوارتھی جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احد کے دن جب مشرکین جنگ کے لئے تیار تھے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مد ینہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم لوگ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے ، یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے ہمراہ لے چلیں گے؟ تا کہ ہم دشمن کے ساتھ میدان احد میں مقابلہ کر یں اور ان کو وہی فضیلت پانے کی تمناتھی جو جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کو حاصل ہوئی تھی ، وہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس زیب تن کیا اور ہتھیا وغیرہ پہن لیے ۔ پھر وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے ہی بہتر رائےہے ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر جائیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نبی جنگ کے لئے ہتھیا راٹھالیتا ہے تو پھر جب تک اللہ تعالی اس کے اور دشمن کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا، اس وقت تک وہ اپنے ہتھیا را تارتانہیں ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: حالانکہ اس دن جنگی لباس پہنے سے پہلےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ بات بتا چکے تھے کہ میں نے ( خواب میں) دیکھا ہے کہ میں بہت مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر شہر (مدینہ) قرار دی ہے، میں نے دیکھا کہ میں ایک مینڈھے کوغبار میں روند ر ہا ہوں ، اس کی تعبیر یہ ہے کہ دشمن کے لشکر کا سر دار مارا جائے گا اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میری تلوار ذوالفقار کو دندانے پڑ گئے ہیں ، میں نے اس کی تعبیر تمہاری شکست سمجھی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جارہی ہے اللہ کی قسم ! گائے ( کوخواب میں دیکھنا )اچھا ہے ۔ اللہ کی قسم ! گائے ( کوخواب میں دیکھنا) اچھا ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ الَّذِى رَأَى فِيهِ الرُّؤْيَا يَوْمَ أُحُدٍ وَذَلِكَ ← تنفل رسول الله سيفه ذا الفقار يوم بدر ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2588
