Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ] · حديث 395

395 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: " «مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْإِيمَانِ وَالنُّذُورِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

۳۹۵-حضرت عبداللہ بن انیس جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " بڑے کبیرہ گناہوں میں ، اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا شامل ہیں " یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور یہ مکمل روایت ، قسموں اور نذروں سے متعلق باب میں آئے گی ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in the majorities] · Hadith 395

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ لَا يُكَفَّرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ بِذَنْبٍ] · حديث 405

405 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «لَنْ يَخْرُجَ أَحَدٌ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا بِجُحُودِ مَا دَخَلَ فِيهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَهُوَ وَضَّاعٌ كَمَا تَقَدَّمَ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " کوئی بھی شخص ، ایمان سے صرف اس صورت میں خارج ہوگا، جب وہ اس چیز کا انکار کر دے ، جس میں وہ داخل ہوا تھا " ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحییٰ تیمی ہے ، اور وہ احادیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ، جیسا کہ یہ بات پہلے گزر چکی ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter No one of the people of the Qiblah shall make an atonement of a sin.] · Hadith 405

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ [بَابُ الْغَيْرَةِ] · حديث 7725

7725 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغَيْرَةُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْمِذَاءُ مِنَ النِّفَاقِ " قَالَ: قُلْتُ: مَا الْمِذَاءُ؟ قَالَ: " الَّذِي لَا يَغَارُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو مَرْجُومٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " غیرت ایمان کا حصہ ہے ، اور مذاء نفاق کا حصہ ہے "۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : مذاء سے مراد کیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ شخص جو غیر ت نہیں کرتا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابو مرجوم ہے، جسے امام نسائی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے یحییٰ بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › [Door of jealousy] · Hadith 7725

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَدَبِ] ‹ بَابُ عَجَائِبِ الْمَخْلُوقَاتِ] · حديث 13381

13381 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُذِنَ لِي أَنْ أُحَدِّثَ عَنْ مَلَكٍ قَدْ مَرَقَتْ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ السَّابِعَةَ، وَالْعَرْشُ عَلَى مَنْكِبِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ أَيْنَ كُنْتَ وَأَيْنَ تَكُونُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي الْإِيمَانِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” مجھے یہ اجازت دی گئی کہ میں ایک ایسے فرشتے کے بارے میں بتاؤں جس کے پاؤں ساتویں زمین میں ہیں‘ اور عرش اس کے کندھے پر ہے‘ اور وہ یہ کہتا ہے : تو ہر عیب سے پاک ہے‘ تو کہاں تھا‘ اور تو کہاں ہو گا‘‘۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے‘ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الایمان میں گزر چکی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Literature Book] › Chapter of creations wonders] · Hadith 13381

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي أَذَى الْجَارِ] · حديث 13567

13567 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى فَاطِمَةَ فَقَالَ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلْ تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا تَطْرِفِينِيهِ؟ قَالَتْ: يَا جَارِيَةُ، هَاتِ تِلْكَ الْحَرِيرَةَ، فَطَلَبَتْهَا فَلَمْ تَجِدْهَا، فَقَالَتْ: وَيْحَكِ اطْلُبِيهَا فَإِنَّهَا تَعْدِلُ عِنْدِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا. فَطَلَبَتْهَا فَإِذَا هِيَ قَدْ قَمَّتْهَا فِي قُمَامَتِهَا، فَإِذَا فِيهَا: قَالَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَيْسَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْحَيِيَّ الْحَلِيمَ الْمُتَعَفِّفَ، وَيُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ السَّائِلَ الْمُلْحِفَ، إِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْفُحْشَ مِنَ الْبَذَاءِ وَالْبَذَاءُ فِي النَّارِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی! کیا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے پاس کوئی ایسی چیز چھوڑی ہے‘ جسے آپ خصوصی چیز قرار دیتی ہوں؟ تو سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: اے کنیز ! تم وہ جریدہ لے کر آؤ! اس کنیز نے اسے تلاش کیا‘ لیکن وہ اسے نہیں ملا‘ تو سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا :تمہارا ستیاناس ہو‘ تم اسے تلاش کرو‘ کیونکہ وہ میرے نزدیک حسن اور حسین کے برابر ہے‘ اس کنیز نے اسے تلاش کیا‘ تو پتہ چلا کہ اس نے جھاڑو دی تھی‘ اور وہ اس کچرے کے درمیان موجود ہے‘ اس تحریر میں یہ بات لکھی ہوئی تھی : حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے’’وہ شخص مومنین میں سے نہیں ہے‘ جس کا پڑوسی اس کے بوائق (یعنی شر)سے محفوظ نہ ہو‘ جو شخص الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو‘ اسے اپنے مہمان کی عزت افزائی کرنی چاہیے‘ اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو‘ اسے اپنے پڑوسی کو اذیت نہیں پہنچانی چاہئے‘ اور جو شخص الله تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو‘ اسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے‘ ورنہ خاموش رہنا چاہئے‘ بے شک اللہ تعالیٰ‘ زنده بردبار‘ پاکدامن‘ مانگنے سے بچنے والے شخص سے محبت کرتا ہے‘ اور وہ بدتمیزی کرنے والے‘ بدزبان شخص اور لپٹ کر مانگنے والے شخص کو نا پسند کرتاہے‘ بے شک حیاء‘ ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا‘ اور فحش کلامی (یابدزبانی) برائی کا حصہ ہے‘ اور برائی‘ جہنم میں ہو گی‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے‘ ان کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے‘ اور وہ متروک ہے۔

يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ هَلْ تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ شَيْئًا تَطْرِفِينِيهِ؟ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى فَاطِمَةَ ← ابْنِ مَسْعُودٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › Chapter What came in harm to a neighbor] · Hadith 13567

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ] ‹ [بَابُ مَثَلِ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ] · حديث 13680

13680 - عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ، يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’اہل ایمان میں‘ مومن کی مثال یوں ہے جیسے جسم میں سر کی حیثیت ہوتی ہے‘ اہل ایمان کے حوالے سے‘ مومن یوں تکلیف محسوس کرتا ہے‘ جس طرح جسم‘ سر کی تکلیف کی وجہ سے‘ تکلیف محسوس کرتا ہے‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے‘ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے‘ امام احمد کے رجال ’’صحیح ‘‘ کے رجال ہیں۔

النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Righteousness and Prayer] › [Chapter of the parable of a believer among those of the faith] · Hadith 13680

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ] ‹ بَابُ السَّتْرِ عَلَى الْمُسْلِمِينَ] · حديث 10475

10475 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " «يَا أَيُّهَا النَّاسُ،، يَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَخْلُصِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ " - حَتَّى أَسْمَعَ الْعَوَاتِقَ فِي خُدُورِهِنَّ - " لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تَتَبَّعُوا عَوْرَاتِهِمْ ; فَإِنَّهُ مِنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ، تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ حَتَّى يَخْرِقَهَا عَلَيْهِ فِي بَطْنِ بَيْتِهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ الطَّائِفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو!اے ان لوگوں کے گروہ! جواپنی زبان کے ذریعے ایمان لائے ہیں لیکن ایمان ان کے دل تک نہیں پہنچا راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پردے میں موجود خواتین تک آواز پہنچائی (آپ نے فرمایا:)تم مسلمانوں کو اذیت نہ پہچاؤ اور ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص اپنے بھائی کے پوشیدہ معاملے کی جستجو کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملے کوظاہر کر دے گا یہاں تک کہ اسے یوں ظاہر کرے گا کہ وہ شخص اپنے گھر میں موجود ہو گا (اور پھر بھی وہ چیز ظاہر ہو جائے گی)‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ طائفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hudud and Diyat al-Diyyat] › The door of the concealment upon the Muslims] · Hadith 10475

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ] ‹ [بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُثْلَةِ] · حديث 10491

10491 - وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُثْلَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ. وَفِي الطَّبَرَانِيِّ: «عَنِ الْمُغِيرَةِ ابْنِ بِنْتِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: مَرَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ بِالْحِيرَةِ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا ثَعْلَبًا يَرْمُونَهُ غَرَضًا فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ». فَإِنْ كَانَ الْمُغِيرَةَ ابْنَ بِنْتِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيَّ، فَهُوَ ثِقَةٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ، فَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ.

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثلہ کرنے سے منع کیا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے جو حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے اس کے حوالے سے یہ حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے طبرائی میں یہ بات منقول ہے کہ یہ روایت حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نواسے مغیرہ سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں:)حیرہ کے مقام پر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا گزر ہوا وہاں کچھ لوگوں نے ایک لومڑی کو نشانہ بنایا ہوا تھا۔ اوراس پر نشانے بازی کر رہے تھے تو حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور بولے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ اگر تو حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نواسے مغیرہ سے مراد مغیرہ بن عبداللہ یشکری ہے ، تو پھر وہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے قسموں اور نذر سے متعلق باب میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول حدیث گزر چکی ہے۔

إِنِّي ← مَرَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ بِالْحِيرَةِ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا ثَعْلَبًا يَرْمُونَهُ غَرَضًا فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، ← الْمُغِيرَةِ ابْنِ بِنْتِ الْمُغِيرَةِ ← الْمُغِيرَةِ. وَفِي الطَّبَرَانِيِّ: ← رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ، ← الْمُثْلَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hudud and Diyat al-Diyyat] › [Chapter forbidding the proverb] · Hadith 10491

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ] ‹ [بَابُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ] · حديث 10520

10520 - وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «لَا يَحِلُّ دَمُ الْمُؤْمِنِ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالْمُرْتَدُّ عَنِ الْإِيمَانِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: رَدِيءُ الْحِفْظِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ مِنْ نَحْوِ هَذَا.

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کا خون تین میں سے کسی ایک وجہ سے حلال ہوسکتا ہے جان کے بدلے میں جان ، شادی شدہ زانی اور ایمان کو چھوڑ کر مرتد ہونے والا‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے ، اور وہ متروک ہے اسے ابن حبان سے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں یہ خراب حافظے کا مالک ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الایمان میں پہلے گزر چکی ہیں۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Hudud and Diyat al-Diyyat] › [Chapter: The blood of a Muslim is only permissible by one of three] · Hadith 10520

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الدِّيَاتِ] ‹ بَابُ الْقَسَامَةِ، وَالْقَتِيلِ يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمٍ] · حديث 10736

10736 - وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتِ الْقَسَامَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حِجَازًا بَيْنَ النَّاسِ، فَكَانَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرٍ أَثِمَ فِيهَا، أُرِيَ عُقُوبَةً مِنَ اللَّهِ يُنَكِّلُ بِهَا عَنِ الْجَرْأَةِ عَلَى الْمَحَارِمِ، فَكَانُوا يَتَوَرَّعُونَ عَنْ أَيْمَانِ الصَّبْرِ وَيَخَافُونَهَا. فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَسَامَةِ، وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ هُمْ أَهْيَبَ لَهَا، لِمَا عَلَّمَهُمْ مِنْ ذَلِكَ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْقَسَامَةِ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو حَارِثَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْ مُحَيِّصَةَ، فَأَنْكَرَتِ الْيَهُودُ. فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْيَهُودَ لِقَسَامَتِهِمْ، لِأَنَّهُمُ الَّذِينَ ادَّعَوُا الدَّمَ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَحْلِفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا كَبِيرًا مَنْ قَتَلَهُ. فَنَكَلَتْ يَهُودُ عَنِ الْأَيْمَانِ. فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي حَارِثَةَ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْلِفُوا خَمْسِينَ يَمِينًا خَمْسِينَ رَجُلًا أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ غِيلَةً، وَيَسْتَحِقُّونَ بِذَلِكَ الَّذِي يَزْعُمُونَ أَنَّهُ الَّذِي قَتَلَ صَاحِبَهُمْ، فَنَكَلَتْ بَنُو حَارِثَةَ عَنِ الْأَيْمَانِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِعَقْلِهِ عَلَى يَهُودَ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، وَفِي دِيَارِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:زمانہ جاہلیت میں قسامت لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہوتی تھی اس میں ہوتا یہ تھا کہ جب کوئی شخص کوئی جھوٹی قسم اٹھاتا تھا اور اس قسم اٹھانے میں گناہ گار ہوتا تھا تو یہ بات سمجھی جاتی تھی کہ اب اس شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملے گی جس کے ذریعے اسے اس بات کی سزا دی جائے گی کہ اس نے حرمت والے کام کے حوالے سے جرات کی ہے تو وہ لوگ جھوٹی قسم اٹھانے سے پرہیز کرتے تھے اور اس سے خوف زدہ رہتے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو قسامت کے حکم کے ہمراہ مبعوث کیا (یعنی آپ کو اس بارے میں حکم دیا)تو مسلمان اس سے زیادہ خوف زدہ ہو گئے کیونکہ وہ اس بات سے واقف تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے تعلق رکھنے والے دوگرو ہوں کے درمیان قسامت کا فیصلہ دیا ان لوگوں کو بنو حارثہ کہا جاتا تھا اس کی صورت یوں ہوں کہ یہودیوں نے حضرت محیصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کیا تھا اور یہودیوں نے اس بات سے انکار کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسامت کے لئے یہودیوں کو بلوایا کیونکہ ان لوگوں نے خون کا دعویٰ کیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ پچاس افراد قسم اٹھائیں ، پچاس بڑے افراد اس قتل کے حوالے سے قسم اٹھائیں گے یہودیوں نے قسم اٹھانے سے انکار کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو حارت کو بلوایا اور انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ پچاس افراد قسمیں اٹھائیں جو پچاس افراداٹھائیں گے کہ یہودیوں نے انہیں دھوکے کے ساتھ قتل کیا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ اس کے حق دار ہو جائیں گے جو ان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھیوں کو یہودیوں نے قتل کیا ہے تو بنو حارثہ نے بھی قسم اٹھانے سے انکار کر دیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی تو آپ نے اس مقتول کی دیت کی ادائیگی یہودیوں پر لازم قرار دی کیونکہ وہ مقتول ان لوگوں کے درمیان اور ان کے علاقے میں پایا گیا تھا۔یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of blood money] › The door of Qassam, and the murderer shall be the land of a nation] · Hadith 10736

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الدِّيَاتِ] ‹ [بَابُ حُسْنِ الْقَتْلِ] · حديث 10742

10742 - عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. __________ (*) 75 - جاء في "المجمع" (6/ 291): أبو معاذ سليم بن أرقم. قلت: صوابه "أبو معاذ سليمان بن أرقم" كما في "الميزان" (4/ 574) والتهذيب (4/ 168) وانظر "المجمع" (5/ 92) و (4/ 286) وغير ذلك.

علقمہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: لوگوں کو قتل کرنے سے سب سے زیادہ رکنے والے اہل ایمان ہیں۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

ابْنُ مَسْعُودٍ: أَعَفُّ النَّاسِ قِتْلَةً أَهْلُ الْإِيمَانِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، ← عَلْقَمَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The book of blood money] › [Chapter on the good of killing] · Hadith 10742

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّفْسِيرِ] ‹ قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ} [النساء: 31]) · حديث 10923

10923 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ، يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ قَالَ: مَا بَيْنَ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَاءِ إِلَى رَأْسِ ثَلَاثِينَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَبْوَابُ الْكَبَائِرِ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں دریافت کیا گیا؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ وہ ہیں جو سورت نساء کے آغاز سے لے کر تیسری آیت تک بیان ہوئے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:)میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے کتاب الایمان کے آخر میں کبیرہ گناہوں سے متعلق ابواب گزر چکے ہیں۔

الْکَبَائِرُ ← عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ أَنَّهُ سُئِلَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of exegesis] › God Almighty said: (If you avoid the great things that you forbid you, we will atone for you for your bad deeds) [An-Nisa: 31]) · Hadith 10923

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِيمَنْ آمَنَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَرَهُ] · حديث 16689

16689 - عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا فَقَالَ: " أَنْبَئُونِي بِأَفْضَلِ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا؟ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْمَلَائِكَةُ، قَالَ: " هُمْ كَذَلِكَ، يَحِقُّ لَهُمْ ذَلِكَ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ أَنْزَلَهُمُ اللَّهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا، بَلْ غَيْرُهُمْ؟ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْأَنْبِيَاءُ الَّذِينَ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَالنُّبُوَّةِ. قَالَ: " هُمْ كَذَلِكَ، وَيَحِقُّ لَهُمْ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَقَدْ أَنْزَلَهُمْ اللَّهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي أَنْزَلَهُمْ بِهَا ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشُّهَدَاءُ الَّذِينَ اسْتُشْهِدُوا مَعَ الْأَنْبِيَاءِ، قَالَ: " هُمْ كَذَلِكَ، وَيَحِقُّ لَهُمْ، وَمَا يَمْنَعُهُمْ وَقَدْ أَكْرَمَهُمُ اللَّهُ بِالشَّهَادَةِ، بَلْ غَيْرُهُمْ ". قَالُوا: فَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ: " أَقْوَامٌ فِي أَصْلَابِ الرِّجَالِ، يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِي، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي، يَجِدُونَ الْوَرَقَ الْمُعَلَّقَ فَيَعْمَلُونَ بِمَا فِيهِ، فَهَؤُلَاءِ أَفْضَلُ أَهْلِ الْإِيمَانِ إِيمَانًا» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.

كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ جَالِسًا فَقَالَ: «أَنْبِئُونِي بِأَفْضَلِ أَهْلِ الإِيمَانِ إِيمَانًا» ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter of what came in those who believed in the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, and had not seen him] · Hadith 16689

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ ذَمَّ مِنَ الْقَبَائِلِ وَأَهْلِ الْبِدَعِ] · حديث 16736

16736 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّهُ قَامَ فِي بَابٍ دَاخِلٍ فِيهِ إِلَى الْمَسْجِدِ - مَسْجِدِ مِنًى -، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَؤُلَاءِ الْأَعْبُدِ الْكُفَّارِ الْفُسَّاقِ قَدْ عَمَدُوا عَلَيَّ، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ الْأَحْنَفِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْعِتْقِ مَنْ أَخْرَجَ صَدَقَتَهُ، فَلَمْ يَجِدْ إِلَّا بَرْبَرِيًّا فَلْيَرُدَّهَا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَحَدِيثُ: " إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ". وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَفِي كِتَابِ الْخِلَافَةِ وَكِتَابِ الْفِتَنِ فِي بَنِي الْحَكَمِ وَغَيْرِهِمْ مَا يُغْنِي عَنْ إِعَادَتِهِ.

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on those who are criticized by tribes and people of innovation] · Hadith 16736

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْمَنَاقِبِ] ‹ [بَابٌ فِيمَنْ ذَمَّ مِنَ الْقَبَائِلِ وَأَهْلِ الْبِدَعِ] · حديث 16741

16741 - وَعَنْ أَبِي يَحْيَى قَالَ: كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنُ وَمَرْوَانُ يَتَسَابَّانِ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ يُسْكِتُ الْحُسَيْنَ، فَقَالَ مَرْوَانُ: أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ. فَغَضِبَ الْحَسَنُ وَقَالَ: قُلْتَ أَهْلُ بَيْتٍ مَلْعُونُونَ! فَوَاللَّهِ، لَقَدْ لَعَنَكَ اللَّهُ، وَأَنْتَ فِي صُلْبِ أَبِيكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي النِّفَاقِ وَالْمُنَافِقِينَ وَأَسْمَائِهِمْ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ.

مروان أهل بيت ملعونون فغضب الحسن ← كُنْتُ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنُ وَمَرْوَانُ يَتَسَابَّانِ، فَجَعَلَ الْحَسَنُ يُسْكِتُ الْحُسَيْنَ، ← أَبِي يَحْيَى،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The niqab book] › [Chapter on those who are criticized by tribes and people of innovation] · Hadith 16741

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [38 - 7 - بَابٌ فِيمَنْ لَمْ يُكْثِرْ ذِكْرَ اللَّهِ تَعَالَى] · حديث 16785

16785 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ لَمْ يُكْثِرْ ذِكْرَ اللَّهِ - تَعَالَى - فَقَدْ بَرِئَ مِنَ الْإِيمَانِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ: مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ الْمُهَاجِرِ، عَنْ مُؤَمَّلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ وَفِي الْمِيزَانِ: مُحَمَّدِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ مُؤَمَّلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، يَرْوِي الْمَوْضُوعَاتِ، فَإِنْ كَانَ هُوَ ابْنَ الْمُهَاجِرِ فَهُوَ ضَعِيفٌ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ فَالْحَدِيثُ حَسَنٌ.

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [7 - 38 - Chapter in whom the remembrance of God Most High was not abounded. · Hadith 16785

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [38 - 12 - بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ] · حديث 16814

16814 - وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَرَكْتُ حَاجَةً وَلَا دَاجَّةً إِلَّا [قَدْ] أَتَيْتُ، قَالَ: " أَلَيْسَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " ذَاكَ يَأْتِي عَلَى ذَاكَ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا طُرُقٌ فِي الْإِيمَانِ فِي بَابِ الْإِسْلَامِ يَجُبُّ مَا قَبْلَهُ.

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← وعن انس

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [38 - 12 - Chapter of what has come in the virtue of no god but God] · Hadith 16814

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [38 - 12 - بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ] · حديث 16815

16815 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي. فَقَالَ: " أَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ، أَنَّهُ مَنْ شَهِدَ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ صَادِقًا بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُبَشِّرُ النَّاسَ، فَاسْتَقْبَلَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَجَعَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذًا يَتَّكِلُ النَّاسُ! فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ فِي الْإِيمَانِ، فِي بَابِ مَنْ شَهْدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

«أَتَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعِي نَفَرٌ مِنْ قَوْمِي. ← اَبِیْ مُوْسیٰ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [38 - 12 - Chapter of what has come in the virtue of no god but God] · Hadith 16815

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [38 - 19 - بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَاقِيَاتِ الصَّالِحَاتِ وَنَحْوِهَا] · حديث 16854

16854 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَّمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ يُؤْتِي الْمَالَ مَنْ يُحِبُّ، وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُؤْتِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ، فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا أَعْطَاهُ الْإِيمَانَ، فَمَنْ ضَنَّ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ، وَهَابَ الْعَدُوَّ أَنْ يُجَاهِدَهُ، وَاللَّيْلَ أَنْ يُكَابِدَهُ ; فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

عبد الله -يعني ابن مسعود-

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Remembrance Book] › [19 - 38 - Chapter What came in the remaining good ones and the like) · Hadith 16854

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْبُيُوعِ] ‹ باب · حديث 6329

6329 - وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ أُعْطِيَ رُبُعَ الْإِيمَانِ، وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ أُعْطِي رَايَةَ إِبْلِيسَ، وَهُوَ مَعَ أَوَّلِ مَنْ يَغْدُو وَآخِرَ مَنْ يَرُوحُ» ". قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ.

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہے: جوشخص ( صبح کے وقت )صبح کی نماز کے لئے جا تا ہے اسے ایک چوتھائی ایمان عطا کر دیا جا تا ہے اور جوشخص صبح کے وقت بازار کی طرف جا تا ہے اسے شیطان کا جھنڈا دے دیا جا تا ہے اور یہ جھنڈ اصبح کے وقت سب سے پہلے جانے والے شخص اور شام کے وقت سب سے آخر میں آنے والے شخص کے ساتھ ہوتا ہے‘‘۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: )میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نق کیا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ ضعیف اور متروک ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← سَلْمَانَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › Chapter · Hadith 6329

chevron_left Previous
1…858687…484
Next chevron_right