Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 311

311 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ مِنَ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ إِسْحَاقُ الدَّبَرِيُّ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ بَيْنَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَبِي إِسْحَاقَ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : ایمان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آدمی اپنے بھائی کے ساتھ یوں محبت رکھے کہ وہ اس کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق طبری ہے ، اور یہ روایت "منقطع " ہے اور یہ " انقطاع " عبدالرزاق نامی راوی اور ابو اسحٰق نامی راوی کے درمیان ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 311

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 312

312 - وَعَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ لِي: أَحِبَّ فِي اللَّهِ، وَأَبْغِضْ فِي اللَّهِ، وَوَالِ فِي اللَّهِ، وَعَادِ فِي اللَّهِ ; فَإِنَّهُ لَا تُنَالُ وِلَايَةُ اللَّهِ إِلَّا بِذَلِكَ، وَلَا يَجِدُ رَجُلٌ طَعْمَ الْإِيمَانِ - وَإِنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ وَصِيَامُهُ - حَتَّى يَكُونَ كَذَلِكَ، وَصَارَتْ مُؤَاخَاةُ النَّاسِ فِي أَمْرِ الدُّنْيَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ فِيمَنْ يَغْضَبُ لِلَّهِ وَيَرْضَى لِلَّهِ.

مجاہد ، نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے مجھے سے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھو! اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھو، اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی رکھو ، اللہ تعالیٰ کی خاطر دشمنی رکھو ، اللہ تعالیٰ کی ولایت تک صرف اس ( عمل ) کے ذریعے ہی پہنچا جا سکتا ہے، اور آدمی نے خواہ کتنی ہی نمازیں پڑھی ہوں اور روزے رکھے ہوں ، وہ ایمان کا ذائقہ اس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ ایسا نہیں ہو جاتا، لوگوں کا بھائی چارہ ، تو دنیاوی معاملے کے حوالے سے ہوتا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابو سلیم ہے، اکثر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، اس سے پہلے حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے، جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی خاطر راضی ہوتا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 312

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ] · حديث 317

317 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ. وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: " الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ " - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " حیا ء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا، اور بے حیائی ، جفاء کا حصہ ہے، اور جفا ء جہنم میں ہو گی"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، " صحیح " میں اس کا حصہ منقول ہے" " حیاء ایمان کا حصہ ہے " اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of what came in the neighborhood] · Hadith 317

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ] · حديث 318

318 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ.

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " حیاء ایمان کا حصہ ہے" ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابو مقدام ہے، جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور کسی نے بھی اس کی توثیق نہیں کی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلاَمٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of what came in the neighborhood] · Hadith 318

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ] · حديث 319

319 - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ. وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ» ". قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي بَكْرَةَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَاهُمَا جَمِيعًا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِي مُسْنَدِهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدُ اللَّهِ عَنِ الْمَأْمُونِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ عَبْدَ الْجَبَّارِ.

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حیاء ایمان کا حصہ ہے ، اور ایمان جنت میں ہو گا، بے حیائی ، جفاء کا حصہ ہے اور جفاء جہنم میں ہو گی"۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ان دونوں روایات کو امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے : اسے عبدالجبار بن عبداللہ نامی راوی نے مامون کے حوالے سے نقل کیا ہے، اور میں نے کسی کو عبدالجبار نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

أَبِي بَكَرَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of what came in the neighborhood] · Hadith 319

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ] · حديث 321

321 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعِيَّ مِنَ الْإِيمَانِ، وَهُمَا يُقَرِّبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدَانِ مِنَ النَّارِ. وَالْفُحْشَ وَالْبَذَاءَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَهُمَا يُقَرِّبَانِ مِنَ النَّارِ، وَيُبَاعِدَانِ مِنَ الْجَنَّةِ ". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ لِأَبِي أُمَامَةَ: إِنَّا لَنَقُولُ فِي الشِّعْرِ: إِنَّ الْعِيَّ مِنَ الْحُمْقِ. قَالَ: إِنِّي أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَجِيئُنِي بِشِعْرِكَ الْمُنْتِنِ»؟!. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مِحْصَنٍ الْعُكَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " بے شک حیا اور عی ( یعنی بات کرتے ہوئے جھجک کا شکار ہونا ) ایمان کا حصہ ہیں ، اور یہ دونوں جنت کے قریب کر دیتے ہیں ، اور جہنم سے دور کر دیتے ہیں ؟ ایک دیہاتی شخص نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے کہا : ہم تو شاعری میں یہ کہتے ہیں : عی ، حماقت کا حصہ ہے، تو حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ، تم ( اس کے مقابلے میں ) میرے سامنے اپنا بد بو دار شعر پیش کر رہے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن محصن عکاشی ہے اور وہ ضعیف ہے، اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of what came in the neighborhood] · Hadith 321

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ] · حديث 322

322 - وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ مَقْرُونَانِ لَا يَفْتَرِقَانِ إِلَّا جَمِيعًا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْقَوْمَسِيُّ.

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " حیاء اور ایمان ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ، اور یہ دونوں ( اگر کسی شخص سے جدا ہو ں گے ) تو ایک ساتھ جدا ہونگے "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، وہ بیان کرتے ہیں : محمد بن عبیدہ قومسی نامی راوی اسے نقل کرتے میں منفرد ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of what came in the neighborhood] · Hadith 322

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ] · حديث 323

323 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ فِي قَرْنٍ، فَإِذَا سُلِبَ أَحَدُهُمَا تَبِعَهُ الْآخَرُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ كَذَّابٌ خَبِيثٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " حیاء اور ایمان ملے ہوئے ہیں ، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک سلب کیا جاتا ہے ، تو دوسرا بھی ، اس کے پیچھے رخصت ہو جاتا ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے، جو کذاب اور خبیث ہے ۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of what came in the neighborhood] · Hadith 323

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الصِّدْقَ مِنَ الْإِيمَانِ] · حديث 325

325 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ، وَالْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ أُذَيْنٍ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ، بَعْضُهَا فِي الْعِلْمِ، وَبَعْضُهَا فِي الْأَدَبِ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ -.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " آدمی اس وقت تک مکمل طور پر مؤمن نہیں ہوتا ، جب تک وہ مذاق میں بھی جھوٹ بولنا ، اور جھگڑا کرنا ترک نہیں کر دیتا ، خواہ سچا ہی ( یعنی جھگڑا کرنے میں حق پر ہی ) کیوں نہ ہو"۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منصور بن اذین ہے، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث آگے آئیں گی ، جن میں سے کچھ علم سے متعلق باب میں آئیں گی اور کچھ ادب سے متعلق باب میں آئیں گی، اگر اللہ نے چاہا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter What came that truthfulness is from faith] · Hadith 325

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الصِّدْقَ مِنَ الْإِيمَانِ] · حديث 326

326 - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَدَعَ الْمِزَاحَ وَالْكَذِبَ، وَيَدَعَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمَا.

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " آدمی صریح ایمان تک ، اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک وہ مزاح اور جھوٹ کو ترک نہیں کر دیتا، اور جھگڑا کرنے کو ترک نہیں کر دیتا ، اگرچہ ( جھگڑ ا کرنے میں ) وہ حق پر ہی ہو "۔ یہ روایت امام طبرانی نے " کبیر " میں نقل کی ہے، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے محمد بن عثمان نے ، سلیمان بن داؤد سے نقل کیا ہے ، اور میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter What came that truthfulness is from faith] · Hadith 326

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الصِّدْقَ مِنَ الْإِيمَانِ] · حديث 330

330 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «لَا يَجْتَمِعُ الْكُفْرُ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الصِّدْقُ وَالْكَذِبُ جَمِيعًا، وَلَا تَجْتَمِعُ الْخِيَانَةُ وَالْأَمَانَةُ جَمِيعًا» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کفر اور ایمان کسی ایک شخص کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے ، اور سچ اور جھوٹ اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں ، اور خیانت اور امانت دونوں ( کسی ایک شخص کے دل میں ( اکٹھے نہیں ہو سکتے ہیں : ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter What came that truthfulness is from faith] · Hadith 330

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ] · حديث 344

344 - وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ قَالَ: لَا، وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ؟ قَالَ: أَلْحَقُ بِهِ فَأَفْتِكُ بِهِ. فَقَالَ: لَا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " إِنَّ الْإِيمَانَ قَيْدُ الْفَتْكِ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ.

حسن بصری بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : کیا میں آپ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل نہ کر دوں ؟ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی نہیں ! تم انہیں کیسے قتل کر سکتے ہو؟ جبکہ ان کے ساتھ لشکر موجود ہے؟ اس نے کہا: میں ان کے ساتھ جا کے مل جاتا ہوں ، اور پھر دھوکہ سے ان پر حملہ کر دوں گا، تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے: " ایمان ، دھوکے سے حملہ کرنے لیے بیڑی ہے، مؤمن دھوکہ سے حملہ نہیں کرتا ہے"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرتا ہے، تاہم اس روایت میں اس نے یہ کہا ہے: حسن بصری نے ہمیں بات بیان کی ۔

أَلْحَقُ بِهِ فَأَفْتِكُ بِهِ. فَقَالَ: لَا، ← لَا وَكَيْفَ تَقْتُلُهُ وَمَعَهُ الْجُنُودُ ← «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الزُّبَيْرِ فَقَالَ: أَلَا أَقْتُلُ لَكَ عَلِيًّا؟ ← وعن الحسن

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › The door that a believer will never break] · Hadith 344

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ] · حديث 345

345 - وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ «أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَتْ لَهُ: أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِي وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: يَعْنِي: " الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ " كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ؟ قَالَتْ: صَالِحٌ. قَالَ: فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا - عَزَّ وَجَلَّ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ مَرْوَانَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى عَائِشَةَ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا : کیا تمہیں یہ اندیشہ نہیں ہوا؟ کہ میں نے تمہارے لیے کسی شخص کو ( اپنے گھر میں چھپا کر ) بٹھا رکھا ہو گا اور وہ تمہیں قتل کر دے گا؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ ایسا نہیں کر سکتی ہیں ، میں امان والے گھر میں موجود ہوں اور ( یہ حدیث مکمل نہیں ہے) بک میں سے صفحات غائب ہیں

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › The door that a believer will never break] · Hadith 345

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِيمَنْ يُخَالِفُ كَمَالَ الْإِيمَانِ] · حديث 346

346 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَعُدَّ الْبَلَاءَ نِعْمَةً، وَالرَّخَاءَ مُصِيبَةً ". قَالُوا: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتْبَعُهُ إِلَّا الرَّخَاءُ، وَكَذَلِكَ الرَّخَاءُ لَا يَتْبَعُهُ إِلَّا الْبَلَاءُ وَالْمُصِيبَةُ، وَلَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَسْكُنْ فِي صِلَاتِهِ ". قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " لِأَنَّ الْمُصَلِّي يُنَاجِي رَبَّهُ، فَإِذَا كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ إِنَّمَا يُنَاجِي ابْنَ آدَمَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِي. قَالَ الْبُخَارِيُّ: كَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ.

یہ حدیث PDF بک میں نہیں ہے۔ بک میں سے صفحات غائب ہیں۔

کَيْفَ ← رَسُولُ «لَيْسَ بِمُؤْمِنٍ مُسْتَكْمِلِ الْإِيمَانِ مَنْ لَمْ يَعُدَّ الْبَلَاءَ نِعْمَةً، وَالرَّخَاءَ مُصِيبَةً ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on the one who contradicts the integrity of faith] · Hadith 346

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِيمَنِ ادَّعَى غَيْرَ نَسَبِهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ] · حديث 349

349 - وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، رَوَاهُ عَنْ جَابِرٍ خَالِدُ بْنُ أَبِي حَيَّانَ، وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي هَذَا الْحَدِيثُ وَغَيْرُهُ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فِي الْفَرَائِضِ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص اپنے آزاد کرنے والے آقا کی بجائے ، کسی اور کی طرف نسبت ولا ء ظاہر کرتا ہے، وہ اپنی گردن سے ایمان کا پٹہ اتار دیتا ہے"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، اسے خالد ابو حیان نامی راوی نے نقل کیا ہے، جسے امام ابو زرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجا ل ہیں۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث اور اس کے علاوہ دیگر احادیث ، جو اپنے حقیقی آقا کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء ظاہر کرنے والے شخص کے بارے میں ہیں ، وہ فرائض سے متعلق باب میں آئیں گی۔

جَابِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on the one who claimed a different kinship or assumed responsibility for someone other than himself] · Hadith 349

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ النِّكَاحِ] ‹ بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ] · حديث 7649

7649 - «وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفِهُمْ وَبَطَارِقِهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ، وَرَأَى الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ فَقَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ تَفْعَلُونَ هَذَا؟ قَالُوا: هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ. قُلْنَا: فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ. فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟ " قَالَ: إِنِّي أَتَيْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُ النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَقِسِّيسِيهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ وَرَأَيْتُ الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ فَقُلْتُ: لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا وَتَفْعَلُونَ هَذَا؟ قَالُوا: هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ. قُلْتُ: فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ، وَلَا تَجِدُ امْرَأَةٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ». رَوَاهُ بِتَمَامِهِ الْبَزَّارُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ طَرِيقٌ مِنْ طُرُقِ أَحْمَدَ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ أَيْضًا.

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ شام آئے وہاں انہوں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اساقف اور بطارق (یعنی مذہبی پیشواؤں ) اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے اور انہوں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے احبار اور اپنے علماء اور فقہا کو سجدہ کرتے تھے، تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا : یہ انبیاء کو سلام کرنے کا طریقہ ہے ، تو ہم نے کہا: ہم ، تو پھر اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایسا کریں جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سجدہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا :اے معاذ ! یہ کس وجہ سے ہے انہوں نے عرض کی: میں شام گیا تھا وہاں میں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے مذہبی پیشواؤں راہیبوں کو سجدہ کرتے تھے اور میں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اکابرین فقہا ء اور علما ء کو سجدہ کرتے تھے ، میں نے دریافت کیا : تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو اور یہ عمل کیوں کرتے ہو؟ تو انہوں نے بتایا یہ انبیاء کو سلام کرنے کا طریقہ ہے ، تو میں نے کہا: پھر ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایسا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے ، جس طرح ان لو گوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کر لی تھی اگر میں کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو یہ ہدایت کرتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اس ک احق عظیم ہے عورت ایمان کی حلاوت اس وقت تک نہیں پا سکتی جب تک اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی خواہ وہ شخص اس عورت سے اس کے قرب کا مطالبہ اس وقت کرے جب وہ پالان کی پشت پر بیٹھی ہوئی ہو"۔ یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اور امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اسی طرح امام احمد کے طرق میں ایک طریق ایسا ہی ہے ۔ امام طبرانی نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Marriage] › Chapter on the Right of the Wife to the Woman] · Hadith 7649

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي قَوْلِهِ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَنَحْوِ هَذَا] · حديث 369

369 - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: " يَخْرُجُ الْإِيمَانُ مِنْهُ، فَإِنْ تَابَ رَجَعَ إِلَيْهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ لِسُوءِ حِفْظِهِ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرما یا ہے: "زنا کرنے والا ،زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا ،شراب پینے والا، اسے پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا، زنا کرنے والا ، زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان اس شخص میں سے نکل جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے، تو ایمان اس کی طرف لوٹ جاتا ہے "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابو لیلیٰ ہے، جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے، جبکہ امام احمد اور دیگر حضرات نے اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے، اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in his saying that the adulterer does not commit adultery when he commits adultery while he is a believer, and about this] · Hadith 369

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي قَوْلِهِ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَنَحْوِ هَذَا] · حديث 370

370 - وَعَنْ شَرِيكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ زَنَى خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

شریک نے، ایک صحابی کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: "جو شخص زنا کرتا ہے ، ایمان اس میں سے نکل جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں (راویوں کی ) ایک ایسی جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔

النَّبِيِّ ← رجل من الصحابة ← شَرِيکٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in his saying that the adulterer does not commit adultery when he commits adultery while he is a believer, and about this] · Hadith 370

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي قَوْلِهِ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَنَحْوِ هَذَا] · حديث 373

373 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «لَا يَسْرِقُ السَّارِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، الْإِيمَانُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ» ". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهِ: " الْإِيمَانُ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْرَائِيلُ الْمُلَائِيُّ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ النَّاسُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الْفِتَنِ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے خلیل حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشا د فرماتے سنا ہے:" چوری کرنے والا ، چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، ایمان، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہے"۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسرائیل ملائی ہے، یحییٰ بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے، جبکہ لوگوں سے اسے ضعیف قرار دیا ہے، میں یہ کہتا ہوں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول حدیث فتنوں سے متعلق باب میں آئے گی۔

خليلي أبا القاسم ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in his saying that the adulterer does not commit adultery when he commits adultery while he is a believer, and about this] · Hadith 373

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي قَوْلِهِ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَنَحْوِ هَذَا] · حديث 374

374 - وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ وَسُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ". فَأَدَارَ دَارَةً وَاسِعَةً فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ أَدَارَ فِي وَسَطِ الدَّارَةِ دَارَةً، فَقَالَ: الدَّارَةُ الْأُولَى الْإِسْلَامُ، وَالدَّارَةُ الَّتِي فِي وَسَطِ الدَّارَةِ الْإِيمَانُ، فَإِذَا زَنَى خَرَجَ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَلَا يُخْرِجُهُ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا الشِّرْكُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ يَسَارٍ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ.

فضل بن یسار بیان کرتے ہیں: میں نے محمد بن علی( شاید اس سے مراد ، امام باقر) کو سنا، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: زنا کرنے والا، زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، چوری کرنے ولا ، چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، تو محمد بن علی نے زمین پر ایک بڑا دائرہ بنایا، پھر اس کے درمیان میں ایک اور دائرہ بنایا، اور پھر یہ فرمایا: پہلے والا دائرہ اسلام ہے اور درمیان والا دائرہ 'ایمان' ہے جب کوئی شخص زنا کرتا ہے، تو وہ ایمان سے نکل کر اسلام کی طرف چلا جاتا ہے، لیکن شرک کے علاوہ اور کوئی چیز اسے اسلام سے باہر نہیں کرتی ہے۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن یسار ہے، عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے۔

مُحَمَّد بن علي وسئل ← الْفَضْلُ بْنُ يَسَارٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter in his saying that the adulterer does not commit adultery when he commits adultery while he is a believer, and about this] · Hadith 374

chevron_left Previous
1…848586…484
Next chevron_right