حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: ’’تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ کل ( قیامت کے دن )اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر نہیں کرے گا بوڑھازانی ، و ہ شخص جو ہر حق اور باطل کی صورت میں سامان کو قسم کے عوض میں حاصل کرتا ہے اور غریب ‘متکبر‘ خود پسند‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے اس سے پہلے حضرت عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث گزرچکی ہے۔
عِصْمَةُ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Sales] › [Chapter of swearing in the sale] · Hadith 6336
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا آوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَإِذَا انْتَبَهَ] · حديث 17055
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دیا آپ نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے، اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ عمل ہونے کا تذکرہ کیا، راوی بیان کرتے ہیں: تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہوں اور میں صبر کرنے والا اور ثواب کی امید رکھنے والا ہوتا ہوں، دشمن کی طرف رخ کیے ہوتا ہوں، پیٹھ نہیں پھیری ہوتی، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہ ختم کردے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! پھر نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے فرمایا: تم نے کیا کہا ہے؟ اس نے اپنی بات دُہرا دی جس طرح پہلے کہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم نے کیا کہا ہے؟ اس نے دوبارہ اپنی بات دُہرا دی اور عرض کی : یا رسول اللہ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اگر میں صبر کرنے والے کے طور پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے دشمن کی طرف رخ کر کے، پیٹھ نہ پھیر کر، اللہ کی راہ میں قتل ہو جاتا ہوں، تو کیا الله تعالیٰ میرے گنا ختم کر دے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! البتہ قرض کا معاملہ مختلف ہے، ابھی جبرائیل نے سرگوشی میں مجھے اس بارے میں بتایا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔
حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص یہ ہرگز نہ کہے کہ اے اللہ! مجھے میری حجت کی تلقین کرنا کیونکہ کافر کو اس کی حجت کی تلقین کی جاتی ہے آدمی کو یہ کہنا چاہیے : اے اللہ ! موت کے قریب ایمان کی حجت کی مجھے تلقین کرنا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سکن بن ابوکرعہ‘ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [The door to incarnating the dead, there is no deity but God] · Hadith 3923
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا] · حديث 8196
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص شراب پئیے گا اس کے اندر سے ایمان کا نور نکل جائے گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of syrups] › [Chapter on what came in wine and who drinks it] · Hadith 8196
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ] ‹ [بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَمْرِ وَمَنْ يَشْرَبُهَا] · حديث 8205
حضرت ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : شراب پینے والا اسے پیتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ، زنا کرنے والا زنا کرتے ہوئے مومن نہیں ہوتا ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو کتاب الایمان میں ذکر ہو چکی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مدرک بن عمارہ نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
أَبِي أَوْفَى،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of syrups] › [Chapter on what came in wine and who drinks it] · Hadith 8205
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ] ‹ [بَابُ كَيْفِيَّةِ الشُّرْبِ وَالتَّسْمِيَةِ وَالْحَمْدِ] · حديث 8262
حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عیینہ بن حصٰن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاجر ہوا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شخص موجود تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی مانگا وہ پانی لایا گیا تو آپ نے پردہ کیا اور پھر اسے پیا ، اس نے دریافت کیا : یہ کہا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : حیاء اور ایمان یہ دونوں ایک ساتھ دیے جاتے ہیں اور تم کو ان دونوں سے روک دیا گیا ( یا یہ دونوں تمہیں نہیں دیے گئے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل ک ہے اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن مطیع شیبانی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
جَرِيرٌ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Book of syrups] › [Chapter on How to drink, name it and praise] · Hadith 8262
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ اللِّبَاسِ] ‹ [بَابُ الِارْتِدَاءِ وَالِالْتِفَاعِ] · حديث 8545
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ارشاد فرمایا : " چادر اوڑھنا عربوں کا لباس ہے ، اور التفاع ( اشتمال کے طور پر اوڑھنا ) ایمان کا لباس ہے "۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم التفاع ( یعنی اشتمال کے طور پر چادر اوڑھا ) ایمان کا لباس ہے "۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان شامی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے بعض حضرات سے اس کی توثیق کی گئی ہے اور یہ مستند طور پر ثابت نہیں ہے ( یا درست نہیں ہے )۔
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Dressing Book] › [Chapter of wearing and elevation] · Hadith 8545
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ] · حديث 740
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود !ایمان کی کون سی رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسی اللہ تعالی کی خاطر دوستی رکھنا ، اللہ تعالی کی خاطر محبت رکھنا اور اللہ تعالی کی خاطر بغض رکھنا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ !میں حاضر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو لوگوں میں سےکون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ میں عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت وہ رکھتا ہے جو زیادہ فضیلت والے عمل کرتا ہو(یا جو عمل کے حوالےسے فضیلت رکھتا ہو )جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو(یعنی عالم ہو ) پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ!میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ جانتے ہو لوگوں میں سے کون زیادہ علم رکھتا ہے ؟میں نے عرض کی :اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :لوگوں میں سب سے زیادہ علم وہ شخص رکھتا ہے، جو لوگوں کے اختلاف کے وقت ، حق کے بارے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھتا ہو ، اگرچہ اس کا عمل تھوڑا ہو اور خواہ وہ سرین کے بل گھسٹ کت چلتا ہو ، تم سے پہلے لوگ اختلاف کا شکار ہو گئے تھے 72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے جن میں سے تین گرہوں نے نجات حاصل کی تھی ، اور باقی سب ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے ، ایک گرو جس نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی اور اپنے دین اور حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کے دین کے حوالے سے ان لوگوں کے ساتھ جہاد کیا ، ان حکمرانوں نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا اور ان میں ایک گروہ وہ تھا ، جس میں حکمرانوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی اور نہ ہی وہ لوگ ان حکمرانوں کے درمیان رہ کر ، دوسرے لوگوں کو اللہ کے دین اور حضرت عیسی علیہ السلام کے دین کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے : "اور رہبانیت، انہوں نے،صرف اللہ تعالی کی رضا مندی کے حصول کے لیے ایجاد کی تھی ، ہم نے ان پر (رہبانیت )لازم قرار نہیں دی تھی "۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پہر ایمان لائجے ، میری پیروی کرے ، میری تصدیق کرے ، تو وہ اس کی اس طرح رعایت کرے گا ، جو اس کی رعایت کا حق ہے، اور جو شخص میری پیروی نہیں کرتا ، تو وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اسکی سند میں ایک راوی عقیل بن جعد ہے امام بخاری فرماتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter Which People Know] · Hadith 740
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ السُّؤَالِ عَنِ الْفِقْهِ] · حديث 755
حضرت عبداللہ ب ن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک زمانہ ایسے عالم میں گزارا ہے کہ ہم میں سے کسی ایک کو قرآن سے پہلے ایمان عطا کیا جاتا تھا ، جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کوئی سورت نازل ہوتی تھی ، تو وہ شخص اس کے حلال اور حرام کا علم حاصل کرتا تھا اور اس چیز کا بھی علم حاصل کرتا تھا جس سے واقف ہونا اس کے لئے مناسب تھا ، بالکل اسی طرح ، جس طرح ( آج کے زمانے میں )تم لوگ قرآن کا علم حاصل کرتےہو ، پھر میں نے ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ، جنہیں ایمان سے پہلے قرآن دے دیا گیا ، وہ سورہ فاتحہ سے لے کر،قرآن کے آخر تک پورا پڑھ لیتے ہیں ، لیکن انہیں یہ پتا نہیں ہوتا ، کہ قرآن انہیں کیا حکم دیتا ہے اور کس چیز سے منع کرتا ہے ؟ اور وہ ایسے شخص کے لئے یہ مناسب بھی نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں کا علم حاصل کرے ، وہ تیزی سے اس کو یوں پڑھتا ہے ، جس طرح ردسی کھجوریں پھینک دی جاتی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
ابْنِ عُمَرَ
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter on the Question on Fiqh] · Hadith 755
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْأَذْكَارِ] ‹ [بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ] · حديث 17148
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Supplication book] › [Chapter of the supplications that were narrated from the Messenger of God - may God’s prayers and peace be upon him - that he called and taught] · Hadith 17387
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [Supplication book] › [Chapter of the supplications that were narrated from the Messenger of God - may God’s prayers and peace be upon him - that he called and taught] · Hadith 17422
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ التَّوْبَةِ] ‹ [بَابُ التَّائِبِ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ] · حديث 17527
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے‘ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! دن قریب آ چکا ہے‘ وہ لوگ سیر ہوں گے اور ہم لوگ بھوکے ہوں گے‘ انصار نے کہا: کیا ہم اپنی اونٹنیوں کو ذبح نہ کر لیں؟ اس طرح ہم لوگوں کو کھانا کھلا دیں گے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس اضافی کھانا موجود ہو‘ اسے لے آئے تو کوئی شخص ایک مدلے آیا‘ کوئی ایک صاع لے آیا‘ کوئی اس سے زیادہ‘ یا اس سے کم لے کے آیا‘ لشکر میں جو کچھ بھی تھا‘ وہ سارا ملا کے بیس صاع سے کچھ زیادہ بنتا تھا‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ایک طرف بیٹھ گئے‘ آپ نے برکت کی دعا کی‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ لینا شروع کرو! لیکن لوٹ مار نہ کرنا‘ تو کوئی شخص اپنے تھیلے میں بھر لیتا تھا‘ کوئی شخص برتن میں بھر لیتا تھا‘ یہاں تک کہ ان لوگوں نے وہ سامان اپنے برتنوں میں ڈال لیا‘ یہاں تک کہ ایک شخص نے اپنی قمیص کی آستین کو باندها اور اسے بھر لیا‘ جب وہ لوگ یہ لے کر فارغ ہوئے تو وہ کھانا اسی طرح تھا‘ جیسے پہلے تھا‘ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’میں‘ اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے‘ جو بندہ اس کلمے کے ہمراہ آئے گا‘ جبکہ وہ اس پر حقیقی طور پر ایمان رکھتا ہو‘ تو الله تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا‘‘۔یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبید الله عمری ہے‘ جسے عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے‘ اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان میں‘ پہلے باب میں حضرت ابو عمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نقل کرده حدیث گزر چکی ہے۔
كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ فِي غُزَاةٍ فَقُلْنَا: ← وعن عمر بن الخطاب
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › Chapter of his miracle, may God’s prayers and peace be upon him, and his blessing in the meal] · Hadith 14113
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ سورت نازل ہوئی (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ’’جب اللہ کی مدد اور فتح آ گئی۔۔۔‘‘۔انہوں نے اسے پورا پڑھا۔حضرت عبدالله بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوآپ کے وصال کی اطلاع دی گئی تھی‘ جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخرت کے معاملے کے حوالے سے بہت زیادہ عبادت کرنے لگے‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بعدیہ ارشاد فرمایا: فتح آ گئی ہے‘ اور اللہ کی مدد آ گئی ہے‘ اور اہل یہن آ گئے ہیں‘ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول الله! اہل یمن کیسے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’وہ ایسے لوگ ہیں کہ جن کے دل نرم ہیں اور مہربان ہیں اور ایمان اور سمجھ بوجھ یمانی ہے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے‘ اور معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں:”دانائی‘ یمنی ہے‘‘۔ان کی اسانید میں سے ایک کے رجال’’صحیح‘‘ کے رجال ہیں۔
ابْنِ عَبَّاسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Signs of Prophethood] › [Chapter on his illness and his death, may God bless him and grant him peace, and what God Almighty brought about from that] · Hadith 14241
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ اللِّبَاسِ] ‹ [بَابُ إِظْهَارِ النِّعَمِ وَاللِّبَاسِ الْحَسَنِ] · حديث 8596
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے سامنے تکبر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس بارے میں سختی کا اظہار کیا اور ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالی ہر متکبر فخر کرنے والے شخص کو پسند نہیں کرتا حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں ، تو مجھے ان کی سفیدی اچھی لگتی ہے اور مجھے اپنے جوتے کا تسمہ اچھا لگتا ہے اور مجھے اپنمی لاٹھی کا علاقہ ( لٹکانے کی جگہ ) اچھا لگتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا :" یہ چیز تکبر نہیں ہے ، تکبر یہ ہے کہ تم حق سے دو گردانی کرواور لوگوں کو حقیر سمجھو "۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابو لیلیٰ ہے اور وہ خراب حافظے کا مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث ان شواہد کی بنیاد ہر حسن ہے جو اس سے پہلے باب میں گزر چکے ہیں ، البتہ عبدالرحمن نامی راوی نے حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا ایک طریق سورت نساء سے متعلق باب میں بھی ہے اس روایت کے مختلف طرق ہیںجو کتاب الایمان میں گزر چکے ہیں اور اس کے کچھ طرق کتاب الزہد میں ہیں ۔