Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الدِّينِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ] · حديث 199

199 - عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " أَنْ يُسْلِمَ قَلْبُكَ، وَأَنْ يَسْلَمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ ". قَالَ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ ". قَالَ: وَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ ". قَالَ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْهِجْرَةُ ". قَالَ: مَا الْهِجْرَةُ؟ قَالَ: " أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ ". قَالَ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ ". قَالَ: وَمَا الْجِهَادُ؟ قَالَ: " أَنْ تُقَاتِلَ الْكُفَّارَ إِذَا لَقِيتَهُمْ ". قَالَ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهْرِيقَ دَمُهُ» ". قُلْتُ: وَهُوَ يَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي فَضْلِ الْحَجِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اسلام سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تمہاری دل فرمانبردار ہو، اور تمہاری زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان محفوظ ہوں، اس شخص نے دریافت کیا: کو اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایمان ، اس نے دریافت کیا: ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں ، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان رکھو ! اس شخص نے دریافت کیا: کو سا ایمان زیادہ فضلیت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت ، اس نے دریافت کیا: ہجرت سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ! اس نے دریافت کیا: کہ کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاد ، اس نے دریافت کیا : جہاد سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ جب تمہارا کفار سے سامنا ہو ، تو تم ان کے ساتھ جنگ کرو! اس نے دریافت کیا: کو ن سا جہاد فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس میں گھوڑے کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور آدمی کا خون بہا دیا جائے، (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت آگے چل کر ، حج کی فضیلت سے متعلق باب میں ، مکمل روایت کے طور پر آئے گی۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔

رَجُلٌ: ← عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter Which work is better and which religion is most beloved to God] · Hadith 199

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الدِّينِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ] · حديث 204

204 - وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّ أَفْضَلَ الْإِيمَانِ أَنْ تَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَكَ حَيْثُمَا كُنْتَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ. قُلْتُ: وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ بِثِقَةٍ وَلَا جَرْحٍ.

حضرت عبادہ بن سامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " سب سے زیادہ فضیلت والا ایمان یہ ہے کہ تم اس بات کو علم ( یعنی یقین رکھو! کہ تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے: عثمان بن کثیر اسے نقل کرنے میں منفرد ہے۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی شخص کو اس کا تذکرہ توثیق یا جرح کے ہمراہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter Which work is better and which religion is most beloved to God] · Hadith 204

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الدِّينِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ] · حديث 207

207 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ، وَأَشْرَفُ الْإِسْلَامِ أَنْ يَسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ، وَأَشْرَفُ الْهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ، وَأَشْرَفُ الْجِهَادِ أَنْ تُقْتَلَ وَتُعْقَرَ فَرَسُكَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ مُنَبِّهٌ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " سب سے زیادہ شرف ایمان یہ ہے : کہ لوگ تم سے محفوظ رہیں، اور سب سے زیادہ شرف والا اسلام یہ ہے : کہ لوگ تمہاری زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں ، اور سب سے زیادہ شرف والی ہجرت یہ ہے : کہ تم برائیوں سے لا تعلق ہو جاؤ، اور سب سے زیادہ شرف والا جہاد یہ ہے: کہ تمہیں قتل کر دیا جائے اور تمہارے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، وہ فرماتے ہیں : منبہ نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے۔

ابْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter Which work is better and which religion is most beloved to God] · Hadith 207

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الدِّينِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ] · حديث 210

210 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ. " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " طِيبُ الْكَلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ ". قُلْتُ: فَأَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ". قُلْتُ: فَأَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ ". قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " طُولُ الْقُنُوتِ ". قُلْتُ: فَأَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " أَنْ تَهْجُرَ السُّوءَ ". قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ عُقِرَ جَوَادُهُ، وَأُهُرِيقَ دَمُهُ» ". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: " مَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ " قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ ". وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ: " أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ.

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دریافت کیا: اس معاملے ( یعنی دین ) کے بارے میں آپ کی پیروی کرنے والا کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام ، میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پا کیزہ گفتگو کرنا اور کھانا کھلانا، میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صبر اور نرمی( یا سخاوت ) میں نے دریافت کیا: کون سا ایمان افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق ، میں نے دریافت کیا: کون سی نماز افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : طویل قیام والی ، میں نے دریافت کیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تم برائی سے لاتعلق ہو جاؤ میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس میں آدمی کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور اس ( یعنی آدمی ) کا خون بہا دیا جائے۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : " صحیح میں اس ( روایت ) کا یہ حصہ مذکوری ہے: " اس معاملے ( یعنی دین ) کے بارے میں آپ کی پیروی کرنے والا کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک آزاد شخص اور ایک غلام "۔امام ابن ماجہ نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے: " کون سا جہاد افضل ہے؟ "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ فَقُلْتُ‏:‏ ← وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter Which work is better and which religion is most beloved to God] · Hadith 210

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الدِّينِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ] · حديث 211

211 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ «أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ. قَالَ: " أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ، وَتُبْغِضَ لَهُ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ ". قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَتَكْرَهُ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ، وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ» ". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ( اس سے مراد ہے ) کہ تم ( کسی کے ساتھ ) اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھو اور اس کے لیے بغض رکھو ! اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کی یاد والا عمل کرواؤ! انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کیسے ہو گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ( اس سے مراد یہ ہے : ) کہ تم لوگوں کے لیے اسی چیز کو پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو اور ان کے لیے وہی چیز نا پسند کرو جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو، اور تم بھلائی کی بات کہو! ورنہ خاموش رہو،( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ اس سیاق کے بغیر نقل کیا ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابن الہیعہ ہے ۔

وماذا ← اللہُ ← أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ، وَتُبْغِضَ لَهُ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ← أفْضَلِ الإيمانِ؟ ← وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ «أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter Which work is better and which religion is most beloved to God] · Hadith 211

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ دُخُولِ الْإِيمَانِ فِي الْقَلْبِ قَبْلَ الْقُرْآنِ] · حديث 223

223 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " إِنَّ قَلْبَكَ حُشِيَ الْإِيمَانَ، وَإِنَّ الْإِيمَانَ يُعْطَى الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں قرآن پڑھتا ہوں ، لیکن میں اپنے دل کو ایسا نہیں پاتا ہوں کہ وہ اس کو یاد رکھ پائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد د فرمایا: " تمہارے دل میں ایمان بھرا ہوا ہے اور بندے کو ایمان ، قرآن سے پہلے دیا جاتا ہے"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ابن لہیعہ ہے ۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← وعن عبد الله بن عمرو

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter “Entering Faith into the Heart Before the Qur’an] · Hadith 223

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي قَلْبِ الْمُؤْمِنِ وَغَيْرِهِ] · حديث 224

224 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ: قَلْبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ يُزْهِرُ، وَقَلْبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَيْهِ غِلَافُهُ، وَقَلْبٌ مَنْكُوسٌ، وَقَلْبٌ مُصَفَّحٌ ; فَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ فِيهِ سِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْأَغْلَفُ فَقَلْبُ الْكَافِرِ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْكُوسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ، وَأَمَّا الْقَلْبُ الْمُصَفَّحُ فَقَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ، فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا الْمَاءُ الطَّيِّبُ، وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِيهِ كَمَثَلِ الْقَرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ، فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى الْأُخْرَى غَلَبَتْ عَلَيْهِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " دل چار قسم کے ہوتے ہیں ، ایک دل جو مجرد ہو، اس میں چراغ روشن ہوتا ہے ، ایک وہ دل جو پردے میں ہوتا ہے ، اس پر اس کا غلاف چڑھا ہوتا ہے، ایک دل اوندھا ہوتا ہے، اور ایک دل کشادہ ہوتا ہے ، جہاں تک مجرو دل کا تعلق ہے، تو وہ ،مؤمن کا دل ہے جس میں اس کا چراغ موجود ہوتا ہے اور اس میں اس کی روشنی ہوتی ہے ، جہاں تک غلاف والے دل کا تعلق ہے، تو وہ کافر کا دل ہوتا ہے، جہاں تک اوندھے دل کا تعلق ہے ، تو وہ منافق کا دل ہوتا ہے، جو ( حق کو ) پہچان لیتا ہے اور پھر انکار کر دیتا ہے، جہاں تک کشادہ دل کا تعلق ہے ، تو وہ ایسا دل ہے، جس میں ایمان بھی ہوتا ہے اور نفاق بھی ہوتا ہے ، اس میں موجود ایمان کی مثال سبزی کی مانند ہے، جسے صاف پانی بڑھا دیتا ہے، اور اس میں موجود نفاق کی مثال ، اس زخم کی مانند ہے، جس میں پیپ اور خون زیادہ ہوتا ہے ، تو دونوں میں سے جس کی زیادتی ، دوسرے پر غالب آ جائے ، وہ حالت دوسری پر غالب آ جاتی ہے " ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A door in the heart of the believer and others] · Hadith 224

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ فَضْلِ مَدِينَةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] · حديث 5777

5777 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «الْمَدِينَةُ قُبَّةُ الْإِسْلَامِ، وَدَارُ الْإِيمَانِ، وَأَرْضُ الْهِجْرَةِ، وَمُبَوَّأُ الْحَلَالِ، وَالْحَرَامِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مِينَا قَالُونُ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ مدینہ اسلام کا قبہ، ایمان کا گھر ، ہجرت کی سرزمین اور حلال اور حرام کا ٹھکانہ ہے‘‘۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسی ٰبن مینا قالون ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [The door of the merit of the city of our Master, the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him] · Hadith 5777

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْحَجِّ] ‹ [بَابُ إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ] · حديث 5783

5783 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ حَفْصٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ الصَّوَابُ، قُلْتُ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحَيْنِ، وَقَدْ يَكُونُ رَوَى عَنِ ابْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ، فَلَا مَانِعَ فَإِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنی بل کی طرف چلا جا تا ہے‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں: یحییٰ بن سلیم طائفی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے جبکہ دوسرے راویوں نے اسے عبداللہ بن عمر کے حوالے سے حبیب کے حوالے سے حفص نامی راوی کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور یہی درست ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں: یحییٰ بن سلیم ’’صحیحین‘‘ کے رجال میں سے ایک ہے اور اس نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دونوں سے روایات نقل کی ہیں اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

ابْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Pilgrimage] › [Chapter that faith can be traced back to the city] · Hadith 5783

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ] · حديث 286

286 - عَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ ; فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

حضرت ابو مامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہاری اچھائی ، تمہیں اچھی لگے ، اور تمہاری برائی ، تمہیں بری لگے ، تو تم مؤمن ہو" یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔

أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › The door of whom you have pleased is good, that he is believing] · Hadith 286

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ] · حديث 287

287 - وَلَهُ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: مَا الْإِثْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " مَا حَكَّ فِي صَدْرِكَ فَدَعْهُ ". قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ ; فَهُوَ مُؤْمِنٌ» ". وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَإِنْ كَانَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ.

انہی کے حوالے سے معجم اوسط میں یہ روایت میں منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گناہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو چیز تمہارے من میں کھٹکے تم اسے چھوڑ دو! اس شخص نے دریافت کیا: ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو اس کی برائی بری لگے ، اور اچھائی اچھی لگے ، وہ مؤمن ہو گا۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن ابوکثیر ہے، وہ تدلیس کرتا ہے، اگر چہ وہ صحیح کے رجال میں سے ہے۔

رَجُلٌ: مَا الْإِثْمُ ← وَلَهُ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › The door of whom you have pleased is good, that he is believing] · Hadith 287

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِيمَنْ حُبُّهُمْ إِيمَانٌ] · حديث 299

299 - وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «مَنْ أَحَبَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَادِقًا غَيْرَ كَاذِبٍ، وَلَقِيَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَحَبَّهُمْ، وَكَانَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ عِنْدَهُ كَمَنْزِلَةِ نَارٍ أُلْقِيَ فِيهَا - فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ ". أَوْ قَالَ: " فَقَدْ بَلَغَ ذُرْوَةَ الْإِيمَانِ» ". الشَّكُّ مِنْ صَفْوَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شُرَيْحُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ، اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ لِتَدْلِيسِهِ.

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص جھوٹا ہوئے بغیر سچا ہونے کے طور پر ، اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے، اور جب وہ اہل ایمان سے ملتا ہے، تو ان سے بھی محبت کرتا ہے اور زمانہ جاہلیت کا معاملہ اس کے نزدیک آگ میں ڈالے جانے کی مانند ہو، تو اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا"۔ راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں: " وہ ایمان کی چوٹی تک پہنچ جاتا ہے" یہ شک صفوان نامی راوی کو ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شریح بن عبید ہے، وہ ثقہ ہے، اور تدلیس کرنے والا ہے، اور اس کی تدلیس کی وجہ سے ، اس کے صحابہ کرام سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A chapter in whose love is faith] · Hadith 299

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 301

301 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْعَبْدَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فَضَّالُ بْنُ جُبَيْرٍ لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی، وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا، یہ کہ اللہ اور اس کا رسول ، اس شخص کے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ، ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ، یہ کہ وہ کسی بندے کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اور وہ اس (بندے ) کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھتا ہو، اور یہ کہ آگ میں ڈالا جانا اس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو ، کہ وہ کفر کی طرف واپس چلا جائے، اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کفر سے بچا لیا ہو"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے، جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 301

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 303

303 - عَنْ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَأَبْغَضَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوِلَايَةَ مِنَ اللَّهِ، إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ ضَعِيفٌ.

حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سان ہے: " بندہ صریح ایمان کا حقدار اس وقت تک نہیں ہوتا ، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت نہیں رکھتا ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض نہیں رکھتا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے بغض رکھتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کی ولایت کا مستحق ہو جاتا ہے ( اور حدیث قدسی میں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) " میرے بندوں میں سے میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے میرے محبوب بندے وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ہمراہ ان کا ذکر کیا جاتا ہے، اور ان کے ذکر کے ہمراہ میرا ذکر کیا جاتا ہے"۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی کی رشدین بن سعد ہے، اور وہ منقطع اور ضعیف ہے۔

النَّبِيِّ ← عمرو بن الجموح: أنه

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 303

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 304

304 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «لَا يَجِدُ الْعَبْدُ صَرِيحَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ لِلَّهِ وَيُبْغِضَ لِلَّهِ، فَإِذَا أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَحَقَّ الْوِلَايَةَ، وَإِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْ عِبَادِي وَأَحِبَّائِي مِنْ خَلْقِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " آدمی صریح ایمان کو اس وقت تک نہیں پا سکتا ، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کے ساتھ محبت نہیں رکھتا ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کے ساتھ بغض نہیں رکھتا ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھتا ہے، تو وہ ولایت کا مستحق ہو جاتا ہے ( حدیث میں ، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ) " میرے بندوں میں سے میرے اولیاء اور میری مخلوق میں سے میرے محبوب بندے ، وہ ہیں کہ میرے ذکر کے ساتھ ان کا ذکر کیا جاتا ہے ، اور ان کے ذکر کے ساتھ میرا ذکر کیا جاتا ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے اور وہ ضعیف ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عمرو بن الحمق أنه

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 304

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 305

305 - وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ «سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَفْضَلِ الْإِيمَانِ، قَالَ: " أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ، وَتُبْغِضَ لِلَّهِ، وَتُعْمِلَ لِسَانَكَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ ". قَالَ: وَمَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ، وَتَكْرَهَ لَهُمْ مَا تَكْرَهُ لِنَفْسِكَ "، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: " وَأَنْ تَقُولَ خَيْرًا أَوْ تَصْمُتَ» ". وَفِي الْأُولَى رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَفِي الثَّانِيةِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ. رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھو، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھو، اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر کے لیے استعمال کرو! حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! وہ کیسے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " یوں کہ تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو، جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو، اور تم لوگوں کے لیے وہی چیز نا پسند کرو، جو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو "۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : " اور یہ کہ تم بھلائی کی بات کہو یا پھر خاموش رہو"۔ پہلی روایت میں رشد ین بن سعد ہے ، اور دوسری روایت میں ابن لہیعہ ہے، اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں، یہ دونوں روایا ت امام احمد نے نقل کی ہیں ۔

وماذا ← اللہُ ← "أنْ تُحبَّ لله، وتُبْغِضَ لله، وتَعْمَلَ لسانَك في ← أفْضَلِ الإيمانِ؟ ← وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ «سَأَلَ النَّبِيَّ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 305

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 306

306 - وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَقُ؟ ". فَقَالُوا: الصَّلَاةُ. قَالَ: " حَسَنَةٌ، وَمَا هِيَ بِهَا؟ " قَالُوا: صِيَامُ رَمَضَانَ. قَالَ: " حَسَنٌ، وَمَا هُوَ بِهِ؟ " قَالُوا: الْجِهَادُ. قَالَ: " حَسَنٌ، وَمَا هُوَ بِهِ؟ " قَالَ: " إِنَّ أَوْثَقَ عُرَى الْإِيمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِلَّهِ وَتُبْغِضَ فِي اللَّهِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَضَعَّفَهُ الْأَكْثَرُ.

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے دریافت کیا: اسلام کی کون سی رسی زیادہ مضبوط ہے؟ لوگوں نے عرض کی : نماز ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : وہ اچھی ہے، لیکن یہ مراد نہیں ہے، لوگوں نے عرض کی: رمضان کے روزے ، آپ نے فرمایا: یہ بھی اچھے ہیں لیکن یہ مراد نہیں ہے، لوگوں نے عرض کی : جہا د کرنا آپ نے فرمایا: یہ بھی اچھا ہے، لیکن یہ مراد نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھو اور اللہ کے لیے بغض رکھو۔ یہ روایت امام احمد نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابو سلیم ہے، جسے اکثر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے۔

حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ ← الْجِهَادُ ← حَسَنٌ وَمَا هُوَ بِهِ ← صِيَامُ رَمَضَانَ ← حَسَنَةٌ وَمَا هِيَ بِهَا ← الصَّلَاةِ ← أَيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَقُ؟ ← كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 306

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 308

308 - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: " «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ - وَقَالَ هَاشِمٌ -: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» - ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے ۔ یہاں ہاشم نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں:۔ جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کا ایمان کا ذائقہ چکھ لے ، اسے کسی ایسے شخص کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے ، جس کے ساتھ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے"۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

«مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 308

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 309

309 - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " يَابْنَ مَسْعُودٍ، أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " أَوْثَقُ عُرَى الْإِسْلَامِ: الْوِلَايَةُ فِي اللَّهِ، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ» " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْعِلْمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَقِيلُ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابن مسعود ! ایمان کی کون سی رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے؟ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی سب سے مضبوط رسی اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی رکھنا ہے ، اللہ تعالی کے لیے محبت رکھنا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھنا ہے۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، یہ مکمل روایت علم سے متعلق باب میں آئے گی۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقیل بن جعد ہے، امام بخاری فرماتے ہیں : منکر الحدیث ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 309

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنَ الْإِيمَانِ الْحُبُّ لِلَّهِ وَالْبُغْضُ لِلَّهِ] · حديث 310

310 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ ; فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَحْمَدُ وَغَيْرُهُمَا، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَحَلُّهُ الصِّدْقُ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے ( کسی کو کچھ ) دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے روک لیتا ( یعنی نہیں دیتا ) ہے ، وہ ایمان کو مکمل کر لیتا ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے، جسے امام بخاری ، امام احمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے، امام ابو حاتم فرماتے ہیں : اس کا محل صدق ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of faith: love for God and hatred for God] · Hadith 310

chevron_left Previous
1…838485…484
Next chevron_right