مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 114
114 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ، حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ. فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: انْظُرُوا هُوَ يَسْأَلُهُ وَهُوَ يُصَدِّقُهُ، كَأَنَّهُ أَعْلَمُ مِنْهُ، وَلَا يَعْرِفُونَ الرَّجُلَ، ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ، وَبِالْمَوْتِ، وَبِالْبَعْثِ، وَبِالْحِسَابِ، وَبِالْجَنَّةِ، وَبِالنَّارِ، وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: يَا مُحَمَّدُ: مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: " أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: يَا مُحَمَّدُ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ". وَأَدْبَرَ الرَّجُلُ فَذَهَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ فَاتَّبَعُوهُ يَطْلُبُونَهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَعَادُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اتَّبَعْنَا الرَّجُلَ فَطَلَبْنَاهُ فَمَا رَأَيْنَا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ذَاكَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ، قَالَ الْبَزَّارُ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے ، اس دوران ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، جس پر سفر کا لباس تھا، وہ لوگوں کے درمیان میں سے گزرتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اس نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنے پر رکھا اور بولا: اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں ، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا ، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا ، اگر تم وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتے ہو، اس نے دریافت کیا: جب میں ایسا کر لوں گا، تو کیا میں مسلمان شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نے فرمایا: جی ہاں ! اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب نے ( ایک دوسرے سے ) کہا: تم لوگ اس شخص کو دیکھو یہ خود ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر رہا ہے ،اور آپ کی تصدیق یوں کر رہا ہے ، جیسے یہ آپ سے زیادہ علم رکھتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس شخص کو پہچانتے نہیں تھے، اس نے کہا : اے حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ ، آخرت کے دن ، فرشتوں ، کتاب ، انبیاء ،موت ، دوبارہ زندہ ہونے ، حساب ، جنت ، جہنم اور ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو، اس نے دریافت کیا: جب میں ایسا کروں گا تو کیا مؤمن شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا، پھر وہ بولا: اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ اللہ تعالیٰ سے یوں ڈرو! گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اس نے کہا: جب میں ایسا کر لوں گا، تو کیا میں احسان والا شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے، پھر اس نے کہا : اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس بارے میں ، جس سے سوال کیا گیا ہے ، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر وہ شخص مڑا اور چلا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ، لوگ اس کے پیچھے گئے انہوں نے اسے تلاش کیا، لیکن انہیں کچھ نظر نہیں آیا وہ لوگ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور بو لے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم اس شخص کے پیچھے گئے ، ہم نے اسے تلاش کیا، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھے ، جو تمہارے پاس اس لئے آئے تھے ، تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبر اس ہے ، امام بزار کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
أَنَسٍ،
Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 114
