Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 114

114 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ ثِيَابُ السَّفَرِ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ، حَتَّى جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ. فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: انْظُرُوا هُوَ يَسْأَلُهُ وَهُوَ يُصَدِّقُهُ، كَأَنَّهُ أَعْلَمُ مِنْهُ، وَلَا يَعْرِفُونَ الرَّجُلَ، ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ، وَبِالْمَوْتِ، وَبِالْبَعْثِ، وَبِالْحِسَابِ، وَبِالْجَنَّةِ، وَبِالنَّارِ، وَبِالْقَدَرِ كُلِّهِ ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: يَا مُحَمَّدُ: مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: " أَنْ تَخْشَى اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَرَهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ. قَالَ: يَا مُحَمَّدُ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ". وَأَدْبَرَ الرَّجُلُ فَذَهَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ فَاتَّبَعُوهُ يَطْلُبُونَهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَعَادُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اتَّبَعْنَا الرَّجُلَ فَطَلَبْنَاهُ فَمَا رَأَيْنَا شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ذَاكَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَكُمْ لِيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ، قَالَ الْبَزَّارُ: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ تشریف فرما تھے ، اس دوران ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، جس پر سفر کا لباس تھا، وہ لوگوں کے درمیان میں سے گزرتا ہوا آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اس نے اپنا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنے پر رکھا اور بولا: اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں ، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا ، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا ، اگر تم وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتے ہو، اس نے دریافت کیا: جب میں ایسا کر لوں گا، تو کیا میں مسلمان شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نے فرمایا: جی ہاں ! اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب نے ( ایک دوسرے سے ) کہا: تم لوگ اس شخص کو دیکھو یہ خود ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کر رہا ہے ،اور آپ کی تصدیق یوں کر رہا ہے ، جیسے یہ آپ سے زیادہ علم رکھتا ہے، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس شخص کو پہچانتے نہیں تھے، اس نے کہا : اے حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ ، آخرت کے دن ، فرشتوں ، کتاب ، انبیاء ،موت ، دوبارہ زندہ ہونے ، حساب ، جنت ، جہنم اور ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھو، اس نے دریافت کیا: جب میں ایسا کروں گا تو کیا مؤمن شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا، پھر وہ بولا: اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ اللہ تعالیٰ سے یوں ڈرو! گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اس نے کہا: جب میں ایسا کر لوں گا، تو کیا میں احسان والا شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے، پھر اس نے کہا : اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس بارے میں ، جس سے سوال کیا گیا ہے ، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ علم نہیں رکھتا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر وہ شخص مڑا اور چلا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ، لوگ اس کے پیچھے گئے انہوں نے اسے تلاش کیا، لیکن انہیں کچھ نظر نہیں آیا وہ لوگ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور بو لے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم اس شخص کے پیچھے گئے ، ہم نے اسے تلاش کیا، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ جبرائیل تھے ، جو تمہارے پاس اس لئے آئے تھے ، تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ضحاک بن نبر اس ہے ، امام بزار کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

أَنَسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 114

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 115

115 - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّا نُسَافِرُ فَنَلْقَى أَقْوَامًا يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، قَالَ: فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ مِنْهُمْ بَرِيءٌ، كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، نَقِيُّ الثَّوْبِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَدْنُو مِنْكَ؟ قَالَ: " ادْنُهْ "، فَدَنَا دَنْوَةً. قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا حَتَّى اصْطَكَّتَا رُكْبَتَاهُ بِرُكْبَتَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَحَجُّ الْبَيْتِ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ، فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ حُلْوِهِ وَمُرِّهِ مِنَ اللَّهِ ". قَالَ: " فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ، فَمَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ: تَعْبُدُ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ تَكُنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ ". قَالَ: صَدَقْتَ، قُلْنَا: مَا رَأَيْنَا رَجُلًا [أَحْسَنَ وَجْهًا وَلَا] أَطْيَبَ رِيحًا وَلَا أَشَدَّ تَوْقِيرًا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَوْلُهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: صَدَقْتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ "، فَقُمْنَا، وَقُمْتُ أَنَا إِلَى طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَلَمْ نَرَ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ " قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " هَذَا جِبْرِيلُ يُعَلِّمُكُمْ مَنَاسِكَ دِينِكُمْ، مَا جَاءَنِي فِي صُورَةٍ قَطُّ إِلَّا عَرَفْتُهُ، إِلَّا فِي هَذِهِ الصُّورَةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: " ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا : اے ابو عبدالرحمٰن ! ہم سفر کرتے ہیں ، تو ہماری ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے ہوتی ہے، جو یہ کہتے ہیں : تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تمہاری ان سے ملاقات ہو، تو تم انہیں بتا دینا کہ عبداللہ بن عمر کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، ( پھر حضرت عبداللہ بن عمر نے یہ حدیث بیان کی: ) ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے، ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کا چہرہ خوبصورت تھا، خوشبو پاکیزہ تھی، لباس صاف ستھرا تھا، اس نے کہا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کو سلام ہو، کیا میں آپ کے قریب آ جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب آ جاؤ! تو وہ کچھ قریب ہو گیا، اس نے چند مرتبہ یہی بات کی، یہاں تک کہ اس کے گھٹنے ، بنی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھٹنوں سے مل گئے، اس نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اسلام سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اور نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ دینا ، بیت اللہ کا حج کرنا ، رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت کے بعد غسل کرنا اس نے دریافت کیا: جب میں یہ کر لوں گا ، تو کیا میں مسلمان شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! تو اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے، ایمان سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، جنت ، جہنم ، اچھی یا بری ، میٹھی یا کڑوی ، ( یعنی ہر قسم کی ) تقدیر ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر ایمان رکھو، اس نے دریافت کیا، اس نے دریافت کیا : جب میں ایسا کر لوں گا، تو کیا میں مؤمن شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! اس نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے احسان سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی یوں عباد ت کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اس نے دریافت کیا: جب میں ایسا کروں گا ، تو کیا میں احسان والا شمار ہوؤں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! اس نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا ہے۔ راوی کہتے ہیں : ہم نے سوچا ، ہم نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ، جو اس شخص سے زیادہ خوبصورت ، زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زیادہ احترام کرتا ہو، اور پھر بھی یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کہہ رہا ہے : کہ آپ نے ٹھیک کہا ہے،( جب وہ شخص چلا گیا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کو میرے پاس لاؤ ! ہم اٹھے ، میں بھی اٹھ کر مدینہ منورہ کے ایک راستے کی طرف گیا، لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ جانتے ہو یہ کون تھا؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے ، جو تمہیں تمہارے دین کے مناسک کی تعلیم دے رہے تھے، یہ جس شکل میں بھی میرے پاس آئے ، میں نے انہیں پہچان لیا، البتہ اس صورت کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔

فَإِذَا لَقِيتَ أُولَئِكَ ← نُسَافِرُ فَنَلْقَى أَقْوَامًا يَقُولُونَ: لَا قَدَرَ، ← يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَتَى ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ، ← ابْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 115

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ ثَانٍ] · حديث 116

116 - عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ إِذَا رَاكِبٌ يُوضِعُ نَحْوَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ أَتَاكُمْ "، يُرِيدُنَا. قَالَ: فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا فَسَلَّمَ، فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟ " قَالَ: مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي. قَالَ: " فَأَيْنَ تُرِيدُ؟ " قَالَ: أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " فَقَدْ أَصَبْتَهُ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: " تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ ". قَالَ: أَقْرَرْتُ. قَالَ: ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ دَخَلَتْ يَدُهُ فِي شَبَكَةِ جُرْذَانٍ، فَهَوَى بَعِيرُهُ وَهَوَى الرَّجُلُ، فَوَقَعَ عَلَى هَامَتِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " عَلَيَّ بِالرَّجُلِ ". قَالَ: فَوَثَبَ إِلَيْهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَأَقْعَدَاهُ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُبِضَ الرَّجُلُ. فَأَعْرَضَ عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " أَمَا رَأَيْتُمَا إِعْرَاضِي عَنِ الرَّجُلِ، فَإِنِّي رَأَيْتُ مَلَكَيْنِ يَدُسَّانِ فِيهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ مَاتَ جَائِعًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ} [الأنعام: 82]. قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " دُونَكُمْ أَخَاكُمْ ". قَالَ: فَاحْتَمَلْنَاهُ إِلَى الْمَاءِ، فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَمَلْنَاهُ إِلَى الْقَبْرِ، فَقَالَ: " أَلْحِدُوا، وَلَا تَشُقُّوا». وَفِي رِوَايَةٍ: " «هَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا» ". وَفِي رِوَايَةٍ: " «فَدَخَلَ خُفُّ بَعِيرِهِ فِي جُحْرِ يَرْبُوعٍ» ". رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو جَنَابٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر ( پر جانے کے لئے ) نکلے جب ہم مدینہ منورہ سے باہر آئے ، تو سامنے سے ایک سوار ہماری طرف آ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے ، یہ سوار تم لوگوں کی طرف آ رہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ وہ ہماری طرف آ رہا ہے، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ ہمارے پاس پہنچا ، تو اس نے سلام کیا ، ہم نے اسے سلام کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: تم کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: اپنے بیوی بچوں اور خاندان والوں کی طرف سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت کیا: تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے عرض کی : میں اللہ کے رسول کی طرف جا رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان تک پہنچ گئے ، اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ق ! آپ مجھے تعلیم دیجیے کہ ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو، اس نے کہا : میں اقرار کرتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر اس کے اونٹ کا پاؤں جرذان ( ایک مخصوص قسم کے چوہے ) کی بل میں داخل ہوا ، تو وہ اونٹ گر گیا اور وہ آدمی بھی گر گیا، وہ شخص سر کے بل گر کے انتقال کر گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ ! تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تیزی سے اس کی طرف گئے ، ان دونوں حضرات نے اسے بٹھایا اور عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس کا انتقال ہو گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں حضرات سے فرمایا: تم نے مجھے اس شخص کی طرف سے ، جو منہ پھیرتے ہوئے دیکھا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دو فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس پر جنت کے پھل نچھاور کر رہے تھے، تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ مرتے وقت یہ بھوکا تھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم ! یہ ان لوگوں میں سے ایک ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: " وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا ، انہی لوگوں کے لیے امن ہو گا اور وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں"۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنے بھائی کی دیکھ بھال کرو! تو ہم اس کی میت اٹھا کر پانی کے پاس لے گئے ، ہم نے اسے غسل دیا اسے خوشبو لگائی ، اسے کفن پہنایا ، پھر اس کی میت اٹھا کر قبر کے پاس لے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لحد بنانا ! شق نہ بنانا۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: " یہ ان افراد میں سے ایک ہے، جنہوں نے تھوڑا عمل کیا اور انہیں زیادہ اجر دیا گیا"۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اس کے اونٹ کا پاؤں یربوع ( مخصوص قسم کا چوہا ) کی بل میں داخل ہوا۔ یہ تمام روایات امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابو جناب ہے، جو تدلیس کر تا ہے، اور اس نے یہ روایت بھی " عن " کے صیغہ کے ساتھ نقل کی ہے، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔

فَقَدْ أَصَبْتَهُ ← أُرِيدُ رَسُولَ اللهِ ← فَأَيْنَ تُرِيدُ؟ ← مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي. ← لَهُ النَّبِيُّ «مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَتَ؟» ← فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ ← رَسُولُ اللَّهِ كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ أَتَاكُمْ يُرِيدُنَا. ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنَ الْمَدِينَةَ إِذَا رَاكِبٌ يُوضَعُ نَحْوَنَا ← جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › From it second] · Hadith 116

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابُ تَجْدِيدِ الْإِيمَانِ] · حديث 158

158 - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ، فَسَلُوا اللَّهَ - تَعَالَى - أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " آدمی کے پیٹ ( یعنی سینے یا دل ) کے اندر ایمان بو سیدہ ہو جاتا ہے ، جس طرح کوئی کپڑا بو سیدہ ہو جاتا ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے یہ سوال ( یعنی دعا ) کرو! کہ وہ تمہارے دلوں میں ایمان کی تجدید کر دے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter of Renewal of Faith] · Hadith 158

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ] · حديث 160

160 - عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ، وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ ". قَالَ: ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: " التَّقْوَى هَا هُنَا، التَّقْوَى هَا هُنَا» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا عَلِيَّ بْنَ مَسْعَدَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرماتے تھے: " اسلام علانیہ ہوتا ہے ، اور ایمان دل میں ہوتا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف اپنے دست مبارک کے ذریعے تین مرتبہ اشارہ کیا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تقویٰ یہاں ہے ، تقویٰ یہاں ہے "۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابو یعلیٰ نے مکمل روایت کے طور پر نقل ک ہے ، جبکہ امام براز نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے علی بن مسعدہ نامی راوی کے علاوہ ، اس کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں، اور اسے بھی ابن حبان ، ابو داؤد طیالسی ، ابو حاتم اور ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے، جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

ثُمَّ ← ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ← الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَنَسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on Islam and Faith] · Hadith 160

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ] · حديث 162

162 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الْإِيمَانِ أَنْ يَقُولَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رِبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَيْرٍ. قُلْتُ: ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :: نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " ایمان کے حوالے سے آدمی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ یہ کہے : کہ میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ، حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے سے راضی ہوں ( یعنی ان پر ایمان رکھتا ہوں ) "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ روایت ہشام بن عروہ کے حوالے سے صرف محمد بن عمیر نے نقل کی ہے۔ ( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں کہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس راوی کا تذکرہ کتاب " الثقات " میں کیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on Islam and Faith] · Hadith 162

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ] · حديث 166

166 - «وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى؟ قَالَ: " أَمَرَرْتَ بِأَرْضٍ مِنْ أَرْضِكَ مُجْدِبَةً، ثُمَّ مَرَرْتَ بِهَا مُخْصِبَةً؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " كَذَلِكَ النُّشُورُ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ تَحْتَرِقَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تُشْرِكَ بِاللَّهِ، وَأَنْ تُحِبَّ غَيْرَ ذِي نَسَبٍ لَا تُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، فَإِذَا كُنْتَ كَذَلِكَ فَقَدْ دَخَلَ حُبُّ الْإِيمَانِ فِي قَلْبِكَ كَمَا دَخَلَ حُبُّ الْمَاءِ لِلظَّمْآنِ فِي الْيَوْمِ الْقَائِظِ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لِي بِأَنْ أَعْلَمَ أَنِّي مُؤْمِنٌ؟ قَالَ: " مَا مِنْ أُمَّتِي - أَوْ هَذِهِ الْأُمَّةِ - عَبْدٌ يَعْمَلُ حَسَنَةً فَيَعْلَمُ أَنَّهَا حَسَنَةً، وَأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَازِيهِ بِهَا خَيْرًا، وَلَا يَعْمَلُ سَيِّئَةً وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْهَا، وَيَعْلَمُ أَنَّهُ يَغْفِرُ - إِلَّا وَهُوَ مُؤْمِنٌ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ.

حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا: کیا کبھی تمہارا گزر اپنے علاقے میں کسی ایسی زمین کے پاس سے ہوا ہے ؟ جو پہلے بنجر تھی اور پھر جب تم اس کے پاس سے گزرے ، تو وہ سر سبز و شاداب ہو چکی ہو؟ حضرت ابو رزین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسی طرح ( انسانوں کو ) دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرمایا یہ کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور یہ کہ اللہ اور اس کا رسول ، تمہارے نزدیک ان دونوں کے علاوہ ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں ، اور یہ کہ تم آگ میں جل جاؤ ، یہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ پسند یدہ ہو ، کہ تم کسی کو اللہ کا شریک قرار دو، اور یہ کہ تم کسی ایسے شخص کے ساتھ محبت رکھو ، جو نسب والا نہ ہو ( یعنی جس کے ساتھ کوئی نسبی تعلق نہ ہو ) تم صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر اس سے محبت رکھو ! جب تم ایسے ہو جاؤ گے ، تو ایمان کی محبت تمہارے دل میں یوں داخل ہو جائے گی، جیسے سخت گرم دن میں پانی کی محبت پیا سے شخص ( کے دل میں ) داخل ہو جاتی ہے، میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں یہ بات کیسے جان سکتا ہوں کہ میں مؤمن ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا ( راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس امت کا جو بھی شخص نیکی کرے ، اور وہ یہ جانتا ہو کہ یہ نیکی ہے، اور اللہ تعالیٰ اسے اس کی جزائے خیر عطا کرے گا، یا جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے اور پھر اس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ سے مغفر ت طلب کرے ، اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی مغفرت کر سکتا ہے، تو ایسا شخص مؤمن ہو گا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور ابو حاتم نے ثقہ قرار دیا ہے، جبکہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← «وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on Islam and Faith] · Hadith 166

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ] · حديث 167

167 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: " حُرٌّ وَعَبْدٌ " قُلْتُ: مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " طِيبُ الْكَلَامِ، وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ ". قُلْتُ: مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ ". قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ " قُلْتُ: أَيُّ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ ". قُلْتُ: أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " طُولُ الْقُنُوتِ ". قُلْتُ: أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ». قُلْتُ: رَوَى مُسْلِمٌ مِنْهُ: مَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: حُرٌّ وَعَبْدٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ.

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دریافت کیا : اسلام سے مراد کیا ہے؟ ( یعنی اسلام کی بنیاد ی تعلیمات کیا ہیں ؟ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشا د فرمایا: اچھی گفتگو کرنا اور کھانا کھلانا ، میں نے دریافت کیا: ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا: صبر اور نرمی ، میں نے دریافت کیا: اسلام میں ( کون سا شخص ) سب سے بہتر ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے ( دوسرے ) مسلمان سلامت رہیں ، میں نے دریافت کیا: ایمان ) یعنی مؤمن کی ) کون سی چیز سب سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھے اخلاق ، میں نے دریافت کیا: کو ن سی نماز زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: طویل قیام والی ، میں نے دریافت کیا : کون سی ہجرت زیادہ فضیلت رکھتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تم اس چیز سے لاتعلق ہو جاؤ جو تمہارے پروردگار کو ناپسند ہو۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کہ امام مسلم نے اس روایت میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس دین میں آپ کے ساتھ کون ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام "۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے، اس میں موجود ضعف کے با وجود اس کو ثقہ قرار دیا گیا ہے۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: ← وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on Islam and Faith] · Hadith 167

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ] · حديث 174

174 - وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ مِنْ مَكَّةَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ قَوْلًا بِلَا عَمَلٍ، وَالْقِبْلَةُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَيْنَا نَزَلَتِ الْفَرَائِضُ وَنَسَخَتِ الْمَدِينَةُ مَكَّةَ، وَالْقَوْلَ فِيهَا، وَنَسَخَ الْبَيْتُ الْحَرَامُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَصَارَ الْإِيمَانُ قَوْلًا وَعَمَلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

حضرت عثمان بن سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مکہ سے ( مدینہ منورہ ) تشریف لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے اور قول کے ذریعے اس کی تصدیق کرنے ( کی دعوت دیتے تھے) اس عمل کی شرط نہیں ہوتی تھی، اس وقت قبلہ ، بیت المقدس تھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہجرت کر کے ہماری طرف تشریف لے آئے ، اور فرائض کے احکام نازل ہو گئے ، تو مدینہ نے مکہ ( یعنی وہاں کے احکام ) کو منسوخ کر دیا) اور بیت الحرام ( کے قبلہ ہونے کے حکم نے بیت المقدس کو منسوخ کر دیا ، تو ایمان ، قول اور عمل ( کے مجموعہ کا نام ) ہو گیا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ( راویوں کی ) ایک جماعت ایسی ہے، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

عُثْمَانَ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ حُنَيْفٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on Islam and Faith] · Hadith 174

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ] · حديث 175

175 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ لَا يَرْجِعُ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ، لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " تین چیزیں ، جس شخص میں موجود ہوں گی ، وہ ایمان کی حلاوت کو پا لے گا، ایک یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک ، ان دونوں کے علاوہ ، ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں، اور یہ کہ وہ کسی شخص کے ساتھ صرف ، اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے ، اور یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسے کفر سے بچا لیا ہے، تو وہ کفر کی طرف واپس نہ جائے ( وہ کفر کی طرف واپس جانے کو ) اسی طرح ناپسند کرے ، جس طرح وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے "۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے، جس سے استدلا ل کرنا جائز نہیں ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on Islam and Faith] · Hadith 175

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ] · حديث 176

176 - وَعَنْ قَتَادَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ يَجِدُ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ: تَرْكُ الْمِرَاءِ فِي الْحَقِّ، وَالْكَذِبِ فِي الْمِزَاحِةِ، وَيَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَتَادَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ..

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " تین چیزیں جس میں ہوں گی ، وہ ان کی وجہ سے ایمان کی حلاوت پالے گا، حق کے بارے میں بحث ( کو ترک کرنا ) مذاق کے طور پر جھوٹ بولنے کو ترک کرنا اور اس بات کا یقین رکھنا کہ جو چیز آدمی کو ملنی ہے، وہ اسے ملے بغیر نہیں رہے گی، اور جو چیز اسے نہیں ملنی ہے وہ ( کسی صورت میں ) نہیں ملے گی"۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور قتادہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سما ع نہیں کیا ہے۔

قَتَادَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on Islam and Faith] · Hadith 176

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي الْإِسْلَامِ وَالْإِيمَانِ] · حديث 178

178 - وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ كَانَ لَا شَيْءَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَ أَنْ يُحْرَقَ فِي النَّارِ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْتَدَّ عَنْ دِينِهِ، وَمَنْ كَانَ يُحِبُّ لِلَّهِ وَيُبْغِضُ لِلَّهِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ: " وَيُبْغِضُ لِلَّهِ "، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ، ضَعَّفَهُ مَالِكٌ وَابْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تین چیزیں ، جس شخص میں ہوں گی ، وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لے گا، وہ شخص کہ کوئی بھی چیز اس کے نزدیک ، اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ محبوب نہ ہو، اور وہ شخص کہ جس کے نزدیک آگ میں جل جانا اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ اپنے دین ( یعنی اسلام ) کو چھوڑ دے ، اور وہ شخص جو اللہ کی خاطر ( کسی سے ) محبت رکھتا ہو اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ( کسی سے ) بغض رکھتا ہو"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، ار یہ " صحیح " میں بھی منقول ہے، صرف یہ الفاظ نہیں ہیں : " وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھتا ہو" اس کی سند میں ایک راوی ابو حویرث ہے، جسے امام مالک اور یحییٰ بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on Islam and Faith] · Hadith 178

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 182

182 - عَنِ ابْنِ عُمَرَ «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الْإِيمَانِ، مَنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنْهَا فَلَا إِيمَانَ لَهُ: التَّسْلِيمُ لِأَمْرِ اللَّهِ، وَالرِّضَا بِقَضَاءِ اللَّهِ، وَالتَّفْوِيضُ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ، وَالتَّوَكُّلُ عَلَى اللَّهِ، وَالصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى. وَلَمْ يَطْعَمِ امْرٌؤٌ حَقِيقَةَ الْإِسْلَامِ حَتَّى يَأْمَنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ "، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، عَلَامَاتٌ كَمَنَارِ الطَّرِيقِ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَالْحُكْمُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَطَاعَةُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، وَالتَّسْلِيمُ عَلَى بَنِي آدَمَ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرما نقل کرتے ہیں: " پانچ چیزیں ایمان میں سے ہیں ، جس شخص میں ان میں سے کوئی چیز نہیں ہو گی ، اس کا ایمان نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کرنا ، اللہ تعالیٰ کے ( یعنی تقدیر کے ) فیصلے سے راضی رہنا ، معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپر د کرنا ، اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور صدمے کے آغاز میں صبر کرنا آدمی اسلام کی حقیقت تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک لوگ اپنی جانوں اور اموال کے حوالے سے اس سے محفوظ نہ ہوں" ایک صاحب نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کون سا اسلام زیادہ فضیلت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " اس شخص کا ، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں ، راستے کے نشان کی طرح ، اس کی کچھ علامات ہیں اس بات کی گواہی دینا ، کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا ، اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ دینا ، اُ مّی نبی ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرنا ، اور جب بنی نوح انسان ( میں سے کسی سے بھی ) تمہاری ملاقات ہو ، تو انہیں سلام کرنا" یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سنان ہے، جس سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔

ابْنِ عُمَرَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 182

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 183

183 - عَنْ عَمَّارٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ثَلَاثٌ مِنَ الْإِيمَانِ: الْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ، وَالْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الْبَزَّارِ لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ، وَهُوَ الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيُّ.

حضرت عمار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " تین چیزیں ایمان کا حصہ ہیں ، تنگ دستی کے با وجود خرچ کرنا ، سب لوگوں کو سلام کرنا ، اور اپنی طرف سے انصاف کرنا" یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ میں نے کسی کو امام بزار کے استاد کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، اور وہ استاد حسن بن عبداللہ کوفی ہیں۔

عَمَّارٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 183

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي كَمَالِ الْإِيمَانِ] · حديث 184

184 - «وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: ثَلَاثُ خِلَالٍ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ خِلَالَ الْإِيمَانِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، مَا هَذِهِ الْخِلَالُ الَّتِي زَعَمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ الْإِيمَانَ؟ فَقَالَ عَمَّارُ عِنْدَ ذَلِكَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " الْإِنْفَاقُ مِنَ الْإِقْتَارِ، وَالْإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلَامِ لِلْعَالَمِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تین خصائل جو شخص جمع کر لے گا، وہ ایمان کے خصائل جمع کر لے گا، ان کے ساتھیوں میں سے کسی نے ان سے دریافت کیا: اے ابو الیقنطان ! وہ خصائل کیا ہیں؟ جن کے بارے میں آپ کا یہ کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ جو انہیں جمع کر لے گا، وہ ایمان کو جمع کر لے گا ، تو اس وقت حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ( یعنی وہ خصائل درج ذیل ہیں : ) " تنگ دستی کے وقت خرچ کرنا، اپنی ذات کی طرف سے انصاف کرنا ، اور سب کو سلام کرنا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابو عبدالرحمٰن ہے اور وہ ضعیف ہے۔

ثَلَاثُ خِلَالٍ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ خِلَالَ الْإِيمَانِ، ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on the Perfection of Faith] · Hadith 184

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي كَمَالِ الْإِيمَانِ] · حديث 185

185 - وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ اسْتَوْجَبَ الثَّوَابَ وَاسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ: خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَوَرَعٌ يَحْجِزُهُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ، وَحِلْمٌ يَرُدُّهُ عَنْ جَهْلِ الْجَاهِلِ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ الْبَزَّارُ: حَدَّثَ بِأَحَادِيثَ لَا يُتَابِعُ عَلَيْهَا.

حضر انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : " تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی وہ ثواب کو واجب کر دے گا، اور ایمان کو مکمل کر لے گا، ( ایسے اچھے) اخلاق ، جن کے ہمراہ وہ لوگوں کے ساتھ برتاؤ کرے ، پرہیز گاری ، جو اسے اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچا کے رکھے ، اور بردباری ، جو اسے ( کسی ) جاہل کے خلاف جہالت ( کا مظاہرہ) نہ کرنے دے" ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلیمان ہے، اما بزار فرماتے ہیں : اس نے ایسی احادیث روایت کی ہیں، جن کی متابعت نہیں کی گئی ہے۔

أَنَسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Chapter on the Perfection of Faith] · Hadith 185

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 191

191 - عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لَا يَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَهُ، وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَهُ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " بندہ ایمان کی حقیقت تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ، جب تک وہ یہ نہیں جان لیتا کہ جو چیز اسے ملنی ہے وہ ملے بغیر نہیں رہے گی، اور جو چیز اسے نہیں ملنی ہے ، وہ اسے کبھی نہیں ملے گی"۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں : اس کی سند حسن ہے۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 191

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ مِنْهُ] · حديث 192

192 - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " لَا يَحِقُّ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَغْضَبَ لِلَّهِ، وَيَرْضَى لِلَّهِ، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَحَقَّ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ، وَإِنَّ أَحْبَابِي وَأَوْلِيَائِي الَّذِينَ يُذْكَرُونَ بِذِكْرِي، وَأُذْكَرُ بِذِكْرِهِمْ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ.

حضرت عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: " بندہ ایمان کی حقیقت کا حقدار ، اس وقت تک نہیں ہوتا ، جب تک وہ اللہ تعالیٰ کے لئے غضب ناک نہیں ہوتا ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے راضی نہیں ہوتا ، جب وہ ایسا کر لیتا ہے ، تو وہ ایمان کی حقیقت کا مستحق بن جاتا ہے، ( اللہ تعالیٰ حدیث قدسی میں فرماتا ہے : ) " میرے محبوب بندے اور میرے ولی وہ ہیں ، جن کا ذکر ، میرے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور میرا ذکر ، ان کے ذکر کے ساتھ کیا جاتا ہے"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی رشد ین بن سعد ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

عَمْرَو بْنِ الْحَمِقِ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › Section of it] · Hadith 192

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي خِصَالِ الْإِيمَانِ] · حديث 197

197 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ الْإِيمَانِ: مَنْ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُدْخِلْهُ غَضَبُهُ فِي بَاطِلٍ، وَمَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يُخْرِجْهُ رِضَاهُ مِنْ حَقٍّ، وَمَنْ إِذَا قَدِرَ لَمْ يَتَعَاطَ مَا لَيْسَ لَهُ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " تین چیزیں ، ایمان کے اخلاق میں سے ہیں ، جو شخص غضبناک ہو تو اس کا غضب اسے باطل میں داخل نہ کروا دے ، اور جو شخص راضی ہو ، تو اس کی رضا مندی اسے حق سے نہ نکال دے ، اور ایسا شخص کہ جب وہ قدرت رکھتا ہو، تو وہ چیز نہ لے ، جس کا اسے حق نہ ہو"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حسین ہے اور وہ کذاب ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A door within the stock of faith] · Hadith 197

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · 1 - كِتَابُ الْإِيمَانِ. ‹ بَابٌ فِي خِصَالِ الْإِيمَانِ] · حديث 198

198 - وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْإِيمَانِ، قَالَ: " الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ» ". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایمان کے بارے میں دریافت کیا گیا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صبر اور نرمی ( یا سخاوت ) ۔ یہ روایت امام ابو یعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے اور وہ متروک ہے۔

الإيمان ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · 1 - The Book of Faith. › A door within the stock of faith] · Hadith 198

chevron_left Previous
1…828384…484
Next chevron_right