Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1658

1658 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْلَى قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ أَلْيَنُ أَفْئِدَةً، وَأَرَقُّ قُلُوبًا، الْإِيمَانُ يَمَانٌ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس اہل یمن آنے والے ہیں جو کہ دلوں کے بہت نرم ہیں ،اور ایمان اور حکمت یمن میں ہے ۔ (5)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي، قثنا يَعْلَى قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1658

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1661

1661 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ، هُمْ أَلْيَنُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ، رَأْسُ الْكُفْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ» .

سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس اہل یمن آنے والے ہیں جو کہ دلوں سے بہت نرم ہیں ، ایمان اور حکمت یمن میں اور کفر کا سر مشرق کی جانب ہے ۔ (3)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1661

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1716

1716 - قَالَ: وَحَدَّثَ أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ حَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ» فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا وَقَعَتِ الْفِتَنُ، فَإِنَّ الْإِيمَانَ بِالشَّامِ» .

ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے خؤاب میں دیکھا کہ گویا کتاب کے ستون کو اٹھائے ہوئے فرشتے شام کی طرف جا رہے ہیں اور جب فتنے آئیں گے تو ایمان شام کی طرف ہی ہو گا۔ (1)

النَّبِيُّ «إِذَا وَقَعَتِ الْفِتَنُ، فَإِنَّ الْإِيمَانَ بِالشَّامِ» ← «رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ حَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ» ← وَحَدَّثَ أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of a people of the Levant · Hadith 1716

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1717

1717 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ» .

سیدنا ابو الد رداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں سو رہا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ کتب کی روشنی میرے سر کی نیچے سے اٹھائی گئی ، میں نے گمان کیا وہ چلی گئی ہے ، میں نے اپنی نگا ہوں کو اس کی طرف کیا تو اس کی شام جانے کا ارادہ تھا اور خبردار ایمان اس وقت بھی شام میں ہو گا جب فتنے واقع ہو جائیں گے ۔ (2)

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of a people of the Levant · Hadith 1717

Sahih

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابٌ فِي الْبِرِّ وَالْإِثْمِ] · حديث 818

818 - وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا الْإِثْمُ؟ قَالَ: " إِذَا جَاءَكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ ". قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: " إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا : گناہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :کب تمہارے من میں کوئی چیز (یعنی الجھن ) آ جائے، تو تم اسے (یعنی اس کام کو) ترک کر دو! اس نے دریافت کیا :ایمان کیا ہے؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تمہاری برائی تمہیں بری لگے اور تمہاری اچھائی تمہیں اچھی لگے تو تم مؤمن ہو گے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

إِذَا سَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ وَسَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. ← فَمَا الْإِيمَانُ؟ ← إِذَا جَاءَكَ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ ← سأل رجلٌ النبيَّ ما الإِثْمُ؟ ← وعن أبي أمامة

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › A chapter on righteousness and iniquity] · Hadith 818

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ كَرَاهِيَةِ الدَّعْوَى] · حديث 878

878 - وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ قَامَ لَيْلَةً بِمَكَّةَ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَوَّاهًا فَقَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَحَرَّضْتَ وَجَهَدْتَ وَنَصَحْتَ [فَأَصْبَحَ]، فَقَالَ: " لَيَظْهَرَنَّ الْإِيمَانُ حَتَّى يُرَدَّ الْكُفْرُ إِلَى مَوَاطِنِهِ، وَلَتُخَاضَنَّ الْبِحَارُ بِالْإِسْلَامِ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَتَعَلَّمُونَ فِيهِ الْقُرْآنَ، يَتَعَلَّمُونَهُ وَيَقْرَءُونَهُ، وَيَقُولُونَ: قَدْ قَرَأْنَا وَعَلِمْنَا، فَمَنْ ذَا الَّذِي هُوَ خَيْرٌ مِنَّا؟ فَهَلْ فِي أُولَئِكَ مِنْ ضُرٍّ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ أُولَئِكَ؟ قَالَ: " أُولَئِكَ مِنْكُمْ، وَأُولَئِكَ وَقُودُ النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ الْحَارِثِ الْخَثْعَمِيَّةَ التَّابِعِيَّةَ لَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهَا وَلَا جَرَّحَهَا.

سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رات کے وقت کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے: وہ فرمانبردار شخص تھے، انہوں نے کہا : اے اللہ ! جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تبلیغ کر دی ہے ، پوری کوشش کی ، خیر خواہی کی ، جس کا نتیجہ نکلا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :" ایمان ضرور غالب آ جائے گا ، یہاں تک کہ کفر کو اس کے مخصوص مقام کی طرف لوٹا دیا جائے گا ، سمندروں میں اسلام پھیل جائے گا اور لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں وہ قرآن کی تعلیم حاصل کریں گے وہ اسے سیکھیں گے ، اسے پڑھیں گے اور پھر یہ کہیں گے : ہم نے پڑھ لیا اور علم حاصل کر لیا ہے ، تو کون شخص ایسا ہے؟ جو ہم سے بہتر ہو ؟ تو کیا ایسے لوگوں میں کوئی نقصان ہو گا ؟لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! وہ لوگ کون ہوں گے ؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تم میں سے ( یعنی امت میں سے) ہوں گے اور جہنم کا ایندھن ہوں گے " یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہےاس کے رجال ثقہ ہیں البتہ ہند بنت حارث خثعمیہ ، جو تابعیہ ہیں ان کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے کسی کو ان کی توثیق یا ان پر جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

اللَّهُمَّ نَعَمْ، فَحَرَّضْتَ وَجَهَدْتَ وَنَصَحْتَ [فَأَصْبَحَ]، ← "اللهم هل بلّغتُ؟ (ثلاثَ مرات) فقامَ عمرُ بنُ الخطابِ -وكان أوّاهاً ← رسول الله أنّه قام ليلةً بمكةَ من الليلِ ← أُمِّ الْفَضْلِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter on Hate of Advocacy] · Hadith 878

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ فَضْلِ الْوُضُوءِ] · حديث 1143

1143 - «وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابِي: مَنْ يَرْعَى لَنَا إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقُ فَنَقْتَبِسُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَاحَ اقْبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا؟ فَقُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَعَلِّي مَغْبُونٌ، أَيَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَمْ أَسْمَعْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَحَضَرْتُ يَوْمًا، فَسَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ - كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ تَقَدَّمَ، وَتَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ.

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بارہ افراد سمیت آیا ' یہاں تک کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے شہر مبارک) میں حاضر ہوئے میرے ساتھیوں نے کہا: کون شخص اونٹوں کی دیکھ بھال کرےگا؟ تاکہ ہم جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استفادہ کریں' جب ہم واپس آئیں گے ' تو اسے وہ بتادیں گے ' جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا' میں نے کہا: میں ایسا کروں گا' پھر میں نے بعد میں سوچا ' اس حوالے سے میں تو نقصان میں رہوں گا' کیونکہ میرے ساتھی جو بات سن لیں گے ' وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سےنہیں سنی ہو گی' ایک دن میری موجودگی میں 'میں نے ایک شخص کو سنا' وہ بیان کر رہا تھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: " جو شخص پورا وضو کرے اور پھر نماز کےلیے کھڑا ہو جائے ' تو وہ اپنے گناہوں کےحوالے سے یوں ہو جاتا ہے' جیسے اس دن تھا ' جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور یہ مکمل روایت کتاب الایمان میں گزر چکی ہے اور اس روایت کا کلام بھی گزر چکا ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Chapter of the Virtue of Ablution] · Hadith 1143

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِلْمِ] ‹ بَابُ التَّخْلِيلِ] · حديث 1212

1212 - وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " تَخَلَّلُوا ; فَإِنَّهُ نَظَافَةٌ، وَالنَّظَافَةُ تَدْعُو إِلَى الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ مَعَ صَاحِبِهِ فِي الْجَنَّةِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَيَّانَ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ أَحَادِيثُهُ مَوْضُوعَةٌ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " خلال کرو! کیونکہ یہ پاکیزگی کا باعث ہے ' اور پاکیزگی ایمان کی طرف دعوت دیتی ہے ' اور ایمان اپنے ساتھی کے ساتھ جنت میں ہو گا"۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کااوسط میں نقل کی ہے ' اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حیان ہے ' ابن عدی کہتے ہیں: اس کی نقل کردہ احادیث "موضوع" ہوتی ہیں۔

عبد الله -يعني ابن مسعود-

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Science] › Cross section] · Hadith 1212

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ] · حديث 4160

4160 - وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ «أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَيِّتٍ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا» ". وَزَادَ أَبُو سَلَمَةَ: " «مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ ایک نماز جنازہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا:”اے اللہ! تو ہمارے زندہ افراد ہمارے مرحومین ہمارے موجود افراد ہمارے غیر موجود افراد ہمارے چھوٹوں ہمارے بڑوں ہمارے مردوں اور ہماری خواتین کی مغفرت کر دے‘‘۔ ابوسلمہ نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ’’تو ہم میں سے جس کوزند ہ رکھے گا اسے اسلام پرزندہ رکھنا اور تو ہم میں سے جسے موت دے گا اسے ایمان پرموت دینا‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح‘‘ کے رجال ہیں ۔

أَبِي قَتَادَةَ «أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ عَلَى مَيِّتٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of prayer over funeral] · Hadith 4160

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ] · حديث 4161

4161 - وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، ذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں یہ دعا کی:”اے اللہ! تو ہمارے زندہ ہمارے مرحومین ہمارے موجود افراد غیر موجود افراد ہمارے مردوں ہماری خواتین ہمارے چھوٹوں ہمارے بڑوں کی مغفرت کر دے ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے گا ‘ اس کو اسلام پر زندہ رکھنا اور ہم میں سے جسے تو موت دے گا اسے ایمان پر موت دینا‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ٰہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ ← أَبِيهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of prayer over funeral] · Hadith 4161

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [أَبْوَابُ الْعِيدَيْنِ] ‹ [بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ] · حديث 4165

4165 - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا، وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا، وَغَائِبِنَا، وَلِأُنْثَانَا وَذُكُورِنَا، مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتُهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ عَفْوَكَ عَفْوَكَ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ میں یہ دعا کرتے تھے: ”اے اللہ ! تو ہمارے زندوں ‘ ہمارے مرحومین ہمارے موجود افراد ہمارے غیر موجود افراد ہماری خواتین ہمارے مردوں کی مغفرت کر دے ہم میں سے جسے تو زندگی دے گا اسے اسلام پر زندہ رکھنا اور ہم میں سے جسے تو موت دے گا اسے ایمان پرموت دینا اے اللہ! تیری معافی کا سوال ہے تیری معافی کا سوال ہے‘‘ ۔یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اوراس کی سند حسن ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The gates of the two feasts] › [Chapter of prayer over funeral] · Hadith 4165

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ فَرْضِ الصَّلَاةِ] · حديث 1613

1613 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ، الْإِسْلَامُ سَهْمٌ وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ» ". وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ وَأَحَادِيثُ أُخَرُ فِي الْإِيمَانِ، وَحَدِيثُ حُذَيْفَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : اسلام کے آٹھ حصے ہیں، اسلام ( یعنی ایمان کا زبانی اقرار ) ایک حصہ ہے، نماز ایک حصہ ہے"۔ اس سے پہلے یہ حدیث مکمل گزر چکی ہے، اور دیگر احادیث بھی ایمان سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ِ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی نقل کر دہ حدیث حسن ہے۔

النَّبِيِّ ← حُذَيْفَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter on the obligatory prayer] · Hadith 1613

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ بَابُ فَرْضِ الزَّكَاةِ] · حديث 4328

4328 - وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " «الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ: الْإِسْلَامُ سَهْمٌ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ، وَالصِّيَامُ سَهْمٌ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ، وَحَجُّ الْبَيْتِ سَهْمٌ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَهْمٌ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ» ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْإِيمَانِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:’’ اسلام کے آٹھ حصے ہیں، اسلام (یعنی کلمہ شہادت پڑھنا) ایک حصہ ہے ،نماز ایک حصہ ہے، روزہ ایک حصہ ہے ،زکوٰة ایک حصہ ہے، بیت اللہ کا حج کرنا ایک حصہ ہے ،نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے برائی سے منع کرنا ایک حصہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایک حصہ ہے ، اور وہ شخص رسوا ہو گیا، جس کا کوئی حصہ نہ ہو‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے، جسے امام احمد نے ثقہ قرار دیا ہے ،اور ایک جماعت نے اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں: ) میں یہ کہتا ہوں اس سے پہلے ایمان سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہے۔

حُذَيْفَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › Chapter on the imposition of Zakat] · Hadith 4328

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الصَّلَاةِ] ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِبْلَةِ] · حديث 1976

1976 - «وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ مَكَّةَ يَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِيمَانِ بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا بِهِ قَوْلًا بِلَا عَمَلٍ، وَالْقِبْلَةُ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَيْنَا نَزَلَتِ الْفَرَائِضُ وَنَسَخَتِ الْمَدِينَةُ مَكَّةَ، وَالْقَوْلُ فِيهَا، وَنَسَخَ الْبَيْتُ الْحَرَامُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَصَارَ الْإِيمَانُ قَوْلًا وَعَمَلًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ عِمْرَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هُوَ مِثْلُ الْوَاقِدِيِّ وَالْوَاقِدِيُّ مَتْرُوكٌ.

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے ( مدینہ منورہ ) تشریف لانے سے پہلے لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اس بات کی قول کے ذریعے تصدیق کرنے کی طرف دعوت دیتے تھے جس میں عمل شامل نہیں ہوتا تھا اس وقت قبلہ بیت المقدس کی طرف تھا جب آپ ہجرت کرکے ہماری طرف آ گئے تو فرائض کا حکم نازل ہوا اور مدینہ منورہ کے احکام نے مکہ کے احکام کو منسوخ کر دیا اور بیت الحرام سے متعلق حکم نے بیت المقدس کے حکم کو منسوخ کر دیا تو اب ایمان قول اور عمل کا مجموعہ بن گیا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن عمران ہے ابو حاتم کہتے ہیں : یہ واقدی کی مانند ہے اور واقدی متروک ہے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ قَبْلَ ← عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [prayer book] › Chapter of what came in the qiblah] · Hadith 1976

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ [بَابٌ فِيمَا يُؤْجَرُ فِيهِ الْمُسْلِمُ] · حديث 4741

4741 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ: " تُعِينُ صَانِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ ". قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ: " احْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ ; فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے آپ نے ارشادفرمایا: اللہ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اس نے عرض کی: اگر میں اس کی استطاعت نہ رکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کام کرنے والے کی مددکرو یا کسی اپاہج کے لئے کچھ کرکے دے دو اس نے عرض کی: اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے شر کو روک کے رکھو یہ صدقہ ہو گا جوتم اپنی ذات کی طرف سے کروگے‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › [Chapter in which a Muslim can be rented] · Hadith 4741

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الزَّكَاةِ] ‹ باب · حديث 4744

4744 - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا يُنْجِي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا؟ قَالَ: " يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فَقِيرًا لَا يَجِدُ مَا يَرْضَخُ بِهِ؟ قَالَ: " يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَيِيًّا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ [لَا] يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: " يَصْنَعُ لِأَخْرَقَ ". قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَخْرَقَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ شَيْئًا؟ قَالَ: " يُعِينُ مَغْلُوبًا ". قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعِينَ مَغْلُوبًا؟ قَالَ: " مَا تُرِيدُ أَنْ تَتْرُكَ فِي صَاحِبِكَ مِنْ خَيْرٍ؟ يُمْسِكُ عَنْ أَذَى النَّاسِ ". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَفْعَلُ خَصْلَةً مِنْ هَؤُلَاءِ إِلَّا أَخَذَتْ بِيَدِهِ حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ.

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون کسی کی چیز بندے کو جہنم سے نجات دلوا سکتی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ پر ایمان رکھنا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایمان کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو رزق عطا کیا ہے اس میں سے آدمی کوئی چیز دے د ے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص فقیر ہو، اور اس کے پاس دینے کے لئے گنجائش نہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نیکی کا حکم دے اور وہ برائی سے منع کرے راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ اس لائق نہ ہو کہ وہ نیکی کا حکم دے سکے یا برائی سے منع کر سکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کسی اپاہج کے لئے کوئی کام کر دے میں نے عرض کی: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ خود اپاہج ہو، اور وہ کوئی کام نہ کر سکتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مغلوب کی مددکر دے میں نے عرض کی: اگر وہ خود کمزور ہو، اور کسی مغلوب کی مدد نہ کر سکتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم کیا چاہتے ہو کہ تم اپنے ساتھی میں کوئی بھلائی نہ رہنے دو؟ وہ لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے بچارہے میں نے عرض کی: اگر وہ ایسا کرے گا، تو وہ جنت میں داخل ہوگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: جوبھی مسلمان ان کاموں میں سے بھی کام کرے گا تو وہ کام اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کروادے گا۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس سے پہلے اس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں۔

قُلْتُ ← وعن ابي ذر

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Zakat] › Chapter · Hadith 4744

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْفَرَائِضِ] ‹ بَابٌ فِيمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ] · حديث 7188

7188 - عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِيمَانِ مِنْ عُنُقِهِ» ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا خَالِدَ بْنَ أَبِي حَيَّانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے ہیں:’’ جوشخص اپنے آقا کی بجائے کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے ،تو وہ اپنی گردن سے ایمان کا پٹہ اتار دیتا ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف خالد بن ابوحیان کا معاملہ مختلف ہے ،وہ ثقہ ہے۔

جَابِرٍ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Surplus Faras] › Chapter Among Those Who Appointed Others] · Hadith 7188

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِتْقِ] ‹ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ حَبْسِ الرَّقِيقِ] · حديث 7198

7198 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ ". قَالَ: بَرْبَرِيٌّ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْ عَنِّي ". قَالَ: بِمِرْفَقِهِ هَكَذَا، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: يُكْتَبُ حَدِيثُهُ. وَصَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک شخص آ کر بیٹھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں بربری ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم اٹھ جاؤ ! راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کہنی کے ذریعے اس طرح اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، جب وہ شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر چلا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :ایمان ان لوگوں کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے اور وہ متروک ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث کو نوٹ کیا جائے گا، ایک راوی صالح مولیٰ توامہ ہے، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔

بَرْبَرِيٌّ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ← جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ رَجُلٌ ← أَبِي هُرَيْرَةَ،

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Manumission] › Chapter on what is disliked from slavery] · Hadith 7198

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِتْقِ] ‹ [بَابُ أَيِّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ] · حديث 7247

7247 - «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ: " أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا " قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: " قَوِّمْ صَانِعًا أَوِ اصْنَعْ لِأَخْرَقَ " قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ: " فَاحْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ حَسَنَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ» ". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفُهُ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، اس نے عرض کی : ( آزاد کرتے ہوئے ) غلاموں میں کون سا زیادہ اجر والا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی قیمت زیادہ ہو، اور وہ اپنے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو ، اس نے عرض کی : اگر میں اس کی استطاعت نہ رکھوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تم کام کرنے والے کی مدد کرو، یا اپاہج کے لیے کوئی کام کر دو، اس نے عرض کی : اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے آپ سے برائی کو روک کے رکھو ! کیونکہ یہ صدقہ اور اچھائی ہوگی، جو تم اپنی ذات کی طرف سے کرو گے"۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :" صحیح" میں اس روایت کا ابتدائی حصہ منقول ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور ا س کے رجال ثقہ ہیں۔

الشَّرِّ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ حَسَنَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا ← فَاحْبِسْ نَفْسَكَ ← فإِن لم أَستطع؟ ← قَوِّمْ صَانِعًا أَوِ اصْنَعْ لِأَخْرَقَ ← فإِن لم أَستطع؟ ← أَغْلاَهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، ← فَأَيُّ الرِّقَابِ أَعْظَمُ أَجْرًا ← الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Manumission] › [The door, which neck is better] · Hadith 7247

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد · [كِتَابُ الْعِتْقِ] ‹ [بَابٌ فِي الرَّقَبَةِ الْمُؤْمِنَةِ] · حديث 7265

7265 - «وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِأَمَةٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَفَتُجْزِئُ هَذِهِ عَنِّي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَبُّكِ؟ " قَالَتْ: اللَّهُ رَبِّي. قَالَ: " فَمَا دِينُكِ؟ " قَالَتِ: الْإِسْلَامُ. قَالَ: " فَمَنْ أَنَا؟ " قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: " فَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: " وَتُصَلِّينَ الْخَمْسَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: " وَتَصُومِينَ رَمَضَانَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: " وَتُقِرِّينَ بِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى ظَهْرِهَا وَقَالَ: " أَعْتِقِيهَا، فَقَدَ أَجْزَأَتْ عَنْكِ» ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْإِيمَانِ، وَفِيمَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ قُبَيْلَ هَذَا.

عون بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : مجھے میرے والد نے ، میرے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے: ایک عورت اپنی کنیز کے ساتھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھ پر ایک مومن گردن ( یعنی غلام یا کنیز ) کو آزاد کرنا لازم ہے، تو کیا یہ میری طرف سے کفایت کر جائے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا ہے ؟ تمہارا پر وردگار کون ہے ؟ اس کنیز نے عرض کی : میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا :تمہارا دین کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : اسلام ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا : میں کون ہوں ؟ اس نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا : تم پانچ نمازیں ادا کرتی ہو؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم رمضان کے روزے رکھتی ہو؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا تم اس چیز کا اقرار کرتی ہو؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی پشت پر مارا اور فرمایا : اسے آزاد کر دو! یہ تمہاری طرف سے کفایت کر جائے گی۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث ایمان سے متعلق باب میں اور اس شخص سے متعلق باب میں ، جو اپنے غلام کو مارتا ہے اور اس سے کچھ پہلے گزرا ہے، اس میں ذکر کی گئی ہیں ۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِأَمَةٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← جَدِّي، ← أَبِي ← «وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ

Majma uz Zawaid Wa Manba ul Fawaid · [The Book of Manumission] › [A door in the secure neck] · Hadith 7265

chevron_left Previous
1…808182…484
Next chevron_right