محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا : یار سول اللہ ﷺ ہم جب نکلتے ہیں تو قریشیوں کو باتیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر جب وہ ہمیں دیکھتے ہیں تو اپنی گفتگو روک دیتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں اللہ کی قسم ! کسی انسان کے دل میں اس وقت تک ایمان نہیں داخل ہوتا جب تک وہ آپ سے اللہ تعالیٰ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1796
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1798
محمد بن قرظی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ ہم جب قریش کے پاس بیٹھتے ہیں وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں دیکھ کر اپنی گفتگو روک دیتے ہیں آپ ﷺ کو جب لوگوں کے بارے میں ایسی باتوں کی اطلاع ملتی تو آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے ، وعظ و نصیحت کرتے ، میں نے پھر عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ہم جب قریش کے پاس بیٹھتے ہیں وہ باتیں کررہے ہوئے ہیں مگر ہمیں دیکھ کر اپنی گفتگو روک دیتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ان گفتگو کرنے والے لوگوں کو کیا ہوا کہ جب میرے اہل بیت میں کوئی بندہ ان کےپاس جاکر بیٹھتا ہے تو وہ اپنی گفتگو روک دیتے ہیں اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں جان ہے کسی انسان کے دل میں ایمان نہیں ہوتا جب تک وہ تم سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1798
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1809
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جب قریش کے پاس بیٹھتے وہ باتیں کر رہے ہوتے تھے مگر ہمیں دیکھتے ہی اپنی گفتگو روک دیتے ہیں ہم نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سےکیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان گفتگو کرنے والے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ میرے اہل بیت میں کسی بندے کو دیکھ کر اپنی گفتگو روک دیتے ہیں آگاہ رہو اللہ کی قسم ! کسی انسان کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ سے اللہ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1809
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1821
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خوشی سے ملتے ہیں تو بڑی خوشی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو وہ خوش نہیں ہوتے اس پر رسول اللہ ﷺ شدید غصے میں آگئے اور فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میں محمد ﷺ کی جان ہے یا فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کسی بندے کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ سے اللہ اور اس کے رسول کی وجہ سے محبت نہ کرے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1821
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَبِي الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1822
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس (غصے کی حالت میں آئے ) اور میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کیوں غصہ میں ہو ؟ تو سیدنا عباس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ قریشی ہمارے علاوہ آپس میں تو بڑی خوشی سے ملتے ہیں مگر ہم سے ملتے وقت خوش نہیں ہوتے اس پر رسول الللہ ﷺ کو شدید غصہ آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان ( یعنی پیشانی ) سے پسینہ گرنے لگا اور یہ پسینہ اس وقت گرتا تھا جب آپ ﷺ شدید غصہ میں ہوتے جب آپ کا غصہ جاتا رہا تو فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کسی انسان کے دل میں ایمان نہیں داخل ہو سکتاجب تک وہ آپ (عباس ) سے اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی وجہ سے محبت نہ کرے۔ پھر فرمایا لوگوں میں جس کسی نے عباس کو تکلیف دی تو گویااس نے مجھے تکلیف دی یقینا چچا باپ کی جگہ ہوتا ہے۔ (2)
عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1822
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 774
محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ میں حجاج بن یوسف سےملاقات کے لیے گیا لیکن محافظین نے روک لیا اور واپس کر دیا ، اندر نہیں جانے دیا یہاں تک عنبسہ بن سعید نے آکر اجازت طلب کی تو انھٰن اندر جانے کی اجازت دے دی گئی ، انہوں نے داخل ہو کر سلام کیا ، حجاج نے سلام کا جواب دیا اور ان کے سر کو بوسہ دیا ، حجاج نے اپنی کرسی کے قریب دو آدمیوں کو کشادہ ہونے کا حکم دیا پس وہ بیتھ گئے ۔ حجاج نے اُن سے کہا : اللہ کی قسم ! کیا تم نے اپنے باپ امیر المومنین عبدالملک سے کوئی حدیث سنی ہے جو کہ تمہارے دادا عبداللہ بن سلام سے روایت کی گئی ہوتو انھوں نے کہا : اللہ تجھ پر رحم کرے وہ کون سی حدیث ہے ؟ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ جب اہل مصر نے ان کو کاشانہ اقدس میں محصور کر دیا تھا۔ کہا ہاں ! میں اس حدیث کو جانتا ہوں ، چنانچہ انہوں نے بیان کیا کہ سیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ آئے تو لوگوں نے اس پر شور مچایا ، یہاں تک وہ سیّد نا عثما ن رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے ، انہوں نے اس وقت ان کو گھر میں اکیلے پایا ، ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا ، البتہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اصرار کیا تھا کہ وہ باہر نکلیں ، چنانچہ لوگ باہر نکل چکے تھے ، سیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان کو سلام کرتے ہوئے کہا : امیر المومنین ! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو ۔ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اور پوچھا : عبداللہ بن سلام ! کیسے آنا ہوا ؟ جواب دیا :آج کی رات میں آپ کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں یا تو اللہ آپ کو فتح دے گا یا میں بھی آپ کے ساتھ شہید ہو جاؤ ں گا ۔ کیونکہ مجھ کو لگتا ہے یہ لوگ آپ کو قتل ہی کریں گے اگر انہوں نے آپ کو شہید کر دیاتو آ پ کے لیے اچھا اور ان کے لیے برا ہو گا ۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اصرار کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ جو آپ پر میرا حق ہے کہ آ پ باہر جا کر لوگوں سے کچھ کہ دو ، شاہدتمہاری وجہ سے اللہ کچھ بہتری لائے گا یا ان کے شر میں تیری وجہ سے کمی آئے گی ۔ سیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرمانبرداری کرتے ہوئے باہر آگئے جب لوگوں نے ان کو دیکھا تو اُ ن کی بڑی تعظیم کی اور سمجھے کہ شاید کوئی خوش خبری لائے ہیں ۔ پس وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے البتہ انہوں نےاللہ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا : لوگوً سیّد نا محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا تھا وہ جنت کی خرشخبری اور آگ سے ڈرانے والے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کی پیروی کرنے والے مومنین کو تمام ادیان پر غلبہ عطا فرمایا اگر چہ مشرکین کو یہ بات ناپسند لگے ۔ پھر اللہ نے ان کے لیے مدینہ منورہ کو مسکن منتخب کیا ، مدینہ منورہ کو ان کے لیے دارالہجرۃ اور دارالیمان بنایا ، یہیں ان کی اور ان کی ازواج مطہرات کی قبریں ہیں ۔ پھر ( سیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ) فرمایا : اسی طرح اللہ نے سیّد نا محمد ﷺ کو ہادی اور رحمت بنا کر بھیجا تھا پس جس نے ہدایت پائی ،وہ ( ہدایت ) اللہ کی طرف سے ہے اور جو گمراہ ہو گیا یقیناً وہ سنت اور حجت قائم ہونے کے باوجود گمراہ ہوگیا کیونکہ سیّدنا محمد ﷺ نے تبلیغ رسلات مکمل کر دی اور دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں ،یقیناً تم سے پہلے اُمتوں کو یہ حکم تھا اگر کوئی بنی کو شہید کر دیتا تواس کی دیت یہ تھی کہ اُس کے بدلے ستر ہزار (70،000)لڑنے والوں کو قتل کیا جائے گا ، اگر نبی کے خلیفہ کو قتل کر ے تو اس کے بدلے پینیتس ہزار(35،000)لڑنے والوں کو قتل کیا جائے گا ، اب تم لوگ اس بزرگ امیر المومنین (سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ ) کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو ، اللہ کی قسم ! ان کا مقررہ وقت قریب ہے ،میں کتاب اللہ میں اس بات کو پاتا ہوں ، پھر میں تمہارے لیے اللہ کی قسم اٹھا تا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ،جس شخص ان کو قتل کرے گا تو قیامت کے دن شل شدہ ہاتھوں سے اللہ کو ملے گا اور جان لو اس شخص (سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ )کا تم پر اتنا حق ہے جس طرح کہ کسی باپ کا اپنے بچوں پر ہوتا ہے ۔ اللہ کی قسم ! اس مدینہ میں تمہارے ساتھ آج تک فرشتے بھی ہیں ، جب سے نبی کریم ﷺتشریف لائے ہیں ، اور اللہ کی تلوار نیام ہے ۔جب سے بنی کریم ﷺ تشریف لائے ہیں ، پس تم خدا کی تلوار کو بے نیام کرو حالانکہ وہ نیام میں ہے ، نہ ہی اپنے پڑوسی فرشتوں جو یہاں سےبھگاؤ۔ یہ خطبہ سن کر لوگوں نے شور مچایا ، ان پر سب وشتم کرنے لگے اور کہا: اے یہودی ! تم نے جھوٹ بولا تو سیّد نا عبداللہ بن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلکہ تم نے جھوٹ بولا اور تم نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے ، میں یہودی نہیں ہوں بلکہ میں تو ایک مسلمان ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور مومنین اس بات کو جانتے ہیں ، اللہ نے میرے بارے میں قرآن نازل کیا ۔۔۔۔ایک اور جگہ فرمایا : اس کے بعد وہ تمام لوگ ان کو چھوڑ کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دوڑے اور ان کوذبح ( شہید ) کیا جس طرح کسی بار بردار جانور کو ذبح کیا جاتاسیّد نا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ان کی شہادت کے بعد مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور لوگ خوف زدہ تھے اور قاتلین عثمان مسجد میں تھے ، انہوں نے فرمای ۔اے اہل مصر ! اور اے قاتلین عثمان ! کیا تم لوگوں نے امیرالمومنین کو قتل کردیا ہے ؟ اللہ کی قسم ! ان کے بعد اب جب تک تم زندہ ہو ، مسلسل عہد شکنی ، خون بہنا عام ہوگا اور مال تقسیم ہو گا ۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے ایک رات پہلے ان کے پاس سیّد نا کثیر بن الصلت رضی اللہ عنہ آئے تھے ، ان سے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کثیر ! مجھے کل شہید کر دیا جائے گا ۔ کثیر نےکہا : اے امیرالمومنین ! اللہ ہر حال میں آپ کو اونچا رکھے گا اور آپ کے دشمنوں کو زلیل کرے گا پھر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے دوسری مرتبہ فرمایا :اے کثیر ! مجھے کل شہید کر دیا جائے گا ۔ کثیر نے کہا : امیرالمومنین ! اللہ ہر حال میں آپ کو اونچا رکھے گا اور آ پ کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا ۔ پھر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے تیسری مرتبہ فرمایا : اے کثیر ! مجھے کل شہید کر دیا جائے گا ۔ کثیر نے کہا : اے امیر المومنین ! کس نے آپ کو اس کے بارے میں بتایا ہے ۔پھر فرمایا : گزشتہ رات خواب میں مجھے رسول اللہ ﷺ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کی زیارت ہوئی تھی ، انہون نے کہا تھا : عثمان ! تمہیں کل شہید کر دیا جائے گا ۔ لہذا کثیر بن صلت ! یقینا ً کل مجھے شہید کر دیا جائےگا ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ ان رحم کرے پس وہ شہید کر دیئے گئے ۔ (1)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک وسیع میدان میں بیان کیا کہ ایک مرتبہ اہل قریش نبی کریم ﷺ کےپاس جمع ہوئے ان میں سہیل بن عمرو بھی تھا ، وہ نبی کریم ﷺ سے مطالبہ کرتے تھے : اے محمد ﷺ ہماری قوم کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر تم سے جا ملے ہیں انکو ہمیں واپس کردو یہ سن کر نبی کریم ﷺ کو شدیدہ غصہ آ یا کہ غضب کے آثار آپ ﷺ کے چہرہ اقدس پر دکھائی دیئے گئے اور فرمایا قریش کے گروہ! باز آجاؤ ، ورنہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو تم پر مسلط کرے گا جس کا دل اللہ نے ایمان کے لیے چن لیا ہے ، وہ دین کے بارےمیں تمہاری گردنیں مارے گا ، کسی نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ کیا وہ سیدنا ابو بکر ہیں ؟ فرمایا : نہیں ! پھر کہا گیا : کیا وہ سیدنا عمر ہیں ، فرمایا نہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : بلکہ وہ حجرے میں جوتوں کو سینے والے ہیں ۔پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خبردار ! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ مجھ پر جھوٹ نہ ناندھو کیونکہ جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے گا ، پس وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1105
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1118
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تلاش کیا تو مجھے ایک باغ میں سویا ہوا پایا تو مجھے پاؤں مارا اور فرمایا : اٹھو اللہ کی قسم ! میں تجھ سے خوش ہوں کہ تم میرے بھائی ہو۔ میرے نواسوں کے باپ ہو میرے سنت کے لیے لڑتے ہو، جو شخص بھی میرے وعدوں پر مرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں ہو گا۔ اور اے علی ! جو شخص تیرے وعدے پر مرتا ہے تحقیق اس نے اپنا مقصد پالیا اور جو تمہاری محبت میں مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ ایما ن پر کرے گا جن پر اس طرح سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے ۔ (4)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1118
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ 0 أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1608
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ایمان یہاں ہے، ایمان یہاں ہے، یقیناً سخت دلی اور ترش مزاجی ہل چلانے والوں میں ہے جو گائے اور اونٹوں کی دموں کے پیچھے لگنےوالے ہیں یہاں ربیعہ اور مضر قبیلے سے شیطان کے سینگ نکلیں گے(2)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم ﷺ سے فرمایا: تم پر اہل یمن آنے والے ہیں جو کہ دلوں کے لحاظ سے بہت نرم ہیں اورایمان یمن میں ، فقہ ، دین اور حکمت بھی یمن میں ہے۔ (3)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے یمن کی طرف اپنے مبارک ہاتھوں سے اشارہ کیا اور فرمایا: ایمان یمن میں ہے، ایمان یمن میں ہے، کفر کا سر مشرق میں ہے، تکبر اور فخر ہل چلانے والوں میں ہے اور اونٹ کی اون کے خیموں میں رہنے والے ہیں۔ (1)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسو ل اللہﷺ سے سنا آپﷺ فرما رہے تھے: سخت مزاجی اور سخت دلی اہل مشرق میں پائی جاتی ہے اور اہل ایمان حجاز میں ہے (2)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن ہیں جو دلوں کے لحاظ سے بہت نرم ہیں ، ایمان یمن میں، حکمت اور فقہ دین یمن میں ہے۔ (1)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آنے والے ہیں جو کہ دلوں کے لحاظ سے بہت کمزور اور نرم مزاج ہیں، ایمان اور حکمت بھی یمن میں ہے۔ (3)
سیدنا عبد اللہ بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺ نے فرمایا: اس طرح ، آپﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اکٹھا کرکے ایک حالت بنائی اور فرمایا: ایمان اہلرسو ل اللہﷺ نے فرمایا: اس طرح ، آپﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اکڑھاکے لحاظ سے بہت کمزور اور یمن میں حدس اور جذام قبائل کی طرف ہے۔ (4)
عبد الله بن عوف. ← جَبَلَةَ بْنِ عَطِيَّةَ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا حَمَّادٌ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues 0 People of Yemen · Hadith 1621
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ 0 أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1622
طاؤسؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آنے والے ہیں جو دلوں کے بہت نرم اور خوش مزاج ہیں ، ایمان اور حکمت یمن میں ہے۔
حنظلہ ؒ کہتے ہیں: میں نے ابو عبد الرحمٰن (یہ امام طاؤس کی کنیت ہے) سے پوچھا: یمن کس کو شمار کیا جاتا ہے تو انہوں نے کہا: مدینہ کو۔ (5)
سیدنا عمرو بن عبسہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ گھوڑوں کے پاس تھے اور عیینہ بن حصن بن بدر فزازی رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : میں گھوڑوں کی پہچان تجھ سے زیادہ رکھتا ہوں تو عیینہ نے کہا : میں آدمیوں کی پہچان آپ ﷺ سے زیادہ رکھتا ہوں آپ ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیسے َ عیینہ نے کہا : لوگوں میں بہتر آدمی وہ ہوتے ہیں جن کے کندھوں پر تلوار ہو ، ان کے نیزے گھوڑوں پر ہوں روئی دار کپڑے پہنے ہوئے ہوں اور اہل نجدمیں سے ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے غلط کہا : بلکہ بہترین لوگ یمنی ہیں ، ایمان اہل یمن کے قبائل لخم ، جذام ، عاملہ اور ماکول میں ہے اورحمیر ما کول سے بہتر ہیں ۔ بنو حارث سے حضر موت بہتر ہے ، ایک قبیلہ دوسرے سے اچھا ہے اور ایک قبیلہ دوسرے سے برا ہے ۔ اللہ کی قسم ! مجھے کوئی پراوہ نہ ہو گی اگر دونوں حارث بناہ ہوجائیں ۔ اللہ ان چار باد شاہوں جمدائ ، مخوسا ، مشرحا ، ابضعہ اور ان کی بہن عمردہ پر لعنت کرے پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:قیس ، جعدہ اور عصمہ کے علاوہ عصیہ قبیلہ اللہ اور اس کے رسول کا نافرمان ہے ، پھر فرمایا اسلم ، غفار ، مزینہ اور کچھ لوگ جھینہ سے یہ روز قیامت اللہ کے ہاں بنو اسد ، تمیم ، غطفان اور ہوازن سے بہتر ہیں پھر آپ ﷺ نے عرب کے دوبڑے قبیلوں کا نام لیا بعد میں فرمایا : قبائل میں سے بنو مذحج کے لوگ اکثر جنتی ہوں گے۔ صفوان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کہ ماکول اور حمیر یہ آکل قبیلے سے بہتر ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جو قبیلہ گزر گیا وہ باقی رہنے والوں سے بہتر ہے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1650
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1656
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس اہل یمن آنے والے ہیں جو کہ دلوں کے بہت نرم ہیں ،ایمان ، فقہ دین اور حکمت یمن میں ہے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1656