Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مسند أبي يعلى · الأعرج عن أبي هريرة ‹ الأعرج عن أبي هريرة · حديث 6364

6364 - حدثنا هدبة بن خالد حدثنا همام حدثنا قتادة عن الحسن و عطاء بن أبي رباح . عن أبي هريرة أن رسول الله ـ صلى الله عليه و سلم ـ Y لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن . وفي حديث عطاء ( ولا ينتهب نهبة ذات شرف وهو مؤمن ) . قال : ينزع منه الإيمان فإن تاب تاب الله عليه K إسناده صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : زانی زنا نہیں کرتا ہے ، جب وہ زنا کرتا ہے اس حال میں کہ وہ مؤمن ہو ،چور چوری نہیں کرتا جب وہ چوری کرتا ہے اس حال میں کہ وہ مؤمن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا ، جب وہ شراب پیتا ہے اس حال میں کہ وہ مؤمن ہو ۔ اور حضرت عطاء کی حدیث مین ہے : کوئی ڈاکو ڈاکہ زنی نہیں کرتا ہے ، جب وہ ڈاکہ زنی کرتا ہے اس حال میں کہ وہ مؤمن ہو ۔ فرمایا : اس سے ایمان چھین لیا جاتا ہے ، پس اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الحسن و عطاء بن أبي رباح ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Al-Araj from Abu Hurairah › Chapter · Hadith 6364

مسند أبي يعلى · يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك ‹ يزيد الرقاشي عن أنس بن مالك · حديث 4128

4128 - حدثنا محمد بن بكار حدثنا عباد بن عباد المهلبي عن يزيد الرقاشي Y عن أنس بن مالك قال : قالوا : يا رسول الله أرأيت أحدنا يحدث نفسه بالشيء الذي لأن يخر من السماء فينقطع أحب إليه من أن يتكلم به ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تلك محض الإيمان K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر ہم میں سے کوئی اپنے دل میں کوئی بات پاتا ہے، تو اس کو اپنی زبان پرلانے سے بہتر سمجھتا ہے ،کہ وہ آسمان سے گر کر ختم ہو جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایمان ہی ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ

Musnad Abu Yaalaa · Al-Raqashi is more than Anas bin Malik › Chapter · Hadith 4128

مسند أبي يعلى · شهر بن حوشب عن أبي هريرة ‹ شهر بن حوشب عن أبي هريرة · حديث 6510

6510 - وبإسناده أن رسول الله ـ صلى الله عليه و سلم ـ قال Y الإيمان يمان والكفر قبل المشرق والسكينة في أهل الغنم والفخر والرياء في الفدادين أهل الخيل والوبر K إسناده صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یمن کا ، کفر مشرق کی جانب ہو گا۔ سکینۃ بکریوں والوں میں ہے فخر اور ریاکاری گھوڑوں والوں اور دیہاتیوں میں ہے۔

Musnad Abu Yaalaa · Shahr bin Hawash on the authority of Abu Hurairah › Chapter · Hadith 6510

مسند أبي يعلى · مسند العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه ‹ مسند العباس بن عبد المطلب رضي الله عنه · حديث 6692

6692 - أخبرنا أبو يعلى أحمد بن علي بن المثنى الموصلي في شهر ربيع الآخر من سنة ست وثلاث مئة حدثنا مصعب بن عبد الله الزبيري قال : حدثني عبد العزيز بن محمد و ابن أبي حازم عن يزيد بن الهاد عن محمد بن إبراهيم عن عامر بن سعد . عن العباس بن عبد المطلب أنه سمع رسول الله - صلى الله عليه و سلم - يقول Y ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا K إسناده صحيح

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان کا ذائقہ اس نے چکھ لیا جو اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوا۔

الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← عبد العزيز بن محمد و ابن أبي حازم ← مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad al-Abbas bin Abdul Muttalib - RA › Chapter · Hadith 6692

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 160

160 - حدثنا مصعب بن عبد الله حدثنا عبد العزيز بن محمد عن محمد بن أبي حميد عن زيد بن أسلم عن أبيه Y عن عمر بن الخطاب قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا فقال : أنبئوني بأفضل أهل الإيمان إيمانا قالوا : يا رسول الله الملائكة قال : هم كذلك ويحق لهم ذلك وما يمنعهم وقد أنزلهم الله المنزلة التي أنزلهم بها ؟ بل غيرهم ؟ قالوا : يا رسول الله الأنبياء الذين أكرمهم الله برسالته والنبوة قال : هم كذلك ويحق لهم وما يمنعهم وقد أنزلهم الله المنزلة التي أنزلهم بها ؟ بل غيرهم قالوا : يا رسول الله الشهداء الذين استشهدوا مع الأنبياء قال : هم كذلك ويحق لهم وما يمنعهم وقد أكرمهم الله بالشهادة مع الأنبياء ؟ بل غيرهم قالوا : فمن يا رسول الله ؟ قال : أقوام في أصلاب الرجال يأتون من بعدي يؤمنون بي ولم يروني ويصدقون بي ولم يروني يجدون الورق المعلق فيعملون بما فيه فهؤلاء أفضل أهل الإيمان إيمانا K إسناده ضعيف

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے بتاؤ! ایمان والوں میں سے کس کا ایمان افضل ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ! فرشتوں کا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا وہ اسی طرح ہیں ان پر یہ حق ہے ان کو کون سی شے رکاوٹ ہے اللہ نے ان کو ایک مقام دیا ہے ان کا اللہ کے ہاں ایک مقام ہے بلکہ ان کے علاوہ ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کی : یا رسول اللہ! انبیاء ہوں گے ان کو اللہ عزوجل نے عزت دی رسالت اور نبوت دے کر ۔ آپ نے فرمایا : کس طرح ان کا ایمان افضل ہوسکتا ہے ان پر حق ہے ان کو کون سی شے رکاوٹ ہے اللہ عز وجل نے ان کو ایک مقام دیا ہے ان کا اللہ کے ہاں ایک مقام ہے بلکہ ان کے علاوہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! شہدا ہوں گے جو دشمنوں کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: ان کا ایمان کیسے ہوسکتا ہے ان کو کون سی شے رکاوٹ ہے یہ درجہ دینے سے اللہ عزوجل نے ان کو شہادت کے بدلے انبیاء کے ساتھ درجہ نہیں دیا؟ بلکہ ان کے علاوہ ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ! وہ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ایسے لوگ جو ابھی اپنے باپ کی پشتوں میں ہیں جو میرے بعد آئیں گے وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں وہ لٹکی ہوئی چاندی پائیں گے تو وہ عمل کریں گے جو اس میں ہے وہ ایمان والوں میں افضل ہوں گے ۔

أنبئوني بأفضل أهل الإيمان إيمانا ← كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← محمد بن أبي حميد ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مصعب بن عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 160

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 242

242 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا وكيع حدثنا كهمس عن عبد الله بن بريدة عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر Y عن عمر أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما الإيمان ؟ قال : أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله وباليوم الآخر وبالقدر خيره وشره فقال جبريل : صدقت فتعجبنا منه يسأله ويصدقه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ذاك جبريل أتاكم يعلمكم دينكم K إسناده صحيح

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے،عرض کی ، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور آخرت کے دن اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا۔حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی ، آپ نے سچ کہا۔ ہم کو تعجب ہو کہ سوال اور تصدیق دونوں کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام تھے تم کو دین سکھانے آئے تھے ۔

جبريل صدقت فتعجبنا منه يسأله ويصدقه ← أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله وباليوم الآخر وبالقدر خيره وشره ← ما الإيمان ← عمر أن جبريل أتى النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← كَهْمَسٍ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 242

مسند أبي يعلى · 2-الهمزة مع الفاء ‹ مسند عمر بن الخطاب رضي الله عنه · حديث 252

252 - حدثنا أحمد بن ابراهيم النكري أبو عبد الله حدثنا أبو عبد الرحمن حدثنا ابن لهيعة أخبرني عطاء بن دينار الهذلي أن أبا يزيد الخولاني حدثه أنه سمع فضالة بن عبيد يقول : سمعت عمر بن الخطاب يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y الشهداء أربعة : رجل مؤمن جيد الإيمان لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك الذي يرفع الناس إليه يوم القيامة أعينهم هكذا - ورفع رأسه حتى وقعت قلنسوته فلا أدري قلنسوة عمر أم قلنسوة النبي صلى الله عليه و سلم - ورجل مؤمن جيد الإيمان حتى إذا لقي العدو فكأنما يضرب جلده بشوك الطلح من الجبن أتاه سهم غرب فقتله فهو في الدرجة الثانية ورجل مؤمن خلط عملا صالحا وآخر سيئا لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك في الدرجة الثالثة ورجل مؤمن أسرف على نفسه لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك في الدرجة الرابعة K إسناده ضعيف

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے بتا رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شہداء چار طرح کے ہیں ( 1) ایک وہ آدمی جس کا ایمان عمدہ ہو دشمن سے اس کا واسطہ پڑے پس اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھائے ، یہاں تک کہ وہ شہید ہو جائے ۔ اس آدمی کی طرف لوگ قیامت کے دن اپنی آنکھیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اپنا سر انور اٹھایا یہاں تک کہ آ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر سے ٹوپی گر گئی ۔ راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ٹوپی گری یا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ( 2) ایک وہ بندہ مومن جو عمدہ ایمان والا ہے یہاں تک کہ اس کا واسطہ دسمن سے ہو پس اسے محسوس ہوا اس کے جسم میں کانٹا چبھو دیا ہے اچانک تیر آیا پس وہ شہید ہو گیا، وہ دوسرے درجہ میں ہوگا ( 3) ایک وہ بندہ مومن جس کے اعمال اچھے اور برے ہوں ۔ دشمن سے اس کا واسطہ پڑا اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھایا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا وہ تیرے درجہ میں ہوگا ( 4 ) ایک بندہ مومن جس نے اپنی جان پر ظلم کیا ، دشمن سے اس کا واسطہ پڑا، اللہ کے وعدہ کو سچ کر دکھایا ، یہاں تک کہ شہید ہو گیا وہ چوتھے درجہ میں ہوگیا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يُخْبِرُ ← فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← أَنَّهُ ← عطاء بن دينار الهذلي أن أبا يزيد الخولاني ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أحمد بن ابراهيم النكري أبو عبد الله

Musnad Abu Yaalaa · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Chapter · Hadith 252

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 376

376 - حدثنا خلف بن هشام حدثنا أبو الأحوص عن منصور عن ربعي عن رجل من بني أسد Y عن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أربع لن يجد رجل طعم الايمان حتى يؤمن بهن : أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأني رسول الله بعثني بالحق وأنه ميت ومبعوث من بعد الموت ويؤمن بالقدر كله K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار چیزوں کے بغیر کوئی بھی ایمان کا ذائقہ نہیں پاسکتا ہے یہاں تک کہ اس پر ایمان لے آئے، (1) لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، وانی رسول اللہ ! مجھے اس نے حق کے ساتھ بھیجا ہے ۔(2) مرنے پر (3) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر (4) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر (4) مکمل تقدیر پر ۔

عَلِيٍّ، ← رجل من بني أسد ← رِبْعِيٍّ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← خلف بن هشام،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 376

مسند أبي يعلى · سعيد بن سنان عن أنس بن مالك ‹ سعيد بن سنان عن أنس بن مالك · حديث 4311

4311 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة و أبو خثيمة زهير بن حرب قالا : حدثنا أبو معاوية عن جعفر بن برقان عن ابن أبي نشبة عن أنس بن مالك Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من أصل الإسلام : الكف عمن قال : لا إله إلا الله لا يكفره بذنب و لا يخرجه من الإسلام بعمل و الجهاد ماض منذ بعثني الله إلى أن يقاتل آخر أمتي الدجال لا يبطله جور جائر و لا عدل عادل و الإيمان بالأقدار كلها K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں اسلام کی اصل ہیں: (1) جولا الہٰ الا الله محمد رسول اللہ پڑھتا ہو اس کوقتل نہ کرنا۔(۲) گناہ کی وجہ کافر نہ کہنا (۳) اسلام سے کسی عمل کی وجہ سے نہیں نکلتا، جہاد قیامت تک جاری رہے گا، اس امت کا آخری گروہ دجال سے لڑے گا، ظالم کا علم اور عادل کا عدل اس کو نہیں روکے گا، اور ساری تقدیر پر ایمان لانا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابن أبي نشبة ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بكر بن أبي شيبة و أبو خثيمة زهير بن حرب

Musnad Abu Yaalaa · Saeed bin Sinan on the authority of Anas bin Malik › Chapter · Hadith 4311

مسند أبي يعلى · سعيد بن سنان عن أنس بن مالك ‹ سعيد بن سنان عن أنس بن مالك · حديث 4312

4312 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا محمد بن خازم حدثنا جعفر بن برقان عن ابن أبي نشبة عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من أصل الإيمان : الكف عمن قال : لا إله إلا الله لا يكفره بذنب و لا يخرجه من الإسلام بفعل و الجهاد ماض منذ بعثني الله إلى أن تقاتل آخر أمتي الدجال لا يبطله جور جائر و لا عدل عادل و الإيمان بالأقدار كلها K إسناده ضعيف

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں اسلام کی اصل ہیں: (1) جولا الہٰ الا الله محمد رسول اللہ پڑھتا ہو اس کوقتل نہ کرنا۔(۲) گناہ کی وجہ کافر نہ کہنا (۳) اسلام سے کسی عمل کی وجہ سے نہیں نکلتا، جہاد قیامت تک جاری رہے گا، اس امت کا آخری گروہ دجال سے لڑے گا، ظالم کا علم اور عادل کا عدل اس کو نہیں روکے گا، اور ساری تقدیر پر ایمان لانا۔

أَنَسٍ، ← ابن أبي نشبة ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · Saeed bin Sinan on the authority of Anas bin Malik › Chapter · Hadith 4312

مسند أبي يعلى · حديث أم الفضل بنت الحارث ‹ حديث أم الفضل بنت الحارث · حديث 7423

7423 - حدثنا مسروق بن المرزبان الكوفي حدثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن سعيد بن عبد الله بن جريج Y عن أبي برزة قال : قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - : يا معشر من آمن بلسانه ولم يدخل الإيمان قلبه لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم فإنه من تتبع عورات المسلمين تتبع الله الله عورته حتى يفضحه في بيته K إسناده حسن

حضرت ابو برزہ الاسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے گروہ جو اپنی زبان کے ساتھ : ایمان لایا۔ اس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا۔ مسلمانوں کی غیبت نہ کرو ۔ ان کے عیب تلاش نہ کرو۔ جو مسلمانوں کے عیب تلاش کرتا ہے۔ اللہ عزوجل اس کے عیب تلاش کرتا ہے، یہاں تک کہ اس کو اس کے گھر میں ذلیل کرے گا۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مسروق بن المرزبان الكوفي

Musnad Abu Yaalaa · The hadith of Umm Al-Fadl bint Al-Harith › Chapter · Hadith 7423

مسند أبي يعلى · حديث أم الفضل بنت الحارث ‹ حديث أم الفضل بنت الحارث · حديث 7501

7501 - حدثنا أبو ياسر عمار حدثنا أبو المقدام هشام بن زياد قال : حدثني أبي عن يوسف بن عبد الله بن سلام Y عن أبيه : أن النبي - صلى الله عليه و سلم - قال : الحياء من الإيمان K إسناده ضعيف جدا

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہے۔

أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← أَبِي ← أبو المقدام هشام بن زياد ← أبو ياسر عمار

Musnad Abu Yaalaa · The hadith of Umm Al-Fadl bint Al-Harith › Chapter · Hadith 7501

مسند أبي يعلى · کتاب ‹ مسند علي بن أبي طالب رضي الله عنه · حديث 528

528 - حدثنا سويد بن سعيد حدثنا زكريا بن عبد الله بن يزيد الصهابي عن عبد المؤمن عن أبي المغيرة Y عن علي قال : طلبني رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدني في جدول نائما فقال : قم ما ألوم الناس يسمونك أبا تراب قال : فرأى كأني وجدت في نفسي من ذلك فقال : قم فو الله لأرضينك أنت أخي وأبو ولدي تقاتل عن سنتي وتبرئ ذمتي من مات في عهدي فهو كنز الله ومن مات في عهدك فقد قضى نحبه ومن مات يحبك بعد موتك ختم الله له بالأمن والإيمان ما طلعت شمس أو غربت ومن مات يبغضك مات ميتة جاهلية وحوسب بما عمل في الإسلام K إسناده ضعيف

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاش کیا مجھے نرم ریت کی زمین پر سویا ہوا پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھو! تیرا نام ابو تراب ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا گویا اس کے متعلق میں نے اپنے دل میں بات پالی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھو ! اللہ کی قسم ! میں تم کو ضرور راضی کروں گا ۔ تو میرا بھائی ہے تو میرے بچوں کا باپ ہے ، میرے طریقے کے مطابق ، لڑا وہ میرے ذمہ بری ہے ، جو میرے زمانہ میں مرا وہ اللہ کے ذمہ ہے ، جو تیرے زمانہ میں مرا اس کا وقت پورا ہو گیا ہے ، جو تیری محبت پر مرا اس کا خاتمہ امن اور ایمان پر ہوگا، سورج طلوع اور غروب نہیں ہوگا ، جو تیرے بغض میں مرا وہ جاہلیت کی موت مرا، اس سے اسلام کے عمل کا حساب لیا جائے گا۔

قم فو الله لأرضينك أنت أخي وأبو ولدي تقاتل ← فرأى كأني وجدت في نفسي من ذلك ← قم ما ألوم الناس يسمونك أبا تراب ← طلبني رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدني في جدول نائما ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْمُغِيرَةِ ← عبد المؤمن ← زكريا بن عبد الله بن يزيد الصهابي ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ali bin Abi Talib - RA › Chapter · Hadith 528

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 661

661 - حدثنا أبو موسى ن حدثنا عبد الملك بن عمرو حدثنا سليمان بن سفيان المدني حدثنا بلال بن يحيى بن طلحة عن أبيه Y عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا رأى الهلال قال : اللهم أهله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جب چاند دیکھتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے : اللھم اھلہ الیٰ آخرہ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بِلَالِ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدَنِيُّ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ← أبو موسى ن

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 661

مسند أبي يعلى · مسند طلحة بن عبيد الله ‹ مسند طلحة بن عبيد الله · حديث 662

662 - حدثنا أبو موسى هارون بن عبد الله الحمال حدثنا أبو عامر حدثني سليمان بن سفيان قال : سمعت بلال بن يحيى بن عبيد الله يحدث عن أبيه Y عن جده قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا نظر إلى الهلال قال : اللهم أهله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جب چاند دیکھتے تھے تو یہ دعا کرتے تھے : اللھم اھلہ الیٰ آخرہ۔

اللهم أهله علينا باليمن والإيمان والسلامة والإسلام ربي وربك الله ← كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا نظر إلى الهلال ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بلال بن يحيى بن عبيد الله ← سليمان بن سفيان ← أَبُو عَامِرٍ ← أبو موسى هارون بن عبد الله الحمال

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Talha bin Obaidullah › Chapter · Hadith 662

مسند أبي يعلى · مسند سعد بن أبي وقاص ‹ مسند سعد بن أبي وقاص · حديث 756

756 - حدثنا هارون بن معروف حدثنا ابن وهب أخبرني أبو صخر أن أبا حازم حدثه عن ابن سعد قال Y سمعت أبي يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الإيمان بدأ غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء يومئذ إذا فسد الناس والذي نفس أبي القاسم بيده ليأرزن الإسلام بين هذين المسجدين كما تأرز الحية في جحرها K إسناده صحيح

حضرت ابن سعد فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : ایمان غریبوں سے شروع ہوا تھا ، واپس بھی غریبوں میں آ جائے گا، جس طرح غریبوں سے شروع ہوا تھا غریبوں کے لیے خوشخبری ہے اس دن جب لوگوں میں فساد ہوگا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابو القاسم کی جان ہے ، سلام سمٹ کر ان دو مسجدوں میں آ جائے گا ( مسجد حرام ، مسجد نبوی ) جس طرح سانپ سمٹ ر اپنی سوراخ میں آ جاتا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي ← ابْنُ سَعْدٍ، ← أبو صخر أن أبا حازم ← ابْنُ وَهْبٍ، ← هَارُونُ بن معروف

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Saad bin Abi Waqas › Chapter · Hadith 756

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1009

1009 - حدثنا أبو بكر حدثا أبو نمير عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه قال Y أخرج مروان المنبر وبدأ بالخطبة قبل الصلاة فقام رجل فقال : يا مروان خالفت السنة : أخرجت المنبر ولم يكن يخرج وبدأت الخطبة قبل الصلاة فقال أبو سعيد : من هذا ؟ قالوا : فلان قال : أما هذا فقد قضى ما عليه إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من رأى منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذاك أضعف الإيمان K إسناده صحيح

حضرت اسماعیل بن رجا ء رضی اللہ عنہ اپنے باپ کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ مروان نے منبر باہر نکالا اور خط نما ز سے پہلے شروع کر دیا ۔ ایک آدمی کھڑا ہوا ۔ اس نے کہا : اے مروان ! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے ۔ تو نے منبر باہر نکالا ہے حالانکہ منبر باہر نہیں نکالا جاتا تھا ۔ تو نے خطبہ نماز سے پہلے شروع کیا ہے (حالانکہ خطبہ نماز کے بعد ادا کیا جاتا ہے ) حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : فلاں ہے ۔ حضرت ا بو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے بے شک فیصلہ کیا جو اس پر لازم تھا ۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : جو تم میں برائی دیکھے اس کو ہاتھ سے روکے ، اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھے وہ زبان سے روکے ۔ اگر زبان سے وکنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے تو دل سے برا جانے یہ ایمان کا سب سے کمزور ترین حصہ ہے ۔

أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُمَيْرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1009

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1106

1106 - حدثنا إسحاق بن أبي إسرائيل حدثنا أبو عبد الرحمن المقرىء حدثنا سعيد بن أبي أيوب حدثنا عبد الله بن الوليد عن أبي سليمان Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مثل المؤمن ومثل الإيمان كمثل فرس في آخيته يجول ثم يرجع إلى آخيته وإن المؤمن يسهو ثم يرجع إلى الإيمان فأطعموا طعامكم الأتقياء وأولوا معروفكم المؤمنين

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے جو اپنی لگام سے باندھا ہوا ہو، وہ اس کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے۔ پھر واپس دوبارہ اس جگہ آ جاتا ہے، بے شک مومن بھول جاتا ہے ۔ پھر ایمان میں واپس آ جاتا ہے اپنا کھانا متقی لوگوں کو کھلاؤ اور نیکی مومنوں سے کیا کرو۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سُلَيْمَانَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو عبد الرحمن المقرىء ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ،

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1106

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1203

1203 - حدثنا زهير حدثنا أبو معاوية حدثنا الأعمش عن إسماعيل ابن رجاء عن أبيه . وعن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب كلاهما Y عن أبي سعيد قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من رأى منكرا فاستطاع أن يغيره بيده فليفعل فإن لم يستطع بيده فبلسانه فإن لم يستطع بلسانه فبقلبه وذلك أضعف الإيمان K إسناده بفرعيه صحيح

حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: جو تم میں برائی دیکھے اس کو ہاتھ سے روکے ، اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھے تو زبان سے روکے 'ا گر زبان سے روکنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا تو دل سے برا جانے ' یہ ایمان کا سب سے کمزور ترین درجہ ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← طارق بن شهاب كلاهما ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِيهِ ← إسماعيل ابن رجاء ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1203

مسند أبي يعلى · من مسند أبي سعيد الخدري ‹ من مسند أبي سعيد الخدري · حديث 1332

1332 - حدثنا زهير حدثنا عبد الله بن يزيد حدثنا سعيد بن أبي أيوب عن أبي سليمان الليثي Y عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مثل المؤمن ومثل الإيمان كمثل الفرس في آخيته يجول ثم يرجع إلى أخيته وإن المؤمن يسهو ثم يرجع إلى الإيمان فأطعموا طعامكم الأتقياء وأولوا معروفكم المؤمنين

حضرت ابوسعید الخذری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس بندھے ہوئے گھوڑے کی طرح ہے جو اپنے باندھنے کی جگہ گھومتا رہتا ہے وہ گھوم کر واپس اسی جگہ آ تا ہے بے شک مؤمن بھول جاتا ہے پھر میدان کی طرف آ جاتا ہے تم اپنا کھانا نیک لوگوں کو کھلاؤ اور نیکی ایمان والوں کے ساتھ کرو۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي سليمان الليثي ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · From the Musnad Abu Saeed Al-Khudri › Chapter · Hadith 1332

chevron_left Previous
1…596061…484
Next chevron_right