Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 4974

4974 - حدثنا عثمان بن أبي شيبة حدثنا غندر عن شعبة عن مغيرة عن شباك عن إبراهيم عن هني بن نويرة عن علقمة عن عبد الله Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أعف الناس قتلة أهل الإيمان K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قتل کرنے کے لحاظ سے سب لوگوں سے پاک دامن، اہل ایمان ہیں۔

أعف الناس قتلة أهل الإيمان إسناده ضعيف ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← هُنَيِّ بْنِ نُوَيْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← شباك ← مُغِيرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 4974

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5147

5147 - حدثنا أبو خيثمة حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال : قال هني الضبي : لقينا علقمة ـ وقد مثل زياد برجل صلبه ـ فقال لنا : علام اجتمع هؤلاء ؟ قلت : مثل زياد برجل قال : قال عبد الله Y فيما أحسب ـ : إن أعف الناس قتلة أهل الإيمان K إسناده ضعيف

حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک لوگوں میں سے قتل کرنے کے اعتبار سے سب سے عفیف و پاک اہل ایمان ہیں۔

لنا علام اجتمع هؤلاء قلت مثل زياد برجل ← هني الضبي لقينا علقمة وقد مثل زياد برجل صلبه ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5147

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5424

5424 - وعن أبيه Y سمع النبي صلى الله عليه و سلم رجلا يعظ أخاه في الحياء فقال : الحياء في الإيمان K إسناده صحيح

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ ایک اپنےبھائی کو نصیحت کررہا تھا حیاء کے متعلق ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہے۔

الحياء في الإيمان إسناده صحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم رجلا يعظ أخاه في الحياء ← أَبِيهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5424

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5487

5487 - وعن سالم عن أبيه Y عن النبي - صلى الله عليه و سلم - سمع رجلا يعظ أخاه في الحياء فقال له : الحياء من الإيمان K إسناده صحيح

حضرت سالم اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے نصیحت کر رہا تھا تو اس سے آپ نے فرمایا: حیا ء ایمان کا جز ہے۔

رجلا يعظ أخاه في الحياء فقال له الحياء من الإيمان إسناده صحيح ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← وعن سالم

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5487

مسند أبي يعلى · مسند عبد الله بن مسعود ‹ مسند عبد الله بن مسعود · حديث 5536

5536 - وعن أبيه Y أن النبي صلى الله عليه و سلم سمع رجلا يعظ أخاه في الحياء فقال : إن الحياء من الإيمان K إسناده صحيح

ان کے والد سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے وعظ کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان کا حصہ ہے۔

أَبِيهِ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abdullah bin Masoud › Chapter · Hadith 5536

مسند أبي يعلى · مسند ابن عباس ‹ مسند ابن عباس · حديث 2740

2740 - حدثنا زهير حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس قال Y لما نزلت { والذين يرمون المحصنات ثم لم يأتوا بأربعة شهداء فاجلدوهم ثمانين جلدة ولا تقبلوا لهم شهادة أبدا وأولئك هم الفاسقون } [ النور : 4 ] قال سعد بن عبادة ـ وهو سيد الأنصار ـ : أهكذا أنزلت يا رسول الله ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر الأنصار ألا تسمعون إلى ما يقول سيدكم ؟ قالوا : يا رسول الله لا تلمه فإنه رجل غيور والله ما تزوج امرأة قط إلا بكرا ولا طلق امرأة قط فاجترأ رجل منا على أن يتزوجا من شدة غيرته . فقا سعد والله يا رسول الله إني لأعلم أنها حق وأنها من عند الله ولكن قد تعجبت أني لو وجدت لكاعا قد تفخذها رجل لم يكن [ لي ] أن أهيجه ولا أحركه حتى آتي بأربعة شهداء ؟ فو الله لا آتي بهم حتى يقضي حاجته قال فما لبثوا إلا يسيرا حتى جاء هلال بن أمية ـ وهو أحد الثلاثة الذين تبت عليهم ـ فجاء من أرضه عشاء فوجد عند أهله رجلا فرأى بعينيه وسمع بأذنيه فلهم يهجه حتى أصبح فغدا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني جئت أهلي عشاء فوجدت عندها رجلا فرأيت بعيني وسمعت بأذني . وكره رسول الله صلى الله عليه و سلم ما جاء به واشتد عليه واجتمعت الأنصار فقالوا : قد ابتلينا بما قال سعد بن عبادة إلا أن يضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم هلال بن أمية ويبطل شهادته في المسلمين فقال : والله والله إني لأرجو أن يجعل الله لي منها مخرجا فقال هلال : يا رسول الله إني قد أرى ما اشتد عليك مما جئت به والله يعلم أني لصادق فوالله إن رسول الله صلى الله عليه و سلم ليريد أن يأمر بضربه إذ نزل على رسول الله صلى الله عليه و سلم الوحي وكان إذا نزل عليه الوحي عرفوا ذلك في تربد جلده فأمسكوا عنه حتى فرغ من الوحي فنزلت : { والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم } [ النور : 6 ] الآية كلها فسري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أبشر يا هلال قد جعل الله لك فرجا وخرجا فقال هلال : قد كنت أرجو ذاك من ربي . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أرسلوا إليها فأرسلوا إليها فجاءت فتلاها رسول الله صلى الله عليه و سلم وذكرهما وأخبرهما أن عذاب الآخرة أشد من عذاب الدنيا . فقال هلال : والله يا رسول الله لقد صدقت عليها فقالت : كذب . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا عنوا بينهما فقال لهلال : اشهد فشهد أربع شهادات بالله إنه لمن الصادقين فلما كانت الخامسة قيل : يا هلال اتق الله فإن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة وإن هذه الموجبة التي توجب العذاب فقال : والله لا يعذبني الله عليها كما تجلدني عليها فشهد الخامسة أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين ثم قيل لها : اشهدي فشهدت أربع شهادات بالله إنه لمن الكاذبين فلما كانت الخامسة قيل لها : اتقي الله فإن عذاب الدينا أهون من عذاب الآخرة وإن هذه الموجبة التي توجب العذاب فتلكأت ساعة ثم قالت : والله لا أفصح قومي فشهدت الخامسة أن عضب الله عليها أن كان من الصادقين ففرق رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهما وقضى أن لا يدعى ولدها لأب ولا يرمى ولدها ومن رماها أو رمى ولدها فعليه الحد وقضى أن لا بيت لها عليه ولا قوت من أجل أنهما يتفرقان من غير طلاق ولا متوفى عنها قال : إن جاءت به أصيهب أثيبج أريسح حمش الساقين فهو لهلال وإن جاءت به أورق جعدا جماليا خدلج الساقين سابغ الأليتين فهو للذي رميت به فجاءت به أورق جعدا جماليا خدلج الساقين سابغ الأليتين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لولا الأيمان لكان لي ولها شأن قال عكرمة : وكان بعد ذلك أميرا على مصر وما يدعى لأب K إسناده ضعيف

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’اور وہ لوگ جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ نہ لائیں تو ان کو اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی بھی نہ مانو ، وہی فاسق ہیں‘‘(النور:۴) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے‘ وہ انصار کے سردار تھے‘ بولے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اسی طرح نازل ہوئی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے گروہ! کیا تم سنتے نہیں اس بات کو جو تمہارا سردار کہہ رہا ہے؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اس کو سلامت نہ کریں یہ غیرت مند آدمی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ شادی ہمیشہ کنواری سے کرتا ہے کسی عورت کو طلاق نہیں دیتا ، ہم میں سے کوئی آدمی جرأت نہیں کرتا اس کی غیرت مندی کی وجہ سے اس کی عورت سے شادی کرنے کی ۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ حق ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ہے لیکن تعجب خیز بات یہ ہے کہ اگر میں کسی مرد کو اس حالت میں پاؤں کہ اس نے اس عورت کو اپنی رانوں میں دبایا ہوا ہو۔ میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اس پہ چار گواہ لے آؤں ۔ اللہ کی قسم میرے آنے تک وہ کام مکمل کر چکا ہو گا۔ تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ حضرت حلال بن امیہ تشریف لائے وہ ان تین میں شامل تھے جن کی توبہ قبول ہوئی تھی ، رات کو اپنے باغ سے آئے ۔ اپنے اہل خانہ کے پاس ایک مرد کو پایا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے دونوں کانوں سے سنا لیکن مقدمہ پیش کرنے کی جرأت نہیں ہوئی یہاں تک کہ صبح ہوئی ۔صبح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں رات کو اپنے اہل خانہ کے پاس آیا‘ میں نے اس کے پاس ایک مرد کو پایا‘ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اپنے کانوں سے سنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو نا پسند خیال کیا‘ آپ پر شاق گزری۔ انصار جمع ہو گئے‘ کہنے لگے: جو حضرت سعد بن عبادہ نے کہا تھا ہم بھی اس میں مبتلا ہوئے ہیں مگر یہ کہ حضرت بلال بن امیہ کو سزا ہو گی ،مسلمانوں میں ان کی گواہی باطل قرار دیں گے۔حضرت ہلال کہنے لگے: اللہ کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ میرے لیے کوئی بہتر راستہ نکال دے گا۔ اس سے حضرت حلال نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے بے شک دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شاق گزرا ہے، اس وجہ سے جو میں لے کر آیا ہوں اللہ کی قسم جانتا ہوں میں سچا ہوں ۔ اللہ کی قسم! بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ضرور ان پر سزا کا حکم لگانے والے تھے‘ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی آنا شروع ہو گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے معلوم کر لیا جاتا تھا کہ وہ اس طرح کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدل جاتا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رُک گئے یہاں تک کہ وحی آنا ختم ہو گئی۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: ’’وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ نہیں ہوتے مگر اپنے آپ ہی‘‘ (النور :6 ) فرمایا: خوشخبری ہو اے ہلال، بے شک اللہ عزوجل نے تیرے لیے گنجائش اور راستہ نکال دیا ہے۔حضرت ہلال کہتے ہیں بے شک مجھے اپنے رب کی ذات پر امید تھی ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی بیوی کو بلواؤ، پس اس کو بلوایا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی ، اس کو وعظ ونصیحت فرمائی کہ آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے سخت ہے ۔حضرت ہلال نے کہا: اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میں اس کے خلاف سچ بولتا ہوں ۔ اس عورت نے کہا: اس نے سچ نہیں بولا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان لعان کرو ۔ حضرت بلال نے کہا، گواہی دے! اس نے چار مرتبہ گواہی دی کہ اللہ کی قسم! میں سچوں میں سے ہوں جب پانچ ، پانچویں دفعہ سہادت آئی تو کہا گیا اے ہلال اللہ سے ڈر بے شک دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے تھوڑا ہے ۔ یہ پانچویں دفعہ شہادت واجب کرنے والی ہے۔ حضرت ہلال نے کہا اللہ کی قسم تم مجھے اس پر عذاب نہیں ہو گا جس طرح کہ مجھے اس پر کوڑے نہیں پڑے۔ انہوں نے پانچو میں دفعہ گواہی دی کہ اللہ کا غضب اس پر اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو ۔ پھر اس عورت سے کہا گیا کہ تو گواہی دے۔ چار مرتبہ اس طرح گواہی دے کہ اللہ کی قسم وہ جھوٹوں میں سے ہے۔ جب پانچویں مرتبہ گواہی دینے لگی تو اس کو کہا گیا اللہ سے ڈر، بے شک دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے تھوڑا ہے، یہ پانچویں مرتبہ تجویز ثابت کرنے والی ہے۔ وہ ایک گھڑی روئی ۔ پھر اللہ کی قسم کھا کر کہا میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی ۔ اس نے پانچویں دفعہ گواہی دی ۔ اس پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ (اس کا خاوند ) بچوں میں سے ہو ۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی‘ یہ فیصلہ دیا کہ اس عورت کی اولا دکو باپ کی طرف منسوب نہ کیا جائے ۔ جو شخص اس پر یا اس کی اولاد پر تہمت لگائے اس پر حد ہو گی ۔ یہ فیصلہ دیا گیا کہ اس عورت کے لیے نہ گھر ہو گا ۔ نہ نان نفقہ ہو گا۔ اس وجہ سے کہ ان دونوں کے درمیان فرق کیا جا رہا ہے بغیر طلاق اور بغیر وفات کے اور فرمایا اگر اس عورت نے بچہ جنا اس طرح کا سرخ و سفید رنگ کا،ہلکی سیرین والا ، پیلی پنڈلیوں والا‘ وہ ہلال کا ہو گا ۔ اگر گندی رنگت والا ہو‘ گھنگرے بالوں والا ہو‘ موٹی پنڈلیوں والا ، موٹی سرین والا ہو۔ یہ اس آدمی کا ہو گا جس کی طرف اس کو منسوب کیا گیا اس نے ناگند میں رنگ والا موٹی پنڈلیوں والا ۔موٹی سیرین والا بچہ جنا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے اور اس عورت کے درمیان قسم نہ ہوتی تو معاملہ کچھ اور ہوتا ۔ حضرت عکرمہ فرماتے اس کے بعد وہی مصر کا گورنر بنا۔ اس کو باپ کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا تھا ۔

سعد بن عبادة وهو سيد الأنصار أهكذا أنزلت ← لَمَّا نَزَلَتْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← زُهَيْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Ibn Abbas › Chapter · Hadith 2740

مسند أبي يعلى · أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس ‹ أبو قلابة عبد الله بن زيد الجرمي عن أنس · حديث 2813

2813 - حدثنا إسحاق حدثنا عبد الوهاب عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان : أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله وأن يكره أن يعود الكفر كما يكره أن توقد له نار فيقذف فيها K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی حلاوت کو پالیا (۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمیع ما سوا ہما ( ان دونوں کے علاوہ باقی سب سے ) زیادہ محبت کرے(۲) آدمی کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے (۳) آدمی کفر میں لوٹنا اس طرح ناگوار جانے جس طرح کہ وہ اس بات کو نا پسند سمجھتا ہے کہ اس کو آگ میں ڈالا جائے آگ کو بھڑکا کر ۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← إِسْحَاقُ

Musnad Abu Yaalaa · Abu Qalaba Abdullah bin Zaid Al-Jarmi on Anas › Chapter · Hadith 2813

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 2923

2923 - حدثنا أبو بكر حدثنا زيد بن الحباب عن علي ين مسعدة حدثنا قتادة عن أنس قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإسلام علانية والإيمان في القلب ـ ثم يشير بيده إلى صدره ـ التقوى ها هنا التقوى ها هنا K إسناده حسن

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام علانیہ ہوتا ہے اور ایمان دل میں ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سینے مبارک کی طرف اشارہ فرما کے فرمایا: تقویٰ یہاں ہوتا ہے، تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← علي ين مسعدة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَکْرٍ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 2923

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3000

3000 - حدثنا محمد بن المثنى حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة قال : و سمعت قتادة يحدث عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه وجد طعم الإيمان : من يحب المرء لا يحبه إلا لله ومن كان الله ورسوله أحب إليه مما سواهما ومن كان أن يلقى في النار أحب إليه أن يرجع في الكفر بعد إذ أنقذه الله منه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی حلاوت کو پا لیا (۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمیع ما سوا ہما ( ان دونوں کے علاوہ باقی سب سے ) زیادہ محبت کرے(۲) آدمی کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے (۳) آدمی کفر میں لوٹنا اس طرح ناگوار جانے جس طرح کہ وہ اس بات کو ناپسند سمجھتا ہے کہ اس کو آگ میں ڈالا جائے بعد اس کے کہ اللہ نے اسے بچالیا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← و، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى،

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3000

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3001

3001 - حدثنا أبو موسى حدثنا أبو داود حدثنا شعبة عن قتادة قال : سمعت أنس بن مالك قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثله غير أنه قال : وجد بهن حلاوة الإيمان K إسناده صحيح

حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا‘ اسی کی مثل فرمایا ہے مگر اس میں اضافہ ہے کہ جس نے یہ باتیں اپنے اندر پا لیں‘ اس نے ایمان کی حلاوت پا لی ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو مُوسَى،

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3001

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3081

3081 - حدثنا ابن أبي سمينة حدثنا ابن أبي عدي عن حسين المعلم عن قتادة عن أنس Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يبلغ العبد حقيقة الإيمان حتى يحب للناس ما يحب لنفسه من الخير K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بندہ ایمان کی حقیقت نہیں پا سکتا ہے یہاں تک کہ لوگوں کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے بہترشے پسند کرتا ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← ابْنُ أَبِي سَمِينَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3081

مسند أبي يعلى · قتادة عن أنس ‹ قتادة عن أنس · حديث 3142

3142 - حدثنا عبيد الله حدثنا حرمي بن عمارة حدثنا شعبة عن قتادة عن أنس Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه وجد حلاوة الإيمان : من أحب المرء لا يحبه إلا لله ومن كان الله ورسوله أحب إليه مما سواهما ومن أن يقذف في النار أحب إليه من أن يرجع في الكفر بعد إذ أنقذه الله منه K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمٍ نے فرمایا: تین چیز یں جس میں ہوئی اس نے ایمان کی حلاوت کو پالیا (۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جمیع ما سوا ہما ( ان دونوں کے علاوہ باقی سب سے ) زیادہ محبت کرے(۲) آدمی کسی سے بھی محبت کرے تو صرف اللہ کے لیے (۳) آدمی کفر میں لوٹنا اس طرح نا گوار جانے جس طرح کہ وہ اس بات کو ناپسند سمجھتا ہے کہ اس کو آگ میں ڈالا جائے آگ کو بھڑکاکر۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Musnad Abu Yaalaa · Qatada on the authority of Anas › Chapter · Hadith 3142

مسند أبي يعلى · بقية مسند أنس ‹ بقية مسند أنس · حديث 3256

3256 - حدثنا أحمد حدثنا أبو داوود قال : أنبأنا شعبة عن قتادة Y حدثنا أنس بن مالك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان : من يكن الله ورسوله أحب إليه من أن يرجع إلى الكفر بعد إذ أنقذه الله منه وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله ) K إسناده صحيح

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے! کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتاہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أبو داوود ← أَحْمَدُ،

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Anas › Chapter · Hadith 3256

مسند أبي يعلى · بقية مسند أنس ‹ بقية مسند أنس · حديث 3257

3257 - حدثنا أحمد حدثنا شبابة حدثنا شعبة عن قتادة Y عن أنس عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه ) K إسناده صحيح وقال Y ( لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من ولده ووالده والناس أجمعين ) K إسناده صحيح وقال Y ( لا يجد أحدكم حلاوة الإيمان حتى يكون الله أحب إليه مما سواهما وحتى يحب الرجل لا يحبه [ إلا ] لله ولأن يقذف في النار أحب إليه من أن يرجع في الكفر بعد إذ أنقذه الله منه ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایمان والانہیں ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنی ذات کے لیے پسند کرے ۔ اور آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایمان دار نہیں ہوسکتا ہے یہاں تک کہ اپنے آپ اور اپنی اولاد ‘والدین اور تمام لوگوں سے بڑھ کر مجھ سے محبت نہ کرے اور آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایمان کی حلاوت نہیں پا سکتا ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے ہرشی سے بڑھ کر محبت نہ کرے اور آدمی صرف اللہ کے لیے محبت کرے کیونکہ وہ آگ میں پھینکا جانا‘ زیادہ پسند کرے گا کفر میں جانے سے اور اس کے بعد کہ اللہ نے اس کو بچا لیاہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ ← أَحْمَدُ،

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Anas › Chapter · Hadith 3257

مسند أبي يعلى · بقية مسند أنس ‹ بقية مسند أنس · حديث 3259

3259 - وقال Y ( لا يجد أحدكم حلاوة الإيمان حتى يكون الله أحب إليه مما سواهما وحتى يحب الرجل لا يحبه [ إلا ] لله ولأن يقذف في النار أحب إليه من أن يرجع في الكفر بعد إذ أنقذه الله منه ) K إسناده صحيح

Musnad Abu Yaalaa · The rest of Musnad Anas › Chapter · Hadith 3259

مسند أبي يعلى · ثابت البناني عن أنس ‹ ثابت البناني عن أنس · حديث 3279

3279 - حدثنا عبد الأعلى حدثنا حماد عن ثابت Y عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( ثلاث من كن فيه وجد حلاوة الإيمان : من كان الله ورسوله أحب إليه من أن يرجع يهوديا أو نصرانيا ) K إسناده صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیز یں جس میں ہوں اس نے ایمان کی حلاوت پالی‘ وہ یہودیت و نصرانیت کی طرف جانے سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى

Musnad Abu Yaalaa · Sabit Al-Banani on Anas › Chapter · Hadith 3279

مسند أبي يعلى · [ مسند أبي هريرة ] ‹ [ مسند أبي هريرة ] · حديث 5914

5914 - حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة حدثنا محمد ابن بشر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة . عن أبي هريرة قال Y قال رجل : يارسول الله إنا لنجد في أنفسنا أشياء ما نحب أن نتكلم بها وإن لنا ماطلعت عليه الشمس ؟ قال : قد وجدتم ذلك ؟ قالوا : نعم فقال : ذاك صريح الإيمان K إسناده حسن

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں پاتے ہیں جن کو ہم زبان پر نہیں لانا چاہتے ہیں اور بے شک ہمارے لیے وہی ہے جس پر سورج طلوع ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : واقعی تم اسے پاتے ہو۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ فرمایا : یہ واضح ایمان ہے ۔

رجل يارسول الله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← محمد ابن بشرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Huraira › Chapter · Hadith 5914

مسند أبي يعلى · [ مسند أبي هريرة ] ‹ [ مسند أبي هريرة ] · حديث 5923

5923 - حدثنا أبو همام حدثنا عبد الرحيم عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة . عن أبي هريرة قال Y قال أصحاب النبي - صلى الله عليه و سلم - : يارسول الله إنا نجد في أنفسنا شيئا ما نحب أن نتكلم به وإن لنا ما طلعت عليه الشمس . فقال : قد وجدتم ذلك ؟ قالوا : نعم قال : ذاك صريح الإيمان K إسناده حسن

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم اپنے دلوں میں کوئی بات پاتے ہیں ، ہم پسند نہیں کرتے کہ اس کو زبانوں پر لائیں اور بے شک ہمارے لیے ہے وہ جس پر سورج طلوع ہوا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : یقیناً تم ایسی چیزیں پاتے ہو ؟ عرض کی : جی ہاں ! پاتے ہیں فرمایا : یہ کھلے ایمان کی نشانی ہے ۔

أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم يارسول الله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ ← أَبُو هَمَّامٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Huraira › Chapter · Hadith 5923

مسند أبي يعلى · [ مسند أبي هريرة ] ‹ [ مسند أبي هريرة ] · حديث 6009

6009 - حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان حدثنا إسماعيل بن عياش قال : حدثني عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي و سعيد بن يوسف عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال Y كان رسول الله ـ صلى الله عليه و سلم ـ يقول في الصلاة على الجنازة : اللهم اغفر لحينا و ميتنا وشاهدنا وصغيرنا وكبيرنا . اللهم من أحييته فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان . اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده K إسناده جيد

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز جنازہ میں اکثر یہ دعا مانگتے تھے :"الھم اغفر لحینا الی آخرہ "

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي و سعيد بن يوسف ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Huraira › Chapter · Hadith 6009

مسند أبي يعلى · [ مسند أبي هريرة ] ‹ [ مسند أبي هريرة ] · حديث 6010

6010 - حدثنا شيبان بن فروخ حدثنا سويد يعني أباحاتم قال : حدثني صاحب لي عن يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن ابي هريرة Y عن النبي ـ صلى الله عليه و سلم ـ أنه كان إذا صلى على الميت قال : اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا من أبقيته منا فأبقه على الإسلام ومن توفيته فتوفه على الإيمان K إسناده ضعيف

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب میت پر نماز پڑھتے تو یہ دعا کرتے :"الھم اغفر لحینا و میتنا الی آخرہ "۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا صلى على الميت ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← صَاحِبٌ لِي ← سويد يعني أباحاتم ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ،

Musnad Abu Yaalaa · Musnad Abu Huraira › Chapter · Hadith 6010

chevron_left Previous
1…585960…484
Next chevron_right