Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 10

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْقَاهِرِ بْنِ الْعَنْبَرِيِّ اللَّخْمِيُّ الدِّمَشْقِيُّ نَزِيلٌ بِدِمَشْقَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَشْرَفُ الْإِيمَانِ أَنْ يَأْمَنَكَ النَّاسُ , وَأَشْرَفُ الْإِسْلَامِ أَنْ يَسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ وَيَدِكَ , وَأَشْرَفُ الْهِجْرَةِ أَنْ تَهْجُرَ السَّيِّئَاتِ , وَأَشْرَفُ الْجِهَادِ أَنْ تَقْتُلَ وَتَعْقِرَ فَرَسَكَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْوَضِينِ إِلَّا صَدَقَةُ، تَفَرَّدَ بِهِ مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ

احمد بن عبدالقاہر بن العنبری اللخمی دمشقی سے مروی حدیث،یہ حدیث آپ سے ۲۷۹ ہجری میں لی، اس وقت آہ دمشق میں رہائش پزیر تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے بہتر ایمان یہ ہے کہ لوگ تجھ سے امن میں رہیں۔ اور سب سے بہتر اسلام یہ ہے کہ لوگ تیری زبان اور تیرے ہاتھ سے امن میں رہیں۔اور سب سے بہتر ہجرت یہ ہے کہ تو گناہوں کو چھوڑ دے۔اور سب سے بہتر جہاد یہ ہے کہ تو اپنے گھوڑے کہ کونچیں کاٹ کر جہاد کرے۔ اس حدیث کو ’’ وضین‘‘ سے ’’صدقہ‘‘ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔ اور ان سے روایت کرنے میں’’ منبہ بن عثمان‘‘ منفرد ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ← مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْأَلِفِ ‹ مَنِ اسْمُهُ أَحْمَدُ · حديث 164

164 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ قُتَيْبَةَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مِنْ أَخْلَاقِ الْإِيمَانِ: مَنْ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُدْخِلْهُ غَضَبُهُ فِي بَاطِلٍ , وَمَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يُخْرِجْهُ رِضَاهُ مِنْ حَقٍّ , وَمَنْ إِذَا قَدَرَ لَمْ يَتَعَاطَ مَا لَيْسَ لَهُ " لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ إِلَّا بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ

احمد بن الحسین الانصاری ابو جعفر الاصبہانی سے مروی حدیث: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین عادتیں ایمان کے اخلاق میں سے ہیں جب غصہ آئے تو اسکا غصہ اس کو غلط راہ پر نہ لے جائیں جب بندہ خوش ہو تو خوشی کو اس کے حق کے راستے سے بھٹکا نہ دیں ۔جب بندے کی دسترس میں کوئی چیز آئے تو اس چیز کی جانب ہاتھ نہ بڑھائے جو اس کی اپنی نہیں ہے ۔اس حدیث ’’زبیر بن عدی ‘‘سے ’’بشیر بن الحسنین‘‘ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزبير بن عدي ← بِشْرُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ قُتَيْبَةَ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 164

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْحِاءِ ‹ بَابُ مَنِ اسْمُهُ الْحُسَيْنُ · حديث 410

410 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ مَأْمُونٌ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ , عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ وَقَارَبَ , وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ , وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ مُؤْمِنٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ إِلَّا اللَّيْثُ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوزخ میں دو ایسے آدمیوں کو اکٹھا نہیں رکھا جائے گا جن میں سے ایک سے دوسرے کو تکلیف ہو، مثلاًکسی مسلمان نے کافر کو قتل کیا پھر مسلمان رہنے کا ارادہ کیا اور اسی پر قائم رہا۔ (یہ قاتل اور مقتول دونوں اکٹھے دوزخ میں نہیں رہیں گے) اور کسی مومن کے پیٹ میں اللہ کے راستے کی غبار اور دوزخ کی تپش جمع نہیں ہو سکتے ۔ اور کسی مومن کے دل میں ایمان اور حسد بھی جمع نہیں ہو سکتے۔ اس حدیث کو ابن عجلان سے صرف لیث نے روایت کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِیسَی بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَۃَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ مَأْمُونٌ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 410

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ باب · حديث 427

424 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن صالح بن أبي عريب عن خلاد بن السائب قال Y دخلت على أسامة بن زيد فمدحني في وجهي فقال : إنه حملني أن أمدحك في وجهك أني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( إذا مدح المؤمن في وجهه ربا الإيمان في قلبه )

حضرت خلاد بن سائب فرماتے ہیں کہ میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، آپ نے میرے منہ پر میری تعریف کی ، آپ نے فرمایا : مجھے آپ کے چہرے پر تعریف کرنے پر اس نے ابھارا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جب مؤمن کی اس کے چہرے پر تعریف کی جاتی ہے تو اس کے دل میں ایمان اور زیادہ ہو جاتا ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنَّهُ حَمَلَنِي أَنْ أَمْدَحَكَ فِي وَجْهِكَ أَنِّي ← دَخَلْتُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَدَحَنِي فِي وَجْهِي، ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 427

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ مما أسند أنس بن مالك رضي الله عنه · حديث 728

724 - حدثنا يحيى بن أيوب العلاف و عمرو بن أبي الطاهر بن السرح ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا موسى بن يعقوب الزمعي أخبرني أبو الحويرث أخبرني نعيم بن عبد الله المجمر Y أن أنس بن مالك أخبره أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( ثلاث من كن فيه فقد ذاق طعم الإيمان من كان لا شيء أحب إليه من الله ومن كان أن يحرق بالنار أحب إليه من أن يرتد عن دينه ومن كان يحب لله ويبغض لله )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : جس میں تین باتیں ہوں ، اس نے ایمان کا ذائقہ پا لیا ، کوئی شی اس کو اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ پسند نہ ہو، وہ دین سے پھرنے سے آگ میں جلنا زیادہ پسند کرے ، وہ محبت اور بغض اللہ کے لیے رکھے ۔

نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← أَبُو الْحُوَيْرِثِ، ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← يحيى بن أيوب العلاف و عمرو بن أبي الطاهر بن السرح

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 728

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 56 - إياس بن ثعلبة أبو أمامة البلوي · حديث 792

788 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري و يحيى بن أيوب العلاف قالا ثنا سعيد بن أبي مريم ثنا عبد الله بن المنيب بن عبد الله بن أبي أمامة بن ثعلبة أخبرني أبي قال Y انصرفت من المسجد فإذا برجل عليه ثياب بيض وقميص ورداء فقال لي : أخبرني جدك أبو أمامة بن ثعلبة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( إن البذاذة من الإيمان إن البذاذة من الإيمان إن البذاذة من الإيمان )

حضرت عبداللہ بند منیب بن عبداللہ بن ابو امامہ بن ثعبلہ فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ میں مسجد سے نکلا، وہاں ایک آدمی تھا اُس پر سفید کپڑے اور قمیض اور چادر تھی، مجھے کہا کہ مجھے تمہارے دادا ابور امامہ بن ثعبلہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بتایا کہ آپ نے فرمایا: سادگی ایمان سے ہے، سادگی ایمان سے ہے ، سادگی ایمان سے ہے ۔

إن البذاذة من الإيمان إن البذاذة من الإيمان إن البذاذة من الإيمان ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جدك أبو أمامة بن ثعلبة ← انصرفت من المسجد فإذا برجل عليه ثياب بيض وقميص ورداء فقال لي ← أَبِي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُنِيبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري و يحيى بن أيوب العلاف

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 792

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 56 - إياس بن ثعلبة أبو أمامة البلوي · حديث 793

789 - حدثنا الحسين بن السميدع الأنطاكي حدثنا محمد بن المبارك الصوري ثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن عبيد الله عن عبد الله بن عبيد الله بن حكيم بن حزام أن أبا المنيب بن أبي أمامة أخبره أنه لقي عبد الله بن كعب بن مالك حدثني أبوك قال Y كنا في مجلس نتذاكر فيه الدنيا فخرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( البذاذة من الإيمان ) ثلاث مرات

حضرت ابو منیب بن ابو امامہ بتاتے ہیں کہ وہ حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک سے ملے، فرمایا: مجھے آپ کے والد نے بتایا کہ ہم ایک مجلس میں تھے ، اس میں ہم دنیا کا ذکر کر رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے ، آپ نے فرمایا : سادگی ایمان سے ہے ، یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔

عبد الله بن عبيد الله بن حكيم بن حزام ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 793

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 56 - إياس بن ثعلبة أبو أمامة البلوي · حديث 794

790 - حدثنا محمد بن معاذ الحلبي ثنا عبد الله بن رجاء أنا سعيد بن سلمة بن أبي الحسام حدثني صالح بن كيسان أن عبد الله بن أبي أمامة بن ثعلبة حدثه عن أبيه أنه كان يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y ( إن البذاذة من الإيمان إن البذاذة من الإيمان )

حضرت عبداللہ بن ابو امامہ بن ثعبلہ نے اپنے والد کے حوالہ سے بتایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے : سادگی ایمان سے ہے ، سادگی ایمان سے ہے ۔

أَبِيهِ؛ أَنَّهُ كَانَ ← صالح بن كيسان أن عبد الله بن أبي أمامة بن ثعلبة ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 794

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ 56 - إياس بن ثعلبة أبو أمامة البلوي · حديث 795

791 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أحمد بن عاصم بن عنبسة ا لعباداني ثنا عبد الله بن حمران ثنا عبد الحميد بن جعفر عن عبد الله بن ثعلبة عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك قال سمعت أباك يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y ( إن البذاذة من الإيمان ) يعني التقشف

حضرت عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سادگی ایمان سے ہے ۔

إن البذاذة من الإيمان يعني التقشف ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَاك ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ← أحمد بن عاصم بن عنبسة ا لعباداني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 795

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ 99 - بريدة بن الحصيب الأسلمي يكنى أبا عبد الله · حديث 1156

1155 - حدثنا إبراهيم بن عبد الله بن أيوب المخرمي ثنا سعيد بن محمد الجرمي ثنا أبو تميلة يحيى بن واضح عن رميح بن هلال الطائي ثنا عبد الله بن بريدة عن أبيه Y قال : صلينا الظهر خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما انتفل من صلاته أقبل علينا غضبانا فنادى بصوت أسمع العواتق في أجواف الخدور فقال : ( يا معشر من أسلم ولم يدخل الإيمان في قلبه لا تذموا المسلمين ولا تطلبوا عوراتهم فإنه من يطلب عورة أخيه المسلم هتك الله ستره وأبدا عورته ولو كان في ستر بيته

حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز ظہر پڑھی جب آپ نے سلام پھیرا تو ہماری طرف غصہ کے ساتھ متوجہ ہوئے' آپ نے بلند آواز میں ندا دی' جس کو عورتوں نے گھروں کے اندر سن لیا' آپ نے فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ ! اس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو گا' مسلمانوں کو ذلیل نہ کرو' ان کے عیب تلاش نہ کرو' جو کسی مسلمان کے عیب تلاش کرے گا' اللہ عزوجل اس کے پردہ کو پھاڑ دے گا اور اس کے عیب کو ظاہر کرے گا' اگرچہ وہ گھر کے اندر کےپردے میں چھپا ہوا ہو گا۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← رميح بن هلال الطائي ← أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجِرْمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمَخْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1156

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 286 - الحارث بن الحارث الغامدي · حديث 3374

3373 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن إسحاق التستري قالا ثنا هشام بن عمار ثنا الوليد بن مسلم ثنا عبد الغفار بن إسماعيل بن عبيد الله ثنا الوليد بن عبد الرحمن الجرشي Y ثنا الحارث بن الحارث الغامدي قال : قلت لأبي : ما هذه الجماعة ؟ قال : هؤلاء القوم قد اجتمعوا على صابيء لهم قال : فنزلنا فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم يدعو الناس إلى توحيد الله عز و جل والإيمان به وهم يردون عليه ويؤذونه حتىانتصف النهار وانصدع عنه الناس وأقبلت امرأة قد بدا نحرها تحمل قدحا ومنديلا فتناوله منها وشرب وتوضأ ثم رفع رأسه وقال : يا بنية خمري عليك نحرك ولا تخافي على أبيك : قلنا : من هذه ؟ قالوا : زينب بنته

حضرت حارث بن حارث الغامدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےاپنے والد سے کہا: یہ کونسی جماعت ہے؟ والد صاحب نے کا: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے صحابی کے پاس اکٹھے ہیں ' وہ فرماتے ہیں : ہم اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو اللہ کی توحید اور اللہ پر ایمان لانے کے متعلق دعوت دے رہے تھے' لوگ آپ کی بات کو ٹھکرا دیتے اور آپ کی تکلیف دیتے تھے' دوپہر ہو گئی ' لوگ آپ کے پاس سے چلے گئے۔ ایک عورت آئی' وہ ایک پیالہ اور رومال اُٹھائے ہوئے تھی' آپ نے اس میں سے لیا اور اس سے پیا اور وضو کیا' پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: اے میری بیٹی ! اپنے سینے پر کپڑا ڈال لو اور اپنے والد کے متعلق خوف نہ کرو ۔ میں نے عرض کی : یہ کون ہے؟ صحابہ کرام نے کہا: یہ آپ کی لخت جگر حضرت سیدہ زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں ۔

الحارث بن الحارث الغامدي ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، ← عبد الغفار بن إسماعيل بن عبيد الله ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن اسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3374

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 294 - الحارث بن غزية · حديث 3391

3390 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا منصور بن أبي مزاحم حدثنا يحيى بن حمزة ( ح ) وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا محمد بن إسحاق ثنا سويد بن عبد العزيز كلاهما عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فروة حدثني عبيد الله بن أبي رافع Y عن الحارث بن غزية قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة يقول لا هجرة بعد الفتح إنما هو الإيمان والنية

حضرت حارث بن غزیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : فتح مکہ کے بعد ہجر ت نہیں ہے سوائے ایمان اور نیت کے۔

لا هجرة بعد الفتح إنما هو الإيمان والنية ← رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة ← الحارث بن غزية ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ← سويد بن عبد العزيز كلاهما ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3391

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ أبو سلام الأسود عن الحارث الأشعري · حديث 3424

3423 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا مسلم بن إبراهيم ( ح ) وحدثنا محمد بن يحيى القزاز ثنا موسى بن إسماعيل قالا ثنا أبان بن يزيد حدثني يحيى بن أبي كثير أن زيد بن سلام حدثه عن أبي سلام Y عن أبي مالك الأشعري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الطهور نصف الإيمان والحمد لله يملأ الميزان وسبحان الله والله أكبر يملأ ما بين السماوات والأرض والصلاة نور والصدقة برهان والصبر ضياء والقرآن ججة لك أو عليك وكل إنسان يغدو فمبتاع نفسه فمعتقها أو بائع نفسه فموبقها واللفظ لحديث موسى بن إسماعيل وقال مسلم في حديثه لا إله إلا الله والله أكبر يملأ ما بين السماء والأرض

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :صفائی آدھا ایمان ہے اور الحمد اللہ میزان کو بھر دیتی ہے اور سبحان اللہ اللہ اکبر زمین و آسمان کے درمیان کو بھر دیتی ہے اور نماز نور ہے ،صدقہ دلیل ہے ،صبر روشنی ہے ،قرآن تیرے لیے یا تیرے اوپر دلیل ہے ،ہر انسان صبح کرتا ہے تو جس نے اپنے آپ کو خرید لیا وہ اسے آزاد کرنے والا ہے (مطلب یہ ہے کہ جس نے رضاء الہیٰ پر خوش اور دین پر استقامت کرلی ،وہ کامیاب ہے )او ر جس نے اپنے آپ کو فروخت کردیا ،اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا (یعنی جس نے اپنے دین کو فروخت کرکے دنیا لے لی )اس نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا ۔یہ الفاظ موسیٰ بن اسماعیل کی حدیث کے ہیں ،مسلم نے اپنی حدیث میں صاف کہا ہے کہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ،زمین و آسمان کے درمیان میزان کو بھر دیتی ہے۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← يحيى بن أبي كثير: أن زيد بن سلام ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3424

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ أبو سلام الأسود عن الحارث الأشعري · حديث 3425

3424 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا محمد بن شعيب أخبرني معاوية بن سلام عن أخيه زيد بن سلام عن جده أبي سلام عن عبد الرحمن بن غنم Y عن أبي مالك الأشعري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الطهور شطر الإيمان والحمد يملأ الميزان وسبحان الله والله أكبر يملأ ما بين السماء والأرض والصلاة نور والصدقة برهان والصبر ضياء

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:صفائی آدھا ایمان ہے اور الحمد اللہ میزان کو بھر دیتی ہے اور سبحان اللہ اللہ اکبر زمین و آسمان کے درمیان کو بھر دیتی ہے اور نماز نور ہے ،صدقہ دلیل ہے ،صبر روشنی ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، ← أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3425

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 308 - حرملة بن زيد الأنصاري · حديث 3476

3475 - حدثنا محمد بن الفضل السقطي ثنا الهيثم بن خارجة ثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن أبي ذبحة عن عطاء بن أبي رباح Y عن ابن عمر رضي الله عنه قال : كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم إذ جاءه حرملة بن زيد فجلس بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله الإيمان ههنا وأشار بيده إلى لسانه والنفاق ههنا وأشار بيده إلى صدره ولا يذكر الله إلا قليلا فسكت عنه النبي صلى الله عليه و سلم فردد ذلك عليه وسكت حرملة فأخذ النبي بطرف لسان حرملة فقال : اللهم اجعل له لسانا صادقا وقلبا شاكرا وارزقه حبي وحب من يحبني وصير أمره إلى الخير فقال حرملة : يا رسول الله إن لي إخوانا منافقين كنت فيهم رأسا أفلا أدلك عليهم ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا من جاءنا كما جئتنا استغفرنا له كما استغفرنا لك ومن أصر على ذنبه فالله أولى به ولا تخرق على أحد سترا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھا کہ اچانک حضرت حرملہ بن زید رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کی :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایمان یہاں ،اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا اور نفاق یہاں ،اپنے دل کی طرف اشارہ کیا کہ وہ اللہ کا ذکر بہت کرتے ہیں ،یعنی منافق۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ا ن کا جواب نہیں دیا ،حرملہ نے کئی دفعہ بات کی ،حرملہ بھی خاموش ہو گئے ،حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرملہ کی زبان پکڑی اور یہ دعا کی :اے اللہ ! اس کی زبان سچی کردے اور اس کا دل شکر کرنے والا بنادے اور میری محبت دے اور اس کی محبت جو مجھ سے محبت کرے اور اس کے لیے نیکی والے کام کردے ۔حضرت حرملہ نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بھائی منافق ہیں ،میں ان میں بڑا ہوں ،کیامیں انہیں بتاؤں ؟حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :نہیں ! جو ہمار ے پاس آئے گا تو ہم اس کےلیے بخشش مانگیں گے جس طرح تو ہمارے پاس آیا اور جو اپنے گناہ پر ڈٹا رہا تو اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کا پردہ نہ پھاڑے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← أبي ذبحة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3476

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عثمان بن حنيف · حديث 8329

8312 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن إدريس الرازي ثنا عبد الله بن محمد بن داود بن أبي أمامة بن سهل بن حنيف حدثني سعد بن عمران بن هند بن سهل بن حنيف عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن عثمان بن سهل بن حنيف عن أبيه عن جده عثمان بن سهل بن حنيف يقول Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل أن يقدم من مكة يدعو الناس إلى الإيمان بالله وتصديقا به قولا بلا عمل والقبلة إلى بيت المقدس فلما هاجر إلينا نزلت الفرائض ونسخت المدينة مكة والقول فيها ونسخ البيت الحرام بيت المقدس فصار الإيمان قولا وعملا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بغیر شادی کے رہنے کو رد کر دیا‘ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیتے تو ہم اپنے آپ کو خصی کر لیتے ( یہ عثمان کا قول ہے)۔

جَدِّهِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← سعد بن عمران بن هند بن سهل بن حنيف ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← محمد بن إدريس الرازي ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8329

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عثمان بن مظعون · حديث 8339

8322 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن بكار ثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب قال Y قال ابن عباس : بينا رسول الله صلى الله عليه و سلم بفناء بيته بمكة جالسا إذ مر به عثمان بن مظعون فكشر إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا تجلس ؟ فقال : بلى فجلس رسول الله صلى الله عليه و سلم مستقبله فبينما هو يحدثه إذا شخص رسول الله صلى الله عليه و سلم ببصره إلى السماء فنظر ساعة إلى السماء فأخذ يضع بصره حيث وضعه على يمينيه في الأرض فتحرف رسول الله صلى الله عليه و سلم عن جليسه عثمان إلى حيث وضع بصره فأخذ ينفض برأسه كأنه يستفقه ما يقال له و ابن مظعون ينظر فلما قضى حاجته واستفقه قال له : أشخص رسول الله صلى الله عليه و سلم بصره حتى توارى في السماء فأقبل إلى عثمان بجلسته الأولى فقال : يا محمد فيم كنت أجالسك ؟ ما رأيتك تفعل كفعلك الغداة قال : فطنت لذلك ؟ قال عثمان : نعم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتاني رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنت جالس قال : رسول الله ؟ قال : نعم قال : فما قال لك ؟ قال : { إن الله يأمر بالعدل والإحسان وإيتاء ذي القربى وينهى عن الفحشاء والمنكر والبغي يعظكم لعلكم تذكرون } قال عثمان : فذلك حين استقر الإيمان في قلبي وأحببت محمدا صلى الله عليه و سلم

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد ابوقحافہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فتح مکہ کے دن لائے ‘ یہ بزرگ اور نابینا تھے ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے فرمایا: تم نے بزرگوں کو رہنے دینا تھا ‘ ہم خود ان کے پاس جاتے ۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرا مقصد ثواب حاصل کرنے کا تھا ‘ اللہ کی قسم! مجھے حضرت ابوطالب کے اسلام لانے کی زیادہ خوشی ہوتی میرے والد کے اسلام لانے سے ‘ اس کے ذریعے میرا مقصد آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانا ‘ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَکَّارٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8339

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 8 · حديث 8531

8514 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح عن ربيعة بن يزيد عن أبي إدريس الخولاني عن يزيد بن عميرة Y أن معاذ بن جبل لما حضرته الوفاة قلنا له : أوصنا قال : اجلسوني ثم قال : إن العلم والإيمان مكانهما من التمسهما وجدهما قال ذلك ثلاث مرات واطلبوا العلم عند أربعة عويمر أبي الدرداء و سلمان الفارسي و عبد الله بن مسعود و عبد الله بن سلام

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ احد کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار افراد باقی رہ گئے ‘ ان میں ایک حضرت عبداللہ بن مسعود تھے ۔

يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8531

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ ومن غرائب مسند أبي ذر رحمه الله باب · حديث 1651

1650 - حدثنا حفص بن عمر بن الصباح الرقي ثنا أبو حذيفة موسى بن مسعود ثنا عكرمة بن عمار عن أبي زميل عن مالك بن مرثد عن أبيه قال قال أبو ذر Y قلت : يا رسول الله ماذا ينجي العبد من النار ؟ قال : ( الإيمان بالله ) قلت : يا نبي الله إن مع الإيمان عمل ؟ قال : ( يرضخ مما رزقه الله ) قلت : يا رسول الله أرأيت إن كان فقيرا لا يجد ما يرضخ به ؟ قال : ( يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر ) قلت : يا رسول الله أرأيت إن كان عييا لا يستطيع أن يأمر بالمعروف ولا ينهى عن المنكر ) قال : ( يصنع لأخرق ) قلت : أرأيت إن كان أخرق لا يستطيع أن يصنع شيئا ؟ قال : ( يعين مغلوبا ) قلت : أرأيت إن كان ضعيفا لا يستطيع أن يعين مظلوما ؟ فقال : ( ما تريد أن تترك في صاحبك من خير تمسك الأذى عن الناس ) فقلت : يا رسول الله إذا فعل ذلك دخل الجنة ؟ قال : ( ما من مسلم يفعل خصلة من هؤلاء إلا أخذت بيده حتى تدخله الجنة )

حضرت مالک بن مرتد اپنے والد سےروایت کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بندہ جہنم سے نجات کیسے پا سکتا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :اللہ پر ایمان لانے سے ۔میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایمان کے ساتھ عمل بھی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو اللہ نے دیا ہے اس سے اللہ کی راہ میں دینا ۔میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ بتائیں کہ اگر وہ فقیر ہو اور دینے کےلیے کوئی شی نہ پائے ؟آپ نے فرمایا :نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے ۔میں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے بتائیں کہ اگر وہ کمزور ہو ،نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کی طاقت نہ رکھے؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :کسی کو سامان دے دے ۔میں نے عرض کی :آپ مجھے بتائیں کہ اگر کسی کو کوئی شی دینے کی طاقت نہ رکھے ؟آپ نے فرمایا :مغلوب کی مدد کردے ۔میں نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ بتائیں کہ اگر وہ کمزور ہو کہ مظلوم کی مدد کرنے کی طاقت نہ رکھے ؟آپ نے فرمایا :جو تو چاہتا ہے اپنے ساتھی کو چھوڑنا ،بہتر ہے لوگوں کو تکلیف نہ دے ۔میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر یہ کرےتو جنت میں داخل ہو گا؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جس مسلمان میں ان خوبیوں میں سے ایک پائی جائے گی ،وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو جنت میں داخل کرے گی۔

أبو ذر قلت ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبِي زُمَيْلٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1651

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ خطبة ابن مسعود ومن كلامه · حديث 8561

8544 - حدثنا محمد بن علي الصائغ ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو معاوية ثنا الأعمش عن أبي ظبيان عن علقمة قال قال عبد الله Y الصبر نصف الإيمان واليقين الإيمان

حضرت بلاد بن عصمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ اچانک میں نے ایک جماعت دیکھی ‘ وہ جماعت بھاگ گئی‘ پھر واپس آئے ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بازار میں چلنے سے بچو کیونکہ یہ شیطان کے گزرنے کی جگہ ہے۔

عبد الله الصبر نصف الإيمان واليقين الإيمان ← عَلْقَمَةَ ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8561

chevron_left Previous
1…495051…484
Next chevron_right