Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9659

9660 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان نا أحمد بن علي الخزاز نا محمد بن الجنيد الحجام نا مصعب بن سلام عن حمزة الزيات عن أبي إسحاق عن البراء بن عازب قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم حتى أسمع العواتق في الخدر ينادي بأعلى صوته يا معشر من آمن بلسانه و لم يخلص الإيمان إلى قلبه لا تغتابوا المسلمين و لا تتبعوا عوراتهم فإنه من يتبع عورة أخيه المسلم تتبع الله عورته و من تتبع الله عورته يفضحه في جوف بيته

خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو احمد بن علی خزار نے ان کو محمد بن جنید حجام نے ان کو مصعب بن سلام نے ان کو حمزہ زیات نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو برا ء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہم لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا آپنے بلند آواز کے ساتھ خطاب فرمایا یہاں تک کہ آپ نے اپنی آواز دور پہنچا کر پردہ نشین خواتین تک کو سنوا دیا آپ نےف رمایا کہ اے ان لوگوں کا گروہ جو اپنیزبان کے ساتھ ایمان لائے ہو مگر تا حال ایمان ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہو آپ لوگ مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیبوں کے پیچھے مٹ پڑو بے شک جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیبوں کو تلاش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کےعیبوں پر گرفت کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیبوں پر گرفت کرے گا اس کو اس کے اپنے بیچ گھر کے رسوا کر دے گا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، ← محمد بن الجنيد الحجام ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › And it is the door in covering the owners of the groves · Hadith 9659

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9708

9709 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن إبراهيم الهاشمي نا محمد بن عمرو الجرشي نا عبد الله بن الجراح نا عمران بن خالد الخزاعي عن عمران القصير عن الحسن قال : الإيمان الصبر و السماحة الصبر عن محارم الله و أداء فرائض الله هذا قول الحسن و قد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن ابراہیم ہاشمی نے ان کو محمد بن عمر جرشی نے ان کو عبداللہ بن جرح نے ان کو عمران بن خالد خزاعی نے ان کو عمران فقیر نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں ایمان صبر و سماحتہ وسخاوت کا نام ہے ۔ اللہ کی حرام کر دہ چیزوں سے صبر کرنا یعنی رک جانا اور اللہ کے فرائض کو ادا کرنا یہ قول حسن کا ہے ۔

محارم الله و أداء فرائض الله هذا قول الحسن و قد ← الإيمان الصبر و السماحة الصبر ← الْحَسَنِ، ← عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، ← عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْجُرَشِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9708

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9710

9711 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن محمويه العسكري نا أبو أسامة عبد الله بن محمد الحلبي نا عبد الرحمن بن عبد الله نا يوسف بن محمد بن المنكدر عن أبيه عن جابر : أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل عن الإيمان قال الصبر و السماحة

اور ہمیں خبر دی ابو علی اور ذباری نے ان کو ابو بکر بن محمود عسکری نے ان کو ابو اسامہ عبداللہ بن محمد حلبی نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے ان کو یسف بن منکدر نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت جابر سے کہ نبی کریم ﷺ سے ایمان کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا ایمان صبر اور فیاض کا نام ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← يوسف بن محمد بن المنكدر ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← أَبُو أُسَامَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9710

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9711

9712 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي بمكة نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا يوسف بن كامل نا سويد أبو حاتم نا عبد الله بن عبيد بن عمير الليثي عن أبيه عن جده قال : بينما أنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل فقال : يا رسول الله ما الإيمان ؟ قال : الصبر و السماحة قال : يا رسول الله فأي الإسلام أفضل ؟ قال : من سلم المسلمون من لسانه و يده قال : يا رسول الله فأي الهجرة أفضل ؟ قال : من هجر السوء قال : يا رسول الله فأي الجهاد أفضل ؟ قال : من أهريق دمه و عقر جواده قال يا رسول الله فأي الصدقة أفضل ؟ قال : جهد المقل قال : يا رسول الله فأي الصلاة أفضل ؟ قال : طول القنوت

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشر نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن محمد بن اسحاق فاکہی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو یحییٰ بن ابو مسرہ نے ان کو یسف بن کامل نے ان کو سوید ابو حاتم نے ان کو عبید اللہ بن عبید بن عمیر لیثی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک آدمی آیا آپ کے پاس اور کہنے لگا یا رسول اللہ ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ صبر و سماحتہ اس نے پوچھا یا رسول اللہ اسلام کون سا اسلام ہے؟ فرمایا جس کے ہاتھ سے اور زبان سے لوگ سلامتی میں رہیں اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ہجرت کون سی افضل ہے؟ فرمایا کہ جو شخص برائی کو چھوڑ دے اس نے پوچھا کہ جہاد کون سا افضل ہے ؟ فرمایا قتل ہو کر جس کا خون بہہ جائے اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کٹ جائیں اس نے پوچھا یا رسول اللہ صدقہ کون سا افضل ہے ؟ فرمایا کہ ناداری کے باوجود کوشش کر کے صدقہ کرنا اس نے پوچھا یا رسول اللہ نماز کون سی افضل ہے ؟ فرمایای جس میں لمبی قرات ہو یا لمبی دعا ہو۔

عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل فقال ← بَيْنَمَا ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ← سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، ← يُوسُفُ بْنُ كَامِلٍ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي بمكة ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9711

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9714

9715 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا تمتام و ابن أبي قماش قالا نا مسلم بن إبراهيم نا العلاء بن خالد القرشي نا يزيد الرقاشي عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الإيمان نصفان نصف في الصبر و نصف في الشكر

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو تمتام نے اور ابن ابو قماش نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو علاء بن خالد قرشی نے ان کو یزید رقاشی نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایمان نصف نصف ہے آدھا صبر میں ہے اور آدھا شکر میں ہے ۔

أَنَسٍ، ← يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ← العلاء بن خالد القرشي ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← تمتام و ابن أبي قماش ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9714

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9715

9716 - حدثنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي أنا محمد بن الحسن بن الحسين بن منصور أنا جعفر بن محمد بن سليمان الخلال نا يعقوب بن حميد نا محمد بن خالد المخزومي عن سفيان الثوري عن زبيد عن أبي وائل عن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبر نصف الإيمان و اليقين الإيمان كله تفرد به يعقوب عن المخزومي و المحفوظ عن ابن مسعود من قوله غير مرفوع كما

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی نے ان کو محمد بن حسن بن حسین بن منصور نے ان کو جعفر بن محمد بن سلیمان حلال نے ان کو یعقوب بن حمید نے ان کو محمد بن خالد مخزومی نے ان کو سفیان ثوری نے زید سے اس نے ابو وائل سے اس نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ صبر آدھا ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے ۔ اس روایت کے ساتھ یعقوب متفرد ہے مخزومی سے روایت کرنے میں اور محفوظ روایت ابن مسعود سے ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← جعفر بن محمد بن سليمان الخلال ← محمد بن الحسن بن الحسين بن منصور، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9715

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9716

9717 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا عبد الله بن محمد بن الحسن النصرابادي نا عبد الله بن هاشم نا وكيع عن الأعمش عن أبي ظبيان عن علقمة قال : قال عبد الله : الصبر نصف الإيمان و اليقين الإيمان كله

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن حسن علوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن نصر آبادی نے ان کو عبداللہ بن ہاشم نے ان کو وکیع نے اعمش سے اس نے ابو ضبیان سے اس نے علقمہ سے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا کہ صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے ۔

عبد الله الصبر نصف الإيمان و اليقين الإيمان كله ← عَلْقَمَةَ ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← عبد الله بن محمد بن الحسن النصرابادي ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9716

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9717

9718 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم الديري أنا الديري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الحكم بن أبان عن عكرمة قال : قال علي خمس احفظوهن لو ركبتم الإبل لأنضيتموهن قبل أن تدركوهن : لا يخاف العبد إلا ذنبه و لا يرجو إلا ربه و لا يستحي جاهل أن يسأل و لا يستحي عالم إن لم يعلم أن يقول الله أعلم و الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد إذا قطع الرأس نتن باقي الجسد و لا إيمان لمن لا صبر له و في رواية غيره نزى باقي الجسد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم دیری نے ہمیں خبر دی دیری نے کہ اس کو خبر دی عبدالرزاق نے ان کوخبر دی معمر نے ان کو حکم بن ابان نے ان کو عکرمہ نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی نے فرمایا پانچ صفات ہیں تم لوگ ان کی حفاظت کرنا اگرچہ تم اونٹ پر سوار ہو البتہ تم ان کو پا لینے سے قبل کوئی آدمی تم میں سے نہ گزرے کوئی بندہ نہ ڈرے مگر اپنے گناہ سے اور نہ امید رکھے مگر اپنے رب سے اور جو نہی جانتا وہ پوچھنے سے نہ شرمائے اور جو جانتا ہے وہ اگر کسی بات کو نہ جانتا ہو تو اللہ اعلم اللہ بہتر جانتا ہے کہنے سے عارنہ کرے اور صبر کا مرتبہ ایمان کے اندر ایسے ہے جیسے وجود میں سرکا مقام ہے کہ جب سر کو کاٹ دیا جائے تو باقی جسم سڑ کو بدبودار ہو جاتا ہے جس کا صبر نہیں اس کا کوئی ایمان نہیں ہے اس کے علاوہ دیگر کی روایت میں ہے کہ باقی جسم خراب ہو جاتا ہے ۔

عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الدَّيْرِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّيْرِيُّ ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9717

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 534

534 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ الْقَاضِي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً , الْإِيمَانُ يَمَانٍ , وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ , وَالْفِقْهُ يَمَانٍ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا يَحْيَى تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: وَفَسَّرَ هَذَا الْحَدِيثَ أَهْلُ الْعِلْمِ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَرَادَ بِهِ الْأَنْصَارَ خَاصَّةً , وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَرَادَ قَبَائِلَ الْيَمَنِ عَامَّةً

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے پاس یمن کے رہنے والے آئیں گے وہ بہت نرم دل کے مالک ہیں ۔ ایمان یمانی ہے اور حکمت یمانی ہے اور فقہ بھی یمانی ہے ۔ اس حدیث کو شعبہ سے صرف یحییٰ القطان نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابراہیم بن محمد تمیمی منفرد ہیں ۔ ابوا لقاسم کہتے ہیں : اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر بیان کی ہے ۔ کچھ لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد خاص طور پر انصار ہیں اور بعض نے کہا: بالعموم یمن کے قبائل مراد ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِيُّ الْقَاضِي، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 534

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَلِيُّ · حديث 555

555 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَعْرُوفٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَقِيٍّ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ عَبَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَحْدَهُ بِأَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ فِي كُلِّ عَامٍ، وَلَمْ يُعْطِ الْهَرِمَةَ وَلَا الدَّرِنَةَ وَلَا الْمَرِيضَةَ وَلَكِنْ مِنْ أَوْسَطِ أَمْوَالِكُمْ؛ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَسْأَلْكُمْ خَيْرَهَا وَلَمْ يَأْمُرْكُمْ بَشَّرِهَا، وَزَكَّى نَفْسَهُ " , فَقَالَ رَجُلٌ: وَمَا تَزْكِيَةُ النَّفْسِ؟ فَقَالَ: «أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ» لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ , تَفَرَّدَ بِهِ الزُّبَيْدِي، وَلَا نَعْرِفُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيِّ حَدِيثًا مُسْنَدًا غَيْرَ هَذَا

حضرت عبداللہ بن معاوی الغاضری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین کام ایسے ہیں جو شخص یہ کر لیتا ہے وہ ایمان کا ذائقہ چکھ لیتا ہے ۔ ٭ جو اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک مان کر اس کی عباد کرتا ہے اور ہر سال خوش دلی کے ساتھ اپنے مال کی زکوٰۃ دیتا ہے ۔ ٭ ضعیفوں ، قحط زدوں اور مریضوں کو اپنا اوسط مال دیتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ تمہارے مال میں سے چھا مانگتا ہے اور نہ ہی تمہیں اس سے بہت گھٹیا کا حکم دیتا ہے ۔ ٭ جس نے اپنا تزکیہ نفس کیا۔ ایک آدمی نے پوچھا : کسی آدمی کا تزکیہ نفس کیا ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ یقین رکھے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے ، اللہ اس کے ساتھ ہے ۔ اس حدیث کو ابن معاویہ سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ابن معاویہ کی کوئی بھی مسند حدیث ہماری معلومات کے مطابق اس کے علاوہ نہیں ہے ۔

أن عبد الله بن معاوية الغاضري ← أَنَّ أَبَاهُ ← يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ، ← أَبُو تَقِيٍّ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَعْرُوفٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 555

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 622

622 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ الْقُومَسِيُّ، بِبَغْدَادَ , حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ مَقْرُونَانِ لَا يَفْتَرِقَانِ إِلَّا جَمِيعًا» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الشَّعْبِيِّ إِلَّا مَالِكٌ , وَلَا عَنْ مَالِكٍ إِلَّا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ عُبَيْدَةَ

عبداللہ بن محمد بن عبیدہ القومسی سے مروی حدیث ۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حیا اور ایمان دونوں اکٹھے ہوتے ہیں جاتے ہیں تو اکٹھے ہی جاتے ہیں ، اس حدیث کو شعبی سے صرف مالک بن مغول نے روایت کیا ہے اور مالک سے صرف ابو اسحاق فزری نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو ابو اسحاق سے روایت کرنے میں محمد بن عبیدہ منفرد ہیں ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدَةَ الْقُومَسِيُّ، بِبَغْدَادَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 622

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ · حديث 624

624 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَلَّادٍ الْقَطَّانُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ الْأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ عَقِيلٍ الْجَعْدِيِّ، عَنْ أَبِي [ص:373] إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفْلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: " أَوْثَقُ عُرَى الْإِسْلَامِ: الْوِلَايَةُ فِي اللَّهِ , وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ , وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ " , ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَتَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: «فَإِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ» , ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أَتَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ , إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي عَمَلِهِ , وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى إِسْتِهِ زَحْفًا , وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً نَجَا مِنْهَا ثَلَاثٌ , وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ فِرْقَةٌ أَزَتِ الْمُلُوكَ وَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ , فَأَخَذُوهُمْ فَقَتَلُوهُمْ وَنَشَرُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ , وَفِرْقَةٌ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ طَاقَةٌ بِمُوَازَةِ الْمُلُوكِ وَلَا أَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى دِينِ اللَّهِ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ , فَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ وَتَرَهَّبُوا وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ} [الحديد: 27] الْآيَةَ " قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «فَمَنْ آمَنَ بِي وَاتَّبَعَنِي وَصَدَّقَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا , وَمَنْ لَمْ يَتَّبِعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ إِلَّا عَقِيلٌ تَفَرَّدَ بِهِ الصَّعْقُ

عبداللہ بن احمد بن خلا د القطان البصری سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا ، آپ نے فرمایا اے ابن مسعود ! ایمان کی کون سی رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا اسلام کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے تعلق رکھا جائے ، محبت اللہ کے لیے کی جائے ، بغض اللہ کے لیے رکھا جائے پھر آپ نے فرمایا اے ابن مسعود میں نےعرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضرہوں آپ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کون سا شخص سب سے افضل ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا سب سے بہتر شخص وہ ہے جس کا عمل سب سے افضل ہے جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو پھر آپ نے فرمایا اے ابن مسعود میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا کون سا شخص سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ؟ میں نے کہا اللہ اور اس کار سول بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا سب سے زیادہ علم رکھنے والا وہ شخص ہے جو لوگوں کے اختلاف کے وقت حق کی بات سے سے زیادہ بصیرت رکھنے والا ہو اگرچہ اس کا عمل تھوڑا ہی ہو اگرچہ وہ گھسٹ گھسٹ کر چلتا ہو ، تم سے پہلے لوگ 73 فرقوں میں بٹ گئے تھے ان میں سے تین ایسے تھے جو نجات پانے والے ہیں باقی سب ہلاک ہو گئے ۔1۔ ایسی جماعت جو بادشاہوں کے قریب آئی ان کے ساتھ اپنے دین اور عیسی ابن مریم کے دن پر جہاد کیا لیکن بادشاہوں نے ان کو گرفتار کیا ان کو قتل کیا اور آروں کے ساتھ ان کو چیر ڈالا۔2۔ ایسی جماعت جن کو بادشاہوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ تھی اور نہ ہی ان کے اند یہ ہمت تھی کہ وہ ان کے سامنے کھلم کھلا اللہ تعالیٰ کے دین اور عیسیٰ ابن مریم کے دین کی تبلیغ کر سکیں ، یہ لوگ دوسرے شہروں میں چلے گئے اور الگ تھلگ ہو کر بیٹھ گئے یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ ورھبانیۃ ابتدعوھا ما کتبنا ھا علیھم الاابتغاء رضوان اللہ ۔ " اور راہب بننا تو یہ بات دین میں انہوں نے اپنی طرف سے نکالی ہم نے ان پر مقرر نہ کی تھی ہاں یہ بدعت انہوں نے اللہ کی رضا چاہنے کو پیدا کی پھر اسے نہ نبھانا جیسا اس کے نبھانے کا حق تھا ( ترجمہ کنزالایمان امام احمد رضا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایمان لایا اور میری اتباع کی اور میری تصدیق کی اس نے اس کو نبھایا ہے جیسا اس کے نبھانے کا حق تھا اور جس نے میری اتباع نہ کی وہ لوگ ہلاکت میں پڑنے والے ہیں ۔اس حدیث کو ابو اسحاق سے صرف عقیل جعدی نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو روایت کرنے میں صعق بن حزن منفرد ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← عَقِيلُ الْجَعْدِي ← الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ الْأُبُلِّيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَلَّادٍ الْقَطَّانُ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 624

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ · حديث 705

وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «رَأْسُ الْعَقْلِ بَعْدَ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ التَّحَبُّبُ إِلَى النَّاسِ»

عبدالوہاب بن رواحہ الرامہر مزی سے مروی حدیث ، اسی حدیث کے ہمراہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی ذات پر ایمان لانے کے بعد عقلمندی کی بات یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ محبت کیجائے ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 705

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْعَيْنِ ‹ مَنِ اسْمُهُ عَمْرٌو · حديث 728

728 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، أَنَّ أَبَا الْحُوَيْرِثِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نُعَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجَمِّرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَقَدْ ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ كَانَ لَا شَيْءَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ , وَمَنْ كَانَ لَأَنْ يُحْرَقَ بِالنَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْتَدَّ عَنْ دِينِهِ , وَمَنْ كَانَ يُحِبُّ لِلَّهِ وَيُبْغِضُ لِلَّهِ» لَمْ يَرْوِ نُعَيْمٌ عَنْ أَنَسٍ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا , وَإِنَّمَا سُمَيَّ الْمُجَمِّرَ لِأَنَّهُ كَانَ يُجْمِرُ قَبْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ مِنْ مَوَالِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ إِلَّا مُوسَى تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ

عمروبن ابو طاہر بن السرح المصری ابو عبداللہ سے مروی حدیث ، حضر ت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جس کے اندر یہ پائی جائیں اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ہے ۔ 1۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول سے بڑھ کر کسی سے محبت نہ ہو ۔ 2۔وہ شخص جو اللہ کی رضا کے لیے محبت کرتا ہے اور اللہ کی رضا کے لیے بغض رکھتا ہے ۔ 3۔وہ شخص جو اپنے دین سے پھرنے پر اس بات پر ترجیح دیتا ہے کہ اس کو آگ میں جلا دیا جائے ۔ نعیم المجمر نے انس کے واسطے سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی نہیں روایت کی ان کو نام مجمر اس لیے پڑا ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو دھونی دیا کرتے تھے ( اور دھونی دینے والےکو عربی میں مجمر کہتے ہیں) یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں ۔ اس حدیث کو حویرث سے صرف موسیٰ بن یعقوب نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابن ابی مریم منفرد ہیں ۔

أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ← أَنَّ نُعَيْمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرَ ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، أَنَّ أَبَا الْحُوَيْرِثِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 728

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْفَاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْفَضْلُ · حديث 744

744 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الرَّبِيعِ اللَّاذِقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ شُعَيْبٍ الْجَبَلِيُّ، بِجَبَلَةَ , حَدَّثَنَا سَلَامَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُلْثُومٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الْإِيمَانِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا سَلَمَةُ , وَلَا عَنْ سَلَمَةَ إِلَّا سَلَامَةُ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ

فضل بن ربیع الاذقی سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں نصیحتیں کررہا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو اس لیے کہ حیاء تو ایمان کا حصہ ہے اس لیے کہ جس کے پاس ایمان ہو گا اس کے پاس حیا لازمی ہو گا ) اس حدیث کو اوزاعی سے صرف سلمہ بن کلثوم نے روایت کیا ہے اور سلمہ سے صرف سلامہ نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں عبدالواحد منفرد ہیں ۔

سَلَمَةَ إِلَّا سَلَامَةُ تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ ← الْأَوْزَاعِيِّ إِلَّا سَلَمَةُ وَلَا ← أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← سَلَمَةَ بْنِ كُلْثُومٍ، ← سَلَامَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عبد الواحد بن شعيب الجبلي بجبلة ← الْفَضْلُ بْنُ الرَّبِيعِ اللَّاذِقِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 744

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 929

929 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ نَاصِحٍ السَّرْمَرِيُّ، بِسَرْمَرَى , حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُلَيْمَانَ الْعَصَرِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكَرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُحْمَلُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الصِّرَاطِ فَتَتَقَادَعَ بِهِمْ جَنَبَتَا الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ , فَيُنْجِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ , ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ وَالنَّبِيِّينِ وَالشُّهَدَاءِ فَيَشْفَعُونَ وَيُشَفَّعُونَ , وَيُخْرِجُ اللَّهُ كُلَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ» لَا يُرْوَى عَنْ أَبِي بَكَرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن یحییٰ بن ناصح السرمری سے مروی حدیث ،حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا قیامت کے دن لوگوں کوپل صراط پر چڑھایا جائے گا ، پل صراط کے دونوں کنارے لوگوں کو دوزخ میں ایک دوسرے پر گرا دیں گے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہے گا نجات عطا فرماتے گا پھر فرشتوں کو انبیاء کو اور شہداء کو اجازت ملے گی کہ وہ شفاعت کریں اور وہ شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی اور اللہ ان کی شفاعت کی وجہ سے ہر اس شخص کو دوزخ سے نکال لے گا جس کےاندر ایک ذرے کے برابر بھی ایمان موجود ہو گا ۔ اس حدیث کو ابوبکرہ سے اسی اسناد کےہمراہ روایت کیا گیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں سعید جو کہ حماد بن زید کے بھائی ہیں منفرد ہیں ۔

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 929

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 964

964 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْوَرْدِيُّ بِمِصْرَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّوَاسِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَخْزُنَ مِنْ لِسَانِهِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ إِلَّا دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ تَفَرَّدَ بِهِ زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ

محمد بن حارث بن عبدالحمید الوردی المصری سے مروی حدیث ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کوئی بندہ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو روک کر نہیں رکھے گا۔ اس حدیث کو ہشام بن حسان سے صرف دادؤ بن بلال نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں زھیر بن عباد منفرد ہے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِلَالِ بْنِ حَسَّانَ، ← دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ الرُّوَاسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْوَرْدِيُّ بِمِصْرَ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 964

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُوسَى · حديث 1075

1075 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " الْقُلُوبُ أَرْبَعَةٌ: فَقَلَبٌ أَجْرَدُ فِيهِ مِثْلُ السِّرَاجِ أَزْهَرُ وَذَلِكَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ وَسِرَاجُهُ فِيهِ نُورُهُ , وَقَلَبٌ أَغْلَفُ مَرْبُوطٌ عَلَى غِلَافِهِ فَذَلِكَ قَلْبُ الْكَافِرِ , وَقَلَبٌ مَنْكُوسٌ وَذَلِكَ قَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ أَنْكَرَ , وَقَلَبٌ مُصِحٌّ , وَذَلِكَ قَلْبٌ فِيهِ إِيمَانٌ وَنِفَاقٌ , فَمَثَلُ الْإِيمَانِ فِيهِ كَمَثَلِ الْبَقْلَةِ يَمُدُّهَا مَاءٌ طَيِّبٌ , وَمَثَلُ النِّفَاقِ كَمَثَلِ الْقُرْحَةِ يَمُدُّهَا الْقَيْحُ وَالدَّمُ , فَأَيُّ الْمَدَّتَيْنِ غَلَبَتْ عَلَى صَاحِبَتِهَا غَلَبَتْ عَلَيْهِ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ شَيْبَانَ إِلَّا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ , وَلَا يُرْوَى عَنْ أَبِي سَعِيدٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ

موسیٰ بن عیسیٰ بن المنذرا الحمصی سے مروی حدیث ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا لوگوں کے دل چار قسم کےہوتے ہیں ۔1۔ ایسا دل جس میں کوئی کھوٹ اور ملاوٹ نہیں ۔ ان میں چراغوں کی مانند چمک ہوتی ہے یہ مومن کا دل ہوتا ہے اور اس کے اندر چمکتا ہوا چراغ اس کے ایمان کا نور ہوتا ہے ۔ 2۔ ایسا دل جس کے اوپر غلاف ڈال دیا گیا ہو اور وہ غلاف کے ساتھ باندھا گیا ہو ۔ یہ کافر کا دل ہوتا ہے ۔ 3۔ ایسا دل جس کو الٹا کر دیا گیا ہو یہ منافق کا دل ہے اس نے حق کو پہچانا لیکن پہچاننے کے باوجود انکار کر دیا ۔ مصفحہ دل یہ ایسا دل ہوتا ہے جس کے اندر ایمان بھی ہوتا ہےاور نفاق بھی ہوتا ہے اس کے اندر ایمان کی مثال اس سبزی کی مانند ہوتی ہے کہ اگر اس کو صاف ستھرا پانی لگایا جائے تو یہ پودا بڑھتا رہتا ہے اور نفاق کی مثال اس زخم کی طرح ہوتی ہے کہ جس کے اوپر صاف ستھرا پانی ڈالاجائے تو اس میں پیپ اور خون بڑھتا ہے تو ان نفاق اور ایمان میں سے جو چیز اس پر غالب آجائے وہ چیز اس کے دل پر غالب آجاتی ہے ۔ اس حدیث کو شیبان سے صرف احمد نب خالد وہبی نے روایت کیا ہے اور ابو سعید سے یہ حدیث صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← ليث بن أبي سليم ← شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّحْوِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1075

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُنْتَصِرٌ · حديث 1090

1090 - حَدَّثَنَا مُنْتَصِرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ مُنْتَصِرٍ الْوَاسِطِيُّ ابْنُ أَخِي تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي الشَّيْءَ أَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ , فَقَالَ: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ

منتصر بن نصر الواسطی تمیم بن المنتصر کے بھیتجے سے مروی حدیث ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا میرے دل میں ایسے وسوسے آتے ہیں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کوزبان پر لانے سے بہتر ہے کہ میں جل کر کوئلہ بن جاؤں آپ نے فرمایا یہی تو واضح ایمان ہے ۔ اس حدیث کو سفیان سے صرف اسحاق الازرق نے روایت کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ← مُنْتَصِرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ مُنْتَصِرٍ الْوَاسِطِيُّ ابْنُ أَخِي تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1090

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مَسِيحٌ · حديث 1091

1091 - حَدَّثَنَا مُسَبِّحُ بْنُ حَاتِمٍ الْعُكْلِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ قَالَ: خَطَبَ الْمَأْمُونُ , فَذَكَرَ الْحَيَاءَ فَأَكْثَرَ، ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي بَكَرَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ , وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ , وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ , وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْمَأْمُونِ إِلَّا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ

مسیح بن حاتم العکلی البصری سے مروی حدیث ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حیا ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں ہے اور بے حیائی جفا ہے اور جفا دوزخ میں ہے ۔ اس حدیث کو مامون سے صرف عبدالجبار بن عبداللہ بصری نے روایت کیا ہے ۔

أَبِي بَكَرَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← خَطَبَ الْمَأْمُونُ، فَذَكَرَ الْحَيَاءَ فَأَكْثَرَ، ثُمَّ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ← مُسَبِّحُ بْنُ حَاتِمٍ الْعُكْلِيُّ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1091

chevron_left Previous
1…484950…484
Next chevron_right