شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 608
607 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي بن الحسين بن علي الحافظ ثنا مهران بن هارون بن علي الرازي ثنا سفيان بن عقبة أخو قبيصة عن حمزة الزيات و سفيان الثوري عن زبيد عن مرة عن عبد الله رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال :
إن الله قسم بينكم أخلاقكم كما قسم بينكم أرزاقكم و إن الله يعطي المال من يحب و من لا يحب و لا يعطي الإيمان إلا من يحب فإذا أحب عبدا أعطاه الإيمان فمن ضن بالمال أن ينفقه و هاب الليل أن يكابده و خاف العدو أن يجاهده فليكثر من سبحان الله و الحمد و لا إله إلا الله و الله أكبر فإنهن مقدمات مجنبات و معقبات و هن الباقيات الصالحات
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو علی ھسین بن علی حافظ نے ، ان کو شھران بن ھارون بن علی رازی نے ان کو سفیان بن عقبہ نے (جو کہ قبیصہ کے بھائی تھے ) انہوں نے حمزہ زیات سے اور سفیان ثوری سے ، انہوں نے زبید سے ، اس نے مرہ سے ، اس نے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اس طرح تقسیم کردیئے ہیں ، جیسے تمہارے درمیان تمہارے رزق تقسیم کئے ہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ مال عطا کرتے ہیں اس کو جس کو پسند کرتے ہیں اور اس کو بھی جس کو ناپسند کرتے ہیں ۔ مگر ایمان صرف اسی کو دیتے ہیں جس کو پسند کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جس کو پسند کرتے ہیں اس کو ایمان عطا کرتے ہیں ۔ جو شخص مال کو خرچ کرنے سےبخل کرتا ہے اور رات کو عبادت کر کے شب بیداری سے ڈرتا ہے اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنے سے ڈرتا ہے ، اسے ان کلمات پڑھنے کی کثرت کرنی چاہئے ۔ سبحان اللہ والحمد اللہ والا الہ الا اللہ و اللہ اکبر یہ کلمات آگے سے آنے والے پیچھے آنے والے اور دائیں بائیں آنے والے ہیں (یعنی ہر طرف سے حفاظت کرنے والے ہیں اور یہ ہاقیات الصالحات ہیں ۔
النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← حمزة الزيات و سفيان الثوري ← سفيان بن عقبة أخو قبيصة ← مهران بن هارون بن علي الرازي ← أبو علي بن الحسين بن علي الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 608
شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 632
631 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبا أبو خليفة بن حباب الجمحي بالبصرة ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن جري النهدي عن رجل من بني سليم قال : عدهن رسول الله صلى الله عليه و سلم في يدي أو في يده :
التسبيح نصف الميزان و الحمد لله تملأه و التكبير تملأ ما بين السماء و الأرض و الصوم نصف الصبر و الطهور نصف الإيمان
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو علی حسین بن علی حافظ نے ، ان کو ابو حنیفہ بن حباب جمحی نے بصرہ میں ان کو محمد بن کثیر نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو ابو اسحاق نےجری نھدی سے ان کو ایک آدمی نے بنو سلیم سے کہتے ہیں کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شمار کیا میرے ہاتھ میں یا اپنے ہاتھ میں : التسبیح نصف المیزان ۔ والحمد اللہ تملاء ۔ و التکبیر تملاء مابین السماء والارض والصوم نصف الصبر ، والطھور نصف الایمان ۔ سبحان اللہ کہنا ترازاکو آدھا بھر دیتا ہے ۔ الحمد اللہ کہنا پور بھر دیتا ہے ۔ اللہ اکبر کہنا زمین و آسمان کے درمیان خلاء کو بھر دیتا ہے۔ روزہ رکھنا آدھا صبر ہے اور طہارت نصف ایمان ہے۔
رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جُرَيٍّ النَّهْدِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أبو علي الحسين بن علي الحافظ أنبا أبو خليفة بن حباب الجمحي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 632
شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 742
741 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ثنا نعيم بن حماد ثنا عثمان بن كثير بن دينار عن محمد بن مهاجر أخي عمرو بن مهاجر عن عروة بن رويم اللخمي عن عبد الرحمن بن غنم عن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إن من أفضل الإيمان المرء أن يعلم أن الله معه حيث كان
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے دونوں کہتے ہمیں خبر دی ہے ابو العباس بن یعقوب نے ان کو یزید بن محمد بن عبدالصمد د مشقی نے ا ن کو نعیم بن حماد نے ان کو عثمان بن کثیر بن دینار نے ان کو محمد بن مہاجر بھائی عمرو بن مہاجر نے ان کو عروہ بن رویم لخمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے : ان من افضل ایمان المرء ان یعلم ان اللہ معہ حیث کان ۔ بے شک آدمی کے افضل ایمان میں سے ہے یہ بات وہ یہ جانے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے جو جہاں بھی ہو۔
عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، أَخِي عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ ← عثمان بن كثير بن دينارٍ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← يزيد بن محمد بن عبد الصمد الدمشقي ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 742
شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 762
761 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الرحمن بن محمد بن محبور ثنا زكريا بن يحيى ثنا الحسن بن علي الحلوني ثنا زيد بن حباب ثنا عثمان بن موهب قال : سمعت أنس بن مالك يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لفاطمة :
ما يمنعك أن تسمعي ما أوصيك به أن تقولي إذا أصبحت و أمسيت : يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث أصلح لي شأني كله و لا تكلني إلى نفسي طرفة عين
و قال زيد و كان مسعر يسألني عن هذا الحديث
و قال غيره عن زيد عن عثمان بن عبد الله بن موهب
قال الإمام أحمد البيهقي رحمه الله : يعني و كل هذا الإشفاق منه على ما وضع في قلبه من الإيمان و وفق له من أعمال الإيمان علما منه بأنه إذا سلب التوفيق و وكل إلى نفسه لم يملك لنفسه شيئا فينبغي لكل مسلم أن يكون هذا الخوف من همه و بالله التوفيق
ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو عبدالرحمٰن بن محمد بن مجبور نے ان کو ذکریا بن یحییٰ نے ان کو حسن بن علی حلوائی نے ان کو زید بن حباب نے ان کو عثمان بن وھب نے کہتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا تھا کون سی چیز مانع ہو گی اس سے کہ آپ نے جو کچھ میں آپ کو وصیت کروں ؟ آپ صبح و شام یہ دعا کیاکریں ۔ یاحی یا قیوم بر حمتک اسغیث اصلح لی شانی کلہ ولا تکلنی نفسی طرفتہ عین ۔ زید کہتے ہیں مسعر مجھ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرتے تھے ۔ اور زید کے سوا دیگر نے کہا زید سے انہوں نے عثمان بن عبداللہ بن موھب سے (مروی ہے )۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ مَوْهَبٍ ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ← الحسن بن علي الحلوني ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ← عبد الرحمن بن محمد بن محبور ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 762
شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الخوف من الله تعالى ـ { إنما ذلكم الشيطان يخوف أولياءه فلا تخافوهم و خافون إن كنتم مؤمنين } · حديث 859
858 - قال و نا حميد نا المؤمل ثنا سفيان ثنا محمد بن عجلان حدثني شيخ من أهل الشام قال : قال أبو الدرداء : مالي لا أرى حلاوة الإيمان تظهر عليكم ؟ و الذي نفسي بيده لو أن دب الغابة وجد طعم الإيمان لظهر عليه حلاوته ما خاف عبد على إيمانه إلا منحه و ما أمن عبد على إيمانه إلا سلبه
فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے مؤمل نے ان کو سفیان نے ، ان کو مھمد بن عجلان نے ، ان کو اہل شام میں سے ایک شیخص نے ، شیخ فرماتے ہیں حضرت ابو درداء نے فرمایا تھا : کیا ہو کہ تم لوگوں میں ایمان کی حلاوت کا ظہور نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ۔ اگر جھاڑی کا ریچھ بھی ایمان کا ذائقہ پالے تو ایمان کی حلاوت اس پر بھی ظاہر ہو سکتی ہے ۔ جو بندہ ایمان کے بارے میں ڈرتا رہتا ہے اس کو عطا کیا جاتا ہے اور جو شخص اپنے ایمان کے بارے میں بے خوف ہو جاتا ہے اس سے ایمان چھین لیا جا تا ہے ۔
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers. · Hadith 859
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7701
7701 - أخبرنا أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الزيادي الفقيه من أصل سماعه أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد أباذي نا حامد بن محمود نا إسحاق بن سليمان الرازي قال : سمعت مالك بن أنس عن الزهري عن سالم بن عبد الله عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه سمع رجلا يعظ أخاه في الحياء فقال : دعه فإن الحياء من الإيمان رواه البخاري عن عبد الله بن يوسف عن مالك و أخرجه مسلم من حديث ابن عيينة و معمر عن الزهري
ہمیں خبر دی ابوطاہر محمد بن محمد بن محمش زیادی فقیہ نے اپنے اصل سماع سے ان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے ان کو حامد بن محمود نے ان کو اسحاق بن سلیمان رازی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مالک بن انس سے اس نے زہری سے اس نے سالم بن عبداللہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے نبی کریم سے کہ اس نے سنا اس آدمی سے جو اپنے بھائی کو حیاء کرنے کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فر مایا اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو، بے شک حیا ایمان میں سے ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے عبداللہ بن یوسف سے اس نے مالک سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث ابن عیینہ سے اور معمر نےزہری سے۔
الزُّهْرِيِّ، ← مالك و أخرجه مسلم من حديث ابن عيينة و معمر ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← دعه فإن الحياء من الإيمان رواه البخاري ← رجلا يعظ أخاه في الحياء ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أبو طاهر محمد بن محمد بن محمش الزيادي الفقيه من أصل سماعه
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7701
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7702
7702 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا عثمان بن سعيد نا أحمد بن يونس نا عبد العزيز بن أبي سلمة نا ابن شهاب عن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم على رجل و هو يعاتب أخاه في الحياء يقول : إنك تستحي حتى كأنه قد أضر بك قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
دعه فإن الحياء من الإيمان
رواه البخاري عن أحمد بن يونس
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابونصر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو عبد العزیز بن ابو سلمہ نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سالم بن عبداللہ بن عمر نے ان کو ان کے والد نے وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے وہ اپنے بھائی کو حیاء کرنے پر ڈانٹ رہاتھا۔ اور یہ کہہ رہاتھا کہ ایسے شرم وحیاء کرتے ہو جیسے کہ میں تجھے ماروں گا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا چھوڑ یئے اس کو بیشک حیا کرنا ( شرم کرنا ) ایمان میں سے ہے۔ ان کو بخاری نے روایت کیا ہے احمد بن یونس سے ۔
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7702
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7706
7706 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب نا يزيد بن هارون أنا محمد بن مطرف عن حسان بن عطية عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
الحياء و العي شعبتان من الإيمان و البذاء و البيان شعبتان من النفاق
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو محمد بن مطرف نے ان کو حسان بن عطیہ نے انہوں نے ابوامامہ سے (وہ کہتے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیاء اور کلام کرنے میں عاجزی و درماندگی ایمان کے دوشعبے ہیں ۔ بیہودہ بکواس کرنا اور بے باکی سے بولنا نفاق کے دو شعبے ہیں ۔
النبي صلى الله عليه و سلم ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7706
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7707
7707 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسين القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عصام بن عبد المجيد الأصبهاني نا إسماعيل بن عبد الملك بن أبي شيبة الخزاز أبو إسحاق نا محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و البذاء من الجفا و الجفا في النار
و كذلك رواه معاذ بن معاذ عن محمد بن عمرو بن علقمة و غيره
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسین قاضی نے دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عصام بن عبدالمجید اصفہانی نے ان کو اسماعیل بن عبدالملک نے بن ابو شیبہ نے خزاز ان کو ابواسحٰق نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیاءایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔ اور بیہودہ بکواس کرنا ظلم ہے اور ظلم جہنم میں لے جائے گا۔ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو معاذ بن بن معاذ نے ان کومحمد بن عمرو بن علقمہ وغیرہ نے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← إسماعيل بن عبد الملك بن أبي شيبة الخزاز أبو إسحاق ← أحمد بن عصام بن عبد المجيد الأصبهاني ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسين القاضي
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7707
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7708
7708 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا أحمد بن أبي غالب البغدادي و سعيد بن سليمان الواسطي عن هشيم
و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه نا صالح بن محمد الحافظ نا سعيد بن سليمان الواسطي نا هشيم عن منصور بن زاذان عن الحسن عن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و البذاء من الجفاء و الجفاء في النار
ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو احمد بن ابو غالب بغدادی نے اور سعید بن سلیمان واسطی نے ان کو ھشیم نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابونصر فقیہ نے ان کو صالح بن محمد حافظ نے ان کو سعید بن سلیمان واسطی نے ان کو ھشیم نے ان کو منصور بن زاذان نے ان کو حسن نے ان کو ابوبکرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔ اور بیہودہ گوئی کرنا ظلم ہے اور ظلم جہنم میں جانے کا ذریعہ ہے۔
أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← هشيم و ← أحمد بن أبي غالب البغدادي و سعيد بن سليمان الواسطي ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7708
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7709
7709 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نطيف الفرا بمكة نا أبو الحسين أحمد بن محمود السبيعي البغدادي املاء بمصر نا موسى بن هارون نا عبد الله بن عون نا هشيم أنا منصور عن الحسن عن أبي بكرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة
7709 - قال : و نا موسى بن هارون نا وهب بن بقية أنا هشيم عن منصور عن الحسن عن عمران بن حصين : عن النبي صلى الله عليه و سلم في مثله قال : و سمعت موسى بن هارون يقول : رواه هشيم بواسط فقال : عن عمران بن حصين و رواه ببغداد عن أبي بكرة
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نطیف فراء نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوالحسین احمد بن محمود سبیعی بغدادی نے بطور املاء کے مصر میں ان کو موسیٰ بن ہارون نے ان کو عبد اللہ بن عون نے ان کو ھشیم نے ان کو منصور نے ان کو حسن نے ان کو ابوبکر نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ءایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔
کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی موسیٰ بن ہارون نے ان کو وہب این بقیہ نے ان کو ھشیم نے ان کو منصور نے ان کو حسن نے ان کوعمران بن حسین نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کیا ہے اور کہتے ہیں کہ میں نے سنا موسیٰ بن ہارون سے وہ کہتے ہیں کہ روایت کیا ہے اس کو ھشیم نے واسط میں اس نے کہا مروی ہے عمران بن حصین سے اور روایت کیا ہے اس کو بغداد میں ابوبکر ہ سے ۔
أَبِي بَكْرَةَ ← عمران بن حصين و رواه ببغداد ← رواه هشيم بواسط فقال ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← و، ← النبي صلى الله عليه و سلم في مثله ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← و، ← الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أبو الحسين أحمد بن محمود السبيعي البغدادي املاء بمصر ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نطيف الفرا بمكة
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7709
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7710
7710 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا مسبح بن حاتم العلكي نا عبد الجبار بن عبد الله قال : خطب المأمون و ذكر الحياء فمدحه و أكثر في مدحه ثم قال :
نا هشيم عن منصور عن الحسن عن عمران بن حصين و أبي بكرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و البذاء من الجفاء و الجفاء في النار
ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو مسبح بن حاتم عکلی نے ان کو عبدالجبار بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ مامون رشید نے خطبہ دیا اس میں اس نے حیاء کا ذکر کیا اور اس کی بہت زیادہ تعریف کی اس کے بعد فرمایا۔ ہمیں خبر دی ھشیم نے منصور سے اس نے حسن سے اس نے عمران بن حصین سے اور ابوبکرہ سے دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ایمان میں سے اور ایمان جنت میں لے جائے گا اور بیہودہ بکواس کرناظلم میں سے ہے اور ظلم جہنم میں لے جائے گا ۔
عمران بن حصين و أبي بكرة ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← الحياء فمدحه و أكثر في مدحه ثم ← خطب المأمون و ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مسبح بن حاتم العلكي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7710
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7711
7711 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن أبي السري ح
و أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا الحسن بن سفيان نا محمد بن المتوكل نا أبو بشر بكر بن بشر نا عبد الحميد بن سوار حدثني إياس بن معاوية بن قرة قال : كنا عند عمر بن عبد العزيز فذكر عنده الحياء فقال : الحياء من الإيمان فقال عمر : بل هو الدين كله فقال : إياس حدثني أبي عن جدي قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فذكر عنده الحياء فقالوا : يا رسول الله الحياء من الدين ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم :
بل هو الدين كله
ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إن الحياء و العفاف و العي عن اللسان لا عن القلب و العمل من الإيمان و إنهن يزدن في الآخرة و ينقصن من الدنيا و ما يزدن في الآخرة أكثر مما ينقصن من الدنيا و إن الشح و الفحش و البذاء من النفاق و إنهن يزدن في الدنيا و ينقصن من الآخرة و ما ينقصن من الدنيا أكثر مما يزدن في الدنيا
قال : أياس أمرني عمر بن عبد العزيز فأمليتها عليه فكتبها بخطه ثم صلى بنا الظهر و العصر و هي في كمه ما يضعها لفظ حديث الحسن و في رواية يعقوب حدثني بكير بن بشر السلمي و قال : عن أبيه عن جده قرة المزني ثم قال في آخره قال إياس : فحدثت به عمر بن عبد العزيز فأمرني فأمليتها عليه ثم كتبه بخطه ثم صلى بنا الظهر و العصر و إنها لفي كفه ما يضعها
ہمیں خبر دی ہے ابواالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن متوکل نے ان کو ابو بشر بکر بن بشر نے ان کو عبدالحمید بن سوار نے ان کو حدیث بیان کی ہے ایاس بن معاویہ بن قرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھے تھے ان کے سامنے حیاء کا ذکر آ گیا۔تو انہوں نے فرمایا کہ حیا ایمان میں سے ہے۔ پھر عمر نے کہا بلکہ وہ کل کا کل دین ہے ۔ کہا ایاس نے مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد سے انہوں نے میرے دادا سے اس نے کہا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ان کے سامنے حیاء کا ذکر آ گیا تو لوگوں نے کہا یارسول اللہ! کیا حیا بھی دین میں سے ہے (دین کا حصہ ہے؟ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ وہ پورا کا پورا دین ہے ۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حیاء، اور پاک دامنی ۔ اور کم گوئی کرنا زبان سے نہ کہ دل سے اور عمل کرنا یہ باتیں ایمان میں سے ہیں۔ بے شک یہ چیزیں آخرت میں اضافہ کرتی ہیں اور دنیا میں کمی کرتی ہیں اور آخرت کے بارے میں جو اضافہ کرتی ہیں وہ اس کمی سے بہت زیادہ ہے جو وہ دنیامیں کرتی ہیں ۔ بے شک بخل ( تیزی نفس ) بے حیائی (برے کام کرنا ) بیہودہ گوئی ( گالم گلوچ و بری باتیں کرنا ) منافقت میں سے ہیں یہ چیزیں دنیا میں اضافہ کرتی ہیں ۔اور آخرت میں کمی کرتی ہیں ۔اور وہ دنیا میں جو کمی کرتی ہیں وہ بہت زیادہ ہے اس سے جودنیا میں اضافہ کرتی ہیں ۔ ایاس نے کہا۔ مجھے عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا تو میں نے یہ حدیث ان کو لکھوائی انہوں نے اس کو اپنے قلم سے خود لکھا اس کے بعد انہوں نے ہمیں ظہر وعصر کی نماز پڑھائی اور وہ حدیث لکھی ہوئی تھی ان کی آستین میں یا جیب میں رکھی ہوئی تھی ۔ انہوں نے اس کو رکھا نہیں تھا۔ یہ الفاظ حسن کی حدیث کے ہیں ۔ اور یعقوب کی ایک روایت میں ہے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے بکبیر بن بشر سلمی نے اور وہ کہتے ہیں انہوں نے روایت کی ہے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا قر ہ مزنی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کے آخر میں کہا کہ ایاس نے کہا ہے کہ میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی انہوں نے کہا کہ یہ مجھ کو لکھواؤ میں نے ان کو لکھوائی اس کے بعد انہوں نے اس کو اپنے قلم سے خود لکھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی پھر عصر کی پڑھائی اور و ہ تحریر ان کی آستین میں یا ہتھیلی میں تھی انہوں نے ابھی تک اس کو نیچے نہیں رکھا تھا۔
عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، ← كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّي، ← أَبِي ← إِيَاسٍ ← عُمَرُ: «بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ»، ← الحياء من الإيمان ← عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، ← كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، ← عبد الحميد بن سوار ← أبو بشر بكر بن بشر ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7711
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7712
7712 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا حامد بن محمود نا إسحاق بن سليمان الرازي نا مالك ح و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن سلمة بن صفوان عن يزيد بن طلحة بن ركانة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
لكل دين خلق و خلق الإسلام الحياء
و في رواية إسحاق و إن خلق الإيمان الحياء هذا مرسل
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو حامد بن محمود نے ان کو اسحٰق بن سلیمان رازی نے ان کو مالک نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک پر مسلمہ بن صفوان سے اس نے یزید بن طلحہ بن رکانہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر دین کا ایک خلق یعنی عادت وفطرت ہوتی ہے اسلام کی فطرت حیاء ہے ۔اور اسحاق کی ایک روایت میں ہے کہ بے شک ایمان کی فطرت حیا ء ہے۔ یہ روایت مرسل ہے۔
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7712
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7722
7722 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي نا أبو حاتم الرازي نا الشافعي هو إبراهيم بن محمد نا محمد بن عبد الرحمن التيمي أبو غرارة ح
و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا أبو عمران موسى بن هارون نا إبراهيم بن محمد بن عياش الشافعي نا أبو غرارة أخبرني أبي عن القاسم عن عائشة قالت : قال النبي صلى الله عليه و سلم :
الرفق يمن و الخرق شؤم و إذا أراد الله بأهل بيت خيرا أدخل عليهم الرفق فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه و إن الخرق لم يكن في شيء قط إلا شأنه الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و لو كان الحياء رجلا لكان رجلا صالحا و إن الفحش من الفجور و إن الفجور في النار و لو كان الفحش رجلا لكان رجلا سوءا و إن الله لم يخلقني فحاشا
لفظ حديث أبي حاتم أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم بن عباد أنا عبد الرزاق
ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کوحسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو شافعی نے جو کہ ابراہیم بن محمد میں نے ان کومحمد بن عبدالرحمن ٰتیمی نے ان کو ابوغرارہ نے ’’ ح ‘‘ ۔ اور زمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو ابوعمران موسی ٰبن ہارون نے ان کو ابراہیم بن محمد بن عیاش شافعی نے ان کو ابوغرارہ نے ان کو خبر دی ان کے والد نے ان کو قاسم نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ شفقت و مہربانی کرنا برکت ہے، اور جھوٹ بولنا بدشگونی ونحوست ہے ۔ جب اللہ تعالی ٰ کسی گھرانے والوں پر بھلائی چاہتے ہیں تو ان میں شفقت اور مہر بانی داخل کر دیتے ہیں جس چیز میں سچ اور شفقت داخل ہوتا ہے اس کو خوبصورت بنا دیتے ہیں ۔ اور جھوٹ جس چیز میں داخل ہوتے ہیں اس کو عیب دار کر دیتا ہے ۔ حیاء ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔ اگر حیاء انسان ہوتا تو بڑا نیک صالح مرد ہوتا اور گالی گلوچ کرنا گناہوں میں سے ہے اور گناہ جہنم میں لے جائیں گے فحش اور برائی اگر آدمی ( کی شکل میں ) ہوتا تو انتہائی برا ہوتا۔ بے شک اللہ تعالی ٰ ٰ نے مجھے گالیاں دینے والا نہیں بنایا۔ یہ الفاظ ابو حاتم کی روایت کے ہیں ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی صفانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحاق بن ابراہیم بن عباد نے ان کو عبدالرزاق نے ۔
عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← أَبِي ← أبو غرارة ← إبراهيم بن محمد بن عياش الشافعي ← أبو عمران موسى بن هارون ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ أَبُو غِرَارَةَ، ← الشافعي هو إبراهيم بن محمد ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7722
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7725
7725 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا : نا أبو العباس الأصم نا أبو عتبة نا بقية نا سعيد بن بشير عن قتادة عن مورق العجلي عن ابن عباس قال : الحياء و الإيمان في طلق فإذا انتزع أحدهما من العبد اتبعه الآخر
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے ان دونوں کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو قتادہ نے ان کو مورق عجلی نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ حیاء اور ایمان ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں جب کسی بندے سے دونوں میں سے کوئی ایک چھن جاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے پیچھے چلا جاتا ہے۔
الحياء و الإيمان في طلق فإذا انتزع أحدهما من العبد اتبعه الآخر ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7725
شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7726
7726 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي قالا : أنا أبو القاسم علي بن المؤمل نا محمد بن يونس الكديمي أنا المعلي بن المفضل نا ابن المبارك عن الحسن بن مسلم بن بشير بن محل عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إن الحياء و الإيمان في قرن فإذا سلب أحدهما تبعه الآخر
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو قاسم علی بن مؤمل نے ان کو محمد بن یونس کدیمی نے ان کو معلی ٰبن مفضل نے ان کو ابن مبارک نے ان کو حسن بن مسلم بن بشیر بن محل نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک حیاء اور ایمان ایک کڑے میں جڑے ہیں جب ایک چھین لیا جاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے چلا جاتا ہے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الحسن بن مسلم بن بشير بن محل ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← المعلي بن المفضل ← محمد بن يونس الكديمي، ← أبو القاسم علي بن المومل ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7726
شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك تتبع عورات المسلمين و في قبول عذرهم سوى ما تقدم في الأبواب قبله · حديث 11199
11199 - و بإسناده قال حمدون القصار : إقبلوا إخوانكم بالإيمان و ردوهم بالكفر فإن الله عز و جل أوقع ما بين هذين في مشيئته فقال : { إن الله لا يغفر أن يشرك به و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء }
اور اپنی اسناد کے ساتھ انہوں نے کہا ہے ۔ حمدون قصار نے کہا کہ اپنے بھائیوں کے ایمان کو قبول کرو اور ان کے کفر کو رد کر دو بے شک اللہ تعالی ٰنے واقع کر دیا ہے اس کو جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ اپنی مشیت میں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذالك لمن يشاء۔ بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے ماسوا گناہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔
Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter on letting Muslims follow the shame of Muslims and accepting their excuses except for what was previously mentioned in the chapters before it · Hadith 11199
شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11239
11239 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه الهروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا خديج بن معاوية عن أبي إسحاق قال : سمعت صلة بن زفر يقول : ثنا أبو اليقظان عمار بن ياسر قال : ثلاث من جمعهن جمع الإيمان الإنفاق من الإقتار ينفق و أن يعلم أن الله عز و جل سيخلف لكم و بإنصاف الناس من نفسك لا تلجىء أحدا إلى سلطان ليذهب بحقه و بذل السلام للعالم
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالفضل بن حمیرویہ ھروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو خدیج بن معاویہ نے ان کو ابو اسحاق نے اس نے سنا صلہ بن زفر سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ابوالیقظان عمار بن یاسر نے وہ کہتے ہیں کہ تین کام ہیں جس نے وہ جمع کر لئے اس نے ایمان جمع کر لیا۔ ناداری اور غربت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ اور یہ جان کہ اللہ تعالی ٰتمہیں اس کے خرچ کرنے کے پیچھے اور دے گا۔ اپنے نفس سے لوگوں کو انصاف دلوانا اس طرح کہ کسی کو مجبور نہ کر دے تو کہ اسے اپنے بادشاہ یا حکمران کے پاس لے جائے تاکہ وہ اس سے حق وصول کرے اور سلام کو عام کرنا سارے عالم کے لئے ۔
أبو اليقظان عمار بن ياسر ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11239
شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11269
11269 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا محمد بن أيوب الرازي أنا محمد بن كثير أنا سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإيمان بضع و ستون أو بضع و سبعون شعبة أفضلها لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان
أخرجه مسلم في الصحيح كما ذكرناه في أول الكتاب و أخرجه البخاري من وجه آخر عن عبد الله بن دينار
11269ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو عبد اللہ بن دینار نے ان کو ابو صالح نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ الايمان بضع وستون أو بضع وسبعون شبعة افضلها لا اله الا الله وادنا ها اماطة الأذى عن الطريق والحياء شعبة من الأيمان۔ کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں یا فرمایا تھا کہ ستر سے کچھ او پر شاخیں ہیں ایمان کی افضل ترین شاخ لالہ الا اللہ ( توحید باری تعالی ٰہے ) اور سب سے کم رتبے والی شاخ راستے سے ایذاء پہنچانے والی چیز کو ہٹا دینا ہے۔ اور حیا بھی ایمان کا شعبہ ہے ایمان کی شاخ ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں جیسے ہم نے اس کو ذکر کیا ہے اسی کتاب کے آغاز میں اور بخاری نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے عبد اللہ بن دینار سے۔
Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11269