شعب الإيمان · الرابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصلاة على من مات من أهل القبلة · حديث 9268
9269 - هذا إن صح لم يخالف قول أبي بكر الصديق رضي الله عنه في الكفن إنما هو للمهل يعني الصديد لأن ذلك كذلك في رؤيتنا و يكون كما شاء الله في علم الله كما قال في الشهداء : { بل أحياء عند ربهم يرزقون } و هو ذا يراهم يتشحطون في الدماء ثم يفتنون و إنما يكونون كذلك في رؤيتنا و يكونون في الغيب كما أخبر الله عنهم و لو كانوا في رؤيتنا كما أخبر الله عنهم : لارتفع الإيمان بالغيب
اگر روایت صحیح ہو تو صدیق اکبر کے قول کے مخالف نہیں ہے کفن کے بارے میں کہ کفن تو مہل یعنی پیپ میں خراب ہونے کے لئے ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہمارے مشاہد کے اعتبار سے کفن کے ساتھ یہی کچھ ہوتا ہے ۔ اور اللہ کے علم میں ایسے ہوتا ہو گا جیسے اللہ چاہتا ہے جیسے اللہ کے علم ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے شہداء کے بارے میں فرہایا ہے ۔ بلکہ وہ زندہ اپنے رب کے پاس سے رزق دئیے جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ مشاہدے کے اعتبار سے خون میں لت پت ہوتے ہیں اس کے بعد آزمائے جاتے ہیں مگر واضح ہو کہ یہ ہمارے مشاہدے کے اعتبار سے ہے مگر غیب میں ویسے ہوتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ان کے بارے میں خبر دی ہے ۔ اور اگر ہمارے مشاہدے میں بھی وہی کیفیت ہوتی ہے جیسے اللہ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے تو ایمان بالغیب اٹھ جاتا ہے۔
Shuab ul Iman · Sixty-fourth of the people of faith › And it is the door to prayer for the people of the qiblah who died · Hadith 9268
