شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10624
10624 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان الدارمي ثنا نعيم بن حماد ثنا سليمان بن الحكم : فذكر في حديث طويل في تفسير الإيمان
ہمیں خبردی ابوبکر اشنانی نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کوعثمان دارمی نے ان کو نعیم بن عمادنے ان کوسلیمان بن حکم نے اس نےطویل حدیث میں ذکر کیا ہے ایمان کی تفسیر میں ۔
سليمان بن الحكم فذكر في حديث طويل في تفسير الإيمان ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو بكر الأشناني
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10624
شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ فيما بلغنا عن الصحابة رضي الله عنهم في معنى ما تقدم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 10683
10683 - قال : و أنا أبو سعيد نا جعفر بن محمد نا أبو مسهر نا سعيد بن عبد العزيز قال : قال أبو واقد ما وجدنا شيئا أعود على الأخلاق الإيمان من الزهادة
وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوسعید نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ابو مسہر نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں کہا ابو واقد نے ایمان کے اخلاق پر زاہد ہونے سے زیادہ اثر انداز ہونے والی ہم نے کوئی چیز نہیں پائی۔
أبو واقد ما وجدنا شيئا أعود على الأخلاق الإيمان من الزهادة ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو سَعِيدٍ ← و،
Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - As we reported on the Companions, may God be pleased with them, in the meaning of the above on the authority of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace · Hadith 10683
شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10797
10797 - أخبرنا علي بن محمد بن عبد الله بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن زيد بن أسلم قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : إن الغيرة من الإيمان و المذاء من النفاق و المذاء الديوث
هذا جاء مرسلا
ہمیں خبر دی علی بن محمد بن عبد اللہ بن بشران نے۔ ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زید بن اسلم نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک غیرت ایمان کا حصہ ہے اور بے غیرتی منافقت کا حصہ ہے اور بے غیرت دیوث (دلہ ) ہوتا ہے۔‘‘یہ روایت اسی طرح مرسل آئی کہ تابعی نے بیچ سے صحابی کا واسطہ چھوڑ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت فرمادی ہے۔
زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،
Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10797
شعب الإيمان · الثاني و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الغيرة و المذاء · حديث 10798
10798 - و قد رويناه عن أبي مرحوم عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الغيرة من الإيمان
قال الحليمي رحمه الله : المذاء أن يجمع الرجال و النساء ثم يخليهم يماذي بعضهم بعضا و أخذ من المذي و قيل : هو إرسال الرجال مع النساء من قولهم مذيت فرس إذا أرسلتها ترعى قال : و قال الله عز و جل :
{ و قل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن و يحفظن فروجهن و لا يبدين زينتهن إلا ما ظهر منها } الآية و قال : { يا أيها الذين آمنوا قوا أنفسكم و أهليكم نارا } فدخل في جملة ذلك أن يحمي الرجل امرأته و بنته مخالطة الرجال و محادثتهم و الخلوة بهم
اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے اپنے والد مرحوم سے، اس نے زید بن اسلم سے اس نے عطا ، بن یسار سے اس نے ابوسعید خدری سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہ: الغيرة من الايما غیرت ایمان میں سے ہے۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ’’ مذاء‘‘ یہ ہے کہ مردوں اور عورتوں کا باہم اختلاط ہو۔ یعنی غیر مرد اور غیر عورتیں ( غیر محرم مرد وعورتیں باہم جمع ہوں ) پھر ان کو تخلیہ اور علیحدگی دے دی جائے کہ ان کا بعض بعض کے ساتھ دل لگیاں کرے۔ (یا اظہار انس و محبت کرے یا بوس و کنار کرے جیسے اس دور میں مغربی اور یہودی تہذ یب کے خوگر لوگوں میں رواج ہے)۔ (واضح رہے کہ مذی کو منافقت فرمایا گیا ہے ) اور مذا، (مذی کرانے والا ) کو دیوث اور بے غیرت بتایا گیا ہے۔ دراصل یہ لفظ المندی کے محاورے سے ماخوذ ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ المذى هو ارسال الرجال مع النساء کہ مذی کہتے ہیں مردوں کو عورتوں کے ساتھ چھوڑنے کو اور یہ لفظ مذی اس عربی محاورے سے لیا گیا ہے کہ ایک عرب کہتا ہے: مذيت الفرس کہ میں نے گھوڑے کو آزاد چھوڑ دیا ہے اور اذا ارسلتها ترغی۔ جب اس کو چراگاہ میں اس طرح چھوڑ دیں کہ وہ آزادی کے ساتھ گھوم پھر کر خوب چر سکے ۔ ( گویا کہ مردوں عورتوں) کو بھی ایسے آزاد چھوڑ دینا کہ ایک دوسرے کے ساتھ وہ آزاد ہوں۔ ایک دوسرے کے وجود اور جسم سے قولی طور پر ہو یا فعلی طور پر لطف اندوز ہوں۔ یہ انداز اسلام میں اور شریعت محمدی میں ناجائز اور حرام ہے۔ اور یہی اس دور میں آزادی، آزاد اقوام، آزاد خیالی، روشن خیالی، وسعت نظری جیسے پر فریب الفاظ سے تعبیر کی جاتی ہے۔ دراصل یہ یہودیت زدہ ذہن کی اختراع ہے۔ العیاذ باللہ العظیم حالانکہ ارشاد باری تعالی ہے: وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الا ماظهر منها الخ (سورة نور، پاره ۱۸) (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ فرمادیجئے اہل ایمان عورتوں سے کہ وہ اپنی نظریں (شرم و حیا کے ساتھ ) نیچی رکھیں اور اپنی عزتوں (شرمگاہوں) کی حفاظت کیا کریں اور اپنے حسن و خوبصورتی کو ظاہر نہ کیا کریں۔ سوائے ان اعضاء کے جو ان میں ( قدرتی طور پر) ظاہر ہیں ۔ ( مثلاً چہرہ، ہاتھ ، پیر )۔ پوری لمبی آیت پڑھنی چاہئے جو اس کی تفصیل ہے۔ نیز ارشاد باری تعالی ٰہے: يا ايها الذين أمنوا قوا انفسكم واهليكم ناراً الخ (سورۃ تحریم ، پاره ۲۸) اے اہل ایمان ، اپنے آپ کو بچاؤ اور اپنے گھر والوں کو جہنم سے۔ اس مجموعے میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ مرد اپنی بیوی کی حفاظت کرے اور اپنی بیٹی کی بھی غیر مردوں کے ساتھ میل جول سے اور اختلاط سے اور ان کے ساتھ بے تکلف ہو کر باتیں کرنے سے اور ان کے ساتھ خلوت اور علیحدگی میں رہنے سے۔
الحليمي المذاء ← الغيرة من الإيمان ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← أَبِي مَرْحُومٍ ← و قد رويناه
Shuab ul Iman · The seventy-second of the people of faith › And it is a door to jealousy and abuse · Hadith 10798
شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10828
10828 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن محمد بن موسى نا محمد بن أيوب أنا يوسف بن موسى نا جرير عن سهيل
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا محمد بن أبي بكر نا حميد بن الأسود نا سهيل بن أبي صالح عن صفوان بن أبي يزيد عن القعقاع بن الجلاج عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يجتمع غبار في سبيل الله و دخان نار جهنم في جوف عبد و لا يجتمع الشح و الإيمان في قلب عبد
و في رواية أبي عبد الله أبدا و لا يجتمع شح و إيمان في قلب عبد أبدا و قال : عن ابن الجلاج و كذلك رواه ابن الهاد و وهيب عن سهيل و اختلف فيه على محمد بن عمرو و سهيل عن صفوان بن سليم عن القعقاع بن الجلاج
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ بن محمد بن موسیٰ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو یوسف بن موسیٰ نے ان کو جریر نے سہیل سے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو محمد بن ابوبکر نے ان کو حمید بن اسود نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو صفوان بن یزید نے ان کو قعقاع بن جلاج نے ان کو ابوہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا۔ دو چیزیں جمع نہیں ہو سکتیں ۔اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک بندے کے پیٹ میں اور اس طرح دو چیزیں ایک بندے کے دل میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ ایمان اور بخل ۔ اور ابو عبد اللہ کی ایک روایت میں ہے کہ کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے کسی بندے کے دل میں ہمیشہ کے لئے بخیلی اور ایمان اور فرمایا کہ مروی ہے ابن الجلاج سے اور اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابن الھاد نے اور وہیب نے سہیل سے اور اختلاف کیا ہے اس میں علی محمد بن عمرو نے اور سہیل نے صفوان بن سلیم بن یزید نے ابو العلا بن الجلاج سے۔
Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10828
شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10837
10837 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي نا أبو يحيى ابن أبي مسرة نا يوسف بن كامل نا سويد أبو حاتم نا عبد الله بن عبيد الله بن عبيد بن عمير عن أبيه عن جده قال : بينما أنا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل فقال : يا رسول الله ما الإيمان قال : الصبر و السماحه
ہمیں خبر دی ابومحد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے انکو ابومحمد عبداللہ بن محمد بن اسحاق فاکھی نے ان کو ابویحیی ٰبن ابومسرہ نے ان کو یوسف بن کامل نے ان کو سوید بن ابو حاتم نے ان کو عبد اللہ بن عبد اللہ بن عبید بن عمیر نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایمان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر اور سخاوت۔
عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل فقال ← بَيْنَمَا ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عبد الله بن عبيد الله بن عبيد بن عمير ← سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، ← يُوسُفُ بْنُ كَامِلٍ، ← أبو يحيى ابن أبي مسرة ← أبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكهي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ
Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10837
شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10838
10838 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الطيب محمد بن أحمد الحيري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب نا الحسين بن الوليد نا إبراهيم بن أدهم نا هشام بن حسان عن الحسن قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الإيمان الصبر و السماحة
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو الطیب محمد بن احمد الخیری نے ان کو ابواحمد محمد بن عبد الوہاب نے ان کو حسین بن ولید نے ان کو ابراہیم بن ادھم نے ان کو حشام بن حسان نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افضل ایمان صبر کرنا او سخاوت کرنا ہے۔
Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10838
شعب الإيمان · الرابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الجود و السخاء · حديث 10964
10964 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن أحمد الرازي نا أبو زرعة عبيد بن بن عبد الكريم نا عبيد بن جناد الحلبي نا عبد الله بن المبارك عن سعيد بن أيوب عن عبد الله بن الوليد عن أبي سليمان الليثي عن أبي سعيد الخدري : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
مثل المؤمن و مثل الإيمان كمثل الفرس في أخبته يجول حتى يرجع إلى خبته و أن المؤمن يسهو ثم يرجع إلى الإيمان فأطعموا طعامكم الأتقياء و ولوا معروفكم المؤمنين
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن احمد رازی نے ان کو ابوزرعہ عبید اللہ بن عبدالکریم نے انکو عبید بن جناد حلبی نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو سعید بن ایوب نے ان کو عبد اللہ بن ولید نے ان کو ابوسلیمان لیثی نے ان کو ابوسعید خدری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس گھوڑے جیسی ہے جو اپنے خیموں کے اندر گھوم رہا ہو۔ حتی کہ وہ اپنے خیمے میں واپس آ جائے اور یہ کہ مومن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے۔ تم لوگ اپنے طعام نیک اور متقی لوگوں کو کھلاؤ اور تمہاری اچھائیوں اور تمہارے مصروف کاموں کے سرپرستی اور والی نیک اور اہل ایمان ہوا کریں۔
النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي سليمان الليثي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سعيد بن أيوب ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ← أبو زرعة عبيد بن بن عبد الكريم ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy-fourth of the people of faith › And it is the door to generosity and generosity · Hadith 10964
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 8988
8988 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس بن يعقوب قال : نا يحيى بن أبي طالب قال : نا روح قال : نا شعبة عن أبي بلج قال : سمعت عمرو بن ميمون عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
من أحب أن يجد طعم الإيمان فليحب لله عز و جل لا يحب إلا لله
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ،ان کو ابوالعباس بن یعقوب نے ، وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی یحیی ٰبن ابی طالب نے ،ان کو روح نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو شعبہ نے ان کو ابو بلج نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمرو بن میمون سے ، اس نے ابو ہریرہ سے ،انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ جوشخص محبوب رکھتا ہے کہ وہ ایمان کا مزہ پالے اس کو چاہئے کہ وہ اللہ کے لئے محبت کرے یعنی اللہ کی رضا کے لئے محبت کرے۔
النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي بَلْجٍ ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 8988
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9003
9003 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا عمرو بن مرزوق قال : أنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان من كان الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و أن يقذف في النار أحب إليه من أن يرجع في الكفر بعد أن أنقذه الله منه و أن يحب الرجل العبد لا يحبه إلا لله
أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة
ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ،ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں جس کے اندر ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پالیتا ہے۔ جس کے نزدیک اللہ اور اللہ کا رسول ماسوائے زیادہ محبوب ہو اور کفر کی طرف لوٹ جانے سے اس کو آگ میں جل جانا زیادہ محبوب ہو اس کے بعد کہ اللہ نے جب اس کو اس سے بچالیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ بندہ کسی بندے سے محبت کرے محض اللہ کی رضا کے لئے۔ بخاری ومسلم نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے حدیث شعبہ سے ۔
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9003
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9017
9018 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا إبراهيم بن مرزوق قال : أنا أبو داود قال شعبة عن أبي يلج و هو يحيى بن أبي سليم قال : سمعت عمرو بن ميمون يحدث عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
من سره أن يجد حلاوة الإيمان فليحب المرء لا يحبه إلا لله عز و جل
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابویلج نے ان کا نام یحییٰ بن ابی سلیم ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عمرو بن میمون سے وہ حدیث بیان کر تے ہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا جس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ ایمان کی چاشنی اور مزہ پائے وہ کسی انسان سے بے لوث اللہ واسطے محبت کرے۔
النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أبي يلج و هو يحيى بن أبي سليم ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9017
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9018
9019 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : أنا أبو الحسن بن منصور قال : نا محمد بن منصور قال : نا محمد بن يحيى بن سليمان قال : نا علي بن عاصم بن علي قال : نا شعيب عن يحيى بن أبي سليم عن عمرو : فذكره و قال : طعم الإيمان
ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن ابن منصور نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی محمد بن منصور نے ان کو محمد بن یحییٰ بن سلیمان نے ان کو علی بن عاصم بن علی نے ان کو شعیب نے ان کو یحییٰ بن ابی سلیم نے ان کو عمرو نے اس نے اس روایت کو ذکر کیا ہے اور اس لفظ طعم الایمان ذکر کیا ہے۔
طعم الإيمان ← عمرو فذكره و ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ← شُعَيْبٌ، ← علي بن عاصم بن علي ← محمد بن يحيى بن سليمان ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9018
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9019
9020 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا ابن أبي قماش قال : نا عاصم قال : نا شعبة عن أبي بلج قال : ونا عمرو بن عون قال : نا هشيم عن أبي بلج عن ميمون بن مهران عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
من أراد أن يصيب حقيقة الإيمان فليحب المرء لا يحبه إلا في الله
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ابی قماش نے ان کو عاصم نے ان کو شعبہ نے ان کو ابویلج نے ان کو میمون بن مہران نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص یہ چا ہے کہ ایمان کی حقیقت کو پالے اس کو چاہئے کہ وہ آدمی سے محبت کر ے محض اللہ واسطے۔
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9019
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9020
9021 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان قال : أنا أحمد بن عبيد قال : نا جعفر بن أحمد بن عاصم الدمشقي قال : نا هشام بن عمار قال : نا صدقة و ابن شعيب قالا نا يحيى بن الحارث عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبي أمامة الباهلي : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
من أحب لله و أبغض لله و أعطى له ومنع له فقد استكمل الإيمان و إن من أقاربكم إلي أحاسنكم أخلاقا
ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن عبید نے ان کو جعفر بن احمد عاصمہ دمشقی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو صدقہ بن شعیب نے ان کو یحییٰ بن حارث نے ان کو قاسم بن عبد الرحمٰن نے ان کو ابوامامہ باہلی نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص اللہ واسطے محبت کرے اور اللہ والے بغض رکھے اور اللہ واسطے دے اور اللہ واسطے نہ دے اس نے ایمان کی تکمیل کر لی ۔ بے شک تم میں سے میرے قریب تر و ولوگ ہیں جو تم میں سے سب سے بہتر اخلاق کے حامل ہیں ۔
النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يحيى بن الحارث ← صدقة و ابن شعيب ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← جعفر بن أحمد بن عاصم الدمشقي، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9020
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9029
9030 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : أنا أحمد بن منصور قال : نا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن إسحاق عن أبي الأحوص عن ابن مسعود قال : إن من الإيمان أن يحب الرجل أخاه لا يحبه إلإ لله و فيه
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو خبر دی احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابواسحٰق نے ان کو ابوالاحوں نے ان کو ابن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ بے شک ایمان میں سے ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے محبت کرے اور اس سے محبت اللہ واسطے کرے اور اللہ کی راہ میں کرے۔
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9029
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9053
9054 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز قال : نا يحيى بن جعفر قال : أنا زيد بن حباب قال : أنا أشعث بن براز قال : أنا علي بن زيد عن سعيد بن المسيب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس و ما يستغني رجل عن مشورة و إن أهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة و إن أهل المنكر في الدنيا هم أهل المنكر في الآخرة هذا هو المحفوظ مرسل
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر ورذاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو زید بن حباب نے ان کو اشعث بن بزار نے ان کو علی بن زید نے ان کو سعید بن مسیب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کے بعد عقل کی اصل اور سردار لوگوں کے ساتھ محبت کرنا ہے اور کوئی آدمی مشورے سے مستغنی نہیں ہے۔ بے شک دنیا میں اہل معروف آخرت میں بھی اہل معروف ہیں اور دنیا میں اہل فکر ہی درحقیقت آخرت میں اہل منکر ہوں گے ۔ یہ محفوظ روایت مرسل ہے ۔
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9053
شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9054
9055 - و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قال : أنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الخراساني قال : نا إبراهيم بن الهيثم البلدي قال : حدثني سعيد بن عبد الله عن أبي عبد الرحمن الفراء قال : نا يوسف بن محمد العصفري قال : نا سفيان عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس
في هذا الإسناد ضعف
اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابواسحاق نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن اسحٰق خراسانی نے ان کو ابراہیم بن ھیثم بلدی نے ان کو حدیث بیان کی سعید بن عبداللہ نے ابوعبدالرحمٰن فراء سے ان کو یوسف بن محمد مصفری نے ان کو سفیان نے ان کوعلی بن زید نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کے بعد عقل کی اصل سردار چیز لوگوں کے ساتھ محبت کرتا ہے ۔اس اسناد میں ضعف ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← سُفْيَانَ، ← يوسف بن محمد العصفري ← أبي عبد الرحمن الفراء ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و،
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9054
شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9120
9121 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا سعيد بن عثمان التنوخي نا محمد بن ثمال الصنعاني قال : نا عبد المؤمن بن يحيى بن أبي كثير عن أبيه عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة قالت : كانت عجوز تأتي النبي صلى الله عليه و سلم فيبش بها و يكرمها فقلت بأبي أنت و أمي إنك لتصنع بهذه العجوز شيئا لا تصنعه بأحد قال : إنها كانت تأتينا عند خديجة أما علمت أن كرم الود من الإيمان
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو سعید بن عثمان تنوخی نے ان کو محمد بن ثمال صنعانی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی عبدالمؤمن بن یحییٰ بن ابی کثیر نے اپنے والد سے اس نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ ایک بڑھیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بہت خوش ہو تے تھے اور اس کا اکرام کرتے تھے ۔ میں نے کہا کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر قربان آپ اس بڑھیا کے ساتھ خاص سلوک کرتے میں جو دوسروں کے ساتھ نہیں کرتے؟ فرمایا کہ یہ میری اہلیہ خدیجہ کے پاس آیا کرتی تھیں گویا کہ اس کی سہیلی ہے ۔ کیا تو نہیں جانتا کہ دوستی کا اکرام کر نا ایمان میں سے ہے۔
Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9120
شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9121
9122 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن يونس نا أبو عاصم نا صالح بن رستم عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت : جاءت عجوز إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لها من أنت ؟ قالت : جثامة المزنية قال : بل أنت حنانة المزنية كيف أنتم كيف حالكم ؟ كيف كنتم بعدنا ؟ قالت : بخير بأبي أنت و أمي يا رسول الله قالت : فلما خرجت قلت يا رسول الله تقبل على هذه العجوز هذا الإقبال فقال : يا عائشة إنها كانت تأتينا زمان خديجة و إن حسن العهد من الإيمان كذا وجدته و قال : غيره في الحديث جثامة المزنية قال : بل أنت حسان المزنية أخرجته في كتاب الإيمان
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحمد بن عبید نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو ابو عاصم نے ان کو صالح بن رستم نے ان کو ابوملیکہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑھیا آئی ، آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے بتایا کہ میں جثامہ لمزنیہ ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم حنانہ المزنیہ ہو ۔ ہاں تم کیسی ہو؟ اور تم لوگوں کے حالات کیسے ہیں؟ اور ہمارے بعد آپ لوگ کیسے رہ ر ہے ہو؟ اس نے بتایا کہ ہم سب بخیریت ہیں میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان جائیں یا رسول اللہ ۔ کہتی ہیں کہ جب وہ نکل کر چلی گئی تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس بڑھیا کا اتنا اچھا استقبال کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ عائشہ یہ پرانی جاننے والی ہے ۔ یہ ہم لوگوں کے پاس خدیجہ کے زمانے سے آتی تھی۔ بے شک حسن سلوک ایمان میں سے ہے۔ میں نے اس روایت کو ایسے ہی پایا ہے اور اس کے علاوہ دیگر نے کہا ہے حدیث میں جثامہ امز نیہ ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا بلکہ تم حنانہ المزنیہ ہو۔ میں نے اس روایت کو کتاب الایمان میں ہی نقل کیا ہے ۔
بخير بأبي أنت و أمي ← بَلْ أَنْتِ حَنَّانَةُ الْمُزَنِيَّةُ، كَيْفَ أَنْتُمْ؟ كَيْفَ حَالِكُمْ؟ كَيْفَ كُنْتُمْ بَعْدَنَا؟ ← جَثَّامَةُ الْمُزَنِيَّةُ ← لها من أنت ← جاءت عجوز إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9121
شعب الإيمان · الثاني و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في المكافأة بالصنائع · حديث 9122
9123 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو علي الرفا الهروي أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن الفضل العطار المروزي نا سلم بن جنادة نا حفص بن غياث عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : كانت تأتي النبي صلى الله عليه و سلم امرأة فيكرمها فقلت : يا رسول الله من هذه ؟ قال : هذه كانت تأتينا زمان خديجة و إن حسن العهد من الإيمان
كذا وجدته وهو بهذا الإسناد غريب
ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوعلی رفا ہروی نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق ابن فضل عطار مروزی نے ان کو سلم بن جنادہ نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آیا کرتی تھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عزت کرتے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ کون ہے؟ فرمایا کہ یہ ہم لوگوں کے پاس خدیجہ کے زمانے سے آیا کرتی ہے ۔ بے شک حسن عہد ایمان میں سے ہے ۔ میں نے اس روایت کو ایسی ہی پایا ہے اور یہ اسی اسناد کے ساتھ حدیث غریب ہے ۔
كانت تأتي النبي صلى الله عليه و سلم امرأة فيكرمها فقلت ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أبو بكر أحمد بن إسحاق بن الفضل العطار المروزي ← أبو علي الرفا الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · Sixty-second of the people of faith › Separation of reward by artifacts · Hadith 9122