Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص آية الكرسي بالذكر · حديث 2407

2407 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا حاجب بن أحمد الطوسي ثنا محمد بن حماد الأبيوريدي ثنا وكيع عن سفيان عن آدم بن سليمان مولى خالد بن خالد قال : سمعت سعيد بن جبير يحدث عن ابن عباس قال : لما نزلت { وإن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله } قال : دخل قلوبهم منها شيء لم يدخلهم من شيء فقال النبي صلى الله عليه و سلم قولوا سمعنا و أطعنا و سلمنا قال : فألقى الله عز و جل الإيمان في قلوبهم فأنزل الله عز و جل { آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه و المؤمنون } الآية { لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا } قال : قد فعلت : { و اعف عنا و اغفر لنا و ارحمنا أنت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين } قال : قد فعلت

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد طوسی نے ان کو محمد بن حماد بیوردی نے ان کو وکیع نے ان کو سفیان نے آدم بن سلیمان مولیٰ خالد بن خالد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سعید بن جبیر سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابن عباس سے جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ " وان تبدو مافی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ " اور اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے یا اس کو چھپاؤ اللہ تعالیٰ اس کا تم سے حساب لے گا۔ تو صحابہ کرام کے دلوں میں کوئی ایسی بات داخل ہو گئی جو کسی شے سے داخل نہیں ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا یوں کہو ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور ہم نے تسلیم کر لیا ابن عباس فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون الخ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ماکسب و علیھا ما اکتسبت ربنا لا تواخذنا ان نسینا او اخطانا ربنا ولا تحمل علینا اصرا کما حملتہ علی الذین من قبلنا" اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے کر دیا۔ واعف عنا وغفرلنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین" اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے کر دیا ۔(1) رسول ایمان لے آیا ہے اس کتاب کے ساتھ جو اس کی طرف اس کے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور مومن بھی ۔ تاآخر۔ (2) اللہ تعالیٰ کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق انسان کے فائدے کےلیے جو کچھ اس نے کسب کیا اور اسی کی جان ومال ہے جو کچھ اس نے غلط عمل کیا اے ہمارے رب ہم سے مواخذہ اور پکڑ نہ کرنا اگر ہم بھول جائیں یا ہم غلطی کر بیٹھیں اے ہمارے رب ہمارے اوپر بوجھ نہ رکھنا جیسے آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بوجھ رکھ دیا تھا۔ (بندہ جب یہ دعا کرتا ہے تو ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے قبول کر لی ہے ۔ ہم سے تو درگزر فرما ہماری بخشش فرما ہمارے اوپر رحم فرما تو ہی ہمارا کارساز ہے قوم کافر کے خلاف ہماری مدد فرما۔ (بندہ جب یہ دعامانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ) میں نے دعا قبول کر لی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← محمد بن حماد الأبيوريدي ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocation of the Holy Ayat to mention · Hadith 2407

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8418

8418 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أبادي نا أبو عمران موسى بن هارون بن عبد الله ببغداد نا إبراهيم بن محمد بن عباس بن عثمان الشافعي ح و أخبرنا أبو نصر أحمد بن علي بن أحمد الفامي نا أبو بكر محمد بن المؤمل نا عبدان عبد الحليم هو البيهقي نا إبراهيم بن محمد ح و أخبرنا أبو عثمان سعيد بن العباس بن محمد بن علي القرشي الهروي في الروضة بمدينة الرسول صلى الله عليه و سلم نا ابن الزيات نا عبد الله بن الصقر نا إبراهيم بن محمد الشافعي نا أبو غرارة التميمي حدثني أبي عن القاسم عن عائشة رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الرفق يمن و الخرق شؤم و إذا أراد الله بأهل بيت خيرا أدخل عليهم باب الرفق و إن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه و إن الخرق لم يكن في شيء قط إلا شانه و إن الحياء من الإيمان و إن الإيمان في الجنة و لو كان الحياء رجلا لكان رجلا صالحا و إن الفحش من الفجور و إن الفجور في النار و لو كان الفحش رجلا لكان رجلا سوءا إن الله لم يخلقني فاحشا و في رواية البيهقي و الله عز و جل لم يخلقني فحاشا و في رواية أبي عمران و لو كان الفحش رجلا يمشي في الناس لكان رجلا سوءا و لم يذكر ما بعده

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو ابو عمران موسیٰ بن بارون بن عبد اللہ نے بغداد میں ان کو ابراہیم بن محمد بن عباس بن عثمان شافعی نے’’ح ‘‘اور ہمیں خبر دی ابونصر احمد بن احمد بن علی بن احمد خامی نے ان کو ابوبکر محمد بن مؤمل نے ان کو عبدان عبدالحلیم نے وہ بہیقی ہیں ان کو ابراہیم بن محمد نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ابوعثمان سعید بن عباس بن محمد بن علی قرشی ہروی نے روضہ میں مد ینتہ الرسول میں ان کو ابن زیات نے ان کو عبد اللہ بن صقر نے کو ان کو ابراہیم بن محمد شافعی نے ان کو ابوغرارہ تمیمی نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے قاسم سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ نرمی اور شفقت کرنا برکت ہے اور سخت واجڈ ہونا برکتی اور نحوست ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی اہل گھرانہ سے خیر کا ارادہ کرتا ہے ان پر نرمی کا دروازہ کھول دیتا ہے ۔ بے شک نہیں داخل ہوتی نرمی ہرگز کسی چیز میں مگر اس کو خوبصورت بنا دیتی ہے اور شدت نہیں داخل ہوتی مگر ہر چیز کو عیب دار کر دیتی ہے۔ بے شک حیاء ایمان میں سے ہے ۔ اور ایمان جنت میں داخل کرے گا ۔ اگر حیا ء آ دمی ہوتا تو نیک آدمی ہوتا اور بے شک فحش اور بے حیائی گناہ اور نافرمانی میں سے اور بے شک نافرمانی جہنم میں لے جائے گی، اور اگرفحش و بے حیا مرد ہوتا تو وہ بدترین مرد ہوتا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے فحش گوئی کرنے والا پیدانہیں کیا اور بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے مجھے فحاش نہیں بنایا۔ اورابوعمران کی ایک روایت میں ہے کہ اگر فحش آدمی ہوتا جولوگوں میں چلتا پھرتا تو بہت برا آدمی ہوتا ۔اور مابعد کواس نے ذکر نہیں کیا ہے۔

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8418

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8447

8447 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا هشيم عن علي بن زيد عن ابن المسيب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأس العقل بعد الإيمان بالله مداراة الناس قال عبد الله : سمعت أبي يقول : لم يسمعه هشيم من علي بن زيد قال أحمد رحمه الله : هذا الحديث يعرف بأشعث بن براز عن علي بن زيد عن ابن المسيب عن النبي صلى الله عليه و سلم : رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس فدلسة هشيم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو حد بیث بیان کی ان کے والد نے ان کو ہثیم نے ان کو علی بن زید نے ان کو ابن مسیب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان باللہ کے بعد عقل و دانش کی سردارلوگوں کے ساتھ نرم روش اختیار کرنا ہے۔ کہا عبداللہ نے کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ نہیں سنا اس کو ہثیم نے علی بن زید سے اس نے نہیں مسیب سے اس نے نبی کریم سے کہ ایمان کے بعد عقل و دانش کی اصل لوگوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ ہثیم نے اس روایت کو مدلس کیا ہے۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← هُشَيْمٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8447

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8465

8465 - أخبرنا أبو سعد الماليني نا أبو عبد الله محمد بن الحسين التنوخي قال : سمعت أبا علي الروذباري يقول ذكر العباس بن مسروق عن سهل بن عبد الله قال : لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يكون لعباد الله كالأرض إذا هم عليها و منافعهم منها

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابو عبد اللہ محمد بن حسین تنوخی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوعلی روذباری سے وہ کہتے ہیں کہ ذکر کیا عباس بن مسروق نے سہل بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ کوئی بند ہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ وہ ( عاجزی کی وجہ سے) اللہ کے بندوں کے لئے زمین کی مثل نہ ہو جائے کہ جب کوئی ارادہ کرے اس پر چلے اور ان کے سارے منافع بھی اس سے ہوں ۔

سَهْلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← العباس بن مسروق ← أبا علي الروذباري ← أبو عبد الله محمد بن الحسين التنوخي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8465

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7201

7201 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق سمعت أبا عثمان يقول : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام الإيمان إسباغ الطهارات في المكاره وارتعاش القلب عند الفرائض حتى يؤديها والتوبة عند كل ذنب خوفا من الإصرار عليه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے انہوں نے سنا ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں کہ تین چیزیں ایمان کی نشانیاں ہیں۔ سخت سردیوں میں وضو کرنا، فرائض کی ادائیگی کے وقت دل کا کانپ جانا یہاں تک کہ اس کو ادا کر لے، ہر گناہ کے بعد فوراً توبہ کرنا اس خوف سے کہ کہیں اس گناہ پر اصرار نہ ہو جائے۔

ذَا النُّونِ، ← أَبَا عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7201

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الطبع على القلب أو الرين · حديث 7213

7212 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار نا الحسن بن علي بن عفان نا ابن نمير عن الأعمش عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن حذيفة قال : قيل يا أبا عبد الله أكفر بنو إسرائيل في يوم واحد قال : لا ولكن عرضت عليهم فتنة فأبوا أن يركبوها فضربوا عليها حتى ركبوها ثم عرضت عليهم أكبر منها فقالوا : لا نركب هذه أبدا فضربوا عليها حتى ركبوها فانسلخوا من دينهم كما ينسلخ الرجل من قميصه قال أحمد : قال أصحابنا : والختم على القلب والطبع بمعنى واحد ومن طبع على قلبه في ذنب لم يتب منه أبدا قال الله عز و جل : { إن الذين كفروا سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون } فأيس نبيه صلى الله عليه و سلم من إيمانهم وأشار إلى سبب ذلك وعلته فقال { ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى أبصارهم غشاوة } ومعنى الختم التغطية على الشيء الاستيشاق منه حتى لا يدخله شيء فقوله ختم الله على قلوبهم أي طبع الله والخاتم بمنزلة الطابع والمعنى أنها لا تعقل ولا تعي خيرا فأخبر أنه حال بينهم وبين الدواعي إلى الإيمان أن يخلص إلى قلوبهم وحال بين قلوبهم وبين أبصار ما في الإيمان من الصواب فدل ذلك على أن الكافر مطبوع على قلبه مستحيل وجود الإيمان منه وقال : { أولئك الذين طبع الله على قلوبهم وسمعهم وأبصارهم وأولئك هم الغافلون } فأخبر أن المطبوع عليه غافل ووجود الفعل الذي شرطه الاختيار عن الغافل عنه غير ممكن وأصل الطبع في اللغة من الوسخ والدنس يغشيان السيف ثم يستعمل فيما يشبه الوسخ والدنس من الآثام والأقذار وغيرها من المقابح والاستثناء في قوله : { بل طبع الله عليها بكفرهم فلا يؤمنون إلا قليلا } من جماعة اليهود الذين ابتدأت القصة بذكرهم لا من المطبوع على قلوبهم ويجوز أن يكونوا مأمورين بالإيمان ولا يجوز وجوده منهم فقد أخبر الله عز و جل عن جماعة من الكفار أنهم لا يؤمنون والأمر بالإيمان غير زائل عنهم وأخبر أنه أوحى إلى نوح عليه السلام أنه لن يؤمن من قومك إلا من قد آمن ولذلك غرقهم ثم لا يجوز أن يقال الأمر بالإيمان زال عنهم ولعن إبليس وجعله شيطانا فصار ممن لا يؤمن ولا يتوب أبدا ولا يجوز أن يقال إن الأمر بالإيمان والتوبة زائل عنه فكذلك المطبوع على قلبه والله أعلم وهكذا كله معنى الحليمي وغيره من أهل العلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا اے ابو عبداللہ۔ کیابنی اسرائیل ایک دن میں کافر ہو گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ کوئی فتنہ ان کو پیش آتا تھا وہ اس میں ملوث ہونے سے انکار کر دیتے تھے پھر وہ فتنہ بار بار ان سے ٹکراتا رہتا یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ اس کے بعد پہلے سے کوئی اور بڑا فتنہ انہیں درپیش ہوتا تو وہ یہ کہتے کہ ہم اب اس فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے پھر وہ بار بار اس سے دوچار ہوتے ہوتے اس میں مبتلا ہوگئے (لہٰذا رفتہ رفتہ یوں فتنوں میں گھر کر) اپنے دین سے اس طرح نکل گئے جیسے کوئی آدمی قمیص سے باہر آ جاتا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ کہ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ: ختم علی القلب اور طبع علی القلب یعنی دل پر مہر لگنا اور دل طبع ہونا۔ ایک ہی معنی میں ہیں۔ جس شخص کے دل پر گناہ کی وجہ سے یا گناہ میں ٹھپہ لگ جائے، طبع ہو جائے وہ اس سے ہمیشہ توبہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ان الذین کفروا سواء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون بے شک جو لوگ کافر و منکر ہو گئے ان کے اوپر برابر ہے آیا کہ آپ ان کو ڈرائیں یانہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ لہٰذا اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ایمان سے مایوس ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں اس مذکورہ بات کی علت اور اس کے سبب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کی جہ یہ ہے: ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ کیونکہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ ختم کا معنی :۔۔۔۔۔ختم کامعنی ہوتا ہے کسی چیز پر ڈھک دینا اور اس کا یقین اور وثوق کر لینا کہ اس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے گی۔ ختم اللہ علىٰ قلوبھم كا معنی :۔۔۔۔۔اس کا معنی ہے طبع اللہ۔ اللہ نے مہر کر دی۔ اور خاتم بمنزلہ طابع کے ہوتا ہے۔ چنانچہ معنی اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں نہ تو سمجھتے ہیں اور نہ ہی خیر کو محفوظ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ ان کے درمیان ایمان اور مقتضیات ایمان کے درمیان حائل اور رکاوٹ ہے اس سے کوئی چیز ان کے دلوں میں راستہ پا سکے۔ اور حائل ہے ان کے دلوں کے اور ان کی آنکھوں کے درمیان وہ چیز جو ایمان میں ہے صواب اور درست اور صحیح۔تو یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافروں کے دل مطبوع ہیں اور مہر زدہ ہیں لہٰذا ان سے ایمان کا وجود محال ہے۔ ارشاد باری ہے: اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم وسمعھم وابصارھم واولئک ھم الغافلون وہی لوگ ہیں کہ مہر کر دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر اور وہی لوگ غافل ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مطبوع علیہ غافل ہے (یعنی جس پر مہر لگ چکی۔) اور کسی غافل سے ایسے فعل وجود میں آنا جس کے لئے اختیار شرط ہے ناممکن ہے اور لغت میں طبع کی اصل حقیقت میل کچیل ہے (وسخ اور دنس) جو تلوار کی دھار کو چھپا دیتے ہیں۔اس کے بعد طبع استعمال ہوتا ہے ان چیزوں کے بارے میں جو میل کچیل (وسخ اور دنس) کے مشابہ ہیں (اثام واقذار) گناہوں کی گندگیاں وغیرہ ہلاکتوں کے بارے میں (اس کے بعد مصنف نے ایک ممکنہ سوال کا جواب دیا ہے کہ ایک آیت میں مذکور استثناء سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ مہر لگ جانے کے باوجود بھی ایمان لائیں گے؟) فرمایا کہ وہ استثناء جو اس آیت میں مذکور ہے: بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یؤمنون الا قلیلاً بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر مہر مار دی ہے اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑے لوگ یہ استثناء یہود کی جماعت سے ہے۔ وہ یہود جن کے تذکرے کے ساتھ قصہ کی ابتداء ہوئی ہے۔ بیان لوگوں سے استثناء نہیں ہے۔ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے (یعنی مطبوع القلوب سے) اور یہ جائز ہے ممکن ہے کہ وہ ایمان کے لئے مامور ہوں۔ لیکن ایمان کا وجود ان سے جائز اور ممکن نہیں ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کفار کی ایک جماعت کی طرف سے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے لیکن ایمان کے بارے میں حکم اور اصر ان سے زائل نہیں ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی: انہ لن یؤمن قومک الامن قد اٰمن کہ تیری قوم میں سے ہرگز کوئی ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لا چکے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو غرق بھی کیا۔ اس کے بعد یہ جائز نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ امر بالایمان ان سے زائل ہو چکا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو لعنت کی تھی اور اس کو شیطان کردیا تھا لہٰذا وہ ایسا جو گیا کہ ایمان نہیں لائے گا اور ہمیشہ کے لئے توبہ بھی نہیں کرے گا۔ مگر یہ جائز نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ ایمان کا امر اور توبہ اس سے زائل اور ختم ہو چکے ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ واللہ اعلم۔ اور اسی طرح ہے قول حلیمی کا معنی اور اس کے علاوہ دیگر اہل علم کے قول کا معنی۔

قيل يا أبا عبد الله أكفر بنو إسرائيل في يوم واحد ← حُذَيْفَةَ ← عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in printing on the heart or the rain · Hadith 7213

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الدعاء و المسألة من الله عز و جل حسن الخلق · حديث 8549

8549 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا عبد الله بن محمد بن علي نا محمد بن إسحاق بن خزيمة نا محمد بن يحيى نا موسى بن إسماعيل نا حماد بن سلمة عن أبي سنان قال : قلت للمغيرة ابن عبد الرحمن بن عبيد : أترجو لهؤلاء الشطار الذين ينقلون الجنائز و يحفرون ويدفنون أيام الطاعون ؟ قال : أفضل الرجاء حدثني أبي عن جدي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الإيمان ثلاثمائة و ثلاثة و ثلاثون شريعة من وفي بشريعة منهن دخل الجنة

ہمیں خبر دی ابو عبد الرحمٰن سلمی نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن علی نے ان کو محمد بن اسحٰق بن خزیمہ نے ان کو محمد بن یحیی ٰنے ان کوموسیٰ بن ا سما عیل نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کوا بوسنان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا مغیر و بن عبدالرحمٰن بن عبید سے کیا آپ ان شیطانوں کے لئے بھی کسی ثواب کی امیدرکھتے ہیں جو جنازے اٹھاتے ہیں اور قبریں کھودتے ہیں اور دفن کر تے ہیں وباء کے زمانے میں؟ انہوں نے فرمایا کہ افضل امید کرتا ہوں ۔ مجھے حدیث بیان کی میرے والد نے میرے دادا سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان تین سو تینتیس شریعتوں پر مشتمل ہےجو شخص ان میں سے کسی ایک شریعت کو پورا کرے وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔

أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on supplication and the issue of God Almighty, with good manners · Hadith 8549

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في محقرات الذنوب · حديث 7269

7269 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا جعفر بن محمد الخلدي حدثني أبو العباس بن مسروق قال : سمعت سري السقطي يقول : رأيت في بعض كتب الحكماء كان يقال : قليل الحكمة كثير النفع وقليل الصدق كثير الصواب وقليل اليقين كثير الإيمان وقليل الجهل كثير الضرر وقليل الإصرار كثير العقوبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو جعفر بن محمد خلدی نے ان کو ابو العباس بن مسروق رحمۃ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سری سقطی سے وہ کہتے تھے کہ میں نے دیکھا بعض حکما کی کتابوں میں کہا گیا تھا کہ قلیل حکمت و دانائی کثیر نفع والی ہوتی۔ اور تکلیل سچائی کثیر صواب (درستی والی) ہوتی ہے۔ اور قلیل یقین کثیر ایمان والا ہوتا ہے۔ اور قلیل جہل کثیر نقصان والا ہوتا ہے۔ اور قلیل اصرار کثیر سزا والا ہوتا ہے۔

رأيت في بعض ← سَرِيَّ السَّقْطِيَّ ← أبو العباس بن مسروق ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلَدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in the abominations of sins · Hadith 7269

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6147

6148 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا بشر بن موسى ثنا أبو عبد الرحمن يعني المقري عن سعيد بن أبي أيوب حدثني أبو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ترك وهو يقدر عليه تواضعا لله دعاه الله يوم القيامة على رؤوس الخلائق حتى يخير من حلل الإيمان يلبس من أيها شاء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے ان کوبشر بن موسیٰ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقروی نے ان وسعید بن ابو ایوب نے ان کو ابو مرحوم عبدالرحیم بن میمون نے سہل بن معاذ بن انس جہنی سے انہوں نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قدرت رکھنے کے باوجود قیمتی لباس ترک کر دے اللہ کے لئے عاجزی کرتے ہوئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلا کر ایمان کی پوشاکوں کے مابین اختیار دیں گے جو لباس چاہے گا پہنے گا۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أبو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو عبد الرحمن يعني المقرئ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6147

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6148

6149 - أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي و أبو نصر بن قتادة أنا يحيى بن منصور القاضي ثنا محمد بن إبراهيم وأنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة أنا أبو الحسن بن عبدة و عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا ابن بكير حدثني سعد بن عبد الله بن سعد المعافري عن يحيى بن أيوب عن زبان بن فائد عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من ترك اللباس تواضعا وهو يقدر على إنفاذه دعاه الله يوم القيامة على رؤوس الخلائق فيخيره في حلل الإيمان يلبس أيها شاء ومن كظم غيظا وهو يقدر على إنفاذه دعاه الله يوم القيامة على رؤوس الخلائق فيخيره في حور العين زوجه منها أيها شاء

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی نے اور ابو نصر بن قتادہ نے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو محمد بن ابراہیم نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر عمر بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن بن عبدہ اور عبداللہ بن احمد بن سعد حافظ نے ان کو ابو عبدالله محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو سعد بن عبداللہ بن سعد معافری نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو زبان بن فائد نے ان کو سہل بن معاذ بن انس جہنی نے ان کو ان کے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا جو شخص (قیمتی) لباس ترک کر دے باوجود اس کے کہ وہ اس کو جاری رکھنے پر قادر تھا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور اس کو اختیار دے گا ایمان کی پوشاکوں میں جس کو چاہے گا پہنے کا اور جو شخص غصے کو ضبط کرے باوجود یکہ وہ اس کو جاری رکھنے پر قادر ہو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کے بارے میں اختیار دے گا کہ جس سے چاہے گا شادی کرے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سعد بن عبد الله بن سعد المعافري ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أبو الحسن بن عبدة و عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ← أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6148

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6149

6150 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا محمد بن يونس ثنا عبد الله بن داود ثنا إسماعيل بن عياش عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن أبي أمامة الباهلي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بلباس الصوف تجدون حلاوة الإيمان في قلوبكم

اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن اسحاق فقیہ نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو عبداللہ بن داؤد نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو ثور بن یزید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو ابو امامہ باہلی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اون کے لباس کو لازم پکڑ لو تم اس سے اپنے دلوں میں ایمان کی شیرینی پالو گے۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6149

شعب الإيمان · الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التمسك بما عليه الجماعة · حديث 7494

7494 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي بن كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن الحارث الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و أنا آمركم بخمس أمرني الله تعالى بهن الجماعة و السمع و الطاعة و الهجرة و الجهاد في سبيل الله فمن فارق الجماعة قيد شبر فيد خلع ربقة الإسلام أو الإيمان من عنقه أو الإيمان من رأسه إلا أن يراجع و من دعا دعوى جاهلية فهو من جثا جهنم قيل يا رسول الله و إن صام و صلى ؟ قال : و إن صام و صلى تداعوا بدعوى الله الذي سماكم بها المسلمين المؤمنين عباد الله

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو ابان بن یزید نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابوسلام نے ان کو حارث اشعری نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں تمہیں پانچ باتوں کا حکم کرتا ہوں ان پانچ کا اللہ نے مجھ کو بھی حکم دیا ہے ۔ (۱) جماعت (۲) سمع (۳) اطاعت (۴) عبادت (۵) جہادفی سبیل اللہ ۔ جو شخص جماعت سے ایک بالشت جدا ہو گیا اس نے اسلام کا حلقہ اور کڑا گردن سے اتار پھینکا، یا ایمان کا اپنی گردن سے، یا ایمان کا اپنے سر سے مگر یہ کہ وہ رجوع کرلے اور وہ شخص جو جاہلیت کا دعوی ٰکرے ( یا جاہلیت کی پکاریں پکارے ) پس وہ جہنم کا ایندھن ہے ۔ کہا گیا یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ شخص نماز پڑھے اور روزہ بھی رکھے؟ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں اگرچہ نماز پڑھے اور روزہ بھی رکھے۔ تم لوگ اللہ کی پکار پکارو جس کے ساتھ اس نے تمہارا نام رکھا تھا۔ مسلمین ۔مؤمنین ۔عباداللہ۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يحيى بن أبي بن كثير ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty people of faith › And it is a door to cling to what the group has · Hadith 7494

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل فيمن اختار التواضع في اللباس · حديث 6172

6173 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن عبد الله بن إبراهيم بن عبدة ثنا محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا أحمد بن حنبل ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن زهير بن محمد العنبري عن صالح يعني ابن كيسان أن عبد الله بن أبي أمية أخبره : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : البذاذة من الإيمان ثلاثا

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن عبداللہ بن ابراہیم بن عبدہ نے ان کو محمد بن ابراہیم بوشنجی نے ان کو احمد بن حنبل نے ان کو عبدالرحمٰن مہدی نے ان کو زہیر بن محمد عنبری نے ان کو صالح نے یعنی ابن کیسان نے یہ کہ عبداللہ بن امیہ نے اس کو خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شکستہ حال ہونا ایمان میں سے ہے تین بار یہی فرمایا تھا۔

صالح يعني ابن كيسان أن عبد الله بن أبي أمية ← زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدَةَ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Separation of those who choose modesty in dress · Hadith 6172

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ الحادي و الستون من شعب الإيمان و هو باب في مقاربة أهل الدين و موادتهم و إفشاء السلام بينهم · حديث 8797

8797 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه قال : أنا بشر بن موسى قال : نا أبو نعيم قال : نا سفيان عن أبي إسحاق عن صلة بن زفر عن عمار هو ابن ياسر قال : ثلاثة من جمعهن فقد جمع الأيمان و الإنفاق من الإقتار و الإنصاف من النفس و بذلك السلام للعالم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحاق فقیہ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو بشر بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے ابونعیم نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سفیان نے ان کو ابو اسحاق نے ان کوصلہ بن زفر نے ان کو عمار نے وہ ابن یاسر ہیں وہ کہتے ہیں کہ تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جو شخص ان کو اپنے اندر جمع کر لے اس نے ایمان کو جمع کر لیا۔ کنجوسی کے مقابلے میں خرچ کرنا۔اپنے دل سے انصاف کرنا ۔ اور سلام کرنے کو سارے جہاں کے لئے استعمال کرنا ۔

عمار هو ابن ياسر ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The sixty-first of the people of faith, and it is a chapter in the approach of the people of religion and their articles and the spread of peace between them · Hadith 8797

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7559

7559 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا سعيد بن عامر نا شعبة عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب : أن مروان خطب يوم العيد قبل الصلاة فقام إليه رجل فقال إنما الصلاة قبل الخطبة قال ترك ذلك يا أبا فلان فقال أبو سعيد أما هذا فقد قضى ما عليه ثم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من رأى منكم منكرا فلينكر بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه و ذلك أضعف الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو قیس بن مسلم نے ان کو طارق بن شہاب نے یہ کہ مروان خلیفہ نے نماز عید سے پہلے عید کا خطبہ پڑھا عید کے دن ۔ تو ایک آدمی نے کھڑے ہوکر کہا نماز خطبہ سے پہلے ہوتی ہے ۔ کہتے ہیں اس نے کہا یپہ عمل کو چھوڑ دیا گیا ہے اے ابوفلاں ۔ بس ابوسعید نے کہا بہر حال اس منع کرنے والے شخص نے وہ فرض ادا کر دیا تھا جو اس کے اوپر عائد ہوتا تھا اس کے بعد ابوسعید نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو تم میں سے کسی نا جائز و غلط کام کو دیکھے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس کو بدل دے اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا تو اپنی زبان کے ساتھ منع کرے اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہوتو پھر اپنی دل کے ساتھ اس کو غلط سمجھے یہ سب سے زیادہ کمزور ایمان ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث شعبہ کے ذیل میں ۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7559

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7560

7560 - و روينا عن عبد الله بن مسعود : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من نبي بعثه الله في أمته إلا كان له من أمته حواريون و أصحاب يأخذون بسنته و يقتدون بأمره ثم إنها يخلف خلوف يقولون ما لا يفعلون و يفعلون ما لا يقولون و يفعلون مالا يؤمرون فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن و من جاهدهم بلسانه فهو مؤمن و من جاهدهم بقلبه فهو مؤمن ليس وراء ذلك من الإيمان حبة خردل

اور ہم نے روایت کی ہے ابن مسعودرضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی نبی ایسے نہیں ہے جس کو اللہ نے اس کی امت میں بھیجا ہو مگر اس کی امت میں سے اس کے کچھ خاص اصحاب ہوتے تھے جو اس کی سنت اور طریقے کو لیتے تھے اور اس کے حکم کی اقتداء کرتے تھے اس کے بعد قصہ یہ ہوا کہ ان کے بعد کچھ نا خاف بعد میں آگئے وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو وہ خود نہیں کرتے اور وہ ایسے کام کرتے ہیں جو وہ کہتے نہیں ہیں ۔اور کرتے وہ کام ہیں جس کا حکم ان کو نہیں دیا گیا ہوتا ۔ جو شخص ان کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جہاد کرے گا وہ مؤمن ہے اور جو شخص اپنی زبان کے ساتھ ان سے جہاد کرے گا، ، وہ بھی مومن ہے اور جو شخص اپنے دل کے ساتھ ان سے جہاد کرے گا وہ بھی مؤمن ہے اس کے بعد رائی کے دانے کے برابربھی ایمان نہیں ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← و روينا

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7560

شعب الإيمان · الثاني و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمر بالمعروف و و النهي عن المنكر ـ · حديث 7561

7561 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو بكر بن عبد الله أنا الحسن بن سفيان نا عمرو بن محمد الناقد نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح بن كيسان عن الحارث عن جعفر بن عبد الله بن الحكم عن عبد الرحمن بن المسور عن أبي رافع عن ابن مسعود بهذا الحديث رواه مسلم عن عمرو الناقد و غيره : قال الإمام أحمد رحمه الله : و هذا لا يخالف ما روينا في حديث الإيمان أعلاها شهادة أن لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق لأن الأدنى غير الأضعف فإن للأدنى اسم لم يتباعد من معان القرب و إن كان مرجعه في المبنى إليها و الأضعف اسم لما يظهر وجه القربة فيه و يخلص له و لكن يكون من نوعه ما هو أقوى و أبلغ منه و بسط الكلام في شرحه

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو بکر بن عبد اللہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو عمر و بن محمد ناقد نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ان کے والد نے ان کو صالح بن کیسان نے ان کو حارث نے ان کو جعفر بن عبد اللہ بن حکم نے ان کو عبد الرحمن ٰ بن مسعود نے ان کو ابورافع نے ان کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کے ساتھ اور اس کو روایت کیا ہے مسلم نے عمر وناقد وغیرہ سے ۔ ایک اشکال اور اس کا جواب: (ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث میں پہلے گزر چکا ہے کہ ایمان کا اعلی درجہ لا الہ الا اللہ ہے اور ادنی ٰ درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔ مگر گذشتہ روایت میں ہے کہ دل سے برائی کو برا سمجھنا اضعف الایمان ہے ۔ اور فلاں قسم کے لوگوں کے ساتھ جو جہاد نہ کرے اس میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ اس تعارض واشکال کو دور کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔مترجم۔) امام احمد حنبل رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں : کہ مذکورہ روایت مخالف نہیں ہے اس حدیث کے جو ہم نے روایت کی ہے کہ ایمان کاعلی درجہ یا علی شعبہ لا الہ الا اللہ کی شہادت ہے اور اس کا ادنی ٰ درجہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کرنا ہے۔ اس لئے خلاف نہیں ہے کہ اس حدیث میں ادنی ٰ درجے کی بات تھی اور یہاں پر اضعف درجے کی بات ہے ۔ ادنی ٰالگ چیز ہے اور اضعف الگ چیز ہے ۔ ادنیٰ نام ہے اس چیز کے لئے جو بعید ہو مقام قرب سے اگر چہ اس کا مرجع اصل میں اور بنیادی طور پر اسی کی طرف ہو ۔ اور اضعف نام ہے اس چیز کا جس سے وجہ قربت اور سبب قربت ظاہر ہو اور اس کے لئے خالص ہو مگر اس کے ایسی نوع سے ہو جو اس سے زیادہ قوی اور زیادہ بلیغ ہو۔ شیخ نے اس کی شرح میں تفصیلی کلام کیا ہے ۔

عمرو الناقد و غيره ← ابن مسعود بهذا الحديث رواه مسلم ← أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ ← جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، ← الْحَارِثِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-second of the people of faith › And it is a section on enjoining good and forbidding evil · Hadith 7561

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل فمن كره القيام له تورعا مخافة الكبر · حديث 8939

8939 - سمعت أبا عبد الله الحافظ يقول : سمعت الإمام أبا بكر أحمد أحمد إسحاق يقول : التقيت مع أبي عثمان يعني الحبري يوم عيد في المصلى و كان من عادته إذا التقى بواحد منا فسأله بحضرة الناس عن مسائل فقهية و يريد بذلك إجلاله وزيادة محله عند العوام فسألني بحضرة الناس في مصلى العيد عن مسائل فلما فرغ منها قلت له : أيها الأستاذ في قلبي شيء أردت أن أسألك عنه منذ حين قال : قلت : إني رجل قد دفعت إلى صحبة الناس و حضور هذه المحافل وإني ربما أدخل مجلسا يقوم لي بعض الحاضرين و يتقاعد عن القيام لي بعضهم فأجدني أنضم على المتقاعد حتى لو قدرت على الإساءة إليه فعلت قال : فلما فرغت من كلامي سكت أبو عثمان و تغير لونه و لم يجبني بشيء فلما رأيته قد تغير لونه سكت ثم انصرفت من المصلي فلما كان بعد العصر قعدت له و أذنت للناس فدخل علي عند المساء جار لي قال من كان يتخلف عن مجلس أبي عثمان فقلت له : من أين أقبلت ؟ قال : من مجلس أبي عثمان قلت : و فيما ذا كان يتكلم ؟ قال : أجرى المجلس من أوله إلى آخره في رجل كان ظنه به أجمل ظن فأخبر عن سره بشيء أنكره أبو عثمان و تغير به قال أبو بكر : فعلمت أنه حديثي قلت : وبما ختم حديث ذلك الرجل قال : قال أبو عثمان : أظهر لي من باطنه شيئا لم أشم منه رائحة الإيمان ويشبه أنه على الضلال ما لم يظهر توبته من الذي أخبرني به عن نفسه قال الشيخ أبو بكر : فوقع على البكاء وتبت إلى الله عز و جل مما كنت عليه

میں نے سنا ابوعبداللہ حافظ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا امام ابوبکر احمد بن اسحٰق سے وہ کہتے ہیں کہ میں عید کے دن عید گاہ میں حضرت ابوعثمان حبری سے ملا۔ ان کی عادت تھی کہ وہ ہم لوگوں میں سے کسی ایک سے جب ملتے تھے تو لوگوں کے سامنے اس سے فقہی مسائل پوچھتے تھے۔ وہ ایسا کر کے لوگوں کے سامنے ان کی بڑائی کرنا اور عوام کے سامنے اس کا مرتبہ و مقام ظاہر کرنا چاہتے تھے ۔ جب وہ مسائل پوچھ کر فارغ ہوئے تو میں نے ان سے کہا اسے استاد محترم میرے دل میں ایک بات ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اس بارے میں آپ سے پوچھوں ۔ طویل زمانے سے میری یہ خواہش ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ مجھے لوگوں کی صحبت میں رہنا پڑتا ہے اور ایسی محافل میں حاضری کا موقع ماتارہتا ہے، کبھی کبھی ایسی محافل میں جا تا ہوں جس میں بعض حاضر ین مجلس میرے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور بعض کھڑے نہیں ہوتے بلکہ بیٹھے رہتے ہیں ۔ مجھے یہ دیکھ کر غصہ آتا ہے کہ میں بیٹھنے والوں پر برس پڑوں یہاں تک کہ اگر میں ان پر قدرت رکھوں ان کے ساتھ برائی کرنے کی تو ان کے ساتھ برائی کروں ( یعنی ان کو تکلیف پہنچاؤں ) جب بات کر کے میں فارغ ہو گیا تو حضرت ابوعثمان خاموش ہو گئے اور ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ مگر انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے جب دیکھا کہ ان کا رنگ بدل گیا ہے اور وہ چپ بھی ہو گئے ہیں تو میں عید گاہ سے واپس لوٹ آیا۔ جب عصر کی نماز سے فارغ ہوئے تو میں بیٹھ گیا۔ لوگوں کو ملنے کی اجازت دے دی تو شام کے وقت میرے ایک پڑوسی میرے پاس آئےاور کہا کہ کون ہے جو ابوعثمان کی محفل سے پیچھے رہا۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ کہاں سے آ ر ہے ہیں؟ انہوں نے بتایا ابوعثمان کی محفل سے ۔ میں نے پوچھا کہ وہ کس چیز کے بارے میں بات کر رہے تھے؟ اس نے بتایا کہ آج تو انہوں نے اول سے آخر تک اپنی مجلس کسی ایسے شخص کے بارے میں جاری رکھی جس کے بارے میں ان کو بڑا حسن ظن تھا اور اس نے ان کو اپنے کسی راز سے آ گاہ کیا ہے جس کو وہ یعنی ابو عثمان برا سمجھتے ہیں اور اسی سے ان کا رنگ بھی فق پڑ گیا۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے جان لیا کہ وہ بات میری ہی ہوگی ۔ میں نے اس پڑوسی سے پوچھا کہ شیخ ابوعثمان نے اس شخص کے بارے میں بات کہاں ختم کی ہے؟ اس نے بتایا کہ ابوعثمان نے کہا ہے کہ اس شخص نے اپنے باطن کے بارے میں ایسی چیز ظاہر کی ہے جس کی وجہ سے مجھے اس میں ایمان کی بوڑھی محسوس نہیں ہوتی اور زیادہ مناسب یہ ہے کہ وہ شخص گمراہی پر ہے جب تک وہ اس چیز سے تو بہ واضح طور پر نہ کرے جس بات کی اس نے مجھے خبر دی اپنی ذات کے بارے میں ۔ شیخ ابوبکر نے فرمایا کہ یہ بات سن کر مجھے رونا آ گیا اور میں نے رورو کر اللہ کی بارگاہ میں اس حالت سے تو بہ کر لی جس حالت پر میں رو رہا تھا۔

الإمام أبا بكر أحمد أحمد إسحاق ← أبا عبد الله الحافظ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › Separation of the one who hates standing up for fear of arrogance · Hadith 8939

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في إكرام الشعر وتدهينه وإصلاحه · حديث 6469

6470 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسة ثنا أبو داود ثنا ابن نفيل ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي أمامة عن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبي أمامة قال : ذكر أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما عنده الدنيا : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا تسمعون إن البذاذة من الإيمان إن البذاذة من الإيمان يعني التقحل قال أبو سليمان : البذاذة سوء الهيئة والتجوز في الثياب ونحوها قال الحليمي : وإنما هو والله أعلم أن لا تبعده البذاذة عن الجماعات فلا يمتنع إذا سائت حاله عن الجمعة والجماعات ولا عن مجالس العلم لأجل رثاثة كسوته وسوء هيئة لباسه ولكنه يصبر على ما هو فيه ويحمد الله عليه ولا يستشعر منه خجلا ولا حياء فذاك إن شاء الله هو الإيمان دون الرثاثة بعينها والله أعلم

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داسہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو ابن فضیل نے ان کو محمد بن سلمہ نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو عبداللہ بن ابو امامہ نے ان کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے ان کو ابو امامہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن اصحاب رسول نے آپ کے سامنے دنیا کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سنتے نہیں کہ عاجزی کی وجہ سے غربت کی شکل بنانا ایمان میں سے ہے۔ (مراد ہے سوکھ سوکھ جانا ، چمڑے کا ہڈی سے لگ جانا)۔ ابو سلیمان نے فرمایا کہ بذاذہ سے مراد بری شکل صورت اور کپڑوں میں چشم پوشی کرنا۔ اور اس کی مثل شیخ حلیمی فرماتے ہیں سوا اس کے نہیں کہ وہ ’’واللہ اعلم‘‘ (ایسا بھی نہ ہو جائے) کہ اس کی بذادہ اور میلا کچیلا ہونا اس کو مسلمان جماعتوں سے (یعنی باجماعت نمازوں سے) بھی دور کر دے۔اتنا برا حال بھی نہ بنا لے جو اس کو جمعہ کی حاضری سے اور اجتماعات کی حاضری اور مجالس علم میں شرکت سے منع ہو جائے۔ اپنے میلے کپڑوں اور بری صورت اور برے لباس کی وجہ سے بلکہ صبر کرے اسی حالت پر جس حالت میں بھی ہو اور اسی حالت پر اللہ کا شکر کرے اور حیاء اور شرمندگی کا خوف نہ کرے تو انشاء اللہ یہی ایمان ہو گا بعینہ میلا کچیلا پن نہیں ہو گا۔ واللہ اعلم۔ (سادگی کے دائرے میں رہے گندا نہ رہے گندگی اللہ کو پسند نہیں ہے۔ )(مترجم)

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← ابْنُ نُفَيْلٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › Chapter in honoring hair and greasing it and fix it · Hadith 6469

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10590

10590 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل الماسرجسي ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا الحسن بن عبد الصمد القهندري ثنا أبو الصلت الهروي انا يوسف بن عطيه ثنا ثابت عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج يوما فاستقبله شاب من الأنصار يقال له : حارثة بن النعمان فقال له : كيف أصبحت يا حارثة قال : أصبحت مؤمنا حقا قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : انظر ما تقول فإن لكل حق حقيقة إيمانك قال : فقال : عزفت نفسي عن الدنيا فأسهرت ليلي و أظمأت نهاري و كأني أنظر إلى عرش ربي بارزا و كأني أنظر إلى أهل الجنة كيف يتزاورون فيها و كأني انظر إلى أهل النار كيف يتعادون فيها فقال : فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : أبصرت فالزم مرتين عبد نور الله الإيمان في قلبه قال : فنودي يوما في الخيل يا خيل الله إركبي فكان أول فارس ركب و أول فارس استشهد فجاءت أمه إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله أخبرني عن ابني حارثة أين هو إن يكن في الجنة لم أبك و لم أحزن و إن يكن في النار بكيت ما عشت في الدنيا قال : فقال : لها رسول الله صلى الله عليه و سلم يا أم حارثه إنها ليست بجنة و لكنها جنان و حارثة في الفردوس الأعلى قال : فانصرفت و هي تضحك و تقول : بخ بخ لك يا حارثه كذا قال : حارثه بن النعمان

ہمیں خبر دی ابومحمد حسن بن علی بن مؤمل ما سر جسی نے ان کو ابو عثمان عمرو بن عبد اللہ بصری نے ان کو حسن بن عبد الصمد قہندری نے ان کو ابو صلت ہروی نے ان کو یوسف بن عطیہ نے ان کو ثابت نے انس بن مالک سے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھر سے نکلے اور انصار کا ایک نوجوان آپ کے سامنے آ گیا اس کو حارثہ بن نعمان کہتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ آپ نے کس حال میں صبح کی اے حارثہ ؟ اس نے جواب دیا میں نے صبح کی ہے اس حال میں کہ میں سچا اور برحق مؤمن ہوں۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایہ دیکھ لیجئے آپ کیا کہ رہے ہو؟ بے شبہ ہر برحق شئی کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور تیرے ایمان کی حقیقت ( کیا؟) کہتے ہیں کہ اس نے جواب دیا میں دنیا سے اچاٹ اور بے رغبت ہوں۔ میں اپنی رات جاگ کر گذارتا ہوں اور دن پیا سارہ کر گویا کہ میں اپنے رب کے عرش کو دیکھتا رہتا ہوں اپنے سامنے اور گویا کہ میں اہل جنت کو دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک دوسرے سے کیسے مل رہے ہیں۔ اور گویا کہ میں اہل جہنم کو بھی دیکھتا ہوں کہ وہ کس طرح جہنم میں ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا۔ کیا آپ نے یہ سب کچھ دیکھا ہے دومرتبہ اس کو پکا کیا پھر فرمایا کہ یہ ایسا بندہ ہے کہ اللہ نے اس کے دل میں ایمان کو روشن کر دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دن۔ گھڑ سواروں میں اعلان کیا گیا اے اللہ کے مجاہد و سوار ہو جاؤ پس گویا کہ یہی حارثہ پہلا سوار تھا جو سوار ہو گیا اور یہ پہلا شہسوار جو شہید کر دیا گیا چنانچہ اس کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اورعرض کرنے لگی یا رسول اللہ مجھے میرے بیٹے کے بارے میں خبر دیجئے کہ حارثہ کہاں ہے اگر وہ جنت میں ہے تو میں اس کو نہ روؤں گی اور اگر وہ جنت میں نہیں ہے بلکہ جہنم میں ہے تو میں جب تک جیوں گی اس کو روتی رہوں گی دنیا میں۔ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا۔ اے ام حارثہ یہ جنت کوئی ایک نہیں ہے بلکہ جنات تو بہت ساری ہیں حارثہ تو فردوس اعلی میں ہے۔ فرمایا کہ بڑھیا واپس لوٹی تو ہنستی ہوئی جارہی تھی اور کہہ رہی تھی بس بس حارثہ کافی ہے تیرے لئے۔ ایسے ہی کہا راوی نے حارثہ بن نعمان۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← يوسف بن عطيه ← أَبُو الصَّلْتِ الْهَرَوِيُّ ← الحسن بن عبد الصمد القهندري ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل الماسرجسي

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10590

chevron_left Previous
1…444546…484
Next chevron_right