Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6609

6609 - أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن عبد الله بن محمد بن منصور النوقاني بها أخبرنا أبو محمد حاتم بن حيان البستي أنا إسماعيل بن داود بن وردان بالفسطاط أنا عيسى بن حماد نا الليث عن ابن عجلان عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يجتمع في جوف عبد مؤمن غبار في سبيل الله وفيح جهنم ولا يجتمع في جوف عبد مؤمن الإيمان والحسد

ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن احمد بن عبداللہ بن محمد بن منصور نوقانی سے نوقان میں۔اور ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حاتم بن حیان البستی نے ان کو اسماعیل بن داؤد بن وردان نے فسطاط میں ان کو یحییٰ بن حماد نے ان کو لیث نے ان کو ابن عجلان نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یجتمع فی جوف عبدمؤمن غبار فی سبیل اللہ وفیح جہن ولا یجتمع فی جوف عبدمؤمن الایمان والحسد کسی مومن بندے کے اوپر جہاد کی راہ کا غبار اور جہنم کی بھاپ جمع نہیں ہو سکتے اور کسی مومن کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ ← أبو محمد حاتم بن حيان البستي

Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6609

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6695

6695 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا سعدان بن نصر نا معاذ بن معاذ عن الأشعث عن الحسن قال : رحم الله عبدا لم يحاسب الناس دون ربهم ولم يحمل على نفسه ما لم يحمله الله لهم 6695 - مكرر ـ أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر عن كعب قال : ذكرت الملائكة أعمال بني آدم وما يلقون من الذنوب فقال لهم اختاروا منكم ملكين فاختاروا هاروت وماروت فقال لهما : إني أرسل رسلي إلى الناس وليس بيني وبينكم رسول انزلا ولا تشركا بي شيئا و لا تزنيا ولا تسرقا ـ قال ابن عمر قال كعب : فما استكملا يومهما الذي نزلا فيه حتى عملا ما حرم عليهما قال الشيخ أحمد : هذا هو الصحيح من قول كعب وقد رويناه في باب الإيمان بالملائكة من حديث زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن نافع عن عبد الله بن عمر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتم من ذلك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو اشعث نے ان کو حسن نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اس بندے پر جو لوگوں کا محاسبہ نہیں کرتا ان کے رب کے سوا جس چیز کواللہ نے اس کے اوپر نہیں لادا اس کو وہ بھی اپنے اوپر نہیں لادتا۔ مکر رہے۔ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ بن عقبہ نے ان کو نافع نے ان کو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو کعب نے وہ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے اولا د آدم کے اعمال کا تذکرہ کیا اور ان گناہوں کا جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں تو ان کو حکم ہوا کہ تم لوگ اپنے اندر سے دو فرشتوں کا انتخاب کر لو انہوں نے ہاروت اور ماروت کو منتخب کیا۔ اور ان سے کہا کہ میں لوگوں کے پاس رسول بھیجتا ہوں جب کہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی قاصد نہیں ہے۔ تم دونوں نیچے اتر جاؤ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، زنا نہ کرنا، چوری نہ کرنا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کعب نے فرمایا کہ ان دونوں فرشتوں نے وہ دن ہی پورا نہیں کیا تھا جس میں وہ اترے تھے مگر دونوں نے وہ عمل کر لئے جواللہ نے ان پر حرام کئے تھے۔ شیخ احمد نے فرمایا کہ یہ صحیح ہے قول کعب سے اور تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے باب ایمان بالملائکہ میں زہیر بن محمد کی حدیث سے اس نے موسیٰ بن جبیر سے اس نے نافع سے اس نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سے زیادہ مکمل۔ `

الْحَسَنِ، ← الْأَشْعَثِ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6695

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6702

6702 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن بندار الزنجاني ببغداد أنا أبو عبد الله الفضل بن عبد الله الفضل الهاشمي نا أحمد بن جعفر السامري نا إبراهيم بن الأطروش قال : كان معروف الكرخي على الدجلة ونحن معه إذ مر بها أقوام أحداث في زورق يغنون ويضربون بالدف : فقلنا يا أبا محفوظ أما ترى هؤلاء في هذا البحر يعصون الله عز و جل ادع الله عليهم قال : فرفع يده إلى السماء فقال : إلهي وسيدي اللهم إني أسألك أن تفرحهم في الآخرة كما فرحتهم في الدنيا فقال له أصحابه : إنا سألناك أن تدعو عليهم ولم نسألك أن تدعو لهم قال : إذا فرحهم في الآخرة تاب عليهم في الدنيا ولم يضركم شيء قال الإمام أحمد رحمه الله : ومن هذا الباب قول الله عز و جل : { يا أيها الذين آمنوا لا يسخر قوم من قوم عسى أن يكونوا خيرا منهم ولا نساء من نساء عسى أن يكن خيرا منهن ولا تلمزوا أنفسكم ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان ومن لم يتب فأولئك هم الظالمون * يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن } إلى قوله : { لحم أخيه ميتا فكرهتموه } فاشتملت هذه الآية على تحريم الاستهزاء والسخرية وتحريم اللمز وهو الغيبة والوقيعة ومعنى { لا تلمزوا أنفسكم } أي لا يلمز بعضهم بعضا وتحريم التنابز بالألقاب هو أن يدع الواحد أن يدعو صاحبه باسمه الذي سماه أبوه ويضع لقبا يريد أن يشينه به أو يستذله فيدعوه به ثم قال { بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان } فأبان أن فعل هذه المحظورات فسوق بعد الإيمان والإيمان يوجب مواصلة أقداره الاعتراض على الموجود منه بما لا يليق به ثم قال { ومن لم يتب فأولئك هم الظالمون } أي هو الظالمون أنفسهم بسوقها إلى النار والعذاب الأليم ثم قال { يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن إن بعض الظن إثم } فأراد أن ظن القبيح بالمسلم كهمزه ولمزه والسخرية والهزء به نهى عنه وأخبر أنه إثم ونهى عنه وعن التجسس وهو تتبع أحواله في خلواته وجوف داره والتعرف لها فإن ذلك إذا بلغه ساءه وشق عليه فكان التعرض له من باب الأذى الذي لا موجب له ولا مرخص فيه وبسط الكلام فيه قال ثم نهى عن الغيبة فقال { ولا يغتب بعضكم بعضا } أي لا يذكره وهو غائب عنه بما لو كان حاضرا فسمعه يشق عليه وشبه الاغتياب بأكل لحم الميت لأن الميت لا يشعر بأن يؤكل لحمه كما لا يشعر الغائب بأن يسلب عرضه ولا ينبغي لمسلم أن يصاحب مسلما ولا أن يغلظ له قولا ولا أن يتعرض لمساءته ولا أن يبهته وروي فيه أحاديث ونحن نأتي إن شاء الله على ما حضرنا من ذلك وزيادة لائقة به بتوفيق الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن بندار زنجانی نے بغداد میں ان کو ابو عبداللہ فضل ہاشمی نے ان کو احمد بن جعفر سامی نے ان کو ابراہیم بن اطروش نے وہ کہتے ہیں کہ معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ دریائے دجلہ کے کنارے پر بیٹھے تھے اور ہم لوگ بھی ان کے ساتھ تھے۔ اچانک ان کے قریب کچھ نو جوان گزرے کشتی پر سوار تھے جو کہ گانا گا رہے تھے اور دف بجا رہے تھے۔ ہم لوگوں نے حضرت کرخی سے کہا اے ابو محفوظ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ یہ من چلے اس دریا میں اس حالت میں بھی اللہ کی نافرمانی کر رہے ہیں، آپ ان کے خلاف بد دعا فرمائیں۔ کہتا ہے کہ انہوں نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا لئے اور دعا کرنے لگے۔ اے میرے معبود اور میرے سردار اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو ان کو آخرت میں بھی ایسے خوش کرنا جیسے تو نے اس کو دنیا میں خوش کیا ہے۔ آداب معاشرت : شیخ کرخی کے دوستوں اور ساتھیوں نے کہا حضرت ہم نے تو آپ سے ان کے لئے بد دعا کرنے کی درخواست کی تھی ان کے حق میں اچھی دعا کی درخواست نہیں کی تھی۔ شیخ نے فرمایا کہ جب اللہ ان کو آخرت میں خوش کرے گا تو دنیا میں پہلے ان کو توبہ کی توفیق بھی عطا کرے گا لہٰذا اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اسی باب سے ہے (یعنی لوگوں کی عزتوں کی حرمت کا لحاظ رکھنا۔) یہ آیت:یاٰیھالذین اٰمنوا لا یسخر قوم من قوم عسی ان یکونوا خیرا منھم ولا نسآء من نساء عسٰی ان یکن خیرا منھن ولا تلمزوا انفسکم ولا تنابزوا بالالقاب بش الاسم الفسوق بعد الایمان ومن لم یتب فاولئک ھم الظالمون یٰا یاھالذین اٰمنوا اجتنبوا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسوا ولا یغتب بعضکم بعضا ایحب احدکم ان یأکل لحم اخیہ میتافکر ھتموہ۔ اے اہل ایمان کوئی لوگ کسی کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں۔ اور کوئی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ دوان سے بہتر ہوں اور مت عیب لگاؤ اپنے آپ کو اور مت نام بگاڑو القاب کے ساتھ۔ایمان کے بعد برا نام لگانا گناہ کی بات ہے جو شخص توبہ نہ کرے ان (غلطیوں سے) وہی لوگ ظالم ہوں۔اے اہل ایمان زیادہ تر گمان کرنے سے بچو بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور جاسوسی نہ کرو اور بعض تمہارا بعض کی غیبت نہ کیا کریں کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تم اس کو ناپسند کرو گے۔ آیت مذکورہ کی تشریح : یہ آیت ان امور پر مشتمل ہے: (1)۔۔۔۔۔استہزاء اور تمسخر کا حرام ہونا۔ (2) پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنے کی حرمت۔ اس سے مراد غیبت ہے۔ (3) فتنہ وفساد کے حرمت۔ (1) ۔۔۔۔۔لا تلمزوا انفسکم اپنے نفسوں کی غیبت نہ کرو یعنی بعض تمہارا بعض کی غیبت نہ کرے۔ (2 ) ۔۔۔۔۔ولا تنابزوا بالالقاب اور نہ عیب لگاؤ ایک دوسرے کو بقیوں کے ساتھ۔ تنابز القاب کے ساتھ ایسے ہوتا ہے کہ کوئی شخص کسی کو اس نام کے ساتھ پکارنا چھوڑ دے جو نام اس کے باپ نے رکھا تھا بلکہ اس کے لئے کوئی دوسر القب از خود وضع کر لے جس سے اس کا منشایہ ہو کہ وہ اس لقب کے ساتھ اس کو عیب لگائے یا اس کو ذلیل کرے لہٰذا وہ اس کو ایسے لقب سے پکارتا ہے۔ (3)۔۔۔۔بش الاسم الفسوق بعدالایمان ایمان کے بعد برا نام رکھنا گناہ ہے۔ اس جملے میں یہ واضح فرمایا کہ ایمان کے بعد ان محضورات و ممنوعات کا ارتکاب کرنا گناہ ہے۔ ایمان مواصلۃ اقدار کا تقاضا کرتا ہے اوران اقدار سے اجتناب کرنے کا تقاضا کرتا ہے جو اس کے شایان شان نہیں۔ (4) ۔۔۔۔ومن لم یتب فاولئک ھم الظالمون اور جو شخص ان امور سے توبہ نہ کرے وہی لوگ ظالم ہیں۔ یعنی وہی لوگ اپنے نفسوں پرظلم کرتے ہیں ان کو آگ کی طرف اور عذاب الیم کی طرف لے جا کر۔ (5) ۔۔۔۔یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرًا من الظن ان بعض الظن اثم اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان کے ساتھ برا گمان کرنا جیسے سامنے طعنہ دینا، پیٹھ پیچھے عیب نکالنا، تمسخر کرنا، مذاق کرنا۔ (جس سے عزت شان کم ہوتی ہو جو عزت کے منافی ہو۔) یہ سب ممنوع ہیں۔ آیت کے اندر بھی یہ خبر دی ہے کہ یہ گناہ ہے اور منوع ہے۔ اس سے منع کیا ہے اور تجسس سے منع کیا ہے۔ وہ ہے مسلمان کے اموال کہ اس کی غیر موجودگی میں ڈھونڈھو بھال کرنا اور نکوائری کرتا اور اس کے گھریلو اور اندرونی معاملات کو معلوم کرنا اور ان کے جاننے کی کوشش کرنا ایسی باتیں جو اگر اس کے علم میں آئیں تو اس کو بری لگیں اور اس پر مشکل گزریں ان کے درپے ہونا ایذا اور تکلیف کے ان اقسام میں سے ہے جن کا نہ کوئی مقتضی ہے نہ اس کی رخصت ہے۔ شیخ نے اس میں تفصیلی کلام کیا ہے۔ فرماتے ہیں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے غیبت سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہوا۔ (2)۔۔۔۔ ولا یغتب بعضکم بعضاٰ کہ بعض تمہارا بعض کی غیبت نہ کرے۔ یعنی کسی مسلمان کو اس کی غیر موجودگی میں اس طرح یاد نہ کرے کہ اگر وہ حاضر ہو اور سنے تو اس پر مشکل گزرے اور شاق گزرے۔ اور غیبت کرنے کو میت کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے اس لئے کہ میت نہیں جانتا کہ اس کا گوشت کھا رہا ہے جیسے غائب نہیں جانتا کہ اس کی عزت سلب ہو رہی ہے۔ اور کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مصاحب ہو مسلمان کے لئے اور یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ اس کے ساتھ سخت کلامی کرے اور نہ یہ کہ اس کی برائی کے درپے ہو اور نہ یہ کہ اس کو پریشان کرے۔ اور بہت سی احادیث اس بارے میں انشاءاللہ ہم ان کو درج کریں گے اور کچھ مناسب اضافہ بھی اللہ کی توفیق کے ساتھ۔

نحن معه ← كان معروف الكرخي على الدجلة ← إبراهيم بن الأطروش ← أحمد بن جعفر السامري ← أبو عبد الله الفضل بن عبد الله الفضل الهاشمي ← أبو بكر بن بندار الزنجاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6702

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8294

8294 - حدثنا أبو سعد عبد الملك بن محمد الواعظ و أبو حازم الحافظ قال نا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد السلمي نا أبو عبد الله محمد بن الحسن بن الخليل نا هشام بن عمار الدمشقي نا مخيس بن تميم عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الغضب ليفسد الإيمان كما يفسد الصبر العسل قال أبو حازم تفرد به هشام بن عمار عن مخيس بن تميم

ہمیں حدیث بیان کی ابوسعد عبدالملک بن محمد واعظ نے اور ان کو ابو حازم حافظ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوعمر واسماعیل بن نجید سلمی نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن حسن بن خلیل نے ان کو ہشام میں عمار دمشقی نے ان کو مخیس بن تمیم نے ان کو بہزبن حکم نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک غصہ ایمان کو ایسے خراب کر دیتا ہے جیسے ایلواشہید کو۔ ابو حازم نے کہا اس کے ساتھ ہشام بن عمارمخيس بن تمیم سے متفرد ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← مُخَيِّسُ بْنُ تَمِيمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ الدِّمَشْقِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن الحسن بن الخليل ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ ← أبو سعد عبد الملك بن محمد الواعظ و أبو حازم الحافظ

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8294

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6704

6704 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا الحلواني نا أحمد بن يحيى وأخبرني الهيثم بن الشعراني و الأسفاطي قالوا نا أحمد بن عبد الله بن يونس نا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن سعيد بن عبد الله بن جريج عن أبي برزة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا معشر من آمن بلسانه ولم يدخل الإيمان في قلبه لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتكم فإنه من يتبع عورات المسلمين يتبع الله عورته ومن يتبع الله عورته يفضح وهو في بيته لفظ حديث الحلواني

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو حلوانی نے ان کو احمد بن یحییٰ نے اور ان کو خبر دی بیثم بن شعرانی نے اور اسقاطی نے وہ سب کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی احمد بن عبداللہ بن یونس نے ان کو ابو بکر بن عیاش نے ان کو اعمش نے ان کو سعید بن عبداللہ بن جریج نے ان کوا بو برزہ ہونے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! کون ہے جو محض اپنی زبان کے ساتھ ایمان لے آیا ہے اور ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی کمزوریوں کو اور عیبوں کے پیچھے نہ پڑو۔ بے شک جو آدمی مسلمانوں کے عیوب تلاش کرنے کے لئے ان کے پیچھے پڑےگا اللہ تعالیٰ اس کے عیبوں کا پیچھا کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب تلاش کرے وہ اس کو اس کے گھر میں بیٹھے بیٹھے رسوا کر دے گا۔ یہ حلوانی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← أحمد بن يحيى وأخبرني الهيثم بن الشعراني و الأسفاطي ← الْحُلْوَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6704

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك الغضب وفي كظم الغيظ و العفو عند القدرة · حديث 8329

8329 - حدثنا عبد الملك بن محمد بن إبراهيم أنا أبو الحسن علي بن عبد الله الحبلى بمكة نا جعفر بن محمد نا أبو العباس بن مسروق قال : سمعت السري السقطي يقول : ثلاثة من كن فيه استكمل الإيمان : من إذا غضب لم يخرجه غضبه عن الحق و إذا رضي لم يخرجه رضاه إلى الباطل و إذا قدر لم يتناول ما ليس له

ہمیں حدیث بیان کی عبدالملک بن محمد بن ابراہیم نے ان کو ابوالحسن علی بن عبداللہ حبلی نے مکہ مکرمہ میں ان کو جعفر بن محمد نے ان کو ابوالعباس بن مسروق نے انہوں نے کہا کہ میں نے سری سقطی سے سنا کہتے ہیں کہ تین صفات ہیں جس شخص کے اندر وہ موجود ہوں وہ ایمان کو مکمل کر لیتا ہے۔ وہ شخص جس کو غصہ آ جائے تو غصہ اس کو حق سے باہر نہ نکال دے۔ اور جب خوش ہوتو اس کی خوشی اس کو باطل تک نہ پہنچادے۔ اور جب اسے اختیار اور مدد ملے تو وہ اس چیز کو نہ لے لے جو اس کے لئے نہیں ہے ۔

ثلاثة من كن فيه استكمل الإيمان من إذا غضب لم يخرجه غضبه ← السَريَّ السَّقَطيّ ← أبو العباس بن مسروق ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أبو الحسن علي بن عبد الله الحبلى بمكة ← عبد الملك بن محمد بن إبراهيم

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Chapter on leaving anger and controlling anger and forgiving when the ability · Hadith 8329

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6749

6749 - أخبرنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا سعدان بن نصر نا إسحاق بن يوسف نا عوف عن أبي العالية في : قول الله عز و جل : { ولا تنابزوا بالألقاب } فقال لا تقل للمسلم يا فاسق وتلا هذه الآية { بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان } وروينا عن مجاهد قال : قال عمر بن الخطاب : ثلاث يصفين عليك من ود أخيه أن تسلم عليه إذا لقيته وتوسع له في المجلس وتدعوه بأحسن أسمائه إليه وروى البخاري في التاريخ عن عبد الله بن محمد عن عبد الله بن أبي الوزير البصري سمع موسى بن عبد الملك بن عمير عن أبيه عن سعيد الحجبي عن عمه عثمان بن طلحة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل ما روينا عن عمر وقد ذكرناه في باب السلام

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو اسحاق بن یوسف نے ان کوعوف نے ان کو ابو العالیہ نے اس قول باری تعالیٰ کے بارے میں ولا تنابزوا بالالقاب انہوں نے کہا کہ تم کسی مسلمان کو یہ مت کہو اے فاسق اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: بش الاسم الفسوق بعد الایمان ایمان لانے کے بعد برے نام سے پکارنا گناہ ہے۔ اور ہم نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تین چیزیں ہیں جو کہ تیرے بھائی کاحق میں تیرے اوپر پہلی چیز یہ ہے کہ جب تم اس سے ملوتو اس کو سلام کرو اور اس کے لئے محفل میں جگہ دو، کشادگی کرو اور اس کو ایسے نام سے پکارو جو اس کے نزدیک سب سے اچھا ہو۔ اور بخاری نے روایت کیا ہے تاریخ میں عبداللہ بن مجھ سے اس نے عبداللہ بن ابو الوزیرسے اس نے سنا موسیٰ بن عبدالملک بن عمیر سے اس نے اپنے والد سے اس نے سعید حجبی سے اس نے اپنے چچا عثمان بن طلحہ سے اس نے نبی کریم سے اس کی مثل جو ہم نے روایت کی ہے عمر سے اور ہم نے اس کو ذکر کیا ہے باب السلام میں۔

أبي العالية في قول الله عز و جل ← عَوْفٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6749

شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6762

6762 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي نا أبو خالد يزيد بن محمد بن حماد المكي نا المنهال بن يحيى نا أبو عبيدة الباجي قال : قال الحسن : ابن آدم كيف تكون مؤمنا ولا يأمنك جارك ابن آدم يكف تكون مسلما ولا يسلم الناس منك ابن آدم لن تصيب حقيقة الإيمان في قلبك حتى لا تعيب الناس بعيب هو فيك حتى تبدأ بإصلاح ذلك العيب فإذا فعلت لم تصلح عيبا إلا وجدت آخر فإذا فعلت ذلك كان شغلك في خاصة بدنك وخير عباد الله من كان كذلك

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو عبداللہ حسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو خالد یزید بن محمد بن حماد مکی نے ان کو منہال بن یحییٰ نے کو ابو عبیدہ باجی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا حسن بصری نے اے ابن آدم تو کیسے مؤمن ہو سکتا ہے حالانکہ تیرا پڑوسی تجھ سے محفوظ نہیں ہے۔ اے ابن آدم تو کیسے مسلمان ہے حالانکہ لوگ تجھ سے بچتے نہیں یعنی سلامتی میں نہیں ہیں۔ اے ابن آدم تو اپنے دل میں ایمان کی حقیقت کو ہرگز نہیں پاسکتا جب تک کہ تو لوگوں کو ایسے عیب کے ساتھ عیب نہ لگائے جو عیب خود تیرے اندر موجود ہو۔ یا اس وقت تک جب تک تو اس عیب کی اصلاح کرنے میں اپنے آپ سے پہل نہ کر لے۔ جب تو یہ کام کرے تو تو ایک عیب کی اصلاح نہیں کر پائے گا کہ دوسرا عیب اپنے اندر پالے گا پھر تو جب دوسرے عیب کی اصلاح کرے گا تو پھر تیسرا عیب کی اصلاح کی فکر کرے گا حتٰی کہ تیری مصروفیت اور تیرا شغل اپنی اصلاح کرنا ہی ہو گا اوراللہ کی بندوں میں سے بہتر وہی شخص ہے جو ایسا ہی ہو جائے۔

أبو عبيدة الباجي ← الْمِنْهَالُ بْنُ يَحْيَى، ← أبو خالد يزيد بن محمد بن حماد المكي ← عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 6762

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6857

6857 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا الحسين بن محمد بن زياد نا محمد بن يحيى القطيعي نا عبد العزيز بن عبد الصمد نا أبو عمران الجوني عن أبي فراس رجل من أسلم قال : نادى رجل فقال يا رسول الله ما الإيمان ؟ قال : الإخلاص

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد نے ان کو محمد بن یحییٰ قطعی نے ان کو عبدالعزیز بن عبد الصمد نے ان کو ابو عمران جونی نے ان کو فراس نے وہ ایک تھے قبیلہ اسلم سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نے آواز لگائی یا رسول اللہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ اخلاص۔

نادى رجل فقال: ← أبي فراس رجل من أسلم ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَطِيعِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6857

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6858

6858 - وأخبرنا به في موضوع آخر بهذا الإسناد عن أبي فراس رجل من أسلم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سلوني عما شئتم فنادى رجل يا رسول الله ما الإسلام ؟ قال : إقام الصلاة وإيتاء الزكاة قال : فما الإيمان ؟ قال : الإخلاص قال : فما اليقين ؟ قال : التصيق بالقيامة

اور ہمیں خبر دی اس کے ساتھ دوسرے مقام برای اسناد کے ساتھ ابو فراس جو کہ بنو اسلم سے ایک آدمی تھے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہو تم مجھ سے پوچھ سکتے ہو ایک آدمی نے آواز لگائی یا رسول اللہ ! اسلام کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا نماز قائم کرنا ، زکٰوۃ ادا کرنا، اس شخص نے پھر پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اخلاص۔ اس شخص نے پوچھا کہ یقین کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ قیامت کی تصدیق کرنا۔ (یعنی قیامت کے آنے کو سچ ماننا۔)

أبي فراس رجل من أسلم ← وأخبرنا به في موضوع آخر بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6858

شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6895

6895 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو زكريا العنبري نا زكريا بن دلويه العابد نا بمثله محمد بن أبي تميلة نا الفضيل بن عياض عن يونس بن عبيد قال : قال عيسى ابن مريم عليه السلام : لا يجد أحد حقيقة الإيمان حتى لا يحب أن يحمد على طاعة الله قال : وسمعت الفضيل بن عياض يقول : خيبة لك إن كنت ترى أنك تعرفه وأنت تعمل لغيره

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو زکریا بن دلویہ عابد نے ان کو خبر دی اسی کی مثل محمد بن ابو تمیلہ نے ان کوفضل بن عیاض نے ان کو یونس بن عبید نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا: کوئی شخص ایمان کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔ یہاں تک کہ یہ پسند نہ کرے کہ اللہ کی اطاعت کرنے پر ان کی تعریف کی جائے۔ کہتے ہیں کہ میں نے فضیل بن عیاض سے سنا فرماتے تھے۔ تیرے لئے بڑے خسارے کی بات ہے۔ اگر تو یہ کہے کہ اللہ کو پہچانتا ہے اور تو عمل اس کے سوا کسی اور کے لئے کرے۔

عيسى ابن مريم لا يجد أحد حقيقة الإيمان حتى لا يحب ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← بِمِثْلِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي تُمَيْلَةَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ دَلَّوَيْهِ الْعَابِدُ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6895

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 6990

6990 - أخبرنا أبو القاسم عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن أخبرنا أبو بكر بن حبيب نا أبو بكر بن العوام نا أبو عامر العقدي نا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن جده ممطور عن أبي أمامة : أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم ما الإيمان ؟ قال : إذا سائتك سيئاتك وسرتك حسناتك فأنت مؤمن قال : فما الإثم ؟ قال : إذا حل في صدرك شيء فدعه

ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالخالق بن علی بن عبد الخالق مؤذن نے ان کو خبر دی ابو بکر بن حبیب نے ان کو ابو بکر بن عوام نے ان کو ابو عامر عقدی نے ان کو ہشام دستوانی نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے ان کو زید بن سلام نے اپنے دادا ممطور سے اس نے ابو امامہ سے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تیری برائیاں تجھے بری لگیں اور تیری نیکیاں تجھے اچھی لگیں پس تو مومن ہے اس نے پوچھا کہ گناہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکے بس اس کو چھوڑ دے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْعَوَّامِ، ← أبو بكر بن حبيب ← أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 6990

شعب الإيمان · السابع عشر من شعب الأيمان ‹ فصل في فضل العلم و شرف مقداره ـ · حديث 1735

1735 - أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الفارسي ثنا أبو الحسن محمد بن الحسن بن إبراهيم بن قدامة الجند قزجي قال : سمعت أبا بكر محمد بن إسحاق بن خزيمة يقول سمعت محمد بن رافع يقول : قيل لسفيان بن عيينة لم جدت الحفظ قال : بترك المعاصي الثامن عشر من شعب الإيمان و هو باب في نشر العلم و ألا يمنعه أهله و إذا حضر العالم ـ من يسأل عن علم عنده سؤال المسترشد المستفيد وجب عليه أن يخسره و لم يسعه كتمانه و الحرج في كتمان النصوص أشد منه في كتمان الاستنباط قال الله عز و جل : { ما كان المؤمنون لينفروا كافة فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين و لينذروا قومهم إذا رجعوا إليهم } فأبان أن المقيمين أخبار المتأخرين إذا رجعوا بما جلبوه في حال غيبتهم من علوم الدين ليشارك الفريقان في العلم و قال الله عز و جل : { وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب لتبيننه للناس ولا تكتمونه فنبذوه وراء ظهورهم } فأخبرنا أن شرطه عز و جل على أن من أتاه الكتاب أن يبينه للناس و لا يكتمه فتبين أن علم الدين محمول على أهله على شريطة الأداء إلى من تعرض له على أن ينفرد به حامله و يزد به عن غيره و قال : { فاسألوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون } فلما أمر من لا يعلم أن يسأل العالم دل على أن العالم إذا سئل أجاب

ہمیں خبر دی ہے ۔ محمد بن عبداللہ فارسی نے ان کو ابوالحسین محمد بن حسن بن ابراہیم بن قدامہ جند قرجی نے ، وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ سے وہ کہتے تھے میں نے سنا محمد بن رافع سے وہ کہتے تھے کہ حضرت سفیان بن عیینہ سے کہا گیا کہ آپ نے حافظہ کیسے اچھا اور بہتر کیا ؟ فرمایا کہ ترک معاصی کے ذریعے ۔ دوسری روایت میں کہ میں حافظہ کیسے تازہ کروں ؟ فرمایا ترک معاصی کے ساتھ۔

قيل لسفيان بن عيينة لم جدت الحفظ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أبو الحسن محمد بن الحسن بن إبراهيم بن قدامة الجند قزجي ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفَارِسِيُّ،

Shuab ul Iman · Seventeenth of the people of faith › Chapter on the merit of knowledge and its amount of honor · Hadith 1735

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في البكاء عند قراءة القرآن · حديث 2066

2066 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الشيباني ثنا إبراهيم بن عبد الله السعدي ثنا أحمد بن أبي طيبة ثنا ورقاء عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن عبد الله قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يعلمنا أن نقول اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم من همزة و نفخه قال عطاء : همزة الموتة و نفثه الشعر و نفخه الكبرياء في قطع القراءة بحمد الله تعالى على ما أنعم عليه بالقرآن و هداه للإيمان و تصديق الله فيما أخبر به ( ) الآخرة و الصلاة على رسول الله إذ هو السبب في وقوفنا على القرآن و وصولنا إليه و الشهادة له بالتبليغ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ شیبانی نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ سعدی نے ان کو احمد بن ابی طیبۃ نے ان کو ورقاء نے ان کو عطا بن سائب نے ان کو ابو عبدالرحمٰن نے عبداللہ سے انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تعلیم دیا کرتے تھے کہ ہم یوں دعا کریں:"اللھم انی اعوذ بک من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفشہ"۔ اے اللہ بے شک میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان کے گھوسے سے اور اس کے پھونکنے سے اور اس کے تھتکار نے سے ۔ حضرت عطا فرماتے ہیں ۔ شیطان کے گھونسے سے مراد موت اس کا تھتکارنا شعر میں اور اس کا پھونک مارنا تکبر اور بڑائی ہے قرآن کو روکنے چھوڑنے میں اللہ کی حؐد کے ساتھ اور شکر کے ساتھ اس نعمت پر جو اللہ نے اس پر قرآن کے ساتھ انعام کیا ہے اور اس کو ایمان کی ہدایت کی ہے اور اللہ کی تصدیق کے لیے اس میں جس میں اس نے آخرت کی خبر دی ہے اور رول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت نازل ہوں کیونکہ سبب ہیں ہمارے قرآن پر واقف ہونے کا اور قرآن تک پہنچنے کا اور اس کی شہادت دینے کا تبلیغ کے ساتھ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← وَرْقَاءُ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي طَيْبَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in crying when reading the Qur’an · Hadith 2066

شعب الإيمان · الثامن و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في التسديد في الدين · حديث 5533

5534 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن نصر ثنا ابن وهب أخبرني الليث أن سعيد المقبري أخبره عن عبد الله بن أبي قتادة يحدث : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قام فيهم فذكر لهم الجهاد في سبيل الله و الإيمان بالله أفضل الأعمال فقام رجل فقال : يا رسول الله إن قتلت في سبيل الله أتكفر عني خطاياي فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم إن قتلت في سبيل الله و أنت صابر محتسب مقبل غير مدبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف قلت ؟ فقال : أرأيت إن قتلت في سبيل الله أتكفر عني خطاياي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم و أنت صابر محتسب مقبل غير مدبر إلا الدين فإن جبريل قال لي ذلك رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة عن الليث بن سعد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے اور ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن نصر نے ان کو ابن وھب نے مجھے خبر دی ہے لیث نے یہ کہ سعید مقبری نے اس کو خبر دی ہے کہ عبداللہ بن ابو قتادہ حدیث بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور ان کے سامنے جہاد فی سبیل اللہ کا ذکر فرمایا۔ اور ایمان باللہ کا کہ یہ افضل اعمال میں سے ہے لہذا ایک آدمی نے کھڑے ہو کر سوال کیا یا رسول اللہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف ہو جائیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دیا کہ جی ہاں معاف ہو جائیں گے۔ بشرطیکہ اگر تو اللہ کی راہ میں مارا جائے اس حال میں کہ تو صابر ہو ثواب حاصل ہونے کی نیت رکھتا ہو آگے بڑھنے والا ہو پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہ ہو۔ پھر حضور نے فرمایا کہ تم نے کیسے کہا تھا؟ (یعنی دوبارہ سوال دہرائیے) اس نے پھر کہا کہ یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤ تو کیا مجھ سے میرے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے؟ پھر دوبارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیتے ہوئے فرمایا جی ہاں بشرطیکہ آپ صبر کرنے والے ثواب کی امید رکھنے والے میرے جہاد میں آگے بڑھنے والے ہوں پیچھے ہٹنے والے نہ ہوں مگر قرض بے شک جبرائیل نے مجھ سے یہ بات کہی ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتیبہ سے اس نے لیث بن سعد سے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← الليث أن سعيد المقبري ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَحْيَى بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Thirty-eighth people of faith › Separation of debt repayment · Hadith 5533

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في المطاعم والمشارب وما يجب التورع عنه منها · حديث 5585

5586 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين الجوزي ثنا أبو بكر عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا محمد بن عبد الله بن سريع البصري ثنا الفضل بن سليمان النميري ثنا عمر بن سعيد عن الزهري قال : أخبرني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث عن أبيه عبد الرحمن قال : سمعت عثمان خطيبا فقال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اجتنبوا أم الخبائث فإنه كان رجل فيمن كان قبلكم يتعبد ويعتزل النساء امرأة فأرسلت إليه خادمها إنا ندعوك لشهادة فدخل فطفقت كلما دخل عليها بابا أغلقته دونه حتى أفضى إلى امرأة وضيئة جالسة وعندها غلام وباطية فيها خمر فقالت أنا لم أدعك لشهادة ولكن دعوتك لتقتل هذا الغلام أو تقع علي أو تشرب كأسا من هذا الخمر فإن أبيت صحت وفضحتك فلما رأى أنه لا بد من ذلك قال : اسقني كأسا من هذا الخمر فسقيته كأسا من الخمر ثم قال : زيديني فلم ير حتى وقع عليها وقتل النفس فاجتنبوا الخمر فإنه والله لا فإنه والله لا يجتمع الإيمان وإدمان الخمر في صدر رجل أبدا ليوشكن أحدهما أن يخرج صاحبه ورفع عمر بن سعيد بن شريج هذا وقد

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابو بکر عبداللہ بن محمد بن ابی الدنیا نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سریع بصری نے ان کو فضل بن سلیمان نمیری نے ان کو عمر بن سعید نے ان کو زہری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عثمان سے وہ خطبہ دے رہے تھے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا فرما رہے تھے۔ کہ تمام برائیوں کی جڑ سے بچو بے شک تم سے پہلی امتوں میں ایک آدمی تھا وہ بہت عبادت گزار تھا عورتوں سے علیٰحدہ رہتا تھا اس کو ایک گمراہ عورت ملی اس عورت نے اس عابد کے پاس اپنے خادم کو بھیجا اور کہا کہ اس سے کہو ہم تمہیں ایک شہادۃ کے لئے بلاتے ہیں۔ وہ اس کے بلانے پر چلے گئے جیسے ہی وہ ایک دروازے سے داخل ہوتے وہ درواز و اس کے پیچھے سے بند کر دیا جاتا حتٰی کہ دو ایک خوبصورت عورت کے پاس پہنی گئے۔ جو بیٹھی ہوئی تھی اور اس کے پاس ایک لڑکا اور شراب بھری ہوئی تھی۔ کہنے گی ہم نے آپ کو کسی گواہی وغیرہ کے لئے نہیں بلایا لیکن میں نے تجھے اس لئے بلایا ہے کہ تم اس لڑکے قتل کر دو۔ یا میرے ساتھ زنا کر دیا شراب کا پیالہ پی جاؤ اگر تم نے انکار کیا تو میں تمہیں رسوا کر دوں گی۔ جب اس عابد نے دیکھا کہ اس مصیبت سے نکلنے کا کوئی چارہ نہیں ہے (تو اس نے یہ سوچ کر کہ یہ چھوٹی مصیبت ہے قتل اور زنا بڑی مصیبت سے بچ جاؤں) یہ مان لیا کہ ٹھیک ہے مجھے شراب کا پیالہ پلا دو۔ اس نے اسے شراب کا پیالہ پلا دیا اس کے بعد کہنے لگا کہ مجھے اور دے دیجئے۔ (شراب پینا تھا کہ) اس عورت کے ساتھ اس نے بدکاری کر لی۔ اور جس کوقتل کرنے کا کہا تھا اس کو اس نے قتل بھی کر دیا (تو معلوم ہوا کہ شراب ام الخبائث ہے تمام برائیوں کی اصل اور جڑ ہے) لہٰذا شراب سے اجتناب کرو بے شک حال یہ ہے کہ اللہ کی قسم ایمان اور دائمی شراب خوری جمع نہیں ہو سکتے ایک آدمی کے سینے میں کبھی بھی۔البتہ قریب ہے کہ دونوں میں سے ایک اپنے دوسرے کو نکال باہر کرے۔ عمر بن سعید بن سریج نے اس کو مرفوع روایت کیا ہے۔

عثمان خطيبا ← أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ← الزُّهْرِيِّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الفضل بن سليمان النميري ← محمد بن عبد الله بن سريع البصري ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الله بن محمد بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، ← أبو الحسين الجوزي، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › It is a chapter in restaurants and bars and what must be avoided · Hadith 5585

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5631

5632 - وأخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان أبي سعيد ثنا القعنبي فيما قرأ على مالك وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه حدثنا الحارث بن أبي أسامة ثنا إسحاق بن عيسى الطباع عن مالك عن سهيل عن أبيه عن الفقيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ضاف ضيف وهو كافر فأمر له رسول الله صلى الله عليه و سلم بشاة حلبت فشرب ثم أخرى فشرب حتى شرب حلاب سبع شياه ثم أصبح فأسلم فأمر له رسول الله صلى الله عليه و سلم بشاة فشرب حلابها ثم أمر بأخرى فلم يستتمها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المؤمن يشرب في معي واحد والكافر يأكل في سبعة أمعاء وفي رواية القعنبي بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم أمر له بأخرى فلم يستتمها فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المسلم يشرب في معي واحد والكافر يشرب في سبعة أمعاء رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن رافع عن إسحاق بن عيسى قال الشيخ : وقد أشار أبو عبيد في معنى الحديث إلى هذه الرواية المفسرة فلم أر الحليمي رضيه فكأن الحليمي لم يحفظ هذه الرواية ثم قال في آخر كلامه وإن كان إنما قاله حين وصف له رجل بعينه فمعناه إذا أن الذي يليق بالكافر أن يكثر أكله وبالمؤمن أن يذر أكله لأن الكافر لا يقصد إلا تسكين المجاعة وقضاء الشهوة والمؤمن يدع البعض لأنه حرام ويدع البعض إيثارا به على نفسه ويدع التخلي لئلا يثقل فتنقطع العبادة ويدع بعض البعض لفرط ما فيه من النعمة ضيفة ألا يستطيع القيام بشكره ويدع البعض رياضة لنفسه وقمعا لشهوته حتى لا يستقصى عليه ويدع البعض لئلا يعتاده فإن لم يجده في وقت اشتد ذلك أو وجد من ذلك في نفسه والكافر ليس به إلا ملء بطنه لأن هذه الوجوه كلها إنما تبعث عن النظر من قبلها الإيمان والتقوى فهو لا يترك لأجلهما شيئا وإنما أمامه شهوته دون ما عداها والمعي في هذا الحديث المعدة ومعناه أنه يأكل الكافر أكل من له سبعة أمعاء والمؤمن لخفة أكله يأكل أكل من ليس له إلا معي واحد والله أعلم وقرأت في كتاب الغريبين قال : قال أبو عبيد : نرى ذلك بتسمية المؤمن عند طعامه فيكون فيه البركة والكافر لا يفعل ذلك وقيل إنه خاص لرجل قال : غيره وفيه وجه أحسن من ذلك كله وهو أنه مثل ضربه النبي صلى الله عليه و سلم للمؤمن وزهد في الدنيا والكافر وحرصه عليها ولهذا قيل الرغب شؤم لأنه يحمل صاحبه على اقتحام النار وليس معناه كثرة الأكل دون اتساع الرغبة في الدنيا وذكر أبو سليمان هذه الوجوه اللفظ مختلف والمعي واحد ثم قال : وقد قيل إن الناس في الأكل على طبقات فطائفة يأكلون كلما وجدوا مطعوما عن حاجة إليه وعن غير حاجة وهذا فعل أهل الجهل والغفلة الذين شاكلت طباعهم طباع البهائم وطائفة يأكلون إذا جاعوا فإذا ارتفع الجوع أمسكوا وهذه عادة المقتصدين من الناس والمتماسكين منهم في الشمائل والأخلاق وطائفة يتجوعون و يرتاضون الجوع قمعا لشهوات النفوس فلا يأكلون إلا عند الضرورة ولا يزيدون منه على ما يكسر غرب الجوع وهذا من عادة الأبرار وشمائل الصالحين الأخيار

اور ہمیں خبر دی ابو زکریا یحییٰ بن ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو وہ پڑھتے تھے مالک پر۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو النضر فقیہ نے ان کو حارث بن ابو اسامہ نے ان کو اسحٰق بن ابو عیسیٰ طباع نے ان کو مالک نے ان کو سہیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی مہمان ہوا مگر وہ کافر تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری کا دودھ نکال کر پلانے کا حکم فرمایا وہ پی گیا۔ اس کے بعد دوسری بکری دوہنے اور پلانے کا حکم فرمایا وہ بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ایک بکری دودھ کر پلانے کا حکم فرمایا اس نے پی لیا اس کے بعد دوسری بکری کا دودھ پلانے کا حکم دیا تو اس نے پورا نہیں پیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے اور قعنبی کی ایک روایت میں ہے ایک بکری کا دودھ نکال کر لایا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا اس کے بعد دوسری بکری کا دودھ پورا نہیں پی سکا لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن رافع سے اس نے اسحٰق بن عیسیٰ سے۔ شیخ نے فرمایا کہ تحقیق اشارہ کیا ہے ابو عبید نے حدیث کے معنی میں اس واضح روایت کی طرف میں نے نہیں دیکھا کہ حلیمی نے اس کو پسند کیا ہو۔ گویا کہ شیخ حلیمی نے اس روایت کو محفوظ نہیں کیا اس کے بعد اس نے آخر کلام میں کہا کہ اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ حدیث میں جو بات کہی ہے وہ ایک خاص اور متعین شخص کی صفت بیان کی تھی تاہم اس کا معنی وہ ہے جو کافر کی حالت کے مطابق ہے کہ وہ کثرت کے ساتھ کھاتا ہے اور مؤمن کی حالت سے جو مطابقت رکھتا ہے وہ زیادہ کھانا ترک کر دیتا ہے۔ کیونکہ کافر کا مقصد صرف اور صرف بھوک کی تسکین اور شہوت پیٹ کی تکمیل ہوتا ہے۔اور مؤمن کچھ چھوڑتا ہے کیونکہ حرام ہے اور کچھ چھوڑتا ہے ایثار کے لئے اپنے نفس پر اور چھوڑ دیتا ہے تخلی کے لئے تاکہ بوجھل نہ ہو ورنہ عبادت رہ جائے گی اور کچھ کو چھوڑ دیتا ہے بوجہ اس زیادتی کے جو نعمت میں ہے کہ بطور ضیافت کے واسطے شکر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اور کچھ چھوڑ دیتا ہے اپنے نفس کی ریاضت کے لئے اس شہوت کا قلع قمع کرنے کے لئے حتٰی کہ اس پر غلبہ نہ ہو سکے اور کچھ چھوڑ دے گا تاکہ اس کی عادت نہ ہو جائے۔ اگر وہ اس کو ایک وقت میں نہ پائے گا تو اس پر مشکل گزرے گی یا اپنے نفس میں وہ اس سے کوئی پر پیشانی پائے گا اور کافر کے ساتھ ان مذکورہ باتوں میں سے کوئی ایک بھی نہیں ہو گی کیونکہ یہ تمام وجوہ ابھرتے ہیں اس نظریئے سے جس سے پہلے ایمان ہو تقویٰ ہو چنانچہ کافر ان کی وجہ سے کسی شئی کو نہیں چھوڑ سکتا اس کے سامنے تو محض اس کی خواہش نفس ہی ہوتی ہے ماسوا سب کچھ کے۔اور ایک آنت سے مراد اس حدیث میں معدہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ کافر ایسے کھاتا ہے جیسے وہ آدمی کھائے جس کے سات معدے ہوں اور مؤمن اپنے پہلے کھانے کی وجہ ایسے کھاتا ہے جیسے وہ شخص جس کی صرف ایک ہی آ نت ہو۔ تحقیق میں نے کتاب الغریبین میں پڑھاوہ کہتے ہیں کہ کہا ابو عبید نے ہمارا نظریہ یہ ہے کہ مذکورہ ہات یعنی ایک آنت والی یا کم کھانے والی اس لئے ہے کہ مؤمن کھاتے وقت اللہ کے نام کے ساتھ یعنی بسم اللہ پڑھ کر کھاتا ہے لہٰذا کھانے میں برکت ہو جاتی ہے۔ اور کافر بسم اللہ پڑھ کر نہیں کھاتا۔ اور یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ یہ بات نام ہے آدمی کے ساتھ۔ ابو عبید کے علاوہ نے کہا ہے کہ اس میں ایک اور وجہ ہے جوان سب سے زیادہ احسن ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ ایک مثال ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمن کے لئے اور اس کے دنیا سے لاتعلق ہونے کے بارے میں دی ہے اور کافر کے بارے میں اور اس کی دنیا کی حرص کے بارے میں دی ہے۔ اور اسی لئے کہا گیا ہے کہ دنیا کا حریص منحوس ہے اس لئے کہ اپنے ساتھی کو آگ میں گھسنے پر ابھارتا ہے اور زیادہ کھانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا میں زیادہ رغبت کے نہ ہونے کے باوجود زیادہ کھاتا ہے۔ اور ذکر کیا ہے ابو سلیمان نے جس کے لفظ مختلف ہیں اور معنی واحد ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ تحقیق یہ کہا گیا ہے کہ کھانے کے حوالے سے لوگوں کے مختلف طبقات ہیں۔ ایک طبقہ تو وہ ہے کہ جب بھی کھانے کی چیز مل جائے خواہ کھانے کی ضرورت ہو یا نہ ہو وہ ہر وقت کھاتے ہیں یہ اہل جہالت واہل غفلت کا شیوہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی طبائع جانوروں کی جیسی ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو اس وقت کھاتے میں جب بھوک لگتی ہے جب بھوک رفع ہو جاتی ہے وہ کھانے سے رک جاتے ہیں۔ یہ عادت میانہ روی کرنے والوں کی ہے لوگوں میں سے اور ان لوگوں کی ہے جو شمائل و اخلاق میں ایک دوسرے سے تمسک کرتے ہیں۔ تیسر اطبقہ وہ ہے جو زبردستی بھوکے رہتے ہیں اور بھوکا رہنے کو پسند کرتے ہیں نفسوں کی خواہشات کا قلع قمع کرنے کے لئے لہٰذا وہ لوگ صرف ضرورت کے وقت ہی کھاتے میں ضرورت سے زیادہ بالکل نہیں کھاتے بس اتنا کھاتے ہیں جس سے بھوک کی تیزی اور زور ٹوٹ جائے اور یہ بات نیک لوگوں کی عادات میں سے ہے اور ایک اور پرہیزگار لوگوں کی سیرت میں سے ہے۔

الفقيه ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← القعنبي فيما قرأ على مالك وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ← عثمان أبي سعيد ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← وأخبرنا أبو زكريا يحيى بن إبراهيم بن محمد بن يحيى

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5631

شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5745

5746 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا هشام بن أبي عبد الله وأخبرنا الحسين بن بشران أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز ثنا محمد بن أحمد بن أبي العوام ثنا أبو عامر ثنا هشام الدستوائي عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن أبي سلام عن جده ممطور عن أبي أمامة : أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما الإيمان قال : إذا ساءتك سيئاتك وسرتك حسناتك فأنت مؤمن قال : فما الإثم قال : إذا حك في صدرك شيء فدعه وفي رواية مسلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سأله رجل فقال : يا رسول الله ما الإيمان قال : إذا سرتك حسنك وساءتك سيئتك فأنت مؤمن قال : يا رسول الله ما الإثم قال : إذا حك في صدرك شيء فدعه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ قاضی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو ہشام بن ابو عبداللہ نے۔اور ہمیں خبر دی حسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمرو رزانہ نے ان کو محمد بن احمد بن ابو العوام نے ان کو ابو عامر نے ان کو ہشام دستوائی نے ان کو یحییٰ، بن ابی کثیر نے ان کو زید بن ابی سلام نے ان کو ان کے دادا ممطور نے ان کو ابو امامہ نے کہ ایک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ فرمایا: جب تیری برائی تجھے بری لگے اور تیری نیکیاں تجھے اچھی لگیں بس تو مومن ہے۔ اس نے پو چھا کہ گناہ کیا ہے؟ فرمایا کہ جب تیرے دل میں کچھ کھٹکے پس تو اس کو چھوڑ دے اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمسے ایک ّدمی نے پوچھا یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب تیری اچھائی تجھے اچھی لگے اور تیری برائی تجھے بری لگے پس تو مومن یت اس نے پوچھایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گنا ہ کیا ہے؟ فرمایا کہ جب تیرے دل میں کسی شئی کے بارے میں کھٹکا ہو بس اس کو چھوڑ دے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَامٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← الحسين بن بشران ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5745

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ الباب الثالث و العشرون من شعب الإيمان و هو : باب في الصيام ـ · حديث 3575

3575 - أخبرنا علي بن محمد المقرىء ثنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا حفص بن عمر ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن جري عن رجل من بني سليم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أخذ بيده فإما عقدهن بيده و إما عقدهن بيد السليمي و قال : سبحان الله نصف الميزان و الحمد لله تملأ الميزان و الله أكبر تملأ ما بين السماء و الأرض و الوضوء نصف الإيمان و الصيام نصف الصبر قال الحليمي رحمه الله : و هذا و الله أعلم على أن جماع العبادات فعل أشياء و كف عن أشياء و الصوم يقمع الشهوات فيتيسر به الكف عن المحارم و هو شطر الصبر لأنه صبر عن الشهوات فيتيسر به الكف عن المحارم و هو شطر الصبر لأنه صبر عن الشهوات و يبقى و رواءه الصبر عن المشاق و هو تخلف الأفعال المأمور بها فهما صبران صبر عن أشياء و صبر على أشياء و الصوم يعين على أحدهما فهو إذا نصف الصبر و منها أنه سماه فرضا مجزيا و في خبر آخر زكاة و يرجع معناهما إلى أنه ينقص من قوة البدن و ينحل الجسم فيكون الصائم كأنه أخرج شيئا من جسده لوجه الله و هو يجزيه به

ہمیں خبر دی علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو حفص بن عمر نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو اسحٰق نے انکو جری نے ان کو ایک آدمی نے بنی سلیم سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا پھر ان کو اپنے ہاتھ میں بند کر لیا مٹھی بنا کر یا اپنے ہاتھ کو مٹھی بنا لیا سلیمی کے ہاتھ کے ساتھ اور فرمایا: سبحان اللہ آدھا ترازو ہے ۔ اور الحمد للہ ترازو کو بھر دیتا ہے۔ اور اللہ اکبر بھر دیتا ہے اس خلا کو جو آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ اور وضو نصف ایمان ہے اور روزے نصف صبر ہیں شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ تحقیق اس بنا پر ہے کہ عبادات کو جمع کرنے والا کچھ چیز کرتا ہے اور کچھ چیزوں سے رک جاتا ہے۔ اور روزہ خواہشات و شہوات کا قلع قمع کرتا ہے لہذا اس کے ذریعے محارم سے رکنا آسان ہو جاتا ہے اور محارم سے رک جانا آدھا صبر ہے اس لئے کہ وہ شہوات سے صبر کرنا ہے۔ اور باقی رہتا ہے اس کے بعد نصف صبر وہ ہے فعل مامور بہا سے تخلف۔ پس وہ دو صبر ہیں۔ ایک ہے اشیاء سے صبر کرنا اور دوسرا ہے اشیاء پر صبر کرنا اور روزہ دونوں میں سے ایک پر اعانت کرتا ہے لہٰذا اس لیے وہ نصف صبر ہے۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← جري ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← علي بن محمد المقرىء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The twenty-third chapter of the people of faith, which is: A chapter on fasting · Hadith 3575

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10126

10126 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا المعمري نا شيبان بن فروخ نا سويد بن إبراهيم أبو حاتم حدثني عباس عن الحارث بن يزيد عن علي بن رباح عن جنادة بن أبي أمية عن عبادة بن الصامت قال : بينا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه رجل فقال يا رسول الله أي الأعمال أفضل ؟ قال : الإيمان بالله و تصديق به و جهاد في سبيل الله و حج مبرور فلما ولى الرجل قال : و أهون عليك من ذلك إطعام الطعام و لين الكلام و السماحة و حسن الخلق فلما ولى الرجل قال : أهون عليك من ذلك أن لا تتهم الله في شيء قضاه عليك

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معمری نے ان کو شیبان بن فروخ نے ان کو سوید بن ابراہیم ابو حاتم نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی عباس نے ان کو حارث بن یزید نے ان کو علی بن رباح نے ان کو جنادہ بن ابو امیہ نے ان کو حضرت عبادہ بن صامت نے وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ کون ساعمل افضل ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے ساتھ تصدیق کرنا اور جہاد فی سبیل اللہ اور حج مقبول ۔ جب وہ آدمی واپس لوٹنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ تیرے لئے اس سے آسان ترین اعمال ہیں کھانا کھلانا، نرمی سے بات کرنا، سخاوت کرنا، حسن خلق سے پیش آنا ۔ جب وہ آدمی واپس لوٹنے لگا تو آپ نے فرمایا کہ تیرے لئے اس سے آسان تر عمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی قضا میں جو تیرے خلاف ہو اللہ تعالیٰ کو الزام اور تہمت نہ دینا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← عَبَّاسٍ ← سُوَيْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو حَاتِمٍ ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← الْمَعْمَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10126

chevron_left Previous
1…434445…484
Next chevron_right