شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 337
337 - أخبرنا أبو عبد الله و أحمد بن الحسن و محمد بن موسى قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو الجواب عن عمار بن زريق عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني لأحدث نفسي بالحديث لأن أخر من السماء أحب إلي من أن أتكلم به قال ذلك صريح الإيمان
رواه مسلم في الصحيح عن الصغاني
و رواه سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال :
جاء ناس من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله إنا نجد في أنفسنا الشيء ما نحب أن نتكلم به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أو قد وجدتموه ؟ قالوا : نعم قال : ذلك صريح الإيمان
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے اور احمد بن حسن نے اور محمد بن موسیٰ نے۔۔۔ لوگوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوا لعباس محمد بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن اسحٰق صنعانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الجواب عمار بن زریق سے انہوں نے اعمش سے ، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے کہا : ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بعض اوقات دل میں ایسی بت کرتا ہوں جس کو زبان پر لانا یا بتا نا اتنی مشکل ہے جتنی کہ میرا آسمان سے نیچے گر جانا مشکل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذالک صریح الایمان یہ تو واضح ایمان ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں صنعانی سے۔ اور اس کو روایت کیا ہے سہل بن ابی صالح نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ انہوں نے کہا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کچھ لوگ آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگ اپنے نفسوں میں کوئی بات پاتے ہیں جسے ہم زبان پر لانا پسند نہیں کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،کیا تم یہ کیفیت پاتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا، جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، یہی صریح ایمان ہے۔
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عمار بن زريق ← أَبُو الْجَوَّابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله و أحمد بن الحسن و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 337
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 339
339 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه من أصل سماعه ثنا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب قال : سمعت علي بن عثام يقول : أتيت سعير بن خميس فسألته عن حديث الوسوسة فلم يحدثني فأدبرت أبكي ثم لقيني فقال لي حدثنا مغيرة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال سألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الرجل يجد الشيء لو خر من السماء فتخطفه الطير كان أحب إليه من أن يتكلم به قال : ذاك محض أو صريح الإيمان
رواه مسلم في الصحيح عن يوسف بن يعقوب الصفار عن علي بن عثام
قال البيهقي رحمه الله و رواه جرير و سليمان التيمي و أبو عوانة و أبو جعفر الرازي عن مغيرة عن إبراهيم مرسلا و هو فيما ذكره شيخنا أبو عبد الله عن أبي علي الحافظ
ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے اپنے اصل سماع سے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا تھا علی بن عثام سے وہ کہتے تھے میں سعیر بن خمس کے پاس آیا اور میں نے اس سے پوچھا ، وسوسہ والی حدیث کے بارے میں؟ اس نے مجھے حدیث بیان نہیں کی۔ میں روتا ہوا واپس ہو گیا۔ پھر بعد میں وہ مجھے خود ملے تو مجھ سے فرمایا ہمیں حدیث بیان کی ہے مغیرہ نے ابراہیم بن علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ سے، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو دل میں کوئی خیال پاتا ہو۔ اگر وہ آسمان سے گرے اور اس کو پرندے اچک لیں تو یہ بات اس کو زیادہ محبوب ہوتی ہے اس سے کہ وہ اس بات کو زبان پر لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ یہ تومحض ایمان ہے یا فرمایا کہ صریح ایمان ہے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں یوسف بن یعقوب صفار سے ، انہوں نے علی بن عثام سے روایت کیاہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس کو روایت کیا ہے جریرنے اور سلیمان تیمی نے اور ابو عوانہ نے اور ابو جعفر نے مغیرہ سے،ا نہوں نے ابراہیم سے مرسلاً جس میں اس کوہمارے شیخ ابو عبداللہ نے ابو علی حافظ سے روایت کیا ہے۔
عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← لِي ← حديث الوسوسة فلم يحدثني فأدبرت أبكي ثم لقيني ← أتيت سعير بن خميس فسألته ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أبو طاهر الفقيه من أصل سماعه
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 339
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 343
343 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل ثنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني عبد العزيز بن عبد الله الأويسي ثنا إبراهيم بن سعد عن ابن شهاب عن يحيى بن عمارة أبي حسن المازني بلغه : أن رجالا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن الوسوسة التي يوسوس بها الشيطان في أنفسهم فقالوا :
يا رسول الله أشياء نجدها في أنفسنا يسقط أحدنا من عن الثريا أحب إليه من أن يتكلم به فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أوجدتم ذلك ؟ ذاك صريح الإيمان إن الشيطان يريد أن يوقع العبد فيما دون ذلك فإذا عصم منه وقع فيما هنالك
قال البيهقي رحمه الله و إنما الإيمان اغتمامه بما وقع في قلبه مما لا طاقة له بدفعه و كراهيته له و إشفاقه محبة و بالله العصمة
فصل في القصاص من المظالم
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن فضل نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن جعفر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یعقوب بن سفیان نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے ، انہوں نے یحییٰ بن عمارہ بن ابی حسن مازنی سے، اس کو خبر پہنچی ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے کچھ جوانوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وسوسہ کے بارے میں سوال کیا جن کا شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگ اپنے نفسوں میں اور دلوں میں ایسے ایسے خیال پاتے ہیں کہ اگر ہم ثریا ستارے پر جا کر نیچے گر جائیں (اور ہلاک ہو جائیں) تو یہ ہمیں پسند ہو گا ، مگر اس خیال کے ساتھ کلام کرنا پسند نہیں ہو گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ واقعی تم ایسے ایسے خیالات پاتے ہو؟ یہ تو صریح صاف ایما ن ہے۔ (کہ بری بات کو زبان پر لانا بھی گوارا نہ ہو ، اور برائی دور کی بات ہے اس کو زبان پر لانا بھی اس قدر برا محسوس ہو) بے شک شیطان یہ چاہتا ہے کہ وہ بندے کو ایسی ایسی برائی میں واقع کر دے۔ مگر جب بندہ ایسی برائی سے محفوظ رہتا ہے تو پھر وہ اسی برے خیال میں واقع کر دیتا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بے شک کسی انسان کا دل برے خیال کے آنے پر غمگین ہو جاتا ہے جو کہ انسان کے اپنے اختیار سے نہیں آیا۔ جس کے روکنے پر وہ قادر بھی نہیں ہوتا اور ایسےبرے خیال سے کراہت کرنا اور اس سے ڈرنا اللہ کی محبت ہے اور حفاظت تو در حقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو برائیوں سے اور برے خیالات سے حفاظت فرمائے اوراپنے خصوصی فضل و کرم سے ہمارے مغفرت فرمائے اور آخرت میں عذاب جہنم سے بچائے اور دخول جنت سے سرفراز فرمائے۔ آمین یا رب العالمین (مترجم)۔
يحيى بن عمارة أبي حسن المازني بلغه ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 343
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل فيما يجاوز الله عن عباده و لا يؤاخذهم به فضلا منه و رحمة · حديث 344
344 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن نعيم ثنا قتيبة بن سعيد ثنا إسماعيل بن جعفر عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
قال : أتدرون من المفلس ؟ قالوا : المفلس من لا درهم له و لا متاع فقال : إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة و صيام و زكاة و يأتي قد شتم هذا و قذف هذا و أكل مال هذا و سفك دم هذا و ضرب هذا من حسناته و هذا من حسناته فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار
رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة
قال البيهقي رحمه الله و قد ذكرنا متن هذا الحديث في باب زيادة الإيمان و نقصانه و قد ذكرنا تفسيره و هو أن من لم ير إحباط الحسنة بالسيئة في الإيمان يقول : يعطي خصمه من أجر حسناته الذي تقابل عقوبة سيئاته و لا يذهب جميعه لأن أجر حسناته لا نهاية له و عقوبة سيئاته له نهاية فلا يستحق ما لا نهاية له بما له نهاية و قوله : إن فنيت حسناته يعني آخرها قابل منها بسببه و الله أعلم
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن نعیم نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن جعفر نے علاء بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ غریب مفلس کون ہے؟صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو، سامان ضرورت نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے ، زکوٰۃ (غرضیکہ ساری نیکیاں لے کر آئے مگر اس نے (دنیا میں) کسی کو گالی دی ہو گی، کسی کو تہمت لگائی ہو گی ، کسی کامال کھایا ہو گا۔ کسی کا ناحق خون بہایا ہو گا۔ کسی کوپیٹا ہوگا۔ لہذا سب کو باری باری اس کی نیکیاں اس کی زیادتیوں کے بدلے چکانے کے لئے) دی جائیں گی۔ پھر اگر اس کی نیکیاں اس کےمظالم کا بدلہ پورا کرنے سےپہلے ختم ہو گئیں (تو بدلہ پورا کرنے کے لئے) مظلوموں اور زیادتی شدہ لوگوں کے گناہ لے کر اسی بندے کے اوپر ڈالے جائیں گے (اب صورتحال کچھ یوں ہو جائے گی کہ نیکیاں ساری برباد اور گنام لازم ، وہ بھی دوسروں کے گناہ۔ اب وہ غریب اور مفلس ترین انسان ہو گا، آخرت کےاور اعمال کے اعتبار سے)پھر اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ( اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے بچائے) اس کومسلم نے صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے۔ قول بیہقی رحمۃ اللہ علیہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس حدیث کا متن باب زیادۃ الایمان و نقصانہ میں ذکر کیا ہے اور اس کی وضاحت بھی ذکر کی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ جو لوگ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہوں کےبدلے میں نیکیاں برباد ہو جائیں گی وہ کہتے ہیں کہ خصم کو اور دعویدار کو اس کی نیکیوں کے اجر میں سے دیا جائے گا ۔ ان نیکیوں کا اجر جو اس کے گناہوں کی سزا کے بدلے میں ہوں گی، تمام نیکیاں گناہ کے بدلے میں نہیں جائیں گی۔ اسلئے کہ نیکیوں کے اجر کی انتہاء نہیں ہوتی اور گناہوں کی سزا کی حدود انتہاء ہوتی ہے۔ لہذا جس چیز کی حدود انتہاء ہے۔ اس کے بدلے میں وہ چیز لینا جس کی حد نہیں ہے۔ یہ کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہو گا۔ باقی رہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول: ان فنیت حسناتہ۔ اگر اس کی نیکیاں فنا ہو گئیں سے آپ کی مراد ہے ان کا آخر ہو جانا یعنی آخری نیکی اس کی نیکیوں میں سے جو سب کے مقابل ہو گی۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy · Hadith 344
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 351
351 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم ثنا أحمد بن سلمة ثنا محمد بن بشار ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة عن النعمان بن سالم قال : سمعت يعقوب بن عاصم بن عروة بن مسعود قال : سمعت رجلا قال لعبد الله بن عمرو : إنك تقول الساعة تقوم كذا و كذا فقال : لقد هممت ألا أحدثكم بشيء إنما قلت إنكم ترون بعد قليل أمرا عظيما فكان حريق البيت فقال شعبة هذا أو نحوه قال عبد الله بن عمرو قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
يخرج الدجال في أمتي فيمكث فيهم أربعين لا ندري أربعين يوما أو أربعين شهرا أو أربعين عاما فيبعث الله عز و جل عيسى ابن مريم كأنه عروة بن مسعود الثقفي فيطلبه فيهلكه ثم يلبث الناس بعده سبع سنين ليس بين اثنين عداوة ثم يرسل الله عز و جل ريحا باردا من قبل الشام فلا يبقى أحد في قلبه مثقال ذرة من الإيمان إلا قبضته حتى لو أن أحدكم دخل في كبد جبل لدخلت عليه قال سمعتها من رسول الله صلى الله عليه و سلم و يبقى شرار الناس في خفة الطير و أحلام السباع لا يعرفون معروفا و لا ينكرون منكرا فيتمثل لهم الشيطان فيقول ألا تستحيون فيأمرهم بالأوثان فيعبدونها و هم في ذلك دارة أرزاقهم حسن عيشهم ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغى ليتا ـ و رفع فيدار ( و هو خطأ ) إحدى منكبيه ـ و أول من يسمعه يلوط حوضه فيصعق ثم لا يبقى أحد إلا صعق ثم يرسل أو ينزل الله مطرا كأنه الطل أو الظل ـ النعمان الشاك ـ فينبت منه أجساد الناس ثم ينفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون ثم يقال يا أيها الناس هلموا إلى ربكم عز و جل وقفوهم إنهم مسؤولون ثم يقال أخرجوا بعث النار فيقال كم ؟ فيقال من كل ألف تسعمائة و تسعة و تسعون
قال محمد بن جعفر و حدثني شعبة بهذا الحديث مرات و عرضته عليه
رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن بشار
قال البيهقي رحمه الله و لم يذكر عبد الله بن عمرو في هذا الحديث سائر الاعلام من خروج يأجوج و مأجوج و الدابة و طلوع الشمس من مغربها و قد ذكر غيره خروج يأجوج و مأجوج بعد نزول عيسى بن مريم و إرسال الله عليهم النغف و موتهم في قيام الساعة بعد ذلك و ذكر هو عن النبي صلى الله عليه و سلم أن أول الآيات خروجا طلوع الشمس من مغربها و خروج الدابة على الناس ضحى فأيهما كانت قبل صاحبتها فالأخرى على أثرها و قال من قبل نفسه : فأظن أولها خروجا طلوع الشمس من مغربها و إنما قال ذلك عبد الله بن عمرو حين أخبر بقول مروان بن الحكم أن أول الآيات خروجا الدجال فإذا كان حديث عبد الله صحيحا فهو أولى من غيره و هو صحيح لا شك فيه لصحة إسناده و الله أعلم و لا شك في كون هذه الآيات قبل النفخ في الصور تقدم بعضها أو تأخر و كلما هو آت قريب
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ، ان کو محمد بن بشار نے ان کو محمد بن جعفر نے ، ان کو شعبہ نے ان کو نعمان بن سالم نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ایک آدمی سے اس نے کہا میں نے سنا عبداللہ بن عمرو سے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ قیامت ایسے ایسے قائم ہو گی۔ انہوں نے فرمایا میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا۔ میں کہتا ہوں کہ تم لوگ تھوڑے ہی دنوں کے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے (تھوڑے ہی دنوں کے بعد ) بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ پیش آ گیا ۔ شعبہ نے کہا یہ بات یہ اس جیسی بات۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں دجال نکلے گا اور وہ چالیس رہے گا ان میں۔ میں نہیں جانتا کہ دن، مہینے یا سال۔ پھر اللہ تعالیٰ ان میں عیسیٰ بن مریم کو بھیجیں گے ۔ وہ عروہ بن مسعود ثقفی جیسے ہوں گے۔ آ کر دجال کو تلاش کریں گے اور اس کو قتل کر دیں گے۔ پھر سات برس تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ دو آدمیوں میں بھی جھگڑا نہیں ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلائیں گے۔ جس سے ہر وہ آدمی انتقال کر جائے گا۔ جس کے دل میں ایک ذرہ کے برابر ایمان ہو گا یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کے جگر میں داخل ہو جائے تو وہ ہوا اس پر بھی پہنچ جائے گی۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی اور بدترین لوگ زندہ باقی رہ جائیں گے۔ پرندوں کے ہلاک ہونے میں اور درندوں کے خوابوں میں (یعنی برائیوں کی طرف پرندوں کی طرح اڑ کر جائیں، اخلا میں درندوں کی طرح ) جو کسی نیکی کو نیکی نہیں سمجھیں گے اور کسی برائی کو برائی نہیں جانیں گے۔ شیطان ان کے سامنے بھیس بدل کر آئے گا اور ان سے کہے گا کیا تم لوگ شرم نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو کہے گا اور وہ بتوں کی عیادت کریں گے ۔ وہ اس کیفیت میں رزق کی فراوانی میں ہوں گے ، زندگی عیش کی ہو گی۔ اس کےبعد صور پھونک دیا جائے گا جو بھی سنے گا وہی کان لگائے گا اور کان لگاتے ہی مر جائے گا ۔ جو نظر اُٹھائے گا نیچے کرنے سے پہلے مر جائے گا جو کروٹ پھرے گا مڑنے سے پہلے مر جائے گا۔ پہلا شخص جو اس کی آواز سنے گا وہ پانی کو حوض پلاستر کر رہاہو گا سن کر بے ہوش ہو جائے گا۔ اس کے بعد کوئی بھی باقی نہیں رہےگا۔ سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش کریں گے۔ پھنوار کی طرح یا سائے کی طرح۔ نعمان کو شک ہے۔ اس بارش سے لوگوں کے جسم اگیں گے۔ اس کے بعد دوسری بار صور پھونکا جائے گا۔ (جس کے نتیجے میں لوگ) اچانک کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ (زندہ ہو کر) اس کے بعد لوگوں سے کہا جائے گا چلو تم اپنے رب کے پاس (اعلان ہو گا) روکو، ان کو ان کا حساب ہو گا۔ اس کے بعد کہا جائے گا کہ آگ اور جہنم کے لئے لوگوں کو نکالو۔ پوچھا جائے گا کہ کتنی تعداد میں؟ جواب آئے گا ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے جہنم میں بھیجو۔ محمد بن جعفر نے کہا کہ شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار بیان کی اور میں نے اس کو اس پر پیش بھی کیا تھا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں محمد بن بشار سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو نے اس حدیث میں تمام بڑی بڑی نشانیاں ذکر نہیں فرمائیں جیسے یا جوج ماجوج کا نکلنا۔ دلبۃ الارض کا ظہور۔ سورج کا مغرب سے طلوع ۔ عبداللہ بن عمرو کے سوا باقیوں نے عیسیٰ بن مریم کے نزول کے بعد یا جوج ماجوج کا خروج ذکر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یاجوج ماجوج پر وبائی مرض کے ساتھ موت بھیجناقیامت قائم ہونے پر اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ظہور کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا ہے اور دلبۃ الارض کا ظہور صبح چاشت کے وقت ہو گا۔ دونوں میں سے جو پہلے ظاہر ہو ئی دوسری چیز اس کے پیچھے ہو گی۔ پھر انہوں نے اپنی طرف سے یہ بات کہی کہ میرا گمان ہے کہ ظہور کے اعتبار سے پہلی نشانی سورج کا مغرب سے طلوع ہو نا ہو گا۔ ہاں یہ بات عبداللہ بن عمرو نے اس وقت کہی تھی جب انہوں نے مروان بن حکم کے قوم کے بارے میں خبر دی تھی کہ خروج کے اعتبار سے پہلی نشانی دجا ل کا ظہور ہو گا۔ جب حدیث عبداللہ صحیح ہے تو وہ اپنے ماسوا سے اولیٰ ہے۔ اور وہ صحیح ہے۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کی اسناد صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ ان نشانیوں کے صور پھونکنے سے قبل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ۔ بعض پہلے یا بعض بعد میں ہوں گی۔ مگر جو چیز آنے ولی ہے وہ قریب ہے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 351
شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 385
384 - حدثنا أبو سعد عبد الملطك بن أبي عثمان الزاهد إملاء أنا أبو عمرو بن مطر ثنا محمود بن محمد الواسطي ثنا وهب بن بقية أنا خالد بن عبد الله عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
لما خلق الله الجنة و النار أرسل جبريل عليه السلام إلى الجنة فقال : اذهب فانظر إليه و إلى ما أعددت لأهلها فيها فذهب فنظر إليها و إلى ما أعد الله لأهلها فيها فرجع فقال : وعزتك لا يسمع بها أحد إلا دخلها فأمر بالجنة فحفت بالمكاره فقال : ارجع فانظر إليها و إلى ما أعددت لأهلها فيها قال فنظر إليها ثم رجع فقال : و عزتك لقد خشيت أن لا يدخلها أحد قال : ثم أرسله إلى النار قال : اذهب فانظر إليها و إلى ما أعددت لأهلها فيها قال : فنظر إليها فإذا هي تركب بعضها بعضا ثم رجع فقال : و عزتك لا يدخلها أحد يسمع بها فأمر بها فحفت بالشهوات ثم قال : اذهب فانظر إليها وإلى ما أعددت لأهلها فيها فنظر إليها فرجع فقال : و عزتك لقد خشيت أن لا ينجو منها أحد إلا دخلها
قال البيهقي رحمه الله : و هذا باب كبير الأخبار فيها كثيرة و قد ذكرناها في الجزء الثامن من كتاب البعث و ذكرنا في الآخر بعده ما ورد من الآثار و الأخبار في صفة الجنة و عددها و صفة النار و عددها و صفة النار و عددها فأغنى ذلك عن الإعادة ها هنا
و دل الكتاب ثم السنة على أن عدد الجنان أربعة و ذلك لأنه قال في سورة الرحمن : { و لمن خاف مقام ربه جنتان } ثم وصفهما ثم قال { و من دونهما جنتان } ثم وصفهما
و روينا عن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : جنتان من ذهب آنيتهما و ما فيهما و جنتان من فضة آنيتهما و ما فيهما
و في رواية أخرى : جنتان من ذهب للسابقين و جنتان من ورق لأصحاب اليمين
و ذكر بعض أهل العلم أن جنة المأوى اسم للجميع و كذلك جنة عدن و جنة النعيم و دار الخلد و دار السلام
و يشبه أن يكون الفردوس أيضا اسما للجميع و قد قيل هي اسم لأعلاهن درجة
و أما أبواب الجنة فهن ثمانية روينا ذلك في حديث عمر و سهل بن سعد و غيرهما عن النبي صلى الله عليه و سلم
و روينا عن عتبة بن عبد السلمي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : و إن لها ـ يعني الجنة ـ ثمانية أبواب و لجهنم سبعة أبواب
و قد قال الله عز و جل في جهنم :
{ لها سبعة أبواب لكل باب منهم جزء مقسوم }
و روينا عن علي رضي الله عنه أنه قال : أبواب جهنم هكذا يعني بابا فوق باب
و روينا في حديث مرسل أنها سبعة أبواب جهنم و لظى و الحطمة و السعير و سقر و الجحيم و الهاوية
و قال بعض أهل العلم جهنم اسم لجميع الدركات و دركات سبع فذكر هذه و ذكر معهن الحريق
و أما إكرام الله المؤمنين بالنظر إليه فقد ذكرناه في كتاب الرؤية مع ما ورد فيه من الكتاب و السنة من أراد معرفته نظر فيه إن شاء الله
و عندي أنه لو وقف الحليمي رحمه الله على حديث أبي هريرة في صفة الإيمان و تأول اللقاء المذكور فيه على ما تأول عليه أبو سليمان الخطابي رحمه الله في جماعة من أصحابنا رحمهم الله لجعل الإيمان بلقاء الله تعالى ـ و هو رؤيته و النظر إليه كما وردت به الأخبار الصحيحة مع الآيات التي دلت عليه من كتاب الله عز و جل ـ شعبة من شعب الإيمان و بالله التوفيق
ہمیں خبر دی ہے بو سعیدعبدالملک بن ابی عثمان زاہد نے بطور املاء کے ان کو خبر دی ابو عمرو بن مطر نے ان کو محمود بن محمد واسطی نے ان کو وھب بن بقہ نے ان کو خالد بن عبداللہ ، ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : اللہ تعالیٰ نے جب جنت اور جہنم بنائی تو جبرائیل علیہ السلام کی جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ جاؤ جا کر جنت کو دیکھو اور میں نے اس میں جو اہل جنت کے لئے نعمتیں تیار کی ہیں وہ دیکھو جبرئیل گئے جنت دیکھی اور جنت میں اہل جنت کے لئے جو کچھ تیار کیا گیا ہے اس کو جا کر دیکھا۔ جبرئیل واپس آئے اور آ کر عرض کیا، تیری عزت کی قسم ہے جو بھی اس کے بارے میں سنے گا اس میں داخل ہونے سے نہیں روکے گا۔ ضرور اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کو مشکلات کی باڑ لگا دی گئی۔ پھر فرمایا جبرئیل واپس جاؤ اور جا کر جنت کو دیکھو اور میں نے اس میں جو کچھ جنت والوں کے لئے تیار کیا ہے۔ اس کو دیکھو فرمایا کہ جبرائیل نے جا کر دیکھا ۔ پھر واپس آ ئے اور کہا تیری عزت کی قسم ہے میں ڈرتا ہوں کہ اس میں تو اب کوئی بھی داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر جبرائیل کو بھیجا جہنم کی طرف ۔ فرمایا کہ جا تو اس کو دیکھ اور میں نے اہل جہنم کے لئے اس میں جو عذاب تیار کر رکھے ہیں ان کو دیکھ کر اس نے جا کر جہنم کو دیکھا اور وہ بعض بعض سے مرکب تھی۔ واپس لوٹا اور کہنے لگا تیری عزت کی قسم جو بھی اس کے (عذاب) کو سنے گا کوئی بھی اس میں داخل نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور وہ شہوات و لذات کی باڑ لگا دی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ اب جا کر اس کو دیکھ اور میں نے اس میں اہل جہنم کے لئے جو عذاب تیار کیا ہے اس کو بھی دیکھ اس نے جا کر اس کو دیکھا پھر واپس آیا اور عرض کیا تیری عزت کی قسم ہے میں تو اس بات سے ڈرتاہوں کہ اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا بلکہ ہر شخص اب تو جہنم میں داخل ہوجائے گا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ بہت بڑا باب ہے۔ اس بارے میں احادیث بہت ہیں۔ ہم نے انہیں کتاب البعث والنشور کی آٹھویں جلد میں ذکر کر دیا ہے اور ان کے بعدآخر میں ہم نے وہ اخبار و آثارذکر کی ہیں جو جنت کی تعریف اور اس کی تعداد کے بارے میں اور جہنم کی وضاحت اور اس کی تعداد کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ جس کے بعد اب ان کا یہاں اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چار جنات ہیں۔ کتاب و سنت اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تعدد چار ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ رحمٰن میں ارشاد فرمایا ہے کہ : " ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمٰن 46) جو شخص اپنے رب کے آگے پیشی کے لئے کھڑے ہو نے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں (یا دو باغ ہیں)۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی وصف بیان کی ہے ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ : "ومن دونھما جنتٰن (الرحمٰن 62) اور ان دو کے علاوہ یا ان کے سوا دو باغ اور ہیں۔ پھر ان دو کی وصف بیان فرمائی ہے۔ اور ہم نے حضرت موسیٰ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دو جنتیں ایسی ہیں کہ وہ دونوں سونے کی ہیں۔ اس کے برتن اور سب کچھ جو ان دونوں میں ہے (سونے کا ہے) اور دو جنتیں چاندی کی ہیں، ان کے برتن بھی اور وہ سب کچھ جو ان میں ہے( وہ چاندی کا ہے) اور ایک دوسری روایت میں ہے۔ دو جنتیں سونے کی سابقون کے لئے ہیں اور دو جنتیں چاندی کی دائیں ہاتھ والوں کے لئے ہیں۔ (یعنی جن کے اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائیں گے)۔ اور بعض اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ (جنۃ الماویٰ) سب کا اور جمیع کا نام ہے۔ اسی طرح (جنۃ عدن) اور (جنۃ نعیم ) اور (دارالخلد) اور (دار السلام) اور مناسب ہے کہ (جنۃ الفردوس) بھی جمیع کا اور سب کا نام ہو اور تحقیق یہ کہاگیا ہے کہ یہ درجے کے اعتبار سے ان سب سے اونچے کی جنت کا نام ہے۔ اور جنت کے دروازے آٹھ ہیں۔ جن کے بارے میں ہم نے حدیث میں حضرت عمر حضرت سہل بن سعد اور ان دونوں کے سوا کی روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہیں۔ اور ہم نے عتبہ بن عبد سلمی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور جہنم کے سات دروازے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لھا سبعۃ ابواب لکل باب منھم جزء مقسوم (الحجر 44) جہن کے سات دروازے ہیں ۔ ہر دروازے کے لئے جہنمیوں کا ایک کوٹہ مقرر ہے۔ اور ہم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک دروازہ دوسرے کے اوپر ہے۔ اور ہم نے ایک مرسل حدیث مین یہ بات روایت کی ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ۔ ان کے نام یہ ہیں (1) لظی (2) الحطمۃ (3) السعیر (4) سقر (5) الجحیم (6) الھاویہ ۔ اور بعض اہل علم نے کہا کہ جہنم نام ہے تمام طبقات جہنم کا اور اس کے طبقات سات ہیں۔ نہوں نے مذکورہ چھ نام لکھا ہے اور ان کے ساتھ یہ ذکر کیا ہے۔ (7)۔۔ الحریق ۔ باقی رہا اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان پر نظر کرم کے ساتھ اکرام کرنا تو ہم نے اس کو کتاب الرؤیت میں ذکر کر دیا ہے اور اس کے ساتھ وہ دلائل بھی ذکر کر دئیے ہیں جو اس بارے میں کتاب و سنت میں آئے ہیں۔ جو شخص اس کی معرفت کا ارادہ کر ے وہ اس کے دیکھے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف: اور میرے نزدیک (حقیقت یہ ہے کہ) اگر شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ صفت ایمان کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی حدیث پر واقف ہوتے تو مطلع ہوتے اور اس میں مذکورہ اللہ کی ملاقات کی وہ تاویل کرتے جو ہمارے اصحاب رحمہم اللہ کی جماعت میں سے شیخ ابو سلیمان خطابی نے کی ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کرنے پر ایمان لانے کو ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ قرار دیتے اور اللہ تعالیٰ کی ملاقات وہی اس کی رؤیت ہے اور اس کی طرف نظر کرنا اور دیکھنا ہے، جبکہ اس کے بارے میں اخبار صحیحہ کے ساتھ ساتھ کتاب اللہ کی آیات بھی آئی ہیں جو ا س کتاب اللہ میں سے دلالت کرتی ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ،: ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو سعد عبد الملطك بن أبي عثمان الزاهد إملاء
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 385
شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 386
385 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ ثنا يحيى بن محمد بن يحيى ثنا مسدد ثنا إسماعيل بن علية ثنا أبو حيان عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم بارزا يوما للناس فأتاه رجل فقال ما الإيمان ؟ فقال :
الإيمان أن تؤمن بالله و ملائكته و كتابه و لقائه و رسله و تؤمن بالبعث و ذكر الحديث
أخرجه البخاري و مسلم في الصحيح
قال أبو سليمان قوله : أن تؤمن بلقائه فيه إثبات رؤية الله عز و جل الدار الآخرة
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظنے ان کو یحییٰ بن محمد بن یحییٰ نے ان کو مسدد نے ، ان کو اسماعیل بن علیہ نے، ان کو ابو حیان نے، ان کو ابو زرعہ نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما تھے۔ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اور اس کی کتاب کے ساتھ اور اس کی ملاقات کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور اتو ایمان لے آ مرنے کے بعد جی کر اٹھنے کے ساتھ۔ اور حدیث ذکر فرمائی ہے اس کو بخاری اور مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ شیخ ابو سلیمان خطابی نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول : " ان تؤمن بلقا ئہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رؤ یت کا اثبات ہے آخرت میں ۔
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Season · Hadith 386
شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في عذاب القبر ـ · حديث 404
403 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن عيسى ثنا أبو يحيى الخفاف قال : سمعت مهرجان العابد يقول : سئل عبد الله بن المبارك عن قول الله عز و جل :
{ تحيتهم يوم يلقونه سلام }
فحدثنا عن محمد بن مالك عن البراء بن عازب قال : يوم يلقون ملك الموت ليس من مؤمن تقبض نفسه إلا سلم عليه
و قيل فيه غير ذلك و هو في كتاب الرؤية مذكور و بالله العصمة
العاشر من شعب الإيمان و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } قال البيهقي رحمه الله : فدل ذلك على أن حب الله جل جلاله من الإيمان لأن قوله : { و الذين آمنوا أشد حبا لله } إشارة إلى أن الإيمان يحرك على حب الله جل جلاله و يدعو إليه و قال الله جل ثناءه : { قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله } فأبان أن اتباع نبيه صلى الله عليه و سلم من موجبات محبة الله فإذا كان اتباع النبي صلى الله عليه و سلم إيمانا فقد وجب أن يكون حب الله الموجب له إيمانا و قال الله عز و جل : { قل إن كان آباؤكم وأبناؤكم وإخوانكم وأزواجكم وعشيرتكم وأموال اقترفتموها وتجارة تخشون كسادها ومساكن ترضونها أحب إليكم من الله ورسوله وجهاد في سبيله فتربصوا حتى يأتي الله بأمره والله لا يهدي القوم الفاسقين } قال البيهقي رحمه الله : فأبان بهذا أن حب الله و حب رسوله و الجهاد في سبيله فرض و أنه لا ينبغي أن يكون شيء سواه أحب إليهم منه و بمثل ذلك جاءت السنة
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو علی بن عیسیٰ نے ،ا ن کو ابو یحییٰ حفاف نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا مہرجان عابد سے، کہتے تھے کہ حضرت عبداللہ بن مبارک سے پوچھا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہے؟ "تحیتھم یوم یلقونہ سلام (الاحزاب 44) دعا ان کی جس دن اس سے ملیں گے سلام ہے۔ ہم نے حدیث نقل کی ہے محمد بن مالک سے ، انہوں نے براء بن عازب سے ، فرمایا کہ جس دن ملک الموت سے ملیں گے، جس مومن کی روح کو وہ قبض کرتا ہے اس پر سلام کہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے بارے میں اور بھی روایات ہین اور وہ کتاب الرؤیت میں مذکور ہیں۔
مِهْرَجَانَ الْعَابِدَ ← أبو يحيى الخفاف، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter on the torment of the grave · Hadith 404
شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في محبة الله عز و جل ـ قال الله عز و جل : { ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحب الله والذين آمنوا أشد حبا لله } · حديث 406
405 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أخبرنا جدي يحيى بن منصور القاضي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم و محمد بن بشار العبدي عن عبد الوهاب ثنا أيوب عن أبي قلابة عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان : أن يكون الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و أن يحب المرء لا يحبه إلا لله و أن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يوقد له نار فيقذف فيها
لفظ حديث محمد بن بشار رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن المثنى عن عبد الوهاب الثقفي
ورواه مسلم عن محمد بن بشار و غيره
قال البيهقي رحمه الله : فأبان المصطفى صلى الله عليه و سلم بهذا أن حب الله و حب رسوله من الإيمان و أبان قبله أن ترك متابعته تدل على خلاف المحبة و في ذلك دلالة على وجوب المحبة و وجوب ما تقتضيه المحبة من المتابعة و الموافقة
ہمیں خبر دی ہے ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے ان کو خبر دی ہے ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو احمد بن سلمی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو محمد بن بشار عیدی نے ان کو عبدالوہاب نے ان کو ایوب نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تین باتیں ہیں جس میں وہ آ جائیں وہ ان کے ذریعے ایمان کی حلاوت اور مٹھاس پا لیتا ہے۔ (1)۔۔۔ یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اللہ کا رسول اپنے تمام ماسوا سے زیادہ محبوب اور پیارے ہوں۔ (2)۔۔۔ یہ کہ کسی انسان سے محبت کرے تو وہ صرف اور صرف اللہ کےواسطے کرے۔ (3)۔۔۔ یہ کہ (مسلمان ہونے کے بعد) وہ کفر کی طرف واپس لوٹ جانے کو اس طرح نا پسند کرے جیسے وہ اس با ت کو نا پسند کرتا ہے کہ اس کے لئے آگ جلائی جائے اور پھر اسے اس میں جھونک دیا جائے۔ حدیث کے الفاظ محمد بن بشار کی روایت کے ہیں بخاری نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے محمد بن مثنیٰ سے اس نے عبدالوہاب ثقفی سے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے محمد بن بشار وغیرہ سے۔ گذشتہ دو حدیثوں پر امام بیہقی ؒ کا تبصرہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں یہ واضح فرمایا ہے ، کہ جب الٰہی اور حب رسول ایمان میں سے ہے ، اور اس سے قبل والی حدیث میں واضح فرمایا کہ آپ کی اتباع کو ترک کرنا عدم محبت آپ کی اتباع اور آپ کی موافقت پر بھی واجب ہے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← إسحاق بن إبراهيم و محمد بن بشار العبدي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God. · Hadith 406
شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 409
408 - أخبرنا أبو محمد جعفر بن محمد بن الحسين الأبهري الصوفي بهمدان ثنا أبو الحسن علي بن عمر بن محمد بن الحسن بن شاذان الصوفي ثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار ثنا يحيى بن معين ثنا هشام بن يوسف عن عبد الله بن سليمان النوفلي عن محمد بن علي يعني ابن عبد الله بن عباس و عن أبيه عن عبد الله بن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحبوا الله لما يغذوكم به من النعمة و أحبوني لحب الله و احبوا أهل بيتي لحبي
قال الحليمي : رحمه الله : و هذا يحتمل أن يكون عامة أنعمه كلها و أن يكون اسم الغذاء في الطعام و الشارب حقيقة و لما عداهما من التوفيق و الهداية و نصب أعلام هذه المعرفة و خلو الحواس و العقل مجازا أو يكون جميع ذلك بالاسم مرادا فقد جاء عنه صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه فقد وجد حلاوة الإيمان و في بعض الروايات طعم الإيمان
و إنما يكون الطعم للأغذية و ما يجري مجراها فإذا جاز وصف الإيمان بالطعم جازت تسميته غذاء فيدخل الإيمان في جميع نعم الله عز و جل في هذا الحديث و الله أعلم
ہمیں خبر دی ہے ابو محمد جعفر بن محمد بن حسن ابھری صوفی نے ہمدان میں ان کو ابو الحسن علی بن عمر بن محمد بن حسن بن شاذان صوفی نے ان کو احمد بن حسن بن عبدالجبار نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو ہشام بن یوسف نے ان کو عبداللہ بن سلیمان نوفلی نے ان کو محمد بن علی یعنی ابن عبداللہ بن عباس نے ان کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کہ تم اللہ سے محبت کرو اس لئے کہ وہ تمہیں اپنی نعمتوں کا (رزق دیتا ہے) اپنی نعمتیں کھلاتا ہے اور مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کے لئے اور میرے گھر والوں سے محبت کرو میری محبت کی وجہ سے۔ شیخ حلیمی کا قول: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ حدیث احتمال رکھتی ہے کہ تمام نعمتوں کے لئے عام ہو اور اس حدیث میں مذکور لفظ غذا حقیقۃ طعام اور پہننے کی چیز کا نام ہو اور یہی مراد ہو۔ اور ان کے علاوہ توفیق عطا ہونا، ہدایت ملنا۔ اور اس معرفت کے اسباب میسر ہونا اور عقل و حواس کا صحیح و سالم ہونا یہ سب چیزیں مجاز الفظ عذا سے مراد ہوں۔ یا یہ تمام مذکورہ چیزیں اور امور لفظ اور غذا کے نام سے یہی مراد ہوں۔ اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث آئی ہے کہ تین باتیں جس انسان میں آ جائیں وہ ایمان کی حلاوت کو پا لیتا ہے اور بعض روایات میں حلاوت کی جگہ طعم و الایمان آ یا ہے یعنی ایمان کا ذائقہ اور مزہ پا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذائقہ اور مزہ غذاؤں کا ہوتا ہے یا ان چیزوں کا جو غذاؤں کا قائم مقام ہو تی ہیں۔ جب یہ جائز ہے کہ ایمان کی وصف طعم اور ذائقہ کے ساتھ لائی جائے تو یہ بھی جائز ہے کہ ایمان کو غذا کے نام سے موسوم کیا جائے (جب ایمان غذا قرار پا جائے تو پھر) یہ ایمان اللہ تعالیٰ کی دیگر ان تمام نعمتوں میں داخل ہو جائے گا جو اس حدیث میں مذکور ہیں۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← محمد بن علي يعني ابن عبد الله بن عباس و ← عبد الله بن سليمان النوفلي ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أبو الحسن علي بن عمر بن محمد بن الحسن بن شاذان الصوفي ← أبو محمد جعفر بن محمد بن الحسين الأبهري الصوفي بهمدان
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 409
شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 440
439 - أخبرنا أبو سعد الشعيبي قال : سمعت أبا الحسن علي بن الحسن بن المثنى الصوفي يقول سمعت أبا علي الحسن بن علوية يقول سمعت يحيى بن معاذ الرازي : و قد سئل أي مجلس أشهى و ألذ ؟ قال : الجلوس مع الفكرة في ميدان التوحيد تشم من رائحة المعرفة و تسقى من كأس المحبة سبحان الله ما ألذه من مجلس ! و أعذبه من شراب ! قيل : فأي طعام أشهى ؟ قال لقمة من ذكر الله في فم الصبر بتوحيد الله رفعها من مائدة الرضا عن الله عز و جل عند النظر لكرامة الله قيل : فما عيد المؤمن ؟ قال السرور بالإيمان و النزهة بالقرآن قال الله عز و جل :
{ قل بفضل الله وبرحمته فبذلك فليفرحوا هو خير مما يجمعون }
ہمیں خبر دی ہے ابو سعید شعبی نے کہتے ہیں کہ میں نے ابو الحسن علی بن حسن بن مثنیٰ صوفی سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو علی حسن بن علویہ سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معاذ رازی سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ کون سی مجلس زیادہ خواہش اور زیادہ چاہت کےلائق ہے اور اسب سے زیادہ لذ ت والی ہے فرمایا کہ میدان توحید میں غور و فکر کرنے والی مجلس میں بیٹھنا۔ آپ کو معرفت کو خوشبو سونگھنے کو ملے گی۔ اور آپ کو محبت کے پیالے میں پینے کو ملے گا۔ سبحان اللہ کتنی لذت والی مجلس ہو گی، اور یہ کتنی میٹھی شربت ہو گی پوچھا گیا کہ کون سا کھانا، مرغوب ترین ہے؟ فرمایا کہ ایک لقمہ اللہ کے ذکر میں سے صبر کے منہ میں اللہ کی توحید کے ساتھ جسے اللہ کی رضا کے دستر خوان سے اٹھایا گیا ہو اللہ کی عنایت کی نظر کرم کے وقت۔ پوچھا گیا کہ مومن کی عید کیا ہے؟ فرمایا کہ ایمان کے ساتھ سرور اور خوشی ، اور قرآن کے ساتھ تفریح و تسکین قلبی حاصل کرنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: '' قل بفضل اللہ وبرحمتہ فبذالک فلیفر حوا ھر خیر مما یجمعون" (یونس 58) فرما دیجئے اللہ کے فضل اور راحت کے ساتھ اسی کے ساتھ چاہیے کہ خوش ہو ں وہ بہتر ہے اس سے جو جمع کرتے ہیں۔
يحيى بن معاذ الرازي و قد سئل أي مجلس أشهى و ألذ ← أبا علي الحسن بن علوية ← أبا الحسن علي بن الحسن بن المثنى الصوفي ← أبو سعد الشعيبي
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 440
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8014
8014 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو يحيى زكريا بن داود الخفاف نا عبد الله بن صالح نا خلف بن خليفة نا حجاج بن دينار عن محمد بن ذكوان عن عبيد بن عمرو بن عنبسة : أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : ما الإيمان ؟ قال : الصبر و السماحة و خلق حسن
قال أحمد رحمه الله : يعني بالصبر الصبر على محارم الله و السماحة أن يسمح بإداء ما افترض الله و خلق مكارم الأخلاق و العمل هكذا وجدته مدرجا و هذا التفسير من قوله بعض رواته و قد
ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابویحییٰ زکریا بن داؤدخفاف نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو خلف بن خلیفہ نے ان کو حجاج بن دینار نے ان کومحمد بن ذکوان نے ان کو عبید بن عمر نے ان کوعمرو بن عنبسہ نے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے۔ آپ نے فرمایا صبر اور سماحت اور حسن خلق ۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا صبر سے آپ نے یہ مرادلیا ہے اللہ کی حرام کردہ چیزوں ( محارم اللہ ) سے رک جانا اور سماحت یہ ہے کہ جو چیز اللہ نے اس پر لازم کر دی ہے اس کو ادا کر نے میں فراخ دلی اور طیب خاطر سے کام لے۔ اور خلق حسن : نیک اخلاق ہیں اور ان پر عمل کرنا۔ میں نے اس کو ایسی ہی پایا ہے درج شد و۔ اور یہی تفسیر اس کے بعض راویوں سے بھی آئی ہے۔ ۸۰۱۵ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بن عبداللہ بیہقی نے ان کو احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین بیہقی نے ان کو حمید بن زنجویہ نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو حجاج بن دینار نے ان کو محمد بن ذکوان نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عمر و بن عنبسہ نے وہ کہتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا پاکیزہ کلام کرنا اور کھانا کھلا نا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا اس شخص کا اسلام کہ مسلمان جس کے ہاتھ سے اور اس کی زبان سے سلامت رہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ ایمان کون سا افضل ہے آپ نے فرمایا حسن خلق ۔
عبيد بن عمرو بن عنبسة ← مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ← حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8014
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8015
8015 - أخبرنا أبو عبد الله بن عبد الله البيهقي أنا أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي نا داود بن الحسين البيهقي نا حميد بن زنجويه نا يعلى بن عبيد نا الحجاج بن دينار عن محمد ابن ذكوان عن شهر بن حوشب عن عمرو بن عنبسة قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : ما الإسلام ؟ قال : طيب الكلام و إطعام و الطعام قال : قلت : ما الإيمان ؟ قال : الصبر و السماحة قلت : أي الإسلام أفضل ؟ قال : من سلم المسلمون من لسانه و يده قال : قلت : أي الإيمان أفضل ؟ قال : الخلق الحسن
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بن عبداللہ بیہقی نے ان کو احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین بیہقی نے ان کو حمید بن زنجویہ نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو حجاج بن دینار نے ان کو محمد بن ذکوان نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عمر و بن عنبسہ نے وہ کہتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا پاکیزہ کلام کرنا اور کھانا کھلا نا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا اس شخص کا اسلام کہ مسلمان جس کے ہاتھ سے اور اس کی زبان سے سلامت رہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ ایمان کون سا افضل ہے آپ نے فرمایا حسن خلق ۔
الخلق الحسن ← قلت أي الإيمان أفضل ← من سلم المسلمون من لسانه و يده ← الصبر و السماحة قلت أي الإسلام أفضل ← قلت ما الإيمان ← طيب الكلام و إطعام و الطعام ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ما الإسلام ← عَمْرِو بْنِ عَنْبَسَةَ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← محمد ابن ذكوان ← الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ← أبو عبد الله بن عبد الله البيهقي
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8015
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8035
8035 - و أخبرنا أحمد بن محمد الصوفي أنا أبو أحمد بن عدي نا بهلول بن إسحاق بن بهلول حدثني أبي عن يحيى بن المتوكل عن هلال بن أبي هلال القسملي عن أنس بن مالك : قال النبي صلى الله عليه و سلم :
الخلق السوء يفسد الإيمان كما يفسد الصبر الطعام
قال أنس : و كان يقال إن المؤمن من أحسن شيء خلقا و روي في معناه بإسناده آخر ضعيف
ہمیں خبر دی احمد بن محمد صوفی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو بہلول بن اسحٰق بن بہلول نے ان کو حدیث بیان کی ہے ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن متوکل نے ان کو ہلال بن ابی ہلال قسملی نے ان کو انس بن مالک نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برا اخلاق ایمان کو خراب کر دیتا ہے جیسے مصبر ( ایلوا) کھانے کو خراب کر دیتا ہے ۔ حضرت انس نے فرمایا کہا جا تا تھامؤمن اچھے اخلاق والا ہوتا ہے اور اس کے مفہوم میں روایت کیا گیا ہے دوسری اسناد ضعیف کے ساتھ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هلال بن أبي هلال القسملي ← يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ← أَبِي ← بُهْلُولُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أحمد بن محمد الصوفي ← و،
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8035
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في طلاقة الوجة و حسن البشر لمن يلقاه من المسلمين · حديث 8061
8061 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى و أبو عبد الله الحافظ و حمزة بن عبد العزيز قالوا : نا أبو عبد الله الصفار نا أبو علي إسماعيل بن يحيى بن عمرو العسكري العدل بأصبهان و لقه سمعان نا إسحق بن محمد بن إسحاق العمي نا أبي عن يونس بن عبيد عن الحسن عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
رأس العقل بعد الإيمان بالله التودد إلى الناس و أهل التودد في الدنيا لهم درجة في الجنة و من كانت له في الجنة درجة فهو في الجنة و نصف العلم حسن المسئلة و الاقتصاد في المعيشة نصف العيش تكفي نصف النفقة و ركعتان من رجل و رع أفضل من ألف ركعة من مخلط و ما تم دين المسلم قط حتى يتم عقله و الدعاء يرد الأمر و صدقة السر تطفيء غضب الرب و صدقة العلانية تقي ميتة السوء و صنائع المعروف إلى الناس تقي صاحبها مصارع السوء الآفات و المهلكات و أهل المعروف في الدنيا هم أهل المعروف في الآخرة و المعروف ينقطع فيما بين الناس و لا ينقطع فيما بين الله و بين من افتعله
هذا إسناد ضعيف و الحمل فيه على العسكرى و العمي
ہمیں خبر دی ابوسعید محمد بن موسیٰ نے اور ابوعبداللہ حافظ نے اور حمر و بن عبد العزیز نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابوعلی اسماعیل بن یحییٰ بن عمر و عسکری عدل نے اصفہان میں اور اس کا لقب سمعان ہے ان کو اسحاق بن محمد بن اسحاق عمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے ان کوانس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ ایمان کے بعد عقل کی سردار چیز محبت کرنا ہے لوگوں کے ساتھ اور اہل محبت دنیاوی میں ان کے لئے جنت میں ایک درجہ ہے۔ اور جس شخص کا جنت میں درجہ ہووہ جنت میں ہوگا اور نصف علم اچھے طریقے سے سوال کرنا ہے۔ اور معیشت میں میانہ روی آدھی زندگی ہے آدھے خرچ سے کفایت کرتی ہے۔ پرہیز گاری آدمی کی دورکعتیں گناہ گار کی ہزار رکعت سے افضل ہیں ۔ اورمسلمان کا دین کبھی مکمل نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی عقل مکمل ہو جائے ۔اور د عا حکم کو اور قضا کو واپس لوٹا دیتی ہے۔چھپ کر دیا ہو صد قہ رب کے غضب کو بجھا دیا ہے۔ اور ظاہر دیا ہواصدقہ ، بری موت سے بچاتا ہے لوگوں کے ساتھ کئے ہوئے نیکی کے کام صاحب عمل کو بری موتوں سے آفات سے اور مصائب سے بچاتے ہیں۔ اور دنیا میں اہل نیکی آخرت میں بھی اہل معروف ہوں گے ۔ اچھائیاں لوگوں کے مابین ختم ہو جاتی ہیں اور اللہ کے ادر کرنے والے کے مابین ختم نہیں ہوتیں ۔یہ اسناد ضعیف ہے اور اس میں حمل عکسر ی اور عمی پر ہے ۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبِي ← إسحق بن محمد بن إسحاق العمي ← أبو علي إسماعيل بن يحيى بن عمرو العسكري العدل بأصبهان و لقه سمعان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › A chapter on the fluency of the face and the goodness of human beings for those Muslims who meet it · Hadith 8061
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التجاوز و العفو و ترك المكافأة · حديث 8087
8087 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا أحمد بن داود بن أبي صالح الحراني نا أبو مصعب المدني الذي يلقب بمطرف حدثني أبو مودود عن أبي حازم عن أنس بن مالك قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
لا يستكمل العبد الإيمان حتى يحسن خلقه و لا يشفي غيظه و أن يود للناس ما يود لنفسه لقد دخل الجنة رجال بغير أعمال ؟ قيل : بم دخلوها يا رسول الله ؟ قال : بالنصيحة لأهل الإسلام و سماحة الصدر قال أبو أحمد : أبو مورود اسمه عبد العزيز بن أبي سليمان أخبرنا به في فوائده فيما بين الحكايات
ہمیں خبر دی ابوسعید مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو احمد بن داؤد بن ابی صالح خرانی نے ان کو ابومصعب مدنی نے جس کا لقب مطرف ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابومودود نے ان کو ابو حازم نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہیں۔ کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کو مکمل نہیں کر سکتا حتیٰ کہ اپنے اخلاق کو خوبصورت بنائے اور نہیں شفا دے سکتا اپنے غصے کو۔ اور یہ کہ پسند کرے لوگوں کے لئے جو اپنے لئے پسند کرتا ۔ البتہ تحقیق کچھ لوگ بغیر اعمال کے بھی جنت میں داخل ہو گے؟ کہا گیا کہ کس وجہ سے داخل ہوئے ہیں یارسول اللہ؟ فرمایا کہ اہل اسلام کے ساتھ خیر خواہی کی وجہ سے اور کشادہ دل کی وجہ سے ابو احمد نے کہا کہ ابومودودکا نام عبد العزیز ابوسلیمان ہے اس نے ہمیں اس کے بارے میں خبر دی ہے فوائد میں اس میں جو بیانات کے مابین ہے۔
رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبُو مَوْدُودٍ، ← أبو مصعب المدني الذي يلقب بمطرف ← أحمد بن داود بن أبي صالح الحراني ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate overtaking, pardon, and leaving reward · Hadith 8087
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في لين الجانب و سلامة الصدر · حديث 8109
8109 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا أحمد بن سهل نا بشر بن خالد العسكري نا محمد بن جعفر نا شعبة عن الأعمش عن سليمان قال : سمعت ذكوان يحدث عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : جاء أهل اليمن هم أرق أفئدة و ألين قلوبا الإيمان يمان و الحكمة يمانية و الخيلاء و الكبرياء في أصحاب الإبل السكينة و الوقار في أصحاب الشاة رواه مسلم عن بشر بن خالد و استشهد البخاري برواية غندر
ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن سہل نے ان کو بشر بن خالد عسکری نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو شعبہ نے ان کو اعمش نے ان کو سلیمان نے وہ کہتے ہیں میں نے سناذ کو ان سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا اہل یمن آئے وہ رقیق القلب اور نرم دل ہیں۔ ایمان یمانی اور برکت والا ہے حکمت یمانی ہے اور برکت والی ہے اگر تا اور تکبر کرنا اونٹوں والوں میں ہے سکینہ اور وقار بکریوں والوں میں ہے۔ اس کو روایت کیا ہے مسلم نے بشر بن خالد سے اور بخاری نے روایت غندر کے ساتھ اس کا شاہد ذکر کیا ہے۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate the side and the integrity of the chest · Hadith 8109
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في لين الجانب و سلامة الصدر · حديث 8110
8110 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عبد الكريم بن الهيثم نا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري حدثني ابن المسيب أنا أبا هريرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
جاء أهل اليمن هم أرق أفئدة و أضعف قلوبا الإيمان يمان و الحكمة يمانية السكينة في أهل الغنم و الفخر و الخيلاء في العدادين أهل الوبر قبل مطلع الشمس
رواه مسلم عن عبد الله بن عبد الرحمن عن أبي اليمان
۸ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عبدالکریم بن ھثیم نے ان کو ابوالیمان نے ان کوخبر دی شعیب نے ان کوزہری نے ان کو ابن مسیب نے کہ ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے ۔اہل یمن آئے ہیں وہ سب سے زیادہ رفیق نواد والے اور سب سے زیادہ کمزور دل والے ہیں ۔ ایمان یمانی سے حکمت یمانی ہے۔ سکینہ اور وقار بکریوں والوں میں سے فخر وغرور عداد ین میں اور اونٹوں والوں میں سے سورج کے طلوع ہونے کی طرف (یعنی اس طرف جو قومیں وقبائل آباد ہیں )۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے عبداللہ بن عبد الرحمٰن سے اس نے ابوالیمان سے ۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate the side and the integrity of the chest · Hadith 8110
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8135
8135 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا إسماعيل بن الفضل البخلي حدثني أبو موسى الهروي نا عباد بن العوام أبو سهل عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي أمامة عن عبد الله بن كعب بن مالك عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
البذاذة من الإيمان
قال عباد يعني التقشف كذا قال عن أبيه
8135 - مكرر و قد روينا في كتاب الإيمان من حديث محمد بن مسلمة عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي أمامة عن عبد الله بن كعب عن أبي أمامة : فيحتمل أن يكون المراد بقوله عن أبيه أبي عبد الله بن أمامة و الله أعلم
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن فصل بلخی نے ان کو حدیث بیان کی ابوموسیٰ ھروی نے ان کو عباد بن عوام نے ابو سہل سے ان کو ابواسحاق بن فصل بلخی نے ان کو حدیث بیان کی ابوموسی ٰهروی نے ان کو عباد بن عوام ابو سہل نے ان کو ابو اسحاق نے ان کو عبداللہ بن ابوامامہ نے ان کو عبداللہ بن کعب بن مالک نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا بذاذت ایمان میں سے ہے۔ عباد نے کہا کہ آپ کی مراد اس سے تقشف ہے اسی طرح کہا ہے اس نے اپنے والد سے ۔ (اس سے سادگی مراد ہے اور بے تکلفی )
( مکرر ہے ) تحقیق ہم نے روایت کیا ہے کتاب الایمان میں حدیث محمد بن مسلمہ سے اس نے محمد بن اسحاق سے اس نے عبداللہ بن ابی امامہ سے اس نے عبداللہ بن کعب سے اس نے ابو امامہ سے احتمال رکھتا ہے کہ اس سے مراد ہو اس قول سے ۔ ان کے والد سے یعنی ابو عبداللہ بن ابوامامہ سے واللہ اعلم ۔ ۸۱۳۶ ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رز از نے ان کو عبد الرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو عبد الرحمٰن مہدی نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفرقطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد الرحمٰن نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو صالح بن ابو صالح نے ان کو عبد اللہ بن ابی امامہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ۔ابن بشر نے زیادہ کیا ہے اپنی روایت میں کہ عبدالرحمٰن نے کہا اس سے مرادتو اضع ہے ۔
أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عباد بن العوام أبو سهل ← أبو موسى الهروي ← إسماعيل بن الفضل البخلي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8135
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8136
8136 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا عبد الرحمن بن محمد بن منصور نا عبد الرحمن بن مهدي
و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن جعفر القطيعي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الرحمن نا زهير بن محمد عن صالح بن أبي صالح عن عبد الله بن أبي أمامة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم البذاذة من الإيمان البذاذة من الإيمان زاد ابن بشران في روايته قال عبد الرحمن يعني التواضع
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رز از نے ان کو عبد الرحمٰن بن محمد بن منصور نے ان کو عبد الرحمٰن مہدی نے ۔اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفرقطیعی نے ان کو عبداللہ بن احمد نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد الرحمٰن نے ان کو زہیر بن محمد نے ان کو صالح بن ابو صالح نے ان کو عبد اللہ بن ابی امامہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا :سادگی ایمان میں سے ہے، سادگی ایمان میں سے ۔ابن بشر نے زیادہ کیا ہے اپنی روایت میں کہ عبدالرحمٰن نے کہا اس سے مرادتو اضع ہے ۔