Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 49

49 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى ثنا أبو نعيم حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن صلة بن زفر عن عمار قال : ثلاثة من جمعهن فقد جمع الإيمان : الإنفاق من الإقتار و الإنصاف من النفس و بذل السلام للعالم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے بشر بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں بیان کیا ابو نعیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا سفیان نے ابو اسحٰق سے انہوں نے صؒہ بن زفر سے انہوں نے عمار سے وہ فرماتے ہیں ( ثلاثۃ من جمعھن فقد جمع الایمان ۔ الا نفاق من الاقتار و الانصاف من النفس و بذل السلام للعالم ) تین صفات ہیں جو شخص اپنے اندر ان کو جمع کر لے اس نے ایمان کو جمع کر لیا تنگدستی کے باوجود اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اپنی ذات اور اپنے نفس کا انصاف و محاسبہ کرنا۔ اور سلام کرنے کو سارے جہاں کے لئے عام کرنا۔

عَمَّارٍ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 49

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 51

51 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي أخبرنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ثنا داود بن الحسين البيهقي ثنا حميد بن زنجويه ثنا الحجاج بن نصير ثنا حماد بن نجيح عن أبي عمران الجوني قال سمعت جندب البجلي قال : كنا فتيانا حزاورة مع نبينا صلى الله عليه و سلم فتعلمنا الإيمان قبل أن نتعلم القرآن ثم تعلمنا القرآن فازددنا به إيمانا و إنكم اليوم تعلمون القرآن قبل الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو حامد احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے وہ کہتے ہیں بات بتلائی ہے داؤد بن حسین بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے ۔حجاج بن نصیر نے وہ کہتے ہیں ہم سے بیان کیا ہے حماد بن نجیح نے ابی عمران الجونی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا جندب بجلی سے انہوں نے فرمایا تھا : ( کنا فتینا حزاورۃ مع نبینا صلی اللہ علیہ و سلم فتعلمنا الا یمان قبالان نتعلم القران ثم تعلمنا القران فازددنا بہ ایمانا و انکم الیوم تعلمون القران قبال الایمان ) ہم لوگ مضبوط جوان تھے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں رہتے تھے ہم قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھتے تھے اس کے بعد ہم قرآن سیکھتے تھے لہذا ہمارا ایمان زیادہ ہو جاتا اور تم لوگ آج ایمان سے پہلے قرآن سیکھتے ہو۔

جُنْدُبٍ الْبَجَلِيِّ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← حَمَّادٍ بْنِ نَجِيحٍ ← الْحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أبو حامد أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَيْهَقِيُّ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 51

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 52

52 - قال : و حدثنا حمبد بن زنجويه ثنا عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل عن منصور عن طلحة عن أبي حازم عن أبي هريرة قال : ثلاث من الإيمان : أن يحتلم الرجل في الليلة الباردة فيقوم فيغتسل لا يراه إلا الله و الصوم في اليوم الحار و صلاة الرجل في الأرض الفلاة لا يراه إلا الله

کہا ( داؤد بن حسین بیہقی نے ) حدیث بیان کی ہے ہم سے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں بیان کیا ہے عبداللہ بن موسیٰ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے اسرائیل نے منصور سے انہوں نے طلحہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے ابی حازم سے انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ انہوں نے فرمایا : ( ثلاث من الایمان ان یحتلم الرجل فی اللیلۃ الباردۃ ۔ فیقوم فیغتسل لا یراہ الا اللہ ۔ و الصوم فی الیوم الحار، و صلاۃ الرجل فی الارض القلات لا یراہ الا اللہ ) تین صفات یا تین کام ایمان میں سے ہیں ۔ سخت سردی کی رات میں کوئی آدمی خواب میں نا پاک ہو جائے پھر اٹھ کر غسل کرے حالانکہ اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں دیکھ رہا۔ دوسرا سخت گرمی کے دن روزہ رکھنا تیسرے کسی انسان کا جنگل و بیابان میں نماز ادا کرنا جہاں اللہ کے سوا اس کو کوئی نہیں دیکھ رہا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← طَلْحَةَ، ← مَنْصُورٌ، ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← حمبد بن زنجويه ← و،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 52

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 53

53 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا أحمد بن يونس ثنا إسماعيل بن عياش الحمصي عن عبد الوهاب بن مجاهد عن أبيه عن ابن عباس و أبي هريرة قالا : الإيمان يزداد و ينقص

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنانی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن طرائفی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے احمد بن یونس نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے اسماعیل بن عیاش حمصی نے عبدالوہاب بن مجاہد سے اس نے اپنے والد سے اس نے نئے ابن عباس سے اور ابو ہریرہ سے دونوں نے فرمایا : ( الایمان یز دادو ینقص ) ایمان گھٹتا بھی اور بڑھتا بھی ہے ۔

الإيمان يزداد و ينقص ← ابن عباس و أبي هريرة ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ مُجَاهِدٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 53

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 54

54 - و بإسناده قال ثنا إسماعيل بن عياش ثنا حريز بن عثمان الرحبي عن أبي حبيب الحارث بن مخمر عن أبي الدرداء قال : الإيمان يزداد و ينقص

اپنی سند کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بتائی ہے اسماعیل بن عیاش نے انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے حریز بن عثمان نے رحبی نے ابو حبیب حارث بن مخمر سے انہوں نے ابو درداء سے انہوں نے فرمایا : ( الایمان یز دادو ینقص ) کہ ایمان بڑھتا اور گھٹتا ہے ۔

الإيمان يزداد و ينقص ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أبي حبيب الحارث بن مخمر ← حُرَيْزِ بْنِ عُثْمَانَ الرَّحَبِيِّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 54

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 55

55 - و بإسناده ثنا إسماعيل بن عياش عن صفوان بن عمرو عن عبد الله بن ربيعة الحضرمي عن أبي هريرة قال : الإيمان يزداد و ينقص

اور اپنی اسناد کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ہمیں اسماعیل بن عیاش نے حدیث بیان کی ہے صفوان بن عمرو سے عبداللہ بن ربیعہ حضرمی سے انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ آپ نے فرمایا : ( الایمان یزدادو ینقص ) کہ ایمان کم زیادہ ہوتا ہے ۔

الإيمان يزداد و ينقص ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ الْحَضْرَمِيِّ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 55

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 56

56 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق ثنا الحسن بن علي بن زياد ثنا أبو نصر التمار ثنا حماد بن سلمة و أخبرنا أبو بكر الأشناني أنبأ الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر الخطمي عن أبيه عن جده عمير بن حبيب بن خماشة أنه قال : الإيمان يزيد و ينقص فقيل له : و ما زيادته ؟ و ما نقصانه ؟ قال : إذا ذكرنا ربنا و خشيناه فذلك زيادته و إذا غفلنا و نسينا و ضيعنا فذلك نقصانه هذا لفظ حديث عفان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن زیادہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو نصر تمار نے ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن سلمہ نے اور خبر دی ہے ابو بکر اشنانی نے خبر دی ہے طرائفی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے عفان نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے حماد بن سلمہ نے ابو جعفر سے خطمی سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے والد عمیر بن حبیب بن خماشہ سے انہوں نے کہا الایمان یز داد و ینقص ایمان کم زیادہ ہوتا ہے ۔ ان سے پوچھا گیا اس کی کمی اور زیادتی کیا ہے انہوں نے جواب دیا ۔ جب ہم اپنے رب کو یاد کرتے ہیں اور ہم اس سے ڈرتے ہیں یہ ایمان کی زیادتی ہے اور جب ہم غافل ہو جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں اور کوئی عمل ضائع کرتے ہیں یہ ایمان کا نقصان ہے یہ الفاظ حدیث عفان کے ہیں ۔

الإيمان يزيد و ينقص فقيل له و ما زيادته و ما نقصانه ← جَدِّهِ عُمَيْرِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ خُمَاشَةَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو بكر الأشناني أنبأ الطرائفي ← حماد بن سلمة و ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 56

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 59

59 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ محمد بن أيوب أنبأ شيبان أنبأ جرير ثنا عيسى بن عاصم عن عدي بن عدي : أن عمر بن عبد العزيز كتب إليه : أما بعد ! فإن للإيمان حدودا و شرائع و فرائض من استكملها استكمل الإيمان و من لم يستكملها لم يستكمل الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے خبر دی ہے محمد بن ایوب نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے شیبان نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے جریر نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بتائی ہے عیسیٰ بن عاصم نے عدی بن عدی سے کہ عمر بن عبدالعزیز نے اس کی طرف لکھا : ( اما بعد فان للایمان حدودا و شرائع و فرائض من استکملھا استکمل الایمان و من لم یستکملھا لم یستکمل الایمان ) حمدو صلوٰۃ کے بعد ! بے شک ایمان کی کچھ حدود ہیں اور طریقے ہیں اور احکام و فرائض ہیں جس نے ان کو مکمل کیا اس نے ایمان کو مکمل کیا جس نے ان کو ادھورا چھوڑ اس نے ایمان ادھورا چھوڑا۔

عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ،أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عِيسَى بْنِ عَاصِمٍ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 59

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 60

60 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى ثنا عبد الصمد بن حسان ثنا سفيان عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد قال : الإيمان قول و عمل يزيد و ينقص

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ خبر دی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ خبر دی بشر بن موسی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی عبدالصمد بن حسان نے وہ کہتے ہیں ہمیں بتلایا سفیان نے یزید بن ابی زیاد سے اس نے مجاہد سے انہوں نے کہا : ( الایمان قول و عمل یزید و ینقص ) ایمان قول و عمل سے زیاد ہوتا ہے اور کم ہوتا ہے ۔

مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 60

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 62

62 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق أنبأ يوسف بن يعقوب أنبأ سليمان بن حرب ثنا أبو هلال ثنا بكر بن عبد الله المزني قال : قال عيسى عليه الصلاة و السلام لبعض الحواريين : أرني يدك يا قصير الإيمان و هذا حين مشى على الماء فتبعه واحد فذهب يضع رجله فإذا هو قد انغمر فقال له عيسى عليه الصلاة و السلام : هات يدك يا قصير الإيمان :

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے خبر دی ہے ابو بکر بن اسٰحق نے انہوں نے کہا خبر دی ہے یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے سلیمان بن حرب نے انہوں نے کہا ہمیں بیان کیا ہے ابو ہلال نے انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی بکر بن عبداللہ مزنی نے وہ کہتے ہیں عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے بعض حواریوں سے کہا : ارنی یدک قصیر الایمان ) پنا ہاتھ مجھے دیکھائے اے چھوٹے ایمان والے ۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ پانی پر چلے تھے اور ایک آدمی ان کے پیچھے لگا ۔ اس نے اپنا پیر رکھا اور غوطہ کھایا ( ڈوبنے لگا ) عیسیٰ علیہ السلام نے اس سے کہا ھات یدک یا قصیر الایمان ادھر ہاتھ کر اے کوتاہ ایمان والے ۔

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← أَبُو هِلَالٍ؛

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 62

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 66

66 - أخبرنا أبو عبد الله البيهقي أنبأ أحمد بن محمد بن الحسين ثنا داود بن الحسين ثنا حميد بن زنجويه ثنا عبيد الله بن موسى أنبأ أبو البشر الحلبي عن الحسن قال : ليس الإيمان بالتحلي و لا بالتمني و لكن ما وقر في القلب و صدقته الأعمال و من قال حسنا و عمل غير صالح رده الله على قوله و من قال حسنا و عمل صالحا رفعه العمل ذلك بأن الله تعالى قال : { إليه يصعد الكلم الطيب و العمل الصالح يرفعه } قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي رحمه الله : و قد روينا أيضا قولنا في الإيمان عن محمد بن الحنفية و عطاء بن أبي رباح و الحسن و ابن سيرين و عبيد بن عمير و وهب بن منبه و حبيب بن أبي ثابت و غيرهم من أئمة المسلمين : الأوزاعي و مالك و سفيان بن عيينة و الفضيل بن عياض و الشافعي و أحمد بن حنبل و إسحاق بن إبراهيم الحنظلي و محمد بن إسماعيل البخاري و غيرهم رحمهم الله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بیہقی نے کہ خبر دی ہے احمد بن محمد بن حسین نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے داؤد بن حسین نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہمیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن موسیٰ نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو بشر حلبی نے حسن سے انہوں نے کہا : ( لیس الایمان بالتحلی و لا با التمیٰ و لکن ما وقر فی القلب و دقاتہ الاعمال من قال حسنا و عمل غیر صالح ردہ اللہ علی قولہ و من قال حسنا و عمل صالحا رفعہ العمل ) ایمان بناوٹ سجاوٹ کا نام ہیں اور نہ خوش امیدوں کا نام ہے ایمان وہ ہے جو دل میں جگہ کر لے اور اعمال اس کی تصدیق کریں ۔ جو شخص بات اچھی کرے اور عمل غیر صالح کرے اللہ تعالیٰ اس کو اس کے قول پر مار دیتے ہیں اور جو شخص اچھی بات کرے عمل صالح کرے اس کے عمل بلند کر دے گا یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ( الیہ یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یرفعہ ) ( فاطر ۱۰) اللہ تعالیٰ کی طرف پاک الفاظ چڑھتے اور بلند ہوتے ہیں اور عمل صالح اس کو وہی اوپر اٹھاتا ہے ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : تحقیق ایمان کے بارے میں ہم اپنا قول محمد بن حنفیہ سے بھی روایت کر چکے ہیں اور عطاء بن ابی رباح سے اور حسن سے ۔ ابن سیرین سے ، عبید بن عمر سے وہب بن منیہ سے اور حبیب بن ابی ثابت سے اور دیگر مسلمان ائمہ سے متلا اور ازاعی ، مالک ، سفیان ، بن عیینہ ، فضیل بن عیاض ، امام شافعی ، احمد حنبل ، اسحاق بن ابراہیم حنظلی محمد بن اسماعیل بخاری وغیرہ ھم رحمہم اللہ ۔

الْحَسَنِ، ← عبيد الله بن موسى أنبأ أبو البشر الحلبي ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← داود بن الحسین، ← أبو عبد الله البيهقي أنبأ أحمد بن محمد بن الحسين

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 66

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 67

67 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع قال : قال الشافعي رحمه الله تعالى : في مسأله ذكرها في كتاب السير : الصلاة من الإيمان و قال : في التسمية على الذبيحة و الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم : و لا أكره مع تسميته على الذبيحة أن يقول : صلى الله على رسوله بل أحبه له لأن ذكر الله و الصلاة على رسول الله إيمان بالله و عبادة له يؤجر عليها إن شاء الله تعالى من قالها وروينا عن يوسف بن عبد الأحد عن الربيع بن سليمان قال سمعت الشافعي يقول : الإيمان قول و عمل يزيد و ينقص

ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو العباس رحمتہ اللہ علیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ربیع نے وہ کہتے ہیں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ایک مسئلہ کے بارے میں جو انہوں نے کتاب السیر میں ذکر کیا ہے ۔ ( الصلوٰۃ من الایمان ) نماز ایمان میں سے ہے ۔ اور کہا ہے ذبیحہ پر تسمیہ کے بارے میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر درود کے بارے میں ناپسند نہیں کرتا کہ ذبیحہ پر بسم اللہ کے ساتھ یہ بھی کہہ صلی اللہ علی رسولہ ( اللہ اپنے رسول پر رحمت نازل کرے ) بلکہ میں اس کو پسند کرتا ہوں اس لئے کہ اللہ کا ذکر اور رسول پر صلوٰۃ ایمان باللہ ہے اور اس کی عبادت ہے جس پر انشاء اللہ اجر دیا جائے گا جو کہے گا۔ ہم نے یوسف بن عبدالاحد سے روایت کیا ہے انہوں نے ربیع بن سلیمان سے وہ کہتے ہیں میں نے امام شافعی سے سنا فرماتے تھے ۔ (الایمان قول و عمل یزید و ینقیص ایمان ) ایمان قول ہے اور عمل ہے کم زیادہ ہوتا ہے ۔

الشافعي تعالى في مسأله ذكرها في كتاب السير الصلاة من الإيمان و ← أبو سعيد بن أبي عمرو أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 67

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 69

69 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ أبو علي الحسين بن صفوان أنبأ عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا إبراهيم بن سعيد ثنا عبد الصمد بن النعمان ثنا هارون البربري عن عبد الله بن عبيد بن عمير قال : الإيمان قائد و العمل سائق و النفس حرون فإذا ونى قائدها لم تستقم لسائقها و إذا ونى سائقها لم تستقم لقائدها و لا يصلح هذا إلا مع هذا حتى تقدم على الخير الإيمان بالله مع العمل لله و العمل لله مع الإيمان بالله تابعه قبيصة بن عقبة عن هارون

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو علی حسین بن صفوان نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے عبداللہ بن محمد بن ابی الدنیا نے وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہے ہم سے ابراہیم بن سعید نے وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہے ہم سے عبدالصمد بن نعمان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہم سے بربری نے عبداللہ بن عبید بن عمر سے انہوں نے فرمایا : ( الایمان قائد و العمل سائق و النفس حرون فاذاونی قائدھا لم تستقم لسانقھا و اذاونی سائقھا لم تسقیم لقائد ھا ولا یصح ھذا الا مع ھذا حتی تقدم علی الخیر الایمان با اللہ مع العمل للہ و العمل للہ مع الایمان باللہ ) ایمان آگے سے کھینچنے والا ہے اور عمل پیچھے سے ہانکنے والا۔ اور نفس اڑیل گھوڑا ہے جب اسے اگے کھینچنے والا سست ہو جاتا ہے وہ پیچھے سے ہانکنے والسے سے سیدھا نہیں ہوتا اور جب پیچھے سے ہانکنے والا سست ہو جاتا ہے تو وہ آگے کھینچنے والے سے سیدھا نہیں ہوتا ( دونوں باہم لازم ملزوم ہیں ایمان اور عمل صالح ) ایمان عمل کے بغیر اور عمل ایمان کے بغیر درست نہیں ہوتا یہاں تک کہ نفس خیر کا اقدام کرے ایمان باللہ ، عمل للہ کے ساتھ اور عمل للہ ایمان با للہ کے ساتھ ۔ قبیصہ بن عقبہ ہارون سے اس اثر کا متابع لائے ہیں ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← هارون البربري ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 69

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 75

75 - و بإسناده حدثنا حميد بن زنجويه ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا عثمان بن الأسود قال : قلت لعطاء بن أبي رباح : الرجل يقول : لا أدري أمؤمن أنا أم لا ؟ قال : سبحان الله ! قال الله تعالى : { الذين يؤمنون بالغيب } فهو الغيب فمن آمن بالغيب فهو مؤمن بالله قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ فهذا الذي روينا من إطلاق معاذ و ما روي مرسلا من تصويب عمر و قول عطاء في تسمية من آمن بالله و برسوله بالمؤمن يرجع إلى الحال قال الحليمي : رحمه الله تعالى ـ : لا ينبغي للمؤمن أن يمتنع من تسمية نفسه مؤمنا في الحال لأجل ما يخشاه من سوء العاقبة ـ نعوذ بالله منه ـ لأن ذلك و إن وقع و حبط ما قدم من إيمانه فليس ينقلب الموجود منه معدوما من أصله و إنما يحبط أجره و يبطل ثوابه و بسط الكلام في شرح ذلك و أما من أنكر من السلف إطلاق اسم الإيمان فالموضع الذي يليق به ما قال : أن يقول الواحد : أنا مؤمن و أعيش مؤمنا و أموت مؤمنا و ألقى الله مؤمنا و لا يستثني كان و لذلك قال ابن مسعود : قل إني في الجنة لأن من مات مؤمنا كان في الجنة و ليس كل من كان مؤمنا ساعة من عمره أو يوما أو سنة كان في الجنة فعلمنا أن عبد الله إنما قال هذا لمن اتكل على إيمانه فقطع بأنه مؤمن مطلق في عامة أحواله و أوقاته فلا يعيش إلا مؤمنا و لا يموت إلا مؤمنا و لم يكل أمره إلى الله عز و جل فأما قول المؤمن : أنا الآن مؤمن فليس مما ينكر و إنما يصح الاستثناء إذا كان الخبر عن المستقبل خاصة فيكون المعنى أرجو أن يمن علي بالتثبيت و لا يسلبني هدايته بعد أن آتانيها قال : و للاستثناء موضع آخر يصح فيه و يحسن و هو أن يرد على كمال الإيمان لا على أصله و أسه كما روي أن رجلا سأل قتادة : أمؤمن أنت ؟ فقال : أما أنا فأؤمن بالله و ملائكته و بكتبه و برسله و بالبعث بعد الموت و بالقدر خيره و شره أما الصفة التي ذكرها الله عز و جل : { إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } قرأ الآيات إلى قوله { أولئك هم المؤمنون حقا لهم درجات عند ربهم و مغفرة و رزق كريم } فلا أدري أنا منهم أو لا فقد أبان قتادة أنه قد آمن الإيمان الذي يبعده عن الكفر و لكنه لا يدري استكمل الأوصاف التي حكى الله تعالى بها قوما من المؤمنين فأوجب لهم بها المغفرة و الدرجات و كان ذلك مشككا منه في الاستكمال الذي يوجب له الدرجات لا في مجانية الكفر الذي يقسط عنه العذاب فمن وضع الاستثناء في أحد هذين الموضعين فليس من الشكاك قال الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله : و قد روينا معنى هذا عن الحسن البصري

اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام بن عمار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے صدقہ بن خالد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے عثمان بن اسود نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عطا بن ابی رباح سے کہا ایک آدمی یہ کہتا ہے میں نہیں جانتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں ۔ الذین یومنون با لغیب ( بقرہ ۳) اللہ غیب ہے جو شخص غیب کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ اللہ کے ساتھ ایمان رکھنے والا ہے ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ ہے وہ جو ہم نے حضرت معآز رضی اللہ عنہ کے خطبہ سے روایت کیا ہے اور یہ ہے وہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تصویب اوردرست قرار دینے کے بارے میں مرسلا مروی ہے ۔ اور حضرت عطاء کا قول اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ مومن ہے یعنی اس بات کی طرف راجع ہے کہ فی الحال مومن ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خاتمہ اور انجام کے خرابی کے خوف فی الحال بھی اپنے آپ کو مومن کہنے سے رک جانا اور باز آ جانا کسی بھی مومن کے لئے مناسب نہیں ہے اس لئے کہ اگر خدانخواستہ یہ بات ہو جائے اور جو ایمان وہ مقدم کر چکا وہ ضائع ہو بھی جائے تو اب جو ایمان موجود ہے یہ بالکل معدوم تو نہیں ہو جائے گا ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس کا اجر ضائع ہو گا اور ثواب باطل ہو گا۔ مومن کے نام کے اطلاق کا انکار سلف میں سے جس نے بھی کیا ہے تو اس کا بھی ایک مقام ہے جو اس کے لائق ہے اور شایان شان ہے اور وہ وہی ہے جو شیخ حلیمی نے کہا کہ مثلا کوئی شخص کہتا ہے کہ میں مومن ہوں ۔ اور مومن رہوں گا ۔ اور مومن ہی مروں گا۔ اور اللہ کو مومن ہی ملوں گا۔ انشاء اللہ بالکل نہیں کہتا۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔ بلکہ کہہ دے کہ میں جنت میں جاؤں گا اس لئے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں مر گیا وہ جنت میں ہوگا۔ حالانکہ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کا ایک لخطہ یا ایک دن یا ایک سال مومن تھا وہ جنت میں نہیں ہوگا۔ تو اس سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے یہ بات اس شخص کے بارے میں کہی تھی جو اپنے ایمان پر تکیہ اور بھروسہ کر رہا تھا لہذا انہوں نے یقین کر لیا کہ وہ اپنے عام حالات اور عام اوقات میں مطلقا مومن ہے وہ مومن ہی جئے گا اور مومن ہی مرے گا ، اپنے معاملے کو اس نے اللہ کے حوالے نہیں کیا۔ بہر حال کسی مومن کا یہ قول کرنا کہ میں اس وقت مومن ہوں یہ وہ قول ہے جس کو غلط نہیں کہا جا سکتا استثناء کرنا یعنی انشاء اللہ کہنا اس وقت صحیح ہوتا ہے جب مستقبل کے بارے میں خصوصاً خبر ہو اس وقت مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اللہ کی بارگاہ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایمان پر مجھے پکا رکھنے کا احسان فرمائیں گے اور اپنی عطا کردہ ہدایت مجھ سے نہیں چھینیں گے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ استثناء کرنے اور انشاء اللہ کہنے کے لئے ایک مقام اور ہے جہاں وہ صحیح ہے اور بہت بہتر ہے وہ یہ ہے کہ اس کو نہ ایمان کے کمال کی طرف راجع کیا جائے نہ ہی اس کی اصلی اور بنیاد پر مثال کے طور پر جیسے ایک آدمی نے حضرت قتادہ سے سوال کیا امومن انت ؟ کیا آپ مومن ہیں حضرت قتادہ نے ( جواب میں یہ نہیں کہا کہ میں مومن ہوں بلکہ یہ ) کہا بہر حال میں اللہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہوں ، اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے ساتھ اور اچھی و بری تقدیر پر ۔ باقی رہی مومن کی وہ صفت اللہ تعالیٰ نے جس کا ذکر سورۃ انفال میں فرمایا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں ہوں یا نہیں ہوں ۔ پھر انہوں نے وہ آیات تلاوت کیں ( جن کا مفہوم یہ ہے ) مومن وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کا یمان زیادہ کر دیتی ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ مومن وہ لوگ ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں زکٰوۃ ادا کرتے ہیں ہم نے جو انہیں رزق دیا ہے خرچ کرتے وہی لوگ سچھے مومن ہیں ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجے اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ۔ حضرت قتادہ نے واضح فرمایا کہ وہ ایسا یمان لائے ہیں جو اسے کفر سے دور کرتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے وہ اوصاف و صفات مکمل کر لی ہیں ؟ جو اللہ تعالیٰ نے مومن قوم کے لئے بیان فرمائی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مغفرت اور درجات واجب فرمائے ہیں ۔ یہ بات غیر یقینی تھی ان کے لئے ایمان کی تکمیل کے وہ صفات جس کے لئے درجات واجب ہوتے ہیں وہ حاصل کر سکے ہیں یا نہیں ۔ اس بات میں شک انہیں نہیں تھا کہ ایمان پر ہوتے ہوئے کفر کی کیفیت سے بالکل دور ہیں ۔ جس سے عذاب ساقط ہو جاتا ہے ۔ جو شخص مذکورہ دونوں جگہوں میں سے کسی ایک موقع پر استثناء یعنی انشاء اللہ کہتا ہے وہ شک کرنے والا نہیں ہے ۔ غافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے یہی مفہوم حسن بصری سے بھی روایت کیا ہے ۔

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 75

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 76

76 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو أحمد الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن شاذان الهاشمي ثنا أحمد بن نصر المقري الزاهد ثنا عبد الله بن عبد الجبار الحمصي ثنا بقية بن الوليد عن تمام بن نجيح قال : سأل رجل الحسن البصري عن الإيمان فقال : الإيمان إيمانان فإن كنت تسألني عن الإيمان بالله و ملائكته و كتبه و رسله و الجنة و النار و البعث و الحساب فأنا مؤمن و إن كنت تسألني عن قول الله عز و جل : { إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } الآيات قرأ إلى { أولئك هم المؤمنون حقا } فو الله ما أدري أنا منهم أو لا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ابو احمد حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد شاذان ہاشمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن نصر مقبری زاہد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عبدالجبار حمصی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے بقیہ بن ولید نے تمام بن نحیح سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نے حسن بصری سے ایمان کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا ایمان دو ہیں اگر تم مجھ سے ایمان باللہ یعنی اللہ کے ساتھ ایمان اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں ، جنت ، جہنم ، مر کر دوبارہ اٹھانا۔ حساب و کتاب کے بارے میں پوچھتے ہو تو میں اس مذکورہ معنی اور مفہوم میں مومن ہوں ۔ اور اگر آپ کا سوال ہے اس ایمان کے بارے میں جس ایمان کے حاصل ہونے کے لئے یہ صفات اللہ نے بیان کی ہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ڈر جاتا ہے ۔ حضرت حسن بصری نے یہ آیات اولئک ھم المومنون حقا تک پڑھیں۔ ( انفال ۳) تو اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ہوں ۔

تمام بن نجيح ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحِمْصِيُّ، ← أحمد بن نصر المقري الزاهد ← أبو العباس محمد بن شاذان الهاشمي ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 76

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 77

77 - أخبرنا أبو منصور الفقيه أنبأ أبو أحمد بن إسحاق الحافظ قال سمعت أبا العباس الثقفي يقول : سمعت قتيبة بن سعيد يقول : هذا قول الأئمة المؤخوذ في الإسلام و السنة بقولهم فذكر الحكاية قال : و الإيمان يتفاضل و الإيمان قول و عمل و نية و الصلاة من الإيمان و الزكاة من الإيمان و الحج من الإيمان و إماطة الأذى عن الطريق من الإيمان و نقول : الناس عندنا مؤمنون بالاسم الذي سماهم الله في الإقرار و الحدود و المواريث و لا نقول : حقا و لا نقول : عند الله و لا نقول : كإيمان جبريل و ميكائيل فإن إيمانهم متقبل قال الإمام الحافظ البيهقي ـ رحمه الله : و روينا عن وكيع أنه قال : كان سفيان الثوري يقول : أنا مؤمن و أهل القبلة كلهم مؤمنون في النكاح والدية و المواريث و لا يقول : أنا مؤمن عند الله عز و جل و المراد بهذا ـ والله أعلم ـ أن الله عز و جل يعلم إلى ما يصير أمره في المستقبل و هو لا يعلم فيكل الأمر فيما لا يعلم إلى عالمه و يخبر عما هو عليه في الحال ـ و بالله تعالى التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور فقیہ نے خبر دی ہے ابو احمد بن اسحٰق حافظ نے وہ کہتے ہیں اس نے ابو العباس ثقفی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے قتبیہ بن سعید سے سنا وہ فرماتے تھے یہی قول ہے جو سنت اور ائمہ اسلام سے ماخوذ ہے پھر انہوں نے حکایت کی اور فرمایا ۔ کہ ایمان زیادتی کو قبول کرتا ہے اور ایمان قول عمل اور نیت کا نام ہے ۔ نماز ایمان میں سے ہیں ۔ زکوٰۃ ایمان میں سے ہے ۔ حج ایمان میں سے ہے ۔ راستہ سے تکلیف دینے والی چیز دور کرنا ایمان میں سے ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ لوگ ہمارے نزدیک اس نام کے ساتھ مومن ہیں جو اللہ نے ان کا نام رکھا ( یعنی سورۃ حج میں ھو سما کم المسلمین اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ) وہ مومن ہیں ۔ اقرار میں اور حدود میں ۔ وراثتوں اور ہم نہیں کہتے سچھے مومن ہیں اور یہ بھی نہیں کہتے کہ عند اللہ مومن ہیں ور یہ بھی نہیں کہتے کہ جبرائیل اور میکائیل کے ایمان کی طرح ( ہے ہمارا ایمان ) اس لئے کہ ان دونوں کا ایمان مقبول ہے ۔ امام حافظ بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے حضرت وکیع سے نقل کیا ہے کہ انہوںنے کہا کہ سفیان ثوری فرمایا کرتے تھے ۔ سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے : میں مومن ہوں ۔ اور اہل قبلہ سارے مومن ہیں نکاح میں ۔ خون بہا دینے میں میراث میں ۔ یہ نہیں کہتے تھے کہ میں اللہ کے نزدیک مومن ہوں ۔ اس سے مراد واللہ اعلم ۔ یہ ہے کہ اللہ عزوجل جانتے ہیں کہ اس کا معاملہ مستقبل میں کیا ہوگا؟ اور ہو نہیں جانتا تو جو چیز معلوم نہیں اس کا معامہ اس کے جاننے والی ذات کے سپرد ہو گا۔ لہذا وہ اس کی خبر دیتے تھے جس حالت پر وہ فی الحال تھے توفیق کی عنایت اللہ کی طرف سے ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ( و اذقال ابراھیم لا بیہ و قومہ اننی براء مما تعبدون الا الذی فطرنی فانہ ، سیدھین ، و جعلھا کلۃ باقیۃ فی عقبہ ) ( زحزف ۲۶-۲۷) ( وہ وقت قابل ذکر ہے ) جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا بس وہی مجھے راہ دیکھائے گا۔ اور بنا دیا اس کو ایک باقی رہنے والی بات ان کی اولاد میں تانکہ وہ رجوع رہیں ۔ یہ بھی کہا کیا کہ اس سے مراد لا الہ الا اللہ کا قول ہے ۔ اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کر چکے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ( امرت ان اقاتل الناس حتی یقولو الا الہ الا اللہ فاذا قالوا ھا عصموا منی دماء ھم و اموالھم الا بحقھا و حسابھم علی اللہ ) میں حکم دیا گیا ہو ک لوگوں جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ کہنے لگ جائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ جب وہ یہ کہیں تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور حساب و کتاب ان کا اللہ کے ذمہ ہوگا۔

قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبا العباس الثقفي ← أبو منصور الفقيه أنبأ أبو أحمد بن إسحاق الحافظ

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 77

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ألفاظ الإيمان ـ · حديث 79

79 - و فيما أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع قال : قال الشافعي ـ رحمه الله تعالى ـ : الإقرار بالإيمان وجهان فمن كان من أهل الأوثان و من لا دين له يدعي أنه دين نبوة فإذا شهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله فقد أقر بالإيمان و متى رجع عنه قتل و من كان على دين اليهودية و النصرانية فهؤلاء يدعو دين موسى و عيسى عليهما الصلاة و السلام و قد بدلوا منه و قد أخذ عليهم فيه الإيمان بمحمد رسول الله صلى الله عليه و سلم فكفروا بترك الإيمان به و اتباع دينه مع ما كفروا به من الكذب على الله قبله فقد قيل لي إن فيهم من هو مقيم على دينه يشهد أن لا إله إلا الله و يشهد أن محمدا رسول الله و يقول لم يبعث إلينا فإن كان فيهم أحد هكذا فقال أحد منهم : أشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله لم يكن هذا مستكمل الإقرار بالإيمان حتى يقول : و إن دين محمد حق أو فرض و أبرأ مما خالف دين محمد صلى الله عليه و سلم أو دين الإسلام فإذا قال هذا فقد استكمل الإقرار بالإيمان و بسط الكلام فيه و على قياس هذا فكل من تلفظ بكلام محتمل لم يكن ذلك منه صريح إقرار بالإيمان حتى يأتي بما يخرجه عن حد الاحتمال و قد بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ الكلام في شرحه و قد ينعقد الإيمان بغير القول المعروف إذا أتى بما يؤدي معناه و ما ذكرنا من الآية دلالة على ذلك قال البيهقي ـ رحمه الله : و قد روينا في حديث المقداد بن الأسود أنه قال : يا رسول الله ! أرأيت إن لقيت رجلا من الكفار فقاتلني فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعها ثم لاذ مني بشجرة فقال : أسلمت لله أقتله يا رسول الله ! بعد أن قالها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقتله فقلت يا رسول الله ! إنه قطع يدي ثم قال ذلك بعد أقتله ؟ فقال : لا تقتله فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله و إنك بمنزلته قبل أن يقول الكلمة التي قال

مجھے خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے خبر دی ہے ابو العباس اصعم نے خبر دی ہے ربیع نے وہ کہتے ہیں ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ ایمان کے اقرار کی دو وجوہ ہیں ۔ جو شخص بت پرست ہے اور جو بے دین ہے اور دین نبوی کا دعویدار ہے ۔ جب وہ شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے بندے اور رسول ہیں ۔ بس اس نے ایمان کا اقرار کر لیا جب اس اقرار سے پھر جائے قتل کر دیا جائے گا۔ اور جو شخص دین یہودیت اور نصرانیت پر ہے یہ لوگ دین موسیٰ اور عیسی علیہا السلام کے دعویدار ہیں حالانکہ وہ اس میں تبدیلی کر چکے ہیں ۔ حالانکہ ان کی کتاب میں ان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ ایمان کا عہد لیا جا چکا مگر وہ ان کے ساتھ ترک ایمان کی وجہ سے کفر کر چکے ہیں محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ کفر کے باوجود اس کے دین کی اتباع یہ اللہ پر جھوٹ ہے ۔ مجھ سے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں میں وہ بھی ہیں جو دین محمد پر قائم ہیں لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہیں اور اس بات کی شہادت بھی محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے رسول ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔ بالفرض اگر ان میں کوئی ایسا ہو اور ان میں سے کوئی ایک یہ کہے اشھدان لا الہ الا اللہ و ان محمد الرسول اللہ ، تو صرف کہنے سے وہ شخص ایمان کے اقرار کا مکمل کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا دین حق ہے یا فرض ہے اور اظہار برات کرے اس سب کچھ سے جو دین محمد کے خلاف ہے یا دین اسلام کے خلاف ہے جب وہ یہ کہے بس وہ ایمان کا اقرار مکمل کر لیا امام شافعی نے اس میں تفصیل سے کلام کیا ہے ۔ اس مذکورہ تفصیل پر قیاس کرتے ہوئے ہر وہ شخص جو احتمال رکھنے والے کلام کا تلفظ کرے تو ی اس کی طرف سے ایمان کا صریح اقرار نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اسی کلام کا تلفظ کرے جو اس کو احتمال کی حد سے نکال دے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی شرح کرتے ہوئے مفصل کلام کیا ہے ۔ کبھی مشہور قول لا الہ الا اللہ کے بغیر بھی ایمان منعقد و جاتا ہے جب ایسے الفاظ لے آئے جن سے معروف قول کا مفہوم ادا کر دے ہم نے جو آیت ذکر کی ہے اس میں اس پر دلالت موجود ہے ۔ حالانکہ تحقیق ہم روایت کر چکہے ہیں مقداد بن اسود کی حدیث میں کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں اگر میں کسی کافر سے ٹکراؤں وہ مجھ سے قتال کر لے اور تلوار میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالے پھر وہ بھاگ کر مجھ سے کسی درخت کے ساتھ پناہ لے لے اور یہ کہے کہ میں اللہ کے لئے اسلام لایا ہوں کیا اس کے یہ کہنے کے بعد میں اس کو قتل کر دوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا اس کو تو قتل نہ کر۔ میں نے کہا یا رسول اللہ وہ تو میرا ہاتھ کاٹ چکا ہو گا۔ اس کے بعد یہ کہہ رہا ہو گا کیا میں اسے قتل کر دوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تو اس کو قتل نہ کر ۔ اگر تم نے اسے قتل کیا تو وہ ترے اس مقام پر ہوگا جس مقام تو اس کو قتل کرنے سے قبل تھا ۔ اور تو اس کے اس مقام پر ہوگا جس پر وہ کلمہ پڑھنے سے قبل تھا۔

أبو عبد الله الحافظ إجازة أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع ← و فيما

Shuab ul Iman · Book › Chapter Words of Faith - · Hadith 79

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل فيمن كفر مسلما · حديث 81

81 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الوليد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن بشر و عبد الله بن نمير قالا ثنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة و في رواية عبد الله بن دينار عن ابن عمر : إن كان كما قال و إلا رجعت إليه قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ : إذا قال ذلك مسلم لمسلم فهذا على وجهين إن أراد أن الدين الذي يعتقده كفر كفر بذلك و إن أراد أنه كافر في الباطن و لكنه يظهر الإيمان نفاقا لم يكفر و إن لم يرد شيئا لم يكفر أن ظاهره أنه رماه بما لا يعلم في نفسه مثله قال : البيهقي ـ رحمه الله : قد روينا عن عمر بن الخطاب ـ رضي الله تعالى عنه ـ أنه قال : في حاطب بن أبي بلتعة حين خان رسول الله صلى الله عليه و سلم بالكتابة إلى مكة : دعني أضرب عنق هذا المنافق فسماه عمر منافقا و لم يكن منافقا فقد صدقه النبي صلى الله عليه و سلم فيما أخبر عن نفسه و لم يصر به عمر كافرا لأنه أكفره بالتأويل و كان ما ذهب إليه عمر محتمل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الولید فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حسن بن سفیان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اابی شبیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن بشران اور عبداللہ بن نمیر نے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن عمر نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اذا کفر الرجل اخاہ فقد باء بھا احدھما ) جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے ایک اس کفر کے ساتھ رجو کرتا ہے ( یعنی ایک ضرور اس کا مصداق ہو جاتا ہے ) ۔ مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں ابو بکر بن ابی شیبہ سے روایت کیا ہے ۔ عبداللہ بن دینار کی ایک روایت میں ابن عمر سے مروی ہے ۔ ( ان کان کما قال و الا رجعت الیہ ) اگر وہ شخص ایسا ہے جیسے کہ اس نے کہا تو ( ٹھیک ہے ) اور نہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹتا ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ بات جبکوئی مسلمان مسلمان کے بارے میں کہتا ہے تو یہ دو وجوہ پر ہوتا ہے ۔ اگر کہنے والے کی مراد یہ ہو کہ وہ دین جس کا یہ معتقد ہے وہ کفر ہے تو یہ کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور اگر اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ و ہ باطنی طور پر کافر ہے لیکن ظاہری طور پر بطور منافقت ایمان کا اظہار کرتا ہے تو کہنے والا کافر نہیں ہو گا اور اگر کسی بات کا ارادہ نہ کرے تب بھی کافر نہیں ہو گا۔ اس لئے کہ اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس نے اس کو تمہت لگائی ہے اس چیز کے بارے میں جس کو وہ فی نفسہ خود نہیں جانتا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں اس وقت کہا تھا جب انہوں نے مکہ خط بھیج کر رسول اللہ کا راز افشا کیا تھا۔ ( دعنی اضرب عنق ھذا المنافق ) چھوڑ ئیے مجھے میں اس منافق کی گردن مار دوں ۔ حضرت عمر نے اس کو منافق قرار دیا تھا جب کہ وہ درحقیقت منافق نہیں تھے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کی تصدیق فرمائی تھی اس کی اس بات کے بارے میں جو اس نے اپنی ذات کے بارے میں خبر د تھی ۔ اور حضرت عمر اس کی وجہ سے کافر نہیں ہوئے تھے ۔ اس لئے کہ انہوں نے حاطب کو کفر کی نسبت ناویل کے ساتھ کی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موقف وہ تھا جس احتمال تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← محمد بن بشر و عبد الله بن نمير ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الوليد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان

Shuab ul Iman · Book › Separation of those who disbelieve a Muslim · Hadith 81

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول فيمن يكون مؤمنا بإيمان غيره · حديث 86

86 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب ثنا محمد بن شاذان ثنا قتيبة بن سعيد ثنا عبد العزيز بن محمد عن العلاء بن ح عن أبيه عن أبي هريرة ـ رضي الله عنه ـ : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل إنسان تلده أمه على الفطرة أبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه فإن كانا مسلمين فمسلم كل إنسان تلده أمه يلكزه الشيطان في حضنيه إلا مريم و ابنها رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة و قد حكينا عن الشافعي ـ رحمه الله تعالى ـ أنه قال : كل مولود يولد على الفطرة هي الفطرة التي فطر الله تعالى عليها الخلق فجعلهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ـ ما لم يفصحوا بالقول فيختاروا أحد القولين : الإيمان أو الكفر ـ لا حكم لهم في أنفسهم ـ إنما الحكم لهم بآبائهم فما كان آباؤهم يوم يولدون فهم بحاله إما مؤمن فعلى إيمانه أو كافر فعلى كفره فذهب الشافعي ـ رحمه الله ـ في هذا إلى أن الله تعالى خلق المولود لا حكم له في نفسه و إنما هو تبع لوالديه في الدين في حكم الدنيا حتى يعرف عن نفسه بعد البلوغ و أما في الآخرة فمنهم من ألحقهم بآبائهم في حكم الآخرة أيضا و منهم من ألحق ذراري المسلمين بهم و زعم أن أولاد المشركين خدم أهل الجنة و منهم من توقف في الجميع و وكل أمرهم إلى الله عز و جل و هذا أشبه الأقاويل بالسنن الصحيحة و الله تعالى أعلم و قد ذكرنا أقاويل السلف في ذلك و ما احتج به كل فريق منهم في آخر كتاب القدر فمن أحب الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله تعالى و متى ما أسلم الأبوان أو أحدهما صار الولد مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما و قد ذكرنا في كتاب السنن إسلام من صار مسلما بإسلام أبويه أو أحدهما من أولاد الصحابة و إذا سبي الصغير من دار الحرب و معه أبواه أو أحدهما فدينه دين من معه من أبويه و إن سبي وحده فدينه دين السابي لأنه وليه الذي أولى به منه فقام في دينه مقام أبويه كما قام في الولاية و الكفالة مقامهما و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن شاذان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے قتیبہ بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالعزیز بن محمد نے علاء بن عبدالرحمن سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( کل انسان تلدہ امہ علی الفطرۃ ابواہ یھود انہ اوینصر انہ اور یمجسانہ فان کانا مسلمین فمسلم ۔ و کل انسان تلدہ امہ یلکزہ الشیطان فی حضنی ہالا مریم و ابنھا) ہر انسان کی اس کی ماں جنم دیتی ہے ( اسلام کی ) فطرت پر ۔ پھر اس کے والدین اس کو یہودی بناتے ہیں یا نصرانی بناتے یا مجوسی بناتے ہیں اگر وہ دونوں مسلمان ہوتے ہیں تو بچہ بھی مسلمان ہوتا ہے ۔ اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوں میں گھوسہ مارتا ہے مگر بی بی مریم اور اس کا بیٹا عیسیٰ علیہ السلام امام مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے ۔ اور ہم امام شافعی سے نقل کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تھا : ( کل مولود یولد علی الفطرۃ ) ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ یہ وہی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا ہے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے موقوف قرار دیا ہے جب تک وہ اپنے قول سے وضاحت نہ کریں اور دو میں سے ایک قول کو اختیار کریں ۔ ایمان یا کفر کو فی ذاتدان کے حکم میں ہے البتہ ان کا حکم ان کے والدین والا ہے ولادت کے دن ان کے والدین جو کچھ تھے تو بچہ بھی اسی حکم میں ہو گا۔ اگر مومن تھے تو وہ ایمان پر ہوگا یا کافر تھے تو وہ کفر پر ہوگا۔ امام شافعی کا مسلک اسی بارے میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مولود کو اس طرح بنایا ہے کہ فی نفسہ اس کے لئے اپنا کوئی حکم نہیں ہے بہر حال دنیا میں وہ اپنے والدین کے تابع ہے دین میں یہاں تک کہ وہ اپنے بارے میں بالغ ہونے کے بعد کچھ ظاہر کرے ۔ باقی رہا ان کا آخرت کا حکم تو کچھ لوگوں نے ان کو آخرت کے بارے میں بھی ان کے والدین کے ساتھ لاحق کیا ہے اور بعض نے مسلمانوں کی اولادوں کو ان کے ساتھ لاحق کیا ہے اور یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ مشرکین کی اولاد اہل جنت کے خادم ہوں گے ۔ اور کچھ لوگوں نے تمام بچوں کے بارے میں توقف کیا ہے اور ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیا ہے یہ قول احادیث صحیحہ کے مطابق تمام اقوال میں سے زیادہ بہتر ہے ۔ اس بارے میں سلف کے تمام اقوال اور ان کے دلائل ہم کتاب القدر کے آخر میں ذکر کر رہے ہیں جو شخص ان پر اگاہی چاہے تو انشاء اللہ وہاں رجوع کرے گا۔ جب والدین دونوں یا کوئی ایک مسلمان ہو جائے گا بچہ اس کے اسلام کے ساتھ مسلمان قرار پائے گا۔ ہم نے کتاب السنن میں اولاد صحابہ میں سے جو بچے والدین یا کسی ایک اسلام کی وجہ سے مسلمان قرار پائے تھے ان کا ذکر کیا ہے ۔ جب کوئی بچہ دار الکفر سے قید ہو کر آئے اور اس کے والدین ساتھ ہوں یا دونوں میں سے کوئی ایک ساتھ ہو تو بچھے کا دین اس کے ماں باپ والا ہوگا اگر بچہ اکیلا قیدی ہو کر آئے تو اس کا دین قید کرنے والے کا دین ہے کیونکہ وہی اس کا ولی ہے جو اس کے لئے اولیٰ ہے لہذا بچہ اپنے دین کے معاملے میں اپنے والدین کی جگہ ہے جیسے دلایت اور کفالت میں ان کی جگہ ہے واللہ اعلم ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← العلاء بن ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← محمد بن عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله بن يعقوب

Shuab ul Iman · Book › The door to say about whoever is a believer in the faith of others · Hadith 86

شعب الإيمان · کتاب ‹ الأول من شعب الإيمان و هو باب في الإيمان بالله عز و جل · حديث 89

89 - قال : أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنبأ أبو مسلم ثنا محمد بن كثير ثنا سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإيمان بضع و ستون أو بضع و سبعون أفضلها لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان قال الحليمي رحمه الله تعالى : و هذه الشهادة فرض تجمع الاعتقاد بالقلب و الاعتراف باللسان و الاعتقاد و الإقرار و إن كانا عملين يعملان بجارحتين مختلفتين فإن نوع العمل واحد و المنسوب منه إلى القلب هو المنسوب إلى اللسان و المنسوب إلى اللسان هو المنسوب إلى القلب كما أن المكتوب ـ مما جمع بين كتبه و قوله هو المقول و المقول هو المكتوب قال : و العمل الصالح بالاعتقاد و الإقرار مجموع عدة أشياء : 1 - ـ أحدهما : إثبات البارئ جل جلاله ليقع به مفارقة التعطيل 2 - ـ و الثاني : إثبات وحدانيته لتقع به البراءة من الشرك 3 - ـ و الثالث : إثبات أنه ليس بجوهر و لا عرض ليقع به البراءة من التشبيه 4 - ـ و الرابع : إثبات أن وجود كل ما سواه كان معدوما من قبل إبداعه له و اختراعه إياه ليقع به البراءة من قول من يقول بالعلة و المعلول 5 - ـ و الخامس : إثبات أنه مدبر ما أبدع و مصرفه على ما يشاء ليقع به البراءة من قول القائلين بالطبائع أو تدبير الكواكب أو تدبير الملائكة فأما البراءة بإثبات الباري جل ثناؤه و الاعتراف له بالوجود من معاني التعطيل فلأن قوما ضلوا عن معرفة الله جل ثناؤه فكفروا و ألحدوا و زعموا أنه لا فاعل لهذا العالم و أنه لم يزل على ما هو عليه و لا موجود إلا المحسوسات و ليس وراءها شيء و أن الكوائن و الحوادث إنما تكون و تحدث من قبل الطبائع التي في العناصر ـ و هي الماء و النار و الهواء و الأرض و لا مدبر للعالم يكون ما يكون باختياره و صنعه فإذا أثبت المثبت للعالم إلها و نسب الفعل و الصنع إليه فقد فارق الإلحاد و التعطيل و هذا أحسن مذاهب الملحدين و القائلون به يسميهم غيرهم من أهل الإلحاد : الفرقة المتجاهلة و يدعونهم غير الفلاسفة أما البراءة من الشرك بإثبات الوحدانية فلأن قوما ادعوا فاعلين فزعموا أن أحدهما يفعل الخير و الآخر يفعل الشر و زعم قوم أن بدء الخلق كان من النفس إلا أنه كان يقع منها لا على سبيل السداد و الحكمة فأخذ الباري على يدها و عمد إلى مادة قديمة كانت موجودة معه لم تزل فركب منها هذا العالم على ما هو عليه من السداد و الحكمة فإذا ثبت المثبت أن لا إله إلا الله واحد و لا خالق سواه و لا قديم غيره فقد انتفى عن قول الشريك الذي هو في البطلان و وجوب اسم الكفر لقائله كالإلحاد و التعطيل و أما البراءة من التشبيه بإثبات أنه ليس بجوهر و لا عرض فلأن قوما زاغوا عن الحق فصفوا الباري ـ جل و عز ـ ببعض صفات المحدثين فمنهم من قال : إنه جوهر و منهم من قال : إنه جسم و منهم من أجاز أن يكون على العرش قاعدا كما يكون الملك على سريره و كل ذلك في وجوب اسم الكفر لقائله كالتعطيل و التشريك فإذا ثبت أنه ليس كمثله شيء و جماع ذلك أنه ليس بجوهر و لا عرض فقد انتفى التشبيه لأنه لو كان جوهرا أو عرضا لجاز عليه ما يجوز على سائر الجواهر و الأعراض و إذا لم يكن جوهرا و لا عرضا لم يجز عليه ما يجوز على الجواهر من حيث أنها جواهر كالتأليف و التجسيم شغل الأمكنة و الحركة و السكون و لا ما يجوز على الأعراض من حيث أنها أعراض كالحدوث و عدم البقاء و أما البراءة من التعطيل بإثبات أنه مبدع كل شيء سواه فلأن قوما من الأوائل خالفوا المعطلة ثم خذلوا عن بلوغ الحق فقالوا : إن الباري موجود غير أنه علة لسائر الموجودات و سبب لها بمعنى أن وجوده اقتضى وجودها شيئا فشيئا على ترتيب لهم يذكرونه و أن المعمول إذا كان لا يفارق العلة فواجب إذا كان الباري لم يزل أن يكون مادة هذا العالم لم تزل معه فمن أثبت أنه المبدع الموجد المحدث لكل ما سواه من جوهر و عرض باختياره و إرادته المخترع لها لا من أصل فقد انتفى عن قوله التعليل الذي هو في وجوب اسم الكفر لقائله كالتعطيل و أما البراءة من الشريك في التدبير بإثبات أنه لا مدبر لشيء من الموجودات إلا الله فلأن قوما زعموا أن الملائكة تدبر العالم و سموها آلهة و قد قال الله تعالى للملائكة : { فالمدبرات أمرا } و معنى المدبرات : المنفذات لما دبر الله على أيديها كما يقال لمن ينفذ حكم الله بين الخصوم : حاكم و زعم قوم أن الكواكب تدر ما تحتها و أن كل كائنة و حادثة في الأرض فإنما هي من آثار حركات الكواكب و اقترافها و اقترانها و اتصالها و انفصالها و غير ذلك من أحوالها فمن أثبت أن الله ـ عز و جل ـ هو المدبر لما أبدع و لا مدبر سواه فقد انتفى عن قوله التشريك في التدبير الذي هو في وجوب اسم الكفر لقائله كالتشريك في القدم أو في الخلق ثم أن الله عز و جل ثناؤه ضمن هذه المعاني كلها كلمة واحدة و هي لا إله إلا الله و أمر المأمورين بالإيمان أن يعتقدوها و يقولوها فقال جل و عز : { فاعلم أنه لا إله إلا الله } و قال فيما ذم مشركي العرب : { إنهم كانوا إذا قيل لهم لا إله إلا الله يستكبرون * ويقولون أإنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون } و المعنى أنهم إذا قيل لهم لا إله إلا الله استكبروا و لم يقولوا بل قالوا مكانها : أئنا لتاركوا آلهتنا لشاعر مجنون

فرمایا ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو مسلم نے وہ کہتے ہیں بات بیان کی ہے محمد بن کثیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے سہیل بن ابی صالح سے انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا : ( الا یمان بضع و ستون اوبضع و سبعون ، افضلھا لا الہ الا اللہ و ادنا ھا اماطۃ الا زی عن الطریق و الحیاء شعبۃ من اللایمان ) ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے و شاخین ہیں سب برتر شاخ لا الہ الا اللہ ہے اور سب سے چھوٹی شاخ راستہ سے گندگی وغیرہ تکلیف دہ چیز ہٹا دینا ہے اور حیاء ایمان کا شعبہ ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ شہادت فرض ہے ۔ جو اعتقاد بالقلب اور اقرار باللسان کو شامل ہے ۔ دل کا اعتقاد اور زبان کا اقرار اگرچہ دو ایسے عمل ہیں جو دو مختلف اعضاء ( دل اور زبان ) سے صادر ہوتے ہیں ۔ مگر عمل کی نوعیت واحد ہے ۔ جو چیز اس میں قلب کی طرف منسوب ہے وہی زبان کی طرف منسوب ہے ۔ اور جو چیز زبان کی طرف منسوب ہے ہی دل کی طرف منسوب ہے ۔ جیسے لفظ مکتوب وہی لکھا ہوا مکتوب ہے وہی بولا ہوا مکتوب ہے ۔ بولا ہوا وہی لکھا ہوا اور لکھا ہوا وہی بولا ہوا مکتوب ہے حلیمی نے فرمایا ۔ کہ عمل صالح اعتقاد اور اقرار سمیت مجموعی طور پر متعدد اشیاء میں ۔ اول ۔ باری تعالیٰ کے وجود کا اثبات کرنا تانکہ اس کے ساتھ تعطیل کا عقیدہ سے انکار واقع ہو۔ دوم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اثبات تانکہ اس کے ساتھ شرک سے بیزاری واقع ہو۔ سوم اس بات کا اثبات کے اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے نہ عرض ہے تانکہ اس کے ساتھ عقید تشبیہ سے بیزاری واقع ہو۔ چہارم ، اس بات کا اثبات کہ اللہ کے سوا ہر شئی کا وجود اللہ تعالیٰ کے ایجاد و اختراع کرنے سے قبل معدوم تھا تانکہ اس کے ذریعہ خالق و مخلوق کے مابین علت و معلول کے تعلق و رشتہ کے عقیدہ سے بیزاری و براءۃ واقع ہو۔ پنجم ، اس بات کا اثبات کہ جو کچھ اللہ نے پیدا کیا ہے اس کا مدبر اور متصرف جیسے چاہے وہ خود ہے تانکہ اس کے ذریعے ان لوگوں سے براۃ واقع ہو سکے جو اس بات کے قائل ہیں کہ کائنات طبعی طور پر چل رہی ہے یا وہ لوگ جو کہتے ہیں کواکب اور ستاروں کی گردش سے یا وہ لو گ جو کہتے ہیں کہ فرشتوں کی تدبیر سے چل رہی ہے بہر حال باری تعالیٰ کے اثبات کے ساتھ براۃ و بیزاری اور اللہ کے وجود کا اقرار یہ عقیدہ تعطیل کے رد میں سے ہے اس لئے کہ ایک قوم اللہ کی معرفت سے بھٹک گئی ہے اور کافر و ملحد ہو گئے ہیں اور انہوں نے یہ دعویٰ کر لیا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے ۔ یہ ہمیشہ اسی حالت پر ہے اور یہ کہ موجود وہی چیز ہو سکتی ہے جو محسوسات میں سے اور جو چیز محسوس نہیں ہوتی وہ موجود بھی نہیں ہے ۔ اور یہ کہ حوادث اور واقعات عناصر اربعہ آگ پانی ہوا مٹی کے طبائع کے تغیر و تبدیلی سے پیدا ہوتے ہیں اور یہ کہ عالم کا کوئی مدبر نہیں ہے جس کے اختیار اور عمل سے ہو جو کچھ ہوتا ہے ۔ جب کوئی ثابت کرنے والا عالم کے لئے ایک الہٰ ثابت کرتا ہے اور فعل اور صنعت کی نسبت اسی کی طرف کرتا ہے تو وہ الحاد اور تعطیل کو غلط کر دیتا ہے جب کہ وہ ملحدین کا خوبصورت مذہب ہے جس کے قائل اہل الحاد اپنے مخالفین کو فرقہ متجاہلہ کا نام دیتے ہیں اور انہیں غیر فلاسفہ و غیر معقول کہتے ہیں ۔ اسی طرح شرک سے براۃ و بیزاری وحدانیت کے اثبات سے ہوتی ہے کیونکہ ایک قوم کا دعویٰ ہے کہ کائنات کے دو فاعل ہیں یا دو خالق ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایک خیر کے امور اور دوسرا شر کے امور انجام دیتا ہے ۔ اور انہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تخلیق کی ابتدا روح اور نفس سے تھی لیکن غیر درست طریقہ اور غیر معقول طریقے تھی اللہ تعالیٰ نے اس تخلیق کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور مادہ قدیمہ کے طرف ارادہ کیا جو ازل سے اس کے ساتھ موجود تھا ۔ اور اس عالم کو اس مادہ سے بنایا اور ترتیب دیا اس موجود ہ درست اور معقول ترکیب کے ساتھ۔ جب کوئی ثابت کرنے والا یہ ثابت کرتا ہے کہ الٰہ کوئی نہیں ہے اللہ کے سوا وہ ایک ہے اس کے سوا کوئی خالق نہیں ہے اور اس کے سوا کوئی قدیم نہیں ہے ۔ تو وہ شریک ہونے کے قول کی نفی کرتا ہے اور یہ شریک ہونے کا کرنے والا قول باطل ہونے اور اپنے قائل کے لئے کافر کا لقب واجب کرنے میں الحاد اور تعطیل کے قول کی طرح ہے اسی طرح تشبیہ کے عقیدے سے براۃ و بیزاری یہ ثابت کرے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نہ جوہر ہے اور نہ ہی عرض ہے اس لئے ہے کہ ایک قوم حق سے بھٹک گئے ہیں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کو بعض حادث صفات کے ساتھ متصف کیا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ جوہر ہے بعض کہتے ہیں کہ وہ جسم ہے ۔ بعض نے یہ جائز رکھا ہے کہ وہ عرش پر بیٹھا ہے جیسے کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ جب کہ یہ ساری باتیں اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب لگانے کے لئے تعطیل اور تشریک کے عقیدے کی طرح ہیں ( کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لئے یہ لازم آتا ہے کہ وہ کائنات کی اشیاء سے ممثلت رکھتا ہے جب کہ وہ مثلیت سے پاک ہے ( مترجم ) جب کوئی ثابت کرتے والا یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ لیس کمثلہ شئی ہے اس کی مثل کوئی بھی شئی نہیں ہے خلاصہ اس کا یہ ہے کہ نہ وہ جوہر ہے اور نہ ہی عرض ہے تو وہ تشبیہ کی نفی کر دیتا ہے ۔ کیونکہ اگر وہ جوہر یا عرض ہوتا تو اس پر وہ سب کچھ جائز اور ممکن ہوتا جو تمام جو اہر و اعراض پر ہوتا ہے ۔ جب وہ جوہر نہیں ہے عرض نہیں ہے تو اس پر وہ سب کچھ جائز نہیں ہے جو جواہر و اعراض پر ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ جواہر میں تالیف و ترکیب ہوتی ہے تحبیم ہوتی ہے اللہ اس سے پاک ہے اور مکان اور جگہ گھیرتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے حرکت و سکون میں آتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے ور وہ کیفیات بھی س پر جائز نہیں جو اعراض پر ہوتی ہے جیسے قائم بالغیر ہونا اپنے ہونے اور وجود کے لئے کسی اور شئی کا محتاج ہونا پھر حادث و فانی ہونا وغیرہ اللہ تعالیٰ تمام نقائص سے پاک ہے ۔ اسی طرح تعطیل سے براۃ و بیزاری ۔ یہ ثابت کرنے کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہر شئی کو از سر نو بغیر مادہ کے بنانے والا ہے اپنی ذات کے سوا ( یہ اس لئے ضروری ہے کہ ) پہلے لوگوں میں سے ایک قوم نے فرقہ معطلہ کی مخلافت کی مگر حق تک رسائی پانے میں ناکام ہو گئے اور انہوں نے یہ قول اختیار کر لیا کہ اللہ تعالیٰ جود تو ہے لیکن اسی طرح کہ وہ تمام کائنات کی موجودات کے لئے علت اور سبب ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے وجود نے موجودات میں سے ہر ہر شئی کے وجود کو ایک کے بعد ایک کو تقاضا کیا ہے ایک خاص ترتیب کے ساتھ جس کا وہ ذکر کرتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتے ۔ تو جو شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ از سر نوع بغیر مادے اور بغیر مثال کے کائنات بنانے اور ایجاد کرنے والا ہے اور اپنے سوا ہر چیز کو از سرے نو پیدا کرنے والا ہے اپنے اختیار کے ساتھ اور اپنے ارادے کے ساتھ خواہ وہ چیز جوہر ہو یا عرض ہو بغیر کسی اصل کے اختراع کرنے والا ہے تو وہ شخص تعطیل کے قول کی نفی کرتا ہے علت و معلول کے عقیدہ کی نفی کرتا ہے جو عقیدہ اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب دینے کے لئے عقیدہ تعطیل و تشریک کی طرح ہے اسی طرح شریک سے براۃ و بیزری یعنی تدبیر میں شریک ہونا اس کی نفی ہوتی ہے اس بات کے اثبات کے ساتھ کہ موجودات میں سے کسی بھی شئی کے لئے اللہ کے سوا کوئی مدبر نہیں ہے ۔ اس لئے کہ ایک قوم نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ فرشتے عالم کے مدبر ہیں لہذا ان کو اللہ کا نام دے رکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے بارے میں فرمایا ۔ فالمدبرات امرا ( ناز علت ) مدبرات کا معنی ہے منفذات لما دبر اللہ علی ایدیھا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے جس چیز کی تدبیر فرما دی ہے ان تدبیرات الہیہ کو نافذ کرنے والے مثال کے طور پر جیسے اللہ کے حکم کو نافذ کرنے والے کو حاکم کہتے ہیں جب وہ دو مخالفوں میں فیصلہ کرتا ے اور ایک قوم نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ کواکب اور ستارے اپنے نیچے مدبر ہیں اور ہر مصیبت اور ہر حادثہ جو دھرتی پر ہوتا ہے وہ کواکب کی گردش کے آثار سے ہوتا ہے اور ان کے ملنے اور جدا ہونے ان کے ملاپ اور جدائی وغیرہ کیفیات سے ہوتا ہے ۔ تو جو شخص یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ نے جو کچھ ایجاد و اختراع کیا ہے اس کا مدبر وہ خود ہے اس کے سوا کوئی مدبر نہیں ہے تو وہ تدبیر میں شریک کرنے کی نفی کرتا ہے جب کہ یہ شرک اپنے قائل کے لئے کفر کا لقب دینے میں قدیم ہونے کے شرک اور تخلیق میں شرک کی طرح ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ( مذکورہ تمام شرک کی نفی کرنے اور توحید کے تمام مذکورہ و غیر مذکورہ ( پہلو اجاگر کرنے اور ثابت کرنے کے لئے ) اور مذکورہ تمام معانی کو ایک ہی کلمہ میں جمع کرنے کے لئے یہی ایک کلمہ دیا ہے وہ ہے لا الہ الا اللہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لئے مامورین کو حکم دیا ہے کہ واسی کا عقیدہ رکھیں اور اسی کا قول و اقرار کریں اور اللہ تعالیٰ نے خود حکم دیا ہے : ( فاعلم انہ لا الہ الا اللہ ) ( سورۃ محمد ۱۹) یقین جاننے کہ وہ وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ ( یعنی لا موجود الا اللہ ، ولا واحد الا اللہ ، لا منزہ من الشرکاء الا اللہ لا منزہ من النشیبیہ الا اللہ ، لا مبدع ولا موجد بغیر اصلی و مادۃ الا اللہ ، لا مدب و الا متصرف فی الکو نالا اللہ ، و غیرہ ذلک من اللوازم و الصفات ) ( ازمترجم ) اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : ( انھم کانوا اذاقیل لھم لا الہ الا اللہ یستکبرون و یقولون ائنا لتار کوا الھتنا لشاعر مجنون ) ( الصافات ۳۵-۳۶) بے شک ان مشرکوں سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کے سوا کوئی الٰہ نیں ہے تو وہ اکڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہم ایک شاعر اور دیوانے کے لئے اپنے بہت سارے معبودوں اور حاجت رواؤں کو چھوڑ دیں گے ؟ یعنی جب انہیں کہا جاتا کہ لا الہ الا اللہ تو وہ اخر جاتے اور اس کا اقرار نہ کرتے بلکہ اس کی جگہ یہ کہتے ہیں : ( ائنا لتار کوا التھنا لشاعر مجنون ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ،

Shuab ul Iman · Book › The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty · Hadith 89

chevron_left Previous
1…404142…484
Next chevron_right