Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 14

14 - أخبرناه أبو منصور النخعي بالكوفة ثنا أبو جعفر بن دحيم ثنا أحمد بن حازم أنبأ عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال في آخره : إن أوثق عرى الإيمان أن تحب في الله و أن تبغض في الله فجعل هذه الشرائع كلها من الإيمان و شاهده في الحب و البغض ما :

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور نخعی نے کوفہ میں وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو جعفر بن رحیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن حازم نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے عثمان بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر نے پھر اس نے اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ ذکر کیا سابق کی طرح علاوہ اس کے کہ اس نے اس کے آخر میں کہا ہے ۔ لوگوں نے شرائع اسلام کا زکر کیا مگر درست نہ کہہ پائے جب آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے دیکھا کہ وہ صحیح نہی کہہ پائے تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ان اوثق عریٰ الایمان ان تحب فی اللہ و ان تبغض فی اللہ ) ۔ بے شک ایمان کا مضبوط ترین کڑا یہ ہے کہ تو محبت بھی اللہ کی رضا کے لئے کرے اور نفرت بھی ۔ ( دیکھئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان تمام شرائع کو ایمان قرار دیا ہے اور اس کو محبت اور بغض میں بھی ظاہر کیا ہے ۔

جرير فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← أحمد بن حازم أنبأ عثمان بن أبي شيبة ← أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ ← أبو منصور النخعي بالكوفة

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 14

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 15

15 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانئ و إبراهيم بن عصمة قالا نا السري بن خزيمة نا عبد الله بن يزيد المقرئ ثنا سعيد بن أبي أيوب عن أبي مرحوم عن سهل بن معاذ بن أنس الجهني عن أبيه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أعطى لله و منع لله و أحب لله و أبغض لله و أنكح لله فقد استكمل إيمانه و روى ذلك أيضا في حديث أبي أمامة الباهلي عن النبي صلى الله عليه و سلم في غير الإنكاح فصرح أن هذه الخصال كلها إيمان و أبان أن أوثق عرى الإيمان الإخلاص

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے انہوں نے کہا ہمیں بیان کیا محمد بن صالح بن بانی نے اور ابراہیم بن عصمہ نے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے سری ابن حزیمہ نے انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ۔ عبداللہ بن یزید مقری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سعیدن بن ابی ایوب نے میرے والد مرحوم سے انہوں نے سہل بن معاذ بن انس جھنی سے انہوں نے اپنے باپ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( من اعطٰی للہ و منع للہ واحب للہ وابغض للہ و انکح للہ فقد استکمل ایمانہ ) جس شخص نے اللہ کی رضا کے لئے دیا اور اللہ کی رضا کے لئے دینے سے ہاتھ روکا۔ جس نے اللہ کی رضا کے لئے کسی کو چاہا اور جس نے اللہ کی رضا کے لئے نفرت کی ۔اور اللہ کی رضا کے لئے نکاح کیا اس نے ایمان کو مکمل کر لیا۔ یہی مفہوم ابا امامہ باہلی کی حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے مگر اس میں نکاح کا زکر نہیں ہے اور تصریح اور وضاحت کی گئی ہے یہ تمام صفات و اعمال ایمان ہیں ۔ اور واضح فرمایا ہے کہ ایمان کا مضبوط ترین کڑا اخلاص ہے ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي مَرْحُومٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← محمد بن صالح بن هانئ و إبراهيم بن عصمة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 15

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 16

16 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنبأ علي بن عبد العزيز ثنا عبد السلام بن صالح الهروي ثنا علي بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب حدثني أبي عن جعفر عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي ـ رضي الله عنهم ـ قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإيمان معرفة بالقلب و إقرار باللسان و عمل بالأركان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن اسحٰق فقیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے علی بن عبدالعزیز نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر بیان کی ہے عبدالسلام بن صالح ہروی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن موسیٰ بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب نے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد نے جعفر سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے علی بن حسین سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( الایمان معرفۃ بالقلب و اقرار باللسان و عمل با لا رکان ) کہ ایمان دل کی معرفت زبان سے اقرار اور اعضاء کے ساتھ عمل کرنے کا نام ہے ۔

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 16

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 17

17 - و حدثنا أبو محمد عبيد بن محمد بن مهدي القشيري أنبأ أبو محمد المسيب البيهقي ثنا أبو الصلت الهروي عبد السلام و محمد بن أسلم قالا : ثنا علي بن موسى الرضا عن أبيه : فذكره بإسناده غير أنه قال : الإيمان إقرار باللسان و معرفة بالقلب و عمل بالجوارح و شاهد هذا الحديث ما مضى في الحديث الثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم في عدد شعب الإيمان و أما قول الله عز و جل : { إن الذين آمنوا و عملوا الصالحات } فأفرد العمل الصالح بالذكر و قد قال أيضا : { إلا الذين آمنوا و عملوا الصالحات و تواصوا بالحق و تواصوا بالصبر } فأفرد التواصي بالحق و التواصي بالصبر بالذكر و لم يدلك ذلك على أنهما ليسا من الأعمال الصالحة فكذلك قوله : { إن الذين آمنوا و عملوا الصالحات } لا يدل على أن عمل الصالحات ليس بإيمان و إنما معناه أن الذين آمنوا قبل الإيمان ـ الناقل عن الكفر ـ ثم لم يقتصروا عليه و لكنهم ضموا إليه الصالحات فعملوها حتى ارتقى إيمانهم من درجة الأقل إلى الأكمل أو نقول : إن المراد بالذين آمنوا الإيمان بالله و بعمل الصالحات الإيمان لله و الإيمانان متغايران على ما بينا فلذلك سميا باسمين و الله أعلم

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد عبید بن محمد بن مہدی قثیری نے انہوں نے کہا خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن محمد بن موسیٰ بن کعب نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد فضل بن محمد بن مسیب بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو صلت ہروی عبدالسلام اور محمد بن اسلم نے وہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن موسیٰ رضا نے اپنے والد سے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے مگر اس طرح کیا ہے ۔ ( الایمان اقرار باللسان و معرفۃ بالقلب و عمل بالجوارح ) کہ ایمان زبان سے اقرار دل کی معرفت اور اعضاء کے ساتھ عمل کا نام ہے ۔ اس حدیث کو مشاہدہ کیجیے شعب الایمان کی گنتی میں جو گزری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ثابت حدیث میں آئندہ سطور میں ممکنہ اعتراض کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان اور عمل صالح کو حرف عطف کے فاصلہ کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ ( مترجم ) بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے ( ان الذین امنوا و عملوا الصالحات ) یعنی جو لوگوں نے ایمان لائے اور عمل صالح کئے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عمل صالح کو علیحدہ ذکر کیا ہے ۔ نیز دوسری آیت ( الا الذین امنوا و عملوا الصالحات و توا صو با لحق و توا صوا بالصبر ) ( سورۃ العصر ۳) یعنی اس آیت میں ایمان ۔ عمل صالح ، تواصی بالحق ، تواصی بالصبر کو الگ الگ ذکر کیا ہے یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ یہ دونوں اعمال صالحہ میں سے نہیں ہیں یہی حال اس آیت کا ہے ۔ ( ان الذین امنوا و عملوا الصالحات ) یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ اعمال صالح ایمان نہیں ہیں بلکہ مطلب ہے کہ جو لوگ ایسے ایمان سے قبل ایمان لائے جو کفر سے اسلام کی طرف منتقل کرتا ہے پھر اسی پر اکتفا نہیں کیابلکہ ایمان کے ساتھ نیکیاں بھی شامل کیں اور ان پر عمل کیا یہاں تک کہ ان کا ایمان کہ درجہ سے اکمل درجے کی طرف بلند ہو گیا ۔ یا ہم کہیں گے کہ الذین امنوا سے مراد ہے ایمان با اللہ اور عمل با الصالحات ایمان اللہ ۔ دو مختلف ایمان ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ۔ اسی لئے دو الگ الگ نام رکھے گئے ہیں ۔ و اللہ اعلم ۔

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 17

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 18

18 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ الإسفراييني بها أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب القاضي ثنا عمرو بن مرزوق ثنا شعبة عن أبي جمرة عن ابن عباس رضي الله عنه : أن وفد عبد القيس لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من القوم ؟ قالوا : ربيعة قال : مرحبا بالوفد غير الخزايا و لا النادمين قالوا : يا رسول الله : إنا حي من ربيعة و إنا نأتيك من شقة بعيدة و إنه يحول بيننا و بينك هذا الحي من كفار مضر و إنا لا نصل إلا في شهر حرام فمرنا بأمر فصل ندعو إليه من وراءنا و ندخل به الجنة قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : آمركم بأربع و أنهاكم عن أربع : آمركم بالإيمان بالله وحده أتدرون ما الإيمان بالله وحده ؟ شهادة ان لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و إقام الصلاة و إيتاء الزكاة و أن تعطوا من المغانم الخمس و أنهاكم عن أربع : عن الدباء و الحنتم و النقير و المزفت ـ قال و ربما قال : المقير ـ احفظوهن و ادعوا إليهن من وراءكم أخرجه البخاري و مسلم فقال الصحيح من حديث شعبة و غيره فسمى رسول الله صلى الله عليه و سلم كلمة الشهادة في هذا الحديث إيمانا و سماها في حديث آخر إسلاما

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی المقری اسفرائینی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی حسن بن محمد بن اسحاق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب قاضی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عمروبن مرزق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے ابو حمزہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت آیا تو آپ نے دریافت فرمایا ۔ من القوم تم کون لوگ ہو انہوں نے جواب دیا قبیلہ ربیعہ کے لوگ ہیں آپ نے خوش آمدید کہا ( اور دعا دی ) نہ تم کبھی رسوا ہو اور نہ ہی شرمندہ ان لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہم قبیلہ ربیعہ کے لوگ دور دراز کی آبادی سے آپ کی خدمت میں آتے ہیں آپ کے اور ہمارے درمیان یہ کفار قبیلہ مضر کے لوگ حائل ہیں لہذا ہم لوگ آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں لہذا ہمیں کوئی ایسی پکی بات بتا دیجیئے جس کی طرف ہم پیچھے رہ جانے والے دوسرے لوگوں کوبھی دعوت دیں اور ہم سب جنت میں داخل ہو سکیں حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( امر کم باربع و انھا کم باربع ) میں آپ لوگوں کو چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ۔ اللہ وحدہ لا شریک کے ساتھ ایمان کا حکم دیتا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو کہ ایمان کیا چیز ہے ۔ وہ یہ ہے اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا رسول ہے ۔ اور نماز قائم کرنا ۔ زکوٰۃ دینا ۔ اور تم لوگ غنیمت کے مالوں میں سے پانچواں حصہ بھی بیت المال میں دینا ۔ اور جن چیزوں سے تمہیں روکتا ہوں یہ ہے ۔ ( یعنی چار قسم کے برتنوں کے استعمال سے ان کو منع کیا ) 1۔ حنتم یعنی سبز ٹھلی ۔ 2۔ الدبآء یعنی کدو کے تونبے سے ۔ 3۔ النقیر یعنی درختوں کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے بنائے ہوئے مرتبان ( برتن ) سے ۔ مزفت تار کول ملے ہو برتن ( مرتبان ) سے ۔ اور راوی نے کبھی نقیر کی جگہ المقیر کہا ان امور کو یا درکھو اور جو لوگ تمہارے پیچھے رہ گئے ہیں ان کو ان باتوں کی دعوت دو ۔ بخاری مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں درج کیا ہے شعبہ کی روایت سے دیکھے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے کلمہ شہادت کو ایمان کا نام دیا ہے اور اسی طرح دوسری حدیث میں اسی کا نام اسلام رکھا ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 18

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 19

19 - و ذلك فيما أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن محمد بن يحيى و أبو عبد الله البوشنجي قالا : ثنا مسدد و أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة من أولاد النعمان بن بشير ثنا أبو محمد عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي ثنا أبو الحسن مسدد بن مسرهد ثنا يحيى بن سعيد عن عثمان بن غياث حدثني عبد الله بن بريدة عن يحيى بن يعمر و حميد بن عبد الرحمن قالا : لقينا عبد الله بن عمر فذكرنا له القدر و ما يقولون فيه فقال : إذا رجعتم إليهم فقولوا لهم إن ابن عمر منكم بريء و أنتم منه برآء ثلاث مرات ثم قال : أخبرني عمر ـ أو قال : حدثني عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنهم بينا هم جلوس عند رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء رجل حسن الوجه حسن الشعر عليه ثياب بياض فنظر القوم بعضهم إلى بعض فقالوا : ما نعرف هذا و لا هذا صاحب سفر ثم قال : يا رسول الله ! آتيك ؟ قال : نعم قال : فجاء فوضع ركبتيه عند ركبتيه و يديه على فخذيه فقال : ما الإسلام ؟ قال : الإسلام شهادة أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تصوم رمضان و تحج البيت قال : فما الإيمان ؟ قال : أن تؤمن بالله و ملائكته و الجنة و النار و البعث بعد الموت و القدر كله قال : فما الإحسان ؟ قال : أن تعمل كأنك ترى فإن لم تكن ترى فإنك ترى قال : فمتى الساعة ؟ قال : ما المسؤول عنها بأعلم من السائل قال : فما أشراطها ؟ قال : إذا رأيت الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان و ولدت الإماء أربابهن ثم قال : علي بالرجل فطلبوه فلم يروا شيئا فلبث يومين أو ثلاثة ثم قال : يا ابن الخطاب ! أتدري من السائل عن كذا و كذا ؟ قال : الله و رسوله أعلم قال : ذاك جبريل جاءكم يعلمكم أمر دينكم قال : و سأله رجل من جهينة أو مزينة قال : يا رسول الله ! فيم نعمل ؟ أفي شيء قد خلا أو مضى ؟ أو شيء يستأنف الآن ؟ قال : في شيء قد خلا و مضى فقال رجل أو بعض القوم : فيم نعمل إذن ؟ قال : إن أهل الجنة ييسرون لعمل أهل الجنة و إن أهل النار ييسرون لعمل أهل النار رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن حاتم عن يحيى بن سعيد قال الإمام أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ و في تسمية كلمة الشهادة في هذا الحديث إسلاما و في الحديث الأول إيمانا دلالة على أنهما اسمان لمسمى واحد إلا أنه فسر في هذا الحديث الإيمان بما هو صريح فيه ـ و هو التصديق ـ و فسر الإسلام بما هو أمارة له و إن كان اسم صريحه يتناول أماراته و اسم أماراته يتناول صريحه و هذا كما فصل بينهما و بين الإحسان و إن كان الإيمان و الإسلام إحسانا و الإحسان الذي فسر بالإخلاص و اليقين يكون إيمانا و الله تعالى أعلم

یہ بھی اسی میں ہے جس کی خبر ہمیں ابو عبداللہ الحافظ نے دی ہے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ محمد بن یعقوب رحمتہ اللہ علیہ وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن محمد بن یحییٰ اور ابو عبداللہ بوشنجی نے وہ دنوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے مسدد نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو نصر عمر بن عبدالعزیز عمر بن قتادہ نے اولاد نعمان بن ابراہیم بو شنجی رحمتہ اللہ علیہ وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن مسدد بن مسرھد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن سے وہ دونوں کہتے ہیں ہم حض عبداللہ بن عمر سے ملے ہم ان سے تقدیر کے مسئلہ اور اس کے بارے میں لوگ جو کچھ کہتے ہیں بات کی ۔ انہوں نے فرمایا : جب تم لوگ ان کے پاس لوٹ کر جاؤ تو ان سے کہنا کہ حضرت ابن عمر تم سے لا تعلقی ظاہر کرتا ہے اور تم لوگ بھی اس سے لا تعلق ہو تین بار یہ فرمایا پھر فرمایا مجھے خبر دی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یا یوں فرمایا تھا کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب نے حدیث بیان کی تھی کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں بیٹحے تھے ایک خوبصورت چہرے والا جو جوان آیا خوبصورت بالوں والا اس نے سفید پوشاک پہن رکھی تھی لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور بولے ہم اس کو نہیں جانتے اور یہ مسافر بھی نہیں ہے آتے ہی اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میں آپ کے پاس آؤں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ۔ فرمایا پھر وہ آیا اور ا س نے اپنے گھٹنے رسول اللہ کے گھٹنوں کے آگے تہہ کئے اور دونوں ہاتھ رانوں پر رکھ کر فرمایا : ( ما الا سلام ؟ اسلام کیا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز قائم کرو زکوۃ ادا کر رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر۔ پھر اس نے سوال کیا ( ما الا یمان ؟ ) ایمان کیا چیز ہے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں اور جنت اور جہنم اور موت کے بعد جی اٹھنا اور پوری پوری تقدیر پر ۔ پھر اس نے سوال کیا ( ما الا احسان ؟ احسان کیا چیز ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تو عمل اس طرح کر گویا کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے اس نے آنے والے شخص نے سوال کیا قیامت کب آئے گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا مسئول سائل سے زیادہ نہیں جانتا یعنی میں قیامت کے آنے کے بارے میں تم سے زیادہ نہیں جانتا، اس نے پوچھا قیامت کی علامات کیا کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا ، جس وقت پاؤں سے ننگے ، جسم سے ننگے تنگدست غریب بکریوں کے چرواہے ( خستہ حال امیر بن کر ) عمارتوں ( بلڈنگوں میں ) ایک دوسرے پر بڑھ جائیں سبقت لے جانے لگیں اور لونڈٰیاں اپنے مالک کو جنم دیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا وہ سائل کہاں ہے اسے بلاؤ دیکھا تو وہ غائب ہو چکا تھا کچھ بھی نظر نہ آیا۔ آپ نے دو دن یا تین یا تین دن گزارنے کے بعد فرمایا اے ابن خطاب وہ شخص کون تھا کیا تم جانتے ہو ؟ جو فلاں فلاں سوال کر رہا تھا ابن خطاب نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے تمہارے پاس تمہیں دین سیکھانے آئے تھے ، حضرت عمر فرماتے ہیں ، قبیلہ جھینہ یا مرینہ کے آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ہم کس چیز میں عمل کریں ؟ کیا اس چیز میں جو گزر گئی یا جو آئندہ پیش آنے والا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا جو چیز گزر گئی ۔ ایک شخص یا بعض لوگوں نے پوچھا اس وقت ہم کس چیز کا عمل کریں ( یعنی عمل نہ کریں ) آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا اہل جنت کے لئے جنت کے اعمال آسان کئے جاتے ہیں اور اہل جہنم کے لئے جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں ۔ امام مسلم نے صحیح مسلم میں اس روایت کو محمد بن حاتم سے انہوں نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے امام ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ اس حدیث میں کلمہ شہادت کو اسلام کا نام دینے اور سابقہ حدیث میں اسی کو ایمان کا نام دینے میں اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام اور ایمان دونوں ایک ہی چیز کے نام ہیں ۔ مگر فرق صرف اس قدر ہے کہ اس حدیث میں ایمان کی وضاحت اس امر سے کی ہے جو اس بارے میں صاف اور صریح ہے اور وہ ہے تصدیق ۔ اور اسلام کی وضاحت اس چیز سے کی ہے جو اس کی نشانی ہے اور علامت ہے ، اگرچہ اس کا صریح قسم اس کی نشانیوں اور علامات کو بھی شامل تھا ۔ اور اس کی علامات کا نام اس کی صریح اور واضح کو بھی شامل ہے ۔ یہ ایسے جیسے کہ دونوں کے اور احسان کے مابین تفصیل فرق ہے اگرچہ ایمان اور اسلام احسان ہیں اور وہ احسان جس کی تفسیر اخلاص اور یقین سے کی ہے وہی ایمان ہوگا۔ واللہ اعلم ۔

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 19

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 21

21 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا موسى بن إسحاق ثنا عبد الله بن أبي شيبة ثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن سالم بن أبي الجعد عن عطية مولى بني عامر عن يزيد السكسكي قال : قدمت المدينة فدخلت على عبد الله بن عمر فأتاه رجل من أهل العراق فقال يا أبا عبد الرحمن ! مالك تحج و تعتمر و قد تركت الغزو في سبيل الله ؟ قال : ويلك ؟ إن الإيمان بني على خمس : تعبد الله و تقيم الصلاة و تؤتي الزكاة و تحج البيت و تصوم رمضان قال : فردها عليه فقال عبد الله : كذلك حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم الجهاد بعد ذلك حسن قال الإمام أبو بكر البيهقي رحمه الله : و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أن الجهاد من فروض الكفايات و ليس بفرض على الأعيان

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ الحافظ نے کہ ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے موسیٰ بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر بن عبداللہ نے منصور سے انہوں نے سالم بن ابی سعید سے انہوں نے عطیہ مولیٰ بن عامر سے انہوں نے یزید سکسکی سے اس نے کہا ۔ میں مدینے گیا اور حضرت عبداللہ بن عمر کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس اہل عراق میں سے ایک آدمی بھی آ گیا ۔ اس سے پوچھا اے ابو عبدالرحمن آپ کو کیا ہوا آپ حج عمرہ تو کرتے ہیں ۔ مگر اللہ کی راہ میں جہاد کو ترک کر دیا ہے حضرت ابن عمر نے فرمایا : تیرے لئے ہلاکت ہو ایمان کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے ۔ تم اللہ کی عبادت کرو ۔ نماز قائم کرو۔ زکٰوۃ دو ۔ بیت اللہ کا حج کرو رمضان کے روزے رکھو اس شخص کو یہی جواب دیا پھر عبداللہ بن عمر نے فرمایا اسی طرح ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے بیان فرمایا تھا پھر اس سب کچھ کے بعد جہاد اچھا ہے ۔ امام ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں واللہ اعلم ابن عمر کی مراد شاید یہ ہے کہ جہاد فرض کفایہ میں سے ہے اور فرض عین نہیں ہے ۔

يزيد السكسكي ← عَطِيَّةَ، مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 21

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 22

22 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرئ أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن أيوب و أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار نا عبيد بن شريك أنا أبو صالح أنبأ الفزاري أنبأ سفيان بن سعيد عن أيوب عن أبي قلابة عن رجل من أهل الشام من أهل الإسلام عن أبيه قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يسأله عن الإسلام ـ و في رواية حماد قال : عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له : أسلم تسلم قال : و ما الإسلام ؟ قال : تسلم قلبك لله و يسلم المسلمون من لسانك و يدك قال : فأي الإسلام أفضل ؟ قال : الإيمان قال : فما الإيمان ؟ قال : تؤمن بالله و ملائكته و كتبه و رسله و بالبعث بعد الموت قال : فأي الإيمان أفضل قال : الهجرة قال : و ما الهجرة ؟ قال : أن تهجر السوء قال : فأي الهجرة أفضل ؟ قال : الجهاد قال : و ما الجهاد ؟ قال : أن تجاهد ـ أو قال : تقاتل ـ الكفار إذا لقيتهم ـ و في رواية سفيان قال : تقاتل العدو إذا لقيتهم و لا تغل و لا تجبن ـ و في رواية حماد ـ ثم لا تغل و لا تجبن و زاد ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثم عملان هما من أفضل الأعمال إلا من عمل عملا بمثلهما ـ و قال بإصبعيه هكذا السبابة والوسطى ـ حجة مبرورة أو عمرة مبرورة قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ فأبان هذا الحديث أن الإسلام الذي أخبر الله عز و جل أنه هو الدين عنده بقوله : { إن الدين عند الله الإسلام } و قوله : { و من يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه } و قوله : { اليوم أكملت لكم دينكم و أتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الإسلام دينا } ينظم الاعتقاد و الأعمال الظاهرة لأن قوله : الإسلام أن تسلم قلبك لله إشارة إلى تصحيح الاعتقاد و قوله : أن يسلم المسلمون من لسانك و يدك إشارة إلى تصحيح المعاملات الظاهرة ثم صرح بذلك فأخبر أن الإيمان أفضل الإسلام و فسره بأنه الإيمان بالله و ملائكته و كتبه و رسله و البعث أراد أن الإيمان بالغيب أفضل من الإيمان بما يشاهد و يرى و هذا موافق لقول الله عز و جل : { الذين يؤمنون بالغيب } مدحا لهم و ثناء عليهم ثم أبان أن الاعتقاد و عامة الأعمال إيمان فقال : أفضل الإيمان الهجرة ثم فرع الهجرة فدل ذلك على أن الطاعات كلها إيمان كما هي إسلام و أن الإسلام هو الإذعان لله عز و جل سواء وقع بأمر باطن أو بأمر ظاهر بعد أن يكون الأمران مما رضي الله تعالى لعباده أن يتقربوا به إليه

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن علی مقری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حرب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے ایوب سے اور خبر دی ہے ہمیں ابو الحسن علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے احمد بن عبدالصفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے عبید بن شریک نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو صالح نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے فزاری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے سفیان بن سعید نے ایوب سے انہوں نے ابو قلابہ سے انہوں نے اہل شام کے ایک آدمی سے اہل اسلام سے اس نے اپنے والد سے کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جو اسلام کے بارے میں آپ سے پوچھتا تھا ۔ حماد کی ایک روایت میں ہے انہوں نے کہا اپنے والد سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس آدمی سے فرمایا اسلام قبول کر لے بچ جا ۔ اس نے پوچھا اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے دل کو اللہ کے سپرد کر دے اور مسلمان تیرے ہاتھ اور زبان ( کی اذیت سے ) محفوظ ہو جائیں ۔ اس شخص نے پوچھا کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ایمان اس نے پوچھا ایمان کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں کے ساتھ اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کے ساتھ ۔ اس شخص نے پوچھا کونسا ایمان افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا کہ ہجرت اس نے پوچھا ہجرت کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ تو ہر برائی کو چھوڑ دے ۔ اس نے پوچھا ہجرت کون سی افضل ہے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا جہاد ۔ اس نے پوچھا جہاد کیا چیز ہے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تو جہاد کر یا فرمایا تھا کہ تو قتال کر کفار کے ساتھ جب تو ان سے ٹکرائے اور مقابلہ کرے اور سفیان کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تھا دشمن سے قتال کر جب تو ان سے مقابلہ کرے اور مال غنیمت میں خیانت نہ کرے اور بزدل بھی نہ ہو۔ اورحماد کی ایک روایت میں ہے غنیمت میں چوری نہ کر اور بزدلی نہ کر، اس پر بھی اضافہ کیا ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد دو عمل ایسے ہیں جو افضل ہیں تمام اعمال سے مگر جو شخص ان کے مثل عمل کرے پھر آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی ملا کر اشارہ کیا کہ اس طرح حجتہ مبرورۃ اورعمرۃ مبروۃ حج مقبول یا عمرہ مقبول ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس حدیث نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسلام جس کی اللہ جل شانہ نے خبر دی ہے کہ وہی دین ہے اس کے نزدیک ایسے اس ارشاد میں : ( ان الدین عند اللہ الا سلام ) ( آل عمران ۱۹) اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ ) ( آل عمران ۸۵) اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( الیوم اکلمت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضی تلکم الا سلام دینا ) ( المائدہ ۳) اعتقاد اور ظاہری اعمال باہم مربوط ہیں اس لئے کہ حضور کو یہ فرمان کہ اسلام یہ ہے کہ تو اپنا دل اللہ کے سپرد کر دے ۔ یہ اشارہ عقیدہ کی درستگی کی طرف اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ فرمان کہ مسلمان ترے ہاتھ اور زبان سے محفوظ اور سلامت رہیں ۔ یہ اشارہ ظاہری معاملات کی درستگی کی طرف۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس کی تصریح اور وضاحت فرما دی اور خبر دی کہ ایمان افضل اسلام ہے اور اس کی تشریح یوں فرمائی کہ اللہ کے ساتھ ایمان فرشتوں کے ساتھ ایمان ، اس کی کتابوں کے ساتھ ایمان اس کے رسولوں کے ساتھ اور دوبارہ زندہ ہونے کے ساتھ اس میں اشارہ اور یہ ارادہ فرمایا کہ ایمان باالغیب ایمان باالمشاہدہ سے افضل ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے الذین یؤمنون باالغیب کہ متیقن وہ لوگ ہیں جو ایمان باالغیب رکھتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح و ثنا میں ارشاد فرمایا ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مذکورہ حدیث میں واضھ فرمایا کہ اعتقاد اور عام اعمال ایمان ہیں پھر فرمایا افضل ایمان ہجرت ہے پھر ہجرت کی تفریع و تشریح فرمائی جو کہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام تر طاعات ایمان ہیں جیسے کہ یہ اسلام بھی ہیں ، اور وہ آپ کی تشریح اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اسلام وہی اذعان و یقین ہے اللہ تعالیٰ کے لئے خواہ وہ یقین امر ظاہر کے ساتھ ہو یا باطنی کے ساتھ جب کہ دونوں امر ایسے ہوں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے پسند کرتے ہیں کہ بندے انہیں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ قرب حاصل کریں ۔

أَبِيهِ ← رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← أبو صالح أنبأ الفزاري أنبأ سفيان بن سعيد ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ← أَيُّوبَ و ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 22

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الإيمان و الإسلام على الإطلاق عبارتان عن دين واحد · حديث 23

23 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان العامري ثنا ابن نمير عن الأعمش ـ و أخبرنا أبو عبد الله أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه ثنا معاذ بن نجدة القرشي ثنا خلاد بن يحيى ثنا سفيان عن منصور و الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود قال : قال رجل : يا رسول الله ! أيؤاخذ الله الرجل بما عمل في الجاهلية ؟ قال : من أحسن في الإسلام لم يؤاخذ بما عمل في الجاهلية و من أساء في الإسلام أخذ بالأول و الآخر لفظ حديث أبي النضر رواه البخاري في الصحيح عن خلاد بن يحيى رواه مسلم عن محمد بن عبد الله بن نمير عن أبيه قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ و هذا على أن الطاعات في الإيمان إيمان و أن المعاصي في الكفر كفر فإذا أسلم الكافر أحبط إسلامه كفره فإن أحسن في الإسلام أحبطت طاعاته تلك المعاصي التي قدمها في حال كفره و إن لم يحسن في الإسلام بقيت تلك المعاصي بحالها لم يجد ما يحبطها فأخذ بإساءته في الإسلام و فيما قبله و بسط الكلام في شرح ذلك و لا يلزم على هذا إلزامه قضاء ما ترك من صوم و صلاة لأنه إذا صام و صلى بعد ما أسلم سقط عنه ما ترك في الكفر بدلالة الحديث و إن لم يصل و لم يصم أمر بهما و حمله على ذلك حمل له على ما فعله سقط عنه ما مضى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالحافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب بن نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن عفان عامری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن نمیر نے اعمش سے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے ابو نصر محمد بن محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے معاذہ بن نجدہ قرشی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے خلاد بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے منصور سے اور اعمش ابو وائل سے انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا اللہ تعالیٰ انسان سے ان اعمال پر بھی گرفت کریں گے جو اس نے اسلام سے قبل دور جاہلیت میں کئے ہوں گے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جواب دیا جس نے اسلام میں اچھائی کی اس سے ان اعمال کا مؤاخذہ نہیں کیا جائے گا جو اس نے جاہلیت میں کئے تھے اور جس نے اسلام میں آ کر بھی برائی کی اس سے پہلے اور پچھلے تمام اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا۔ یہ الفاظ ابو نصر کی حدیث کے تھے ۔ اس حدیث کو بخاری نے اپنی صحیح میں خلاد بن یحییٰ سے روایت کیا ہے اور مسلم نے اس کو محمد بن عبداللہ بن نمیر سے اس نے اپنے باپ سے اس کو روایت کیا ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ تقریر اس بنیاد پر ہے کہ ایمان کی حالت میں طاعات عین ایمان ہیں اور کفر کی حالت میں معاصی عین کفر میں ۔ جب کافر مسلمان ہو جاتا ہے اسلام اس کے کفر کو تباہ کر دیتا ہے پھر اگر اسلام میں اچھائی اور نیکی کرے تو اس کی طاعات اور نیکیاں اس کی ان معاصی اور گناہوں کو تباہ کر دیتی ہیں جو اس نے حالت کفر میں کئے اور اگر اسلام میں اچھائی اور نیکی نہیں کرتا تو اس کے وہ گناہ باقی و بدستور رہتے ہیں انہیں تباہ کرنے والی کوئی چیز نہیں ہوتی لہذا اس کی ان تمام برائیوں پر گرفت کی جائے گی جو اسلام میں کی ہوں گی یا اسلام سے قبل کی ہوں گی اور اس کی تفصیل میں حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے بڑی تفصیل سے کام لیا ہے ۔ یہاں پر مصنف پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر سابقہ گناہوں پر بھی گرفت ہوگی ۔ تو اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ اسلام سے قبل صوم و صلوٰۃ کی قضاء بھی اس پر لازم ہو گی اس اعتراض ک جواب دیتے ہوئے مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ( از مترجم ) سابقہ تقریر سے لازم نہیں آتا کہ اس شخص پر ان نمازوں اور روزوں کی قضاء لازم ہو جو اس نے ترک کئے تھے ۔ کیونکہ اسلام لانے کے بعد جب نماز پڑھے اور روزہ رکھے گا اس کے ذمہ سے وہ نمازیں اور روزے ساقط ہو جائی گے جو اس نے کفر کے دور میں ترک کئے تھے یہ حدیث کی دلالت سے ثابت ہے ۔ ( اسلام کے بعد ) اگر نماز نہ پڑھے اور روزے نہ رکھے تو ان کے کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ اور اس کو اس حال پر محمول کیا جائے گا جیسے ان کا عمل کرنا اور اس ے گزشتہ نماز روزہ کے معاف ہو جائے ۔

رَجُلٌ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← منصور و الأعمش ← سُفْيَانَ، ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← معاذ بن نجدة القرشي ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← الأَعْمَشِ، وَ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion · Hadith 23

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 28

28 - أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه قال : أخرج مروان المنبر و بدأ بالخطبة قبل الصلاة فقام رجل فقال : يا مروان ! خالفت السنة أخرجت المنبر و لم يكن يخرج و بدأت الخطبة قبل الصلاة فقال أبو سعيد : من هذا ؟ فقالوا : فلان فقال أبو سعيد : قد قضى هذا الذي عليه إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من رأى منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه و ذلك أضعف الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الأعمش

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن محمد صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن علی بن عفان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابن نمیر نے اعمش سے انہوں نے اسماعیل بن رجاء سے انہوں نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں مروان نے منبر نکالا اور خطبہ شروع کیا نماز عید سے قبل ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا اے مروان آپ نے سنت کی مخالفت کی ہے آپ نے منبر نکالا ہے جب کہ وہ نہیں نکالا جاتا تھا ۔ اور آپ نے خطبہ نماز عید سے قبل شروع کیا ہے ابو سعید نے کہا کون ہے یہ ؟ لوگوں نے بتایا فلاں ہے ابو سعید کہتے ہیں اس شخص نے اپنا وہ فرض ادا کیا جو اس کے ذمہ تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الا یمان ) جو شخص تم میں سے غلط اور ناجائز کام کو دیکھ لے اسے چاہئے کہ اس برائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے اور اگر ہاتھ سے بدلنے کی طاقت نہ رکھے تو پھر زبان سے روکے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو پھر صرف دل سے برا جانے یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے ۔ امام مسلم نے اس کو اعمش کی حدیث سے نقل کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الله بن بشران

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 28

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 30

30 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ثنا الفضل بن محمد الشعراني ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني مالك ـ ح و أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي أخبرني الحسن بن سفيان ثنا هارون بن سعيد الأيلي حدثنا عبد الله بن وهب حدثني مالك عن عمرو بن يحيى المازني أخبرني أبي عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يدخل الله أهل الجنة الجنة يدخل من يشاء برحمته و يدخل أهل النار النار ثم يقول : انظروا من وجدتم في قلبه مثقال حبة خردل من إيمان فأخرجوه فيخرجون منها حمما قد امتحشوا و يلقون في نهر الحياة أو الحيا فينبتون فيه كما تنبت الحية إلى جانب السيل ألم تروها تخرج صفراء ملتوية ؟ هذا لفظ حديث ابن وهب رواه البخاري في الصحيح عن ابن أبي أويس و رواه مسلم عن هارون بن سعيد قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ : و وجه هذا أن يكون في قلب واحد توحيد ليس معه خوف غالب على القلب فيردع و لا رجاء حاضر له فيطمع بل يكون صاحبه ساهيا قد أذهلته الدنيا عن الآخرة فإنه إذا كان بهذه الصفة انفرد التوحيد في قلبه عن قرائنه التي لو كانت أبوابا من الإيمان تتكثر بالتوحيد و يتكثر التوحيد بها إذ كانت تصديقا و التصديق من وجه واحد أضعف من التصديق من وجوه كثيرة فإذا كان ذلك خف وزنه و إذا تتابعت شهاداته ثقل وزنه و له وجه آخر : و هو أن يكون إيمان واحد في أدنى مراتب اليقين حتى إن تشكك تشكك و إنما آخر في أقصى غايات اليقين فهذا يثقل وزنه و الأول يخف وزنه و له وجه آخر : و هو أن يكون إيمان واحد ناشئا عن استدلال قوي و نظر كامل و إيمان آخر واقع عن الخبر و الركون إلى المخبر به على ما النبي ذكره فيكون الأول أثقل وزنا و الثاني أخف وزنا و هذا الخبر يدل على تفاوت الناس في إيمانهم قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ و قد روي عن عبد الرحمن بن بزرج قال سمعت أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما أخاف على أمتي إلا ضعف اليقين

ہمیں خبر دی ہے ہیں ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو منصور قاسم عتکی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے فضل بن محمد شعرانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن ابی اویس نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے مالک نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عمرو محمد بن عبداللہ ادیب نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر اسماعیل نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے حسن بن سفیان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہارون بن سعید ایلی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن وہب نے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی مالک نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی میرے والد نے حضرت ابو سعید حذری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا ۔ جس کو چاہے گا اپنی رحمت سے داخل کرے گا۔ اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا پھر فرمائے گا دیکھو جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لو فرشتے جہنم سے نکالیں گے وہ مکمل جل چکے ہوں گے ۔ پھر زندگی کی نہر ( نہر الحیات ) یا نہر الحیا شرم و حیاء کی نہر میں ڈالے جائیں گے ۔ پھر وہ اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے کنارے دانہ اگتا ہے کیا دیکھا نہیں کہ اس کی نوک مڑی ہوئی پیلی ہوتی ہے ۔ یہ الفاظ ابن وہب کی حدیث کے ہیں ۔ بخاری نے صحیح میں اس کو ابو اویس سے روایت کیا ہے اور مسلم نے ہارون بن سعید سے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : ( اس مذکورہ تشریح کی ) وجہ یہ ہے کہ ایک دل میں توحید ہو جس کے ساتھ کوئی خوف غالب نہ ہو دل پر جس سے ڈرایا جائے اور نہ ہی کوئی امید موجود ہو جس کا طمع کیا جائے بلکہ صاحب توحید بھول چکا ہو ( یعنی توحید میں گم ہو کر ) دنیا و آخرت کو بھول چکا ہو جب کوئی انسان اس صفت اور اس کو کیفیت میں آ جائے تو توحید اس کے دل میں ان تمام قرائن سے منفرد ہو چکی ہو گی کہ اگر وہ ہوتے تو یمان کے کئی کئی بات ہوتے جو توحید کے ساتھ زیادہ ہو جاتے اور توحید ان کے ساتھ زیادہ ہو جاتی جب وہ تصدیق ہو۔ ( اور یہ حقیقت ہے کہ ) ایک وجہ کی توحید کمزور تر ہوتی ہے وجوہات کثیرہ کی توحید سے جب توحید من وجہ واحد ہو گی تو اس کا وزن بھی ہلکا ہو گا۔ اور توحید کی شہادتیں کثیر اور مسلسل ہوں گی تو اس کا وزن بھی بھاری ہو گا۔ ( اور سابق تشریح کی ) ایک اور وجہ اور ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایمان یقین کی ادنیٰ مراتب ہو حتیٰ کہ اگر آپ شک میں ڈالیں فوراً شک میں پڑ جائے ۔ اور دوسرا ایمان ایسا ہو جو یقین کی آخری حدود تک پہنچا ہو تو اس کا وزن یقیناً بھاری ہو گا اور پہلے کا ہلکا ہو گا۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایمان ایسا ہو جو قوی دلیل سے پیدا ہوا ہے اور کامل یقین سے اور ایک دوسرا ایمان ایسا ہو جو محض خیر سننے سے اور جس چیز کی خبر ملی ہے اس کی طرف میلان سے پیدا ہوا ہو یقیناً پہلا وزن کے اعتبار سے بہاری اور دوسرا وزن میں اس سے ہلکا ترین ہو گا۔ ( علاوہ ازیں ) حدیث مذکور اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ لوگ اپنے ایمان میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ل تحقیق عبدالرحمن بن بزرج سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( ما اخاف علیٰ امتی الا ضعف الیقین ) میں اپنی امت پر یقین کی کمزوری کے سوا کسی چیز کا خوف نہیں کرتا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنبأ أبو بكر الإسماعيلي ← و، ← مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← أبو منصور محمد بن القاسم العتكي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 30

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 31

31 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا أحمد بن بشر المرثدي ثنا أحمد بن عيسى ثنا عبد الله بن وهب ثنا سعيد بن أبي أيوب عن عبد الرحمن بن بزرج : فذكره و هذا يدل على تفاوتهم في اليقين أما قوله عز و جل : { اليوم أكملت لكم دينكم } و ما ورد في معناه فإنه لا يمنع من قولنا بزيادة الإيمان و نقصانه لأن معنى قوله : { اليوم أكملت لكم دينكم } أي أكملت لكم وضعه فلا أفرض عليكم من بعد ما أفرضه عليكم إلى اليوم و لا أضع عنكم بعد اليوم قد ما فرضته قبل اليوم فلا تغليظ من الآن و لا تخفيف و لا نسخ و لا تبديل و ليس معناه أنه أكمل لنا ديننا من قبل أفعالنا لأن ذلك لو كان كذلك لسقط عن المخاطبين بالآية الدوام على الإيمان لأن الدين قد كمل و ليس بعد الكمال شيء فإذا كان الدوام على الإيمان مستقبلا و هو إيمان فلذلك الطاعات الباقية التي تجب شيئا فشيئا كلها إيمان و الكمال راجع إلى إكمال الشرع و الوضع لا إلى كمال أداء المؤدين له و قيام القائمين به و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عبدان صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن بشر مرثدی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن عیسیٰ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن وہب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سعید بن ابو ایوب نے عبدالرحمن بن بزرج سے پھر اس نے گزشتہ حدیث کو ذکر کیا ہے یہ حدیث بھی لوگوں کے ایمان کے ایک دوسرے سے فرق اور تفاوت پر دلالت کرتی ہے ۔ کہ اگر ایمان اور دین شئی واحد ہے اور دین نص قرآنی کے مطابق مکمل ہو چکا تو مطلب یہ ہوا کہ ایمان مکمل ہو چکا پھر کامل اور ناقص ہونا کم زیادہ ہونا چہ معنی دار تو مصنف اس کا جواب دینے کی کوشش فرماتے ہیں ( از مترجم ) بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : ( الیوم اکملت لکم دینکم ) ( المائدہ ۳) کہ میں نے آج تمہارے واسطے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے ۔ یہ آیت اور دیگر وہ تمام نصوص جو اس مفہوم میں وارد ہوئی ہیں وہ ہمارے اس قول کے منافی نہیں ہیں کہ ایمان زیادہ ہوتا اور کم ہوتا ہے اس لئے کہ الیوم اکملت لکم دینکم کا معنی یہ ہے کہ میں نے اس کی وضع تمہارے لئے مکمل کر دی ہے ۔ یعنی آج کے بعد میں تمہارے اوپر آئندہ کوئی چیز مزید فرض نہیں کروں گا جو آج تک میں نے فرض نہیں کی ۔ اور آج سے پہلے جو کچھ فرض کر چکا ہوں اس کی فرضیت تم سے ساقط نہیں کروں گا۔ یعنی آج کے بعد نہ مزید سختی ہو گی اور نہ ہی تخفیف ہو گی اور نہ ہی کوئی نسخ ہو گی نہ ہی کوئی تبدیلی ہو گی ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمارا دین ہمارے لئے ہمارے اعمال و افعال کے کرنے سے پہلے مکمل کر دیا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو پھر اس آیت کے ساتھ مخاطبین پر ہمیشہ ایمان پر قائم رہنا بھی ساقط ہو جاتا اس لئے کہ دین تو کامل ہو چکا ۔ اور کامل ہو جانے کے بعد تو کوئی شئی مزید نہیں ہوتی ۔ جب ایمان پر مداوامت آئندہ اور مستقبل کے لئے ہے اور وہی ایمان ہے تو اسی لئے وہ طاعات جو باقی ہیں جو بتدریح لازم ہوتی ہیں وہ سب کی سب ایمان ہیں ۔ وہاں کامل ہونا تو یہ راجع ہے شریعت اور وضع اور ہئیت اور اس کی شکل صورت کی طرف ۔ اس کے ادا کرنے والوں کے کامل کرنے کی طرف نہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ قائم لوگوں کے قیام کی طرف ۔ واللہ اعلم ۔

سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أحمد بن عيسى، ← أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 31

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 33

33 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسين علي بن محمد بن عبد الرحمن بن عيسى الدهقان بالكوفة ثنا أحمد بن حازم بن أبي عرزة الغفاري ثنا جعفر بن عون عن أبي العميس عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب : أن رجلا من اليهود قال لعمر : يا أمير المؤمنين ! آية في كتابكم تقرؤونها لو علينا معشر اليهود نزلت لاتخذنا ذلك اليوم عيدا قال : أي آية ؟ قال : { اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا } فقال عمر : قد عرفنا ذلك اليوم و المكان الذي أنزلت فيه على رسول الله صلى الله عليه و سلم بعرفات يوم جمعة رواه البخاري في الصحيح عن الحسن بن الصباح و رواه مسلم عن عبد بن حميد كلاهما عن جعفر بن عون و ذهب بعض من قال بزيادة الإيمان و نقصانه إلى أنه إذا ارتكب معصية فإنها تحبط مما تقدمها من الطاعات بقدرها و حتى ارتقى بعضهم إلى أصل الإيمان غير أنه لا يقول بالتخليد و أمره موكول إلى الله تعالى إن شاء عفا عنه برحمته أو بشفاعة الشافعين و إن شاء عاقبه بذنوبه ثم أدخله الجنة برحمته و احتج بعض من قال بقولهم : بقول الله عز و جل : { يا أيها الذين آمنوا لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي ولا تجهروا له بالقول } الآية إنما أراد بذلك أن رفع الصوت فوق صوته يقع معصية فيخرج إيمان الواقع و يحبط بعض عمله و احتج أيضا بقوله : { يا أيها الذين آمنوا لا تبطلوا صدقاتكم بالمن والأذى } قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ و قد يخرج هذا على غير ما قاله المحتج به و هو أن يكون المعنى : لا يحملنكم أيها المهاجرون هجرتكم معه و لا أيها الأنصار إيواؤكم إياه على أن تضيعوا حرمته و ترفعوا أصواتكم فوق صوته فتكونوا بذلك صارفين ما تقدم منكم من الهجرة و الإيواء و النصرة عن ابتغاء وجه الله به إلى غرض غيره و وجه سواه فلا تستوجبوا به مع ذلك أجرا و يخرج على وجه آخر و هو أن يقال : { لا تجهروا له بالقول كجهر بعضكم لبعض } فإن ذلك قد يبلغ بكم حد الازراء به و الاستخفاف له فتكفروا و تحبط أعمالكم إلا أن تتوبوا و تسلموا و كذلك قوله : { لا تبطلوا صدقاتكم بالمن و الأذى } فليس على أن المن يحبط الصدقة و إنما وجهه أن الصدقة يبتغى بها وجه الله تعالى جده و هو المأمول منه ثوابها فإذا من المتصدق على السائل و آذاه بالتعيير فقد صرفها عن ابتغاء وجه الله تعالى بها إلى وجه السائل فحبط أجره عند الله لهذا فضلت عند المتصدق عليه مع ذلك لأنه إن كان حباه فقد آذاه و إن كان أعطاه فقد أخزاه و لو كان ذلك على معنى إفساد الطاعة بالمعصية لم يختص بالبطلان صدقته و بسط الكلام فيه ـ إلى أن قال ـ و إن من الطعن على هذا القول أن سيئات المؤمن متناهية الجزاء و حسناته ليست بمتناهية لأن مع ثوابها الخلود في الجنة فلا يتوهم أن يكون التبعة المتناهية التي يستحقها المؤمن بسيئة تأتي على ثواب حسنة لا نهاية له فأما قول النبي صلى الله عليه و سلم : من اقتنى كلبا إلا كلب صيد أو ماشية فإنه ينقص من عمله كل يوم قيراطان فإنما هو على معنى أنه ينقص من أجر عمله كل يوم قيراطان و هو في أكثر الرواية عن ابن عمر في هذا الحديث من أجره و في بعضها من عمله قال الحليمي و إنما هو على معنى أنه يحرم لأجل هذه السيئة بعض ثواب عمله و لسنا ننكر جواز أن يحرم الله تعالى المؤمن بعض جزاء حسناته و يقلل ثوابه لأجل سيئة أو سيئات تكون منه و إنما أنكرنا قول من يقول أن السيئة قد تحيط بالطاعة أو توجب إبطال ثوابها أصلا و ذلك أنه لم يأت به كتاب و لا خبر و لا يمكن أن يكون مع ثبوت الخلود للمؤمنين في الجنة و الله تعالى أعلم قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله : و أما قول النبي صلى الله عليه و سلم : أتدرون ما المفلس ؟ قالوا : المفلس فينا من لا درهم له و لا متاع قال : إن المفلس من أمتي رجل يأتي يوم القيامة بصلاة و صيام و زكاة و يأتي و قد شتم هذا و قذف هذا و أكل مال هذا و سفك دم هذا و ضرب هذا فيعطى هذا من حسناته و هذا من حسناته فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه ثم طرح في النار فهذا إنما احتج به من قال بإحباط السيئة الحسنة و وجهه عندي ـ و الله تعالى أعلم ـ أنه يعطى خصماؤه من أجر حسناته ما يوازي عقوبة سيئاته فإن فنيت حسناته أي أجر حسناته الذي قوبل بعقوبة سيئاته أخذ من خطاياهم فطرحت عليه و طرح في النار كي يعذب بها إن لم يغفر له حتى إذا انتهت عقوبة تلك الخطايا رد إلى الجنة بما كتب له من الخلود و لا يعطى خصماؤه ما زاد من الأجر على ما قابل عقوبة سيئاته لأن ذلك فضل من الله تعالى يخص به من وافى يوم القيامة مؤمنا و الله تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے کہ خبر دی ہے ابو الحسن علی بن محمد بن عبدالرحمن بن عیسیٰ دھقان نے کوفہ میں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن حازم بن ابی عرزہ غفاری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے جعفر بن عون نے ابو عمیس سے انہوں نے قیس بن مسلم سے انہوں نے طارق بن شہاب سے یہود کے ایک آدمی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا ۔ اے امیر المومنین تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے جسے تم پڑھتے ہو اگر وہ ہماری جماعت یہود پر اترتی تو ہم اس دن کو عید کا دن ٹھہرا لیتے حضرت عمر نے پوچھا کون سی آیت اس نے کہا یہ آیت ( الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الا سلام دینا ) ( مائدہ ۳) حضرت عمر نے جواب دیا ۔ ہم اس دن کو بھی جانتے اور اس جگہ بھی جہاں وہ نازل ہوئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عرفات میں تھے جمعہ کا دن تھا۔ یعنی ہم مسلمان اس سے قطعا غافل و بے خبر نہیں ہیں ہمیں معلوم ہے کہ : وہ رسول اللہ پر نازل ہوا۔ جمعہ کا دن نازل ہوئی۔ عرفات میں نازل ہوئی ۔ حج کے عظیم اجتماع کے موقع پر نازل ہوئی ہمارے لئے وہ ذات مقدس ہے جس پر اتری ۔ وہ کتاب مقدس ہے جس میں اتری وہ مقام مقدس ہے جہاں اتری وہ دن مقدس ہے جس دن اتری وہ اجتماع مقدس ہے جس میں اتری وہ حج سب سے مقدس ہے حجتہ الوداع جس میں اتری تو مسلمانوں کے لئے اس سے بڑی عید اور بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے ۔ ( از مترجم ) امام بخاری نے اپنی صحیح میں اس حدیث کو حسن بن صباح سے روایت کیا ہے اور امام مسلم نے اس کو عبد بن حمید سے دونوں نے جعفر بن عون سے ۔ جن لوگوں نے ایمان کم یا زیادہ ہونے کا قول کیا ہے ان میں سے بعض کی رائے یہ ہے کہ انسان جب گناہ اور معصیت کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ معصیت اس کی ان طاعات کو اور عبادات کو اکارت و ضائع کر دیتی ہے جو وہ پہلے کر چکا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق حتیٰ کہ بعض تو اصل ایمان تک کو ڈوبتی ہیں ( ایمان کے ضیاع کے بعد تو وہ دائمی جہنمی ہو جائے ) وہ بعض قائل ایسے شخص کی خلود اور دائمی جہنم کا قول نہیں کرتا بلکہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرتا ہے اگر چاہے تو اس کو اپنی رحمت سے معاف کر دے ، یا شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے نجات ہو جائے اور اگر چاہے تو اس کو اس کے گناہوں کی پاداش میں سخت عذاب دے پھر اپنی رحمت کے ساتھ اس کو جنت میں داخل کر دے ۔ سابقہ قول کے قائلیں ک استدلال اور حجت یہ آیت ہے ۔ ( یا ایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صورت النبی ولا تجھرو الہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم و انتم لا تشعرون ) ( حجرات ۲) ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی کریمی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی آواز سے اونچا نہ کرو اور آپ کے ساتھ زور سے بات نہ کرو جیسے تم ایک دوسرے سے کرتے ہو کہیں تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں حالانکہ تمہیں اس کا علم ہی نہ ہو۔ استدلال کرنے والوں کی مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی آواز سے اونچی کرنا معصیت واقع ہوا ہے لہذا معصیت کرنے والے کا ایمان نکل جاتا ہے اور بعض اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں اور ان کی دوسری دلیل یہ ہے ( یا ایھا الذین امنوا لا تبطلوا صد قاتکم با لمن و الا ذی ) ( بقرہ ۲۶۴) ایمان والوں اپنے صدقات کو احسان جتلانے اور تکلیف پہنچانے کے ساتھ ضائع نہ کرو۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مذکورہ آیات سے استدلال کرنے والوں نے جو استدلال کیا ہے کبھی اس کے برعکس بھی مفہوم ہو سکتا ہے وہ یہ کہ آیت کا معنی اور مفہوم یہ ہو۔ کہ اے مہاجرین نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ تمہارا ہجرت کرنا اور اسے انصار تمہارا نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو ٹھکانہ دینا ۔ تمہیں کہیں اس بات پر نہ اکسا دے کہ تم اس کی عزت و حرمت کو ضائع کر دو اور اپنی آوازوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اونچا کر بیٹھو لہذا اپنی اس حرکت سے اپنی ہجرت اور پیغمبر کو جگہ دینے اور نصرت کرنے کی نیکی سے جو مقصود رضائے الہی تھی کہیں اس غرض سے ہٹ نہ جاؤ لہذا اس کے عظیم اجر سے محروم ہو جاؤ گے ۔ اور ایک تو جیہ اس آیت کے مفہوم کی اور بھی ممکن ہے وہ اس طرح ہے کہ ( لا تجھرو الہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ( الحجرات ۲) بہ جھر بالقول ۔ کبھی ایسا نہ ہو کہ تم سے توہین کی حد کو پہنچ جائے پھر تم کافر ہو جاؤ اور کفر کی وجہ سے تمہارے اعمال تباہ ہو جائیں مگر یہ ک تم توبہ کر و اور اسلام میں آؤ۔ اسی طرح ( لا تبطلوا ضد قاتکم با لمن و الاذی ) ( بقر ۲۶۴) اس پر محمول نہیں کہ احسان جتلانا صدقہ کو تباہ کرتا ہے بلکہ اس کی توجیہ یہ ہے کہ صدقہ ایسی چیز ہے جس کے ساتھ خالص اللہ کی رضا ڈھونڈی جاتی ہے اور اس کے ثواب سے یہی توقع اور امید ہوتی ہے ۔ جب صدقہ کرنے والا سائل پر احسان جتلاتا ہے اور اس کو عیب لگا کر ایذا دیتا ہے تو وہ اپنے صدقہ کو اللہ کی رضا جوئی سے ہٹا کر سائل کی رضا کی طرف لے آتا ہے تو اللہ کے نزدیک اس کا اجر تباہ ہو جاتا ہے ( اللہ کے ہاں اجر ضائع ہونے کے بعد ) پھر اجر اس کی طرف سے ہونا چاہیے جس پر صدقہ کیا جس کو دیا اگر اس کو ایذا دی گئی ہو اور دے کر رسوا کیا ہو گا تو وہاں سے بھی ضائع ہوا یا احسان جتلانے ایذا پہنچانے کی وجہ سے تو لا محالہ اجر دونوں طرف سے ضائع ہی ہوا۔ اور اگر معنی ہے طاعات کو معصیت کے ساتھ خراب کر دینا تو یہ صدقہ کے باطل کرنے کے ساتھ مختص نہیں کوئی بھی طاعت ہو سکتی ہے ۔ اس موضوع پر حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے تفصیلی کلام کیا ہے یہاں تک کہ یہ کہا ہے کہ اس قول پر طعن اور اعتراض یہ بھی ہے کہ اہل ایمان کی خطائیں جزا کے اعتبار سے متناہی ہیں یعنی سزا کی ایک حد ہے جہاں وہ ختم ہو جاتی ہے اور ان کی حسنات اور نیکیاں جزا کے اعتبار سے غیر متناہی ہیں یعنی ختم ہونے والا نہیں ہے کیونکہ وہ جنت کا دائمی دخول ہے اس اعتبار سے جنت میں اجر ہمیشہ جاری و ساری رہے گا تو اس طرح اجر نہ ختم ہونے والا ہوا۔ یہ وہم نہ کیا جائے کہ ختم ہو جانے والی سزا مومن اپنی غلطی کی وجہ سے جس کا مستحق ہو جاتا ہے ۔ وہ مومن کی ایسی نیکی کو لے ڈوبتی ہے جس کا ثواب نا ختم ہونے والا ہوتا ہے جس کی انتہا نہیں ہوتی ۔ بہر حال حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ فرمان : ( من اقتنیٰ کلیا الا کلب صید او ماشیۃ فانہ ینقص من عملہ کل یوم قیراطان ) جو شخص کتا پالتا ہے شکاری کتے یا مال مویشی کے حفاظتی کتے کے علاوہ اس کے عمل سے دو قیراط روزانہ کم ہوتے ہیں ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے عمل کے اجر سے روزانہ دو قیراط کم ہوتے ہیں اور یہ اکثر روایات ابن عمر سے اس حدیث میں من اجرہ کے الفاظ ہیں اور بعض میں من عملہ ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا : کہ مذکورہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے اپنے عمل کے ثواب کے کچھ حصے سے محروم ہو جائے گا۔ ہم اس بات کے جواز کا انکار نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اس کی ایک غلطی یا کئی غلطیوں کی وجہ سے ان نیکیوں کی کچھ جزاء سے محروم کر دے اور اس کا ثواب کم کر دے ۔ ہاں ہم اس شخص کے قول کا انکار کرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ غلطی اور گناہ طاعات و عبادت کو اکارت کر دیتی ہے ۔ اس کو ثواب کے بالکل باطل کرنے کو لازم کر دیتی ہے ۔ یہ ہمارا انکار اس لئے ہے کہ اس کے بارے میں نہ قرآن میں وضاحت ہے نہ ہی حدیث میں اور یہ بات اہل ایمان کے جنت میں دائمی دخول کے ثبوت کے بعد نا ممکن ہے واللہ اعلم ۔ امام بیہقی کا قول : امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں بہر حال نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا یہ فرمان : کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے ؟ ( اتدرون ما المفلس ؟ قالوا ان المفلس من لا درھم لہ و لا متاع ان المفلس من امتی رجل یاتی یوم القیمۃ بصلاۃ و صوم و زکاۃ و یاتی و قدشتم ھذا و قذف ھذا واکل مال ھذا و سفک دم ھذا و ضرب ھذا فبعطی ھذا من حسناتہ و ھذا من حسانہ فان فنیت حسنانۃ قبل ان یقضی ما علیہ اخذ من خطایا ھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار ) لوگوں نے جواب دیا مفلس وہ ہے جس کے روپیہ پیسہ نہ ہو سامان نہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا امت کا مفلس وہ ہے قیامت کے دن نماز روزہ زکوٰۃ سب لے کر آے مگر کسی کو گالی دی ہے کسی پر جھوٹی تہمت لگائی ہے اس کا مال کھایا ہے اس کا نا حق خون کیا ہے اس کو مارا ہے تو قیامت کے روز ا س کو اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اگر اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی اس کے قرض چکانے سے پہلے پھر ان کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے پھر یہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ امام بیہقی فرماتے ہیں جس شخص نے یہ قول کیا ہے کہ برائی نیکی کو تباہ و برباد کر دیتی ہے اس نے اس مذکورہ حدیث سے دلیل پکڑی ہے ۔ میرے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ اس کے حریفوں کو اس کی نیکیوں کے اجر میں سے کچھ اس قدر دیا جائے گا جو اس کی غلطی کی سزا کے برابر ہو سکے اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں یعنی اس کی نیکیوں کا اجر ختم ہو گیا جو اجر اس کی غلطیوں کی سزا کے مقابل کیا گیا تھا تو پھر ان کے خطائیں لی جائیں گی وہ اس پر ڈالی جائیں گی اور یہ شخص جہنم میں ڈال دیا جائے گا تانکہ وہاں عذاب دیا جائے گا اگر اس کی بخشش نہ کی گئی تھی ٰ کہ جب اس کے گناہوں کی سزا ختم ہو جائے گی جنت میں واپس بھیج دیا جائے گا اس لئے کہ اس کے لئے جنت کا دوام لکھا ہوا تھا اور اس کے دعویداروں کو غلطیوں کے تقابل کے بعد باقی اجر زیادہ نہیں دیا جائے گا اس لئے کہ یہ اللہ کا فضل ہے یہ اس کے لئے مخصوص جو قیامت دن ایمان دار آئے گا ؛۔ واللہ اعلم ۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِي الْعُمَيْسِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أحمد بن حازم بن أبي عرزة الغفاري

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 33

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 35

35 - و بهذا الإسناد عن ابن شهاب عن سعيد و أبي سلمة عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم مثل حديث أبي بكر و لم يذكر النهبة رواه البخاري في الصحيح من حديث يحيى بن بكير و رواه مسلم من وجه آخر عن الليث و إنما أراد ـ و الله تعالى أعلم ـ و هو مؤمن مطلق الإيمان لكنه ناقص الإيمان بما ارتكب من الكبيرة و ترك من الانزجار عنها و لا يوجب ذلك تكفيرا بالله عز و جل ـ مضى شرحه و كل موضع من كتاب أو سنة ورد فيه تشديد على من ترك فريضة أو ارتكب كبيرة فإن المراد به نقصان الإيمان فقد قال الله عز و جل : { إن الله لا يغفر أن يشرك به و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء } و ذكرنا في كتاب الإيمان من الأخبار و الآثار التي تدل على صحة ما ذكرنا من التأويل ما فيه كفاية و بالله التوفيق و ذكر الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ ها هنا آثار تدل على أن الطاعات من الإيمان و إن الإيمان يزيد و ينقص و أن أهل الإيمان يتفاضلون في الإيمان و نحن قد ذكرناها في كتاب الإيمان و نشير إلى طرق منها ها هنا بمشيئة الله عز و جل

اور اسی اسناد کے ساتھ ابن شہاب سے سعید سے اور ابو سلمہ سے ابو ہریرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے حدیث ابو بکر کی مثل مروی ہے لیکن اس میں نھبہ یعنی مال چھیننے کا ذکر نہیں ہے اس حدیث کو بخاری نے یحییٰ بن بکیر سے روایت کیا ہے اور مسلم نے دوسرے طریق سے لیث سے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے و ھو مومن ۔ حالانکہ وہ مومن سے مطلق ایمان مراد لیا ہے لیکن وہ ناقص ایمان ہے کبیرہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے اور للہ کی نہی کو ترک کرنے کی وجہ سے چنانچہ یہ امر تکفیر با للہ کو لازم نہیں کرتا اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے ۔ قرآن اور حدیث میں ہر وہ مقام جہاں فرض کو ترک کرنے پر تشدد اور سختی ہے یا ارتکاب کبیرہ پر تو اس سے مراد ایمان کا ناقص ہونا ہے ۔ تحقیق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ( ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذلک لمن یشاء ) ( نساء ۴۸ – ۱۱۶) بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کریں گے کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے ما سوا کو جس کے لئے چاہیں گے معاف فرما دیں گے ۔ ہم نے کتاب الایمان میں احادیث اور آثار ذکر کئے ہیں جو ہماری ذکر کردہ تاویل کی صحت پر دلالت کرتے ہیں جو کافی ہیں ۔ اور توفیق اللہ کی طرف سے ہے اور حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے یہاں ایسے آثار جو دلالت کرتے ہیں طاعات ایمان ہیں اور یہ کہ ایمان زیادہ اور کم ہوتا ہے ۔ اور یہ کہ اہل ایمان ، ایمان میں ایک دوسرے پر سے کم زیادہ ہیں یا ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں ۔ ہم نے اس مسئلہ کو کتاب الایمان میں ذکر کیا ہے اور یہاں ہم اس کے کئی طرق کی طرف اللہ کی مشیت کے ساتھ اشارہ کرتے ہیں ۔

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 35

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 38

38 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى أنبأ هوذة بن خليفة ثنا عوف عن عبد الله بن عمرو بن هند قال قال علي رضي الله عنه : إن الإيمان يبدأ لمظة بيضاء في القلب فكلما ازداد الإيمان عظما ازداد ذلك البياض فإذا استكمل الإيمان ابيض القلب كله و إن النفاق يبدو لمظة سوداء في القلب فكلما ازداد النفاق عظما ازداد ذلك السواد فإذا استكمل النفاق اسود القلب كله و ايم الله ! لو شققتم عن قلب مؤمن لوجدتموه أبيض و لو شققتم عن قلب منافق لوجدتموه أسود قال : و اللمظة هي الذوقة و هو أن يلمظ الإنسان أو الدابة شيئا يسيرا أي يتذوقه فكذلك القلب يدخله من الإيمان شيء يسير ثم يتسع فيه فيكثر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اسحٰق نے کہ بشر بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ھوذہ بن خلیفہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عوف عبداللہ بن عمر بن ہند سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : دل کے اندر ایمان ایک سفید تقطہ کی صورت میں شروع ہوتا ہے ۔ پھر جس وقت ایمان بڑھتا اور عظیم ہوتا ہے وہ سفیدی بڑھتی ہے پھر جس وقت ایمان مکمل ہو جاتا ہےتو پورا دل ( روشن ) اور سفید ہو جاتا ہے ۔ اور نفاق شروع ہوتا ہے ایک سیاہ دھبے اور نقطے کی صورت دل میں پھر جیسے جیسے نفاق بڑھ کر زیادہ ہوتا ہے یہ سیاہی بھی بڑھتی ہے جب نفاق مکمل ہو جاتا تو پورا دل سیاہ ہو چکا ہوتا ہے ۔ قسم اللہ کی اگر تم لوگ کسی مومون کا دل چیر کر دیکھو تو اسے سفید پاؤ گے اور اگر کسی منافق کا دل چیر کر دیکھو تو اس کو سیاہ پاؤ گے ۔ پھر فرمایا وہ لمحہ و دھبہ ایک ذوقہ ہے جیسے کوئی انسان یا جانور کوئی معمولی چیز چھکتا ہے اسی طرح ایمان بھی تھوڑا سا دل میں داخل ہوتا ہے پھر اس میں وسعت اور کشادگی آتی ہے اور زیادہ ہوتا ہے ۔ ایمان چار ستون پر قائم ہے :

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرو بْنِ هِنْدٍ ← عَوْفٌ، ← أبو بكر بن إسحاق أنبأ بشر بن موسى أنبأ هوذة بن خليفة ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 38

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 39

39 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني ثنا عبيد الله بن حفص بن غياث ثنا سفيان بن وكيع ثنا سفيان بن عيينة عن محمد بن سوقة عن العلاء بن عبد الرحمن قال : قام رجل إلى علي بن أبي طالب رضي الله عنه فقال : يا أمير المؤمنين ! ما الإيمان ؟ فقال : الإيمان على أربع دعائم : على الصبر و العدل و اليقين و الجهاد ثم ذكر تقسيم كل واحدة من هذه الدعائم و قد روينا من أوجه أخر عن علي

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن عنام بن حفص بن غیاث نے وہ کہتے ہیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن وسیع نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان بن عیینہ نے محمد بن سوقہ سے انہوں علاء بن عبدالرحمن سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی حضرت علی کے پاس گیا اور پوچھا ے امیر المومنین ایمان کیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایمان چار ستون پر قائم ہے ۔ صبر ، عدل ، یقین اور جہاد پر بھی ان میں سے ہر ایک ستون کی تقسیم ذکر فرمائی ہم نے حضرت علی سے کئی دیگر وجوہ سے بھی روایت کی ہے ۔

الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ ← عبيد الله بن حفص بن غياث ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 39

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 40

40 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن أبي إسحاق قال : قال علي رضي الله عنه : الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد فإذا ذهب الصبر ذهب الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن محمد اشنائی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن طرائفی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو خالد احمر نے عمر بن قیس سے انہوں نے ابو اسحٰق سے وہ کہتے ہیں حضرت علی نے فرمایا کہ صبر ایمان میں بمنزلہ سر کے ہے جسم میں جب صبر چلا جائے ایمان چلا جاتا ہے ۔

أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 40

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 41

41 - أخبرنا أبو بكر الأشناني ثنا أبو الحسن الطرائفي أنبأ عثمان بن سعيد ثنا عبد الله بن رجاء البصري ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي ليلى قال : قال : حجر بن عدي : سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول : الوضوء نصف الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنائی نے وہ کہتے ہیں ہمیں ابو الحسن طرائفی نے وہ بیان کیا وہ کہتے ہیں خبر دی ہے عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا عبداللہ بن رجاء بصری نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے اسرائیل نے ابو اسحٰق سے ابو لیلیٰ سے وہ کہتے ہیں حضر بن عدی نے کہا میں نے علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب سے سنا فرماتے تھے ۔ الوضوء نصف الایمان ۔ کہ و ضو نصف ایمان ہے ۔

الوضوء نصف الإيمان ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حِجْرِ بْنِ عَدِيٍّ ← أَبِي لَيْلَى ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ الْبَصْرِيُّ، ← أبو الحسن الطرائفي أنبأ عثمان بن سعيد ← أبو بكر الأشناني

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 41

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 43

43 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا شريك عن عاصم عن زر عن عبد الله بن مسعود قال : من لم يصل فلا دين له و قد روينا عن بريدة بن حصيب عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : العهد الذي بيننا و بينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر و إنما أراد ـ و الله تعالى أعلم ـ كفرا يكون نقيض الإيمان لله تعالى بترك شعبة من شعبه و لم يرد به كفرا يكون نقيض الإيمان بالله إذا لم يجحد فرضها و يشبه أن يكون تخصيصه الصلاة بالذكر لوجوب القتل بتركها كوجوبه بترك الإيمان بالله تعالى

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنائی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن طرائفی نے وہ کہتے ہیں بیان کیا ہے عثمان بن سعید نے وہ کہتے ہیں بات بیان کی ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے وہ کہتے ہیں بات بیان کی ہے ہم سے شریک نے عاصم سے اس نے ذر سے اس نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے فرمایا : ( من لم یصل فلا دین لہ ) جو شخص نماز نہ پڑھے اس کا کوئی دین نہیں ہے ۔ اور ہم نے بریدہ بن حصیب سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کی ہے : ( العھد الذی بیننا و بینھم الصلاۃ فمن ترکھا فقد کفر ) ہمارے اور ان کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے جو شخص اسے چھوڑ دے وہ کافر ہو گیا۔ یقینی بات ہے کہ ارادہ کیا ہے ایسا کفر جو ایمان اللہ کے منافی اور ایمان کی ضد ہے بوجہ ترک کرنے ایک شاخ کے کئی شاخوں میں سے وہ کفر مراد نہیں جو ایمان باللہ کے منافی ہو اس لئے کہ اس شخص نے فرضیت کا انکار نہیں کیا ممکن ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا نماز کو خاص طور پر ذکر کرنا اس کے ترک پر وجوب قتل کے لئے ہو جیسے قتل کا وجوب ترک ایمان پر ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← بريدة بن حصيب ← من لم يصل فلا دين له و قد روينا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو بكر الأشناني أنبأ أبو الحسن الطرائفي

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 43

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في زيادة الإيمان و نقصانه و تفاضل أهل الإيمان في إيمانهم ـ · حديث 48

48 - حدثنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي إملاء أنبأ عبد الله بن محمد بن الحسن النصرآباذي ثنا عبد الله بن هاشم ثنا وكيع ثنا الأعمش عن أبي ظبيان عن علقمة قال عبد الله بن مسعود : الصبر نصف الإيمان و اليقين الإيمان و قد روي هذا من وجه آخر غير قوي مرفوعا و روينا عن ابن مسعود من أقواله في هذا المعنى شواهد و هو في كتاب الإيمان مذكور من أراد الوقوف عليه رجع إليه إن شاء الله

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن محمد بن حسن بن داؤد عولی نے اور املا کروایا کہتے ہیں خبر دی ہے عبداللہ بن محمد بن حسن نصیر آبادی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیا ن کیا ہے عبداللہ بن ہاشم نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے وکیع نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے اعمش نے ابو ضبیان سے انہوں نے علقمہ سے کہ عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : ( الصبر نصف الایمان و الیقین الا یمان ) صبر نصف ایمان ہے اور یقین عین ایمان ہے ۔ یہ روایت دوسرے طریق سے بھی مروی ہے جو کمزور ہے مرفوعا روایت ہے ۔ ہم نے اسی مفہوم کے کئی شواہد حضرت عبداللہ بن مسعود کے اقوال روایت کیے ہیں وہ کتاب الایمان میں مذکور ہیں جو شخص ان سے واقف ہونے چاہے اسی کی طرف رجوع کرے ۔

عَلْقَمَةَ ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith · Hadith 48

chevron_left Previous
1…394041…484
Next chevron_right