Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5005

5005 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا محمد بن عبد الله بن سليمان نا سفيان بن بشر الكوفي نا حفص بن غياث عن ابن عون عن عطاء البزاز عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يصيب أحدكم حقيقة الإيمان حتى يخزن لسانه و روي من وجه آخر مرفوعا عن أنس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سلیمان نے ان کو سفیان بن بشر کوفی نے ان کو حفص بن غیاث نے ان کو ابن عون نے ان کو عطا بزاز نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؟ تم میں سے کوئی آدمی ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔حتیٰ کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے۔

أَنَسٍ، ← عطاء البزاز ← ابْنِ عَوْنٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ الْكُوفِيُّ، ← محمد بن عبد الله بن سليمان ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5005

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل السكوت عن كل ما لا يعنيه و ترك الخوض فيه · حديث 5006

5006 - أخبرنا أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ و غيرهما نا أبو العباس هو الأصم نا أبو عتبة أحمد بن الفرج الحجازي نا بقية بن الوليد نا إسماعيل عن عطاء عن محمد بن سيرين عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يستكمل أحدكم حقيقة الإيمان حتى يخزن من لسانه قال الشيخ أحمد : إسماعيل هذا هو ابن عياش و عطاء هو ابن عجلان فيما حدثنا السلمي عن الأصم و ليسا بالقويين و رواه أيضا مروان الفزاري عن عطاء بن عجلان

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے اور ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابوعقبہ احمد بن فرج حجازی نے ان کو بقیہ بن ولید نے ان کو اسماعیل نے ان کو عطاء نے ان کو محمد بن سیرین نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک تمہارا ایمان کی حقیقت کو کامل نہیں کر سکتا یہاں تک کہ وہ اپنی زبان کی نگرانی کرے شیخ احمد نے کہتے ہیں۔ کہ اس روایت میں اسماعیل سے مراد ابن عیاش ہے۔اور عطاء سے مراد ابن عجلان ہے اس کے مطابق جو ہمیں سلمی نے حدیث بیان کی ہے اصم سے۔ مگر وہ دونوں قوی نہیں ہیں۔اور اس کو مروان فزاری نے عطا بن عجلان سے اس کو روایت کیا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← عَطَاءٍ، ← إِسْمَاعِيلُ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أبو عتبة أحمد بن الفرج الحجازي ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو علي الروذباري و أبو عبد الله الحافظ و غيرهما

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › A chapter on the merit of being silent about everything that does not concern him and refraining from delving into it · Hadith 5006

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في المزاح · حديث 5244

5244 - و روى علي و عبد الله بن مسعود قال أحدهما : لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يدع المراء و هو محق يدع الكذب في الممازحة و لو شاء لغلب

اور روایت کی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دونوں میں ایک نے کہا کوئی بندہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ وہ چھوڑ دے جھگڑا کرنا اگرچہ وہ حق پر ہو اور یہاں تک کہ وہ جھوٹ کو ترک کر دے باہمی مذاق کرنے میں اگر چاہے تو غالب آسکے۔

و روى علي و عبد الله بن مسعود

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Separated banter · Hadith 5244

شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل في المزاح · حديث 5245

5245 - و قال الآخر : لا يذوق عبد حقيقة الإيمان حتى يدع الكذب في المزاح و حتى يدع المراء و هو محق يعلم أنه فيه صادق و ذكر معهما غيرهما

اور دوسرے نے کہا۔ کوئی بندہ ایمان کی حقیقت نہیں چھو سکتا حتیٰ کہ وہ جھوٹ کو ترک کر دے مذاق میں بھی۔ اور یہاں تک کہ چھوڑ دے جھگڑا کرنے کو اگرچہ وہ حق پر ہو جانتا ہو کہ اس میں سچا ہے۔ راوی نے دونوں کے ساتھ ان دونوں کے ماسوا کو بھی ذکر کیا ہے۔

و،

Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Separated banter · Hadith 5245

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5260

5260 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسين بن أيوب الطوسي ثنا خالد العقيلي بمكة ثنا معاذ بن أسد قال : سمعت الفضيل بن عياض يقول : أصل الإيمان عندنا و فرعه و داخله و خارجه بعد الشهادة بالتوحيد و بعد الشهادة للنبي صلى الله عليه و سلم بالبلاغ و بعد أداء الفرائض صدق الحديث و حفظ الأمانة و ترك الخيانة و وفاء بالعهد وصلة الرحم و النصيحة لجميع المسلمين قال معاذ : قلت يا أبا علي من رأيك تقوله أو سمعته قال لا بل سمعناه و تعلمناه من أصحابنا و لو لم أجده عن أهل الثقة و الفضل لم أتكلم به قال معاذ : و كانت سبعا فنسيت واحدة و يدخل في هذا الباب ما يقلد المؤمن بإيمانه من العبادات و الأحكام و ما عليه في مراعاة حقوق نفسه و حقوق و ولده و والده و حقوق أخيه المسلم بالعون و النصيحة ابتداء و أداء و النصح إذا استشاره في أموره و استودعه شيئا أو نصب وليا في مال يتيم أو محجور عليه و حقوق مماليكه أو من يملكه إن كان هو مملوكا و ما تقلد الوالي من حقوق الرعايا و ما تقلد الرعايا من حقوق الوالي و أداء الأمانة في جميع ذلك مشروع

ہمیں خبر دی ہے ابوعلی روذباری نے ان کو حسین بن حسین بن ایوب طوسی نے ان کو ابوخالد عقیلی نے مکہ میں۔ان کو معاذ بن اسد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا فضیل بن عیاض سے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ایمان کی اصل اور اس کی فرع اور اس کا داخل اور خارج توحید باری کی شہادت کے بعد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغ کر دینے کی شہادت کے بعد اور فرائض کی ادائیگی کے بعد (جو چیز لازمی ہے وہ ہے) بات کی سچائی۔امانت کی حفاظت۔ ترک خیانت۔ عہد کو پورا کرنا۔ صلہ رحمی کرنا اور تمام مسلمانوں کے لئے خیر خواہی کرنا۔ معاذ نے کہا کہ، میں نے کہا اے ابوعلی یہ آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے اس کو سنا ہے اس نے کہا کہ نہیں بلکہ ہم نے اس کو سنا ہے اور اس کو ہم نے اپنے اصحاب سے سیکھا ہے۔ اور اگر میں نے اس کو اہل ثقہ سے نہ پاتا اور اہل فضل سے تو میں اس کے ساتھ کلام نہ کرتا یعنی اس کو بیان نہ کرتا معاذ نے کہا کہ یہ سات باتیں تھیں ایک میں بھول گیا ہوں۔ ایمان کے حوالے سے اس باب میں وہ تمام باتیں بھی داخل ہیں۔ جن کو مؤمن لازم کر لیتا ہے اپنے ایمان کے ساتھ ساتھ عبادات۔ اور احکام۔اور وہ تمام امور جو اس پر لازم ہیں مثلاً اپنے نفس کے حقوق کی رعایت کرنا بیوی کے حقوق اولاد کے حقوق والد کے حقوق اپنے مسلم بھائی کے حقوق کی رعایت کرنا۔ معاونت کے ساتھ۔اور خیر خواہی ابتدائی طور پر اور بطور بدلہ کے۔ اور خیر خواہی کرنا جب اس سے مسلمان بھائی اپنے امور میں مشورہ چاہے اور اس کے پاس کوئی شئی امانت رکھوائے یا یتیم کے مال میں ولی مقر کیا جائے۔ یا مجبور و محبوس شخص کا ہو۔ اور غلاموں کے حقوق میں۔ یا آقا کے حقوق اگر یہ خود غلام ہو۔اور خیر خواہی ان امور میں جو ایک والی نے اپنے اوپر لازم کر لئے ہیں مثلاً رعایا کے حقوق۔اور جو کچھ رعایا اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں والی کے حقوق ان تمام کے اندر اداء امانت مشروع ہے۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ← خالد العقيلي ← الحسين بن الحسين بن أيوب الطوسي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-fifth of the people of faith › And it is a section in the secretariats and what must be paid to their people · Hadith 5260

شعب الإيمان · الخامس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الأمانات و ما يجب من أدائها إلى أهلها · حديث 5271

5271 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا علي بن محمد المصري ثنا روح بن الفرج ثنا يحيى بن بكير حدثني الليث عن خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن أبي الجهم عن سليمان الكاهلي عن الجهني عن حذيفة بن اليمان أنه قال : حدثنا رسول الله صلى الله عليه و سلم حديثين أما أحدهما فقد رأيناه و أما الآخر فنحن ننتظره حدثنا : أن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال فعلموا من القرآن و من السنة ثم حدثنا عن رفعها إن العبد ينام النومة فترفع الأمانة من قلبه و لا يبقى منها إلا مثل الوكت ثم ينام النومة فترفع الأمانة من قلبه و لا يبقى منها فيه إلا كالمحمل ـ أو كالمحل شك ابن بكير كجمر دحرجته على رجلك فتراه منتبرا و ليس فيه شيء فلبث الناس بعدي في الأسواق و ليس فيهم رجل أمين حتى يقال : لقد كان في بني فلان رجل أمين و يقال للرجل ما أعقله و ما أنصحه و ما أجلده و ليس في قلبه مثقال خردل من الإيمان

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو علی بن محمد مصری نے ان کو روح بن فرج نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو حدیث بیان کی لیث نے ان کو خالد بن یزید نے ان کو سعید بن ابوہلال نے ان کو ابوجھم نے ان کو سلیمان کاہلی نے ان کو جھنی نے ان کو حذیفہ بن یمان نے کہ انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان فرمائیں۔ بہر حال ان میں سے ایک کو تو ہم نے دیکھ لیا ہے اور دوسری کے ہم انتظار میں ہیں۔ کہ امانت اتر چکی ہے مردوں کے دلوں کی گہرائی میں اور جڑ میں پس سکھاؤ قرآن کو اور سنت کو۔ پھر ہمیں انہوں نے اس کے اٹھ جانے کی حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ بے شک بندہ سوئے گا جب نیند سے اٹھے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھ چکی ہوگی اور نہ باقی رہے گا اس سے مگر مثل نکتے کے۔ اس کے بعد سوئے گا نیند کر کے اٹھے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھ چکی ہوگی نہ باقی رہے گی اس میں سے مگر جیسے درخت کا چھلکا۔ شک کیا ہے ابن بکیر نے کہ کہا تھا مثل آگ کی چنگاری کے جس کو اپنے پیر پر گرا دیں یا پھر گرنے سے جگہ پھول جائے نشان تو ہو مگر اس کے اندر کوئی شئی نہ ہو۔ آپ اس کو ابھرا ہوا محسوس کریں گے۔ لوگ میرے بعد ٹھہرے رہیں گے بازاروں میں ان میں کوئی بھی امانت دار آدمی نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ البتہ فلاں فلاں قبیلے میں ایک امین آدمی ہوتا تھا۔ اور کسی آدمی کے بارے میں لوگ کہیں گے کہ فلاں کتنا بڑا عقل مند ہے؟ کتنا بڑا خیر خواہ ہے؟ یا کتنا بڑا نصیحت کرنے والا ہے؟ کتنا بڑا مضبوط آدمی ہے؟ (حالانکہ جن لوگوں کو ایسا ایسا سمجھا جا رہا ہوگا ان کی اندرونی کیفیت اور حالت یہ ہوگی کہ) ان کے دل میں رائی کے دانے کی مقدار میں بھی ایمان نہیں ہوگا۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← الجهني، ← سُلَيْمَانَ الْكَاهِلِيِّ، ← أَبِي الْجَهْمِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ← علي بن محمد المصري، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-fifth of the people of faith › And it is a section in the secretariats and what must be paid to their people · Hadith 5271

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5363

5364 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن إبراهيم الصيدلاني أنا أبو الحسن أحمد بن محمد عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا سعيد بن أبي مريم المصري ثنا نافع بن يزيد حدثني ابن الهاد أن سعيد بن أبي سعيد المقبري حدثه أنه سمع أبا هريرة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا زنى الرجل خرج منه الإيمان فكان كالظلة فإذا انقلع منها رجع إليه الإيمان

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن محمد بن ابراہیم صیدلانی نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو سعید بن مریم مصری نے ان کو نافع بن یزید نے ان کو ابن الہاد نے یہ کہ سعید بن ابو سعید مقبری نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا ابو ہریرہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا۔ جس وقت آدمی زنا کرتا ہے اس سے ایمان نکل جاتا ہے پس ہوتا ہے اس کے اوپر مثل سائے بان کے جب اس فعل سے علیٰحدہ ہوتا ہے ایمان اس کی طرف واپس لوٹ آتا ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← ابْنُ الْهَادِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سعيد بن أبي مريم المصري ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد عبدوس ← أبو بكر أحمد بن محمد بن إبراهيم الصيدلاني

Shuab ul Iman · Thirty-seventh of the people of faith › And it is a chapter in the prohibition of broiler chickens and what must be abstained from them · Hadith 5363

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5364

5365 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون عن العوام هو ابن حوشب عن علي بن مدرك عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : الإيمان نزه فمن زنى فارقه الإيمان فمن لام نفسه فراجع راجعه الإيمان

اور ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو عوام نے اور وہ ابن حوشب ہے علی بن مدرک سے اس نے ابو زرعہ سے اس نے ابو ہریرہ سے انہوں نے فرمایا کہ ایمان پاک چیز ہے جو شخص بد کاری کرتا ہے ایمان اس سے علیٰحدہ ہو جاتا ہے۔ پس جو شخص اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور گناہ سے رجوع کرتا ہے ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔

الإيمان نزه فمن زنى فارقه الإيمان فمن لام نفسه فراجع راجعه الإيمان ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← العوام هو ابن حوشب ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني

Shuab ul Iman · Thirty-seventh of the people of faith › And it is a chapter in the prohibition of broiler chickens and what must be abstained from them · Hadith 5364

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5365

5366 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله بن إبراهيم الهاشمي ثنا محمد بن عمرو الرزاز ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو سهل أحمد بن محمد بن عبد الله بن زياد ثنا يحيى بن أبي طالب أنا عمرو بن عبد الغفار ثنا العوام بن حوشب حدثني علي بن مدرك عن أبي زرعة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الإيمان سربال يسربله الله من يشاء فإذا ازنى العبد نزع منه سربال الإيمان فإن تاب رد عليه

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن عبداللہ بن ابراہیم ہاشمی نے ان کومحمد بن عمرو رزاز نے ”ح‘‘ان کو خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو سہل احمد بن محمد بن عبداللہ بن زیاد نے ان کو یحییٰ بن طالب نے ان کو عمرو بن عبدالغفار نے ان کو عوام بن حوشب نے ان کو علی بن مدرک نے ان کو ابو زرعہ نے ان کو ابو ہریرہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ کہ ایمان ایک قمیص ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اس کی قمیص پہناتا ہے جب کوئی بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے اس کی قمیص ایمان اتار لی جاتی ہے اگر بندہ توبہ کرتا ہے تو اس پر وہ واپس کر لی جاتی ہے جب کوئی بندہ زنا کرتا ہے تو اس سے اس کی قمیص ایمان اتار لی جاتی ہے اگر بندہ توبہ کرتا ہے تو اس پر وہ واپس کر لی جاتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-seventh of the people of faith › And it is a chapter in the prohibition of broiler chickens and what must be abstained from them · Hadith 5365

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5366

5367 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي أنا أبو حاتم محمد بن إدريس الرازي ثنا ابن أبي مريم أنا يحيى بن أيوب أخبرني ابن عجلان عن القعقاع أخبره عن أبي صالح عن أبي هريرة : و سأله عن قول رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يزني الزاني و هو مؤمن فأين يكون الإيمان منه ؟ قال أبو هريرة يكون هكذا عليه و قال بكفيه فوق رأسه الفقيه فإن تاب و نزع رجع إليه قال الشيخ أحمد : و إنما أراد و الله أعلم قدر ما نقص بالزنا من إيمانه

ہمیں خبر دی ابو علی حسین بن محمد روذباری نے ان کو حسین بن حسن ایوب طوسی نے ان کو ابو حاتم محمد بن ادریس رازی نے ان کو ابن ابو مریم نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو خبر دی ابن عجلان نے ان کو قعقاع نے ان کو خبر دی ہے ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے۔اور ان سے پوچھا تھا رسول اللہ کے قول کے بارے میں۔ نہیں زنا کرتا زانی اس حال میں کہ وہ مؤمن ہو لہذا ایمان اس سے کہاں ہوگا؟ ابو ہریرہ نے کہا کہ ایمان اس کے اوپر ایسے ہوگا اور اشارہ کیا اپنی ہتھیلی سے اپنے سر کے اوپر اگر توبہ کر لیتا ہے اور باز آ جاتا ہے تو ایمان اس کی طرف واپس لوٹ آتا ہے۔ شیخ احمد نے کہا کہ اور سوائے اس کے نہیں کہ آپ نے ارادہ کیا تھا۔ اس اندازے کا جو زنا کے ساتھ اس کا ایمان ہوا تھا۔

أبي هريرة و سأله ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ،

Shuab ul Iman · Thirty-seventh of the people of faith › And it is a chapter in the prohibition of broiler chickens and what must be abstained from them · Hadith 5366

شعب الإيمان · السابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم الفروج و ما يجب من التعفف عنها · حديث 5367

5368 - أخبرنا أبو بكر الأشناني أنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا أحمد بن يونس عن أبي شهاب عن الأعمش عن مجاهد عن ابن العباس أنه كان يسمي عبيدة بأسماء العرب عكرمة و كريب أنه قال لهم : تزوجوا فإن العبد إذا زنى نزع منه نور الإيمان فرد الله عليه بعد أو أمسكه

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر اشنانی نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو احمد بن یونس نے ان کو ابو شہاب نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے کہ وہ اپنے غلاموں کا نام عربوں کے نام کے ساتھ رکھا ہے۔ مثلاً عکرمہ۔ سمیع۔ کریب۔ اور بے شک اس نے کہا ان کو۔ شادی کر لو۔ بے شک بندہ جب زنا کرتا ہے اس سے ایمان کا نور کھینچ لیا جاتا ہے پھر اللہ اس کو اس بندے پر واپس لوٹا دیتے ہیں بعد میں یا اس کو روک لیتے ہیں۔

ابن العباس أنه كان يسمي عبيدة بأسماء العرب عكرمة و كريب أنه ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي شِهَابٍ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو بكر الأشناني

Shuab ul Iman · Thirty-seventh of the people of faith › And it is a chapter in the prohibition of broiler chickens and what must be abstained from them · Hadith 5367

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب الثاني و العشرين من شعب الإيمان ـ · حديث 3297

3297 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان ثنا إسحاق بن إبراهيم بن العلاء حدثني عمرو بن الحارث حدثني عبد الله بن سالم عن الزبيدي نا يحيى بن جابر أن عبد الرحمن بن جبير حدثه أن أباه حدثه أن عبد الله بن معاوية الغاضري حدثهم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الإيمان من عبد الله وحده فإنه لا إله إلا الله و أعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه زائدة عليه في كل عام و لم يعط الهرمة و لا الرديئة و لا الشرط اللئيمة و لا المريضة و لكن من أوسط ما لكم فإن الله عز و جل لم يسألكم خيره و لم يأمركم بشره و زكى عبد نفسه فقال رجل : و ما تزكية المرء نفسه يا رسول الله ؟ قال : يعلم أن الله معه حيث كان

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم بن علاء نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عبداللہ بن سالم نے زبیدی نے ان کو یحییٰ بن جابر سے کہ عبدالرحمٰن بن جبیر نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ ان کو ان کے والد نے حدیث بیان کی ہے ۔ یہ کہ عبداللہ بن معاویہ غاضری ن ے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ تین کام ہیں جو شخص ان کو کر لے وہ ایمان کا مزہ چکھ لیتا ہے۔ وہ شخص جو اللہ کی عبادت کرے (اس طرح پر کہ) وہ اکیلا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ دے یہ طیب خاطر (یعنی خوشی سے) یہ زائد ہے اس پر ہر سال میں (اس شرط کے ساتھ کہ) نہ بوڑھا جانور دے نہ ردی چیز دے اور نہ حقیر چیز دے نہ بیمار جانور دے بلکہ اپنے درمیانے مال میں سے دے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نہیں مانگتا تم سے اس میں سے بہتر مال اور نہ ہی تمہیں حکم دیتا ہے اس کے برے کا بلکہ آدمی اپنے نفس کا تزکیہ کریں۔ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ انسان کا اپنے نفس کو پاک کرنا کیسے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان یہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے وہ جہاں بھی ہو۔

أن عبد الله بن معاوية الغاضري ← أَنَّ أَبَاهُ ← يحيى بن جابر أن عبد الرحمن بن جبير ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إسحاق بن إبراهيم بن العلاء ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter Twenty-second of the People of Faith · Hadith 3297

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3327

3327 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن و أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي و أبو عبد الرحمن بن الحسين السلمي قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا العباس بن الوليد بن مزيد البيروتي أخبرني أبي قال : سمعت الأوزاعي حدثني أبو كثير عن أبيه و كان يجالس أبا ذر قال : فجمع حديثا فلقي أبا ذر و هو عند الجمرة الوسطى و حوله الناس قال : فجلست إليه حتى مست ركبتي ركبته فنسيت ذلك الحديث فرفعت رأسي إلى السماء فجعلت أتذكر فقلت يا أبا ذر دلني على عمل به العبد دخل الجنة قال أبو ذر : سألت عن ذلك نبي الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا نبي الله دلني على عمل إذا عمل به العبد دخل الجنة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تؤمن بالله قلت : يا رسول الله إن مع الإيمان عمل قال : يرضخ مما رزقه الله عز و جل قلت : يا رسول الله فإن كان معدما لا شيء معه قال : يقول معروفا بأسنانه قلت يا رسول الله فإن كان عبدا لا يبلغ عنده لسانه قال : فليعن معدوما قلت : فإن كان ضعيفا لا قوة به قال : فيصنع لأخرق قلت : يا رسول الله فإن كان أخرق قال : فالتفت إلي فقال : أما تريد أن تدع في صاحبك خيرا فليدع الناس من أذاه قلت : يا رسول الله إن هذا كله ليسير قال : فو الذي نفسي بيده ما منها من خصلة يعمل بها العبد يريد بها ما عند الله إلا أخذت بيده يوم القيامة فلم يفارقه حتى يدخله الجنة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسن اور ابو عبداللہ اسحاق بن محمد بن یوسف سوسی سے اور ابو عبدالرحمٰن بن حسین سلمی نے لوگوں سے کہا ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن ولید بن مزید بیروتی نے ان کو خبر دی ہے ان کے والد نے انہوں نے کہا: کہ میں نے سنا امام اوزاعی سے ان کو ابو بکر کثیر نے انکو ان کے والد نے اور وہ حضرت ابو ذر کے پاس بیٹھے تھے کہتے ہیں کہ اس نے حدیث جمع کی پھر وہ ابو ذر سے ملے وہ اس وقت جمرہ وسطی کے پاس تھے اور ان کے گرد لوگ تھے کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس بیٹھ گیا یہاں تک میرے گھٹنے ان کے گھٹنے سے لگنے لگے میں وہ حدیث بھول گیا میں نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور میں اس کو یاد کر نے لگا اور میں نے کہا اے ابو ذر مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ جب بندہ وہ عمل کرے تو وہ جنت میں چلا جائے ابو ذر نے کہا: کہ میں نے اس بارے میں اللہ کے نبی سے پوچھا تھا میں نے کہا تھا اے اللہ کے نبی مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ جب کوئی بندہ اس کاعمل کرے اس کے ذریعے وہ جنت میں چلا جائے۔ فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ ایمان لے آ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اس ایمان کے ساتھ عمل بھی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھوڑا سا اللہ واسطے بھی دے اس میں سے جو اللہ نے اس کو رزق دیا ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ اگر وہ شخص نادار ہو اس کے پاس کوئی چیز نہ ہو تو فرمایا کہ وہ بات کہے اپنے دانتوں سے (یعنی مسکرادیئے) میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ ایسا بندہ ہو کہ اس کی زبان بھی اس تک نہ پہنچ سکے فرمایا پھر وہ اس کے مدد کرے جو بالکل نادار ہو۔ میں نے کہا کہ اگر وہ ضعیف ہو اس کو کوئی طاقت نہ ہو۔ فرمایا کہ پھر وہ گونگے کے لئے کرے میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ خود بے زبان ہو ۔ کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پلٹ کرمیری طرف دیکھا اور فرمایا کہ کیا مت یہ چاہتے ہو کہ تم اپنے ساتھی کے پاس کچھ بھی خیر نہ رہنے دو۔ پس چاہیے کہ وہ لوگوں کو اپنی ایذاؤں اور تکلیفوں سے محفوظ رکھے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سارے کام البتہ آسان ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ان میں سے کوئی خصلت ایسی نہیں ہے بندہ جس کے ساتھ عمل کرے اور اس کے ساتھ اللہ کی رضا کی نیت کرے مگر اپنے ہاتھ سے پکڑے رہے گا اوران سے قیامت کے دن جدا نہ ہو گا۔ حتیٰ کہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔

أبيه و كان يجالس أبا ذر ← أَبُو كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3327

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ التحريض على صدقة التطوع · حديث 3328

3328 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا الأسفاطي و هو عباس بن الفضل نا أبو الوليد نا عكرمة بن عمار نا أبو زميل عن مالك بن مرثد عن أبيه عن أبي ذر يرفعه قال : لا أعلمه إلا رفعه و افراغك من دلوك في إناء أخيك صدقة و أمرك بالمعروف و نهيك عن المنكر صدقة و إماطة الحجر و الشوك و العظم عن طريق الناس صدقة و هدايتك الرجل في أرض الضالة صدقة و به عن أبي ذر قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم ماذا ينجي العبد من النار ؟ قال : الإيمان بالله قلت : يا نبي الله مع الإيمان عمل قال : أن ترضخ مما خولك الله أو ترضخ بما رزقك قلت : يا نبي الله فإن كان فقيرا لا يجد ما يرضخ قال : يأمر بالمعروف و ينهى عن المنكر قلت : إن كان لا يستطيع أن يأمر بالمعروف و لا ينهى عن المنكر قال : فليعن الأخرق قلت : يا رسول الله أرأيت إن كان لا يحسن أن يصنع قال : فليعن مظلوما قلت : يا نبي الله أرأيت إن كان ضعيفا لا يستطيع أن يعين مظلوما قال : ما تريد أن تترك لصاحبك من خير ليمسك أذاه عن الناس قلت : يا رسول الله أرأيت إن فعل هذا يدخله الجنة قال : ما من مؤمن يصيب خصلة من هذه الخصال إلا أخذت بيده حتى تدخله الجنة

ہمیں خبر دی ہےعلی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسفاطی نے وہ عباس بن فضل سے ان کو ابو الولید نے ان کو عکرمہ بن عمار نے ان کو ابو زمیل نے ان کو مالک بن مرثد نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ذر نے وہ اس کو مرفوع بیان کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس کو نہیں جانتا مگر مرفوع ہی جانتا ہوں فرمایا کہ تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں انڈیلنا بھی صدقہ ہے اور تیرا امر بالمعروف کرنا اور تیرا نہی عن المنکر کرنا بھی صدقہ ہے۔ اور لوگوں کے راستے سے پتھر ہٹا نا اور ہڈی ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ بھٹکے ہوئے آدمی کو راستہ بتانا بھی صدقہ ہے۔ اور اسی کے ساتھ خبر دی ہے ابو ذر نے کہ میں نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا چیز بندے کو آگ سے نجات دیتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ ایمان لانا۔ میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ہے۔ فرمایا یہ کہ اللہ نے تمہیں جو کچھ عطا کیا ہے اس میں سے تھوڑا سا دے دے یا یوں کہا تھا اللہ نے تجھے جو رزق دیا ہے اس کے ساتھ تھوڑا دے دے۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے نبی اگر بندہ خود فقیر ہو نہ پائے وہ چیز جو دے سکے فرمایا کہ اچھا کام کرنے کا حکم اور ناپسندیدہ کام کرنے سے روکے۔ میں نے کہا اگر وہ امر بالمعروف اور انہی عن المنکر کرنے کی طاقت بھی نہ رکھے فرمایا کہ پھر وہ گونگے آدمی کی زبان سے مدد کرے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ اگر وہ یہ بھی بہتر طریقے سے نہ کر سکے فرمایا تو پھر وہ مظلوم کی مدد کرے میں نے کہا یا رسول اللہ اگر وہ کمزور اور ضعیف ہو مظلوم کی مدد بھی نہ کر سکے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم کیا چاہتے ہو کہ تم اپنے ساتھی کے لئے کوئی خیر باقی نہ چھوڑو۔ چاہیے کہ پھر وہ لوگوں سے اپنے ایذا روک لے (یعنی کسی کو زبان سے بھی تکلیف نہ دے) میں نے کہا یا رسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر وہ یہ کام کرے تو یہ اس کے جنت میں داخل کر ا دے گا۔ آپ نے فرمایا جو مؤمن بھی ان خصال میں سے کسی خصلت کو کرتا ہے تم اس کا ہاتھ پکڑ لو اور اسے جنت میں داخل کر دو۔

أَبِي ذَرٍّ، يَرْفَعْهُ، ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← أَبُو زُمَيْلٍ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الأسفاطي و هو عباس بن الفضل ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Incitement to volunteer charity · Hadith 3328

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان · حديث 1

1 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحافظ ـ رحمه الله تعالى ـ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي و أبو سعيد محمد بن شاذان الأصم قالا ثنا أبو قدامة عبيد الله بن سعيد ثنا أبو عامر العقدي ثنا سليمان بن بلال عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الإيمان بضع و ستون شعبة و الحياء شعبة من الإيمان رواه أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري في الصحيح عن عبد الله بن محمد المسندي عن أبي عامر و رواه أبو الحسين مسلم بن الحجاج عن عبيد الله بن سعيد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ محمد بن حمدویہ حافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ نے ( انہوں نے فرمایا ) ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ( وہ فرماتے ہیں ) ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عمرو احمد بن مبارک مستملی نے اور ابو سعید بن شاذان صم نے ( وہ دونوں) فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو قدامہ عبید اللہ بن سعید نے ( وہ فرماتے ہیں ) ہمیں حدیث بیان کی ابو عامر عقدی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی سلیمان بن بلال نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا ( الایمان بضع و ستون شعبۃ و الحیاء شعبۃ من الایمان ) ایمان کے ساٹھ سے کچھ زائد شعبے ہیں اور حیا کرنا بھی ایمان کا شعبہ ہے ۔ ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری نے صحیح بخاری میں اس کو عبداللہ بن محمد مسندی سے انہوں نے ابو عامر سے روایت کیا ہے اور ابو الحسن مسلم بن حجاج قثیری نے اس کو عبید اللہ بن سعید سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← أبو عمرو أحمد بن المبارك المستملي و أبو سعيد محمد بن شاذان الأصم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدويه الحافظ تعالى

Shuab ul Iman · Book › Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith · Hadith 1

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان · حديث 2

2 - أخبرنا أبو صالح العنبر بن الطيب بن محمد العنبري ابن ابنة يحيى بن منصور القاضي أنبأ جدي ثنا أحمد بن سلمة ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي و عمرو بن زرارة الكلابي قالا أنبأ جرير عن سهيل بن أبي صالح عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الإيمان بضع و ستون أو سبعون شعبة فأرفعها قول لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب عن جرير قال الإمام أحمد رحمه الله تعالى : و هذا الشك وقع من سهيل بن أبي صالح في ( بضع و ستين ) أو في ( بضع و سبعين ) و سليمان بن بلال قال : بضع و ستون لم يشك فيه و روايته أصح عند أهل العلم بالحديث غير أن بعض الرواة عن سهيل رواه من غير شك قال : بضع و سبعون أفضلها قول لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى و العظم عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان

ہمیں خبر دی ابو صالح عنبری بن طیب بن محمد عنبری یحییٰ بن منصور قاضی کے نواسے نے انہوں نے فرمایا کہ ہمیں خبر دی تھی میرے دادا نے اور انہوں نے فرمایا ہمیں حدیث بیان کی احمد بن سلمہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے اور عمرو بن زرارہ کلابی نے وہ دنوں فرماتے ہیں خبر دی جریر نے سہیل بن ابو صالح سے ۔ انہوں نے عبداللہ بن دینار سے انہوں نے ابو صالح سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( الایمان بضع و ستون اوسبعون شعبۃ فار فعھا قول لا الہ الا اللہ و ادناھا اماطۃ الا ذی عن الطریق و الحیاء شعبۃ من الایمان ) ایمان کی ساتھ یا ستر شاخیں ہیں ۔ سب سے برتر شاخ ان میں سے لا الہ الا اللہ کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹی اور کم رتبہ شاخ راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا ہے اور شرم و حیا بھی ایمان کی شاخ ہے ۔ امام مسلم نے اس کو صحیح مسلم میں زھیر بن حرب سے بواسطہ جریر نقل کیا ہے ۔ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ساٹھ یا ستر کی تعداد والا شک سہیل بن ابی صالح سے واقع ہو رہے ہیں ۔ جبکہ سلیمان بن بلال نے بضع و ستون فرمایا ہے ( یعنی ساٹھ سے کچھ زائد ) اس نے شک ظاہر نہیں کیا اور حدیث کے اہل علم کے نزدیک اس کی روایات زیادہ صحیح ہے ۔ علاوہ ازیں بعض راویوں نے اس کو سہیل سے بھی بغیر شک کے نقل کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( بضع و سبعون افضلھا قول لا الہ الا اللہ و ادناھا اماطۃ الا ذی و العظم عن الطریق و الحیاء شعبۃ عن الایمان ) یعنی ستر سے زائد شاخیں ہیں ۔ سب سے افضل اعلیٰ و ارفع اللہ تعالیٰ کی واحدنیت کا اقرار ہے اور سب سے کم مرتبہ شخ راستہ سے ہڈی وغیرہ تکلیف دہ چیز راستہ سے ہٹا دینا ہے اور حیا بھی ایمان کی شاخ ہے ۔

إسحاق بن إبراهيم الحنظلي و عمرو بن زرارة الكلابي ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ

Shuab ul Iman · Book › Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith · Hadith 2

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان · حديث 3

3 - أخبرنا أبو علي الحسين بن محمد بن محمد بن علي الروذباري أنبأ أبو بكر محمد بن بكر ثنا أبو داود السجستاني ثنا موسى بن إسماعيل ثنا حماد بن سلمة ثنا سهيل بن أبي صالح : ـ فذكره من غير شك ـ و هذا زائد فأخذ به صاحب كتاب المنهاج في تقسيمه ذلك على سبعة و سبعين بابا بعد بيان صفة الإيمان و بالله التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو علی حسین بن محمد بن محمد بن علی رودباری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو بکر محمد بن بکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو داؤد بحستانی نے کہ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بیان کیا کہ ہمیں عمار بن سلمہ نے حدیث بیان کی کہ سہیل بن ابو صالح نے خبر دی ہے ۔ پھر اس حدیث کو شک کے بغیر انہوں نے روایت کیا ۔ یہ اضافی ہے ۔ صاحب المنھاج نے اپنی کتاب میں صفت الایمان کے بیان کے بعد اس کی ستترکی تقسیم میں اسی روایت کو لیا ہے اور یہ توفیق کا عنایت ہونا اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ

Shuab ul Iman · Book › Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith · Hadith 3

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 11

11 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو النضر الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا النفيلي ثنا زهير ثنا أبو إسحاق : فذكره أخرجاه في الصحيح من حديث زهير بن معاوية و جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم الطهور من الإيمان

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے ابو نصر الفقیہہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی عثؐان بن سعید دارمی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ نفیلی نے وہ کہتےہیں ہمیں حدیث بیان کی زہیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ابو اسحٰق نے پھر انہوں نے حدیث ذکر فرمائی ہے ۔ بخاری مسلم نے اس روایت کو زہیر بن معاویہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ظہور کو ایمان قرار دیا ہے ۔

زُهَيْرٍ ← النُّفَيْلِيُّ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 11

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 12

12 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني قالا : أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي مالك الأشعري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : الطهور شطر الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبان بن يزيد العطار

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ الحافظ نے اور ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے وہ دونوں فرماتے ہیں خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے مسلم بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابو کثیر سے زید بن سلام سے انہوں نے ابو سلام سے انہوں نے حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے : ( الطھور شطر الایمان ) طہارت حاصل کرنا ایمان کا حصہ ہے یا صفائی نصف ایمان ہے ۔ امام مسلم نے اس حدیث کو صحیح مسلم میں ابان بن یزید عضاد کی حدیث سے نقل کیا ہے ۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 12

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 13

13 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي المسديدي فما قرأت عليه من أصله بخسروجرد قال : أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي نا داود بن الحسين البيهقي ثنا حميد بن زنجويه النسوي حدثنا أبو شيخ الحراني ثنا موسى بن أعين عن ليث عن عمرو بن مرة عن معاوية بن سويد ـ قال : أراه قال : ـ عن أبيه ـ الشك من أبي شيخ ـ قال : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم يوما نتحدث فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتدرون أي عرى الإيمان أوثق ؟ فقالوا : الصلاة فقال : إن الصلاة لحسنة و ما هي بها فقالوا : الجهاد فقال : إن الجهاد لحسن و ما هو به فقالوا : الحج فقال : إن الحج لحسن و ليس به فقالوا : الصيام فقال : الصيام لحسن و ليس به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوثق عرى الإيمان أن تحب لله و تبغض له و رواه جرير بن عبد الحميد عن ليث بن أبي سليم عن عمرو بن مرة عن معاوية بن سويد بن مقرن عن البراء بن عازب عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ بیہقی مسدیدی نے اس صال کیتاب سے جو میں نے خسرو گرد کے ساتھ ان کے سامنے پڑھی تھی انہوں نے فرمایا خبر دی ہے ابو احمد بن محمد حسین بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے داؤد بن حسین بیہقی نے انہوں نے کہا ہمیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ حمید بن زنجویہ نسوی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو شیخ خرانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ بن ایمن نے لیث سے انہوں نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے معاویہ بن سوید سے انہوں نے کہا میں اسے دیکھا فرما رہے تھے اپنے والد سے شک ابو شیخ کی طرف سے ہے وہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی مجلس میں ایک روز بیٹھے تھے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اتدرون ای عری الا یمان اوثق ؟ ) کیا تم لوگ جانتے ہو ایمان کا مضبوط ترین کڑا کون سا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا ۔ الصلوٰۃ ، نماز مضبوط کڑا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ( ان الصلوٰۃ لحسنۃ و ما ھی بھا ) نماز تو بے شک ضرور اچھی ہے لیکن وہ نہیں ۔ صحابہ نے جواب دیا الجہاد ۔ جہاد ، آپ نے فرمایا جہاد تو ضرور اچھا ہے ۔ لیکن وہ نہیں لوگوں نے کہا حج آپ نے فرمایا ضرور حج اچھی چیز ہے لیکن وہ نہیں لوگوں نے کہا روزہ سے آپ نے فرمایا روزے ضرور اہم ہیں مگر وہ نہیں پھر آپ نے خود وضاحت فرمائی : ( اوثق العریٰ الا یمان ان تحب للہ و تبغض لہ ) کہ ایمان کا مضبوط ترین کڑا یہ ہے کہ تو کسی سے محبت کرے تو اللہ کے لئے اور ناپسند کرے تو اللہ کے لئے ۔ جریر بن عبدالحمید نے اس کو روایت کیا ہے لیث بن ابی سلیم سے انہوں نے عمرو بن مرہ سےانہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرون سے انہوں نے براء بن عازب سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← ليث بن أبي سليم ← الصيام لحسن و ليس به ← الصِّيَامِ ← إن الحج لحسن و ليس به ← الْحَجِّ ← إن الجهاد لحسن و ما هو به ← الْجِهَادُ ← إن الصلاة لحسنة و ما هي بها ← الصَّلَاةِ ← كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم يوما نتحدث ← أَبِيهِ الشَّكُّ مِنْ أَبِي شَيْخٍ ← أُرَاهُ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← لَيْثٌ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ ← حميد بن زنجويه النسوي ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ← عليه من أصله بخسروجرد ← أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي المسديدي فما

Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 13

chevron_left Previous
1…383940…484
Next chevron_right