Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

سنن الکبری البھیقی · كتاب قتال أهل البغي ‹ جماع أبواب الرعاة · حديث 16579

[ 16356 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو عبد الرحمن السلمي قالا أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا أبو عوانة عن حصين عن عمرو بن ميمون في قصة مقتل عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه قال فقالوا أوص يا أمير المؤمنين استخلف فقال ما أحد أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر أو الرهط الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض فسمى عليا وعثمان والزبير وطلحة وسعدا وعبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنهم وقال ليشهدكم عبد الله بن عمر وليس له من الأمر شيء كالتعزية له وقال فإن أصابت الإمرة سعدا فهو ذاك وإلا فليستعن به أبكم ما أمر فإني لم أعز له من عجز ولا خيانة وقال أوصي الخليفة من بعدي بالمهاجرين الأولين أن يعلم لهم حقهم ويحفظ لهم حرمتهم وأوصيه بالأنصار الذين تبوؤا الدار والإيمان من قبلهم أن يقبل من محسنهم وأن يعفي عن مسيئهم وأوصيه بأهل الأمصار خيرا فإنهم ردء الإسلام وجباة الأموال وغيظ العدو وأن لا يؤخذ منهم إلا فضلهم عن رضاهم وأوصيه بالأعراب خيرا فإنهم أصل العرب ومادة الإسلام أن يؤخذ من حواشي أموالهم فيرد على فقرائهم وأوصيه بذمة الله وذمة رسوله أن يوفي لهم بعهدهم وأن يقاتل من ورائهم وأن لا يكلفوا إلا طاقتهم فلما قبض خرجنا به فانطلقنا نمشي وذكر الحديث في دفنه قال فلما فرغ من دفنه ورجعوا اجتمع هؤلاء الرهط فقال عبد الرحمن بن عوف رضى الله تعالى عنه اجعلوا أمركم إلى ثلاثة منكم قال الزبير قد جعلت أمري إلى علي فقال طلحة قد جعلت أمري إلى عثمان وقال سعد قد جعلت أمري إلى عبد الرحمن فقال عبد الرحمن أيكما يبرأ من هذا الأمر فنجعله إليه والله عليه والإسلام لينظرن أفضلهم في نفسه وليحرصن على صلاح الأمة قال فأسكت الشيخان فقال عبد الرحمن أفتجعلونه إلي والله علي أن لا آلو عن أفضلكم فقالوا نعم قال فأخذ بيد أحدهما فقال لك من قرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم والقدم في الإسلام ما قد علمت والله عليك لئن أنا أمرتك لتعدلن ولئن أنا أمرت عثمان لتسمعن ولتطيعن ثم خلا بالآخر فقال له مثل ذلك فلما أخذ الميثاق قال أرفع يدك يا عثمان لتسمعن فبايعه وبايع له علي رضى الله تعالى عنهما وولج أهل الدار فبايعوه رواه البخاري في الصحيح عن موسى بن إسماعيل

16579 – عمرو بن میمون حضرت عمر کے قتل کے قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں نےحضرت عمر سے کہا کہ خلیفہ نا مزد کر دیں تو فرمایا: ان صحابہ سے بڑھ کر اس فیصلہ کا حق دار کوئی نہیں اور علی عثمان زبیر طلحہ سعد عبدالرحمٰن بن عوف کے نام لیے عبداللہ بن عمر بھی اگر حاضر ہیں تو ان کے لیے معاملے سے کچھ نہیں اگر معدا میر بن جائیں تو بہتر ہے اگر نہیں تو اپنے مشورے سے مقرر کر لو میں کسی رجز یا خیانت سے اسے معزول نہیں کروں گااور ہا جو بھی میرے بع دخلیفہ بنت میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین کے حق کو پہنچانے ان کی عزت اور مقام مرتبے کا خیال رکھے اور انصار کے بارے میں وسیت کرتا ہوں کہ گھر اور ایمان والے ہیں ان کے محسن سے قبول کرے او رمسی سے درگزر کرے اور تمام علاقے والوں کے لیے خیر کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ اسلام کے مددگار مال کو جمع کرنے والے اور دشمن کا غضب ہیں اور ان سے ان کا زائد مال ہی ان کی رضا مندی سے لیا جائے اور نہ دیہاتیوں کے بارے میں خیر کی وصیت کرت اہوں کیونکہ وہ اسل عرب ہیں اسلام کا مادہ ہیں ان کے زائد مالوںکو لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دی اجائے اور میں اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد و پورا کرے کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دیں جب فوت ہو گئے وت ہم نکلے اور چلے اور پھر آگے ان کے دفن تک مکمل روایت بیان فرمائی پھر فرماتے ہیں کہ ان کو دفن کرنے کے بعد واپس آئے تو یہ گروہ جمع ہو گیا تو عبدالرحمٰن کہنے لگے : اپنے معاملات کسی ھی تین کو سونپ دو زبیر نے حضرت علی طلحہ نے عثمان اور سعد نے عبدالرحمٰن کو چنا تع عبدالرحمٰن کہنے لگے: اب آپ میں سے کوئی اور اس کو چھورنا چاہتا ہے تاکہوہ زیادہ حریص ہو اصلح امت پر؟ تو دونوں شیخان خاموش رہے تو عبدالرحمٰن نے کہا: میں پیچھے بنتا ہوں لیکن کیا میں فیصلہ کروں؟ کہا ہاں تو آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑ ااور کہا : آپ کی نبیﷺسے قربات اور تقدیم اسلام ہے اگر میں آپ کو امیر بنادوں آپ ضرور انصاف کریں گے لیکن میں عثمان کو امیر بناتا ہوں تو حضڑت عچمان کو کہا اپنا ہاتھ اتھاؤ خود بیعت کی اور حضرت عل نے بھی بیعت کر لی اور اہل الدار بھی آئے انہوں نے بھی بیعت کر لی۔

أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The book of fighting the people of prostitution › The gathering of the gates of the Shepherds · Hadith 16579

سنن الکبری البھیقی · كتاب الشهادات ‹ كتاب الشهادات · حديث 21164

[ 20953 ] أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا الأسفاطي ثنا أحمد بن عبد الله بن يونس ثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن سعيد بن عبد الله بن جريج عن أبي برزة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا معشر من آمن بلسانه ولم يدخل الإيمان في قلبه لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم فإن من أتبع عورة أخيه المسلم اتبع الله عورته وفضحه وهو في بيته

21164 - حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے گروہ جو اپنی زبان قابو میں نہیں رکھتے ایمان ان کے دلوں میں دآخل نہیں ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کیا کرو ان کے عیب تلاش نہ کیا کرو جو اپنے مسلمان بھائی کے عیب تلاش کرتا ہے اللہ اس کے عیب تلاش کر کے اس کو اس کے گھر کے اندر رسوا کر دے گا۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، ← الْأَسْفَاطِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Certificate book › Certificate book · Hadith 21164

سنن الکبری البھیقی · كتاب الدعوى والبينات ‹ كتاب الدعوى والبينات · حديث 21208

[ 20997 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر القاضي وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد عن قتادة في قوله { وآتيناه الحكمة وفصل الخطاب } قال البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه وروينا فيما مضى عن شريح أنه قال في هذه الآية الأيمان والشهود

21208 – حضرت قتادہ اللہ کےاس فرمان کے متعلق فرماتے ہیں کہ دلیل مدعی کے ذمہ اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے ۔

في هذه الآية الأيمان والشهود ← شُرَيْحٍ أَنَّهُ ← البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه وروينا فيما مضى ← قتادة في قوله وآتيناه الحكمة وفصل الخطاب ← يحيى بن أبي طالب أنبأ عبد الوهاب بن عطاء أنبأ سعيد ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ، وأبو بكر القاضي، وأبو سعيد بن أبي عمرو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Case book and evidence › Case book and evidence · Hadith 21208

سنن الکبری البھیقی · كتاب المرتد ‹ كتاب المرتد · حديث 16828

[ 16605 ] وأخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أبو القاسم سليمان بن أحمد الحافظ ثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ح قال وحدثنا بن أبي مريم ثنا الفريابي قالا ثنا سفيان عن أبي الزبير عن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوا لا إله إلا الله عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحقها وحسابهم على الله عز وجل ثم قرأ { إنما أنت مذكر لست عليهم بمسيطر } أخرجه مسلم في الصحيح من وجهين أخرين عن سفيان قال الشافعي رحمه الله فاعلم أن حكمهم في الظاهر أن تمنع دماؤهم بإظهار الإيمان وحسابهم في المغيب على الله عز وجل قال وقد آمن بعض الناس ثم ارتد ثم أظهر الإيمان فلم يقتله رسول الله صلى الله عليه وسلم وقتل من المرتدين من لم يظهر الإيمان

16828 – حضرت جابر سے سابقہ روایت: امام شافعی فرماتے ہیں کہ جان لو کہ جس کا ایمان ظاہر ہو جائے ان کا خون معاف ہے اور ان کے اندرونی حالات اللہ کے ذمے ہیں بعض لوگ ایمان لے آئے پھر مرتد ہو گئے اور پھر مسلمان ہو گئے تو ان کو نبیﷺ نے قتل نہیں کیا قتل ان مرتدین کو کیا کہ جن کے ایمان ظاہر نہیں ہوئے تھے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Apostate Book › The Apostate Book · Hadith 16828

سنن الکبری البھیقی · كتاب المرتد ‹ كتاب المرتد · حديث 16834

[ 16611 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد قال قرأت على أبي اليمان أن شعيب بن أبي حمزة حدثه عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن أبا هريرة قال شهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل ممن يدعي الإسلام هذا من هل النار فلما حضر القتال قاتل الرجل أشد القتال حتى كثرت به الجراح فأثبتته فجاء رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله أرأيت الرجل الذي ذكرت أنه من أهل النار قد والله قاتل في سبيل الله أشد القاتل وكثرت به الجراح فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أما إنه من أهل النار وكاد بعض الناس يرتاب فبينا هو على ذلك وجد الرجل ألم الجراح فأهوى بيده إلى كنانته فاستخرج منها سهما فانتحر بها فاشتد رجال من المسلمين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله قد صدق الله حديثك قد امتحن فلان فقتل نفسه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا بلال قم فأذن لا يدخل الجنة إلا مؤمن وإن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان وأخرجه مسلم من حديث معمر عن الزهري قال الشافعي ولم يمنع رسول الله صلى الله عليه وسلم ما استقر عنده من نفاقه وعلم أن كان علمه من الله فيما من أن حقن دمه بإظهار الإيمان وقال الشيخ رحمه الله وفي مثل هذا ما

16834 – حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ ہم خیبر میں نبیﷺکے ساتھ حاضر ہوئے تو اسلام کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص کے بارے میں اپ نے فرمایا؛ یہ آگ میں ہے جب جنگ شروع ہوئی تو وہ بڑی جوانمر دی سے لڑا تو لوگوں نے اس کی جرات دیکھ کر نبی ﷺ سے عڑض کیا یا رسول اللہ جس کے بارے میں آپ نےف رمایا تھا کہ وہ جہنی ہے وہ تو بری بہادری سے لڑا ہے اور بہت زخمی ہے تو آپ نے فرمایا: وہ جہنی ہے تو لوگ شک میں پر گئے توانہوں نے دیکھ ااس شخص نے جو سخت زخم تھا اپنا تیر نکالا اور اس سے اپنے آپ کو قتل کر دیا تو مسلما لوگ نبی ﷺ کے پاس جلدی سے ائے اور کہنے لگ : اللہ نے آپ کی بات سچ ثابت کر دی یا رسول اللہ! اللہ نے اسے آزمایا اس نے اپنے آپ کو قتل کر دیا تو آپ ﷺ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ لوگوں میں آعلان کردو کہ جنت میں صرف مومن جائے گا اور اللہ نے اپنے دین کی مدد یاک فاجر آدمی کے ذریعے فرمائی ۔

شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ خَيْبَرَ ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← على أبي اليمان أن شعيب بن أبي حمزة ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أحمد بن محمد بن عبدوس

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Apostate Book › The Apostate Book · Hadith 16834

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18480

[ 18261 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ بشر بن موسى ح وأخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ محمد بن بكر ثنا أبو داود قالا ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو معاوية ثنا جعفر بن برقان عن يزيد بن أبي نشبة عن أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث من أصل الإيمان الكف عمن قال لا إله إلا الله لا يكفره بذنب ولا يخرجه من الإسلام بعمل والجهاد ماض منذ بعثني الله عز وجل إلى أن يقاتل آخر أمتي الدجال لا يبطله جور جائر ولا عدل عادل والإيمان بالأقدار وحديث مكحول عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الجهاد واجب عليكم مع كل أمير برا كان أو فاجرا قد مضى في باب الإمامة وكتاب الجنائز

18480 – حضڑت انس بن مالک فرماتے ہی:ںکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تین چیزیں ایمان کی اصل ہیں اس سے رک جانا جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافرنہ کہے عمل کی وجہ سے اسلام سے خآرج نہ کہے جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي نُشْبَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ محمد بن بكر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18480

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18508

[ 18289 ] أخبرنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان رحمه الله ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب بن يوسف أنبأ محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنبأ أبي وشعيب بن الليث قالا ثنا الليث بن سعد عن بن الهاد عن سهيل بن أبي صالح عن صفوان بن أبي يزيد عن القعقاع بن أبي اللجلاج عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم في جوف عبد أبدا ولا يجتمع الشح والإيمان في قلب عبد أبدا

18508 - حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ اس نے رسولاللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کے راستے کی غبار اور جہنم کا دھواں ایک پیٹ میں اکٹھے نہیں ہو سکتے اور بخل اور ایمان کسی آدمی کے دل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18508

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ جماع أبواب السير · حديث 18607

[ 18388 ] أخبرنا أبو سهل محمد بن نصرويه بن أحمد المروزي قدم علينا بنيسابور ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب إملاء ثنا أبو إسحاق إسماعيل بن إسحاق القاضي ثنا إبراهيم بن حمزة ثنا إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن بن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن عبد الله بن عباس رضى الله تعالى عنهما أنه أخبره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إلى قيصر يدعوه إلى الإسلام وبعث بكتابه إليه مع دحية الكلبي وأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يدفعه إلى عظيم بصرى ليدفعه إلى قيصر فدفعه عظيم بصرى إلى قيصر وكان قيصر لما كشف الله عنه جنود فارس مشى من حمص إلى إيلياء شكرا لما أبلاه الله فلما أن جاء قيصر كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين قرأه التمسوا لي ههنا أحدا من قومه أسألهم عن رسول الله قال بن عباس فأخبرني أبو سفيان أنه كان بالشام في رجال من قريش قال أبو سفيان فوجدنا رسول قيصر ببعض الشام فانطلق بي وبأصحابي حتى قدمنا إيلياء فأدخلنا عليه فإذا هو في مجلس ملكه وعليه التاج وإذا حوله عظماء الروم فقال لترجمانه سلهم أيهم أقرب نسبا إلى هذا الرجل الذي يزعم انه نبي قال أبو سفيان فقلت أنا اقربهم إليه نسبا قال ما قرابة ما بينك وبينه قال فقلت هو بن عمي قال وليس في الركب يومئذ أحد من بني عبد مناف غيري فقال قيصر أدنوه مني ثم أمر بأصحابي فجعلوا خلف ظهري عند كتفي ثم قال لترجمانه قل لأصحابه إني سائل هذا الرجل عن الذي يزعم أنه نبي فإن كذب فكذبوه قال أبو سفيان والله لولا الحياء يومئذ أن يأثر أصحابي عني الكذب كذبت عنه حين سألني عنه ولكن استحييت أن يأثروا الكذب عني فصدقته عنه ثم قال لترجمانه قل له كيف نسب هذا الرجل فيكم قال قلت هو فينا ذو نسب قال فهل قال هذا القول أحد منكم قبله قال قلت لا قال وهل كنتم تتهمونه عن الكذب قبل أن يقول ما قال قال قلت لا قال فهل من آبائه من ملك قال قلت لا قال فأشراف الناس يتبعونه أم ضعفاؤهم قال قلت بل ضعفاؤهم قال فيزيدون أم ينقصون قال قلت بل يزيدون قال فهل يرتد أحد منهم سخطة لدينه بعد أن يدخل فيه قال قلت لا قال فهل يغدر قال قلت لا ونحن الآن منه في مدة نحن نخاف أن يغدر قال أبو سفيان ولم يمكني كلمة أدخل فيها شيئا أنتقصه به لا أخاف أن تؤثر عني غيرها قال فهل قاتلتموه وقاتلكم قال قلت نعم قال فكيف كانت حربكم وحربه قال قلت كانت دولا وسجالا يدال علينا المرة وندال عليه الأخرى قال فماذا يأمركم به قال يأمرنا أن نعبد الله وحده لا نشرك به شيئا وينهانا عما كان يعبد آباؤنا ويأمرنا بالصلاة والصدق والعفاف والوفاء بالعهد وأداء الأمانة قال فقال لترجمانه حين قلت ذلك له قل له إني سألتك عن نسبه فيكم فزعمت أنه ذو نسب وكذلك الرسل تبعث في نسب قومها وسألتك هل قال هذا القول أحد منكم قبله فزعمت أن لا فقلت لو كان أحد منكم قال هذا القول قبله قلت رجل يأتم بقول قد قيل قبله وسألتك هل كنتم تتهمونه بالكذب قبل أن يقول ما قال فزعمت أن لا فعرفت أنه لم يكن ليدع الكذب على الناس ويكذب على الله وسألتك هل كان من آبائه من ملك فزعمت أن لا فقلت لو كان من آبائه ملك قلت يطلب ملك آبائه وسألتك أشراف الناس يتبعونه أم ضعفاؤهم فزعمت أن ضعفاءهم اتبعوه وهم أتباع الرسل وسألتك هل يزيدون أم ينقصون فزعمت أنهم يزيدون وكذلك الإيمان حتى يتم وسألتك هل يرتد أحد سخطة لدينه بعد أن يدخل فيه فزعمت أن لا وكذلك الإيمان حين تخالط بشاشته القلوب لا يسخطه أحد وسألتك هل يغدر فزعمت أن لا وكذلك الرسل لا يغدرون وسألتك هل قاتلتموه وقاتلكم فزعمت أن قد فعل وأن حربكم وحربه يكون دولا يدال عليكم المرة وتدالون عليه الأخرى وكذلك الرسل تبتلى وتكون لها العاقبة وسألتك بماذا يأمركم فزعمت أنه يأمركم أن تعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وينهاكم عما كان يعبد آباؤكم ويأمركم بالصلاة والصدق والعفاف والوفاء بالعهد وأداء الأمانة وهذه صفة نبي قد كنت أعلم أنه خارج ولكن لم اظن أنه منكم وإن يكن ما قلت حقا فيوشك أن يملك موضع قدمي هاتين ولو أرجو ان أخلص إليه لتجشمت لقيه ولو كنت عنده لغسلت عن قدميه قال أبو سفيان ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمر به فقرىء فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد فإني أدعوك بدعاية الإسلام أسلم تسلم يؤتك الله أجرك مرتين وإن توليت فعليك إثم الأريسيين و { يا أهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم أن لا نعبد إلا الله ولا نشرك به شيئا ولا يتخذ بعضنا بعضا أربابا من دون الله فإن تولوا فقولوا شهدوا بأنا مسلمون } قال أبو سفيان فلما أن قضى مقالته علت أصوات الذين حوله من عظماء الروم وكثر لغطهم فلا أدري ماذا قالوا وأمر بنا فأخرجنا فلما أن خرجت مع أصحابي وخلوت بهم قلت لهم لقد أمر أمر بن أبي كبشة هذا ملك بني الأصفر يخافه قال أبو سفيان والله ما زلت ذليلا مستيقنا بأن أمره سيظهر حتى أدخل الله قلبي الإسلام وأنا كاره رواه البخاري في الصحيح عن إبراهيم بن حمزة وأخرجه مسلم من وجه آخر عن إبراهيم بن سعد قال الشافعي رحمه الله فأغزى أبو بكر رضى الله تعالى عنه الشام على ثقة من فتحها لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم ففتح بعضها وتم فتحها في زمن عمر رضى الله تعالى عنه وفتح عمر رضى الله تعالى عنه العراق وفارس قال الشيخ وهذا الذي ذكره الشافعي بين في التواريخ وسياق تلك القصص مما يطول به الكتاب قال الشافعي رضى الله تعالى عنه فقد أظهر الله جل ثناؤه دينه الذي بعث به رسول الله صلى الله عليه وسلم على الأديان بأن أبان لكل من سمعه أنه الحق وما خالفه من الأديان باطل وأظهره بأن جماع الشرك دينان دين أهل الكتاب ودين الأميين فقهر رسول الله صلى الله عليه وسلم الأميين حتى واتوه بالإسلام طوعا وكرها وقتل من أهل الكتاب وسبى حتى دان بعضهم الإسلام وأعطى بعض الجزية صاغرين وجرى عليهم حكمه صلى الله عليه وسلم وهذا ظهور الدين كله قال الشافعي رحمه الله وقد يقال ليظهرن الله دينه على الأديان حتى لا يدان الله إلا به وذلك متى شاء الله عز وجل

18607 - حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے قیصر روم کی طرف حضرت وحیہ قلبی کو اسلام کی دعوت کے لیے خط دےکر بھیجا او ران سے فرمایا کہ اسے بصرہ کے امیر کو پہنچاؤ تاکہ وہ اسے قیصر روم تک پہنچا دے اور قیصر سے جب اللہ رب العزت نے فارس کے لشکروں کو دور کر دی اتو وہ حمص سے ایلیا کی جانب شکرانے کے طور پر چلا جو اللہ رب العزت نے اس کو کامیابی دی تھی جبقیصر کے پاس نبی ﷺ کا خط آیا اس نے خط پڑھا تو اس نے کہا: ان کی قومکوا کوئی آدمی تلاش کر کے میرے پاس لاؤ میں اس سے رسول اللہﷺ کے بارے میںپوچھ لوں حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ابو سفیان نے مجھے بتایا کہ وہ شام میں قریشی آدمیوں کے ستاھ تھےا بو سفیان کہتے ہیں قیسر کے قاصد نے ہمیںتلاش کر لیا وہ مجھے او رمیرے ستاھئوں کو لے کر ایلیا شہر میں اپنے بادشاہ کے پاس لے آیا جس پر بادشاہت کا تاج تھا اور روم کے برے برے شرفا اس کے ارد گرد موجود تھے اس نے اپنے ترجمانسے کہا ان سے پوچھو کہ جو شخص اپنے آپ کو نبی گمان کرتا ہے تم میں سے اس کا قیریبی کون ہے ؟ ابو سفیان نے کہا کہ میں نسب کے اعتبار سے اس کا قریبی ہوں ترجما نے پوچھا: تمہاری آپس میں رشتہ داری کیا ہے ابو سفیان کہتے ہیں میں نے کہا: وہ میرے چچا کا بیٹا ہے کیونکہا س دن قفلہ میں میرے علاوہ بنو عبد مناف کا کوئی شخص نہ تھا قیصر نے کہا: اس کو میر قریب کرو پھر میرے ستاھیوں کو میرے پیچجے کندھے کے برابر کھرا کر دیا او رپھر ےتر ھمان سے کہا کہ اس کے ساتھیوں سے کہہدو کہ میں اس سے اس شخص کے بارے میں جو اپنے آپ کو یہی خیال کرتا ہے سوال کرنے لگا ہو اگر جھوٹ بولے تو تم اس کی تکذیب کر دینا ابو سفیان کہتے ہیں اللہ کی قسم اگر حیانہ ہوتا کہ میرے تاھی میری تکذیب کر دیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔

عبد الله بن عباس رضى الله تعالى عنهما أنه ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← بن شِهَابٍ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← أبو إسحاق إسماعيل بن إسحاق القاضي ← أبو بكر محمد بن أحمد بن خنب إملاء ← أبو سهل محمد بن نصرويه بن أحمد المروزي قدم علينا بنيسابور

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Gathering the doors to walk · Hadith 18607

سنن الکبری البھیقی · كتاب المكاتب ‹ كتاب المكاتب · حديث 21608

[ 21397 ] أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو ثنا أبو العباس أنبأ الربيع أنبأ الشافعي أنبأ عبد الله بن الحارث بن عبد الملك عن بن جريج أنه قال لعطاء ما الخير المال أو الصلاح أم كل ذلك قال ما نراه إلا المال قلت فإن لم يكن عنده مال وكان رجل صدق قال ما أحسب خيرا إلا ذلك المال والصلاح قال وقال مجاهد إن علمتم فيهم خيرا المال كائنة أخلاقهم واديانهم ما كانت قال الشافعي رحمه الله الخير كلمة يعرف ما أريد بها بالمخاطبة بها قال الله تعالى { إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات أولئك هم خير البرية } فعقلنا أنهم خير البرية بالإيمان وعمل الصالحات لا بالمال وقال الله تعالى { والبدن جعلناها لكم من شعائر الله لكم فيها خير } فعقلنا أن الخير المنفعة بالأجر لا أن في البدن لهم مالا وقال عز وجل { إذا حضر أحدكم الموت إن ترك خيرا } فعقلنا أنه إن ترك مالا لأن المال المتروك ويقوله { الوصية للوالدين والأقربين } فلما قال الله تعال { فكاتبوهم إن علمتم فيهم خيرا } كان أظهر معانيها بدلالة ما استدللنا به من الكتاب قوة على اكتساب المال وأمانة لأنه قد يكون قويا فيكتسب فلا يؤدي إذا لم يكن ذا أمانة وأمينا فلا يكون قويا على الكسب فلا يؤدي قال الشافعي رحمه الله وليس الظاهر من القول إن علمت في عبدك مالا بمعنيين أحدهما أن المال لا يكون فيه إنما يكون عنده ولكن يكون فيه الاكتساب الذي يفيد المال والثاني أن المال الذي في يده لسيده قال ولعل من ذهب إلى أن الخير المال أنه أفاد بكسبه مالا للسيد فيستدل على أنه يفيد ما لا يعتق به كما أفاد أولا

21610 - ابو صالح اللہ کےا سقول کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ادا کرنا اور امانت ہے ۔

بن جُرَيْجٍ ← أبو العباس أنبأ الربيع أنبأ الشافعي أنبأ عبد الله بن الحارث بن عبد الملك ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book offices › Book offices · Hadith 21608

سنن الکبری البھیقی · كتاب الصداق ‹ جماع أبواب الوليمة · حديث 14548

[ 14325 ] أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا بن نمير عن الأعمش عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه في قصة البداية بالخطبة عن أبي سعيد الخدري رضى الله تعالى عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من رأى منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح من حديث الأعمش كما مضى

حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو کوئی برائی کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے روکے اگر ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ ہوتو زبان سے منع کرے اگر زبان سے منع کرنے کی طاقت بھی نہ ہو تو دل سے منع کرے یہ ایمان کی کمزور تری درجہ ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ ← أبيه في قصة البداية بالخطبة ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← بن نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أبو الحسين بن بشران أنبأ إسماعيل بن محمد الصفار

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Dowry Book › Intercourse with the doors of the banquet · Hadith 14548

سنن الکبری البھیقی · كتاب المرتد ‹ كتاب المرتد · حديث 16849

[ 16626 ] أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن وأبو زكريا بن أبي إسحاق وأبو سعيد بن أبي عمرو قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا بحر بن نصر ثنا بن وهب أخبرني بن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة بن الزبير أن أبا بكر الصديق رضى الله تعالى عنه أمر خالد بن الوليد حين بعثه إلى من ارتد من العرب أن يدعوهم بدعاية الإسلام وينبئهم بالذي لهم فيه وعليهم ويحرص على هداهم فمن أجابه من الناس كلهم أحمرهم وأسودهم كان يقبل ذلك منه بأنه إنما يقاتل من كفر بالله على الإيمان بالله فإذا أجاب المدعون إلى الإسلام وصدق إيمانه لم يكن عليه سبيل وكان الله عز وجل هو حسيبه ومن لم يجبه إلى ما دعاه إليه من الإسلام ممن يرجع عنه أن يقتله

16849 – عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ جب ابوبکر نے خالد ن ولید کو مرتد کی سر کو بی کے لیے روانہ کیا تو فرمایا: انہیں پہلے اسلام کی دوت دینا انہیں احساس دلانا اور انکی ہدایت کی کوشش کرنا اور جو سمجھ جائے واپس لوٹ ائے اس سے قبول کرنا لڑنا ان کے خلاف جو ایمان لانے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کر رہے ہیں اور جو اسلام قبول کر لے تو اس کاراستہ چھوڑ دینا ان کا حساب اللہ پر ہے اور جو زمانہ اس سے قتال کرنا۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← بن لهيعة ← بن وَهْبٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Apostate Book › The Apostate Book · Hadith 16849

سنن الکبری البھیقی · كتاب المرتد ‹ كتاب المرتد · حديث 16896

[ 16673 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ عبد الرحمن بن حمدان الجلاب بهمذان ثنا هلال بن العلاء الرقي ثنا أبي ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الكريم عن أبي عبيدة بن محمد بن عمار بن ياسر عن أبيه قال أخذ المشركون عمار بن ياسر فلم يتركوه حتى سب النبي صلى الله عليه وسلم وذكر آلهتهم بخير ثم تركوه فلما أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما وراءك قال شر يا رسول الله ما تركت حتى نلت منك وذكرت آلهتهم بخير قال كيف تجد قلبك قال مطمئنا بالإيمان قال إن عادوا فعد

عمار بن یاسر فرماتے ہیں کہ مجھے مشرکین نے پکڑ لیا اور انہوں نے اسوقت تک نہ چھوڑا جب تک میں نے نبی ﷺ کو برا اور ان کے الہوں کو اھچا نہ کہہ دیا جب میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا : کیا ہوا؟ میں نے کہا: بہت برا میں نےآپﷺ کے بارے میں برا اور ان کے الہٰ کے بارے میں اچھا نہ کہہ دیا تب تک انہو نے مجھے نہیں چھوڑا فرمایا: تیسرے دل کی کیا حالت تھی کہا: ایمان پر مطمئن تھا تو فرمایا: کوئی حرج نہیں اگر وہ دوبارہ ایسا کریں تو وت بھی کر دینا۔

شَرٌّ ← مَا وَرَاءَكَ، ← آلهتهم بخير ثم تركوه فلما أتى رسول الله ← أخذ المشركون عمار بن ياسر فلم يتركوه حتى سب النبي ← أَبِيهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبِي ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ عبد الرحمن بن حمدان الجلاب بهمذان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Apostate Book › The Apostate Book · Hadith 16896

سنن الکبری البھیقی · كتاب المرتد ‹ كتاب المرتد · حديث 16899

[ 16676 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو الحسن بن عبدوس الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن بن عباس في قوله إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان قال أخبر الله سبحانه إنه من كفر بعد إيمانه فعليه غضب من الله وله عذاب عظيم فأما من أكره فتكلم بلسانه وخالفه قلبه بالإيمان لينجو بذلك من عدوه فلا حرج عليه إن الله سبحانه إنما يأخذ العباد بما عقدت عليه قلوبهم

16899 – ابن عباس فرماتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے اللہ نے اس میں یہ بتانا ہے کہ جو اسلام کے بعد دین تبدیل کرے تو اس پر اللہ کا غضب ہے اور عذبا عظیم ہے لیکن جس کو مجبور کیا جائے اور وہ صرف ان کا نجات حاصل کرنے کے لیے زبان سے کچھ کہہ دے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات پر پکڑتے ہیں جو بندہ دل سے کرتا ہے ۔

بن عباس في قوله إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو الحسن بن عبدوس الطرائفي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Apostate Book › The Apostate Book · Hadith 16899

سنن الکبری البھیقی · كتاب المرتد ‹ كتاب المرتد · حديث 16900

[ 16677 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني حدثني أبي ثنا أبو همام ثنا محمد بن بشر العبدي قال سمعت سفيان بن سعيد يذكر عن بن جرير قال حدثني عطاء عن بن عباس إلا أن تتقوا منهم تقاة آل قال والتقاة التكلم باللسان والقلب مطمئن بالإيمان ولا يبسط يده فيقتل ولا إلى إثم فإنه لا عذر له

16900 – ابن عباس فرماتے ہیں : فرمایا: کا معنی ہے زبان سے بولنا اور دل کا ایمان پر مطمئن رہنا۔

بن عباس إلا أن تتقوا منهم تقاة آل ← عَطَاءٍ، ← بن جرير ← سفيان بن سعيد يذكر ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ، ← أَبِي ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Apostate Book › The Apostate Book · Hadith 16900

سنن الکبری البھیقی · كتاب الأشربة والحد فيها ‹ كتاب الأشربة والحد فيها · حديث 17339

[ 17116 ] أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن وأبو زكريا بن أبي إسحاق قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنبأ بن وهب أخبرني يونس بن يزيد عن بن شهاب قال حدثني أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام أن أباه قال سمعت عثمان بن عفان رضى الله تعالى عنه يقول اجتنبوا الخمر فإنها أم الخبائث إنه كان رجل ممن خلا قبلكم يتعبد ويعتزل الناس فعلقته امرأة غوية فأرسلت إليه جاريتها فقالت إنا ندعوك لشهادة فدخل معها فطفقت كلما دخل باب أغلقته دونه حتى أفضى إلى امرأة وضيئة عندها غلام وباطية خمر فقال أني والله ما دعوتك لشهادة ولكن دعوتك لتقع علي أو تقتل هذا الغلام أو تشرب الخمر فإنها لا تجتمع هي والإيمان أبدا إلا أوشك أحدهما أن يخرج صاحبه

17339 – حضرت عثمان بن عفان فرماتے ہیں: تم شراب سے بچو یہ شراب خبیث چیزوں کی ماں ہے تم سے پہلے آدمی تبادت کرتا تھا اور لوگوںست الگ تگلگ رہتا اس کو بای عورت اتھوا لی ااوراس کی طرف اپنی لونڈی کو بھیجا کہ ہم آپ کو شہادت کے لیے بلا رہے ہیں وہ آگی اتو جب وہ دروازوں میں داخل ہوا تو تمام دروازت بند کر لیتے اور میں نے تمہیں شہادت کے لیے نہیں بلایا بلکہ اس یے بلای کہ ان تین کاموں سے ایک کام کر لو یا میرے ساتھزنا یا اس بچے کو قتل یا شراب پی لو تو اس نے شراب پی اور بہت زیادہ پیتو زنادہ بھی کر بیٹھا اور بچے کو بھی قتل کر دیا۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book of drinks and limit them › Book of drinks and limit them · Hadith 17339

سنن الکبری البھیقی · كتاب الضحايا ‹ جماع أبواب كسب الحجام · حديث 19703

[ 19487 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنبأ أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن بن عباس رضى الله تعالى عنه في قوله { كل ذي ظفر } قال هو البعير والنعامة وفي قوله { إلا ما حملت ظهروهما } يعني ما علق بالظهر من الشحم أو { الحوايا } وهو المبعر وبمعناه رواه بن أبي نجيح عن مجاهد من قوله في تفسير { كل ذي ظفر } والحوايا وقد مضى في الحديث الثابت عن عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه وغيره عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال لعن الله اليهود حرمت عليهم الشحوم فجملوها فباعوها وأكلوا أثمانها قال الشافعي رحمه الله فلم يزل ما حرم الله عز وجل على بني إسرائيل اليهود خاصة وغيرهم عامة محرما من حين حرمه حتى بعث الله عز وجل محمدا صلى الله عليه وسلم ففرض الإيمان به وأعلم خلقه أن دينه الإسلام الذي نسخ به كل دين قبله فقال إن الدين عند الله الإسلام وأنزل في أهل الكتاب من المشركين { قل يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم } وأمر بقتالهم { حتى يعطوا الجزية } إن لم يسلموا وأنزل فيهم { الذين يتبعون الرسول النبي الأمي الذي يجدونه مكتوبا عندهم في التوراة والإنجيل يأمرهم بالمعروف وينهاهم عن المنكر ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث ويضع عنهم إصرهم والأغلال التي كانت عليهم } قال الشافعي رحمه الله فقيل والله أعلم أوزارهم وما منعوا بما أحدثوا قبل ما شرع من دين محمد صلى الله عليه وسلم

19703 - ابن عبا س کے بارے میںٖ رماتے ہیں کہ اس سے مراد اونٹ او رشتر مرغ ہے او رلالہ کافرمانے وہ پشت کی چربی یا آنتوں کی چربی ہے ۔ مجاہد فرماتے ہیں : نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ پر یہود پر لعنت کرتے ہیں کہ اللہ نے ان پر چربی حرام کی لیکن انہوں نےا سکو پگھلایا اور فروخت کیا اور اس کی قیمت کو کھایا۔

بن عباس رضى الله تعالى عنه في قوله ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق أنبأ أبو الحسن الطرائفي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Victims Book › Intercourse the doors of gaining hijam · Hadith 19703

سنن الکبری البھیقی · كتاب السبق والرمي ‹ کتاب السبق والرمی · حديث 19736

[ 19520 ] حدثنا أبو بكر بن فورك رحمه الله أنبأ عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا الأشعث بن سعيد ثنا عبد الله بن بسر عن أبي راشد الحبراني عن علي رضى الله تعالى عنه قال عممني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم بعمامة سدلها خلفي ثم قال إن الله أمدني يوم بدر وحنين بملائكة يعتمون هذه العمة وقال إن العمامة حاجزة بين الكفر والإيمان ورأى رجلا يرمي بقوس فارسية فقال ارم بها ثم نظر إلى قوس عربية فقال عليكم بهذه وأمثالها ورماح القنا فإن بهذه يمكن الله لكم في البلاد ويؤيدكم في النصر أشعث هو أبو الربيع السمان وليس بالقوي وخالفه إسماعيل بن عياش فرواه عن عبد الله بن بسر هذا عن عبد الرحمن بن عدي البهراني عن أخيه عبد الأعلى عن النبي صلى الله عليه وسلم منقطعا وعبد الله بن بسر هذا ليس بالقوي قاله أبو داود السجستاني وغيره

19736 - حضرت علی فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے عذر خم کے دن پگڑی پہنائی اور اس کا ایک کنارہ میرے پیچھے کی جانب لٹکا دیا پھر فمایا: اللہ نے بدر او رحنین کی دن ایسی پگڑی پہنے ہوئے فرشتوں سے میری مدد فرمائی اور فرمایا کہ یہ عمامہ کفر و ایمان کے درمیان رکاوٹ ہے اور آپﷺ نےا یک آدمی کو دیکھ اجو فارسی کمان سے تیر اندازی کر رہا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: تیر اندازی کرو پھر آپ نے عربی کمان دیکھی تو فرمایا: اس جیسی یا اس کو لازم پکڑو اور نیزے جس کی وجہ سے اللہ تمہں شہروں پر غلبہ دیں گے اور تمہارے دشمنو کے خلاف تمہاری مدد فرمائیں گے ۔

أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← الْأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← أبو بكر بن فورك أنبأ عبد الله بن جعفر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · A scoop book › The book of the scoop · Hadith 19736

سنن الکبری البھیقی · كتاب الأيمان ‹ كتاب الأيمان · حديث 19881

[ 19666 ] وأما الأثر الذي أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي وأبو بكر بن الحارث الأصبهاني الفقيه قالا أنبأ علي بن عمر الحافظ ثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز ثنا خلف بن هشام ثنا عبثر عن غيث عن حماد عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال الأيمان أربعة يمينان تكفران ويمينان لا تكفران فالرجل يحلف والله لا يفعل كذا وكذا فيفعل والرجل يقول والله أفعل فلا يفعل وأما اليمينان اللذان لا تكفران فإن الرجل يحلف ما فعلت كذا وكذا وقد فعله والرجل يحلف لقد فعلت كذا وكذا ولم يفعله فهكذا رواه عبثر بن القاسم عن ليث بن أبي سليم وخالفه سفيان الثوري فرواه عن ليث عن زياد بن كليب أبي معشر عن إبراهيم من قوله وهو أشبه

19881 - علقمہ حضرت عبداللہ سے نقل فر ماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں دوکا کفارہ ہوتا ہے اور دوکا کفارہ نہیں ہوتا ایک آدمی قسم اٹھاتا ہے یوں کرے گا ایسے نہیں کرے گا دوسرا آمدی وہ کہتا اس طرح کروں گا یکن کرتا نہیں جن قسموں کا کفارہ نہیں آدمی قسم اٹھاتا ہے میں ایسے نہیں کروں گا لیکن کر گزتا ہے دوسرا آدمی جو کہتا ہے اللہ کی قسم میں ایسے ککروں گا لیکن کرت ا نہیں۔

أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ ← وأما الأثر الذي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 19881

سنن الکبری البھیقی · كتاب الأيمان ‹ كتاب الأيمان · حديث 19882

[ 19667 ] أخبرناه أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا روح عن الثوري عن ليث ثنا زياد بن كليب عن إبراهيم قال الأيمان أربع يمينان يكفران ويمينان لا يكفران قول الرجل والله ما فعلت والله لقد فعلت ليس في شيء منه كفارة إن كان تعمد شيئا فهو كذب وإن كان يرى أنه كما قال فهو لغو وقول الرجل والله لا أفعل ووالله لأفعلن فهذا فيه كفارة قال الشيخ وليث وحماد بن أبي سليمان غير محتج بهما والله أعلم وروي من وجه وروي من وجه آخر عن بن مسعود

19882 - ابراہیم فرماتے ہیں کہ قسم کی چار اقسام ہیں دو کا کفارہ ہوتا ہے دو کا نہیں آدمی کا کہنا اللہ کیقسم میں نہیں کروں گا اگر میں نے کر لی اتو کفارہ نہ ہوگا اگر وہ نے جان بوجھ کر کیا تو وہ جھوٹا ہے اگر ویسے ہی ہے جس برح اس کا خیال تھا تو وہ قسم لغو ہے اور آدمی کا یہ کہنا کہ میں ایسے نہکروں گا اللہ کی قسم میں ایسے بالکل نہ کروں گا تو اس میں کفارہ ہے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ ← لَيْثٌ، ← الثَّوْرِيُّ ← رَوْحٌ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 19882

سنن الکبری البھیقی · كتاب الأيمان ‹ كتاب الأيمان · حديث 19912

[ 19697 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي وأبو بكر بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنبأ بن وهب قال سمعت يحيى بن عبد الله بن سالم يحدث عن إسماعيل بن رافع عن خالد بن سعيد عن عقبة بن عامر أنه قال أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من نذر نذرا لم يسمعه فكفارته كفارة يمين كذا قال خالد بن سعيد وأظنه خالد بن زيد الذي يروي عن عقبة حديث الرمي والرواية الصحيحة عن أبي الخير عن عقبة بن عامر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفارة النذر كفارة اليمين وذلك محمول عند أهل العلم على نذر اللجلاج الذي يخرج مخرج الأيمان والله أعلم

عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے جس نے نذر مانئ لیکن نام نہ لیا اس پر قسم کا کفارہ ہے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← عقبة حديث الرمي والرواية الصحيحة ← خالد بن سعيد وأظنه خالد بن زيد الذي يروي ← من نذر نذرا لم يسمعه فكفارته كفارة يمين كذا ← أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ ← خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ رَافِعٍ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، ← محمد بن عبد الله بن عبد الحكم أنبأ بن وهب ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي وأبو بكر بن الحسن القاضي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Faith › The Book of Faith · Hadith 19912

chevron_left Previous
1…353637…484
Next chevron_right