Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7312

7312 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدَ طَعْمَ الْإِيمَانِ فَلْيُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7312 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ایمان کی حلاوت محسوس کرنا چاہتا ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ فقط اللہ تعالی کی رضا کی خاطر محبت کرے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عُمَرَ بْنَ مَيْمُونٍ، ← أَبِي بَلْجٍ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Righteousness and Prayer › The merits of all Arabs · Hadith 7312

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7325

7325 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمٍ الْأَصْفَهَانِيُّ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَقِسِّيسِيهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ، وَرَأَى الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ وَرُبَّانِيهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ، فَقَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ تَفْعَلُونَ هَذَا؟ قَالُوا: هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ. قُلْتُ: فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ، لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عَظِيمِ حَقِّهِ عَلَيْهَا، وَلَا تَجِدُ امْرَأَةٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7325 - على شرط البخاري ومسلم

حضڑت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ ملک شام میں گئے تو انہوں نے دیکھا وہاں پر نصاری اپنے اساقفہ قسیسین اور بطارق کو سجدے کرتے ہیں اور یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے احبار ، رہبان ، ربا نیین ، علماء ، اور فقہا ء کو سجدے کرتےہیں ۔ آپ نے پوچھا کہ وہ لوگ ان کو سجدےکیوں کرتے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ انبیاء کی عبادت کا طریقہ ہے میں کہا : تب تو ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ ہم اپنے نبی کی کے ساتھ ایسا کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا : انہوں نے اپنے نبیوں کے بارے میں جھوٹ بولا ہے جیسا کہ انہوں نے ان کی کتابوں میں تحریف کی ہے ۔ اگر میں کسی غیر اللہ کو سجدہ کرنے کی اجازت دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر سجدہ کرے کیونکہ اس پر شوہر کا بہت حق ہے ۔ اور کوئی عورت عبادت کی حلاوت نہیں پا سکتی جب تک وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کر ے ، اگرچہ شوہر اپنی بیوی کی خواہش اس حال میں کرے جب کہ وہ عورت کجاوہ میں بیٹھی ہو ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← أَبِي ← معاذ بن هشام الدستوائي ← أَحْمَدُ بْنُ مَهْدِيِّ بْنِ رُسْتُمٍ الْأَصْفَهَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Righteousness and Prayer › The merits of all Arabs · Hadith 7325

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ اللِّبَاسِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7372

7372 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثَنَا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ مِنْ حُلَلِ الْإِيمَانِ يَلْبَسُ أَيَّهَا شَاءَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7372 - صحيح

حضرت سہل بن معاذبن انس جہنی اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص استطاعت کے باوجود محض اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کے طور پر فاخرانہ لباس ترک کرتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کو تمام مخلوقات کے سامنے بلائے گا اور ایمان کے لباس اس کے سامنے رکھ کر اس کو فرمائے گا کہ ان میں سے جو چاہے پہن لے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← سعيد بن أيوب ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The clothing book › The merits of all Arabs · Hadith 7372

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2614

2614 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ أَتَاهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّا حُلَفَاؤُكَ وَقَوْمُكَ وَإِنَّهُ لَحِقَ بِكَ أَرِقَاؤُنَا لَيْسَ لَهُمْ رَغْبَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، وَإِنَّمَا فَرُّوا مِنَ الْعَمَلِ، فَارْدُدْهُمْ عَلَيْنَا، فَشَاوَرَ أَبَا بَكْرٍ فِي أَمْرِهِمْ فَقَالَ: صَدَقُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ لِعُمَرَ: «مَا تَرَى؟» فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ رَجُلًا مِنْكُمُ امْتَحَنَ اللَّهُ قَلْبَهُ لِلْإِيمَانِ، فَيَضْرِبَ رِقَابَكُمْ عَلَى الدِّينِ» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا» قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ خَاصِفُ النَّعْلِ فِي الْمَسْجِدِ» وَقَدْ كَانَ أَلْقَى نَعْلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَخْصِفُهَا ثُمَّ قَالَ: " أَمَا إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا تَكْذِبُوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَيَّ يَلِجِ النَّارَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2614 - على شرط مسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر کچھ قریشی لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آ کر عرض کرنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے حلیف ہیں ، ہمارے کچھ غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں شرکت اختیار کر چکے ہیں جبکہ ان کو اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ، وہ لوگ محض کام سے بھاگتے ہیں ، اس لیے ان کو ہماری طرف لوٹادیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید کی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرشیو! میں تم پر ایک ایساشخص نگران مقرر کروں گا ، اللہ نے جس کا دل ایمان کے لئے آزمالیا ہے ۔ وہ دین کے معاملے میں تمہاری گردنیں مارے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ بولے : یا رسول اللہ ! کیا وہ شخص’’ میں‘‘ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ کیا و ہ شخص میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ۔ بلکہ وہ مسجد میں جوتے سلائی کر نیوالا شخص ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنےنعلین حفاظت کے لئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کودے دیا کرتے تھے ۔ پھر حضرت علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادسنایا :علی کومت جھٹلاؤ کیونکہ جوشخص علی کو جھٹلائے وہ جہنمی ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔

عَلِيٍّ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← ابْنُ أَبِي غَرْزَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Category of the Category Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2614

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2694

2694 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ، وَأَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَنْكَحَ لِلَّهِ، فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2694 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت انس جہنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ کی رضا کی خاطر دے، اسی کی رضا کے لئے منع کرے، اسی کی رضا کے لیے کسی سے محبت کرے ،اسی کی رضا کے لیے بغض رکھے اور اسی کی رضا کے لئے نکاح کرے تو اس نے اپنا ایمان کا مل کر لیا ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن دونوں نے ہی اس سے نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ وَهُوَ ابْنُ أَنَسٍ الْجُهَنِيُّ، ← أَبِي مَرْحُومٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عِصْمَةُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Marriage Book › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2694

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 169

169 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ كَفَرَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَإِنَّمَا أَوْدَعْتُهُ كِتَابَ الْإِيمَانِ لِلَفْظِ الشِّرْكِ فِيهِ، وَفِي حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ» فَقَدْ كَفَرَ " فَأَمَّا الشَّيْخَانِ فَإِنَّمَا أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ سَالِمٍ وَنَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعُمَرَ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ» فَقَطْ، وَهَذَا غَيْرُ ذَاكَ "

اس سند کے ساتھ بھی مذکورہ حدیث مروی ہے تاہم اس میں"شرک‘‘ کی بجائے "کفر "کے الفاظ ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری ؒ اور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے نقل نہیں کیا ہے اور کیونکہ اس میں شرک کے الفاظ موجود ہیں اس لئے میں نے یہ حدیث" کتاب الایمان "میں ذکر کی ہے اور یہی حدیث مصعب بن المقدام سے بھی منقول ہے البتہ اس میں ”فقد کفر“ کے الفاظ ہیں جبکہ شیخین ؒنے اس حدیث کو سالم نافع اور عبد الله بن دینار کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمرؓسے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺنے حضرت عمرؓ سے فرمایا :الله تعالیٰ تمہیں اپنے آبا کی قسمیں کھانے سے منع کرتا ہے (شیخین ؒ کی روایت صرف یہیں تک ہے اس میں شرک اور کفر کے الفاظ نہیں ہیں ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں اور گزشتہ حدیث میں فرق ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 169

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 170

170 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِيُّ وَالْحَيَاءُ: شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْجَفَاءُ: شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ «.» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا "

حضرت ابو امامہ باہلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: عجز اور حیاء ایمان کی شاخیں ہیں جبکہ بے حیائی اورظلم نفاق کی شاخیں ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی ہے جو کہ امام بخاری ؒ اور مسلمؒ دونوں کے معیار پر"صحیح " ہے۔ (شاہد حدیث درج ذیل ہے)

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← أبو غسان، ← سعيد بن أبي مريم المصري ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 170

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 171

171 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ بِالطَّابِرَانِ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، قَالَا: ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ» . «وَلَهُ شَاهِدٌثَانٍ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 171 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کا باعث ہے اور بے حیائی ظلم ہے او ظلم جہنم میں جانے کا سبب ہے۔: اس حدیث کی ایک اور حدیث بھی شاہد ہے (جو کہ درج ذیل ہے) اور یہ امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق ہے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 171

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 172

172 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ»

مذ کورہ سند کے ہمراہ بھی یہ حدیث منقول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 172

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 205

205 - حَدَّثَنَا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُعَيْمٍ الْمَدَنِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ الْحِمَارَ، وَيَلْبَسُ الصُّوفَ، وَيَعْتَقِلُ الشَّاةَ، وَيَأْتِي مُرَاعَاةَ الضَّيْفِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُهُ فِي هَذِهِ الْمَوَاضِعِ لِأَنَّ هَذِهِ الْخَلَّالَ مِنَ الْإِيمَانِ وَلَهُ شَاهِدٌ يَنْفَرِدُ بِهِ زَبَّانُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺگدھے پر سواری کر لیا کرتے تھے، اونی لباس پہن لیتے تھے (خود اپنے ہاتھ سے ) بکریوں کا دودھ دوھ لیا کرتے تھے اور مہمان کی عزت کیا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلمؒ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ میں نے اس حدیث کو کتاب الایمان میں اس لئے ذکر کیا ہے کہ یہ عادات ایمان کی علامات میں سے ہیں۔ اس حدیث کی ایک شاہد حدیث ہے جس میں"زبان بن فائد"منفرد ہیں لیکن شیخینؒ نے اسے نقل نہیں کیا۔ (شاہد حدیث درج ذیل ہے)

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← شيبان أبو معاوية ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُعَيْمٍ الْمَدَنِيُّ، ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 205

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 206

206 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَرَكَ اللِّبَاسَ وَهُوَقَادِرٌ عَلَيْهِ تَوَاضُعًا لِلَّهِ دَعَاهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ، حَتَّى يُخَيَّرَ فِي حُلَلِ الْإِيمَانِ يَلْبَسُ أَيَّهَا شَاءَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 206 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت سھل بن معاذ بن انس الجھنی ؓنے اپنے والد کے حوالے سے رسول اللہ ﷺکا یہ فرمان نقل کیا ہے: جس شخص نے اچھا لباس پہنے پر قادر ہونے کے باوجود صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے خوش لباسی ترک کی ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کو تمام مخلوقات کے سامنے(عزت دے گا )اور اسے اس بات کا اختیار دیا جائے گا کہ ایمان کے حلوں میں سے جو چاہے پہن لے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 206

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 212

212 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ يُجَالِسُ أَبَا ذَرٍّ، قَالَ: فَجَمَعَ حَدِيثًا فَلَقِيَ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى وَحَوْلَهُ النَّاسُ، قَالَ: فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ حَتَّى مَسَّتْ رُكْبَتِي رُكْبَتَيْهِ، فَنَسِيتُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ وَتَفَلَّتَ مِنِّي كُلُّ شَيْءٍ أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَجَعَلْتُ أَتَذْكُرُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلَ بِهِ الْعَبْدُ دَخَلَ الْجَنَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُؤْمِنُ بِاللَّهِ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا؟ قَالَ: «يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَ مُعْدَمًا لَا شَيْءَ لَهُ؟ قَالَ: «يَقُولُ مَعْرُوفًا بِلِسَانِهِ» قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ عَيِيًّا لَا يَبْلُغُ عَنْهُ لِسَانُهُ؟ قَالَ: «فَلْيُعِنْ مَغْلُوبًا» قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا قُوَّةَ لَهُ؟ قَالَ: «فَلْيَصْنَعْ لِأَخْرَقَ» قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ أَخْرَقَ؟ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: «مَا تُرِيدُ أَنْ تَدَعَ فِي صَاحِبِكَ خَيْرًا؟» قَالَ: «يَدَعُ النَّاسَ مِنْ أَذَاهُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا لَيَسِيرٌ كُلُّهُ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْهُنَّ خَصْلَةٌ يَعْمَلُ بِهَا عَبْدٌ يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أَخَذَتْ بِيَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَمْ تُفَارِقْهُ حَتَّى تُدْخِلَهُ االْجَنَّةَ» . " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ فِي كِتَابِهِ بِأَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ وَاسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ وَهُوَ تَابِعِيٌّ مَعْرُوفٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو كَثِيرٍ الْأَعْمَى، وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 212 - على شرط مسلم

ابوکثیر الز بیدی کے والد حضرت ابوذرؓ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے اور احادیث جمع کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوذر ؓ سے ملاقات کے لئے گئے تو وہ"جمرہ وسطی‘‘کے پاس تشریف فرما تھے اور ان کے اردگرد بہت سارے لوگ جمع تھے ( ابو کثیر الزبیدی کے والد) کہتے ہیں: میں اس مجلس میں حضرت ابوذر ؓکے اتنے قریب جا کر بیٹھا کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں سے لگ رہے تھے(ان کے پاس بیٹھتے ہی میں جو کچھ سو چ کر آیا تھا سب کچھ بھول گیا اور ) کچھ یاد نہ رہا کہ میں کیا سوال کرنا چاہتا تھا ، میں آسمان کی طرف چہرہ کر کے سوچنے لگا(جب مجھے یاد آ گیا)تو میں نے کہا: اے ابوذر! آپ مجھے کوئی عمل ایسا بتادیں جس پر عمل کر کے میں جنت میں چلا جاؤں ، انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺنے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہﷺ! کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ضروری ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، اس میں سے خرچ کرو ۔ میں نے عرض کی :یارسول اللہﷺ! اگر کوئی شخص اتنا محتاج ہو کہ اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو(وہ کیا کرے؟) آپ ﷺنے فرمایا: وہ زبان سے اچھی بات کرے، میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺاگر وہ زبان سے کچھ نہ بول سکے (وہ کیا کرے ؟) آپ ﷺنے فرمایا: وہ کسی مظلوم کی مدد کر دے۔ میں نے عرض کی: اگر وہ خود کمزور و ناتواں ہو کسی کی مدد نہ کرسکتا ہو (وہ کیا کرے؟) آپ ﷺنے فرمایا :کسی کسب سے عاجز آدمی کے لئے کسب کرے، میں نے عرض کی: اگر وہ خود کسب سے عاجز ہو (وہ کیا کرے؟ )اس پر رسول اکرمﷺمیری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے : تو اپنے ساتھیوں کے لئے کوئی بھلائی نہیں چھوڑنا چاہتا؟ آپ ﷺنے فرمایا:لوگ اس عمل کو چھوڑ دیتے ہیں جو ان کو تکلیف دیتا ہے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ! میرے سوالات کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے لئے آسانی ہو جائے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، ان مذکور خصلتوں میں سے کسی پربھی بند ہ محض رضائے الہیٰ کی خاطر عمل کرے تو قیامت کے دن یہ خصلتیں اس وقت تک اس کا ہاتھ نہیں چھوڑیں گی جب تک وہ جنت میں داخل نہ ہو جائے۔

فَجَمَعَ حَدِيثًا فَلَقِيَ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى وَحَوْلَهُ النَّاسُ، ← أَبِيهِ، وَكَانَ يُجَالِسُ أَبَا ذَرٍّ، ← أَبُو كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 212

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 234

234 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ سَلَمَةَ الْجَارُودِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا الْمُؤَمَّلُ، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَفِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ، أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَوْ ذَكَرَنِي أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ «.» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَا قَوْلَهُ «مَنْ ذَكَرَنِي أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ» . وَقَدْ تَابَعَ أَبُو دَاوُدَ، مُؤَمَّلًا عَلَى رِوَايَتِهِ وَاخْتَصَرَهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 234 - صحيح الإسناد

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا: الله تعالیٰ فرمائے گا: اس شخص کو دوزخ سے نکال لو، جس نے لا الہٰ الا اللہ پڑھا اور اس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان موجود ہے، اس شخص کو دوزخ سے نکال لوجس نے لا الہٰ الا اللہ پڑھا، یا میرا ذکر کیا، یا کسی موقع پر مجھ سے ڈر گیا۔ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین ؒنے مَنْ ذَكَرَنِي أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ کے الفاظ ذکر نہیں کئے اور ابوداؤد نے مومل کی طرح یہ روایت مبارک بن فضالہ سے نقل کی ہے۔(ابوداؤد کی حدیث درج ذیل ہے)

جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ ← الْمُبَارِکُ بْنُ فَضَالَةَ ← الْمُؤَمَّلُ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← أبو بكر محمد بن النضر بن سلمة الجارودي، ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 234

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 287

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدْرِ، وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ» هَذَا آخِرُ [ص:160] كِتَابِ الْإِيمَانِ

حضرت ابو ہریرہ ؓ، عمر بن خطاب ؓکے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:اہل قدر کے ساتھ نہ بیٹھو اور نہ ان کے ساتھ راز و نیاز کی باتیں کرو۔

«لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدْرِ، وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ» هَذَا آخِرُ [ص:160] كِتَابِ الْإِيمَانِ ← النَّبِيِّ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ مَیْمُوْنِ الْحَضْرَمِیِّ ← حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ الْهُذَلِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ دِیْنَارٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 287

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 334

334 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَحدثنا أَبُو النَّصْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا، قَالَ: أَجْلِسُونِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنِ الْتَمَسَهُمَا وَجَدَهُمَا، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَيَزِيدُ بْنُ عَمِيرَةَ السَّكْسَكِيُّ صَاحِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَقَدْ شَهِدَ مَكْحُولٌ الدِّمَشْقِيُّ لِيَزِيدَ بِذَلِكَ، وَهُوَ مِمَّا يَسْتَشْهِدُ مَكْحُولٌ عَنْ يَزِيدَ مُتَابَعَةً لِأَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 334 - على شرطهما

یزید بن عمیرہ کہتے ہیں:جب معاذ بن جبلؓ کا آخری وقت قریب آیا تو لوگوں نے ان سے کہا: اے ۔ ابوعبدالرحمٰن !ہمیں کوئی وصیت کریں، آپ نے فرمایا: مجھے(اٹھا کر ) بٹھاؤ ، پھر آپ نے فرمایا علم اور ایمان اکٹھے رہتے ہیں جوان کو ڈھونڈتا ہے پالیتا ہے۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی (پھر آپ نے فرمایا )چار آدمیوں کے پاس علم تلاش کرو (۱) عویمر ابوالدرداء کے پاس (۲) سلمان فارسی کے پاس (۳) عبداللہ بن مسعود کے پاس (۴) اور عبدالله بن سلام کے پاس۔ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا ہے کہ وہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ یہ حدیث امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒدونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اور یزید بن عمرو السکسکی معاذ بن جبل ؓ کے ساتھی ہیں اور مکحول الدمشقی نے یزیدکے متعلق اس بات کی شہادت بھی دی ہے اور اس کے ساتھ مکحول نے ابوادر یسں کی متابعت میں یزید سے استشھاد کیا ہے جبکہ زہری نے ابو ادریس کے واسطے سے اس حدیث کا ایک حصہ روایت کیا ہے۔

يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّصْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 334

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 335

335 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: وَجِعَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَوْمًا وَعِنْدَهُ يَزِيدُ بْنُ عَمِيرَةَ الزُّبَيْدِيُّ فَبَكَى عَلَيْهِ يَزِيدُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي مَا كُنْتُ أَسْأَلُكَ كُلَّ يَوْمٍ يَنْقَطِعُ عَنِّي، فَقَالَ مُعَاذٌ: «إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ بَشَّاشَانِ قُمْ فَالْتَمِسْهُمَا» قَالَ يَزِيدُ: وَعِنْدَ مَنْ أَلْتَمِسُهُمَا؟ فَقَالَ مُعَاذٌ: " عِنْدَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ: إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ " قَالَ يَزِيدُ: فَقُلْتُ: وَعِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: «لَا تَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ فَإِنَّهُ عَنْكَ مَشْغُولٌ» . وَقَدْ رَوَى الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ طَرَفًا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ

مکحول کہتے ہیں:ایک دن حضرت معاذ بن جبل ؓ بیمار تھے ، ان کے پاس یزید بن عمیرہ الزبیدی موجود تھے(ان کی تکلیف دیکھ کر یزید رو پڑے، ان سے حضرت معاذؓنے کہا: آپ کیوں رورہے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے (یہ حسرت)رلا رہی ہے کہ میں روزانہ کتنے ہی مسائل آپ سے دریافت کیا کرتا تھا لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ سلسلہ ختم ہونے جارہا ہے۔ حضرت معاذ ؓ نے کہا:علم اور ایمان دونوں دوست ہیں، جاؤ ان کو تلاش کرو، یزید نے پوچھا: کس شخص کے پاس جا کر ان کو تلاش کروں؟ حضرت معاذؓ نے فرمایا: چار آدمیوں کے پاس (1) عومیر ابوالدرداء ؓ(۲) عبد اللہ بن مسعودؓ (۳) حضرت سلمان فارسی ؓ(۴) اور حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ کے پاس ۔ ان کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ بی عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ یزید کہتے ہیں : میں نے پوچھا: اور عمر بن خطاب ؓ کے پاس؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں ۔ ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال مت کرنا کیونکہ وہ امور سلطنت میں زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔ زہری نے ابو ادر یس کے حوالے سے اس حد یث کا ایک حصہ روایت کیا ہے جو کہ درج ذیل ہے۔

مُعَاذٌ، ← يُبْكِينِي مَا كُنْتُ أَسْأَلُكَ كُلَّ يَوْمٍ يَنْقَطِعُ عَنِّي، ← لَهُ مُعَاذٌ: مَا يُبْكِيكَ؟ ← عِنْدَهُ يَزِيدُ بْنُ عَمِيرَةَ الزُّبَيْدِيُّ فَبَكَى عَلَيْهِ يَزِيدُ، ← وَجِعَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَوْمًا ← مَكْحُولٌ ← النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ الْبَيْرُوتِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 335

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 336

336 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: الْعِلْمُ وَالْإِيمَانُ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا "

حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں :علم اور ایمان اپنے مقام پر ہوتے ہیں، جو ان کو ڈھونڈتا ہے وہ حاصل کر لیتا ہے۔

الْعِلْمُ وَالْإِيمَانُ مَكَانَهُمَا مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 336

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ إِسْلَامِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَاخْتِلَافُ الرِّوَايَاتِ فِي وَقْتِ إِسْلَامِهِ · حديث 5432

5432 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: أَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ؟ فَقَالَ: «مَا لَكَ وَلَهُمْ؟» قَالَ: يَلْقَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِوُجُوهٍ مُشْرِقَةٍ، فَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا أَسْفَرَ عَنْهُ، قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يَحْكُمَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يُؤْذُونَنِي فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ الرَّجُلِ صِنْوِ أَبِيهِ» هَذَا حَدِيثٌ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَيَزِيدُ، «وَإِنْ لَمْ يُخَرِّجَاهُ فَإِنَّهُ أَحَدُ أَرْكَانِ الْحَدِيثِ فِي الْكُوفِيِّينَ»

حضرت مطلب بن ربیعہ فرماتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ پریشان حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پریشان کی وجہ پوچھی ، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں اور قریش کو کیا مسئلہ ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : تمہیں اور انہیں کیا مسئلہ ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ ایک دوسرے کے ساتھ تو بہت خندہ پیشانی سے ملتے ہیں لیکن جب یہ لوگ ہم سے ملتے ہیں تو ان کے انداز درست نہیں ہوتے ۔ راوی کہتے ہیں : یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ کی وجہ سے آپ کی پیشانی پر پسینہ آ گیا ، جب آپ کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ رکھے ، پھر فرمایا : ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو عباس کے بارے میں مجھے تکلیف دیتے ہیں ۔کسی آدمی کا چچا اس کے باپ کی طرح ہوتا ہے ۔ اس حدیث کو اسماعیل بن ابی خالد نے یزید بن ابی زیاد اور یزید سے روایت کیا ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ یہ بھی کوفین کی حدیث کے ارکان میں سے ایک رکن ہے ۔

جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ وَهُوَ مُغْضَبٌ، فَقَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» فَقَالَ: ← المطلب بن ربيعة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← جَرِيرٌ ← يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the Islam of al-Abbas, may God be pleased with him, and differing narratives at the time of his conversion · Hadith 5432

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ إِسْلَامِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَاخْتِلَافُ الرِّوَايَاتِ فِي وَقْتِ إِسْلَامِهِ · حديث 5433

5433 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ الزَّاهِدُ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ قُرَيْشًا إِذَا لَقِيَ بَعْضُهَا بَعْضًا لَقُوهَا بِبِشْرٍ حَسَنٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِوُجُوهٍ لَا نَعْرِفُهَا، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبُ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ» قَدْ ذَكَرْتُ فِي مَنَاقِبِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا طَرَفًا فِي فَضَائِلِ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيَّنْتُ عِلَلَ هَذَا الْحَدِيثِ بِذِكْرِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ وَمَنْ أَسْقَطَهُ مِنَ الْإِسْنَادِ فَأَغْنَى ذَلِكَ عَنْ إِعَادَتِهِ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ "

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قریش لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بہت گرم جوشی کے ساتھ ملتے ہیں لیکن جب وہ ہم سے ملتے ہیں تو بہت بے رخی سے ملتے ہیں ۔ اس بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بہت غضبناک ہوئے اور فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے کسی انسان کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کی خاطر تم سے محبت نہ کرے گا۔ میں نے اس حدیث کا کچھ حصہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اہل بیت کے فضائل کے ابواب میں بیان کرد یا ہے اور مطلب بن ربیعہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی علت بھی بیان کر دی تھی ، اور جس نے اس کی اسناد میں ان کو ساقط کر دیا اس کو اس موقع پر اس حدیث کے اعادہ کی حاجت نہیں ہے ۔

قُلْتُ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ الزَّاهِدُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the Islam of al-Abbas, may God be pleased with him, and differing narratives at the time of his conversion · Hadith 5433

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 414

414 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدْ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ» - وَذَكَرَ الْحَدِيثَ - قَدْ ثَبَتَ صِحَّةُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ وَأَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک انصاری رضی اللہ عنہ کے جنازہ میں شرکت کے لئے گئے، ہم قبر پر پہنچ گئے لیکن ابھی تک قبر مکمل تیار نہیں ہوئی تھی۔ حضور ﷺ وہاں بیٹھ گئے اور ہم لوگ بھی آپ ﷺ کے اردگرد بیٹھ گئے ( اور یوں دم بخود بیٹھے تھے) گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں، اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی۔ کتاب الایمان میں اس حدیث کی صحت ثابت کی جاچکی ہے ۔لیکن شیخین رحمۃاللہ علیہما نے اسے روایت نہیں کیا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← زَاذَانَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ مَيْمُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَاشِمِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 414

chevron_left Previous
1…222324…484
Next chevron_right