Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَحَدِ الْفُقَهَاءِ السِّتَّةِ مِنَ الصَّحَابَةِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5183

5183 - أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَصْرٍ الْغِفَارِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْمَوْتُ قِيلَ لَهُ: أَوْصِنَا يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: " أَجْلِسُونِي، فَإِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنَ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَنَّهُ عَاشِرُ عَشْرَةٍ فِي الْجَنَّةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5183 - صحيح

یزید بن عمیر فرماتے ہیں : جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو لوگوں نے ان سے کہا : اے ابو عبدلرحمن ! آپ ہمیں کوئی وصیت فرما دیں ۔ انہوں نے کہا : مجھے بٹھاؤ (جب وہ بیٹھ گئے تو کہنے لگے )علم اور ایمان اکٹھے رہتے ہیں جو ان دونوں کو ڈھونڈتا ہے یہ اس کو مل جاتے ہیں ، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دہرائی۔ (پھر فرمایا ) چار آدمیوں کے پاس علم ڈھونڈو۔حضرت عویمر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس ۔ ( یہ پہلے یہودی تھے پھر مسلمان ہو گئے ۔ میں نے رسول اللہﷺ کو ان کے بارے میں فرماتے سنا ہے " یہ جنت میں جانے والے دس آدمیوں میں سے ایک ہیں "۔)

يَزِيدُ بْنُ عُمَيْرٍ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← اللَّيْثُ ← قتيبة بن سعد ← عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْحَافِظُ، ← أَبُو نُعَيْمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَصْرٍ الْغِفَارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of one of the six scholars of the companions Muadh bin Jabal, may God be pleased with him · Hadith 5183

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5283

5283 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَ ابْنُ جَرِيحٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ الْأَسْوَدَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ، قَالَ: فَجَلَسَ عِنْدَ قُرْبِ دَارِ سَمُرَةَ، قَالَ الْأَسْوَدُ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ، فَجَاءَهُ النَّاسُ الصِّغَارُ وَالْكُبَّارُ وَالنِّسَاءُ فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالشَّهَادَةِ، فَقُلْتُ: فَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ» فَقُلْتُ: وَمَا الشَّهَادَةُ؟ قَالَ: «شَهَادَةُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5283 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

محمد بن اسود بن حلف بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو فتح مکہ کے دن بیعت لیتے ہوئے دیکھا،آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ دارسمرہ کے قریب بیٹھے تھے۔ حضرت اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ نبی ا کرمﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور چھوٹے ، بڑے مرد اور عورتیں سب آ آکر اسلام اور کلمہ شہادت پر رسول اللہﷺ کی بیعت کر رہے تھے ۔ میں نے پوچھا : اسلام کیا چیز ہے ؟ فرمایا : اللہ تعالی پر ایمان لانا ۔ میں نے پوچھا :شہادت کیا ہے ؟فرمایا :اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔

أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ يُبَايِعُ النَّاسَ يَوْمَ الْفَتْحِ، ← اَنَّ اَبَاہُ الْاَسْوَدَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ خَلَفٍ ← عبد الرزاق أنبأ ابن جريح ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصنعاني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Aswad ibn Khalaf ibn Abd Najah, may God be pleased with him · Hadith 5283

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2394

2394 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ، وَقَارَبَ وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالشُّحُّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدْ رُوِيَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ بِإِسْنَادَيْنِ آخَرَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِي اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2394 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جہنم میں دو آدمیوں کو یوں جمع نہیں کیا جائے گا کہ ان میں سے ایک دوسرے کو ذہنی اذیت ہو وہ مسلمان جس نے کافر کو قتل کیا پھر ( تادم آخر) راہ راست پر رہا اور نہ ہی کسی بندے کے پیٹ میں جہاد کی غبار اور دوزخ کا دھواں جمع ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی آدمی کے دل میں ایمان اور بخل جمع ہو سکتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ یہی حدیث دوسری دو سندوں کے ہمراہ سہیل بن ابی صالح سے بھی مروی ہے ان میں سے ایک حدیث صفوان بن ابی زید کے ذریعے ابو الجلاج کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سهل بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنبأ عبيد بن عبد الواحد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2394

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 3

3 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، وَأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ أَبُو بَلْجٍ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَجِدْ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ، فَلْيُحِبِ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ، وَقَدِ احْتَجَّا جَمِيعًا بِعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَاحْتَجَّ مُسْلِمٌ بِأَبِي بَلْجٍ، وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا يُحْفَظُ لَهُ عِلَّةٌ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3 - لا يحتج به يعني بأبي بلج

حضرت ابو ہریرؓہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد: جوشخص ایمان کی حلاوت محسوس کرنا چاہے اس کو چاہئے کہ لوگوں سے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت کرے۔ : اس حدیث کو"صحیحین "میں نقل نہیں کیا گیا حالانکہ امام بخاری ؒکی اور امام مسلمؒ) دونوں نے (اس کے راوی ) عمرو بن میمون کی حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت کردہ احادیث نقل کی ہیں اور امام مسلم ؒنے ابوبلج(جو کہ مذکورہ حدیث کے راوی ہیں) سے روایات نقل کی ہیں ۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ أَبُو بَلْجٍ ← شُعْبَةُ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أحمد بن يعقوب الثقفي ← أَبِي بَلْجٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 3

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 5

5 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَخْلَقُ فِي جَوْفِ أَحَدِكُمْ كَمَا يَخْلَقُ الثَّوْبُ الْخَلِقُ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ أَنْ يُجَدِّدَ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِكُمْ» . " هَذَا حَدِيثٌ لَمْ يُخَرَّجْ فِي الصَّحِيحَيْنِ وَرُوَاتُهُ مِصْرِيُّونَ ثِقَاتٌ، وَقَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ بِالْحَدِيثِ الَّذِي رَوَاهُ عَنْ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ الْمُقْرِئِ، عَنْ حَيْوَةَ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ذِكْرُهُ كَتَبَ مَقَادِيرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» الْحَدِيثَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5 - رواته ثقات

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللهﷺنے ارشادفرمایا :تمہارے اندر ایمان پرانے کپڑے کی طرح بوسیدہ ہوتا رہتا ہے، اس لئے الله تعالیٰ سے اپنے دلوں میں ایمان تازہ رہنے کی دعا کیا کرو۔: اس حدیث کو صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا جبکہ اس کے تمام راوی مصری ہیں اور ثقہ ہیں اور امام مسلم ؒ نے اپنی صحیح میں وہ حدیث شریف نقل کی ہے جس کی سند ابن ابی عمر، المقری، حیوة ، ابو ہانی ، ابوعبدالرحمٰن الحبلی اور عبداللہ بن عمرو کے ذریعے نبی اکرم ﷺتک پہنچتی ہے (حدیث یہ ہے) نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: الله تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے مخلوقات کی تقدیر یں لکھی ہیں(اور اس میں مذکورہ حدیث کے راوی ابو ہانی، ابوعبدالرحمٰن ، الحبلی اور عبد اللہ بن عمرو موجود ہیں)

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← أَبِي هَانِئٍ الْخَوْلَانِيِّ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 5

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 17

17 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ وَالْعِيُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْبَذَاءُ وَالْبَيَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّا بِرُوَاتِهِ عَنْ آخِرهِمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 17 - هذا حديث صحيح على شرط الشيخين

حضرت ابو امامہ بابلیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺنے ارشادفرمایا: حیا اور خاموشی ایمان کی دو شاخیں ہیں ۔ بے حیائی اور یاوہ گوئی نفاق کی دو شاخیں ہیں۔یہ حدیث شیخین ؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن صحیحین میں اس کو نقل نہیں کیا گیا۔ حالانکہ (امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ) دونوں نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 17

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 18

18 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ، الْبَذَاذَةُ مِنَ الْإِيمَانِ» . «قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِصَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 18 - احتج مسلم بصالح

حضرت ابو امامہؓ اپنے والد کے حوالے سے رسول اللهﷺکا یہ ارشانقل کرے ہیں" شکستہ حالی کا تعلق ایمان سے ہے"۔ امام مسلم ؒ نے(اس حدیث کے راوی) صالح بن ابوصالح السمان کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 18

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 33

33 - أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ» . فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِثْمُ؟ قَالَ: «إِذَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ فَدَعْهُ» . وَهَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 33 - تابعه معمر وعلي بن المبارك وهو على شرطهما

حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللهﷺسے پوچھا: یا رسول اللهﷺایمان کیا ہے؟ آپ نے جواباً ارشاد فر مایا: جب تجھے نیکی پرخوشی ہو اور گناہ برا لگے تو تُو مومن ہے۔ اس نے دریافت کیا: یا رسول اللہﷺگناہ کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: جو چیز تیرے دل میں کھٹکے (وه گناہ ہے) اسے چھوڑ دے۔یونہی علی بن مبارک اور معمر بن راشد نے بھی یحییٰ بن کثیر کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ علی بن مبارک کی حدیث درج ذیل ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّهِ مَمْطُورٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 33

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 34

34 - فَحَدَّثَنَاهُ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَإِنَّكَ مُؤْمِنٌ»

حضرت ابوامامہ ؓبیان کرتے ہیں: ایک شخص نے رسول اللہ ﷺسے ایمان کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺنے جواب دیا: جب تجھے اپنی نیکیاں اچھی لگیں اور گناہوں سے نفرت ہو (تو سمجھ لینا) کہ تو مومن ہے۔ معمر کی روایت یہ ہے۔

«إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ فَإِنَّكَ مُؤْمِنٌ» ← سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ؟ ← أَبَا أُمَامَةَ، ← جَدِّهِ أَبِي سَلَّامٍ، ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو قِلَابَةَ ← فَحَدَّثَنَاهُ مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 34

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 35

35 - فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: مَا الْإِيمَانُ؟ فَقَالَ: «مَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ، وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ» . «هَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ مُتَّصِلَةٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ»

حضرت ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺسے ایمان کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا: جس کو اپنی نیکیاں اچھی لگیں اور گناہ برے لگیں وہ مومن ہے۔. مذکورہ بالا تمام احادیث شیخین ؓکی شرائط کے مطابق صحیح ہیں، متصل ہیں۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 35

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 40

40 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ عَجُوزٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ: لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْتِ؟» قَالَتْ: أَنَا جَثَّامَةُ الْمُزَنِيَّةُ، فَقَالَ: «بَلْ أَنْتِ حَسَّانَةُ الْمُزَنِيَّةُ، كَيْفَ أَنْتُمْ؟ كَيْفَ حَالُكُمْ؟ كَيْفَ كُنْتُمْ بَعْدَنَا؟» قَالَتْ: بِخَيْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمَّا خَرَجَتْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُقْبِلُ عَلَى هَذِهِ الْعَجُوزِ هَذَا الْإِقْبَالَ؟ فَقَالَ: «إِنَّهَا كَانَتْ تَأْتِينَا زَمَنَ خَدِيجَةَ، وَإِنَّ حُسْنَ الْعَهْدِ مِنَ الْإِيمَانِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فَقَدِ اتَّفَقَا عَلَى الِاحْتِجَاجِ بِرُوَاتِهِ فِي أَحَادِيثَ كَثِيرَةٍ وَلَيْسَ لَهُ عِلَّةٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 40 - على شرطهما وليست له علة

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: ایک دن حضور ﷺمیرے حجرے میں موجود تھے کہ ایک بڑھیا بارگاه عالی میں حاضر ہوئی ۔ آپ ﷺنے بڑھیا سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا"جثامہ مزنيہ" (جثامہ بدصورت کو کہتے ہیں، اس لئے آپ نے تفنن طبع کے طور پر فرمایا ) تو ’’حسینہ مزنیہ" ہے (یعنی خوبصورت ہے) آپ ﷺنے اس خاتون سے حال احوال دریافت کئے ۔ اس نے عرض کیا : حضور! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، سب کچھ بہتر ہے، میں خیریت سے ہوں۔(ضروری گفت وشنید کے بعد) جب وہ چلی گئی تو(ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں) میں نے عرض کیا :حضور اس بڑھیا کو آپ نے خصوصی توجہ دے کر بڑی عزت سے نوازا ہے (اس کی کیا وجہ ہے؟) آپ ﷺنے فرمایا: یہ بڑھیاخد یجہؓ کے زمانے میں بھی آیا کرتی تھی اورحسن اخلاق سے پیش آنا بھی ایمان کی علامت ہے۔یہ حدیث شیخینؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے اور امام بخاری ؒ اور امام مسلم ؒ دونوں نے اس حدیث کے راویوں کی دیگر روایات متعدد مقامات پرنقل کی ہیں۔

بِخَيْرٍ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ← «بَلْ أَنْتِ حَسَّانَةُ الْمُزَنِيَّةُ كَيْفَ أَنْتُمْ؟ كَيْفَ حَالُكُمْ؟ كَيْفَ كُنْتُمْ بَعْدَنَا؟» ← جَثَّامَةُ الْمُزَنِيَّةُ ← لها رسول الله من أنت ← جاءت عجوز إلى النبي وهو عندي ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 40

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 51

51 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا عَلَّمَنِي أَنْ قَالَ: «حَافِظْ عَلَى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ» فَقُلْتُ: هَذِهِ سَاعَاتٌ لِي فِيهَا اشْتِغَالٌ، فَحَدِّثْنِي بِأَمْرٍ جَامِعٍ إِذَا أَنَا فَعَلْتُهُ أَجْزَأَ عَنِّي، قَالَ: «حَافِظْ عَلَى الْعَصْرَيْنِ» قَالَ: وَمَا كَانَتْ مِنْ لُغَتِنَا قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: «صَلَاةٌ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَصَلَاةٌ قَبْلَ غُرُوبِهَا» . «وَأَبُو حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيُّ تَابِعِيٌّ كَبِيرٌ عِنْدَهُ مِنْ أَكَابِرِ الصَّحَابَةِ لَا يُقْصَرُ سَمَاعُهُ عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ اللَّيْثِيِّ فَإِنَّ هُشَيْمَ بْنَ بَشِيرٍ حَافِظٌ مَعْرُوفٌ بِالْحِفْظِ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ صَاحِبُ كِتَابٍ، وَهَذَا فِي الْجُمْلَةِ كَمَا خَرَّجَ مُسْلِمٌ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ حَدِيثَ شُعْبَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَبَعْدَهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 51 - وخولف هشيم رواه خالد بن عبد الله عن أبي حرب عن عبد الله بن فضالة عن أبيه قال علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم

حضرت عبداللہ بن فضالہؓ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺنے جو تعلیمات دی ہیں ان میں یہ بھی تھا کہ نماز پنجگانہ پابندی سے ادا کرو (فضالہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یہ اوقات تو میری مصروفیت کے ہیں، اس لئے مجھے کوئی ایسا جامع عمل بتاد یجئے جو کہ میرے لئے کافی ہو، آپ ﷺنے فرمایا: ” عصرین‘‘ کی حفاظت کرو (فضالہ کہتے ہیں) چونکہ عصرین‘ ہماری زبان کا لفظ نہیں تھا اس لئے میں نے پو چھ لیا: حضور ! "عصرین کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے کی نماز یں۔اس کی سند میں ابوحرب بن ابوالاسود الد یلی کبیر تا بعی ہیں ۔ ان کا سماع صرف فضالہ بن عبیدلیثی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ان کے پاس دیگر اکابر صحابہ کرام ؓ کی روایات بھی موجود ہیں۔ سابقہ حدیث میں ہشیم بن بشیر حافظ الحدیث ہیں اور آئمہ حدیث میں معروف بالحفظ ہیں اور خالد بن عبد الله الواسطی خودصاحب کتاب ہیں ۔ المختصر یہ سند شعبہ کی اس روایت کی طرح ہے جو امام مسلمؒ نے کتاب الایمان میں نقل کی ہے، جس کی حدیث عثمان بن عبد الله بن موہب ، ان کے بعد محمد بن عثمان سے ہوتی ہوئی ان کے والدتک پہنچتی ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَضَالَةَ ← أَبِي حَرْبٍ، ← دَاوُدُ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← إسحاق بن شاهين ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 51

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 56

56 - حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ الْحِيرِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالُوا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ، وَكَانَ كَالظُّلَّةِ، فَإِذَا انْقَلَعَ مِنْهَا رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ فَقَدِ احْتَجَّا بِرُوَاتِهِ وَلَهُ شَاهِدٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 56 - على شرطهما

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول الله ﷺنے ارشادفرمایا: جب بندہ زنا میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے دل سے ایمان نکل کر اس کے اوپر سائبان کی طرح ہو جاتا ہے۔ پھر جب بندہ گناہ سے فارغ ہو جا تا ہے تو دوبارہ ایمان اس میں داخل ہو جاتا ہے۔یہ حدیث شیخین ؒ کے معیار کے مطابق "صحیح"ہے کیونکہ دونوں نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں اور اس حدیث کی شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم ؒ کی شرائط کے مطابق"صحیح " ہے۔ (شاہد حدیث درج ذیل ہے)

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 56

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 57

57 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، بِبَغْدَادَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ زَنَى وَشَرِبَ الْخَمْرَ نَزَعَ اللَّهُ مِنْهُ الْإِيمَانَ كَمَا يَخْلَعُ الْإِنْسَانُ الْقَمِيصَ مِنْ رَأْسِهِ» . " قَدِ احْتَجَّ مُسْلِمٌ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيْرَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ وَهُمَا شَامِيَّانِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 57 - احتج مسلم بعبد الرحمن بن حجيرة وبعبد الله بن الوليد

حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فر مایا: جو شخص زنا کرتا ہے یا شراب پیتا ہے تو الله تعالیٰ اس سے ایمان اس طرح نکال لیتا ہے جیسے انسان قمیص اتار دیتا ہے۔امام مسلم ؒنے عبدالرحمن بن حجیر ہ شامی اور عبداللہ بن ولید شامی کی روایات نقل کی ہیں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ حُجَيْرَةَ، أَنَّهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ، بِبَغْدَادَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 57

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 58

58 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، أَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ قُرِنَا جَمِيعًا، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا، فَقَدِ احْتَجَّا بِرُوَاتِهِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذَا اللَّفْظِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 58 - على شرطهما

حضرت ابن عمر ؓفرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: حیاء اور ایمان دو گہرے دوست ہیں، جب ان میں سے کوئی ایک اٹھ جائے تو دوسرا خود بخود اٹھ جاتا ہے۔: یہ حدیث امام بخاری ؒ اور مسلم ؒ دونوں کے معیار کے مطابق "صحیح‘‘ ہے، دونوں نے اس کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں لیکن ان الفاظ کے ساتھ حدیث نقل نہیں کی۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 58

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 77

77 - حَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ التَّمَّارُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِلِبَاسِ الصُّوفِ تَجِدُونَ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ فِي قُلُوبِكُمْ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 77 - ساقه من طريق ضعيف

حضرت ابو امامہ باہلی ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشادفرمایا: اونی لباس پہنا کرو، اس سے تم اپنے دلوں میں ایمان کی چاشنی پاو گے۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← خَالِدٌ، ← ثَوْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ التَّمَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← علي بن حمشاذ وأبو بكر بن بالويه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 77

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 94

94 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، بِبَغْدَادَ ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَصَالِحُ بْنُ مُقَاتِلٍ، وَحدثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، وَحدثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، قَالُوا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، وَهُوَ شَرْطٌ مِنْ شَرْطِنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ أَنَّا نُخَرِّجُ أفْرَادَ الثِّقَاتِ إِذَا لَمْ نَجِدْ لَهَا عِلَّةً، وَقَدْ وَجَدْنَا لِعِيسَى بْنِ يُونُسَ فِيهِ مُتَابِعَيْنِ أَحَدُهُمَا مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 94 - صحيح الإسناد

حضرت عبد الله ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے رزق بانٹ دیئے ہیں، اسی طرح اخلاق بھی تقسیم کر دیئے ہیں اور الله تعالیٰ دنیا کا مال اس کو بھی دیتا ہے جو مال کا طالب ہوتا ہے اور اس کو بھی دیتا ہے جو طالب نہیں ہوتا جبکہ ایمان صرف اس کو عطا کرتا ہے جس میں ایمان کی طلب ہوتی ہے۔: اس حدیث کی سندصحیح ہے اور اس میں احمد بن جناب المصیصی "متفر د"ہیں اور یہ ہمارے معیار میں شامل ہے جیسا کہ ہم نے کتاب کے آغاز میں کہہ دیا تھا کہ ہم ثقہ راویوں کی روایات نقل کریں گے جب تک ان میں کوئی نقص نہ ہوجبکہ اس سند کے راوی عیسیٰ بن یونس کے۲ متابع بھی ہمیں مل گئے ۔ ان میں سے ایک تو اسی کتاب کے معیار پر ہیں اور وہ ہیں قبیصہ کے بھائی سفیان بن عقبہ۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)

عَبْدُ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى، ← أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← موسى بن هارون وصالح بن مقاتل ← دعلج بن أحمد السجزي ببغداد

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 94

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 95

95 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مِهْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّازِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ - وَهُوَ فَضْلَكُ الرَّازِيُّ - ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّوَيْهِ الرَّازِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ، عَنْ حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ، وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ يُعْطِي الْمَالَ مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، وَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا أَعْطَاهُ الْإِيمَانَ» . «وَأَمَّا الْمُتَابِعُ الَّذِي لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ فَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ، وَالْحَدِيثُ مَعْرُوفٌ بِهِ، فَقَدْ صَحَّ بِمُتَابِعَيْنِ لِعِيسَى بْنِ يُونُسَ ثُمَّ بِمُتَابِعٍ للثَّوْرِيِّ، عَنْ زُبَيْدٍ وَهُوَ حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 95 - ورواه عبد العزيز بن أبان وليس من شرط كتابنا عن الثوري

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا: الله تعالیٰ نے جس طرح تمہارے رزق تقسیم کر دیئے ہیں، اسی طرح تمہارےاخلاق بھی تقسیم کر دیئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دنیا کا مال مانگویا نہ مانگو، الله تعالیٰ ہر ایک کو اس کی قسمت دے دیتا ہے لیکن ایمان صرف اسی کو دیتا ہے جو اس کا طلب گار ہوتا ہے اور جب اللہ تعالی ٰکسی بندے سے محبت کرتا ہے، اسے ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دیتا ہے۔ اور وہ’متابع‘‘ جو اس کتاب کے معیار کا نہیں ہے وہ عبدالعزيز بن ابان ہے جبکہ یہ حدیث اسی کے حوالے سے معروف ہے۔ چنانچہ یہ حدیث عیسیٰ بن یونس کے ۲ متابع اور ز بید سے روایت کرنے میں ثوری کے متابع "حمزه زیات" کی وجہ سے صحیح قرار پاتی ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّۃُ ← زُبَيْدٍ، ← حَمْزَةَ الزَّيَّاتِ وَسُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ← سفيان بن عقبة أخو قبيصة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّوَيْهِ الرَّازِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ وَهُوَ فَضْلَكُ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ مِهْرَانُ بْنُ هَارُونَ الرَّازِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 95

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 101

101 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «لَقَدْ عِشْنَا بُرْهَةً مِنْ دَهْرِنَا وَإِنَّ أَحْدَثَنَا يُؤْتَى الْإِيمَانَ قَبْلَ الْقُرْآنِ، وَتَنْزِلُ السُّورَةُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَعَلَّمُ حَلَالَهَا وَحَرَامَهَا، وَمَا يَنْبَغِي أَنْ يُوقَفَ عِنْدَهُ فِيهَا كَمَا تَعْلَمُونَ أَنْتُمُ الْقُرْآنَ» ، ثُمَّ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا يُؤْتَى أَحَدُهُمُ الْقُرْآنَ فَيَقْرَأُ مَا بَيْنَ فَاتِحَتِهِ إِلَى خَاتِمَتِهِ مَا يَدْرِي مَا أَمْرُهُ وَلَا زَاجِرُهُ، وَلَا مَا يَنْبَغِي أَنْ يُوقَفَ عِنْدَهُ مِنْهُ يَنْثُرُهُ نَثْرَ الدَّقَلِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 101 - على شرطهما ولا علة له

حضرت ابن عمر ؓبیان کرتے ہیں ،ہم نے اپنی زندگی کے طویل عرصے میں یہ دیکھا ہے کہ لوگ ایمان پہلے لائے تھے اور قرآن بعد میں نازل ہوا۔ پھر قرآن کے نزول کے بعد اس سے حلال وحرام کا پتہ چل جاتا تھا اور ہونا بھی یہی چاہئے کہ جو کچھ قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے اس کو سمجھا جائے جیسا کہ تم لوگ قرآن سیکھتے ہو ( پھر ابن عمرؓ نے کہا) میں نے ایسے کئی لوگوں کودیکھا ہے کہ ان کو اگر قرآن پڑھنے کو دیا جائے تو وہ از اول تا آخر سارا قرآن پڑھ ڈالیں گے لیکن انہیں یہ پتہ نہیں چلے گا کہ(کون سی آیت میں ثواب کی بات ہے اور کس میں عذاب کی ) کہاں پر کوئی حکم دیا گیا ہے اور کہاں پر ڈانٹا گیا ہے۔ ایسے طریقے سے قرآن نہیں پڑھنا چاہئے کہ اس میں کوئی بات سمجھ میں ہی نہ آ سکے۔ : یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور اس میں کوئی نقص بھی نہیں ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 101

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7301

7301 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثَنَا يَعْلَى، وَمُحَمَّدٌ، ابْنَا عُبَيْدٍ، ثَنَا أَبَانُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَجَلِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ وَإِنَّ اللَّهَ يُعْطِي الْمَالَ مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ فَمَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ الْإِيمَانَ فَقَدْ أَحَبَّهُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يُسْلِمَ قَلْبُهُ وَلَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7301 - صحيح

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی جس طرح تمہارے رزق تقسیم کر دئیے ہیں اسی طرح تمہارے اخلاق بھی بانٹ دئیے ہیں ۔ اور اللہ تعالی دنیا کا مال ہر شخص کو دے دیتا ہے خواہ اللہ تعالی اس سے محبت کرتا ہو یا نہ کرتا ہو ، جبکہ ایمان صرف ان لوگوں کو عطا کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے ۔ لہذا جس کو ایمان کی دولت سے نوازا ہے ، اس سے وہ محبت بھی کرتا ہے اورذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے ، بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل مسلمان نہ ہو ، اور بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔(خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں )

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَجَلِيِّ، ← أبان بن إسحاق ← يَعْلَى، وَمُحَمَّدٌ، ابْنَا عُبَيْدٍ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Righteousness and Prayer › The merits of all Arabs · Hadith 7301

chevron_left Previous
1…212223…484
Next chevron_right