Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ الْإِسْرَائِيلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5758

5758 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا، قَالَ: أَجْلِسُونِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا، مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا يَقُولُهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ: عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا، ثُمَّ أَسْلَمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّهُ عَاشِرُ عَشْرَةٍ فِي الْجَنَّةِ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5758 - صحيح

یزیدبن عمیرہ فرماتےہیں:حضرت معاذبن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان سے کہا گیا:اے ابو عبدالرحمن!آپ ہمیں کوئی وصیت فرمادیجئے،انہوں نےفرمایا:مجھےاٹھاکربٹھاؤ،(لوگوں نےان کوبٹھادیاتو)انہوں نے فرمایا:بےشک علم اور ایمان اکٹھے ایک ہی جگہ رہتے ہیں،جوان کو ڈھونڈتاہے،پالیتاہے۔حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ نےیہ بات تین مرتبہ کہی۔پھرفرمایا:چارآدمیوں کےپاس علم تلاش کرو،حضرت عویمرالدرداء رضی اللہ تعالی عنہ کےپاس۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کےپاس ۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ کےپاس۔(یہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ )یہودی تھے،بعد میں مسلمان ہوگئے تھے،میں نے ان کے بارےمیں رسول اللہﷺکو فرماتے ہوئےسناہےکہ جنت میں جانےوالےدسویں آدمی حضرت عبداللہ بن سلام ہیں۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاریؒ اور امام مسلم ؒ نےاس کو نقل نہیں کیا۔

يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← اللَّيْثُ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the performer of Abdullah ibn Salam of the Israelite, may God be pleased with him · Hadith 5758

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَدَبِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7767

7767 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ، الْعَدْلُ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مِهْرَانَ، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7767 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

بلال بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ اپنے والد سے ، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب چاند دیکھتے تو یہ دعا مانگتے : ٭ اللھم اھلہ علینا بالا من والایمان و السلامۃ و الاسلام ربی و ربک ٭ " یا اللہ اس کو ہمارے لئے امن ، ایمان ، سلامتی اور اسلام والا بنا ، میرا اور تیرا رب اللہ ہے "

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بِلَالَ بْنَ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدِينِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أحمد بن زياد بن مهران، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ، الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Literature book › The merits of all Arabs · Hadith 7767

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7836

7836 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، ثَنَا سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «إِنَّمَا الْيَمِينُ مَأْثَمَةٌ أَوْ مَنْدَمَةٌ» آخِرُ كِتَابِ الْأَيْمَانِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7836 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قسم یا تو گناہ کا باعث بن جاتی ہے یا شرمندگی کا۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبُو ضَمْرَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ← أحمد بن سهل البخاري

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Faiths and Vows › The merits of all Arabs · Hadith 7836

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8037

8037 - أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّدِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَفْتِكُ الْمُؤْمِنُ، الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8037 - على شرط مسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ق نے ارشاد فرمایا: مومن کسی کو اچانک حملہ کرکے قتل نہیں کرتا۔ ایمان اچانک حملے سے روکتا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّدِّيُّ، ← أسباط بن نصر الهمداني، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Boundaries Book › The merits of all Arabs · Hadith 8037

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8038

8038 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتَّابٍ الْعَبْدِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ، عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: يَا مُعَاوِيَةُ، قَتَلْتَ حُجْرًا وَأَصْحَابَهُ وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ أَمَا تَخْشَى أَنْ أَخْبَأَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ؟ قَالَ: لَا إِنِّي فِي بَيْتِ أَمَانٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ، لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8038 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

مروان بن حکم کا بیان ہے کہ میں حضرت معاویہ کے ہمراہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے معاویہ ! تم نے حجر اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا اور تم نے کیا کیا کچھ نہیں کیا، تجھے اس بات سے ذرا خوف نہیں آیا کہ ایک آدمی کو میں نے تمہارے لئے سنبھال کر رکھا ہوا ہے ، وہ تجھے قتل کردیگا؟ حضرت معاویہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتےہوئے سنا ہے کہ " ایمان اچانک حملہ کرکے قتل کرنے سے روکتا ہے، مومن اچانک حملہ نہیں کرتا۔

يَا مُعَاوِيَةُ، قَتَلْتَ حُجْرًا وَأَصْحَابَهُ وَفَعَلْتَ الَّذِي فَعَلْتَ أَمَا تَخْشَى ← دَخَلْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العبدي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Boundaries Book › The merits of all Arabs · Hadith 8038

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3063

3063 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا وُجِّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِالَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} [البقرة: 143] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ " قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى: «هَذَا الْحَدِيثُ يُخْبِرُكَ أَنَّ الصَّلَاةَ مِنَ الْإِيمَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3063 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کی جانب رخ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دی تو لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ ! ان لوگوں کا کیا بنے گا جو بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے فوت ہوئے ہیں ؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی : ﴿ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾ [البقرة: 143]" اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان اکارت کرے " ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) عبیدا للہ بن موسی کہتے ہیں : یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نماز " ایمان " میں سے ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

لَمَّا وُجِّهَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْكَعْبَةِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3063

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3077

3077 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ مَالِكٍ الْجَزَرِيُّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِيمَانِ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {لَيْسَ الْبِرُّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخَرِ} [البقرة: 177] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ قَالَ: ثُمَّ سَأَلَهُ أَيْضًا فَتَلَاهَا، ثُمَّ سَأَلَهُ أَيْضًا فَتَلَاهَا، ثُمَّ سَأَلَهُ فَقَالَ: «وَإِذَا عَمِلْتَ حَسَنَةً أَحَبَّهَا قَلْبُكَ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً أَبْغَضَهَا قَلْبُكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3077 - كيف وهو منقطع

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایمان کے بارے میں پوچھا تو آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ﴾ [البقرة: 177]"کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت پر ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )یہاں تک آپ ﷺ نے پوری آیت پڑھ ڈالی ۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ آپ ﷺ سے یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے دوبارہ یہی آیت تلاوت کی ۔ انہوں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے پھر یہی آیت تلاوت کی ۔ انہوں نے پھر سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب نیکی کرے تو اپنے دل سے اس سے محبت بھی کر اور جب تجھ سے گنا ہ سرزد ہو جائے تو دل سے اس کو برا جان ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3077

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3132

3132 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ} [البقرة: 284] شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ مَا لَمْ يَشُقَّ عَلَيْهِمْ مِثْلُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا» فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَقَالُوا: سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا، لَهَا مَا كَسَبَتْ، وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ} [البقرة: 286] إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {أَوْ أَخْطَأْنَا} [البقرة: 286] قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ. إِلَى آخِرِ الْبَقَرَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3132 - صحيح

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ﴿إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ﴾ [البقرة: 284]" اگر تم ظاہر کرو جو کچھ تمہارے جی میں ہے یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) تو یہ حکم صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر اس قدر گراں گزرا کہ اس سے پہلے کبھی کوئی حکم اتنا گراں نہیں گزرا تھا ۔رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : تم کہو " سمعنا واطعنا " تو اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں ایمان ڈال دیا ۔ انہوں نے کہا " سمعنا واطعنا " پھر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ﴾ [البقرة: 286]" اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) "او اخطانا" تک ۔ پھر آپ نے فرمایا : بے شک ایسا ہو چکا " سورہ بقرہ کے آخر تک ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← آدمَ بنِ سليمانَ، ← سُفْيَانَ، ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ وكيع ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3132

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ · حديث 3149

3149 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو هَمَّامٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ سَعِيدٍ، يَذْكُرُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، " {إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً} [آل عمران: 28] قَالَ: التُّقَاةُ التَّكَلُّمُ بِاللِّسَانِ وَالْقَلْبُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ، فَلَا يَبْسُطُ يَدَهُ فَيَقْتُلُ، وَلَا إِلَى إِثْمٍ فَإِنَّهُ لَا عُذْرَ لَهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3149 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ( عبداللہ ) بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالی کے ارشاد : ﴿إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً﴾ [آل عمران: 28]" مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) کے متعلق فرماتےہیں : تقاۃ کا مطلب یہ ہے " زبان سے کلام کرنا اور دل ایمان پر مطمئن ہو " لہذا ہم قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ نہیں اٹھائیں گے ، اور نہ ہی گناہ کی طرف ، کیونکہ اس کا کوئی عذر نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ {إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً} [آل عمران: ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سفيان بن سعيد يذكر ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، ← أَبُو هَمَّامٍ، ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from Surat Al-Amran · Hadith 3149

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْفَالِ · حديث 3265

3265 - أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ} [الأنفال: 24] قَالَ: «يَحُولُ بَيْنَ الْكَافِرِ وَبَيْنَ الْإِيمَانِ، وَيَحُولُ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَبَيْنَ الْمَعَاصِي» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3265 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: " ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ (الانفال:24) " اور اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہو جاتا ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں: (اللہ تعالیٰ کا حکم) کافر اور ایمان کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور مومن اور گناہوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ} [الأنفال: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْاَعْمَشِ ← إسحاق أنبا جرير ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Anfal · Hadith 3265

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ فِي فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 770

770 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ، فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ» قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ} [التوبة: 18] «.» هَذِهِ تَرْجَمَةٌ لِلْمِصْرِيِّينَ لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي صِحَّتِهَا وَصِدْقِ رُوَاتِهَا غَيْرَ أَنَّ شَيْخَيِ الصَّحِيحِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدْ سُقْتُ الْقَوْلَ فِي صِحَّتِهِ فِيمَا تَقَدَّمَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 770 - دراج كثير المناكير

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ اس کو مسجد میں جانے کی عادت ہو گئی ہے تو اس کے ایمان کی گواہی دیدو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اللہ کی مسجدوں کو صرف وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ۔ یہ عنوان اہل مصر کا ہے ، اس کی صحت اور اس کے راویوں کے صدق کے متعلق کسی کا اختلاف نہیں ہے ، اس کے باوجود شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا، اس سے پہلے کئی مرتبہ اس کی صحت کے متعلق گفتگو ہو چکی ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Chapter on the virtue of the five daily prayers · Hadith 770

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّحْلِ · حديث 3362

3362 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخَذَ الْمُشْرِكُونَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ فَلَمْ يَتْرُكُوهُ حَتَّى سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ آلِهَتَهُمْ بِخَيْرٍ ثُمَّ تَرَكُوهُ، فَلَمَّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا وَرَاءَكَ؟» قَالَ: شَرٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تُرِكْتُ حَتَّى نِلْتُ مِنْكَ، وَذَكَرْتُ آلِهَتَهُمْ بِخَيْرٍ قَالَ: «كَيْفَ تَجِدُ قَلْبَكَ؟» قَالَ: مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ قَالَ: «إِنْ عَادُوا فَعُدْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3362 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت محمد بن عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مشرکوں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر لیا، پھر انہوں نے آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ کی شان میں نازیبا کلمات اور ان کے بتوں کے حق میں اچھے کلمات نہیں کہہ دیئے ( جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں نازیبا گفتگو اور ان کے بتوں کے بارے میں اچھی گفتگو کی) تو انہوں نے آپ کو رہا کر دیا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سارا ماجرا کہہ سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے دل کو کیسا پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: میرا دل ایمان پر مطمئن ہے، آپ ﷺ نے فرمایا اگر دوبارہ بھی ایسا کہنے پر مجبوری آن پڑے تو کہہ سکتے ہو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔

شَرٌّ ← مَا وَرَاءَكَ، ← آلهتهم بخير ثم تركوه فلما أتى رسول الله ← أخذ المشركون عمار بن ياسر فلم يتركوه حتى سب النبي ← أَبِيهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، ← أَبِي ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nahl · Hadith 3362

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّحْلِ · حديث 3365

3365 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى سَبِّي فَسُبُّونِي، فَإِنْ عُرِضَتْ عَلَيْكُمُ الْبَرَاءَةُ مِنِّي، فَلَا تَبْرَءُوا مِنِّي، فَإِنِّي عَلَى الْإِسْلَامِ، فَلْيَمْدُدْ أَحَدُكُمْ عُنُقَهُ، ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ، فَإِنَّهُ لَا دُنْيَا لَهُ وَلَا آخِرَةَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ تَلَا {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: 106] «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3365 - صحيح

حضرت ابو صادق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عنقریب تمہیں ، مجھے گالیاں دینے پر مجبور کیا جائے گا ( تو تمہیں اس بات کی اجازت ہے) تم مجھے گالیاں دی لینا لیکن اگر تمہیں مجھ سے برات پر مجبور کیا جائے تو تم مجھ سے برات کا اظہار مت کرنا کیونکہ میں اسلام پر قائم ہوں۔ (ایسے حالات میں ) اپنی گردن بلند رکھنا، اس کی ماں اس پر روئے ( پیار سے یہ جملہ بولا جاتا ہے) اسلام کے بعد اس کے لئے نہ تو دنیا ( کی کوئی اہمیت) ہے اور نہ آخرت(کی) ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: " الا من اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان" سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو" یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس نقل نہیں کیا۔

أبي صادق ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat an-Nahl · Hadith 3365

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْوِتْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1119

1119 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَلَكُمْ تَطَوُّعٌ: النَّحْرُ، وَالْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الْفَجْرِ " قَالَ الْحَاكِمُ: " الْأَصْلُ فِي هَذَا حَدِيثُ الْإِيمَانِ وَسُؤَالُ الْأَعْرَابِيِّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، قَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ» ، وَحَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِهَا فِي الصَّحِيحِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1119 - ما تكلم الحاكم عليه وهو غريب منكر

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جو مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لئے "نفل" ہیں (یعنی فرض نہیں ہیں) (1) قربانی (2) وتر (3)فجر کی دو رکعتیں (یعنی فجر کی سنتیں) امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں (ان تینوں کے فرض نہ ہونے کے سلسلے میں) دلیل (ایک تو) "حدیث ایمان" ہے اور (دوسری دلیل) ایک دیہاتی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانچ نمازوں کے متعلق سوال کرنا ہے(جس کے جواب میں) اس نے پوچھا: کیا میرے اوپر اس کے علاوہ بھی کوئی چیز فرض ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً فرمایا: نہیں۔ الا یہ کہ تم اپنی مرضی سے کچھ عمل کرو اور (تیسرے ) سعید ابن یسار کی حدیث، جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سواری پر وتر پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے یہ احادیث اپنی صحیح میں نقل کی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي حَيَّةَ ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← أحمد بن يونس الضبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Witr Book › Insurance section · Hadith 1119

المستدرك على الصحيحين · مِنْ كِتَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1190

1190 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَعِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ تَفَلَّتَ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ صَدْرِي، فَمَا أَجِدُنِي أَقْدِرُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا الْحَسَنِ، أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ، وَيَنْفَعُ بِهِنَّ مَنْ عَلَّمْتَهُ، وَيُثَبِّتُ مَا عَلِمْتَهُ فِي صَدْرِكَ؟» قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلِّمْنِي، قَالَ: " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَقُومَ فِي ثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ، فَإِنَّهَا سَاعَةٌ مَشْهُودَةٌ، وَالدُّعَاءُ فِيهَا مُسْتَجَابٌ، وَهِيَ قَوْلُ أَخِي يَعْقُوبَ لِبَنِيهِ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي حَتَّى تَأْتِيَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقُمْ فِي وَسَطِهَا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقُمْ فِي أَوَّلِهَا، فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةِ يس، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَالم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وحم، الدُّخَانَ، وَفِي الرَّكْعَةِ الرَّابِعَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَتَبَارَكَ الْمُفَصَّلَ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ التَّشَهُّدِ فَاحْمَدِ اللَّهَ، وَأَحْسَنِ الثَّنَاءَ عَلَى اللَّهِ، وَصَلِّ عَلَيَّ، وَعَلَى سَائِرِ النَّبِيِّينَ وَأَحْسِنْ، وَاسْتَغْفِرْ لِإِخْوَانِكَ الَّذِينَ سَبَقُوكَ بِالْإِيمَانِ، وَاسْتَغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلِلْمُؤْمِنَاتِ، ثُمَّ قُلْ آخِرَ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي بِتَرْكِ الْمَعَاصِي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي، وَارْحَمْنِي أَنْ أَتَكَلَّفَ مَا لَا يَعْنِينِي، وَارْزُقْنِي حُسْنَ النَّظَرِ فِيمَا يُرْضِيكَ عَنِّي، اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكَ، وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُلْزِمَ قَلْبِي حِفْظَ كِتَابِكَ كَمَا عَلَّمْتَنِي، وَارْزُقْنِي أَنْ أَتْلُوَهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنِّي، اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكَ وَنُورِ وَجْهِكَ، أَنْ تُنَوِّرَ بِكِتَابِكَ بَصَرِي، وَأَنْ تُطْلِقَ بِهِ لِسَانِي، وَأَنْ تُفَرِّجَ بِهِ عَنْ قَلْبِي، وَأَنْ تَشْرَحَ بِهِ صَدْرِي، وَأَنْ تَشْغَلَ بِهِ بَدَنِي، فَإِنَّهُ لَا يُعِينُنِي عَلَى الْحَقِّ غَيْرُكَ، وَلَا يُؤْتِيهِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ أَبَا الْحَسَنِ، تَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ، أَوْ خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا، يُجَابُ بِإِذْنِ اللَّهِ فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَخْطَأَ مُؤْمِنًا قَطُّ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ عَلِيٌّ إِلَّا خَمْسًا، أَوْ سَبْعًا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ الْمَجْلِسِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ فِيمَا خَلَا لَا أَتَعْلَمُ أَرْبَعَ آيَاتٍ أَوْ نَحْوَهُنَّ، فَإِذَا قَرَأْتُهُنَّ عَلَى نَفْسِي يَتَفَلَّتْنَ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَأَتَعَلَّمُ الْأَرْبَعِينَ آيَةً وَنَحْوَهَا، فَإِذَا قَرَأْتُهُنَّ عَلَى نَفْسِي، فَكَمَا كِتَابُ اللَّهِ نُصْبَ عَيْنِي، وَلَقَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ الْحَدِيثَ فَإِذَا أَرَدْتُهُ تَفَلَّتَ، وَأَنَا الْيَوْمَ أَسْمَعُ الْأَحَادِيثَ فَإِذَا حَدَّثْتُ بِهَا لَمْ أَخْرِمْ مِنْهَا حَرْفًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «مُؤْمِنٌ وَرَبُّ الْكَعْبَةِ أَبَا الْحَسَنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں :کہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ وہاں آئے اور بولے :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ یہ قرآن میرے سینے سے نکل جاتا ہے اور میں اس کو یاد نہیں رکھ نہیں پاتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا : اے ابوالحسن ! کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کے ذریعے اللہ تعالی تجھے نفع سے اور ان لوگوں کو بھی نفع دے جن کو تو سکھائے اور جو کچھ تو سکھائے وہ تیرے سینے میں بھی قائم رہے ،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! جی ہاں آپ مجھے سکھائیے !آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب جمعہ کی رات ہو تو اگر اس کے آخری حصے میں عبادت کر سکے (تو کرو)کیونکہ وہ وقت مشہود ہے اور اس میں دعا قبول ہوتی ہے اور یہی بات میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہی تھی کہ میں عنقریب تمہارے لئے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا ۔ یہاں تک کہ جمعہ کی رات آ گئی ۔ اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو رات کے درمیانی حصے میں عبادت کرو اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو رات کے پہلے حصے میں عبادت کرو (اور عبادت کا طریقہ کار یہ ہے ) چار رکعت نوافل پڑھو،پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ یسین ، دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد الم تنزیل السجدہ ،تیسری رکعت میں فاتحہ کے بعد حم الدخان اور چوتھی رکعت میں فاتحہ کے بعد تبارک المفصل پڑھو ، جب تشہد سے فارغ ہو تو اللہ کی حمد ثنا ء کرو اور میرے اوپر اور تمام انبیاء پر احسن طریقے سے درود بھیجو اور اپنے بھائیوں کے لئے مغفرت کی دعا کرو جو اس سے پہلے ایمان لائے اور تمام مومن مرد اور عورتوں کے لئے مغفرت کی دعا کرو پھر سب سے آخر میں یہ دعا کرو "اے اللہ ! مجھ پر رحم کر ، جب تک تو مجھے زندہ رکھے ، میں گناہوں سے بچا رہوں اور میں فضولیا ت کو چھوڑ ے رکھوں اور یا اللہ ! مجھے وہ حسن نظر عطا کر جو تجھے مجھ سے راضی کر دے ۔ اے اللہ ! زمیں و آسمانوں کے پیدا کرنے والے ، اے بزرگ اور ایسی بزرگی اور عزت والے جو کبھی ختم نہ ہو، اے اللہ ! اے رحمان! میں تیرے حلال اور نور کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب یاد کرنے کے قابل کر دے جیسا کہ تو نے مجھے سکھایا ہے اور تو مجھے اس کی تلاوت اس طریقے سے کرنے کی توفیق دے جو تجھے مجھ سے راضی کر دے ، اے اللہ! زمین و آسمانوں کے پیدا کرنے والے ! ایسی بزرگی اور عزت والے جو کبھی کم نہ ہو ، اے اللہ ! اے رحمان ! تیرے جلال اور نور کے صدقے میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی کتاب کے ساتھ میری آنکھوں کو روشن کر دے اور اس کے ساتھ میری زبان کو روانی دے اور میرے دل کو کشادہ کر دے اور میرے سینے کو کھول دے اور میرے بدن کو صاف کر دے کیونکہ تیرے سوا حق پر میری مدد کرنے والا کوئی نہیں اور تیرے سوا مجھے یہ چیز کوئی نہیں دے گا اور ہر طاقت اور قوت اس اللہ کے لئے ہے ، جو بڑا عظمت والا ہے ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ) اے ابولحسن یہ عمل تین جمعہ یا پانچ یا سات جمعہ تک کرو ، اللہ کے حکم سے دعا قبول ہو گی ۔ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ، کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے کبھی خطا نہیں کرتا ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :خدا کی قسم حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات جمعہ یہ عمل نہیں کیا تھا کہ اسی طرح کی مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس سے پہلے چار یا اس کے قریب کچھ آیات بھی سیکھ نہیں پاتا تھا ، جب میں ان کو پڑھتا تھا تو بھول جاتا تھا لیکن آج کل میں چالیس کے قریب آیتیں سیکھ لیتا ہوں اور جب ان کو پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے گویا کہ کتاب اللہ میری آنکھوں کے سامنے ہے اور میں کوئی حدیث سنا کرتا تھا اور جب اس کو دہراتا ، تو بھول چکا ہوتا اور اب میں کئی احادیث سنتا ہوں تو جب ان کو بیان کرتا ہوں تو کوئی حرف بھی نہیں بھولتا ، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! ابو الحسن مومن ہے ۔ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَعِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو الحسن أحمد بن محمد [العنزي. ← أبو النضر محمد بن محمد الفقيه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · From the book on voluntary prayer › Insurance section · Hadith 1190

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8194

8194 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ غَنَمًا كَثِيرَةً سَوْدَاءَ دَخَلَتْ فِيهَا غَنْمٌ كَثِيرَةٌ بِيضٌ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْعَجَمُ يَشْرَكُونَكُمْ فِي دِينِكُمْ وَأَنْسَابِكُمْ» قَالُوا: الْعَجَمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنَ الْعَجَمِ وَأَسْعَدَهُمْ بِهِ النَّاسُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8194 - على شرط البخاري

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے بہت ساری کالی بھیڑیں دیکھی ہیں، جن میں بہت ساری سفید بھیڑیں داخل ہو گئی ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ نے اس کی کیا تعبیر سمجھی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اہل عجم تمہارے ساتھ تمہارےدین اور تمہارے نسبوں میں شریک ہو جائیں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عجم کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ایمان ثریا کے ساتھ لٹک رہا ہو تو کچھ عجمی لوگ وہاں سے بھی ایمان اتار لائیں گے، اور یہ لوگوں کی خوش بختی ہو گی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عبد الله بن دينار ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← هاشم بن القاسم ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّارُ، بِبَغْدَادَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Revelation Expression Book › The merits of all Arabs · Hadith 8194

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8294

8294 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَرُومَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ الْهَمْدَانِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَهْلَ دِينَيْنِ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّارِ: قَوْمٌ يَقُولُونَ: إِنْ كَانَ أَوَّلُنَا ضُلَّالًا مَا بَالُ خَمْسِ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، إِنَّمَا هُوَ صَلَاتَانِ الْعَصْرُ وَالْفَجْرُ، وَقَوْمٌ يَقُولُونَ: إِنَّمَا الْإِيمَانُ كَلَامٌ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ قَتَلَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8294 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں: امت محمدیہ کی 2 دوزخی جماعتوں کو میں جانتا ہوں۔ ایک وہ قوم جو کہتے ہیں: ہم سے پہلے لوگ گمراہ تھے، دن میں پانچ نمازوں کی کیا ضرورت ہے۔ نمازیں صرف دو ہی ہیں، نماز عصر اور نماز فجر۔ دوسری وہ قوم جو کہتے ہیں: زبان سے کلمہ پڑھ لیا تو بندہ صاحب ایمان ہے اگرچہ وہ زنا کرے اور اگرچہ وہ قتل کرے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← ابن الديلمي ← يحيى بن أبي عمرو السيباني ← الْاَوْزَاعِیُّ ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8294

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8409

8409 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ، وَعِنْدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى شِرَارِ الْخَلْقِ هُمْ شَرٌّ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَدْعُونَ اللَّهَ بِشَيْءٍ إِلَّا رَدَّهُ عَلَيْهِمْ» فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذَا أَقْبَلَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ مَسْلَمَةُ: يَا عُقْبَةُ اسْمَعْ مَا يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ عُقْبَةُ: هُوَ أَعْلَمُ أَمَّا أَنَا فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «لَا تَزَالُ عِصَابَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى أَمْرِ اللَّهِ قَاهِرِينَ عَلَى الْعَدُوِّ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ» فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَجَلْ، «ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا رِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ وَمَسُّهَا مَسُّ الْحَرِيرِ فَلَا تَتْرُكُ نَفْسًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا قَبَضَتْهُ، ثُمَّ يَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ عَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8409 - صحيح

عبدالرحمٰن بن شماسہ فرماتے ہیں : وہ حضرت مسلمہ بن مخلد کے پاس موجو د تھے، ان کے پاس حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے، حضرت عبداللہ نے کہا: قیامت ان لوگوں پر قائم ہو گی جو مخلوق میں سب سے برے ہوں گے، وہ لوگ زمانہ جاہلیت کے لوگوں سے بھی زیادہ برے ہوں گے، وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگیں گے،اللہ تعالیٰ ان کی دعاکو رد کر دے گا، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے آئے، حضرت مسلمہ نے کہا: اے عقبہ! دیکھو ، عبداللہ کیاکہہ رہا ہے؟ حضرت عقبہ نے کہا:وہ زیادہ علم رکھتا ہے، ( اس لئے اس نے جو بھی کہا ٹھیک ہی کہاہوگا) اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہےکہ میری ا مت میں ہمیشہ ایک جماعت ایسی رہے گی، جو اللہ تعالیٰ کے نام پر جہاد کرتے رہیں گے، دشمنوں پر غالب رہیں گے،ان کےمخالفین ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے،حتیٰ کہ قیامت آجائے گی، اور وہ اپنے نظریے پر قائم رہیں گے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ ہوا بھیجے گا جو مشک کی طرح خوشبودار ہو گی، جو ریشم کی طرح نرم ہوگی،وہ ایسے تمام لوگوں کی روح قبض کر لے گی جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔ پھر روئے زمین پر برےلوگ رہ جائیں گے، ان پر قیامت قائم ہوگی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8409

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6287

6287 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَتْنَا زَيْنَبُ بِنْتُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ: بَعَثَ الْعَبَّاسُ ابْنَهُ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَامَ وَرَاءَهُ وَعِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَتَى جِئْتَ يَا حَبِيبِي؟» قَالَ: مُذْ سَاعَةٍ، قَالَ: «هَلْ رَأَيْتَ عِنْدِي أَحَدًا؟» قَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ رَجُلًا، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلَمْ يَرَهُ خَلْقٌ إِلَّا عَمِّي إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَبِيًّا وَلَكِنْ أَنْ يُجْعَلَ ذَلِكَ فِي آخِرِ عُمُرِكَ» ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ وَفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَاجْعَلْهُ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6287 - بل منكر

حضرت علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سو گئے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دوسرا شخص بھی بیٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے توجہ فرمائی اور پوچھا: اے میرے دوست ! تم کب آئے؟ انہوں نے کہا: ابھی کچھ ہی دیر ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :کیا تم نے میرے پاس کسی کو دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں ، میں نے ایک آدمی آپ کے پاس دیکھا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : وہ حضرت جبریل امین علیہ السلام تھے۔ انبیاء کرام کے علاوہ میرے چچا کے سوا مخلوقات میں سے کسی نے بھی ان کو نہیں دیکھا ، مگر یہ کہ تمہاری زندگی کے آخر میں یہ کام کر دیا جائے ۔ پھر یوں دعا فرمائی " اے اللہ ! اس کو تاویل کا علم سکھا اور اس کو دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما۔ اور اس کو اہل ایمان میں سے بنا۔

نَعَمْ، رَأَيْتُ رَجُلًا، ← «هَلْ رَأَيْتَ عِنْدِي أَحَدًا؟» ← مُذْ سَاعَةٍ، ← «مَتَى جِئْتَ يَا حَبِيبِي؟» ← رَاءَهُ وَعِنْدَ النَّبِيِّ رَجُلٌ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ ← بَعَثَ الْعَبَّاسُ ابْنَهُ عَبْدَ اللَّهِ إِلَى النَّبِيِّ فَنَامَ ← أَبِي ← أَبِي ← عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَتْنَا زَيْنَبُ بِنْتُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Abdullah bin Abbas bin Abdullah Al-Muttalib, may God be pleased with them · Hadith 6287

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8440

8440 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّذُورِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَيْرَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " تَكُونُ فِتْنَةٌ يَكْثُرُ فِيهَا الْمَالُ، وَيُفْتَحُ فِيهَا الْقُرْآنُ حَتَّى يَقْرَأَهُ الْمُؤْمِنُ وَالْمُنَافِقُ وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ، يَقْرَأُهُ الرَّجُلُ سِرًّا فَلَا يُتَّبَعُ عَلَيْهَا، فَيَقُولُ: وَاللَّهِ لَأَقْرَأَنَّهُ عَلَانِيَةً، ثُمَّ يَقْرَأُهُ عَلَانِيَةً فَلَا يُتَّبَعُ عَلَيْهَا، فَيَتَّخِذُ مَسْجِدًا وَيَبْتَدِعُ كَلَامًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا مِنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُ فَإِنَّ كُلَّ مَا ابْتَدَعَ ضَلَالَةٌ " قَالَ: وَلَمَّا مَرِضَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَرَضَهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ كَانَ يُغْشَى عَلَيْهِ أَحْيَانًا، وَيُفِيقُ أَحْيَانًا، حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ غَشْيَةً ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ قُبِضَ، ثُمَّ أَفَاقَ وَأَنَا مُقَابِلَهُ أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكَ؟» قُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَبْكِي عَلَى دُنْيَا كُنْتُ أَنَالُهَا مِنْكَ، وَلَا عَلَى نَسَبٍ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، وَلَكِنْ أَبْكِي عَلَى الْعِلْمِ وَالْحُكْمِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْكَ يَذْهَبُ، قَالَ: " فَلَا تَبْكِ فَإِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا، مَنِ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا فَابْتَغِهِ حَيْثُ ابْتَغَاهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَإِنَّهُ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى وَهُوَ لَا يَعْلَمُ وَتَلَا: {إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَى رَبِّي سَيَهْدِينِ} [الصافات: 99] وَابْتَغِهِ بَعْدِي عِنْدَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ، وَإِنْ لَمْ تَجِدْهُ عِنْدَ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَسَلْ عَنِ النَّاسِ أَعْيَانَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، وَسَلْمَانُ، وَعُوَيْمِرٌ أَبُو الدَّرْدَاءِ، وَإِيَّاكَ وَزَيْغَةَ الْحَكِيمِ وَحُكْمَ الْمُنَافِقِ " قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ زَيْغَةَ الْحَكِيمِ؟ قَالَ: «كَلِمَةُ ضَلَالَةٍ يُلْقِيهَا الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ فَلَا يَحْمِلُهَا وَلَا يَتَأَمَّلُ مِنْهُ، فَإِنَّ الْمُنَافِقَ قَدْ يَقُولُ الْحَقَّ، فَخُذِ الْعِلْمَ أَنَّى جَاءَكَ فَإِنَّ عَلَى الْحَقِّ نُورًا، وَإِيَّاكَ وَمُعْضِلَاتِ الْأُمُورِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8440 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک ایسا فتنہ آئے گاجس میں مال بہت زیادہ ہوجائے گا،قرآن بہت کھولا جائے گا، حتیٰ کہ مومن و منافق، چھوٹا ، بڑا، مرد اور عورت سب قرآن پڑھیں گے، ایک آدمی پوشیدہ طور پر قرآن پڑھے گا، اس پر اس کی پیروی نہیں کی جائے گای، وہ کہے گا: اللہ کی قسم! اب میں اس کو اعلانیہ پڑھوں گا، پھرو ہ اس کو اعلانیہ پڑھے گا، لیکن اب بھی اس کی کوئی پیروی نہیں کی جائے گی، وہ ایک مسجد بنائے گا، اور ایسی باتیں گھڑے گا جو نہ کتاب اللہ میں ہوں گی اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے ثابت ہوں گی، ان سے بچ کر رہنا، کیونکہ ہر وہ چیز جو نئی گھڑے جائے (جس کی اصل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں موجود نہ ہو) وہ گمراہی ہے۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ان پر وقفے وقفے سے غشی طاری ہو تی تھی، پھر ان پر غشی کا ایسا دورہ پڑا کہ ہم سمجھے کہ ان کی روح پرواز کرگئی ہے، لیکن ان کو ایک بار پھر افاقہ ہوا، اس وقت میں ان کے سامنے رو رہا تھا،آپ نے فرمایا: روؤ مت۔ کیونکہ علم اور ایمان ایک ہی جگہ ہوتے ہیں، جو ان کو تلاش کرتا ہے وہ ان کو پالیتا ہے، اس لئے اس کو وہاں تلاش کرو جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تلاش کیا تھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا، اور آپ نہیں جانتے تھے، پھر انہوں نےیہ آیت پڑھی۔"انی ذاہب الی ربی سیھدین"۔" اور میرے بعد چار لوگوں کے پاس علم تلاش کرنا وہ چار افراد یہ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عویمر ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ حکیم کی خطا سے اور منافق کے فیصلے سے بچنا۔ میں نے کہا: مجھے کیسے پتا چلے گا کہ حکیم بھی خطا کرگیا ہے، آپ نے فرمایا: گمراہی کی رات شیطان کسی آدمی کی زبان پر جاری کی دیتا ہے، بندہ نہ اس بات کو سنبھالتا ہے اور نہ ہی وہ اس میں کوئی غور و فکر کرتا ہے، کیونکہ منافق کبھی سچی بات کہہ دیتا ہے، اس لئے تم علم لے لو، جہاں سےبھی ملے، کیونکہ حق کا اپنا نور ہوتا ہے، اور تم پچیدہ امور سے بچ کر رہنا۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ أَيُّوبُ، ← سَعِيدُ بْنُ هُبَيْرَةَ ← أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الشَّذُورِيُّ، ← الحسن بن حليم المروزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8440

chevron_left Previous
1…232425…484
Next chevron_right