"حضرت حارث اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے یحییٰ ؑ کی طرف پانچ کلمات پر عمل کرنے کی وحی کی اور نبی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کے حکم دینے کی وحی کی ۔ پھر گویا انہوں نے اس کام میں تاخیر کر دی تو عیسیٰ ؑ ان کے پاس آئے اور کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو پانچ کلمات کا حکم دیا ہے کہ آپ ان پر عمل کریں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دیں ۔ لہٰذا یا تو آپ انہیں خبر دیں یا پھر میں انہیں خبر دیتا ہوں ۔ تو حضرت یحییٰ ؑ نے فرمایا: اے میرے بھائی ! ایسا نہ کرنا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر تم نے مجھ سے پہلے یہ کلمات نہیں بتائے تومجھے زمین میں دھنسا دیا جائے گا یا عذاب دیا جائے گا ۔ لہٰذا انہوں نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا حتی کہ مسجد بھر گئی اور لوگ برآمدوں اور بالکونیوں میں بیٹھ گئے ، پھر انہیں خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا: " بے شک اللہ تعالیٰ نے میری طرف پانچ باتوں کی وحی کی ہے ، کہ میں ان پر عمل کروں اور بنی اسرائیل کو بھی ان پر عمل کرنے کا حکم دوں ۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنانا کیونکہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے شخص کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے اپنے خالص مال سونے یا چاندی کے ساتھ ایک غلام خریدار پھر اسے گھر میں بساتا ہے اور کہتا ہے : کام کرو اور اس کی اجرت مجھے دو ۔ تو وہ کام کرتا ہے اور اس کی اجرت اپنے آقا کے علاوہ کسی اور شخص کو دے دیتا ہے ۔ تو تم میں سے کون ہے جو یہ بات پسند کرے کہ اس کا غلام ایسا ہو ۔ پس اللہ تعالیٰ تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں رزق عطا کیا ہے تو تم ا س کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ۔ اور جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو ادھر ادھر مت جھانکو ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے چہرہ اقدس کے ساتھ اپنے بندے کے چہرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جب تک وہ دوسری طرف متوجہ نہیں ہوتا ۔ اور میں تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیتا ہوں ۔ اور اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو ایک جماعت کے ساتھ ہے اور اس کے پاس کستوری کی ایک تھی ل ہے ۔ ان میں سے ہر شخص پسند کرتا ہے کہ وہ کستوری کی خوشبو سونگھ لے ۔ اور بے شک روزہ اللہ کے نزدیک کستوری کی مہک سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔ اور میں تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیتا ہوں ۔ اور اس کی مثال اس شخص کی ہے جسے دشمن نے قیدی بنا لیا ہو اور اس کے ہاتھ اس کی گردن اڑانے کےلیے اسے قریب کر لیا ہو ، تو اس نے کہنا شروع کر دیا ۔ کیا میں تمہیں اپنی جان کا فدیہ دے کر آزادی حاصل کر لوں۔ لہٰذا وہ ہر چھوٹی بڑی چیز انہیں دینا شروع کر دیتا ہے ۔ حتی کہ وہ فدیہ دے کر آزادی حاصل کر لیتا ہے ۔ اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا ذکر بکثرت کرنے کا حکم دیتا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے پیچھے تیز رفتار دشمن لگا ہو۔ حتی کہ وہ ایک مضبوط قلعہ میں آکر پناہ حاصل کرلیتا ہے ۔ اسی طر ح بندہ صرف اللہ کے ذکر کے ساتھ شیطان سے پناہ حاصل کر سکتا ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"اور میں بھی تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ (۱) جماعت کے ساتھ وابستہ رہنا ۔(۲) امیر وحکمران کی بات سننا(۳) اور اطاعت کرنا ۔ ( ۴) ہجرت کرنا (۵) اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور جس شخص نے ایک بالشت کے برابر جماعت سے علیحدگی اختیار کی تو اس نے ایمان واسلام کا پٹہ (عہد وپیمان ) اپنے سر سے اتار دیا الایہ کہ واپس لوٹ آئے اور جو شخص جاہلیت کے بول بولے تو وہ جہنمی ہے ۔ آپ سے عرض کی گئی : "اگرچہ وہ روزے رکھے اور نماز پڑھے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اگرچہ وہ روزے رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو۔ تم اللہ کی پکار کے ساتھ پکارو جس اللہ نے تمہیں اپنی پکار کے ساتھ مومنین مسلمین اور عباد اللہ کا نام دیا ہے ۔"
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1895
صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1966
أن أحمد بن عبدة حدثنا قال : ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى على نهر من ماء السماء في يوم صائف و المشاة كثير و الناس صيام فوقف عليه فإذا فئام من الناس فقال : يا أيها الناس اشربوا فجعلوا ينظرون إليه قال : إني لست مثلكم إني راكب و أنتم مشاة و إني أيسركم اشربوا فجعلوا ينظرون إليه ما يصنع فلما أبوا حول وركه فنزل و شرب و شرب الناس
و خبر ابن عباس و أنس بن مالك خرجتهما في كتاب الصيام في كتاب الكبير
أفيجوز لجاهل أن يقول : الشرب جائز للصائم و لا يفطر الشرب الصائم إذ النبي صلى الله عليه و سلم قد أمر أصحابه و هو صائم بالشرب فلما امتنعوا شرب و هو صائم و شربوا فمن يعقل العلم و يفهم الفقه يعلم أن النبي صلى الله عليه و سلم صار مضطرا و أصحابه لشرب الماء و قد كانوا نووا الصوم و مضى بهم بعض النهار و كان لهم أن يفطروا إذ كانوا في السفر لا في الحضر و كذلك كان للنبي صلى الله عليه و سلم أن يحتجم و هو صائم في السفر و إن كانت الحجامة تفطر الصائم لأن من جاز له الشرب و إن كان الشرب مفطرا جاز له الحجامة و إن كان بالحجامة مفطرا فأما ما احتج به بعض العراقيين في هذه المسألة أن الفطر مما يدخل و ليس مما يخرج فهذا جهل و إغفال من قائله و تمويه على من لا يحسن العلم و لا يفهم الفقه و هذا القول من قائله خلاف دليل كتاب الله و خلاف سنة النبي صلى الله عليه و سلم و خلاف قول أهل الصلاة من أهل الله جميعا إذا جعلت هذه اللفظة على ظاهرها قد دل الله في محكم تنزيله أن المباشرة هي الجماع في نهار الصيام و النبي المصطفى صلى الله عليه و سلم قد أوجب على على المجامع في رمضان عتق رقبة إن وجدها و صيام شهرين متتابعين إن لم يجد الرقبة أو إطعام ستين مسكينا إن لم يستطيع الصوم و المجامع لا يدخل جوفه شيء في الجماع إنما يخرج منه مني إن أمنى و قد يجامع من غير إمناء في الفرج فلا يخرج من جوفه أيضا مني و التقاء الختاتين من غير إمناء يفطر الصائم و يوجب الكفارة و لا يدخل جوف المجامع شيء و لا يخرج من جوفه شيء إذا كان المجامع هذه صفته و النبي المصطفى صلى الله عليه و سلم قد أعلم أن المستقيء عامدا يفطره الاستقاء على العمد و اتفق أهل الصلاة و أهل العلم على أن الاستقاء على العمد يفطر الصائم و لو كان الصائم لا يفطره إلا ما يدخل جوفه كان الجماع و الاستقاء لا يفطران الصائم
و جاء بعض أهل الجهل بإعجوبة في هذه المسألة فزعم أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما قال : أفطر الحاجم و المحجوم لأنهما كانا يغتابان فإذا قيل له : فالغيبة تفطر الصائم ؟ زعم أنها لا تفطر الصائم فيقال له : فإن كان النبي صلى الله عليه و سلم عندك إنما قال : أفطر الحاجم و المحجوم لأنهما كانا يغتابان و الغيبة عندك لا تفطر الصائم فهل يقول هذا القول من يؤمن بالله يزعم أن النبي صلى الله عليه و سلم أعلم أمته أن المغتابين مفطران و يقول هو : بل هما صائمان غير مفطرين فخالف النبي صلى الله عليه و سلم الذي أوجب الله على العباد طاعته و اتباعه و وعد الهدى على اتباعه و أوعد على مخالفيه و نفى الإيمان عمن وجد في نفسه حرجا من حكمه فقال : { فلا و ربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم } الآية و لم يجعل الله جل و علا لأحد خيرة فيما قضى الله و رسوله فقال تبارك و تعالى : { و ما كان لمؤمن و لا مؤمنة إذا قضى الله و رسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم } و المحتج بهذا الخبر إنما صرح بمخالفة النبي صلى الله عليه و سلم عند نفسه بلا شبهة و لا تأويل يحتمل الخبر الذي ذكره إذا زعم أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما قال للحاجم و المحجوم : مفطران لعلة غيبتهما ثم هو زعم أن الغيبة لا تفطر فقد جرد مخالفة النبي صلى الله عليه و سلم بلا شبهة و لا تأويل
و قد روي عن المعتمر بن سليمان عن حميد عن أبي المتوكل عن أبي سعيد رخص النبي صلى الله عليه و سلم في القبلة للصائم و الحجامة للصائم
''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک شدید گرمی والے دن بارش کے پانی کی نہر پر تشریف لائے جبکہ پیدل چلنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی اور لوگوں نے روزہ بھی رکھا ہو ا تھا تو آپ نے اس نہر پر کھڑے ہو گئے تو نا گہاں لوگوں کی ایک جماعت بھی پہنچ گئی تو آپ نے فرمایا :'' اے لوگو! پانی پی لو۔''تو وہ آپ کی طرف دیکھنے لگے(کہ آپ خود کیا عمل کرتے ہیں)آپ نے فرمایا : ''میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ بے شک میں سورا ہوں اور تم پیدل چل رہے ہو، اور میں تمہاری نسبت آسانی اور سہولت میں ہوں ، تم پانی پی لو۔'' وہ آپ کی طرف دیکھتے رہے کہ آپ کیا عمل کرتے ہیں ۔ پھر جب انہوں نے پانی پینے سے احتراز کیا تو آپ نے اپنا قدم موڑ ا اور سواری سے نیچے اترآئے اور پانی پی لیا ۔ اور (یہ دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا ۔''امام صاحب فرماتے ہیں :''میں نے حضرت ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایات ''کتاب الکبیر'' کی کتاب الصیام میں بیان کر دی ہیں۔ کیا کسی جاہل آدمی کےلیے یہ کہنا جائز ہے کہ روزے دار کےلیے مشروب پینا جائز ہے اور مشروب پینے سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا ، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو پانی پینے سے احتراز کیا تو آپ نے روزے کی حالت میں ہی پانی پی لیا اور انہوں نے بھی پی لیا ۔لہٰذا جو شخص علمی بصیر ت رکھتا ہو اور فقہی سو جھ بوجھ کامالک ہے وہ جانتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام پانی پینے پر مجبور ہوگئے تھے حالانکہ انہوں نے روزے کی نیت کی ہوئی تھی اور دن کا کچھ حصہ وہ گزار چکے تھے۔ اور ان کےلیے روزہ کھولنا جائز تھا کیونکہ وہ سفر میں تھے مقیم نہیں تھے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کےلیے سفر کے دوران روزے کی حالت میں سینگی لگوانا جائز تھا اگر چہ سینگی لگواے وے روزہ ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جس شخص کےلیے پانی پینا جائز ہے اگرچہ پانی سے روزہ ختم ہو جاتا ہے تو اس شخص کےلیے سینگی لگوانا بھی جائز ہے اگر چہ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ کاتا ہے۔ البتہ عراقی علما ء کی اس مسئلہ میں یہ دلیل کہ روزہ پیٹ میں داخل ہونے والی چیز سے ٹوٹتا ہے اور پیٹ سے نکلنے والی چیز سے نہیں ٹوٹتا تو یہ قول قاہل کی جہالت اور غفلت کی دلیل ہے۔ اور کم علم ، کم فہم لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے اس شخص کا یہ قول اللہ تعالی ٰکی کتاب ، نبی کریم ﷺ کی سنت اور تمام اہل الہ مسلمانوں کے قول کے خلاف ہے۔ جبکہ ان الفاظ کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے ۔ اللہ تعالہ نےاپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ روزے کے دن میں مباشرت کرنا جما ع کے حکم میں ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں (دن کے وقت)جماع کرنے والے شخص پر ایک گردن آزاد کرنا واجب کیا ہے اگر اس کے پاس طاقت ہو۔ اور اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے اور اگر روزے نہ رکھ سکتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا کفارہ واجب کیا ہے ۔ حالانکہ جماع کرنے والے کے پیٹ میں کوئی چیز داخل نہیں ہوتی بلکہ اس سے منی نکلتی ہے اگر منی کا خروج ہو اور کبھی بغیر منی نکالے بھی عورت کی شرم گاہ میں جماع کر سکتا ہے تو اس وقت اس کے پیٹ سے بھی منی نہیں نکلتی حالانکہ دونوں شرم گاہوں کا بغیر منی ٹپکائے مل جانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔ جبکہ اس حالت میں جماع کرنے والے کے پیٹ میں نہ کوئی چیز داخل ہوتی ہے اور نہ کچھ نکلتا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ قصیداً قے کرنے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ اہل علم اور مسلمان کا اتفاق ہے کہ عمداً قے کرنے سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر روزے دارکا روزہ صرف پیٹ میں داخل ہونے والی چیز ہی سے ٹوٹتا ہو تو پھر جماع اور قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہیے ۔ کچھ جاہل لوگوں نے اس مسئلے میں ایک اور عجوبہ بیان کیا ہے ان کے خیال میں نبی کریم ﷺ نے سینگی لگانے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے'' یہ فرمان اس لیے جاری کیا تھا کہ وہ دونوں غیبت کر رہے تھے۔ جب اس شخص سے کہا جاتا ہے: کیا غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ تو کہتا ہے غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو اس شخص سے کہا جائے گا:''اگر تمہارے نزدیک نبی کریم ﷺ کے اس فرمان ''سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔''کی وجہ یہ ہے کہ وہ دونوں غیبت کررہے تھے۔ اور غیبت سے تمہارے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا تو کیا کوئی ایسا شخص جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ یہ بات کرسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو بتایا ہو کہ غیبت کرنے والے دونوں افراد کا روزہ ٹوٹ گیا ہے اور یہ شخص کہے کہ دو دونوں روزے دار ہیں ان کا روزہ نہیں ٹوٹا ۔ اس طرح اس شخص نے نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی ہے حالانکہ اللہ تعالی ٰ نے اپنے بندوں پر اپنے رسو ل کی اطاعت و اتباع واجب کی ہے اور آپ کی اتباع کرنے پر ہدایت دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ آپ کے مخالفین کو وعید سنائی ہے اور آپ کے فیصلے پر دلی تنگی محسوس کرنے والے کے ایمان کی نفی کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:(فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْ مِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ)'' آپ کے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں ہوسکتےجب تک کہ وہ اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ۔''اور اللہ تعالی نے اپنے اور اپنے رسول کے فیصلہ شدہ امور میں کسی شخص کو اختیار نہیں دیا اللہ تعالی فرماتے ہیں (وَمَاکَانَ لِمُؤْ مِنٍ وَلَا مُؤْ مِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہُ أَمُرّاأَن یَّکُوْن لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِن أَمْرِھِمْ) ''اور کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کو یہ خق نہیں کہ جب اللہ اور اس کارسو ل کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو ان کےلیے اپنے معاملے میں ان کا کوئی اختیار رہے۔''اور اس حدیث میں استدلال کرنے والے شخص نے اپنے پاس موجود کسی شبیہ اور تاویل کے بغیر صریحاً نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی ہے ۔ اس حدیث میں اس کی اس تاویل کی کوئی گنجائش نہیں کہ آپ نے سینگی لگانے اور سینگی لگوانے والے کو غیبت کرنے کی وجہ سے کہا کہ ان کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ پھر خود اس شخص کا گمان ہے کہ غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا اس طرح اس شخص نے بغیر کسی شہے اور تاویل کے نبی کریم ﷺ کی واضح مخالفت کی ہے ۔ جناب معتمر بن سلیمان کی سند سے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے دار کےلیے (اپنی بیوی) بوسہ لونے اور سینگی لگوانے کی رخصت دی ہے۔"
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أن أحمد بن عبدة
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1966
صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2014
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمﷺ سے فتویٰ پوچھنے کےلیے حاضر ہوا جبکہ حضرت عائشہ ؓ دورازے کے پیچھے سن رہی تھیں، تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول!مجھے جنابت کی حالت میں نماز کا وقت ہو جاتا ہے ، تو کیا میں روزہ رکھوں؟ تو رسوھ اللہﷺ نے فرمایا: " مجھے بھی اس حالت میں نماز کا وقت ہو جاتا ہے کہ میں جنبی ہوتا ہوں ، تو میں روزہ رکھتا ہوں ، اس نے عرض کی: "اے اللہ کے رسول!آپ ہماری طرح نہیں ہیں ، یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام قصور معاف فرما دئیے ہیں۔" تو آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم! بے شک مجھے امید ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ تقویٰ کو جاننے والا ہوں ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: "یہ امید اسی جنس کے متعلق ہے جس کے بارے میں کہتا ہوں :"کہ آدمی جس چیز میں کوئی شک و شبہ نہ رکھتا ہو اس کے بارے میں کہہ دیتا ہے : "مجھے امید ہے کہ میں ایسے ایسے ہوں گا ۔"کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریمﷺکو اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں بلکہ آپ کو مکمل یقین ہے کہ آپ سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والے اور ان سب سے بڑھ کر تقویٰ کی چیزوں کو جاننے والے ہیں ۔ یہ مسئلہ اسی قسم سے ہے جو علقمہ بن قیس سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا : کیا آپ مومن ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے امید ہے کہ میں مومن ہوں ۔ جبکہ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ وہ ان مؤمنوں میں سے تھے جن پر مومنوں کے احکام نکاح ، خرید وفروخت اور شریعت کے دیگر احکام لاگو ہوتے ہیں ۔ میں نے یہ مسئلہ "کتاب الایمان "میں بیان کیا ہے ۔ لیجیے ا س بات کی واضح دلیل سنیے کہ آپ کے اس فرمان"مجھے امید ہے "سے مراد پختہ یقین ہے جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ آپ نے قسم اٹھا کر فرمایا تھا کہ آپ سب لوگوں سے بڑ ھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔"
"جناب ایوب کہتے ہیں :حضرت ابوقلابہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی پھر انہوں نے مجھے کہا:"کیا تمہیں اس استاد کی معرفت حاصل کرنے کا شوق ہے جس نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی؟ پھر مجھے اس کے بارے میں بتایا تو میں انہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے قریبی رشتہ دار حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس اپنے اونٹوں کے سلسلے میں حاضر ہوا جو کہ پکڑ لیے گئے تھے ، تو میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کھانا کھا رہے تھے تو آپ نے مجھے کھانا کھانے کی دعوت دی تو میں نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ آپ نے فرمایا: قریب ہو جاؤ یا فرمایا: آجاؤ ( کھا لو ) میں تمہیں اس بارے میں خبر دوں گا ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز معاف کرد ی ہے ۔ اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی ( روزہ معاف کر دیا ہے ) حضرت انس ؓ اس کے بعد فرمایا کرتے تھے : "اے کاش! میں رسول اللہﷺکی دعوت پر آپ کے کھانے میں سے کھا لیتا۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : " یہ روایت اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے جسے میں نے کتاب الایمان میں بیان کیا ہے کہ نصف کا اطلاق کسی چیز کے کسی حصے پر بھی ہو جاتا ہے اگرچہ وہ حصہ مکمل طور پر آدھا بھی نہ ہو ۔ نبی اکرمﷺنے اس روایت میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے شطر( آدھی ) نماز معاف کر دی ہے ۔ اس مقام پر شطر کا معنی نصف ہے ۔ اس جگہ شطر کا معنی طرف ، سمت اور جہت نہیں ہے ۔ میری مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :(فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ)(البقرہ:۱۴۴)"تو تم مسجد حرام کی طر ف اپنے چہرے کو پھیر لو ۔ "( اس میں شطر کا معنی: طرف اور جہت ہے ) اور اللہ تعالیٰ نے مسافر سے مکمل آدھی نما زمعاف نہیں کی ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو نماز فجر اور مغرب سے کچھ نما ز معاف نہیں کی۔"
''حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''تم میں سے کس نے آج صبح روزے کی حالت میں کی ہے۔؟ حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا : میں نے ۔ آپ نے فرمایا: ''تم میں سے کس شخص نے آج کسی مسکین کو کھاناکھلایا ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: میں نےکھلایاہے۔آپ نے پھر یوچھا: تم میں سے کس شخص نے آج جنازے میں شرکت کی؟ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کی: میں نے شرکت کی ہے۔آپ نے دریافت فرمایا: ''تم میں سے کسی نےمریض کی عیادت کی ہے؟ حضرت ابو بکر ؓ نے جواب دیا: میں نے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''جس شخص میں بھی یہ خوبیاں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔''اما م ابو بکرؒ فرماتے ہیں: ''یہ روایت اس قسم سے ہے جسے میں نے کتاب الا یمان مین بیان کیا ہے۔لہذا اگر آپ کے اس فرمان : ''جس شخص نے لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔''میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ لا الہ الا اللہ کا اقرار ہی مکمل ایما ن ہے پھر اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ مکمل ایمان ایک روزہ روزہ کھنا ، مسکین کو کھانا کھلانا، جنازے میں شریک ہونا اور بیمار کی تیمارداری کرنا ہے۔ لیکن یہ تو ان اعمال کے فضائل ہیں ۔ ان سے مقصود وہ نہیں ہے جیساکہ کم علم نا تجربہ کار لوگوں نے دعویٰ کیا ہے۔''
"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ رسول اللہﷺ (گھر سے باہر ) لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے جب ایک شخص چلتے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا:"اے اللہ کے رسول! ایمان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتاب ، اس کی ملاقات اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور تو آخرت کے دن اٹھنے پر یقین رکھے ۔" اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے ، اور نماز قائم کرے اور توفرض زکاۃ ادا کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔" اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! احسان کی حقیقت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: "احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے کہ گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تو اسے دیکھ نہیں رہا تو بلاشبہ وہ توتمہیں دیکھ رہا ہے ۔ "اس نے پوچھا : اے ا للہ کے رسول! قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا: "جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ لیکن میں تمہیں اس کی نشانیاں بتا دیتا ہوں ۔ جب لونڈی اپنے مالک کو جنے گی تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب بکریوں کے چرواہے بلند وبالا عمارات بنانے میں فخر وغرور کا اظہار کریں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی اور جب ننگے بدن ، ننگے پاؤں چلنے والے( فقراء) لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ قیامت کی نشانی ہوگی۔ قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(اِنَّ اللہَ عِنْدَہْ عَلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَافِی الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَاتَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ بِأَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ)(لقمان:۳۴)"بے شک قیامت کا علم اللہ ہی کا پاس ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ خوب جاننے والا پوری طرح باخبر ہے ۔"پھر وہ شخص پشت پھیر کر چلا گیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا : "یہ جبرائیلؑ ہیں ، لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے"یہ روایت جناب محمد بن بشر کی ہے ۔"
"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ ربیعہ قبیلے کے لوگ ہیں او رہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کافر حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینے میں ہی آسکتے ہیں تو آپ ہمیں کوئی ایسی چیز بتاد یں جس پر ہم خود عمل پیرا ہوں اور اپنے پیچھے رہ جانے والے افراد کو اس کی دعوت دیں ۔ آپ نے فرمایا: "میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ۔ میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے اور اس بات کی گواہی دینے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، نماز قائم کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور تمہیں جو غنیمت حاصل ہو اس میں سے خمس ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اور میں تمہیں کدو کے برتن ، سبز رنگ گھڑے ، لکڑی کرید کر بنائے گئے برتن اور تار کول لگے ہوئے برتن سے منع کرتا ہوں۔"
"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کے پاس حاضر ہوا ۔ پھر مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ۔ اور فرمایا: " اللہ پر ایمان لانا" پھر انہیں اس کی تفسیر یہ بتائی کہ اس سے مراد یہ گواہی دینا ہے کہ اللہ کےسوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔"پھر لمبی حدیث بیان کی۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ← عباد يعني ابن عباد المهلبي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2246
صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2311
حضرت ابوسعید خدری ؓ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور ایک وسق ساٹھ صاع ہوتا ہے ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :مختوم سے مراد صاع ہے ۔ علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایک وسق ساٹھ صاع ہوتا ہے اور میں کتاب الایمان والنذور میں قسم کے کفارے کے بیان میں صاع کی مقدار بیان کر چکا ہوں۔
حضرت عبدالرحمٰن بن یعمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریمﷺ کے پاس عرفات میں حاضر ہوا ، اور آپ کے پاس نجد کے کچھ لوگ بھی حاضر ہوئے جبکہ وہ بھی عرفات ہی میں تھے۔ انھوں نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے منادی کرنے والے کو حکم دیا تو اس نے یہ اعلان کیا: "حج عرفہ ہے۔ " جو شخص مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات پہنچ گیا تو اس نے حج پالیا منیٰ میں ٹھہرنے کے تین دن ہیں ۔ پھر جو شخص دو دن میں جلدی کرے تو اس پر گناہ نہیں اور جو تا خیر کرئے (تیسرا دن بھی منیٰ میں گزارے ) تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا جو یہ اعلان کر رہا تھا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "حج عرفہ ہے۔" یہ مسئلہ اسی قسم سے ہے جسے میں کتاب الایمان میں بیان کر چکا ہوں کہ کبھی الف لام کے ساتھ معرفہ بننے والے اسم کا اطلاق پوری چیز کی بجائے اس کے کسی جز اور حصے پر بھی ہو جاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ "الحج" کہہ کر مراد عرفات کا وقوف لیا ہےحلانکہ وقوف عرفات مکمل حج نہیں ہے بلکہ یہ تو حج کا ایک حصہ ہے ۔ میں نے کتاب الایمان میں یہ قسم بیان کر دی ہے، جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دینی سمجھ بوجھ اور درست راستےکی ہدایت دی ہو اس کے لیے یہ کافی ہے۔
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: احد کے دن جب مشرکین واپس پلٹ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صفیں درست کرو، میں اپنے رب کی توصیف وثناء بیان کروں ۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا شروع کی’’ للَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا بَسَطْتَ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ، وَلَا هَادِيَ لِمَنْ أَضْلَلْتَ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ، وَلَا مُبَاعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ، وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ، اللَّهُمَّ عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا، وَشَرِّ مَا مَنَعْتَنَا، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ، وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِهَ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ، غَيْرَ خَزَايَا، وَلَا مَفْتُونِينَ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ إِلَهَ الْحَقِّ‘‘ اے اللہ تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں ۔ اے اللہ! تو جس کے لیے کشادگی کر دے اس کو کوئی روکنے والانہیں ہے اور جس کو روک لے اس کو پھیلانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اور جس کوتو بھٹکا دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ اور جس کو تو ہدایت دے دے اس کو کوئی بھٹکانے والانہیں ہے ۔ جس سے تو روک دے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور جس کو تو دے دے، اس سے کوئی روکنے والانہیں ہے ۔ اور جس کوتو دور کر دے اس کو کوئی قریب کر نے والانہیں ہے ۔ اور جس کو تو قریب کر لے اس کو کوئی دور کر نے والانہیں ہے ۔اے اللہ ! ہم پرا پنی برکتیں ، رحمتیں ،اپنافضل اوراپنارزق کھول دے۔ اے اللہ ! میں قیامت کے دن تجھ سے نعمتوں کا اورخوف کے دن امن کا سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جوتو نے ہمیں عطافرمائی اوراس چیز کے شر سے جو تو نے ہم سے روکی ۔اے اللہ! ہمیں ایمان سے محبت عطا فرما۔اور ہمارے دلوں میں ایمان کو مزین فرما: (اے اللہ ! ) ہمیں کفر فسق اور گناہوں سے نفرت عطا کر ۔ اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔اے اللہ! ہمیں وفات دے تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور زندہ رکھ تو اس حال میں کہ ہم مسلمان ہوں اور ہمیں نیک لوگوں میں شمارفرما ہمیں رسوا نہ کر اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال ۔ اے اللہ ! کافروں کو ہلاک فرما جو تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں ۔اے میرے معبود برحق ان پر اپنا عذاب نازل فرما۔ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم لوگ قریش سے ملتے تھے، وہ لوگ بات چیت کررہے ہوتے ، ان کو دیکھتے ہی وہ لوگ اپنی بات ختم کر دیتے، اس عمل کا ذکر ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: اس قوم کا کیا حشر ہوگا جوآپس میں بات چیت کرتے ہیں، جیسے ہی میرے کسی رشتہ دار کو دیکھتے ہیں تو اپنی بات ختم کر دیتے ہیں، اللہ کی قسم ! کسی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک قریش کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے اور میری رشتہ داری کی بناء پر محبت نہ کرے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Quraysh · Hadith 6960
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ قُرَيْشٍ · حديث 6961
یزید ابن ابی زیاد،عبداللہ بن الحارث کے واسطے سے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم جب قریش لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بہت خندہ پیشانی سے ملتے ہیں، لیکن جب وہ ہم سے ملتے ہیں تو ان کے چہروں پر ناگواری کے آثار ہوتے ہیں ۔ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم بہت سخت ناراض ہوئے پھر فرمایا: اس ذات کی تم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمدصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی جان ہے، کسی آدی کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے تم سے محبت نہیں کرے گا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Quraysh · Hadith 6961
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضِيلَةِ أَسْلَمَ وَغِفَارٍ وَمُزَيْنَةَ وَغَيْرِهِمْ · حديث 6979
حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و الہ و سلم غزوہ کے لئے تیار کئے گئے گھوڑوں کا معائنہ فرمارہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس عیینہ بن بدر الفزاری موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان سے کہا: گھوڑوں کے بارے میں، تجھ سے زیادہ میں جانتا ہوں، حضرت عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں مردوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے زیادہ جانتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: بتایئے ، سب سے بہتر مرد کون ہے؟ عیینہ رضی اللہ عنہ نے کہا:نجد کے وہ باشندے وہ جو اپنی تلوار میں اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، اپنے نیزے اپنے گھوڑوں کی زینوں پر رکھتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: تم نے جھوٹ بولا ہے( بہترین مرد نجد کے لوگ نہیں) بلکہ بہترین مرد ،یمن کے مرد ہیں ۔ اور یمن سے لخم اور جدام تک کے لوگوں کا ایمان قابل قدر ہے، اور وہاں کے کھانوں میں سے بہترین کھانا حمیر کا کھانا ہے، اور حضرموت ، بنی الحارث سے اچھے ہیں، اور اللہ کی قسم! مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تمام حارثین ہلاک ہو جائیں۔ چار بادشاہوں پر الله تعالی کی لعنت ہو۔ (وہ چار بادشاہ یہ ہیں ) جمدا، مخوسا، ابضعہ ، ان کی بہن عمر دہ ۔ پھر فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے دومرتبہ حکم دیا کہ میں قریش پر لعنت کروں ، میں نے ان پر لعنت کی ، اور اللہ تعالی نے دو مرتبہ مجھے حکم دیا کہ میں ان کی نماز جنازہ پڑھوں ، میں نے دونوں مرتبہ ان کی نماز جنازہ پڑھی، پھر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے تمیم بن مرہ پر پانچ مرتبہ اوربکر بن وائل پر سات مرتبہ لعنت فرمائی۔ بنی تمیم کے قبیلوں میں سے مقاعس اور ملا دسں پر لعنت کی ، پھر فرمایا: کچھ لوگ نافرمان ہیں، انہوں نے اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ وہ عبدقیس ، جعده اور عصمہ ہیں ۔ پھر فرمایا: قیامت کے دن قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ اور جہینہ میں سے ان کے حلیف قبائل، بنی اسد،تمیم اور غطفان اور ہوازن سے بہتر ہوں گے۔ پھر فرمایا: عرب کے قبیلوں میں سب سے برے دو قبیلے ہیں، نجران اور بنو تغلب۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the Virtue of Islam, Forgiveness, Adornment, and others · Hadith 6979
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ الْأُمَّةِ بَعْدَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ · حديث 6993
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: کیا تم جانتےہو کہ اہل ایمان میں سب سے افضل ایمان کس کا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم "فرشتے"۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: بالکل، بات اسی طرح ہے، یہ ان کا حق ہے، ان کو اس حق سے کیا چیز روکے گی ، جبکہ اللہ تعالی نے ان کو یہ مقام خود عطا فرمایا ہے، میری مراد فرشتوں کے علاوہ ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر انبیاء کرامؑ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اور رسالت کے ساتھ سرفراز فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: بالکل، بات درست ہے، وہ لوگ اسی منصب کے حقدار ہیں، اوران اس سے کیا چیز روکے گی ، جبکہ خود اللہ تبارک وتعالی نے ان کو اس مقام پر پہنچایا ہے، میری مراد ان کے علاوہ ہے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم پھر وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: کچھ لوگ فی الحال مردوں کی پشتوں میں ہیں، میرے بعد پیدا ہوں گے، وہ مجھے دیکھے بغیر مجھ پر ایمان لائیں گے۔ وہ (قرآن کریم کا) ایک کا غذ لٹکتا ہوا پائیں گے تو اس پر عمل شروع کردیں گے ، ایمان کے لحاظ سے وہ لوگ سب سے افضل ہوں گے۔
رَسُولُ اللَّهِ «أَتَدْرُونَ أَيُّ أَهْلِ الْإِيمَانِ أَفْضَلُ إِيمَانًا؟» ← كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ جَالِسًا ← عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← محمد بن أبي حميد ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أحمد بن مهدي بن رستم ← أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of the nation after the Companions and the Successors · Hadith 6993
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1923
حضرت سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو انتہائی مختصر نماز پڑھائی ، ان سے کہا گیا اے ابو یقظان! آج آپ نے بہت مختصر نماز پڑھائی ہے (اس کی وجہ کیا ہے) انہوں نے جواب دیا: مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے، میں نے اس میں وہ دعائیں مانگی ہیں ، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں ۔سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ابوعطاء نے ان سے اس دعا کے متعلق در یافت کیا تو انہوں نے بتایا (کہ وہ دعا یہ تھی ) اے اللہ ! تجھے تیرے علم غیب اور مخلوق پر تیری قدرت کا واسطہ مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک تیرے علم میں میرے لئے زندگی بہتر ہے اور اس وقت مجھے موت دے دے، جب تیرے علم میں میرے لئے موت بہتر ہو ۔اور میں ہمیشہ حکمت کی بات بولوں ۔ اور دولت مندی وفقر میں میانہ روی اختیار کروں اور میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ہلاک نہ ہوں اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک مانگتا ہوں جوک بھی ختم نہ ہواور میں تجھ سے فیصلے کے بعد رضا کا سوال کرتا ہوں اور مرنے کے بعداچھی زندگی کا سوال کرتا ہوں اور تیری ذات کے دیدار کا سوال کر تا ہوں اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں ( اور یہ سب کچھ) کسی نقصان اور آزمائش میں مبتلا ہوئے بغیر ( ہو جائے ) اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت کے ساتھ مزین فرما۔اور ہدایت یافتہ را ہنما بنا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ پر ایمان لانے کے سلسلہ میں خدیجہ بنت خویلد تمام جہان کی عورتوں پر سبقت لے گئیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4846
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ إِسْلَامِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ · حديث 4878
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی اسلم کے ایک شخص نے ہمیں بتایا ہے کہ ابو جہل لعین کو ہ صفا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پڑا ہوا تھا، اور آپ ﷺ کو تکلیفیں اور گالیاں دے رہا تھا، اور آپ ﷺ کی کردار کشی کر رہا تھا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کوئی جواب نہ دیا۔ اور عبداللہ بن جدعان کی آزاد کر دہ لونڈی کوہ صفا کے اوپر اپنی رہائش گاہ میں یہ سب سن رہی تھی۔ پھر ابو جہل وہاں سے نکل آیا اور کعبہ کے قریب قریش کی ایک مجلس میں آکر بیٹھ گیا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب اپنی کمان زیب تن کئے ہوئے شکار سے واپس لوٹے، اور آپ جب بھی شکار سے واپس لوٹتے تو گھر جانے سے پہلے کعبۃ اللہ کا طواف کرتے، پھر وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس ٹھہرتے، دعا سلام کے بعد ان کے پاس بیٹھ کر کچھ دیر بات چیت کرتے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کے جوانوں میں سے سب سے زیادہ معزز اور غیور تھے۔ اور حضر ت حمزہ ابھی تک اپنی قوم کے دین پر قائم تھے، مشرک تھے ۔ وہ لونڈی حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئی ) اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر جانے کے لئے روانہ ہو چکے تھے) اور کہنے لگی: اے ابو عمارہ! کاش کہ تم وہ حالات دیکھ لیتے جو ابو الحکم نے تیرے چچا زاد بھائی محمد کے ساتھ کیا ہے۔ ابھی کچھ دیر پہلے یہاں پر اس (بد بخت) کی ان سے ملاقات ہوئی اور اس نے محمد ﷺ کو بہت تکلیف دی اور گالیاں بکی ہیں ، اور بہت برا بھلا کہا۔ پھر وہ یہاں سے کعبہ کے قریب بیٹھے ہوئے قریش کی ایک مجلس کی جانب چلا گیا ہے، اس پورے معاملے میں محمد ﷺ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت غصہ آیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں نبی اکرم ﷺ کی عزت و کرامت ڈال دی تھی۔ آپ بہت جلدی کے ساتھ وہاں سے نکلے، اور جس طرح پہلے بیت اللہ کے طواف کے لئے جاتے ہوئے لوگوں کے پاس ٹھہرا کرتے تھے اس دن کسی کے پاس بھی نہیں ٹھہرے بلکہ ابو جہل کو تلاش کرتے ہوئے سیدھے مسجد حرام میں گئے ، جب مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں کے درمیان بیٹھے ابو جہل پر نظر پڑ گئی ، تو آپ سیدھے اسی کے پاس آئے، اس کے پاس کھڑے ہو کر اپنی کمان اس کے سر پر بہت زور سے ماری ، بنی مخزوم کے کچھ لوگ ابو جہل کی حمایت میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ لڑنے کے لئے کھڑے ہوئے، اور کہنے لگے: اے حمزہ ! ہمیں لگ رہا ہے کہ تم اپنا دین چھوڑ رہے ہو، حضرت حمزہ نے فرمایا: مجھے کوئی روک سکتا ہے؟ میرے اوپر یہ حقیقت آشکار ہوگئی ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور بے شک جو کچھ وہ کہتے ہیں برحق ہے۔ خدا قسم! میں اس دین کو نہیں چھوڑتا ہوں، اگر تم سچے ہو تو مجھے روک کر دکھاؤ، ابو جہل نے کہا: ابو عمارہ کو چھوڑ دو، میں نے اس کے چچا زاد بھائی کو بہت غلیظ گالیاں دی ہیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام پر قائم رہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے رہےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے آسانیاں پیدا کرتے رہے۔ جب حضر ت حمزہ مسلمان ہو گئے تو قریش کہ یہ یقین ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقویت پا رہے ہیں، اور حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کا دفاع کریں گے اس لئے تم جو سازشیں مسلمانوں کے خلاف کر رہے تھے ان سے اب باز رہو، اسی سلسلہ میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے جب ابو جہل کو پہلی ضرب لگائی تو غیر مستقررجز میں جو کچھ کہا اس کا آغاز یوں کیا: ذق ابا جہل بما غشیت راوی کہتے ہیں: پھر حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر تشریف لائے، تو شیطان آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ قریش کے سردار ہیں، آپ نے اس صابی کی پیروی اختیار کر لی ہے ، اور اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ دیا ہے، آپ نے جو کچ کیا ہے اس سے تو موت بہتر ہے۔ حضرت حمزہ نے دعا مانگی : یا اللہ ! اگر میں ہدایت پر ہوں تو اس کی تصدیق میرے دل میں ڈال دے ورنہ میں جس میں مبتلا ہو چکا ہوں اس سے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے۔ آپ نے یہ رات اس قدر پریشانی میں گزار ی کہ اس پہلے کبھی بھی ایسا نہیں ہوا تھا، ساری رات شیطانی وسوسے آتے رہے، جب صبح ہوئی تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے میرے بھتیجے ! میں ایسے مخمصے میں پھنسا ہوا ہوں کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس سے کیسے جان چھڑاؤں، میں ایسے نظرئیے پر قائم نہیں رہ سکتا جس کے بارے میں مجھے یہ پتا ہی نہیں ہے کہ یہ راہ حق ہے یا گمراہی ہے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی بات بتا دیں کہ جس سے مجھے اطمینان قلبی حاصل ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو وعظ و نصیحت فرمائی، کچھ خوشخبریاں سنائیں،کچھ ڈر سنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پند و نصائح کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایمان مضبوط کر دیا۔ تب وہ بولے: میں ایک سمجھدار ، مصدق کی طرح گواہی دیتا ہوں کہ آپ بے شک سچے ہیں ۔ اس لئے اے میرے چچا کے بیٹے! آپ اپنے دین کو ظاہر کریں، خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ آج کا سورج طلوع ہوا ور میں اپنے سابقہ دین پر ہوں۔ چنانچہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی بدولت اللہ تعالیٰ نے دین کو عزت بخشی ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Islam of Hamzah ibn Abd al-Muttalib · Hadith 4878
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2141
حضرت ابن ابی ثابت رضی اللہ عنہ نے ابو وائل کے واسطے سے حضرت قیس ابن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اس وقت ہم لوگ مدینہ میں غلاموں کی تجارت کرتے تھے اور ہم اپنے آپ کو سماسرہ (دلال ) کہتے تھےتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے زیادہ اچھے نام کے ساتھ پکارا جو ہم خود اپنا نام رکھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے گروہ تاجراں ! اس تجارت میں فضول گوئی اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں اس لیے اس کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔ (مذکورہ حدیث کی تین سندیں بیان کی گئی ہیں جبکہ ) یہ الفاظ سفیان ثوری کی روایت کے ہیں ۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک شخص نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بار ے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تجھے نیکیوں پر خوشی اور گناہ پر پریشانی ہو تو مومن ہے ۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گناہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تیرے سینے میں کھٹکے اس کو چھوڑ دو ۔