Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الإيمان

Iman

  • Iman
  • ایمان

9667 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24311

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَقَالَ طُوبَى لِهَاتَيْنِ الْعَيْنَيْنِ اللَّتَيْنِ رَأَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوَدِدْنَا أَنَّا رَأَيْنَا مَا رَأَيْتَ وَشَهِدْنَا مَا شَهِدْتَ فَاسْتُغْضِبَ فَجَعَلْتُ أَعْجَبُ مَا قَالَ إِلَّا خَيْرًا ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا يَحْمِلُ الرَّجُلُ عَلَى أَنْ يَتَمَنَّى مَحْضَرًا غَيَّبَهُ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَدْرِي لَوْ شَهِدَهُ كَيْفَ كَانَ يَكُونُ فِيهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْوَامٌ أَكَبَّهُمْ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ لَمْ يُجِيبُوهُ وَلَمْ يُصَدِّقُوهُ أَوَلَا تَحْمَدُونَ اللَّهَ إِذْ أَخْرَجَكُمْ لَا تَعْرِفُونَ إِلَّا رَبَّكُمْ مُصَدِّقِينَ لِمَا جَاءَ بِهِ نَبِيُّكُمْ قَدْ كُفِيتُمْ الْبَلَاءَ بِغَيْرِكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَشَدِّ حَالٍ بُعِثَ عَلَيْهَا نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَاءِ فِي فَتْرَةٍ وَجَاهِلِيَّةٍ مَا يَرَوْنَ أَنَّ دِينًا أَفْضَلُ مِنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ فَجَاءَ بِفُرْقَانٍ فَرَقَ بِهِ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ وَفَرَّقَ بَيْنَ الْوَالِدِ وَوَلَدِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَرَى وَالِدَهُ وَوَلَدَهُ أَوْ أَخَاهُ كَافِرًا وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ قُفْلَ قَلْبِهِ لِلْإِيمَانِ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِنْ هَلَكَ دَخَلَ النَّارَ فَلَا تَقَرُّ عَيْنُهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ وَأَنَّهَا لَلَّتِي قَالَ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ

جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی وہاں سے گذرا اور کہنے لگا یہ آنکھیں کیسی خوش نصیب ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے واللہ ہماری تو یہ تمنا ہی رہی کہ جو آپ نے دیکھا ہم نے بھی وہی دیکھا ہوتا اور جن چیزوں کا مشاہدہ آپ نے کیا ہم نے بھی ان کا مشاہدہ کیا ہوتا اس پر وہ غضبناک ہوگئے مجھے اس پر تعجب ہوا کہ اس نے تو ایک اچھی بات کہی ہے پھر وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ انسان کو اس خواہش پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے کہ وہ ان مواقع پر حاضر ہونے کی تمنا کرتا ہے جن سے اللہ نے اسے غائب رکھا اسے معلوم نہیں کہ اگر وہ اس موقع پر موجود ہوتا تو اس کا رویہ کیا ہوتا واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جنہیں اللہ ان کے سینوں کے بل جہنم میں اوندھا دھکیل دے گا یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہا اور نہ ہی ان کی تصدیق کی ۔ نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرتے ہو دوسروں کے ذریعے آزمائشوں سے تمہیں بچا لیا گیا ہے واللہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زمانہ فترت وحی اور جاہلیت میں بھیجا جو کسی بھی نبی کی بعثت کے زمانے سے سب سے زیادہ سخت زمانہ تھا لوگ اس زمانے میں بتوں کی پوجا سے زیادہ افضل دین کوئی دین نہیں سمجھتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرقان لے کر تشریف لائے جس کے ذریعے انہوں نے حق اور باطل میں فرق واضح کر دیا اور والد اور اس کی اولاد کے درمیان فرق نمایاں کر دیا حتیٰ کہ ایک آدمی اپنے باپ بیٹے یا بھائی کو کافر سمجھتا تھا اور اللہ نے اس کے دل کا تالا ایمان کے لئے کھول دیا تھا وہ جانتا تھا کہ اگر وہ کفر کی حالت میں ہی مر گیا تو جہنم میں داخل ہوگا، اس لئے جب اسے یہ معلوم ہوتا کہ اس کا محبوب جہنم میں رہے گا تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوتیں اور یہ وہی چیز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے " وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ "

جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ يَوْمًا فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24311

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْأَذَانِ · حديث 1694

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم نبيا" 1.

حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :اس شخص نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا جو اللہ تعالیٰ کے پرودگار ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہو۔

"ذَاقَ طَعْمَ الْإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نبيا" ← رَسُولِ اللَّهِ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّهُ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door to the ears · Hadith 1694

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبِرِّ وَالْاِحْسَانِ ‹ بَابُ مَاجَاءَ فِی الطَّاعَاتِ وَثَوَابِھَا · حديث 373

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ قُلْتُ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلَ الْعَبْدُ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ "يُؤْمِنُ بِاللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا قَالَ يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ قُلْتُ وَإِنْ كَانَ مُعْدَمًا لَا شَيْءَ لَهُ قَالَ يَقُولُ مَعْرُوفًا بلسانه قال قلت وإن كَانَ عَيِيًّا لَا يُبْلِغُ عَنْهُ لِسَانُهُ قَالَ فَيُعِينُ مَغْلُوبًا قُلْتُ فَإِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا قُدْرَةَ لَهُ قَالَ فَلْيَصْنَعْ لِأَخْرَقَ قُلْتُ وَإِنْ كان أخرق قال فالتفت إلي وقال مَا تُرِيدُ أَنْ تَدَعَ فِي صَاحِبِكَ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ فَلْيَدَعِ النَّاسَ مِنْ أَذَاهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ كَلِمَةُ تَيْسِيرٍ فقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا يُرِيدُ بِهَا مَا عِنْدَ اللَّهِ إِلَّا أَخَذَتْ بيده يوم القيامة حتى تدخله الجنة"

۔ ابو کثیر یحمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :میں نے حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے سوال کیا میں نے کہا : آپ کسی ایسے عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے کہ بندہ جب اسے کر لے ‘ تو وہ جنت میں داخل ہو جائے ۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ نے بتایا میں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے۔ حضرت ابو ذر ؓ کہرے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ایمان کے ہمراہ کوی عمل بھی ہو گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بندے کو جو رزق دیا ہے وہ اس میں سے تھوڑا سا ( اللہ کی راہ میں بھی ) دے ‘ میں نے عرض کیا اگر وہ کوئی ایسا شخص ہو ‘ جس کے پاس کوئی بھی چیز نہ ہو۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اپنی زبان کے ذریعے نیکی کی بات کہے میں نے عرض کی : اگر وہ ایسا معذور ہو کہ اپنی زبان کے ذریعے کچھ نہ پہنچا سکتا ہو ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ مغلوب شخص کی مدد کرے میں نے عرض کی : اگر وہ ایسا کمزور ہو کہ وہ اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر وہ بھی کسی معذور کے لئے کوی کام کرے میں نے عرض کی : اگر وہ خود معذور ہو نبی اکرمﷺ نے میری طرف توجہ کی اور ارشاد فرمایا : اگر تم اس شخص کے بارے میں کوئی بھلائی باقی نہیں رہنے دینا چاہتے تو پھر وہ شخص لوگوں کو اپنی اذیت سے محفوظ رکھے۔ میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ! کیا یہ کلمات آسانی فراہم کرنے کے لئے ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ُ جوکوئی بندہ ان میں سے جو بھی کام کرے گا اور وہ اس کےذریعے اللہ تعالیٰ کے ہاں اجروثواب کا ارادہ کرے گا تو یہ عمل قیامت کے دن اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں: ابو کثیر یحمی کا نام یزید بن عبد الرحمٰن اذینہ ہے اور یہ یمامہ کے رہنے والے ‘‘ثقہ ‘‘ راویوں میں سے ایک ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Righteousness and Kindness › A door that comes within obedience, and the yoke thereof · Hadith 373

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ · حديث 1721

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ حَدَّثَنَا حرملة بن يحيى حدثنا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ دَرَّاجٍ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالْإِيمَانِ"، قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ} 1 [التوبة/18] . [1: 2]

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسْجِدَ فَاشْهَدُوا عَلَيْهِ بِالإِيمَانِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of the merit of the five daily prayers · Hadith 1721

صیح ابن حبان · 17-باب الظاء ‹ كِتَابُ الْعِتْقِ · حديث 4310

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: [ص:149] حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ»، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، قَالَ: «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا»، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ، قَالَ: «تُعِينُ ضَعِيفًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ»، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ، قَالَ: «تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ»

حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی کون سی گردن زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو اپنے مالک کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو اور جس کی قیمت زیادہ ہو۔ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں یہ نہ کروں (یعنی اگر میں یہ نہ کر سکوں، تو پھر مجھے کیا کرنا چاہئے) نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم کمزور کی مدد کرو، معذور کے لیے کام کر دو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، اگر مجھ سے یہ بھی نہ ہو سکے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو، کیونکہ یہ تمہاری طرف سے تمہاری ذات کے لیے صدقہ شمار ہو گا۔

النَّاسِ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ» ← «تَكُفُّ شَرَّكَ ← قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ، ← «تُعِينُ ضَعِيفًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ»، ← قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ، ← «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا»، ← قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟، ← «الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ»، ← قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟، ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي مُرَاوِحٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← [ص:149] ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Manumission Book › The Manumission Book · Hadith 4310

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3727

أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ الْأَصْبَغِ بْنِ عَامِرٍ التَّنُوخِيُّ بِمَنْبِجَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْإِيمَانَ ليأرز1 إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها" 2. [2:1]

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف پلٹتا ہے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، ← صَالِحُ بْنُ الْأَصْبَغِ بْنِ عَامِرٍ التَّنُوخِيُّ بِمَنْبِجَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3727

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3728

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا صالح بن زياد السوسي، حدثنا بن1 نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ2، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها" 3. [42:3] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْاِیمَانُ لَیَارِزُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ یُرِیدُ بِہٖ اَھْلَ الْاِیمَانِ، وَذٰلِکَ اَنَّ الْمَدِیْنَۃَ خَشِنَۃٌ فَفْرَۃٌ ذَاتُ بَسَابِسَ وَدَکَادِکَ ، مَنَعَ اللہُ جَلَّ وَعَلَا عَنْھَا طَیّبَاتِ اللَّذَّاتِ فِی الْاَعْیُنِ وَالْاَنْفُسِ ، وَقَدَّرَ فِیھَ اَقْوَاتَھَا لِمَنْ طَلَبَ اللہَ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ، فَلَا یَرْکُنْ اِلَیْھَا اِلَّاکُلُّ مُشَمَّرٍ ، عَنْ ھٰذِہِ الْفَانِیَۃِ الزَّائِلَۃِ ، وَلَا قَطَنَھَا اِلَّا کُلُّ مُنْقَلِعٍ بِکُلِّیَّتِہِ اِلَی الْاٰخِرَۃِ الدَّائِمَۃِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بےشک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف پلٹتا ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان "ایمان مدینہ منورہ کی طرف سمٹ آئے گا" اس سے مراد اہل ایمان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے : مدینہ منورہ ایک خشک علاقہ ہے جہاں خشک زمین اور ریت کے ٹیلے زیادہ ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے وہ چیزیں نہیں رکھی ہیں جو آنکھوں اور جان کو لذیذ اور پاکیزہ محسوس ہوتی ہیں جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے گھر کی طلب کا ارادہ کرتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں خوراک رکھی ہے ۔ اس لئے مدینہ منورہ کی طرف صرف وہی شخص مائل ہو سکتا ہے، جو اس فنا ہونے والی اور زائل ہو جانے والی دنیا سے لا تعلق ہو اور اس کی طرف وہی شخص راغب ہو سکتا ہے، جو مکمل طور پر ہمیشہ رہنے والی آخرت کی طرف متوجہ ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← بن نُمَيْرٍ، ← صَالِحُ بْنُ زِيَادٍ السُّوسَيُّ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3728

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3729

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إن الإيمان ليأرز إلى المدينة كما تأرز الحية إلى جحرها" 1. [9:3]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بے شک ایمان مدینہ منورہ کی طرف یوں پلٹ آئے گا ، جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف جاتا ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3729

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَیَاءِ · حديث 609

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ حَمَّادِ بن زيد قال حدثنا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ في النار" 1.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا اور فحش گوئی ‘جفاء کا حصہ ہے اور جفاء جہنم میں ہو گی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← بن وَهْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of the living · Hadith 609

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْحَیَاءِ · حديث 610

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا بن أَبِي السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "دَعْهُ فإن الحياء من الإيمان" 2.

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ‘ جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں تلقین کر رہا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے رہنے دو ‘ کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) روا یت کے یہ الفاظ : ’’ تم اسے چھوڑ دو‘‘۔ اس سے مراد ایسی ممانعت ہے‘جو معاملے کےآغاز میں نئے سرے سے ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of the living · Hadith 610

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ التَّوْبَۃِ · حديث 616

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ2 بْنُ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ "مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهِ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى آخِيَّتِهِ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الْإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طعامكم الأتقياء وولوا معروفكم المؤمنين" 3. [3: 28]

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’مومن اور ایمان کی مثال ایک ایسے گھوڑے کی مانند ہے ‘ تو اپنی کھونٹی میں ہوتا ہے وہ گھوم پھر کر پھر اسی جگہ آ جاتا ہے۔ مومن گھول جاتا ہے ‘ تو پھر وہ واپس ایمان کی طرف آ جاتا ہے ۔ لوگو! اپنا کھانا پرہیز گار لوگوں کو کھلاؤ اور اپنی چھائیوں کا رُخ اہل ایمان کی طرف کرو‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أبي سليمان الليثي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← سَعِيدُ2 بْنُ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of repentance · Hadith 616

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْوَعِيدِ لِمَانِعِ الزَّكَاةِ · حديث 3251

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ، وَلَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أبدا" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اللہ کی راہ میں اڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں ایک بندے کے اندر اکٹھے نہیں ہو سکتے اور کنجوسی اور ایمان ایک بندے کے دل میں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ← صَفْوَانِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the promise of the person who takes away Zakat · Hadith 3251

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَضْلِ الْجِهَادِ · حديث 4606

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفَيْحُ جَهَنَّمَ، وَلَا يَجْتَمِعُ فِي جَوْفِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالْحَسَدُ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کسی بھی مومن بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ کا غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوں گے اور کسی بھی بندے کے پیٹ میں ایمان اور حسد اکٹھے نہیں ہو سکتے“۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter of the merit of jihad · Hadith 4606

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْاَذْکَارِ · حديث 812

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٌ مِنْهُ وَأَطْيَبُ» (1) . [3: 67] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ جَلَّ وَعَلَا: إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، يُرِيدُ بِهِ: إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ بِالدَّوَامِ عَلَى الْمَعْرِفَةِ الَّتِي وَهَبْتُهَا لَهُ، وَجَعَلْتُهُ أَهْلًا لَهَا، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، يُرِيدُ بِهِ: فِي مَلَكُوتِي بِقَبُولِ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ مِنْهُ مَعَ غُفْرَانِ مَا تَقَدَّمَهُ مِنَ الذُّنُوبِ، ثُمَّ، قَالَ: وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَأٍ، يُرِيدُ بِهِ: وَإِنْ ذَكَرَنِي بِلِسَانِهِ، يُرِيدُ بِهِ الْإِقْرَارَ الَّذِي هُوَ عَلَامَةُ تِلْكَ الْمَعْرِفَةِ فِي مَلَأٍ مِنَ النَّاسِ لِيَعْلَمُوا إِسْلَامَهُ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُ، يُرِيدُ بِهِ: ذَكَرْتُهُ فِي مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ فِي الْجَنَّةِ، بِمَا أَتَى مِنَ الْإِحْسَانِ فِي الدُّنْيَا الَّذِي هُوَ الْإِيمَانُ إِلَى أَنِ اسْتَوْجَبَ بِهِ التَّمَكُّنَ مِنَ الْجِنَانِ.

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے ‘ تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ دل میں یاد کرتا ہے ‘ تو میں بھی دل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے ‘ تو میں بھی اس سے بہتر اور پاکیزہ گروہ میں اس کا تذکرہ کرتا ہوں‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: )اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ’’ اگر وہ اپنے نفس میں ( یعنی دل میں یا تنہائی میں) میرا ذکر کرتا ہے ‘ تو میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے اگر وہ اپنے مومن میں اس معرفت کی وجہ سے باقاعدگی سے میرا ذکر کرتا ہے ‘ جو ( معرفت ) میں نے اسے ہبہ کی ہے اور میں نے اسے اس کا اہل بنایا ہے ‘ تو پھر میں اپنے من میں اس کا ذکر کرتا ہوں ۔ اس سے مراد ہے : میں اپنے ملکوت میں اس کی طرف سے اس معرفت کو قبول کرتا ہوں‘ اور اس کے ہمراہ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہوں ۔ پھر اس نے یہ فرمایا : ’’ اگر لوگوں میں ذکر کرے ‘‘ اس سے مراد یہ ہے : اگر وہ اپنی زبان کے ہمراہ میرا ذکر کرے گا ‘ اس سے مراد وہ اقرار ہے ‘ جو لوگوں کی مغفرت کی علامت ہو گا تاکہ انہیں اس کے اسلام کا پتہ چل جائے۔ تو میں اس سے بہتر گروہ میں اس کا ذکر کرتا ہوں ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میں اس کا ذکر ایسے گروہ میں کرتا ہوں‘ جو اس سے بہتر ہے ‘ جس میں انبیاء ‘ صدیقین ’ شہداء اور صالحین ہونگے جو جنت میں ہو نگے اس ( شخص کا ذکر کی صورت یہ ہو گی ) اس نے دنیا میں بھلائی کی ہو گی جو ایمان ہے ‘ یہاں تک اس ( ایمان ) کی وجہ سے وہ جنت میں رہنے کا مستحق ہو جائے گا۔

مَعَهُ إِذَا دَعَانِي، ← اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: عَبْدِي عِنْدَ ظَنِّهِ بِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Remembrance section · Hadith 812

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5704

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذُرَيْحٍ، بِعُكْبَرَا قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ، وَالْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: ’’ بد زبانی جفا کا حصہ ہے اور جفا جہنم میں لے جاتی ہے حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا‘‘۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَی الْفَزَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5704

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5709

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ*، قَالَ: كَانَتْ لَهُمْ أَلْقَابٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِلَقَبِهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ} [الحجرات: 11]، قَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ وَيُعْطُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ، حَتَّى أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ، فَأَمْسَكُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ [ص:17] الْمُحْسِنِينَ} [البقرة: 195] «

حضرت ضحاک بن ابو جبیرہ ؓ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ان لوگوں کے القاب ہوتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو اس کے لقب کے ساتھ بلایا۔ نبی اکرمﷺ کو بتایا گیا یا رسول اللہﷺ ! یہ شخص اسے نا پسند کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو ( کسی کے ) ایما ن لانے کے بعد اسے فاسق کہنا برا نام ہے‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : انصار کا یہ معمول تھا کہ جو اللہ کا منظور ہوتا وہ صدقہ کیاکرتے تھے اور عطیات دیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ ایک مرتبہ انہیں قحط سالی لاحق ہوئی‘ تو انہوں نے ایسا کرنا ختم کر دیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف نہ لے جاؤ اور اچھائی کرو بیشک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔

كَانَتْ لَهُمْ أَلْقَابٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا بِلَقَبِهِ، فَقِيلَ: ← الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ*، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5709

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْغِیبَۃِ · حديث 5763

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ السِّجِسْتَانِيُّ، بِبَغْدَادَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ قَالَا: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْمِنْبَرَ، فَنَادَى بِصَوْتٍ رَفِيعٍ وَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يَدْخُلِ الْإِيمَانُ قَلْبَهُ، لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ، وَلَا تَطْلُبُوا [ص:76] عَثَرَاتِهِمْ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْ عَوْرَةَ الْمُسْلِمِ يَطْلُبِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ يَطْلُبِ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ، وَلَوْ فِي جَوْفِ بَيْتِهِ» وَنَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ: «مَا أَعْظَمَكَ، وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكَ، وَلَلْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺاس منبر پر چڑھے آپﷺ نے بلند آواز میں اعلان کیا آپﷺ نے فرمایا : اے وہ لوگوں جو زبان کے ذریعے مسلمان ہو گئے ہیں ‘ لیکن ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوا تم لوگ مسلمانوں کو اذیت نہ پہنچاؤ تم انہیں عار نہ دلاؤ تم ان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص مسلمان کے پوشیدہ معاملات کی جستجو کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی تحقیق کرے گا اور اللہ تعالیٰ جس کے پوشیدہ معاملات کی تحقیق کرے گا اسے رسوائی کا شکار کر دے گا خواہ وہ شخص اپنے گھر کے اندر موجود رہے۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ایک دن بیت اللہ کی طرف دیکھا کر ارشاد فرمایا تمہاری عظمت کتنی زیادہ ہے تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مومن حرمت کے اعتبار سے تم سے زیادہ عظیم ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثَ السِّجِسْتَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of the unseen · Hadith 5763

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6193

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:73] أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيُنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يُهْدُونَ بِهَدْيِهِ، وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ أَقْوَامٌ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُنْكِرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "ہر نبی کے کچھ حواری ہوتےہیں جو اس کی ہدایت کی پیروی کرتےہیں اس کی سنت پر عمل کرتےہیں پھر اس کے بعد کچھ لوگ آجاتےہیں جو ایسی باتیں کرتےہیں جن پر وہ خود عمل نہیں کرتے اور ایسے کام کرتےہیں ، جنہیں وہ خود گناہ قرار دیتے ہیں ،تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہوگا ،جو اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہوگا ، جو شخص اپنے دل کے ذریعے جہاد کرے گاوہ مومن ہوگا اور پھر اس کے بعد رائے کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان نہیں ہے۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، ← الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ [ص:73] أَبِي عَتَّابٍ الْأَعْيُنُ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6193

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6223

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:113] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ فَلَطَمَهُ مُوسَى فَفَقَأَ عَيْنَهُ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ: إِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ يَا رَبِّ، قَالَ: فَسَأَلَ اللَّهُ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةَ حَجَرٍ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ ثَمَّتَ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ قَبْرِهِ إِلَى جَانِبِ الطُّورِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ» [ص:114] قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: » إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا بَعَثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ فَأَنْزَلَهُ مَوْضِعَ الْإِبَانَةِ عَنْ مُرَادِهِ، فَبَلَّغَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِسَالَتَهُ، وَبَيَّنَ عَنْ آيَاتِهِ بِأَلْفَاظٍ مُجْمَلَةٍ وَمُفَسَّرَةٍ عَقَلَهَا عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَوْ بَعْضُهُمْ، وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْأخْبَارِ الَّتِي يُدْرِكُ مَعْنَاهُ مَنْ لَمْ يَحْرُمِ التَّوْفِيقَ لِإِصَابَةِ الْحَقِّ. وَذَاكَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَرْسَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى رِسَالَةَ ابْتِلَاءٍ وَاخْتِبَارٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ لَا أَمْرًا يُرِيدُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا إِمْضَاءَهْ كَمَا أَمَرَ خَلِيلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ بِذِبْحِ ابْنِهِ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ، دُونَ الْأَمْرِ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا إِمْضَاءَهُ، فَلَمَّا عَزَمَ عَلَى ذَبْحِ ابْنِهِ وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ فَدَاهُ بِالذَّبْحِ الْعَظِيمِ، وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا الْمَلَائِكَةَ إِلَى رُسُلِهِ فِي صُوَرٍ لَا يَعْرِفُونَهَا كَدُخُولِ الْمَلَائِكَةِ عَلَى رَسُولِهِ إِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يَعْرِفْهُمْ [ص:115] حَتَّى أَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، وَكَمَجِيءِ جِبْرِيلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُؤَالِهِ إِيَّاهُ عَنِ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَلَّى، فَكَانَ مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَى غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَيْهَا، وَكَانَ مُوسَى غَيُورًا فَرَأَى فِي دَارِهِ رَجُلًا لَمْ يَعْرِفْهُ، فَشَالَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ فَأَتَتْ لَطْمَتُهُ عَلَى فَقْءِ عَيْنِهِ الَّتِي فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَتَصَوَّرُ بِهَا لَا الصُّورَةِ الَّتِي خَلْقَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا، وَلَمَّا كَانَ الْمُصَرَّحُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَيْثُ قَالَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ»، فَذَكَرَ الْخَبَرَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ»: كَانَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ بَعْضَ شَرَائِعِنَا قَدْ تَتَّفِقُ بِبَعْضِ شَرَائِعِ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الْأُمَمِ، وَلَمَّا كَانَ مِنْ شَرِيعَتِنَا أَنَّ مَنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَوِ النَّاظِرِ إِلَى بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ جُنَاحٌ عَلَى فَاعِلِهِ، وَلَا حَرَجٍ عَلَى مُرْتَكِبِهِ، لِلْأَخْبَارِ الْجَمَّةِ الْوَارِدَةِ فِيهِ الَّتِي أَمْلَيْنَاهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا: كَانَ جَائِزًا اتِّفَاقُ هَذِهِ الشَّرِيعَةِ بِشَرِيعَةِ مُوسَى، بِإِسْقَاطِ الْحَرَجِ عَمَّنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَكَانَ اسْتِعْمَالُ مُوسَى هَذَا الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ وَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي فِعْلِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى رَبِّهِ، وَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ مُوسَى فِيهِ، أَمَرَهُ ثَانِيًا بِأَمْرِ آخَرَ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ. كَمَا ذَكَرْنَا قَبْلُ، إِذْ قَالَ اللَّهُ لَهُ: قُلْ لَهُ: إِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، فَلَمَّا عَلِمَ مُوسَى كَلِيمُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ وَأَنَّهُ جَاءَهُ بِالرِّسَالَةِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، طَابَتْ نَفْسُهُ بِالْمَوْتِ، وَلَمْ يَسْتَمْهِلْ، وَقَالَ: فَالْآنَ. فَلَوْ كَانَتِ الْمَرَّةُ الْأُولَى عَرَفَهُ مُوسَى أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، لَاسْتَعْمَلَ مَا اسْتَعْمَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُخْرَى عِنْدَ تَيَقُّنِهِ وَعِلْمِهِ بِهِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ، وَرُعَاةُ اللَّيْلِ يَجْمَعُونَ مَا لَا يَنْتَفِعُونَ بِهِ، وَيَرْوُونَ مَا لَا يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُونَ بِمَا يُبْطِلُهُ الْإِسْلَامُ جَهْلًا مِنْهُ لِمَعَانِي الْأَخْبَارِ، وَتَرْكَ التَّفَقُّهِ فِي الْآثَارِ مُعْتَمِدًا مِنْهُ عَلَى رَأْيِهِ الْمَنْكُوسِ وَقِيَاسِهِ الْمَعْكُوسِ «

حضرت ابوہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتےہیں : "ملک الموت کو حضرت موسیٰ ؑ کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ جوان کی روح قبض کرلے حضرت موسیٰ ؑ نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑدی نبی اکرمﷺ فرماتےہیں: وہ اپنے پروردگا ر کی بارگاہ میں گیا اور عرض کی ،تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے ،جو مرنا نہیں چاہتا پروردگار نے فرمایا:تم اس کے پاس واپس جاؤ اس سے کہو اگر تم چاہو ،توکسی بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھو ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ۔ ان میں سے ہر ایک بال کے عوض تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے فرشتے سے دریافت کیا پھر کیا ہوگا ۔ اس نے کہا :پھر موت آجائے گی ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :اے میرے پروردگار پھر ابھی (میں فوت ہوجاتاہوں ) " نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں مرض مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور پتھر جا کر گرتاہے۔ نبی اکرمﷺ ارشادفرماتےہیں :اگر میں وہاں ہوتا تو میں حضرت موسیٰ ؑ کی قبر دکھاتا، جو کوہ طور کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے نیچے تھی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺکو اپنی مخلوق کا معلم بنا کر بھیجا ہے اور انہیں (اپنے احکام کی ) مراد واضح کرنے کا مقام عطاکیا ہے،تو نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے رسالت کی تبلیغ کی اور اس کی آیات کےمجمل الفاظ کو بیان کیا اور اس کی تفسیر کی ،جسے آپ سے آپ کے اصحاب نے سیکھا، یا ان میں سے بعض افراد نے سیکھا یہ روایت بھی ان روایات میں شامل ہے،جس کا مفہوم وہ شخص جان سکتا ہے ،جو حق تک پہنچنے کی توفیق سے محروم نہ ہو اور وہ یوں کہ اللہ تعالی نے ملک الموت کو حضرت موسیٰ ؑ علیہ السلام کی طرف بھیجا تاکہ آزمائش کو ظاہر کرے اور خبر کو ظاہر کرے اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے یہ کہےکہ وہ اپنے پرووردگار کے بلاوے پر لبیک کہیں ، تو یہ ایک ایسا حکم تھا جو خبر جاننے کےلئے اور آزمائش کےلئے تھا۔ یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے جاری کرنا اللہ تعالیٰ کی مراد ہوتی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو یہ حکم دیاکہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کردیں ،تو یہ خبر معلوم کرنےکےلئے اورآزمائش کے طور پر تھا یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے اللہ تعالیٰ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا ،تو جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس کاوفد یہ عظیم صورت میں دیا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے (مختلف موقعوں پر ) فرشتوں کو اپنے رسول کی طرف ایسی شکل وصورت میں بھیجا کہ وہ رسول انہیں پہچان نہیں سکے جس طرح کچھ فرشتے اللہ کے رسول حضرت ابرہیم ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو حضرت ابراہیم ؑ انہیں پہچان نہیں سکے ،یہاں تک کہ انہیں ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا ۔اسی طرح حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایمان اور اسلام کے بارے میں سوالات کئے ،لیکن نبی اکرمﷺ انہیں اس وقت انہیں پہچانے جب وہ واپس چلے گئے تھے، تو جب ملک الموت حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا ،تو وہ اس سے مختلف صورت میں تھا جس صورت میں حضرت موسیٰ ؑ اس سے ناواقف تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ مزاج کے تیز تھے ۔ انہیں اپنے گھر میں ایک ایسا شخص نظر آیا جس سے وہ واقف نہیں تھے ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے طمانچہ رسید کیا۔ طمانچے کے نتیجے میں ملک الموت کی وہ آنکھ پھوٹ گئی جو اس کی اس شکل کے مطابق جس شکل کو اختیار کرکے وہ آیا تھا ۔ اس سےمراد وہ شکل نہیں ہے ،جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیاہے۔ حضرت عبدالل بن عباسؓ کے حوالےسے منقول روایت میں ہمارے نبی کی طرف سےاس بات کی صراحت آئی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی "۔اس کے بعد پوری روایت ہے ،جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : "یہ آپ کا اور آپ سے پہلے کے انبیاء کا وقت ہے" تو اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ بعض شرعی احکام میں ہماری شریعت کاوہی حکم ہے،جو پہلی اُمتوں کی شریعت کا تھا۔ تو جب ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ جو شخص اجازت لئے بغیر اپنے گھر میں داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، توایسا کرنے والے شخص پر کرئی گناہ نہیں ہوگا ۔ اس بارے میں بہت سی روایات منقول ہے ،جنہیں ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر املاکرواچکے ہیں ،تو یہ بات بھی جائز ہوگی کہ اس بارے میں اس شریعت اورحضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کا حکم متفق ہوکہ جو شخص اپنے گھر میں اجازت کے بغیر داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے اسے گناہ نہیں ہوگا ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے یہ فعل کیا ۔ یہ ان کےلئے مباح تھا اور ایسا کرنے پر ان پر کوئی حرج لاحق نہیں ہوا ۔ جب ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور اسے حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے پیش آنے والی صورت حال کے بارے میں بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ یہ حکم دیا کہ دوسری مرتبہ اطلاع حاصل کرنے کےلئے اور آزمائش کےلئے جائے جیسا کہ ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کرچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تم اس سے کہو اگر تم چاہو ،تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھو ، تو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی جب حضرت موسیٰ ؑ کو اس بات کا پتہ چلا کہ یہ ملک الموت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لےکر آیا ہے ،تو حضرت موسیٰ ؑ ذہنی طور پر مرنے کےلئے تیار ہوگئے ۔ انہوں نے مزید مہلت نہیں مانگی ۔انہوں نے کہا :پھر ابھی ٹھیک ہے۔ اگر حضرت موسیٰؑ پہلی مرتبہ اسے پہچان لیتے کہ یہ موت کا فرشتہ ہے ،تو وہ وہی طرزِعمل اختیار کرتے جو دوسری مرتبہ اختیار کیا تھا، جب انہیں اس بارے میں یقین تھا۔ اس بارے میں علم بھی حاصل ہوچکا تھا۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے،جو یہ کہتاہے محدثین صرف لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتےہیں ۔ وہ روایت کے وقت بکریاں چراتےہیں وہ ایسی چیز جمع کرتےہیں جس کے ذریعے انہیں فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ایسی چیز روایت کرتےہیں ،جس پر انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اور وہ ایسے نظریات رکھتےہیں ، جو اسلام ، جنہیں باطل قرار دیتاہے یہ وہ شخص ہے ،جو احادیث کے معانی سے ناواقفیت کی وجہ سے اور روایات میں غور وفکر ترک کرنے کی وجہ سے (یہ نظریات رکھتاہے) اور یہ شخص اپنی کمزور رائے اور الٹے قیاس کی بنیاد پر یہ رائے رکھتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6223

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْقَضَاءِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ وَصْفِ مُنَاقَشَۃِ اللہِ فِی الْقِیَامَۃِ الْحَاکِمَ الْعَادِلَ اِذَا کَانَ فِی الدُّنْیَا · حديث 5069

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، {إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ} [البقرة: 284]، دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْءٌ، لَمْ يَدْخُلْهُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُولُوا سَمِعْنَا، [ص:459] وَأَطَعْنَا، وَسَلَّمْنَا، فَأَلْقَى اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ} [البقرة: 285] الْآيَةَ، وَقَالَ: «رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا»، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، «{رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا، كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} [البقرة: 286]، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’ تمہارے من میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپا کے رکھو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں تم سے حساب لے گا‘‘۔ تو اس آیت کے نزول کی وجہ سے لوگ انتہائی زیادہ پریشان ہو گئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم یہ کہو ہم نے سنا اور اطاعت کی اور ہم نے تسلیم کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان کو ڈال دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل کی گئی اور اہل ایمان بھی ( ایمان لے آئے) ‘‘۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں ( وہ لوگ یہ کہتے ہیں ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں ‘ یا غلطی کر جائیں ‘ تو ہم سے مواخذہ نہ کرنا ‘‘۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے ایسا ہی کیا ( اس میں یہ دعا بھی ہے ) ’’ اے ہمارے پروردگار ‘ تو ہم پر اس طرح بوجھ نہ لاد دینا ‘ جس طرح ‘ تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر لدد دیا تھا ‘‘۔ تو پروردگار نے فرمایا میں نے ایسا ہی کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، مَوْلَى خَالِدِ بْنِ خَالِدٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Judgment Book › Mentioning the reports describing the discussion of God in the resurrection of the just ruler if he is in the world · Hadith 5069

chevron_left Previous
1…181920…484
Next chevron_right